Govt Primary School Bukhsha Dewala -DGK

Govt Primary School Bukhsha Dewala -DGK

Share

گورنمنٹ پرائمری سکول بخشہ ڈیوالا میں بچوں کو کوالٹی ای?

Photos from Govt Primary School Bukhsha Dewala -DGK's post 10/05/2026

Sunday, May 10, 2026
پاکستان سمیت دنیا بھر میں ماؤں سے محبت کے اظہار کا عالمی دن ’’مدر ڈے‘‘ آج منایا جا رہا ہے، ماؤں سے محبت کے اظہار کا عالمی دن منانے کا مقصد اس عظیم اور مقدس رشتے کی اہمیت کا احساس اجاگر کرنا ہے۔

خوبصورت ہستی، لازوال رشتہ، دن ہو یا رات اولاد کیلئے کرتی ہے صبح و شام بس کام، زندگی کے تمام دکھوں اور مصیبتوں کو اپنے آنچل میں چھپا لیتی ہے، ماں وہ ہستی ہے جو اپنی اولاد کے چہرے پر صرف مسکراہٹ بکھیرتی ہے۔

1911ء میں امریکا کی ایک ریاست میں پہلی بار ماؤں کا عالمی دن منایا گیا، ہر سال ماؤں کا عالمی دن منانے کیلئے مختلف ممالک میں ایک ہی دن مختص نہیں ہے، پاکستان اور اٹلی سمیت مختلف ممالک میں یہ دن مئی کے دوسرے اتوار منایا جاتا ہے۔

یوں تو ہر دن ماں کا دن ہے لیکن خاص طور پر اس دن کو منانے کا بنیادی مقصد ماؤں کی عظمت کو خراج تحسین پیش کرنا ہے، ہر ماں قابل تحسین ہے لیکن کچھ مائیں ایسی بھی ہیں جو مشکلات کو چیلنج سمجھ کے قبول کرتی ہیں اور اپنے بچوں کی بہترین تعلیم و تربیت کی خاطر گھروں کی ذمہ داری ہی نہیں سنبھالتیں بلکہ بچوں کے باپ کے شانہ بشانہ محنت کرتی ہیں۔

تمام مخالفتوں اور چیلنجز کے باوجود ایک ماں اپنے بچوں کو بہترین زندگی دینے کیلئے مشکلات اٹھانے کیلئے ہر دم تیار رہتی ہے، ماں کا دل تو بچوں کیلئے دھڑکتا ہے، بچوں کے ساتھ رہنا اولین ترجیح ہے لیکن ان کے بہتر مستقبل کیلئے پیشہ ورانہ ذمہ داریاں بھی احسن طریقے سے نبھا رہی ہیں۔

دنیا کا ہر رشتہ انسان کا ساتھ چھوڑ دے تب بھی ماں آخری دم تک اپنی اولاد کی فکر نہیں چھوڑتی، یہ ایک واحد انسانی رشتہ ہے جو بالکل بے غرض ہے لیکن وقت کی ستم ظریفی ہے کہ پاکستان میں اولڈ ہومز بنے اور اب بھرتے ہی جا رہے ہیں، اپنے بچوں کو پالنے کیلئے ہر دکھ سہنے والی مائیں اولڈ ہومز میں کرب سے گزر رہی ہیں۔

Photos from Govt Primary School Bukhsha Dewala -DGK's post 29/04/2026

بچوں کی عادات۔

Photos from Govt Primary School Bukhsha Dewala -DGK's post 01/04/2026

ماشااللہ۔
بخشہ ڈیوالا سکول کا بہترین رزلٹ اور تقسیم انعامات۔ یہ سب اساتذہ کی محنت ہے۔

29/03/2026
05/10/2025

وزیراعظم محمد شہباز شریف کا اساتذہ کے عالمی دن پر پیغام

آج اساتذہ کے عالمی دن پر پاکستان دنیا کے ساتھ ہم آواز ہو کر دنیا بھر کےاساتذہ کو خراج عقیدت اور ان کی گراں قدر خدمات پر خراج تحسین پیش کرتا ہے۔

