Al-Noor Public Model School & Evening Academy

Al-Noor Public Model School & Evening Academy Al-Noor Public Model School & Evening Academy Nawan Shahr

استاد اگر خود وقت کا پابند نہیں تو بچوں کو وقت کی قدر کیسے سکھائے گا؟ہم بچوں سے کہتے ہیں:"وقت بہت قیمتی ہے، وقت کی پابند...
27/09/2026

استاد اگر خود وقت کا پابند نہیں تو بچوں کو وقت کی قدر کیسے سکھائے گا؟

ہم بچوں سے کہتے ہیں:

"وقت بہت قیمتی ہے، وقت کی پابندی کرو۔"

لیکن کبھی کبھی وہی استاد اسمبلی کے بعد کلاس میں پہنچتا ہے، پیریڈ شروع ہونے کے کئی منٹ بعد آتا ہے، تیاری کے بغیر سبق شروع کرتا ہے اور پھر شکایت کرتا ہے:

"بچے سنجیدہ نہیں ہیں۔"

ذرا رک کر سوچیے…

بچے ہماری باتیں کم اور ہماری عادتیں زیادہ نقل کرتے ہیں۔

آپ روز انہیں وقت کی پابندی پر لیکچر دے سکتے ہیں، لیکن اگر آپ خود ہر روز دس منٹ دیر سے کلاس میں پہنچتے ہیں تو بچے کے ذہن میں آپ کی تقریر نہیں، آپ کا عمل محفوظ ہوگا۔

استاد ہونا صرف یہ نہیں کہ آپ بچوں کو کیا بتاتے ہیں۔

استاد ہونا یہ بھی ہے کہ بچے آپ کو دیکھ کر کیا سیکھ رہے ہیں۔

پرائیویٹ سکول میں استاد کے پاس کام بہت ہوتا ہے۔
کبھی ایک کلاس سے دوسری کلاس، کبھی کاپیاں، کبھی میٹنگ، کبھی اضافی ذمہ داری۔

لیکن مصروفیت اور بے ترتیبی میں فرق ہے۔

ایک پیشہ ور استاد اپنے اگلے دن کی تیاری پہلے کرتا ہے۔

کلاس میں جانے سے پہلے جانتا ہے کہ آج کیا پڑھانا ہے، کیسے پڑھانا ہے اور کن بچوں کو خصوصی توجہ دینی ہے۔

یہ صرف وقت بچانے کا طریقہ نہیں۔

یہ استاد کی پیشہ ورانہ عزت ہے۔

آج سے ایک چھوٹا سا تجربہ کریں۔

اگلے سات دن تک ہر کلاس سے پانچ منٹ پہلے اپنی تیاری مکمل کریں۔

کلاس میں پہنچ کر صرف کتاب کھولنے کے بجائے بچوں کے سامنے ایک واضح منصوبہ رکھیں:

آج کیا سیکھنا ہے؟
کیوں سیکھنا ہے؟
اور آخر میں کیسے معلوم ہوگا کہ ہم نے سیکھ لیا؟

صرف ایک ہفتہ یہ عادت اپنا کر دیکھیں۔

آپ کو محسوس ہوگا کہ کلاس کا وقت کم نہیں ہوا…

لیکن آپ نے اسی وقت سے زیادہ کام لینا شروع کر دیا ہے۔

اور شاید بچے بھی پہلی مرتبہ یہ محسوس کریں گے کہ:

"ہمارا استاد اپنے وقت اور ہمارے وقت دونوں کی قدر کرتا ہے۔"

یاد رکھیں:

بچے وقت کی پابندی کتاب سے نہیں سیکھتے، استاد کو دیکھ کر سیکھتے ہیں۔

👍 اگر آپ کلاس میں وقت کی پابندی کو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری سمجھتے ہیں تو لائک کر کے اس عادت کا ثبوت دیں۔

🔄 اگر آپ کے خیال میں ہر استاد کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے تو اسے شیئر کریں تاکہ یہ سوچ مزید کلاس رومز تک پہنچے۔

💬 آپ کے سکول میں وقت کی پابندی بہتر بنانے کا کون سا طریقہ سب سے مؤثر رہا؟ اپنا تجربہ کمنٹ میں ضرور شیئر کریں۔

