Birmani Literacy Center, Basti Birmani

Birmani Literacy Center, Basti Birmani Let's come and take a step towards your's future....F.Sc and Matric, full preparations......
Master degree holders are obliged here...

discipline and concept based knowledge

12/06/2026

ریاست حیدرآباد کی پاکستان میں شمولیت ۔۔ ✍️
آج سے 75 برس قبل 13 ستمبر 1948 کو انڈین افواج نے ریاست حیدرآباد پر حملہ کیا تھا اور صرف پانچ دن بعد نظامحیدرآباد کے کمانڈر اِن چیف سید احمد العیدروس نے باضابطہ ہتھیار ڈال دیے۔
یہ تحریر پہلی مرتبہ یکم نومبر 2019 کو شائع ہوئی تھی جسے آج دوبارہ شائع کیا جا رہا ہے۔
یکم نومبر 1947، لاہور
انڈیا آزاد ہو چکا ہے، ایک نیا ملک پاکستان معرض وجود میں آ چکا ہے لیکن خطے کی تین بڑی ریاستوں کشمیر، حیدرآباد اور جوناگڑھ کا مستقبل غیر واضح ہے۔ ان تینوں ریاستوں نے آزاد رہنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ انڈیا اور پاکستان ان کو اپنے ساتھ ملانے کی خواہش رکھتے ہیں۔
انڈیا کے آخری وائسرائے اور گورنر جنرل لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے پاکستان کے گورنر جنرل اور قائد اعظم محمد علی جناح کو یکم نومبر سنہ 1947 کو ایک تحریری تجویز پیش کی جس میں ان ریاستوں میں استصواب رائے کروانے کی بات کی جہاں کے حکمراں خطے کی اکثریت کے بجائے اقلیت سے آتے ہیں۔
ہر چند کہ یہ پیشکش بنیادی طور پر کشمیر کے لیے تھی لیکن انڈیا کے ماہر قانون اور کشمیر، حیدرآباد اور جوناگڑھ پر تین مختلف کتابوں کے مصنف و تجزیہ نگار اے جی نورانی کا کہنا ہے کہ ’محمد علی جناح نے تنازعے کے پرامن حل کا ایک بڑا موقع گنوا دیا اور ان کے ہاتھ کچھ بھی نہیں آیا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اگر محمد علی جناح نے ماؤنٹ بیٹن کی تجویز مان لی ہوتی تو انھیں کشمیر ہاتھوں ہاتھ مل گیا ہوتا اور حیدرآباد میں کشت و خون کا بازار بھی گرم نہیں ہوتا۔

محمد علی جناح اور جواہر لعل نہرو کے درمیان لارڈ ماؤنٹ بیٹن
انھوں نے مزید کہا کہ محمد علی جناح کا خیال تھا کہ اگر انڈیا کے دونوں بازو کٹ جائیں تو وہ زندہ رہ سکتا ہے لیکن اگر اس کا قلب نکال دو تو وہ جی نہیں پائے گا۔ یعنی ان کے مطابق حیدرآباد ’انڈیا کا قلب‘ تھا۔
دوسری جانب حیدرآباد کو انڈیا میں ضم کروانے والے ہندو رہنما سردار ولبھ بھائی پٹیل نے حیدرآباد کو انڈیا کے ’دل کا ناسور‘ کہا اور اس کے آپریشن کو ضروری قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف فوجی کارروائی کروائی۔
دنیا کے امیر ترین شخص کی ریاست
یہ وہی حیدرآباد ہے جسے اس زمانے میں انڈیا کی خوشحال ترین ریاست کہا جاتا تھا۔ جس کا خزانہ معمور تھا اور جو تہذیب و ثقافت کا گہوارہ کہلاتا تھا۔ یہاں گنگا جمنی تہذیب واقعتاً آباد تھی۔ یہ مختلف تہذیبوں کا سنگم تھا۔ اس کے آبائی باشندگان مختلف زبانیں بولنے والے تھے، اگر ایک بڑا طبقہ تیلگو زبان کا حامل تھا تو دوسرا کنڑ بولتا تھا جبکہ ایک علاقے میں مراٹھی بولنے والے تھے اور ان سب کو اردو زبان جوڑتی تھی جسے 19 ویں صدی کے اواخر میں ریاست کی سرکاری زبان قرار دیا گیا تھا

یہ بر صغیر کا وہ خطہ تھا جہاں انگریزوں کے تسلط کے بعد بھی اردو زبان کی ترویج اشاعت جاری تھی اور شعرا و ادیب کی پذیرائی کی جا رہی تھی۔ آصف جاہی خانوادے سے تعلق رکھنے والے نجف علی خان کا کہنا ہے کہ ان کے دادا حیدرآباد کے آخری نظام میر عثمان علی خان صدیقی عرف آصف جاہ (ہفتم) کی ریاست انڈیا میں سب سے بڑی ریاست تھی۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کے دادا نے ’37 سال تک بلا تفریق مذہب و ملت ریاست پر حکومت اور لوگوں کی خدمت کی۔'
نظام حیدرآباد کے نام سے معروف عثمان علی خان اپنے زمانے میں دنیا کے امیر ترین شخص تھے جن کی دولت کا تخمینہ تقریبا 250 ارب امریکی ڈالر لگایا جاتا ہے۔
ان کے پاس زر و جواہرات کا وسیع خزانہ تھا جس میں 20 کروڑ امریکی ڈالر مالیت کا ایک 185 قیراط کا جیکب ہیرا بھی تھا جسے وہ پیپر ویٹ (کاغذ کو دبانے والے وزن) کے طور پر استعمال کرتے تھے۔
تاہم رواں سال دو اکتوبر کو نظام حیدرآباد کے وارثوں اور انڈیا کے حق میں ساڑھے تین کروڑ پاؤنڈ کی خطیر رقم کا فیصلہ ہوا ہے جو کہ حیدرآباد کے انڈیا میں ضم کیے جانے سے قبل برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمشنر کے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کر دی گئی تھی اور اس وقت سے وہ وہیں جمع تھی جب کہ اس کے متعلق مقدمات جاری تھے۔

