Fikr o Nazar فکر و نظر

Fikr o Nazar فکر و نظر

Share

" فکر و نظر " میں خوش آمدید !
دینی ، معاشرتی اور ادبی تحریریں

25/05/2026

ایک دوسرے کا لباس

بطور استاد ہم اس وقت حیران ہو جاتے ہیں جب ہمیں کوئی ایسا طالب علم " سر " کہتا ہے جسے ہم نے باقاعدہ ایک لفظ بھی نہ پڑھایا ہو اور عزت و احترام میں بھی کوئی کمی نہیں ہوتی تب ہم سوچتے ہیں کہ
" کہاں میں اور کہاں یہ مقام
اللہ اللہ "
اور دل بے اختیار اس رب کے حضور سجدہ ریز ہو جاتا ہے جس نے تمام تر کوتاہیوں اور لغزشوں کے باوجود ہمیں عزت و توقیر کا رزق عطا کر رکھا یے۔

آپ کی خدمت میں ایک ایسی طالبہ کی تحریر پیش کی جارہی ہے جس کے ہم
" منھ بولے استاد " ہیں۔

اللہ " فاطمہ " کے علم و عمل میں برکت دے اور اس کی کاوشوں کو اس کے لیے توشہ آخرت بنا دے ۔
یہ ہماری وہ " منھ بولی طالبہ "
ہے جس سے ہم نے خیالات ، احساسات اور جذبات کا دل نشیں پیرائے میں
اظہار کا ڈھب سیکھا ہے۔

جیو فاطمہ جیو !
ہمارے اس فیس بک کے صفحے کے لیے اپنی تحریر شایع کرنے کی اجازت دینے کا شکریہ ۔

اب آپ اس کی تحریر پڑھیے اور رائے دیجیے کہ اس نے موضوع کے ساتھ کس حد تک انصاف کیا ہے ۔

عنوان؛ 📍 *"میاں بیوی ایک دوسرے کا لباس"*

میاں اور بیوی کا رشتہ صرف
دو انسانوں کا ساتھ نہیں بل کہ دو روحوں، دو احساسات اور دو زندگانیوں کا ایسا حسین امتزاج ہے جسے اللہ تعالیٰ نے محبت، سکون اور رحمت کا ذریعہ بنایا۔
قرآنِ مجید میں ارشاد ہوتا ہے:

*هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَاَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ*
یعنی:
"وہ تمھارے لیے لباس ہیں اور تم ان کے لیے لباس ہو۔" ( سورت البقرہ ، آیت نمبر 187

یہ مختصر سی آیت اپنے اندر ازدواجی زندگی کا ایک مکمل فلسفہ سموئے ہوئے ہے۔ لباس انسان کو ڈھانپتا ہے اور سردی و گرمی سے بچاتا بھی ہے، جہاں زینت بنتا ہے وہاں سکون بھی دیتا ہے۔ بالکل اسی طرح میاں بیوی ایک دوسرے کی کم زوریوں پر پردہ ڈالتے ہیں، دکھ سکھ میں ساتھ کھڑے ہوتے ہیں، ایک دوسرے کے لیے باعثِ راحت بنتے ہیں اور زندگی کے سفر کو آسان بناتے ہیں۔

میاں بیوی کا تعلق صرف ظاہری رشتے کا نام نہیں بل کہ اعتماد، وفاداری اور قربانی کا دوسرا نام ہے۔ جب زندگی کی دھوپ تیز ہو جائے تو یہی رشتہ سایہ بن جاتا ہے اور جب دل پریشانیوں سے بوجھل ہو تو یہی تعلق سکون کی ٹھنڈی ہوا محسوس ہوتا ہے۔ ایک اچھا شوہر اپنی بیوی کی عزت، احساسات اور خوابوں کی حفاظت کرتا ہے، جب کہ ایک نیک بیوی اپنے شوہر کے وقار ، سکون اور گھر کی رونق بن جاتی ہے۔

لباس انسان کی عیب پوشی کرتا ہے۔ اسی طرح میاں بیوی ایک دوسرے کی خامیوں کو دنیا کے سامنے اچھالنے کی بجائے محبت سے سنوارتے ہیں۔ جہاں عزت ہو وہاں محبت پروان چڑھتی ہے اور جہاں اعتماد قائم ہو وہاں رشتے مضبوط ہو جاتے ہیں۔ اگر کبھی اختلاف بھی ہو جائے تو برداشت ، نرمی اور گفت گو اس رشتے کو پھر سے جوڑ دیتی ہے۔

یہ رشتہ صرف دنیاوی آسائش کا ذریعہ نہیں بل کہ روحانی سکون کا وسیلہ بھی ہے۔ صالح میاں بیوی ایک دوسرے کو نیکی، صبر اور دین کی طرف راغب کرتے ہیں۔ ان کے درمیان محبت محض لفظوں میں نہیں رہتی بل کہ رویوں، دعاؤں اور خیال رکھنے میں جھلکتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کے لیے لباس تب بنتے ہیں جب ان کے درمیان انا نہیں بل کہ محبت ہو، شک نہیں بل کہ اعتماد ہو اور صرف حقوق کا مطالبہ نہیں بل کہ ایک دوسرے کے لیے ایثار کا جذبہ ہو۔ تب یہ رشتہ زندگی کا سب سے خوب صورت سہارا بن جاتا ہے۔

ازدواجی زندگی کا حسن اسی میں ہے کہ دونوں ایک دوسرے کی کم زوری نہیں بل کہ طاقت بنیں، زخم نہیں بل کہ مرہم بنیں، اور تنہائی نہیں بل کہ سکون کا احساس بن جائیں۔ یہی وہ رشتہ ہے جسے محبت، احترام اور خلوص سے نبھایا جائے تو گھر جنت کا نمونہ محسوس ہونے لگتا ہے۔

• از قلم: فاطمۃالزہرہ
(اسکالر ایم فل اردو)
25- مئی 2026ء

24/05/2026

ہمیں فخر ہے کہ ہم ایسی باحیا ، باعفت اور نیک روح کے استاد ہیں۔

ہماری " بزرگ " طالبہ کی ایک اور کاوش ۔
ماشاءاللہ ! چشم بد دووووور!!!


