07/03/2021
تعلیم کی جنگ
دور حاضر میں سرکار اور عوام نے تعلیم کو بھی ذریعہ معاش بنا لیا ہے سرکار سہولیات دی رہی ہے کشادہ عمارات ، سولر پلانٹ ، جدید نظام تعلیم، جدید نصاب اور اساتزہ کی بھرتیاں کرنے کے لئیے NTS , FTS, کی خدمات لی گئی شفاف امتحانات کرانے کی ناکام کوشش کی گئ مگر امتحانی پرچہ جس میں پاس ہو کے اساتزہ نے قوم کے معمار بننا تھا وہ وقت سے پہلے عوامی میڈیا کی زینت بن کر فیس بک پہ اپلوڈ کر دیا گیا یہ تو ہے سرکار
آپ خود ہی اپنی اداوں پہ ذرا غور کریں
:
ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہو گی
اب آ گئے ہم میں اپنا اس لیئے کہہ رہا ہوں تاکہ کوئی یہ نہ کہے کہ نیاز نے سوشل میڈیا پہ میرا گلہ کیا تو جناب میں پرائیوٹ سیکٹر آف ایجوکیشن میں بیٹھا ہوں اور جناب بس ہر کسی کے سامنے میں اپنی اور اپنے پرائیوٹ نظام تعلیم کی تعریف کیئے جا رہا ہوں
اب بچہ اور والدین شش و پنج میں پڑ جاتے ہیں کہ سرکاری سکول میں جائیں یا پرائیوٹ میں سرکاری میں کوئی پوچھ گچھ نہیں ہے نہ تعلیم پہ توجہ نہ تربیت و اخلاق پہ بس آو جاو اور وقت گزارو
اب پرائیوٹ میں جائیں تو بکس 3000 کی یونیفارم 1000روپے کی داخلہ 5000 ماہانہ فیس 3000 بچے کا جیب خرچ 100 روپے روزانہ رکشہ کرایہ 3000
18000 روپے ماہانہ خرچ کر کے جب بچہ سکول گیا تو مقصد تعلیم پھر بھی حاصل نہ ہوا
عرض یہ ہے محترم سرکار، اساتزہ، پرنسپل صاحبان اور سکول مالکان صاحب
تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے
علم حاصل کرنا ہر مرد و عورت پر لازم ہے
علم انبیاء کی میراث ہے
ہم سب کو چاہئیے کہ ایک دوسرے کو نیچا دیکھانے کی بجائے سرکار اور پرائیوٹ سیکٹر والے اپنے اپنے طریقے سے بچے کی تعلیم و تربیت کا فریضہ جو اللہ نے ہمارے ذمے لگایا ہے اسے پورا کریں
تعلیم کو ذریعہ معاش نہ بنائیں رزق بذمہ رازق ہے
وہ کیڑے کو پتھر کے نیچے بھی دیتا اشرف المخلوقات انسان کو بھی دیتا ہے
ہم وہ فریضہ انجام دیں جو ایک معلم کی ذمہ داری ہے
اقراء پہ یقین رکھ کر کام کرنا ہے
کسی کی دل شکنی ہوئی ہو تو ہاتھ جوڑ کے معذرت
از قلم
نیاز احسن
پرنسپل
دی نیڈز سکول& اکیڈمی DIK
یتیم بھی پڑھے گا غریب پہ پڑھے گا
:
دی نیڈز طبقاتی نظام تعلیم کا خاتمہ کرے گا
انشاء اللہ