استاد کو ملازم سمجھیں گے تو استاد نہیں، صرف ڈیوٹی ملے گیپرائیویٹ سکول میں ایک عجیب منظر بہت عام ہے۔استاد سے کہا جاتا ہے:...
26/09/2026

استاد کو ملازم سمجھیں گے تو استاد نہیں، صرف ڈیوٹی ملے گی

پرائیویٹ سکول میں ایک عجیب منظر بہت عام ہے۔

استاد سے کہا جاتا ہے:
"آپ ہمارے ادارے کا سب سے اہم حصہ ہیں۔"

اور اگلے ہی لمحے اسے صرف ایک ملازم کی طرح حکم دیا جاتا ہے:

یہ کام کریں۔
وہ کام کریں۔
یہ رپورٹ آج چاہیے۔
کل پروگرام ہے، رکنا ہوگا۔
اضافی کلاس بھی لے لیں۔
اور اگر کوئی سوال کرے تو جواب ملتا ہے:

"آپ کو تنخواہ کس بات کی ملتی ہے؟"

یہ جملہ صرف ایک استاد کا دل نہیں توڑتا، پورے ادارے کی سوچ ظاہر کرتا ہے۔

یاد رکھیں، استاد ملازم ضرور ہے، مگر صرف ملازم نہیں ہے۔

وہ وہ شخص ہے جس کے ہاتھ میں آپ کے ادارے کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتا ہے:

آپ کے بچے۔

آپ ایک بہترین عمارت بنا سکتے ہیں، خوبصورت یونیفارم دے سکتے ہیں، جدید سہولیات لگا سکتے ہیں، بہترین اشتہار چلا سکتے ہیں؛ لیکن اگر کلاس روم کے اندر استاد تھکا ہوا، بے عزت اور بے دل کھڑا ہے تو آپ کا پورا نظام اندر سے کمزور ہے۔

اور یہاں استاد کے لیے بھی ایک سوال ہے۔

اگر ادارہ آپ کو صرف ملازم سمجھتا ہے تو کیا آپ نے خود کو صرف ملازم بننے دیا ہے؟

کیا آپ کبھی انتظامیہ کے پاس صرف تنخواہ کی بات کرنے گئے، یا کبھی یہ بھی کہا:

"میں اپنی کلاس کا نتیجہ بہتر کرنے کے لیے یہ نیا طریقہ آزمانا چاہتا ہوں۔"

کیا آپ نے کبھی اپنے سکول کے لیے کوئی نیا خیال دیا؟

کسی کمزور بچے کی ذمہ داری اضافی طور پر اٹھائی؟

کوئی ایسا کام کیا جس کے بعد انتظامیہ کو کہنا پڑا:

"یہ استاد واقعی ہمارے ادارے کے لیے ضروری ہے۔"

اصل تبدیلی دونوں طرف سے آئے گی۔

ادارہ استاد کو عزت، اعتماد، تربیت اور مناسب معاوضہ دے؛
اور استاد ادارے کو دیانت، قابلیت، نتائج اور وفاداری دے۔

یہ رشتہ صرف تنخواہ اور حاضری کا نہیں ہونا چاہیے۔

یہ اعتماد کا رشتہ ہونا چاہیے۔

آج اپنے سکول میں ایک کام ضرور کریں:

اپنی ٹیم میں سے کسی ایک استاد سے صرف یہ پوچھیں:

"آپ کے خیال میں ہمارے سکول میں بچوں کی تعلیم بہتر کرنے کے لیے ہم ایک چیز کیا بدل سکتے ہیں؟"

ممکن ہے ایک استاد کا جواب آپ کے پورے نظام کو بہتر بنانے کا آغاز بن جائے۔

❤️ اگر آپ اپنے سکول میں استاد کو صرف ملازم نہیں بلکہ ادارے کا اہم رکن سمجھتے ہیں تو لائک کر کے اپنی سوچ کا اظہار کریں۔

🔁 اگر آپ چاہتے ہیں کہ سکول مالکان اور اساتذہ دونوں یہ بات سمجھیں تو پوسٹ شیئر کریں، کیونکہ بہتر ادارہ دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

💬 آپ کے سکول میں استاد کو سب سے زیادہ کس چیز کی ضرورت ہے: عزت، اعتماد، تربیت یا بہتر معاوضہ؟ اپنی رائے کمنٹ میں ضرور دیں۔