تحریر: حرم نور
طالبہ سال اول (ایم بی بی ایس)
24/مئی 2026ء

یا رب… اس دل کا کیا کروں؟

یا رب…
اس دل کا کیا کروں—
یہ معنی کا آوارہ مسافر،
یہ ایسا جلاوطن جو ہر وطن میں تجھے پا لیتا ہے،
یہ ایسا فقیر جو ہر در کو مزار بنا لیتا ہے۔
ہر شے میں، ہر حال میں، ہر گزرتے لمحے میں،
ہر چہرے کے پیچھے، ہر پردے کے نیچے،
ہر وجودی بھیس کے اندر،
یہ تجھے ڈھونڈ لیتا ہے—
جیسے کائنات فقط ایک لرزتا ہوا پردہ ہو
اور تو اس کے پیچھے سانس لیتا ہوا منظر۔
کسی اور کی خاموشی میں
یہ تیری گفتگو کی بازگشت سن لیتا ہے،
جیسے سناٹا بھی تیرے نام کی تسبیح پڑھ رہا ہو۔
کسی اور کی آہ میں
یہ تیرے نام کی خوشبو پہچان لیتا ہے،
جیسے درد بھی تیرے ذکر سے مہک رہا ہو۔
کسی اور کے زخم میں
یہ تیری رحمت کی نرمی محسوس کر لیتا ہے،
جیسے ہر چوٹ میں بھی تیرا لمس چھپا ہو۔
کسی اور کی بے چینی
اس کے لیے دعا بن جاتی ہے،
کسی اور کا غم
اس کے لیے سجدہ ہو جاتا ہے،
کسی اور کی تکلیف
اس کے لیے تسبیح بن جاتی ہے،
کسی اور کی تنہائی
اس کے لیے پناہ گاہ ہو جاتی ہے۔
کسی اور کی خودی میں
یہ تیری جھلک دیکھ لیتا ہے—
جیسے ہر روح تیرے آئینے کا ایک ٹوٹا ہوا ٹکڑا ہو۔
کسی اور کی خزاں میں
یہ تیری بہار ڈھونڈ لیتا ہے،
جیسے مرجھائے ہوئے پتوں میں بھی سبز دعا سو رہی ہو۔
کسی اور کے جھڑتے پتوں میں
یہ تیری آمد کی تحریر پڑھ لیتا ہے،
جیسے وقت بھی تیرے نام کی تحریر لکھ رہا ہو۔
کسی اور کی بارش میں
یہ تیری رحمت کے قطرے سمیٹ لیتا ہے،
جیسے بوند بوند میں تیری شفقت ٹپک رہی ہو۔
کسی اور کے طوفان میں
یہ تیری قدرت کی ہیبت پہچان لیتا ہے،
جیسے شور میں بھی تیرا جلال بول رہا ہو۔
یا رب…
یہ دل ادراک کا گرجا ہے،
اشتیاق کی خانقاہ ہے،
آنسوؤں کی مسجد ہے—
جہاں ہر سجدہ ٹوٹ کر بنتا ہے۔
یہ ہر آئینے میں تجھے دیکھتا ہے،
ہر آواز میں تجھے سنتا ہے،
ہر لمس میں تجھے محسوس کرتا ہے—
جیسے دنیا محض ایک زبان ہو
اور تو اس کا مفہوم،
اور ہم سب اس کے ہجے۔
مگر اس کا اپنا آشیانہ ویران ہے،
اس کی اپنی دیواریں گر چکی ہیں،
اس کا اپنا سایہ مٹی ہو چکا ہے—
جیسے یہ خود کو کھو کر سب کو پا رہا ہو۔
یہ ٹوٹا ہوا ہے—
مگر دوسروں کے لیے چھت بن جاتا ہے،
یہ خالی ہے—
مگر سب میں خود کو انڈیل دیتا ہے،
یہ زخمی ہے—
مگر سب کے زخموں پر مرہم رکھتا ہے،
جیسے اس کا درد ہی اس کی شفا ہو۔
یا رب…
کبھی یہ چاہتا ہے کہ اسی جلنے میں جلتا رہے—
اسی پہچان کی تپش میں گھلتا رہے،
نمک کی طرح تیرے سمندر میں تحلیل ہوتا رہے،
کہ خود کا نام مٹ جائے اور تیرا ذائقہ رہ جائے۔
اور کبھی
یہ تجھ سے فریاد کرتا ہے کہ اسے پتھر بنا دے—
سن کر بھی نہ سنے،
دیکھ کر بھی نہ دیکھے،
محسوس کر کے بھی نہ محسوس کرے،
کیونکہ بہت زیادہ محسوس کرنا بھی تو ٹوٹ جانا ہوتا ہے۔
یہ چاہت اور بقا کے بیچ لٹکا ہوا ہے،
فنا اور ٹھہراؤ کے درمیان معلق،
کبھی چاہتا ہے ہر جگہ تجھے محسوس کرے،
اور کبھی چاہتا ہے کچھ بھی محسوس نہ کرے،
جیسے سانس بھی بوجھ لگنے لگے۔
کیونکہ یہ دل پتھر کا نہیں،
پہچان کا بنا ہے،
یہ مٹی کا نہیں،
تڑپ کا بنا ہے،
یہ دھڑکن نہیں،
ایک پکار ہے۔
یہ دل ایسی آنکھ ہے جو نظر سے آگے دیکھتی ہے،
ایسا کان ہے جو آواز سے آگے سنتا ہے،
ایسا عصب ہے جو لمس سے آگے محسوس کرتا ہے—
جیسے پردے ہٹ جائیں اور تو ہی تو رہ جائے۔
اگر تو اسے سخت کر دے
تو یہ تجھے نہ پہچان سکے گا
ادھار چہروں میں،
ادھار غموں میں،
ادھار خوشیوں میں—
کیونکہ یہ دل اصل کا بھوکا ہے۔
اگر تو اسے پتھر بنا دے
تو یہ نہ تجھے دیکھ سکے گا،
نہ تجھے سن سکے گا،
نہ تجھے محسوس کر سکے گا—
اور یوں جیتے جی
اس کی موت اس کے اپنے ہاتھوں لکھ دی جائے گی۔
یا رب…
یہ دل دوسروں کی خاک میں اتر جاتا ہے،
ٹوٹے ہوئے دلوں کے بکھرے ذروں میں داخل ہوتا ہے،
اور ان کے شکستہ ٹکڑے چن چن کر—
درد بہ درد، زخم بہ زخم—
ان سے تیری تصویر بناتا ہے،
جیسے بکھری ہڈیوں سے سجدہ تراش رہا ہو۔
یہ اجڑے دلوں میں
ایک صابر معمار کی طرح داخل ہوتا ہے،
ان کا ملبہ سمیٹتا ہے،
اور ان کی بربادی سے
تیرا مزار تعمیر کرتا ہے،
جیسے ویرانی بھی تیری عبادت ہو۔
یہ زخموں کو کھڑکیاں بنا دیتا ہے،
آنسوؤں کو سیاہی،
اور ٹوٹی ہوئی زندگیوں کے صفحات پر
تیرا نام لکھ دیتا ہے—
جیسے شکست بھی تیرا کاتب ہو۔
یہ کیسا راز ہے جو اس کے گرد لپٹا ہے؟
یہ کیسا بوجھ ہے جو تو نے اس کے سپرد کیا ہے؟
یہ کیوں خود کو مٹاتا ہے
تاکہ دوسروں کو وجود دے؟
یہ کیوں خود کو کھو دیتا ہے
تاکہ تو ظاہر ہو؟
یا رب…
یہ دل اپنا خیال نہیں رکھتا،
یہ سب کا بوجھ اٹھا لیتا ہے
مگر اپنا وزن بھول جاتا ہے،
جیسے اس کی ہڈیوں میں بھی دعا بھری ہو۔
یہ اپنے ساتھ بے پرواہ ہے،
مگر تیرے سامنے باادب،
یہ اپنی چھت گرا دیتا ہے
تاکہ دوسروں کے در کھلے رہیں،
یہ خود بھوکا رہتا ہے
تاکہ دوسرے سیر ہوں،
یہ خود کو مٹا دیتا ہے
تاکہ تو باقی رہے،
یہ خود کو بھول جاتا ہے
تاکہ تجھے یاد رکھے۔
یہ دل نہیں…
یہ گوشت میں لپٹا ہوا ایک درویش ہے،
یہ سینہ نہیں…
یہ وہ دہلیز ہے جہاں سے تو گزرتا ہے۔
یا رب…
یہ فنا ہے یا عبادت؟
یہ جنون ہے یا کشف؟
یہ کھونا ہے…
یا پانے کی بلند ترین صورت؟
اور پھر…
جب یہ پوچھنے سے تھک جاتا ہے،
شکایت سے ٹوٹ جاتا ہے،
رو دینے سے بھی خالی ہو جاتا ہے—
تو یہ یاد کر لیتا ہے:
یہ دل تیرا گھر ہے۔
ہاں…
یہ ٹوٹا ہوا، کانپتا ہوا، حد سے زیادہ محبت کرنے والا دل—
یہ تیرا مسکن ہے۔
تو اسے جس سے سجا دے
وہی اس کی شان بن جاتا ہے،
تو اس میں جو رکھ دے
وہی اس کی زینت بن جاتی ہے،
تو اس کے لیے جو چن لے
وہی اس کا تاج بن جاتا ہے۔
کیونکہ آخرکار…
یہ گھر تیرا ہی ہے۔
تو چاہے تو توڑ دے—
یہ پھر بھی تجھے مہمان کہے گا،
تو چاہے تو خالی کر دے—
یہ پھر بھی تیرا انتظار کرے گا،
تو چاہے تو جلا دے—
یہ پھر بھی تیرے نام سے روشن رہے گا۔
یا رب…
گھر مالک کے قدموں پر شکایت کیسے کرے؟
دروازہ محبوب کی آمد پر احتجاج کیسے کرے؟
دل بربادی سے ڈرے بھی کیسے
جب برباد کرنے والا بھی تو ہو
اور آباد کرنے والا بھی تو؟
رہ…
چاہے درد بن کر رہ،
بس…
چاہے تڑپ بن کر بس،
ٹھہر…
چاہے کسک بن کر ٹھہر۔
کیونکہ میرا ٹوٹنا بھی مقدس ہے
اگر وہ تیرے حضور ہو۔
یہ دل تیرا ہے،
یہ ویرانی تیری ہے،
یہ محبت تیری ہے۔
اور میں…
میں تو بس تیرے در کی خاک ہوں۔