حیدرآباد کا انڈیا میں انضمام
نظام حیدرآباد کے خانوادے سے تعلق رکھنے والے اور وراثت کے سلسلے میں 36 ویں نمبر پر آنے والے نواب نجف علی خان کا کہنا ہے کہ 17 ستمبر (1948) کے حملے کا زخم بہت گہرا ہے اور ابھی تک تازہ ہے۔ وہ یوم آزادی نہیں بلکہ قتل عام کا دن تھا جس کے اثرات آج تک محسوس کیے جاتے ہیں۔
انڈین حکومت حیدر آباد کے حملے کو ’پولیس ایکشن‘ کہتی ہے جسے '’پریشن پولو‘ بھی کہا جاتا ہے۔ انڈین حکومت کے مطابق یہ پولیس ایکشن ناگزیر تھا لیکن حیدرآباد کے سکالر سید علی ہاشمی نے اس کے جواب میں ایک کتاب اسی عنوان سے لکھ ڈالی ہے کہ اس حملے سے بچا جا سکتا تھا اور اس سے گریز ممکن تھا۔
ان کی کتاب 'اینیویٹیبل انویژن: 1948 حیدرآباد' میں انھوں نے لکھا ہے کہ انڈیا میں ’برسر اقتدار گروپ یعنی انڈیا کے حکمراں ایک ترقی یافتہ ریاست (حیدرآباد) کو ہر حال میں انڈیا میں ضم کرنا چاہتے تھے۔‘
یہی سوال جب سقوط حیدرآباد پر تحقیق کرنے والی پروفیسر اور حیدرآباد کے سینٹ اینز کالج میں صدر شعبۂ تاریخ ڈاکٹر اوما جوزف سے کیا گيا تو انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ایک بار جب حیدر آباد اور انڈیا کے درمیان سٹنیڈ سٹل ایگریمنٹ (معاہدہ امتناع) طے پا گیا تو اس کے تحت حیدرآباد کو اپنی خارجہ پالیسی انڈیا کے حوالے کرنی تھی اور انھیں کسی دوسرے ملک سے براہ راست تعلق نہیں رکھنا تھا۔‘
’لیکن نظام نے معاہدے کی پوری طرح خلاف ورزی کی۔ وہ بہت تیزی سے حیدرآباد میں اسلحہ جمع کر رہے تھے اور پاکستان کے ساتھ مستقل رابطے میں تھے۔ یہاں تک کہ وہ اس خیال کو بھی پال رہے تھے کہ حیدرآباد پاکستان کا حصہ ہو سکتا ہے۔ انڈیا کے لیے یہ بڑی تشویش کی بات تھی کہ اگر حیدرآباد پاکستان میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ انڈیا کے بیچوں بیچ ملک کے لیے مستقل پریشانی کا سبب ہوگا۔‘

ڈاکٹر اوما جوزف نے مزید کہا کہ ’یہ کسی طرح قابل عمل نہیں تھا۔ جب مشرقی اور مغربی پاکستان زیادہ دنوں تک ایک ساتھ نہیں رہ سکے تو حیدرآباد کیسے رہ سکتا تھا کیونکہ وہ تو انڈیا کے بالکل درمیان میں تھا۔ اسی لیے سردار پٹیل نے حیدرآباد کو انڈیا کے پیٹ میں السر سے تعبیر کیا تھا۔‘
حیدرآباد کی اس وقت کی صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنے زمانے کے ممتاز عالم سید ابولاعلی مودودی نے اپنے رسالے ’ترجمان القرآن‘ کے سنہ 1948 کے پانچویں اور دسمبر کے شمارے میں لکھا: ’تقسیم کے بعد حیدرآباد انڈین یونین کے گھیرے میں آ چکا تھا اس لیے نہ باہر سے کوئی بڑی مدد اس کو پہنچ سکتی تھی اور نہ ہی اندر اس کا کوئی امکان تھا۔
’ان حالات میں کوئی ہوش مند انسان یہ امید نہیں کر سکتا تھا کہ وہاں 85 فیصدی غیر مسلم اکثریت پر 15 فیصد مسلم اقلیت کا وہ غلبہ و اقتدار برقرار رکھا جاسکتا ہے جو پہلے بالکل مختلف حالات میں قائم ہوا اور رہا تھا اور کسی مرد عاقل سے یہ بات بھی چھپی نہیں رہ سکتی تھی کہ حیدرآباد انڈین یونین سے لڑ کر اپنی خود مختاری قائم نہیں رکھ سکتا۔
’دانشمندی کا تقاضا یہ تھا کہ مسلمان کشمکش، مزاحمت اور جنگ کے بجائے اپنے مستقبل کے لیے کوئی ایسی راہ تلاش کرتے جس میں وہ کامل تباہی سے بچ بھی سکتے اور آئندہ اپنی اخلاقی و دینی حالت کو بہتر بنا کر کوئی نتیجہ خیز جدوجہد کرنے کے مواقع بھی انھیں حاصل رہتے لیکن جن لوگوں نے ایسی کوئی راہ سوچی اور بتائی وہ مسلمانوں کو دشمن نظر آئے۔ انھوں نے اپنی رہنمائی کے لیے ایسے لوگوں کو پسند کیا جو اندھے جوش، کھوکھلے نعروں، جھوٹی توقعات غلط امیدوں، بے بنیاد آرزوؤں اور بے زور لاف و گزاف کے ذریعہ سے ان کے غرور و نفس کو فی الوقت تسکین دے سکیں۔
’وہ اس آواز پر مرمٹے کہ کوئی دِلی کے لال قلعہ پر آصف جاہی جھنڈا گاڑ دینے کی بات تو کرتا ہے۔ اس نشے میں 40 لاکھ کی پوری آبادی مست ہو گئی۔ کوئی یہ سوچ کر اپنے وقتی لطف کو کرکرا کرنے پر راضی نہ ہوا کہ آخر یہ کام ہو گا کس طرح، سب کے سب آنکھیں بند کر کے اس لاف زنی کے پیچھے چل پڑے اور اپنی قسمت پر ناز کرنے لگے کہ اس گئے گزرے زمانے میں بھی انھیں ایسے بے نظیر لیڈر میسر آتے ہی چلے جاتے ہیں!‘