حکومت پاکستان کی ترجیح ہے کہ پاکستان میں تعلیمی نظام کو مؤثر اور جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنایا جائے تاکہ ہماری نئی نسل دنیا کے علمی و فنی میدان میں مقابلہ کر کے ملک کا نام روشن کر سکے۔

جہاں اساتذہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں، شاگردوں اور نئی نسل کی طرف اپنے فرائض کو بااحسن سرانجام دے رہے ہیں وہیں مجموعی طور پر معاشرے کا یہ فرض العین ہے کہ اساتذہ کی عزت و تکریم اور معاشرے میں احترام میں کسی طور بھی کوئی کمی نہ ہو۔

اساتذہ کی فنی استعداد میں اضافہ اور ان کی معاشی آسودگی کا خیال رکھنا حکومت پاکستان اور صوبائی حکومتوں کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ اساتذہ کو فرائض کی انجام دہی میں معاونت کے ساتھ ان کے حقوق کی حفاظت بھی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ اساتذہ کے حقوق و فرائض کے تحفظ کے لیے نہ صرف قومی بلکہ عالمی سطح پر مجموعی کاوشوں اور تعاون کی ضرورت ہے تاکہ عالمی سطح پر اس طبقے کو مؤثر بناتے ہوئے دنیا کے تابندہ و روشن مستقبل کی بنیاد کو مضبوط کیا جا سکے۔

بین الاقوامی سطح پر ممالک کے درمیان اساتذہ کے تبادلے اور شاگردوں کی عالمی درسگاہوں میں مشترکہ پروگرام میں شرکت ایک خوش آئند عمل ہے جس کے فروغ کے لیے کام کرنا چاہیے۔

Photos from Govt Primary School Bukhsha Dewala -DGK's post 02/10/2025

مرد غصہ کیوں کرتے ہیں؟

اکثر مردوں کا غصہ محض ایک رویہ نہیں ہوتا، بلکہ اس کے پیچھے تھکن، دباؤ، مالی پریشانیاں یا دبے ہوئے جذبات ہوتے ہیں جنہیں وہ بیان کرنا نہیں سیکھ پاتے۔ ایسے میں غصہ ایک زبان بن جاتا ہے۔ اگر ہم مردوں کے غصے کو صرف روکنے یا سزا دینے کے بجائے اس کے پیچھے کے درد کو سمجھنے کی کوشش کریں تو نہ صرف رشتے بہتر ہو سکتے ہیں بلکہ ان کی ذہنی صحت بھی سنبھل سکتی ہے۔

02/10/2025

کلاس کنٹرول:
ڈسپلن, کلاس کنٹرول اور Behaviour Management تین الگ چیزیں ہیں۔ ڈسپلن کا تعلق کارکردگی سے ہے۔ آج ہم کلاس کنٹرول اور Behaviour Control کے بارے میں بات کریں گے۔ دونوں میں تھوڑا سا فرق ہے لیکن ہم ان کو ایک جیسا مان لیتے ہیں۔
کلاس کنٹرول کا مقصد اساتذہ کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ تدریسی عمل کو بغیر کسی مداخلت کے آسانی کے ساتھ سرانجام دے سکیں۔