21/05/2026

پانی ڈال ڈال کر جائیں

راہ چلتے اس جملے نے قدم روک لیے ۔ غور کرنے پہ معلوم ہوا کہ یہ فقرہ ایک مسجد کے بیت الخلا کے دروازے پر لکھا ہوا تھا

پانی ڈال ڈال کر جائیں

یہ ایک جملہ اپنی جگہ پوری
" داستان " سموئے ہوئے ہے۔


مسجد اور اس میں موجود بیت الخلا کے دروازوں کو اگر تالا لگا دیا جائے تو کچھ لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ خانہ خدا تالوں کی زد میں ہے اور اگر بیت الخلا کا دروازہ ہر بندے کے لیے کھول دیا جائے تو مسئلہ یہی ہے کہ لوگ بیت الخلا میں " کارروائی " کرنے کے بعد اپنے
" کیے کرائے " پر
" پانی " نہیں پھیرتے ۔ مجبوراً انتظامیہ کو تالا لگانا پڑتا ہے تاکہ نمازیوں کے لیے سہولت برقرار رہے۔

ہمارے معاشرے میں بیت الخلا کے استعمال اور اس کے آداب کے حوالے سے بے شعوری بہت عام ہے۔ یہ ایک المیہ ہے کہ جس دین میں صفائی پر بہت زور دیا گیا حتیٰ کہ
" الطہور شطر الایمان"
کا بہترین کلیہ بھی دیا گیا مگر اس دین کے پیروکاروں کے اس معاشرے میں ، آپ اکثر عوامی مقامات یعنی مساجد ، ہوٹل ، پارک اور سکول حتیٰ کہ گھروں میں بھی بیت الخلا ایسی حالت میں دیکھیں گے کہ طبیعت
" صاف " ہو جاتی ہے ۔

اس کی بنیادی وجہ بچپن ہی سے تربیت کا نہ ہونا ہے۔ والدین خصوصاً ماں چھوٹی عمر ہی سے بچوں کے سامنے بیت الخلا کی صفائی کا اہتمام کرے ۔ بچہ یا بچی جب خود بیت الخلا استعمال کرنے لگے اور وہ استعمال کے بعد باہر نکلے تو والدین بیت الخلا کا معائنہ کریں ۔ اگر صفائی نہیں ہے تو پہلے تو اپنے بچوں سے صفائی کرائیں ۔ اگر چھوٹے بچے اس قابل نہیں تو ان کے سامنے خود صفائی کریں اور بار بار بچے کو تاکید کریں یہاں تک کہ بچے کی عادت پختہ ہو جائے اور وہ صفائی کر کے ہی باہر نکلے ۔

اسی طرح بچے جب سکول پہنچتے ہیں تو اساتذہ کرام اور سکول انتظامیہ بچوں کی تربیت کی ذمہ داری لے کہ بچے بیت الخلا کا استعمال کریں اور صفائی کر کے ہی باہر نکلیں۔ اسی طرح بچوں کی درسی کتب میں بیت الخلا کے آداب کے حوالے سے اسباق شامل ہوں ۔ وقتاً فوقتاً بچوں کو لیکچر دیے جائیں اور قومی و سوشل میڈیا پر صفائی کے حوالے سے تشہیری مہم چلائی جائے۔

انسان فطرتاً نفیس ، نازک مزاج ، خوب صورت اور حسین جذبات کا مجموعہ ہے پر
بیت الخلا کا استعمال ہر انسان کی فطری مجبوری ہے کہ جس سے کسی صورت بچنا ممکن نہیں مگر شعور ، سمجھ داری ، اخلاقیات اور نفاست کا تقاضا یہی ہے کہ ہر انسان بیت الخلا استعمال کرنے کے بعد اسے اس قابل بنا جائے کہ اس کے بعد آنے والا کسی بھی قسم کی ذہنی کوفت اور اذیت کا شکار نہ ہو۔ اگر کوئی انسان اپنی یہ ذمہ داری نہیں نبھاتا تو یقیناً دو ٹانگوں والی اور چار ٹانگوں والی مخلوق میں زیادہ فرق نہیں رہتا۔

تحریر : محمد سراج الدین

تاریخ : 21- مئی 2026ء

08/05/2026

حادثے تو ہمارے پیچھے ہیں

جمعرات 07 مئی 2026 ء صبح تقریباً سوا گیارہ بجے ڈیرہ غازی خان میں لٹل سکالرز سکول کی چھت گرنے کاجو سانحہ ،المیہ اورنوحہ ہوا ، اس پہ بات کرنے کی ذرا سی بھی سکت اور ہمت نہیں۔ تاہم اسی ضمن میں کچھ ٹوٹے پھوٹے الفاظ پیش خدمت ہیں۔

خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ اپنی نیند اور اپنا آرام و سکون قربان کر کے مدینے کی گلیوں میں رات کے وقت گھوما کرتے تھے تاکہ کسی الجھن اور مسئلے کا بروقت حل تلاش کیا جا سکے۔
ان کا یہ طرز عمل انسانیت ، ہم دردی ، احساس ذمہ داری اور عمدہ حکم رانی کا ایک بہترین نمونہ ہے۔ عوام کی خدمت کا یہ بہترین انداز ہے کہ کسی مسئلے کو پیدا ہونے سے پہلے ختم کر دیا جائے ۔یعنی انسان اپنے طور پہ کسی ممکنہ نقصان سے بچنے کے لیے اپنی پوری اور پیشگی کاوشیں کریے اور اس کے بعد بھی نقصان ہو جائے تو یقینا اس کی سنگینی کم ہو سکتی ہے اور اللہ کی رضا سمجھ کر صبر کیا جا سکتا ہے ۔ اس کے برعکس غفلت کا مظاہرہ کر کے کوئی نقصان ہونے دیا جائے اور بعد میں خوب واویلا مچایا جائے تو یہ رویہ کسی طرح بھی پسندیدہ نہیں ۔ آج کے جدید دور میں حکم رانوں اور عوام نے اس فارمولے کو نظر انداز کر دیا ہے جس کے نتیجے میں حادثات گویا ہمارے پیچھے پڑ گئے ہیں۔ ہم لوگ نفسا نفسی ،
افرا تفری اور اپنے معاملات میں غرق ہو کر آس پاس موجود مسائل پر توجہ نہیں دیتے اور جب حادثہ ہو جاتا ہے تو پھر ہم خوب بڑھ چڑھ کے تبصرے ، اعتراضات اور تنقید کرتے ہیں۔
کسی ممکنہ سانحے سے بچنے کے لیے جو ہم سے ہو سکتا ہے ، وہ ہم نہیں کرتے اور جن کے ذمے ہوتا ہے ۔ وہ غفلت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ نتیجے میں ایک کے بعد دوسرا حادثہ ہمارے پیچھے ہی پڑ جاتا ہے ۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے آس پاس نظر رکھا کریں کہ کہیں کوئی گٹر کا ڈھکن تو غائب نہیں۔ کسی عمارت میں دراڑیں تو نظر نہیں آ رہیں اور کہیں 11 کے وی کی تاریں تو نہیں جھول رہیں ۔ وغیرہ وغیرہ۔ یوں جہاں جہاں ، جو جو مسئلہ ہمیں لگتا ہے کہ مستقبل میں اس سے نقصان متوقع ہو سکتا ہے تو ہمیں فوراً متعلقہ ذمہ دار بندے کو اس سے آگاہ کرنا چاہیے تاکہ متوقع نقصان سے بچا جا سکے۔