📚 طالبات و اساتذہ کے لیے بڑی خبر! 🎓🎉پنجاب کے وزیرِ تعلیم رانا سکندر حیات کے نئے اقدام کے تحت:✨ نئے نصاب کے مطابق پہلی سے...
24/09/2026

📚 طالبات و اساتذہ کے لیے بڑی خبر! 🎓🎉
پنجاب کے وزیرِ تعلیم رانا سکندر حیات کے نئے اقدام کے تحت:
✨ نئے نصاب کے مطابق پہلی سے بارہویں (1 to 12) کلاس تک کا سلیبس 30% سے 35% فیصد تک کم کر دیا جائے گا۔ 📉📖
اس فیصلے کا بنیادی مقصد طلباء پر پڑھائی کے غیر ضروری بوجھ کو کم کرنا اور 'روٹا سسٹم' کی بجائے تصوراتی تعلیم (Conceptual Learning) کو فروغ دینا ہے۔
اہم نکات:
🔹 سٹوڈنٹس کے لیے امتحان کی تیاری میں آسانی
🔹 اساتذہ کے لیے وقت پر سلیبس مکمل کروانا ممکن
🔹 غیر ضروری مضامین کی بجائے عملی صلاحیتوں پر توجہ
کیا آپ کے خیال میں سلیبس کم کرنے سے بچوں کی تعلیمی کارکردگی میں وہ بہتری آئے گی جس کی امید کی جا رہی ہے؟
اپنا جواب اور رائے کمنٹس میں ضرور بتائیں! 👇

Alhamdullilah class second year ka 100% result ane par tamam students, parents and tamam staff ko Mubarak bad peesh krte...
23/09/2026

Alhamdullilah class second year ka 100% result ane par tamam students, parents and tamam staff ko Mubarak bad peesh krte hai.

Principal: Muhammad Siftain Qureshi

0310-6117460

ایک استاد کی مسلسل توجہ کبھی ایک کتاب سے زیادہ کام کر جاتی ہےکچھ بچے ایسے ہوتے ہیں جنہیں کتابیں کم اور توجہ زیادہ چاہیے ...
22/09/2026

ایک استاد کی مسلسل توجہ کبھی ایک کتاب سے زیادہ کام کر جاتی ہے

کچھ بچے ایسے ہوتے ہیں جنہیں کتابیں کم اور توجہ زیادہ چاہیے ہوتی ہے۔ وہ سبق سن کر بھی بھول جاتے ہیں، کام ادھورا چھوڑ دیتے ہیں، کلاس میں شرارت کرتے ہیں اور بار بار سمجھانے کے باوجود وہی غلطی دہراتے ہیں۔ ہم فوراً فیصلہ کر لیتے ہیں: “یہ بچہ پڑھنے والا نہیں۔”

لیکن کبھی آپ نے غور کیا کہ کلاس میں ایک استاد جب مسلسل چند ہفتوں تک ایسے بچے پر خصوصی توجہ دیتا ہے تو اس کے رویے میں تبدیلی کیوں آنے لگتی ہے؟

کیونکہ بچے کو جب یہ محسوس ہوتا ہے کہ “میرے استاد کو میری فکر ہے” تو اس کے اندر ایک نئی ذمہ داری پیدا ہوتی ہے۔ وہ صرف ڈانٹ سے نہیں، تعلق اور اعتماد سے بھی سیکھتا ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ استاد ہر وقت صرف ایک بچے کے پیچھے لگا رہے۔ اصل کام یہ ہے کہ بچے کی کمزوری کو پہچانا جائے، اسے ایک چھوٹا ہدف دیا جائے اور پھر اس کی پیش رفت کو باقاعدگی سے دیکھا جائے۔

مثلاً جو بچہ پوری جماعت کا سبق نہیں سمجھ پا رہا، اسے کہیں: “آج تم صرف یہ پانچ سوال تیار کرو، کل میں سب سے پہلے تم سے یہی پوچھوں گا۔” اگلے دن اگر وہ پانچ میں سے تین بھی درست کر لے تو اس کی کوشش کو محسوس کروائیں۔