مولانا مودودی نے کسی شخص کا نام نہیں لیا لیکن نظام حیدرآباد کو بے بنیاد مشوروں سے نوازنے والوں کو نشانہ بنایا۔
دوسری جانب اے جی نورانی نے قاسم رضوی اور لائق علی کے ساتھ محمد علی جناح کا نام لیا۔ قاسم رضوی کی شعلہ بیان تقاریر نے نظام حیدرآباد کو اتنی جھوٹی امیدیں بندھا رکھی تھی کہ وہ یہ سوچنے لگے تھے کہ ایک دن نظام کا پرچم دہلی کے لال قلعے پر لہرائے گا۔
حیدرآباد میں محمد علی جناح کے کردار کے بارے میں مسٹر نورانی نے کہا: ’محمد علی جناح نے ہندوستان سے انتقام لینے کے لیے اپنے آدمی میر لائق کو حیدرآباد میں پروموٹ کیا۔ ان سے ان کے تجارتی تعلقات بھی تھے۔ محمد علی جناح نے غالباً مارچ 1947 میں حیدرآباد میں دو لاکھ روپے کی سرمایہ کاری بھی کی تھی۔‘
مسٹر نورانی نے محمد علی جناح کے چار اگست 1947 کے ایک انٹرویو کا ذکر کیا جو دہلی کے منٹس میں شامل ہے اور حیدرآباد پر ان کی کتاب ’دی ڈسٹرکشن آف حیدرآباد‘ میں بھی شامل ہے۔
کتاب میں شامل ضمیمے میں رقم ہے کہ ’محمد علی جناح نے کہا کہ ان کا خیال یہ ہے کہ عالی جاہ (نظام حیدرآباد) اور ان کے مشیروں نے انضمام کے خلاف اپنا ذہن بنا لیا ہے تو انھیں مضبوطی اور وفاداری کے ساتھ اس پر جمنا چاہیے۔ خواہ وہ (انڈیا) کوئی بھی معاشی پابندی کیوں نہ عائد کرے، عالی جاہ کا اس بات پر زور ہونا چاہیے کہ ’آپ چاہے جو کرلیں، جس طرح چاہو دھمکا لیں، لیکن میں انضمام کے کاغذات یا یونین میں شامل ہونے پر اس وقت تک رضا مند نہیں ہو سکتا جب تک میرا ضمیر نہیں کہتا۔ آپ کو مجھے مجبور کرنے کا کوئی حق نہیں اور مجھے اپنا فیصلہ لینے حق حاصل ہے۔'

مسٹر نورانی کی کتاب میں شائع منٹس کے مطابق محمد علی جناح نے یہاں تک کہا کہ ’اگر حالات انتہائی خراب ہو جائيں تو اپنے بنیادی اصولوں سے انحراف کرنے کے بجائے لڑتے ہوئے جان دینا زیادہ بہتر ہے۔‘
محمد علی جناح نے تاریخ کی سب سے بڑی شہادت یعنی امام حسین کی شہادت کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ حق کے لیے جان دینا کتنی اہمیت کا حامل ہے۔
اے جی نورانی نے بہر حال نظام کی پالیسیوں کو حیدرآباد کی تباہی کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’نظام انتہائی بے وقوف انسان تھے اور انھیں قاسم رضوی جیسا شخص مل گیا یعنی سونے پر سہاگہ۔ انھیں جولائی 1948 میں لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے ایک بہترین تجویز دی تھی جسے انھوں نے مسترد کر دیا۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ یہ بہترین تجویز کیا تھی، تو انھوں نے کہا کہ اس میں ’حیدرآباد کو بیرون ممالک سے رابطہ کرنے کی اجازت تھی۔‘
دوسری جانب سید ہاشم علی نے انڈیا کی جانب سے معاشی پابندیوں اور ریاست حیدرآباد کے ’اہم عہدوں پر فائز افراد کی غداریوں‘ کو بھی سقوط حیدرآباد کا سبب کہا ہے۔
دوسرے مورخین کا کہنا ہے کہ اس میں کمیونسٹوں کی تحریک اور ریاست کے کانگریسیوں کا بھی دخل ہے جنھوں نے انڈین قیادت کو گمراہ کن اشارے دیے۔