تحریر : محمد سراج الدین

تاریخ : 8- مئی 2026 ء

02/05/2026

خدا اور انسان

آج دنیا کے جس کونے پہ نظر دوڑائیں ، ہر سو جدید طرز زندگی کی جھلک ملے گی اور ساتھ ہی آسائشوں ، خواہشوں اور حسرتوں کی تکمیل کی سعی میں دوڑتا اور ہانپتا کانپتا انسان بھی ملے گا۔ بظاہر تو دنیا میں بڑی چہل پہل نظر آ رہی ہے۔ عالی شان بنگلے ، لمبی گاڑیاں اور پرتعیش زندگی کے حصول میں انسانی بھاگ دوڑ ۔ بظاہر انسان خوش و خرم اور قہقہے بکھیرتے بھی نظر آ رہے ہیں ۔ کوئی مہنگے لباس پہن کے نازاں ہے تو کوئی اپنی خوب صورتی پہ اترا رہا یے۔ ایک بندہ اپنے آس پاس لڑکیوں کے ہجوم کو اپنی کام یابی سمجھ رہا ہے تو دوسرا بندہ اپنے کسی فن کے باعث داد و تحسین کو حاصل زندگی سمجھ رہا ہے۔ غرض جو جو ، جہاں جہاں ہے ، اپنی زندگی میں مست ہے اور اپنے تئیں خود کو کام یاب اور خوش تصور کر رہا ہے.
مگر سکون ! جی ہاں سکون !! آپ کو کم ملے گا ۔ جس محفل میں جائیں ، سڑکوں اور گلیوں میں نکلیں ۔ کسی ولیمے کی تقریب میں شامل ہوں ، ہر جگہ آپ کو ایک افرا تفری ، بھاگ دوڑ ، شور شرابا اور ایک ہنگامے کی سی کیفیت ملے گی ۔ اسی طرح انسانوں کو کھوجیں اور کریدیں گے تو ہر انسان کسی نہ کسی تکلیف ، پریشانی اور دکھ میں مبتلا نظر آئے گا۔ آخر اس کا کیا سبب ہے؟
بظاہر ہر چیز ہوتے ہوئے انسان سکون سے کیوں محروم ہے ؟ غور کریں تو اس کا جواب بھی ہمیں اپنے دل سے ملے گا ۔
سکون نہ ہونے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انسان نے اللہ تعالی کے نظام کے مقابلے میں اپنا نظام قائم کر رکھا ہے ۔ جی ہاں ! اللہ تعالی نے اگر ہمیں امتحان کے واسطے اس دنیا میں بھیجا تو ہم نے اسے دائمی زندگی اور مستقل خوشیوں کا گھر سمجھ لیا اور اپنے آخری سانس تک ہر وہ کام کرنے لگے جس سے ہماری زندگی بظاہر پرسکون ہو جائے لیکن حقیقت میں ہم نے بےسکونی کو اپنی ذات کا حصہ بنا لیا ہے۔ اللہ نے ہمیں اس دنیا میں بھیجا تو زندگی گزارنے کے لیے ہدایات ، فارمولے ، اصول ، ضابطے اور ایک بہترین نظام دیا کہ ہر معاملے میں اس طرح چلو گے تو تمھارے لیے یہاں زندگی گزارنا آسان ہو جائے گا مگر ہم انسانوں نے اللہ کے نظام کے مقابلے میں اپنا نظام شروع کر دیا۔ ہر معاملے میں ہر وہ کام کیا جو اللہ کے بنائے ہوئے نظام کے الٹ تھا ۔
اس وقت دنیا کا کوئی شعبہ اور کوئی بھی معاملہ اٹھا کے دیکھیں ، ہر معاملے میں آپ کو فطرت اور اللہ کے اصولوں کے الٹ انسانی اصول اور انسانی نظریات کار فرما نظر آئیں گے ۔ نتیجے میں بے سکونی ، بے اطمینانی اور افرا تفری ہمارا مقدر بن چکی ہے۔
اللہ تعالی نے انسانی ضرورتوں ، ان کے تقاضوں ، خواہشات ، انسانی کی جلد بازی کی عادت اور اس کے ہر معاملے کو دیکھ کر قوانین بتائے اور ان میں امتحان بھی رکھا۔ ہم نے اس امتحان سے بچنے اور جلد نتائج حاصل کرنے کے لیے خدا کے نظام کی خلاف ورزی کی ہے۔ اب بھی وقت ہے۔ اگر انسان اللہ تعالی کے بنائے ہوئے نظام کو اپنا لے ۔ اس پہ چلے تو یہ دنیا انسان کے لیے راحت اور اطمینان کا باعث بن جائے گی۔ نہیں تو ہر گزرتے دن کے ساتھ ہر لمحے بے سکونی رہے گی۔
یاد رکھیے ! دنیا میں ہمیشہ انبیائے کرام ، صدیقین ، شہدا اور صالحین کی زندگیاں آپ کو پرسکون نظر آئیں گی۔ ان کی زندگیوں میں کوئی پچھتاوا ، کوئی ملال ، کوئی دکھ اور کوئی افسوس کی کیفیت نظر نہ آئے گی۔ یہی وجہ ہے کہ جب وہ اس دنیا سے جاتے ہیں تو ان کے چہرے پرسکون ہوتے ہیں۔ اپنی زندگیوں میں امتحان ضرور دیتے ہیں لیکن مجموعی طور پر زندگی پرسکون ہی گزرتی ہے۔ بامقصد اور پرسکون زندگی ۔ جب کہ ہم انسان اپنی حسرتوں اور خواہشات کے پورا کرنے میں ہر جائز و ناجائز رویہ اپنائے رکھتے ہیں۔ نتیجے میں زندگی بھر بے سکون رہتے ہیں۔ حتی کہ مرتے ہوئے بھی بے سکونی ہماری قبر کے ساتھ ہی چلی جاتی ہے۔
فیصلہ اب انسان کے ہاتھ میں ہے کہ اپنےناقص تجربات ، اپنےادھورے شعور اور اپنی کج فہمی کو اللہ کے نظام پہ مقدم رکھتے ہوئے مزید بے سکونی کا خواہش مند رہے یا پھر اللہ کے بنائے ہوئے قوانین کو خوشی اور اطمینان سے اپنا کر اپنے لیے پرسکون زندگی کا سودا کر لے۔ فیصلہ اب انسان کے اپنے ہاتھ میں ہے ۔

تحریر : محمد سراج الدین
تاریخ : 2/مئی 2026 ء

28/04/2026

عربی ایک ایسی زبان ہے کہ جس کی فصاحت و
بلاغت سے کوئی مفر نہیں۔ اس زبان کے الفاظ و محاورات
اور معنی و مفہوم کا وسیع تر استعمال نیز موقع محل کے مطابق
انداز بیان قابل ستائش ہے۔ جس قدر جامعیت اس زبان
میں ہے ، کسی اور زبان میں نہیں۔ عربی ہماری مذہبی زبان
بھی ہے۔ ہماری پانچ وقت کی نمازوں ، قرآن مجید کی
تلاوت اور نکاح کے خطبے میں ، غرض یہ کہ تمام مذہبی
عبادات میں عربی کی ایک مستحکم حیثیت ہے۔ یہاں تک کہ
اہل جنت کی زبان عربی ہی ہو گی۔