بعض اوقات ایک استاد کا یہ چھوٹا سا جملہ بچے کی سوچ بدل دیتا ہے:
“مجھے معلوم ہے تم کر سکتے ہو، بس ہمیں تھوڑی محنت اور کرنی ہے۔”

لیکن یہاں استاد کے ساتھ والدین کا کردار بھی ضروری ہے۔ گھر میں صرف یہ نہ پوچھیں کہ “کتنے نمبر آئے؟” بلکہ یہ بھی پوچھیں: “آج کون سا سبق سمجھ آیا؟ کہاں مشکل ہوئی؟ کل کیا بہتر کرنا ہے؟”

اور سب سے اہم بات، کمزور بچے کو مسلسل “کمزور” کہہ کر اس کی شناخت نہ بنائیں۔ اسے یہ احساس دلائیں کہ اس وقت وہ پیچھے ہے، ہمیشہ کے لیے نہیں۔

سکول کی اصل کامیابی صرف یہ نہیں کہ ٹاپر کتنے نمبر لے رہا ہے۔ اصل کامیابی یہ بھی ہے کہ جو بچہ کل کتاب کھولنے سے بھاگتا تھا، آج خود کتاب اٹھا کر بیٹھ گیا ہے۔

کبھی کبھی بچے کو ایک نئی کتاب سے زیادہ ایک ایسے استاد کی ضرورت ہوتی ہے جو اسے چھوڑنے کے بجائے مسلسل یہ یقین دلاتا رہے کہ تم بہتر ہو سکتے ہو۔

اگر آپ بھی سمجھتے ہیں کہ بچے کی ترقی کے لیے مسلسل توجہ اور حوصلہ افزائی ضروری ہے تو پسندیدگی ضرور کریں۔

یہ پیغام اپنے سکول کے اس استاد اور ان والدین تک ضرور پہنچائیں جو کسی مشکل بچے کو بہتر بنانے کے لیے مسلسل کوشش کر رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے آپ کی ایک شیئر ان کی حوصلہ افزائی بن جائے۔

آپ کے خیال میں ایک کمزور بچے کو بہتر بنانے میں سب سے زیادہ اثر کس چیز کا ہوتا ہے: سختی، اضافی توجہ، حوصلہ افزائی یا گھر اور سکول کا مشترکہ تعاون؟ اپنی رائے ضرور دیں۔

والدین کی میٹنگ صرف شکایت سنانے کے لیے نہ ہوسکول میں والدین کو بلایا جاتا ہے، والدین آتے ہیں، استاد سامنے بیٹھتا ہے اور ...
21/09/2026

والدین کی میٹنگ صرف شکایت سنانے کے لیے نہ ہو

سکول میں والدین کو بلایا جاتا ہے، والدین آتے ہیں، استاد سامنے بیٹھتا ہے اور گفتگو شروع ہوتی ہے:

“آپ کا بچہ ہوم ورک نہیں کرتا۔”
“کلاس میں توجہ نہیں دیتا۔”
“بات نہیں مانتا۔”
“نمبر بہت کم ہیں۔”

والدین خاموشی سے سنتے ہیں، گھر واپس آتے ہیں اور بچے کو ڈانٹ دیتے ہیں۔

پھر اگلی میٹنگ میں وہی شکایت دوبارہ سامنے آ جاتی ہے۔

سوال یہ ہے کہ اگر ہر میٹنگ کا نتیجہ صرف شکایت اور ڈانٹ ہے تو بچے کی بہتری کہاں سے آئے گی؟

والدین اور استاد کی ملاقات کا مقصد ایک دوسرے کو قصوروار ثابت کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ اصل مقصد یہ ہونا چاہیے کہ بچے کے مسئلے کو سمجھا جائے، اس کی وجہ تلاش کی جائے اور اگلے چند ہفتوں کے لیے ایک واضح راستہ بنایا جائے۔

مثلاً استاد یہ کہنے کے بجائے کہ “آپ کا بچہ بالکل پڑھتا نہیں”، یہ بتائے کہ “گزشتہ دو ہفتوں میں ہوم ورک دس میں سے چھ دن مکمل نہیں ہوا، اور ریاضی کے بنیادی سوالات میں اسے مشکل پیش آ رہی ہے۔”