کلاس کنٹرول میں دو اہم فیکٹرز کا عمل دخل ہے۔
سب سے پہلا اور اہم فیکٹر اساتذہ کی شخصیت کا ہے۔ اگر آپ کے اساتذہ کو معمولی بات پر غصہ آتا ہے اور وہ اس کا اظہار ضرورت سے ذیادہ کرتے ہیں, تو غالب امکان یہی ہے کہ بڑے بچوں کی کلاس کے لٸے وہ مناسب نہیں۔ بچے ان کے غصے کو انجواۓ کرتے ہیں اور کلاس میں ٹیچر کا مذاق بنا دیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس اگر ٹیچر بچوں کو کچھ نہیں کہتی اور صرف لیکچر ڈیلیور کرتی ہے تو بچے اپنی مرضی کرتے ہیں اور ٹیچنگ پر بُرا اثر پڑتا ہے۔ اس صورت میں ٹیچر کا کلاس میں ہونا یا نہ ہونا برابر ہوجاتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ ایسا کیا, کیا جاۓ کہ ٹیچرز کی کلاس کنٹرول بہتر ہو؟
سب سے پہلے تو ٹیچر کو یہ بات سمجھنی چاہیٸے کہ کلاس کنٹرول کا انحصار ان کے پہلے چند دن کی کارکردگی پر ہے۔ کلاس جب ایک دفعہ کنٹرول سے باہر ہوجاۓ تب کچھ نہیں ہوسکتا۔ یہاں تک کہ سکول پرنسپل بھی کچھ نہیں کرسکتے۔ اس لٸے ایک بات سمجھ لیں کہ جو بھی کرنا ہے ٹیچر نے ہی کرنا ہے اور پہلے چند دن میں کرنا ہے۔
ٹیچرز کو سب سے پہلے سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیٸے۔ پہلے چھ, سات لیکچرز ایسے تیار کٸے جاٸیں کہ بچے امپریس ہوجاٸیں۔ یہ سب سے آسان اور مٶثر طریقہ ہے۔ اس کے بعد بھی اگر بچے کلاس ڈسٹرب کریں, تو ابتداٸی رسپانس کم سے کم دینا چاہیٸے۔ ڈاٸیریکٹ جسمانی سزا یا والدین بلانے کی دھمکی پر نہیں جانا چاہیٸے۔ اگر آپ نے ایک دفعہ کہہ دیا کہ میں نے آپ کے والدین کو بتانا ہے تو اب آپ کا فرض بنتا ہے کہ آج ہی والدین کو بتایا جاۓ۔ بچہ جب گھر پہنچے تو اس کے والدین کو پتہ ہو کہ بچے نے سکول میں کچھ غلط کیا ہے۔یہاں ایک غلطی کبھی نہیں کرنی چاہیٸے۔ والدین کو کبھی یہ نہ بتاٸیں کہ بچہ کلاس میں شور کررہا ہے۔ اس بات سے والدین کو کوٸی فرق نہیں پڑتا اور الٹا سکول کی کمزوری ظاہر ہوجاتی ہے۔ اس کی بجاۓ اگر آپ والدین کو بتا دیں کہ بچہ کلاس میں لیکچر نہیں سن رہا یا ہوم ورک مکمل نہیں ہوا, تو اس کا اثر ذیادہ ہوتا ہے۔ اس سے بھی ذیادہ اہم بات یہ ہے کہ جب ہم والدین کو بتا دیں کہ بچے نے ٹسٹ فیل کیا ہے یا کم مارکس لٸے ہیں تو گھر پہنچنے پر بچے کی شامت آجاٸیگی۔ اگلے دن کلاس میں نہ صرف وہ بچہ خاموش ہوگا بلکہ باقی گروپ کو بھی پتہ چل جاٸیگا کہ ہمارے ساتھ بھی یہی ہونے والا ہے۔
میں ہمیشہ اساتذہ کو کہتا ہوں کہ بچوں کو وہ دھمکی کبھی نہ دیں جو آپ پوری نہیں کرسکتے۔
اسکے علاوہ پرانے اساتذہ بھی اپنی کلاس کو دلچسپ بنانے کی فکر کریں۔ اگر کلاس آپ کی کنٹرول میں ہے تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ کلاس کو ٹارچر سیل بنا کے رکھیں۔ بچے کچھ الگ سننا چاہتے ہیں۔ ان کی یہ ضرورت پوری کیا کریں۔ ان کے ساتھ اپنی زندگی کے تجربات شٸیر کیا کریں۔ ان کے ساتھ گپ شپ کیا کریں۔ ان کو دوستوں کی طرح ڈیل کریں۔ ان کی تعریف کریں۔ اپنی زندگی کی ناکامیاں بچوں کو کبھی مت بتاٸیں۔ بچے ناکام لوگوں کو پسند نہیں کرتے۔ ایک بات یاد رکھیں آپ میں سے کوٸی ناکام نہیں ہے۔ آپ زندہ ہیں, کام کررہے ہیں اور دو چار پیسے کما رہے ہیں تو آپ کامیاب ہیں۔
بچوں سے دوستی کریں۔ جب بچے آپ سے دوستی کرلیں گے تو وہ آپ کو کبھی ناراض نہیں کرنا چاہیں گے۔
دوسرا فیکٹر سکول کلچر کا ہے۔ سکول و کالج بچوں کے Behaviour Control کے لٸے کیا اقدامات اٹھاسکتے ہیں؟