پاکستان ایک اسلامی ملک ہے۔ 1973ء
کے آئین کی اسلامی دفعات میں ایک شق یہ بھی تھی کہ
ملک میں عربی زبان کو فروغ دیا جائے۔ اس مقصد کے لیے ضیا دور کے
تعلیمی نصاب میں جماعت ششم سے جماعت ہشتم تک عربی
زبان کو لازم قرار دیا گیا اور ایسے اساتذہ کرام بھی بھرتی کیے
گئے جو عربی کی شد بد رکھتے ہوں۔

اپنی جگہ یہ ایک مثبت قدم تو تھا لیکن حقیقت یہ ہے
کہ تین سالہ عربی کا نصابی کورس پڑھانے کے بعد بھی
عربی میں بچوں کی دل چسپی ، شوق اور محبت پیدا نہ ہو سکی اور
نہ آج اس میں کچھ اضافہ ہوا ہے۔ پھر یہ کہ جماعت ہشتم
کے بعد عربی کی حیثیت ایک اختیاری مضمون کی ہے۔ یوں
عربی پڑھنے اور سیکھنے کا رابطہ ٹوٹ جاتا ہے اور پھر طالب علم
بی اے میں عربی ایک لازمی مضمون کی حیثیت سے پڑھتے
ہیں۔ یوں درمیان میں یہ وقفہ ان کے لیے عربی سے
دوری کا باعث بنتا ہے۔

کوئی بھی زبان سیکھنی ہو یا بولنی ہو اس کے لیے بہت زیادہ محنت ، توجہ اور سب سے بڑھ کر شوق کی
ضرورت ہوتی ہے۔ یہ ضروری ہے کہ کسی بھی زبان کو
جاننے کے لیے اس زبان میں لکھی کتابوں کا مطالعہ کیا جائے۔ آپس میں گفت گو کی جائے ، اہل زبان سے قواعد
جانے جائیں اور پھر سننے ، پڑھنے ، بولنے اور لکھنے
کے مسلسل عمل کے بعد ہی کسی زبان میں کچھ حد تک سمجھ
بوجھ حاصل کی جا سکتی ہے۔

کوئی زبان سیکھنے میں اس کے لیے دست یاب ماحول بڑا
کردار ادا کرتا ہے۔ ماحول سے مراد یہ کہ زبان سیکھنے والا فرد
جہاں کہیں اٹھے بیٹھے ، اس کے ارد گرد والے اس زبان کو
بولتے ہوں۔ مثلاً کوئی بھی بچہ پیدائشی طور پر اپنے والدین
کی زبان نہیں جانتا مگر وہ جس ماحول میں رہے گا وہاں کی
زبان سیکھے گا یعنی والدین جو بھی زبان بولیں گے وہی اس
کے حافظے میں محفوظ ہوتی جائے گی اور یہاں تک کہ وہ خود
اس زبان کو بولنے لگے گا۔

یہ افسوس ناک صورت حال ہے کہ عربی جیسی بلیغ
زبان کو سیکھنے و جاننے کے لیے پاکستان میں ماحول سازگار
نہیں۔ طالب علم اپنے اپنے گھروں میں اپنے اپنے علاقوں
کے مطابق مادری زبان بولتے ہیں۔ گھروں سے جب
سکولوں میں آتے ہیں وہاں قومی زبان اردو بولنے پر زور دیا
جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جدید تقاضوں سے ہم
آہنگ ہونے کی خاطر انگریزی کی تعلیم کی اہمیت بتائی جاتی
ہے اور پھر عربی جاننے کے لیے عربی مضمون بھی پڑھایا جاتا
ہے۔ یوں زبانوں کا یہ تصادم صرف عربی زبان کی اہمیت ہی
کم کرتا ہے۔ کیوں کہ طالب علم مادری زبان باآسانی بول لیتے
ہیں۔ اردو قومی زبان ہونے کے باعث بہتر انداز میں بول
سکتے ہیں۔ انگریزی کی چھاپ عام ہونے کے باعث اب تو
روز مرہ گفت گو میں بھی انگریزی کے الفاظ بولے جاتے ہیں۔
اب رہ گئی عربی تو وہ اس ہجوم میں بد قسمتی سے اپنی بلند
حیثیت پانے سے محروم ہے۔

دوسری زبانوں کے مقابلے میں عربی کی اہمیت کم
ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ چوں کہ یہ لازمی مضمون
ہے۔ اس لیے اسے طوعاً و کرہاً پڑھنا ہے۔ پھر یہ کہ عربی کی
وجہ سے کسی لڑکے کو فیل نہیں کیا جاتا۔ یعنی جس طرح
طالب علم کی اگلے مرحلے یعنی نئی جماعت میں ترقی اردو، انگریزی اور ریاضی میں ناکامی کے باعث روکی
جاتی ہے۔ عربی کے مضمون کے لیے ایسا نہیں۔ یعنی طالب علم عربی میں فیل ہے تو یہ امر اس کے لیے نئی جماعت میں
داخلے کے لیے رکاوٹ نہیں۔ پھر یہ کہ کوئی ملازمت
حاصل کرنے کے لیے نہ انٹرویو عربی میں ہوتا ہے اور نہ کوئی
پوچھتا ہے کہ عربی میں کیا مہارت ہے؟

یہ رویہ طالب علموں میں عربی سے عدم دلچسپی کا باعث ہے۔ پھر یہ کہ تعلیمی نصاب میں عربی کی پڑھائی کا یہ
عالم ہے کہ طالب علم بجائے سوچ سمجھ کر پڑھنے لکھنے کے وہ
عربی میں رٹا لگاتے ہیں۔ اس کے لیے انھییں عربی کتابوں
کے خلاصے باآسانی مل جاتے ہیں اور جو جتنا زیادہ کام یاب رٹا
لگائا ہے اتنے زیادہ نمبر وہ حاصل کر لیتا ہے۔

عربی کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے حکومت
پنجاب نے گزشتہ کئی سال سے نہم دہم کی سطح پر
اسلامیات کی کتاب میں قرآنی سورتیں شامل کی ہیں جو کہ
عربی کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہیں اور قرآنی الفاظ کے
معنی و مفہوم کو بیان کرنے کے لیے غایت درجے کی
مہارت ہونا ضروری ہے تاکہ صحیح معنوں میں عربی سے
انصاف کیا جا سکے۔

اس صورت حال میں عربی کی اہمیت کے لیے یہی کیا جا
سکتا ہے کہ عربی کے نصاب کو ممکنہ حد تک دل چسپ اور
معیاری بنایا جائے۔ عربی قواعد اور عربی گرامر کی ترویج کی
جائے۔ عربی بول چال کو لازم کیا جائے۔ طالب علموں میں عربی کا شوق بیدار کیا جائے اور سب سے بڑھ کر عربی کو وہ
اہمیت دی جائے جو اس کا حق ہے۔ اگر ایسا نہیں ہو گا تو پھر عربی کا پاکستان میں مستقبل پہلے سے مخدوش ہو جائے گا اور پھر یہی کہا جا سکتا ہے کہ عربی کا تو اللہ ہی حافظ ہے۔
عنوان : تعلیمی نصاب میں عربی کا مقام
تحریر : محمد سراج الدین
تاریخ : 10 مئی 2003 ء

26/04/2026

جو لوگ سولر بجلی سے فائدہ اٹھا رہے ہیں ۔ ان کی خواہش یہ ہوگی کہ روز تیز دھوپ نکلے تاکہ وہ سولر بجلی کا خوب استعمال کر کے بجلی کی بچت کریں مگر یہی تیز دھوپ سولر سے محروم اور خاص طور پر غریب طبقے کے لیے کڑے امتحان سے کم نہیں ۔
کسی مسئلے کا عارضی حل اس کا مستقل علاج نہیں ہوتا ۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشرے کے تمام صاحب حیثیت ، سمجھ دار اور باشعور لوگ مل بیٹھ کے اس مسئلے کا حل نکالیں کہ بجلی کے مہنگے اور ناقابل برداشت بلوں سے عوام کو نجات کیسے ملے ۔ اس کے لیے ہر فورم سے احتجاج اور اتحاد کا مظاہرہ کرنے کی اشد اور فوری ضرورت ہے ۔