اب بات الزام سے نکل کر حقیقت پر آ گئی۔

پھر والدین سے پوچھا جائے: “گھر میں پڑھنے کا وقت مقرر ہے؟ بچہ روزانہ کتنی دیر پڑھتا ہے؟ موبائل یا دوسری مصروفیات کتنی ہیں؟ گھر میں اس سبق کو دہرانے کا موقع ملتا ہے؟”

اسی طرح والدین بھی صرف یہ نہ پوچھیں کہ “میرا بچہ کیسا ہے؟” بلکہ پوچھیں: “اس کی سب سے بڑی کمزوری کیا ہے؟ سب سے اچھی بات کیا ہے؟ اور اگلے مہینے ہم گھر سے کیا مدد کر سکتے ہیں؟”

سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہر میٹنگ کے آخر میں ایک چھوٹا سا ہدف ضرور طے ہو۔

مثلاً:
اگلے دو ہفتوں میں روزانہ ہوم ورک مکمل کرنا۔
روزانہ بیس منٹ مطالعہ کرنا۔
ریاضی کے دس بنیادی سوالوں کی مشق کرنا۔
کلاس میں کم از کم ایک مرتبہ سوال کا جواب دینا۔

پھر اگلی ملاقات میں دیکھا جائے کہ ہدف کہاں تک پورا ہوا۔

اور صرف کمزوریوں کی بات نہ کریں۔ اگر بچہ پہلے پانچ دن میں صرف دو دن کام کرتا تھا اور اب چار دن کرنے لگا ہے تو والدین کو یہ بھی بتائیں کہ “بہتری آ رہی ہے۔”

بچے کو بھی یہ محسوس ہونا چاہیے کہ والدین اور استاد دونوں اس کے خلاف نہیں، اس کے ساتھ ہیں۔

ایک کامیاب والدین میٹنگ وہ نہیں جس کے بعد والدین بچے کو ڈانٹیں؛ کامیاب میٹنگ وہ ہے جس کے بعد والدین، استاد اور بچہ تینوں کو معلوم ہو کہ اب اگلا قدم کیا ہے۔

اگر آپ کے خیال میں والدین کی میٹنگ شکایت کے بجائے بچے کی بہتری کا منصوبہ بنانے کے لیے ہونی چاہیے تو پسندیدگی ضرور کریں۔

یہ تحریر ایسے والدین اور اساتذہ تک پہنچائیں جو والدین میٹنگ کو صرف شکایات کی نشست سمجھتے ہیں۔ آپ کی ایک شیئر کسی سکول کی میٹنگ کا انداز بدل سکتی ہے۔

آپ بتائیں، آپ کے خیال میں والدین میٹنگ میں استاد کو سب سے پہلے بچے کی کمزوری بتانی چاہیے یا اس کی اچھی بات؟ اپنی رائے تبصرے میں ضرور لکھیں۔

بار بار غلطی کرنے والے بچے کے ساتھ کیا کیا جائے؟یہ وہ بچہ ہے جس سے استاد سب سے زیادہ تھک جاتا ہے۔روز سمجھاؤ، پھر بھی وہی...
14/09/2026

بار بار غلطی کرنے والے بچے کے ساتھ کیا کیا جائے؟

یہ وہ بچہ ہے جس سے استاد سب سے زیادہ تھک جاتا ہے۔

روز سمجھاؤ، پھر بھی وہی حرکت۔

آج شور کیا، کل بھی شور۔

آج کام نہیں کیا، کل بھی نہیں کیا۔

آج کسی بچے کو تنگ کیا، چند دن بعد پھر وہی شکایت۔

پھر استاد کے منہ سے نکلتا ہے:

"میں تمہیں کتنی بار سمجھاؤں؟ تم سدھرنے والے نہیں!"

اور یہی جملہ بعض اوقات مسئلہ حل کرنے کے بجائے مزید بڑا کر دیتا ہے۔

کیونکہ جب بچے کو بار بار کہا جائے کہ "تم کبھی نہیں سدھو گے" تو ایک وقت آتا ہے جب وہ خود بھی یہی مان لیتا ہے کہ شاید میں ایسا ہی ہوں۔

پھر اصلاح کی امید کم اور ضد زیادہ ہو جاتی ہے۔

ایسے بچے کے لیے سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ بار بار غلطی کا مطلب ہمیشہ یہ نہیں کہ بچہ جان بوجھ کر بگڑا ہوا ہے۔

