25/05/2026
ایک دوسرے کا لباس
بطور استاد ہم اس وقت حیران ہو جاتے ہیں جب ہمیں کوئی ایسا طالب علم " سر " کہتا ہے جسے ہم نے باقاعدہ ایک لفظ بھی نہ پڑھایا ہو اور عزت و احترام میں بھی کوئی کمی نہیں ہوتی تب ہم سوچتے ہیں کہ
" کہاں میں اور کہاں یہ مقام
اللہ اللہ "
اور دل بے اختیار اس رب کے حضور سجدہ ریز ہو جاتا ہے جس نے تمام تر کوتاہیوں اور لغزشوں کے باوجود ہمیں عزت و توقیر کا رزق عطا کر رکھا یے۔
آپ کی خدمت میں ایک ایسی طالبہ کی تحریر پیش کی جارہی ہے جس کے ہم
" منھ بولے استاد " ہیں۔
اللہ " فاطمہ " کے علم و عمل میں برکت دے اور اس کی کاوشوں کو اس کے لیے توشہ آخرت بنا دے ۔
یہ ہماری وہ " منھ بولی طالبہ "
ہے جس سے ہم نے خیالات ، احساسات اور جذبات کا دل نشیں پیرائے میں
اظہار کا ڈھب سیکھا ہے۔
جیو فاطمہ جیو !
ہمارے اس فیس بک کے صفحے کے لیے اپنی تحریر شایع کرنے کی اجازت دینے کا شکریہ ۔
اب آپ اس کی تحریر پڑھیے اور رائے دیجیے کہ اس نے موضوع کے ساتھ کس حد تک انصاف کیا ہے ۔
عنوان؛ 📍 *"میاں بیوی ایک دوسرے کا لباس"*
میاں اور بیوی کا رشتہ صرف
دو انسانوں کا ساتھ نہیں بل کہ دو روحوں، دو احساسات اور دو زندگانیوں کا ایسا حسین امتزاج ہے جسے اللہ تعالیٰ نے محبت، سکون اور رحمت کا ذریعہ بنایا۔
قرآنِ مجید میں ارشاد ہوتا ہے:
*هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَاَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ*
یعنی:
"وہ تمھارے لیے لباس ہیں اور تم ان کے لیے لباس ہو۔" ( سورت البقرہ ، آیت نمبر 187
یہ مختصر سی آیت اپنے اندر ازدواجی زندگی کا ایک مکمل فلسفہ سموئے ہوئے ہے۔ لباس انسان کو ڈھانپتا ہے اور سردی و گرمی سے بچاتا بھی ہے، جہاں زینت بنتا ہے وہاں سکون بھی دیتا ہے۔ بالکل اسی طرح میاں بیوی ایک دوسرے کی کم زوریوں پر پردہ ڈالتے ہیں، دکھ سکھ میں ساتھ کھڑے ہوتے ہیں، ایک دوسرے کے لیے باعثِ راحت بنتے ہیں اور زندگی کے سفر کو آسان بناتے ہیں۔
میاں بیوی کا تعلق صرف ظاہری رشتے کا نام نہیں بل کہ اعتماد، وفاداری اور قربانی کا دوسرا نام ہے۔ جب زندگی کی دھوپ تیز ہو جائے تو یہی رشتہ سایہ بن جاتا ہے اور جب دل پریشانیوں سے بوجھل ہو تو یہی تعلق سکون کی ٹھنڈی ہوا محسوس ہوتا ہے۔ ایک اچھا شوہر اپنی بیوی کی عزت، احساسات اور خوابوں کی حفاظت کرتا ہے، جب کہ ایک نیک بیوی اپنے شوہر کے وقار ، سکون اور گھر کی رونق بن جاتی ہے۔
لباس انسان کی عیب پوشی کرتا ہے۔ اسی طرح میاں بیوی ایک دوسرے کی خامیوں کو دنیا کے سامنے اچھالنے کی بجائے محبت سے سنوارتے ہیں۔ جہاں عزت ہو وہاں محبت پروان چڑھتی ہے اور جہاں اعتماد قائم ہو وہاں رشتے مضبوط ہو جاتے ہیں۔ اگر کبھی اختلاف بھی ہو جائے تو برداشت ، نرمی اور گفت گو اس رشتے کو پھر سے جوڑ دیتی ہے۔
یہ رشتہ صرف دنیاوی آسائش کا ذریعہ نہیں بل کہ روحانی سکون کا وسیلہ بھی ہے۔ صالح میاں بیوی ایک دوسرے کو نیکی، صبر اور دین کی طرف راغب کرتے ہیں۔ ان کے درمیان محبت محض لفظوں میں نہیں رہتی بل کہ رویوں، دعاؤں اور خیال رکھنے میں جھلکتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کے لیے لباس تب بنتے ہیں جب ان کے درمیان انا نہیں بل کہ محبت ہو، شک نہیں بل کہ اعتماد ہو اور صرف حقوق کا مطالبہ نہیں بل کہ ایک دوسرے کے لیے ایثار کا جذبہ ہو۔ تب یہ رشتہ زندگی کا سب سے خوب صورت سہارا بن جاتا ہے۔
ازدواجی زندگی کا حسن اسی میں ہے کہ دونوں ایک دوسرے کی کم زوری نہیں بل کہ طاقت بنیں، زخم نہیں بل کہ مرہم بنیں، اور تنہائی نہیں بل کہ سکون کا احساس بن جائیں۔ یہی وہ رشتہ ہے جسے محبت، احترام اور خلوص سے نبھایا جائے تو گھر جنت کا نمونہ محسوس ہونے لگتا ہے۔
• از قلم: فاطمۃالزہرہ
(اسکالر ایم فل اردو)
25- مئی 2026ء