محمد سراج الدین

26/ اپریل 2026 ء

25/04/2026

بندے نے جب بھی جناب علیم الحق حقی کی کوئی تحریر پڑھی ۔ ہر بار یہی احساس
دوچند ہوا کہ حقی صاحب نے محبت پر گویا پوسٹ ڈاکٹریٹ کی ہوئی ہے ۔
ان کی تحریر میں محبت کی نئی جہتوں سے آشنائی کا یہ عالم ہے کہ بندہ ان کے لفظوں کے بے کراں سمندر میں ایسا غوطہ زن ہوتا ہے کہ پھر ان موجوں سے سر ابھارنے کی نوبت ہی نہیں آتی ۔

ذیل میں ان کے ایک ناول

" وقت کے فاصلے "

کے فلیپر پہ " محبت "
پہ لکھے چند لافانی الفاظ پیش خدمت ہیں ۔ اللہ تعالی مرحوم کے درجات بلند فرمائے۔ امین ۔

محبت ایک کیفیت کا نام ہے جو اپنی صفات میں پانی کی طرح ہے ، جیسے پانی جس برتن میں ہو ، اسی کا رنگ و روپ اختیار کرتا ہے ۔ ویسے ہی محبت جس دل میں ہو ، اسی کا رنگ اپنا لیتی ہے ۔ اسی لیے زیادہ تر وہ محبت نہیں رہتی ، کوئی پست جذبہ بن جاتی ہے ۔ کیوں کہ آج کل دل کو سنوارنے کی فرصت کسے میسر ہے ۔
لیکن کسی شرائط اہلیت کے بغیر
بے حساب نوازنے والا کریمی فرمائے تو کوزے پر سمندر اتر آتا ہے ۔ ذرہ ، آسمان بن جاتا ہے اور خاک کو عظمت و رفعت مل جاتی ہے ۔ مگر اس کے ساتھ بے اندازہ کرب کی آزمائش بھی ہوتی ہے ۔

یہ آسمان ذاد محبت سے چھلکتے ان لمحوں کا احوال ہے ، جب منھ بند معصوم کلیوں کے بطن میں لافانی خوش بو جنم لیتی ہے ۔

آپ کا
علیم الحق حقی

Photos from ‎Fikr o Nazar فکر و نظر‎'s post 24/04/2026

ایک دن ایک طالبہ کا میسیج آیا کہ کچھ لکھنے کے لیے اسے کوئی موضوع دیا جائے ۔ بندہ اس وقت جناب علیم الحق حقی کے " محبت " پہ لکھے لافانی الفاظ کے سحر میں جکڑا ہوا تھا ( ان شاءاللہ آگلی پوسٹ میں علیم الحق حقی صاحب کے وہ الفاظ پیش کروں گا )
اس لیے جواب میں مختصر ایک لفظ لکھ کر بھیجا

" محبت "
اور اپنے کام میں مصروف ہو گیا اور جب مذکورہ طالبہ کی تحریر موصول ہوئی تو اسے پڑھ کے بندہ انگشت بہ دنداں رہ گیا۔
ایک پرفتن دور میں ، جدید تہذیب میں پلی بڑھی اور سوشل میڈیا میں گھری ایک انیس سالہ لڑکی سے
آپ " محبت " جیسے حساس موضوع پہ کیسی تحریر کی توقع رکھ سکتے ہیں لیکن جو تحریر پڑھنے کو ملی ، بندہ اس میں طالبہ کا تخیل ، قلم کی جولانی ، الفاظ کا بہاؤ ، نفیس احساسات کی ترجمانی ، تسلسل ، روانی اور خیالات کی پاکیزگی دیکھ کر آج بھی حیران ہے۔
کئی بار پڑھنے کے بعد ہر بار خوش گوار حیرت ہوئی۔

ماشاءاللہ !
چشم بد دووور حرم نور !

اللہ آپ کے علم و عمل میں مزید برکت دے ۔ دین و دنیا کی کام یابیوں سے نوازے ۔ آپ کی عزت ، عفت اور آبرو کی ہر پل حفاظت فرمائے ۔ اللہ آپ کا نصیب بہت اچھا کرے ۔
جیو !
شاد رہو !!
آباد !!!

اب آپ اس تحریر کو پڑھیے اور اپنی رائے سے نوازیے کہ ہم اس کی تعریف میں حق بہ جانب ہیں کہ نہیں