آپریشن پولو
حیدر آباد کی اکثریتی آبادی ہندو مذہب کی ماننے والی تھی اور وہاں کانگریس کے حامی انڈیا سے الحاق چاہتے تھے۔ دوسری جانب کمیونسٹوں کی تلنگانہ تحریک تھی۔
جبکہ پروفیسر اوما جوزف کا کہنا ہے کہ وہاں متعد قسم کے اختلافات تھے۔ زمین داری کے خلاف کسانوں کی تحریک تھی، زبان کا مسئلہ تھا، یہاں تک کہ ملکی یعنی دیسی اور غیر ملکی کا بھی جھگڑا جاری تھا۔‘
اوما جوزف کے مطابق حیدرآباد میں شمالی انڈیا کے لوگوں کا تسلط تھا اور حیدرآباد ریاست کے لوگ اس کے خلاف تھے۔ ریاست کے باہر کے لوگوں کو غیر ملکی کہا جاتا تھا۔
ان تمام چیزوں نے نظام حیدرآباد کو اپنی فوج کو مستحکم کرنے کی جانب متوجہ کیا۔
دوسری جانب تقسیم ہند سے ابھرنے والے خلفشار کے دوران یہ افواہ گشت کرنے لگی کہ نظام حیدرآباد، گوا میں پرتگالیوں اور پاکستان کی مدد سے خود کو مسلح کر رہے ہیں۔ اس خبر پر سردار پٹیل نے کہا کہ انڈیا میں ایک آزاد حیدرآباد کا وجود ناقابل برداشت ہے اور اسے ختم کرنا لازمی ہے۔
چنانچہ انڈیا نے حیدرآباد کو اپنی ریاست بنانے کے لیے 36 ہزار مسلح فوج اتاری جبکہ دوسری جانب نظام حیدر آباد کے پاس صرف 24 ہزار فوج تھی اور اس میں بھی پوری طرح سے تربیت یافتہ فوجیوں کی تعداد محض چھ ہزار تھی جس میں عرب، روہیلا، پٹھان، ہندو اور دیگر مسلمان شامل تھے۔

کہا جاتا ہے کہ اس کے علاوہ ریاست کے پاس تقریباً دو لاکھ رضاکار تھے جن کی کمان قاسم رضوی کے ہاتھ میں تھی۔ ان کی تعداد کے بارے میں قطعیت کے ساتھ کچھ نہیں کہا جا سکتا تھا کیونکہ یہ سب غیر تربیت یافتہ افراد تھے جو نظام حیدرآباد سے وفاداری کا اظہار کر رہے تھے۔
انڈین فوج نے جنوبی کمان کے کمانڈر لیفٹننٹ جنرل ای این گوڈارڈ کی سربراہی میں حیدرآباد کے خلاف مختلف اطراف سے محاذ کھول دیے۔ مغرب میں ان کا رخ وجے واڑا کی جانب تھا تو مشرق میں شعلہ پور پر ان توجہ مرکوز تھی۔
13 ستمبر 1948 کو حیدرآباد پر جو حملہ کیا گیا وہ صرف پانچ دنوں میں اختتام پذیر ہوا اور 18 ستمبر کو نظام کے کمانڈر ان چیف سید احمد العیدروس نے باضابطہ ہتھیار ڈال دیے۔
جب ہم نے پروفیسر اوما جوزف سے سوال کیا کہ کیا پاکستان کی جانب سے حیدرآباد کے لیے کوئی مدد نہیں آئی تو انھوں نے کہا کہ ’پاکستان میں ان دنوں سوگ کا ماحول تھا۔ 11 ستمبر کو بانی پاکستان محمد علی جناح کا انتقال ہو گیا تھا اس لیے وہاں سے کوئی مدد نہیں آ سکی۔‘
انھوں نے مزید کہا: ’سرکاری یا تاریخی شواہد تو نہیں ملتے لیکن جب ہم نے بہت سے لوگوں سے انٹرویو کیا تو انھوں نے کہا کہ نظام اور ان کے بہت سے وزرا یہاں تک کہ اس وقت کے وزیر اعظم میر لائق پاکستان کے ساتھ مستقل رابطے میں تھے اور انھیں امید تھی کہ اگر ایسی کوئی صورت حال پیدا ہوتی ہے تو انھیں پاکستان سے مدد ملے گی۔ انھوں نے بتایا کہ جب انڈیا کے ساتھ انضمام کی تحریک جاری تھی تو نظام نے وہاں اخباروں کی اشاعت پر پابندی لگا دی تھی لیکن پاکستان سے شائع ہونے والے اخبار وہاں دستیاب تھے جس سے پتہ چلتا ہے کہ ان کا کتنا اچھا رشتہ تھا۔‘

انھوں نے کہا کہ انٹرویوز کے دوران انھیں ’بہت سے لوگوں نے یہ بتایا کہ سردار پٹیل نے حملے کے لیے 13 ستمبر کی تاریخ اس لیے طے کی کہ ایک دن پہلے محمد علی جناح کا انتقال ہو گيا تھا۔ اور اس لیے وہاں سوگ کا ماحول تھا اور ایسے کوئی شواہد نہیں ہیں کہ پاکستان نے وہاں سے کوئی مدد بھیجی تھی۔ البتہ یہ باتیں سامنے آئیں کہ نظام کے بہت سے قریبی افراد حملے سے قبل پاکستان منتقل ہونے میں کامیاب ہو گئے۔‘
ہر چند کہ فوجی کارروائی پانچ دنوں تک ہی رہی لیکن اس میں ہزاروں جانیں ضائع ہوئیں اور دیہی علاقوں میں فسادات کا بازار گرم رہا۔ یہاں تک کہ انڈیا کے اس وقت کے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے انڈین فوجیوں کی جانب سے شہریوں کو قطاروں میں کھڑا کر کے گولی مارنے کی اطلاعات کے بعد فوجی کارروائیوں کی تحقیقات کے لیے سندر لال کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی۔
نواب نجف علی خان کا کہنا ہے کہ حکومت ہند نے سندر لال کمیٹی کی رپورٹ کی بروقت اشاعت نہیں کی اور اسے اب تک پارلیمان میں پیش نہیں کیا گیا ہے۔
بہر حال اس رپورٹ میں 27 ہزار سے 40 ہزار کے درمیان لوگوں کے مارے جانے کی بات کہی گئی ہے جبکہ بعض دیگر تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ انڈیا کی اس کارروائی اور اس سے پیدا ہونے والے فسادات میں دو لاکھ سے بھی زیادہ افراد مارے گئے تھے۔
نجف علی خان کا کہنا ہے کہ حیدرآباد پر حملے کی سچائی کے لیے سندرلال کمیٹی کو منظر عام پر لانا ضروری ہے۔ انھوں نے انڈین حکومت سے سوال کیا کہ کوئی ریاست اپنے بادشاہ سے آزادی کیوں چاہے گی جب اس نے اپنی رعایا کے خلاف کوئی جرم نہیں کیا ہو۔