ممکن ہے اسے اصول سمجھ نہیں آیا۔

ممکن ہے اسے اپنی حرکت کے نتیجے کا احساس نہیں۔

ممکن ہے وہ توجہ چاہتا ہو۔

یا ممکن ہے پورا سکول صرف اس کی غلطیاں دیکھ رہا ہو اور اس کی اچھی باتوں کو کوئی نوٹ ہی نہ کرتا ہو۔

اس لیے ایسے بچے کے ساتھ ایک الگ اور واضح منصوبہ بنائیں۔

اسے دس باتیں نہ سمجھائیں۔

صرف ایک یا دو رویوں پر توجہ دیں۔

مثلاً:

"اگلے ایک ہفتے میں تم نے کلاس میں بغیر اجازت بولنے سے بچنا ہے۔"

پھر روز اس کی پیش رفت دیکھیں۔

ایک دن اچھا رہا؟

فوراً بتائیں:

"آج تم نے بہت اچھا کنٹرول کیا، یہی رویہ چاہیے۔"

بچے کی اصلاح میں تعریف بھی اتنی ہی ضروری ہے جتنی غلطی کی نشاندہی۔

اور اگر وہ دوبارہ غلطی کرے تو پہلے سے طے شدہ نتیجہ سامنے آئے۔

نہ نئی دھمکی، نہ نئی سزا، نہ غصے کی نئی تقریر۔

بس وہی اصول۔

مستقل مزاجی بچے کو الجھن سے نکال کر ذمہ داری کی طرف لے جاتی ہے۔

اور ایک بہت اہم بات:

اس بچے کو پوری کلاس کے سامنے "شرارتی"، "بدمعاش"، "نالائق" یا "نافرمان" کہنا بند کریں۔

کیونکہ جب ایک بچے کی شناخت ہی اس کی غلطی بنا دی جائے تو وہ اپنے آپ کو بدلنے کی کوشش کیوں کرے گا؟

اسے یہ احساس دیں:

"تمہارا رویہ غلط ہے، لیکن تم بدل سکتے ہو۔"

یہ امید بہت طاقتور ہوتی ہے۔

اگر مسئلہ مسلسل جاری رہے تو والدین کو صرف شکایت کے لیے نہ بلائیں۔

ان سے کہیں:

"ہم آپ کے بچے کو سزا دینے کے لیے نہیں، بہتر بنانے کے لیے آپ کو ساتھ شامل کرنا چاہتے ہیں۔"

سکول اور گھر ایک ہی سمت میں کام کریں تو اصلاح کے امکانات بہت بڑھ جاتے ہیں۔

اور اگر بچے کا رویہ دوسروں کی حفاظت کے لیے خطرہ بن رہا ہو تو پھر معاملے کو سنجیدگی سے لے کر سکول انتظامیہ اور والدین کو فوری طور پر شامل کرنا ضروری ہے۔

یاد رکھیں:

بچے کو ہر بار سزا دے کر خاموش کرانا آسان ہے، لیکن بار بار غلطی کرنے والے بچے کو مستقل مزاجی سے بہتر بنانا اصل استاد کی کامیابی ہے۔

کبھی کبھی سب سے زیادہ محنت اسی بچے پر کرنی پڑتی ہے جسے باقی سب نے پہلے ہی "خراب بچہ" قرار دے دیا ہو۔

اگر آپ بھی ایسے بچوں کو صرف سزا دینے کے بجائے اصلاح کا موقع دینے پر یقین رکھتے ہیں تو لائک کر کے بتائیں کہ آپ اس سوچ کے ساتھ ہیں۔

اگر آپ کے سکول میں بھی کوئی ایسا بچہ ہے جسے بار بار سمجھانے کے باوجود بہتری نہیں آ رہی تو یہ تحریر اس کے استاد تک ضرور پہنچائیں۔

اور کمنٹ میں بتائیں: آپ کے تجربے میں بار بار غلطی کرنے والے بچے کی اصلاح میں سب سے زیادہ مؤثر چیز کیا ثابت ہوئی؟

Alhamdulillah...
02/09/2026

Alhamdulillah...

23/08/2026
16/08/2026

Address

Basti Mari Wala Post Office Choti Zareen
Dera Ghazi Khan
32200

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al-Noor Public Model School & Evening Academy posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category