عنوان : محبت
تحریر : حرم نور
(ایم بی بی ایس ، سال اول )
4 / نومبر 2025 ء

جب محبت کا خیال دل کے افق پر اُبھرتا ہے،
تو سحر خود سانس لینا بھول جاتی ہے — بس سننے کے لیے۔
ایک نُور کی لہر روح کے دروازے پر دستک دیتی ہے،
جیسے ازل خود خاموشی اوڑھ کر پناہ مانگنے آیا ہو۔
وہ لمحہ —
جب زبان اپنے ہتھیار رکھ دیتی ہے،
اور خاموشی خدا کی بولی میں کلام کرنے لگتی ہے۔
دل اُس کا نام گنگناتا ہے — لفظوں میں نہیں،
بلکہ دو دھڑکنوں کے بیچ کی لرزش میں،
سانس اور سپردگی کے درمیانی وقفے میں۔
یہ محبت — جس کا آغاز بھی رب ہے، انجام بھی رب،
ہستی کے گلزار میں خوشبو بن کر بہتی ہے۔
یہ نہ ماند پڑتی ہے، نہ ڈرتی ہے،
کیونکہ یہ وقت سے پہلے پیدا ہوئی،
اور اُس کے بعد بھی زندہ رہے گی —
جب ستارے جلنا بھول جائیں گے۔
یہ عشق وہ دریا ہے جو “میں” کو بہا لے جاتا ہے،
یہاں تک کہ ساحل پر صرف “وہ” رہ جاتا ہے۔
یہ وہ آگ ہے جو دھواں نہیں دیتی،
جو وجود کو خوشبو بنا دیتی ہے،
اور روح کو نُور۔
اس میں کوئی خواہش نہیں، کوئی لالچ نہیں،
بس ایک خاموش سا سکون —
جو نیند میں ڈوبے سمندر کی طرح سانس لیتا ہے۔
یہ وہی صدا ہے جو اُس وقت سے گونج رہی ہے
جب تخلیق نے گونجنا سیکھا بھی نہ تھا۔
جب روح اس محبت کے سمندر میں اترتی ہے،
تو اُس کے پردے ایک ایک کر کے اُتر جاتے ہیں۔
پہچان دھند بن جاتی ہے،
اور باقی رہ جاتا ہے صرف ایک آئینہ —
جو لامحدود کو منعکس کرتا ہے۔
پھر “میں” گھل کر “وہ” بن جاتا ہے،
اور “دو” مٹ کر صرف ایک “ہُو” رہ جاتا ہے۔
دوئی پگھل جاتی ہے —
جیسے برف صبح کی سانس سے۔
اور وحدت کا چراغ
دل کے مندر میں روشن ہو جاتا ہے۔
یہ عشق — عقل سے ماورا، منطق سے آزاد —
آنکھوں کو وہ دکھاتا ہے جو نظر نہیں آتا،
اور دل کو وہ سناتا ہے جو خاموشی چھپا لیتی ہے۔
پھر بندہ رب کی نظر سے دیکھتا ہے،
اُس کے کانوں سے سنتا ہے،
اور اُس کی قربت کے نُور سے کائنات کو محسوس کرتا ہے۔
ہر خیال تسبیح بن جاتا ہے،
ہر آہ عبادت کا شعر۔
اُس کی خاموشی وحی بن جاتی ہے،
اُس کی سانس تسبیح کی مالا۔
جب وہ بولتا ہے — ہوا جھک کر سنتی ہے۔
جب وہ چلتا ہے — سایے ادب سے سر جھکا لیتے ہیں۔
جب وہ دیتا ہے —
یوں لگتا ہے جیسے “رحمتِ الٰہی”
اُس کے ہاتھوں سے زمین کو چھو گئی ہو۔
ہوائیں اُس کے گزرنے سے سجدہ کرتی ہیں،
سورج اُس کی خاموشی کے سامنے رک جاتا ہے۔
جب اُس کے آنسو گرتے ہیں —
آسمان انہیں موتیوں کی طرح چن لیتا ہے۔
یہ وہ عشق ہے —
جو قربت کی آخری دہلیز پر کھڑا ہے،
جہاں عاشق اور معشوق بھول جاتے ہیں کہ کون کون ہے۔
صرف نُور رہ جاتا ہے — جو کہتا ہے:
“میں محبت ہوں، اور محبت ہی خدا ہے۔”
خدا اپنے بندے کو یوں چاہتا ہے
جیسے رات اپنے چاند کو۔
اُس نے کہکشائیں اس لیے بنائیں
کہ محبت کو کھلتا دیکھ سکے۔
اُس نے انسان کو مٹی سے تراشا،
اور اُس کے اندر ایک آئینہ چھپا دیا —
تاکہ وہ اپنی ہی تجلی دیکھ سکے۔
اور اُس نے فرمایا:
“میں نے اپنی نرمی، اپنی رحمت
تیرے اندر رکھ دی۔
تو وہ چشمہ ہے — جہاں سے میری محبت گاتی ہے۔
تیری آنکھوں سے میں خود کو دیکھتا ہوں۔”
پھر عشق نے، جو سحر کی چادر اوڑھے تھا، کہا:
“میں ہی بیج بھی ہوں اور پھول بھی،
تَشنگی بھی ہوں اور بارش بھی،
سوال بھی میں، جواب بھی میں۔
میں ہی آغاز، میں ہی انجام، میں ہی ماورا۔”
یوں دائرہ مکمل ہوتا ہے —
کہ محبت، خدا کا عکس ہے روح پر،
اور جذبہ، اُس کی بازگشت جو دل میں دھڑکتی ہے۔
جو اِس محبت کو پا لیتا ہے،
وہ خود کو نہیں —
بلکہ اُس چہرے کو پا لیتا ہے
جو کبھی ماند نہیں پڑتا۔
“اے دل! اُس رنگ میں رنگ جا”
اے دل!
اپنے زخموں کو رب کے رنگ میں رنگ لے،
تاکہ درد بھی عبادت بن جائے،
اور آنسو بھی تسبیح کی لڑی۔
اپنے وجود کو اُس رنگ میں ڈبو
جو کبھی ماند نہیں پڑتا،
جس کا سایہ وقت سے بے نیاز ہے،
جس میں فنا بھی بقا بن جاتی ہے۔
یہی صِبغۃُ اللّٰہ ہے —
اللہ کا وہ رنگ جو دلوں کو دھو دیتا ہے،
خواہشوں کو خاموش کرتا ہے،
اور انسان کو اس کے اصل میں لوٹا دیتا ہے۔
جب دل اُس رنگ میں رنگا جاتا ہے،
تو پھر عشق، عبادت بن جاتا ہے،
خاموشی، کلام بن جاتی ہے،
اور ہر سانس، “ہُو” کی صدا بن جاتی ہے۔
یہی وہ لمحہ ہے —
جب بندہ رنگ نہیں لگاتا،
بلکہ خود “رنگ” بن جاتا ہے۔
اور اللہ کہتا ہے:
"مِنْهُمْ مَنْ أَحَبَّنِي فَأَحْبَبْتُهُ"
“میرے بندوں میں کچھ ایسے ہیں جو مجھ سے محبت کرتے ہیں —
اور میں اُن سے محبت کرنے لگتا ہوں۔”
تو اے دل!
اپنے آپ کو اُس رنگ میں ڈبو دے
جہاں “میں” باقی نہ رہے —
صرف “وہ” رہ جائے۔
کیونکہ یہی تو محبت کی انتہا ہے،
کہ بندہ، بندہ رہ کر بھی
اپنے رب کی جھلک بن جائے۔

23/04/2026

شادی پر آتش بازی

حکومت پنجاب نے شادی بیاہ پر بے جا نمائش پر پابندی لگا دی ہے۔ اسی طرح مہمانوں کی تعداد مقرر کر کے ون ڈش لازمی قرار دی ہے۔ علاوہ ازیں ہوائی فائرنگ اور آتش بازی کو بھی ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ ان تمام باتوں کی خلاف ورزی پر بھاری جرمانہ بھی لگایا گیا ہے۔ اگر اس پر عمل در آمد ہو جائے تو یہ خوش آیند بات ہو گی۔ شادی بیاہ کے مواقعوں پر بے جا نمائش ، روپے پیسے کا بے انتہا ضیاع اور کھانے پینے کی اشیا کی بے قدری ، ان تمام چیزوں کے اپنی جگہ اثرات ہیں۔ تاہم جو نقصانات آتش بازی اور ہوائی فائرنگ سے ہوتے ہیں وہ گمبھیر ہیں۔

شادی بیاہ پر پٹاخے بجانا لازم و ملزوم ہو گیا ہے۔ بارات کے آگے آگے چند نوجوان آتش بازی کا مظاہرہ کرتے جاتے ہیں اور اپنی دانست میں خوشی کے موقع پر لطف کو گویا دوبالا کر رہے ہوتے ہیں۔ بارات والوں کے لیے یہ شور شرابا شاید رونق لیے ہوئے ہو، مگر باقی ماحول پر اس کے جو اثرات پڑتے ہیں وہ افسوس ناک ہیں۔

لوگ اپنے معمول کے کام کاج سے اس وقت چونک اٹھتے ہیں، جب اچانک انھیں کوئی دھماکا سنائی دے اور پھر دھماکوں کا یہ سلسلہ بڑھتا جائے۔ باراتی اپنے شغل میں ناچتے گاتے جارہے ہوتے ہیں مگر انھیں قطعاً احساس نہیں ہو پاتا کہ ساتھ ہی آبادی ہے، مکانات ہیں جن میں بڑے لوگوں کے علاوہ بچے بھی بستے ہیں۔ ایک دم خوف ناک دھماکے کی آواز سن کر بہت چھوٹے بچے خصوصاً شیر خوار ڈر جاتے ہیں۔ ان کے دل کی دھڑکن ایک دم تیز ہو جاتی ہے اور وہ رونے لگتے ہیں اور بعض پر تو دھماکوں کی آوازیں اتنی اثر انداز ہوتی ہیں کہ پھر اس کے بعد وہ کوئی بھی زور کی آواز سن لیں تو سہم جاتے ہیں اور کانپنا شروع کر دیتے ہیں۔ اسی طرح گھروں میں بزرگ ہوتے ہیں۔ جن پر گرج دار آوازوں کا ناخوش گوار اثر پڑتا ہے۔ آتش بازی اور ہوائی فائرنگ کرنے والے ہر بار نیا لطف پاتے ہیں مگر یہ لطف پاس ہی کے گھروں میں کسی بیمار کے لیے اذیت ہے جو مشکل سے نیند لے سکا ہو اور ایک زور دار آواز اسے پھر سے ہوش میں لاکر اس کے لیے کرب بن جائے۔ ایسے میں اس کے منھ سے بارات والوں کے لیے کیا الفاظ نکل سکتے ہیں۔