انھوں نے سوال کیا کہ حیدرآباد کو انڈیا میں ضم کرنے کے بعد نظامِ حیدرآباد کے خلاف کوئی مجرمانہ کارروائی کیوں نہیں کی گئی۔ اس کے برعکس انھیں وہاں کا ’راج پرمکھ‘ یعنی گورنر کیوں بنایا گيا؟
اس کے بعد حیدرآباد کے معاملے کو اقوام متحدہ میں پیش کیا گیا لیکن وہاں اتنی تاخیر ہوئی کہ وہ اپنی موت آپ مر گیا۔ دسمبر 1949 کو نظام حیدرآباد نے ایک سند جاری کی جس میں کہا گیا کہ انڈیا کا مستقبل کا آئین ہی حیدرآباد کا آئین ہوگا اور پھر ریاست حیدرآباد بالآخر 26 جنوری سنہ 1950 کو باقاعدہ انڈیا کا حصہ بن گيا۔ یہی وہ دن ہے جب انڈیا میں آئین نافذ کیا گیا۔
اس کے بعد بھی میر عثمان علی خان انڈیا کے امیر ترین شخص تھے۔ ان کے ایک پوتے نجف علی خان کا کہنا ہے کہ جب 1965 میں انڈیا کے وزیر اعظم لال بہادر شاستری نے حیدرآباد کا دورہ کیا تو انھوں نے قومی دفاع کے فنڈ میں میر عثمان علی خان سے دل کھول کر عطیہ دینے کی گزارش کی۔ یہ فنڈ چین کے ساتھ جنگ کے نتیجے میں قائم کیا گیا تھا۔ اس فنڈ میں میر عثمان علی خان نے 5000 کلو سونا عطیہ کیا جو آج کے اعتبار سے 1600 کروڑ روپے ہوتا ہے۔
نجف علی خان کا کہنا ہے کہ انڈیا کی تاریخ میں اتنا بڑا عطیہ کسی نے نہیں دیا لیکن اس کے ساتھ ان کا کہنا ہے کہ انڈیا نے ان کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔۔ ✍️

22/03/2026

جب شاہ فیصل عالم کفر کے لیے خطرہ بن گئے تو ان کو ہٹادیا گیا۔
۔
جب کینیڈی مارا گیا جس کے شاہ فیصل سے اچھے تعلقات تھے تب امریکہ میں بہت کچھ ہوا جو شاہ فیصل دیکھ رہے تھے کہ امریکہ اسرائیل کے قبضے میں آچکا مکمل طور پر
امریکی صدر کینیڈی کے ساتھ شاہ فیصل کے بہت اچھے تعلقات تھے اور دونوں نے منصوبہ بنایا تھا کہ وہ فلسطین کا منصوبہ حل کریں گے اور ایک دوسرے کو طاقت بنائیں گے ساتھ دیں گے
لیکن پھر کینیڈی کو ہٹادیا گیا جس کی کہانی کمنٹ میں دئے لنک سے پڑھ لیں
اس کے بعد لنڈن بی امریکی صدر بنا جو اسرائیل کی کٹھ پتلی تھا اس نے اسرائیل کو اتنا اسلحہ دیا کہ وہ مصر ،شام ،اردن پر حملہ کرکے اس کے کچھ علاقوں پر قبضہ کرسکے
اس کے بعد نکسن آیا وہ بھی اسرائیلی کٹھ پتلی
۔
1973 میں شام اور مصر نے اسرائیل پر حملہ کردیا تاکہ اپنے علاقے واپس لے سکے
اسرائیل جنگ ہار رہا تھا کہ نکسن نے اسلحہ کی بہت بڑی کھیپ اسرائیل کو بھیج دی
شاہ فیصل نے امریکہ کو دھمکی دی کہ وہ اسرائیلی مدد سے باز آجائے ورنہ ہم سخت قدم اٹھائیں گے
امریکہ باز نہ آیا تو شاہ فیصل نے مغرب کا تیل بند کردیا جس سے ان کی پوری معیشت ہل گئی
تیل کی قیمت راتوں رات تین ڈالر سے بارہ ڈالر فی بیرل پہنچ گئی
تب امریکہ وزیر خارجہ ہینری کسنجر نے دھمکی دی کہ امریکہ طاقت کا استعمال کرکے سعودیہ کے کنوؤں پر قبضہ کرسکتا
شاہ فیصل نے جواب دیا کہ
" ہم اور ہمارے آباواجداد کجھوروں اور اونٹنی کے دودھ پر گزارہ کرتے تھے ہم دوبارہ صحرا میں جاکر جی لیں گے لیکن تم لوگوں کے لیے تیل کے بغیر جینا ناممکن ہے"
تب ہینری کسنجر نے مصر ،اردن اور سعودیہ کے چکر لگائے اور شاہ فیصل کو یقین دلایا کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈال کر وہ علاقے چھڑوائے گا آپ تیل کھول دیں
مصر کے صدر انورسادات نے بھی شاہ فیصل کو کہا کہ تیل کھول دو ،شاہ فیصل نے اپنے اتحادی کی بات مان لی
اور ادھر اسرائیل وقتی طور پر پیچھے ہٹ گیا
۔
اسی وجہ اسرائیل و امریکہ کو یقین ہوگیا کہ یہ لوگ ہماری معیشت تباہ کرنے کی طاقت رکھتے تب دو منصوبے بنائے گئے
ایک تو پیٹروڈالر کا منصوبہ اور ایک شاہ فیصل کو ہٹانے کا
پیٹرو ڈالر میں یہ تھا کہ سعودیہ اپنا تیل جس کو بھی بیچے صرف امریکی ڈالر میں بیچے گا ،اس کا منافع امریکی بینکوں میں بھیجے گا تاکہ وہاں سرمایہ کاری ہو اور سعودیہ کی دولت بڑھے ،اس کے بدلے امریکہ سعودیہ عرب کی حفاظت کرے گا اور اس کو جدید اسلحہ فراہم کرے گا
۔
تیل کی بندش کے دوران ہی شاہ فیصل اور ذوالفقار علی بھٹو نے مل کر پوری دنیا کے مسلمان حکمرانوں کو پاکستان بلایا
اور کہا کہ ہمیں متحد ہوجانا چاہیے ،کسی اسلامی ملک کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوں ،اور ایک خفیہ بات کہ ہمیں ایسی اسلامی کرنسی بنانی چاہیے جو ڈالر اور پاونڈ کی محتاج نہ ہو
تب سب لیڈرز نے بادشاہی مسجد میں نماز ادا کی اور شاہ فیصل کے لیے وہ لمحہ جذباتی تھا اور کہا کہ کاش اس کے بعد میں بیت المقدس میں نماز ادا کرسکوں یا پھر شہادت پاؤں
وہ پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے تھے اور ان کے بہت احسانات تھے پاکستان پر
خیر اس میٹنگ نے امریکہ و اسرائیل کے کان کھڑے کردئیے کہ اگر یہ کامیاب ہوجاتے تو پوری دنیا ان کی مٹھی میں ہوگی
۔
1966 میں سعودی شہزادہ فیصل بن مسائد جو شاہ فیصل کا بھتیجا تھا امریکہ گیا تھا تعلیم کے لیے اور وہاں اس نے کولوراڈو یورنیورسٹی میں داخلہ لیا
لیکن وہاں یہ ایک نشے حشیش اور ایل سی ڈی کا شکار ہوگیا اور بیچنے بھی لگ گیا
اس کو گرفتار کرلیا گیا لیکن بغیر اس کو کوئی سزا دئیے بغیر اس کو رہا کردیا اور ایک دوسری یورنیورسٹی برکلے کیلیفورنیا میں داخلہ دے دیا جہاں پر ذہن سازی کی جاتی تھی سٹوڈنٹس کی
اسی دوران موساد نے ایک لڑکی کو تیار کیا جس کا نام تھا "کرسٹین سورما" جو عام سی اداکارہ تھی اس کو فیصل کے پیچھے لگادیا اور یہ فیصل کی گرل فرینڈ بن گئی
(شاہ فیصل کے قاتل بھتیجے کا نام بھی فیصل تھا)
اسی لڑکی نے فیصل کی ذہن سازی کی اور رہی سہی کثر یورنیورسٹی نے پوری کی
اس کو باقاعدہ ٹریننگ دی گئی سعودی حکومت کے خلاف تاکہ آنے والے اس کو ہتھیار بنایا جاسکے
اس میں کافی معاملات ہوئے جس میں یہ یورپ بھی گیا تھا وہاں کچھ لوگوں سے ملا تھا جس سے یہ تیار ہوگیا خیر
1975 میں کویت کا وفد شاہ فیصل سے ملاقات کرنے آیا
وہاں فیصل بھی چلاگیا اس نے ریوالور چھپاکر شاہ فیصل کے قریب چلاگیا
شاہ فیصل نے اس کو پاس آنے کا اشارہ کیا تاکہ وہ شاہ فیصل کے سر پر بوسہ دے ،یہ عزت کی علامت تھی
وہ پاس آیا ،شاہ فیصل نے سر تھوڑا سا آگے کیا لیکن فیصل نے ریوالور نکالا اور شاہ فیصل کے سر میں دو گولیاں مار دی
تیسری گولی نہیں لگی لیکن دو گولیوں نے ہی کام کردیا تھا جس سے شاہ فیصل چل بسے
ادھر امریکہ میں ہل چل مچی ہوئی تھی کچھ رپورٹس تھی جو کافی تفصیلی ہیں میں لکھ نہیں سکتا لیکن اس میں پہلے کوشش کی گئی کہ فیصل کو ذہنی مریض قرار دے دیا جائے
اور یہی ہوا فیصل کو ذہنی مریض قرار دے دیا گیا لیکن پھر کچھ ماہر نفسیات نے چیک کیا تو پتہ چلا یہ بالکل ٹھیک ہے پھر اس کو تین مہینوں بعد ہی سرعام سرقلم کرکے مار دیا گیا اور شاہ فیصل کی فائل کو بند کردیا گیا
فیصل کی گرل فرینڈ غائب کردی گئی ،اس کو اسرائیل نے پیسہ دیا کہ وہ اب میڈیا سے کیمرے سے بالکل دور چلی جائے ،کچھ مہینوں بعد اس نے ایک بیان دیا تھا کہ جو کچھ ریاض میں ہوا وہ ویسا نہیں تھا جیسا دکھایا گیا
یہ اس کا آخری جملہ تھا اس کے بعد سے اب تک کوئی خبر نہیں کہ وہ زندہ رہی یا ماردی گئی
امید تو یہی ہے کہ مار دی گئی کیونکہ موساد اور سی آئی اے کے بہت سے ایجنٹس کی زندگیاں میرے سامنے ہیں جن کو کام مکمل ہونے کے بعد مار دیا گیا
شاہ فیصل کے بعد ہینری کسنجر ،روک فلر خاندان ،جے پی مورگن خاندان اور دیگر لوگوں نے سعودیہ کے ساتھ معاہدے کئے تیل کے جس سے سعودیہ کو پیٹروڈالر معاہدے میں باندھ کر چپ کروادیا اور آج تک چپ ہے
۔
اس کے بعد بھٹو کی باری آئی ،کہانی یہاں بھی تقریبا وہی
عالم اسلام کو اکھٹا کرنے والے بھی ہٹادئیے گئے اور تیل پر بھی قبضہ کرلیا
اس ساری واردات کا ماسٹر مائنڈ ہینری کسنجر تھا
اس کے متعلق روک فلر والی تحریر میں بتایا تھا کہ یہ عام سا پروفیسر ڈاکٹر تھا یہودی مذہب سے ،اس کو روک فلر نے امریکی سیاست میں جگہ دی اور پھر اس نے دنیا کے اہم ترین لوگوں کو ہٹایا اسرائیل کے لیے
اسی نے رتھشیلڈ خاندان اور روک فیلر کو ملایا ،اسی نے اسرائیل کو ٹیکنالوجی دی ،تیل دیا ،ہتھیار دلوائے
،
اگر آپ صرف اس کے متعلق مزید جاننا چاہتے تو کل کو صرف اس پر تحریر لکھ دونگا اپنے پیج پر