تین کام ضرور کرنے چاہیٸے۔
پہلا کام Behaviour Management پالیسی بنانا ہے۔ مثال کے طور ہم لکھ سکتے ہیں کہ;
پہلی دفعہ کلاس میں لیکچر کے دوران بات کرنے پر تنبیہ دی جاٸیگی۔
دوسری دفعہ بات کرنے پر نام لیکر پکارا جاٸیگا۔
تیسری دفعہ Disturbance پر بچے کو کھڑا کیا جاۓ گا۔ چوتھی دفعہ بات کرنے پر سکول کاٶنسلر کے پاس بھیجا جاٸیگا (اگر سکول میں کاٶنسلر موجود نہیں تو سیکشن ہیڈ یا سینٸیر ٹیچر کو یہ ذمہ داری دی جاسکتی ہے)
اس کے بعد والدین کو اطلاع دی جاٸیگی۔
اس کے بعد بھی مسٸلہ حل نہیں ہوتا تو بچے کو سکول سے نکالا جاۓ گا۔
یہ عمل تین سے چھ دن کے لٸے ہوگا۔ اس کے بعد دوسرا سرکل شروع ہوگا۔ اسی طرح دس سے پندرہ Bad Behaviours کی نشاندہی کرکے قانون سازی کی جاسکتی ہے۔ یہ سب تحریری طور پر موجود ہونا چاہیٸے اور اساتذہ اور بچوں کو بار بار بتا دینا چاہیٸے۔
دوسرا کام موجودہ Bad Behaviours کو اسی قانون کے تحت روکنا ہے۔ جب آپ اپنے لکھے ہوۓ قانون پر عملدرآمد کرواٸیں گے تو آپ کے موجودہ مساٸل حل ہوجاٸیں گے۔
تیسرا فیکٹر تربیت کا ہے۔ بچوں کے اندر سزا و جزا کا کونسپٹ ڈیولپ کیجٸے۔ ان کو لیکچرز اور موٹیویشن دیتے رہیں۔ ان کو اچھا انسان بننے کی تحریک دیا کریں۔ اس کے لٸے ہر ماہ اسمبلی میں دو طرح کے سرٹفکیٹس دیٸے جاسکتے ہیں۔
ایک Good Behaviour Certificate جو عام طور پر ان بچوں کو ملے گا جن کا Behaviour پہلے سے ہی اچھا ہے۔
دوسرا سرٹفکیٹ Most Improved Behaviour کا دیا جاسکتا ہے۔ اس کیٹیگری میں ان بچوں کو شامل کیجٸے جن کے Behaviour مساٸل تھے لیکن انھوں نے Improve کیا ہے۔
ان باتوں پر عمل کرنے سے کافی مساٸل ختم ہوسکتے ہیں۔
مزمل شاہ

نوٹ:
تحریر کچھ پرنسپلز کی طرف سے Discipline Problems کے بارے میں سوالات کے جواب میں لکھی گٸی ہے۔

Want your school to be the top-listed School/college in Dera Ghazi Khan?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Address

موضع پتی سلطان لاشاری شاہ صدر دین ڈی جی خان
Dera Ghazi Khan

Opening Hours

Monday 07:00 - 03:00
Tuesday 07:00 - 15:00