آتش بازی کا سامان اس کے استعمال کرنے والوں پر برے اور تباہ کن اثرات مرتب کرتا ہے۔ کئی بار ایسا ہو چکا ہے کہ دھماکہ خیز مواد ، استعمال کرنے والے کے اپنے ہاتھ یا جسم پر پھٹ گیا۔ یوں اسے شدید نقصان اٹھانا پڑا۔ کسی کا ہاتھ جل گیا تو کسی کی ٹانگ بھسم ہو گئی اور کوئی تو جان کی بازی تک ہار گیا۔ اسی طرح راہ چلتے مسافروں کے لیے بھی آتش بازی کا مواد نقصان و پریشانی کا باعث بنتا ہے۔ مگر ان تمام باتوں سے بے نیاز من چلے اپنا کام جاری رکھتے ہیں۔

شادی بیاہ کی تمام تقریبات خوشی کے اظہار کا ذریعہ ہیں مگر اپنی خوشی کے لیے دوسروں کی خوشیوں اور سکون کو کسی بھی انداز میں متاثر کرنا اخلاقاً ، قانوناً اور شرعاً مناسب نہیں۔ اسلام فرد کی آزادی کا قائل ہے مگر ایسی ہر سرگرمی کو ناجائز قرار دیتا ہے جس سے کسی دوسرے فرد کی آزادی مجروح ہو۔

تحریر : محمد سراج الدین
تاریخ اشاعت : 7- مارچ 2003ء
روز نامہ " خبریں " ملتان

22/04/2026

ہائیں ! یہ کیا !!

سال گرہ اور وہ بھی ایک مفتی کی ؟؟؟؟

گزشتہ کل ، مؤرخہ دو فروری کو ڈاکٹر عبدالغفار صاحب کی طرف سے ان کے بڑے بھائی مفتی عبدالستار صاحب کی سال گرہ کی تقریب میں شرکت کا دعوت نامہ موصول ہوا

( اللہ تعالی دونوں بھائیوں کی محبت اور دوستی کو سلامت رکھے)

بندہ اپنے ناقص علم کے باعث سال گرہ کا قائل نہیں ہے ، پھر سال گرہ اور ایک مفتی کی !!!! تقریب کا دعوت نامہ اور وہ بھی ایک مسجد میں !!!!
خوش گوار حیرت ہوئی ۔
مقررہ وقت پہ تقریب کا آغاز قرآن پاک کی تلاوت ،
بعد ازاں تین چار پر سوز نعتوں سے ہوا۔ پھر 15 منٹ کی درود پاک کی محفل سجائی گئی۔
بعد میں مفتی صاحب نے پانچ منٹ کی تقریر کی جس کا خلاصہ یہ تھا کہ ہماری خوشیوں کا آغاز اور اختتام اللہ تعالٰیٰ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک ذکر سے ہونا چاہیے اور یہ کہ ہماری زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں جس کی راہ نمائی شریعت مطہرہ میں نہ کی گئی ہو اور ہمارا کوئی طرز عمل بھی احاطہ اسلام سے باہر نہیں ۔
اس کے بعد مفتی صاحب کو بچوں ، نوجوانوں اور بزرگوں نے پھولوں کے خوب صورت گل دستے اور تحائف پیش کیے ۔ بندہ الجھن میں تھا کہ مسجد میں پھول اور تحائف پیش کرنا مناسب رہے گا یا نہیں۔۔
اس لیے بندہ خالی ہاتھ ہی آیا جس کا بندے کو ابھی تک قلق ہے
اور مفتی صاحب کی وضع داری اور رکھ رکھاؤ ملاحظہ ہو کہ انھوں نے بندے کے ساتھ تصویر کھنچوائی اور گل دستہ اپنی طرف سے پیش کیا اور فوٹو ایسا بنوایا جیسے بندہ انھیں گل دستہ دے رہا ہو۔ یوں انھوں نے ہمارا بھرم رکھ لیا۔ یہ پہلو ان کی نفاست ، نازک مزاجی ، باریک بینی اور حساس طبیعت کا عکاس ہے۔
فوٹو سیشن ہوا اور آخر میں شرکائے محفل میں مفتی صاحب کی طرف سے ہر فرد کو جوس اور بریانی کے ڈبے پیش کیے گئے۔ ساتھ ہی ایک پمفلٹ بھی جس میں کچھ دینی معلومات اور مسائل کا احاطہ کیا گیا تھا۔
یوں یہ تقریب اختتام کو پہنچی۔
نہ کوئی شور شرابا ، نہ ہلڑ بازی ، نہ کوئی ہا ہو ، نہ اونچے اونچے قہقہے ،
سب کچھ سادہ و پروقار انداز میں ہوا اور راحت و تسکین کی فضا چھائی رہی۔
مفتی صاحب کو بندے نے قریب سے دیکھا ہے۔ یہ تعریف و توصیف ، نمود و نمائش ، تحفے تحائف اور واہ واہ سے کوسوں دور ہیں۔ لہٰذا
سال گرہ کی اس تقریب( جو ان کی ذاتی خواہش پہ نہیں بل کہ ان کے دل سے چاہنے والے مخلصین اور محبین کے محبت بھرے اصرار پہ منعقد کی گئی تھی۔ بندہ گواہ ہے کہ اسلام آباد سے بھی ایک صاحب اپنی مصروفیات کو ترک کر کے بالخصوص اس تقریب میں شرکت کے لیے حاضر ہوئے۔) کے ذریعے انھوں نے معاشرے کو عملی پیغام پہنچایا ہے
کہ اسلام حدود و قیود میں رہ کر شائستگی و تہذیب سے خوشیاں منانے سے قطعاً منع نہیں کرتا اور یوں روایتی سال گرہ کی غیر شرعی رسومات کی انھوں نے اپنے عمل سے نفی کی ۔
ماشاءاللہ !!!!

بندے کو لگا کے اس موقع پر مفتی صاحب نے کالے رنگ کا جوڑا پہنا ہوا تھا جو بڑی نفاست اوربڑی عمدگی سے سلوایا گیا تھا جو ان کے وجود پہ خوب جچ رہا تھا۔
چشم بد دوووور !!!!!!

پوشاک کے انتخاب میں مفتی صاحب کا ذوق کافی عمدہ ہے اور پہناوے میں سلیقہ انھیں ہر محفل میں نمایاں کر دیتا ہے۔
اس طرح انھوں نے یہ بھی پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ اسلام کسی رنگ کے پہننے کی ممانعت نہیں کرتا اور یہ کہ خوشی کے موقع پر کالا رنگ پہننے میں بھی کوئی قباحت نہیں ہے کہ یہ رنگ محض سوگ کی علامتت ہرگز نہیں ہے۔
مسجد میں تقریب کا انعقاد اس بات کا ایک بلیغ اشارہ ہے کہ مسجد محض ایک سجدہ گاہ نہیں بل کہ ایک کمیونٹی سینٹر ہے جہاں معاشرے کے ہر طبقے کے لیے اس کے دروازے کھلے ہیں اور جہاں افراد اپنے زندگی کے کسی بھی پہلو کے حوالے سے راہ نمائی اور مشاورت کے لیے ایک جگہ ، ایک دل ، ایک سہارا اور دوست کے طور پہ اسے دیکھ سکتے ہیں۔

دعا ہے کہ اللہ تعالی مفتی صاحب کے علم و عمل میں مزید برکت دے۔
ان کو عافیت سے رکھے اور قرآن و سنت کے مطابق اپنی عملی سیرت سے ایک مثبت پیغام دینے کی شمع جو انھوں نے روشن کی ہے تو یہ چراغ ہمیشہ جلتے ہی رہیں۔
اللہ انھیں نظر بد سے بچائے اورحاسدین کے شر سے محفوظ رکھے

آمین

محمد سراج الدین

Want your school to be the top-listed School/college in Dera Ghazi Khan?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address

Dera Ghazi Khan