07/02/2026

یہ ایک جرمن خاتون ایمیلی شینکل کی کہانی ہے۔ آپ میں سے بہت سے لوگوں نے شاید یہ نام کبھی نہ سنا ہو، اور اگر نہیں سنا تو اس میں آپ کا کوئی قصور نہیں۔ یہ نام دانستہ طور پر تاریخ سے مٹا دیا گیا۔

مسز ایمیلی شینکل نے 1937 میں بھارت کے سب سے محبوب بیٹے سے شادی کی اور بطور ازدواجی گھر اس ملک کا انتخاب کیا جس نے کبھی اپنی اس بہو کو دل سے قبول نہ کیا۔ نہ ان کی آمد پر کوئی روایتی مبارک گیت گائے گئے، نہ ہی ان کی بیٹی کی پیدائش پر کوئی خوشی کے لوک گیت سنائے گئے۔ ان کی زندگی کے بارے میں عوامی سطح پر تقریباً کوئی گفتگو نہیں ہوئی۔

سات سالہ ازدواجی زندگی میں سے انہیں اپنے شوہر کے ساتھ صرف تین سال گزارنے کا موقع ملا۔ اس کے بعد ان کے شوہر بیوی اور ننھی بیٹی کو پیچھے چھوڑ کر قوم کی آزادی کی جدوجہد کے لیے واپس چلے گئے، ایک وعدے کے ساتھ: پہلے وہ ملک کو آزاد کرائیں گے، اور پھر ساری زندگی اپنی اہلیہ کے ساتھ گزاریں گے۔

لیکن ایسا کبھی نہ ہو سکا۔ 1945 میں وہ ایک نام نہاد طیارہ حادثے میں لاپتہ ہو گئے۔

اس وقت ایمیلی شینکل بہت کم عمر تھیں۔ یورپی سماجی معیار کے مطابق وہ دوبارہ شادی کر سکتی تھیں، لیکن انہوں نے ایسا نہ کیا۔ اس کے بجائے انہوں نے پوری زندگی شدید جدوجہد میں گزار دی۔

ٹیلی گراف آفس میں ایک کلرک کی معمولی سی نوکری اور نہایت کم تنخواہ پر انہوں نے اپنی بیٹی کی پرورش کی۔ انہوں نے کبھی کسی سے شکایت نہیں کی اور نہ ہی کسی سے کچھ مانگا۔

اسی دوران بھارت آزاد ہو چکا تھا، اور ان کی خواہش تھی کہ وہ کم از کم ایک بار اس ملک کا دورہ کر سکیں، جس کی آزادی کے لیے ان کے شوہر نے اپنی جان قربان کی تھی۔

لیکن بھارت کا ایک اور سیاسی خاندان اس ایک عورت سے اس قدر خوفزدہ تھا کہ جس شخصیت کو عزت کے ساتھ مدعو کیا جانا چاہیے تھا اور شہریت دی جانی چاہیے تھی، اسے ویزا تک نہ دیا گیا۔

مشکلات سے بھری، ہر طرح کی چکاچوند سے دور، نہایت سادہ زندگی گزارنے کے بعد مسز ایمیلی شینکل مارچ 1996 میں گمنامی میں دنیا سے رخصت ہو گئیں۔

ان کا پورا نام مسز ایمیلی شینکل بوس تھا—ملک کے سب سے مقبول عوامی رہنما، نیتاجی سبھاش چندر بوس کی اہلیہ—ایک ایسی عورت جسے گاندھی خاندان نے کبھی بھارتی سرزمین پر قدم رکھنے کی اجازت نہ دی۔

اس خاندان کو معلوم تھا کہ یہ قوم اس غیر ملکی بہو کو عزت و احترام سے سر آنکھوں پر بٹھائے گی۔ ایمیلی بوس کو بھارت آنے کی اجازت دینا ان کی طاقت کے لیے ایک خطرہ محسوس ہوتا تھا
—اور شاید واقعی ایسا ہی تھا۔

22/01/2026

We should change our preferences on the basis of Human rights so that we can b proud full in our eyes...

18/01/2026

ہیکل سلیمانی ، تابوت سکینہ اور ملعون قوم
سازشیں اور لمحہ فکریہ
ہیکل سلیمانی درحقیقت ایک مسجد یا عبادت گاہ تھی۔ جو حضرت سلیمان علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے جنات سے تعمیر کروائی تھی تاکہ لوگ اس کی طرف منہ کرکے یا اس کے اندر عبادت کریں۔
ہیکل سلیمانی کی تعمیر سے پہلے یہودیوں کے ھاں کسی بھی باقاعدہ ہیکل کا نہ کوئی وجود اور نہ اس کا کوئی تصور تھا۔ اس قوم کی بدوؤں والی خانہ بدوش زندگی تھی۔ان کا ہیکل یا معبد ایک خیمہ تھا۔ اس خیمے میں تابوت سکینہ رکھا ھوتا تھا جس کی جانب یہ رخ کرکے عبادت کیا کرتے تھے۔ روایات کے مطابق یہ تابوت جس لکڑی سے تیار کیا گیا تھا اسے " شمشاد کہتے ہیں۔ اور اسے جنت سے حضرت آدم علیہ السلام کے پاس بھیجا گیا تھا۔ یہ تابوت نسل در نسل انبیا سے ھوتا ھوا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے تک پہنچا تھا، اس مقدس صندوق میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا من و سلویٰ اور دیگر انبیا کی یادگاریں تھیں۔ یہودی اس تابوت کی برکت سے ھر مصیبت پریشانی کا حل لیا کرتے تھے مختلف اقوام کے ساتھ جنگوں کے دوران اس صندوق کو لشکر کے آگے رکھا کرتے اس کی برکت سے دشمن پر فتح پایا کرتے۔ جب حضرت داؤد علیہ السلام کو بادشاہت عطا ھوئی تو آپ نے اپنے لئے ایک باقاعدہ محل تعمیر کروایا۔ ایک دن ان کے ذہن میں خیال آیا کہ میں خود تو محل میں رہتا ھوں جبکہ میری قوم کا معبد آج بھی خیمے میں رکھا ھوتا ہے۔ یہ بائیبل کی روایات ہے،
جیسے بائیبل میں ہے
" بادشاہ نے کہا: ’میں تو دیودار کی شان دار لکڑی سے بنے ہوئے ایک محل میں رہتا ہوں، مگر خدا وند کا تابوت ایک خیمے میں پڑا ہوا ہے( 2۔سموئیل 4؛2)۔
چنانچہ آپ نے ہیکل کی تعمیر کا ارادہ کیا اور اس کے لئے ایک جگہ کا تعین کیا گیا۔ ماھرین نے آپ کو مشورہ دیا کہ اس ہیکل کی تعمیر آپ کے دور میں ناممکن ہے آپ اس کا ذمہ اپنے بیٹے حضرت سلیمان علیہ السلام کو دے دیجئیے۔ چنانچہ حضرت سلیمان نے (970 ق م ۔ 930 ق م ) نے اپنے دور حکومت کے چوتھے سال میں اس کی تعمیر کا باقاعدہ آغاز کیا گیا۔ آج اس کی بناوٹ اور مضبوطی سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ یہ تعمیر انسانوں کے بس کی بات نہیں تھی اتنے بھاری اور بڑے پتھروں کو ان جنات کی طاقت سے چنا گیا تھا جن پر حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکومت تھی۔ ہیکل کی پہلی تعمیر کے دوران ہی حضرت سلیمان علیہ السلام اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ لیکن جنات کو پتہ نہ چل سکا اور انہوں نے ہیکل کی تعمیر مکمل کردی۔ یہ واقعہ آپ نے پہلے بھی پڑھا ہوگا۔ کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی روح اللہ نے دوران عبادت ہی قبض کرلی لیکن اس کی ترکیب اس طرح بنی کے آپ ایک لکڑی پر سر اور کمر رکھ کر عبادت میں مصروف ہوگئے اور اس لکڑی کے سہارے سے یوں لگتا تھا کہ آپ اب بھی عبادت ہی کررہے ہیں۔ جبکہ آپ کا انتقال ہوچکا تھا۔ بہرحال یہ ہیکل، معبد یا مسجد بہت عالیشان اور وسیع و عریض تعمیر کی گئی تھی۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کی وفات کے بعد اس میں تین حصے کردئیے گئے تھے بیرونی حصے میں عام لوگ عبادت کیا کرتے اس سے اگلے حصے میں علما جو کہ انبیا کی اولاد میں سے ھوتے ان کی عبادت کی جگہ تھی اس سے اگلے حصے میں جسے انتہائی مقدس سمجھا جاتا تھا اس میں تابوت سکینہ رکھا گیا تھا۔ اس حصے میں کسی کو بھی داخل ھونے کی اجازت نہیں تھی۔ سوائے سب سے بڑے عالم پیش امام کے۔
وقت گزرتا رھا اس دوران بنی اسرائیل میں پیغمبر معبوث ھوتے رہے یہ قوم بد سے بدتر ھوتی رھی ، یہ کسی بھی طرح اپنے گناھوں سے توبہ تائب ھونے یا ان کو ترک کرنے کے لئے تیار نہیں تھے یہ ایک جانب عبادتیں کیا کرتے دوسری جانب اللہ کے احکام کی صریح خلاف ورزی بھی کرتے رہے۔ ان کی اس دوغلی روش سے اللہ پاک ناراض ھوگیا۔ان کے پاس ایک بہت بڑی تعداد میں انبیا بھی بھیجے گئے لیکن یہ قوم سدھرنے کو تیار نہ تھی حتی کہ ان کی شکلیں تبدیل کرکے بندر اور سؤر تک بنائی گئیں لیکن یہ گناھوں سے باز نہ آئے تب اللہ نے ان پر لعنت کر دی۔ 586 ق۔ م میں بخت نصر نے ان کے ملک پر حملہ کیا ان کا ہیکل مکمل طور پر تباہ و برباد کر دیا، ہیکل میں سے تابوت سکینہ نکالا، چھ لاکھ کے قریب یہودیوں کو قتل کیا تقریبا" دو لاکھ یہودیوں کو قید کیا اور اپنے ساتھ بابل (عراق) لے گیا شہر سے باھر یہودی غلاموں کی ایک بستی تعمیر کی جس کا نام تل ابیب رکھا گیا۔ 70 سال تک ہیکل صفحہ ھستی سے مٹا رھا۔ دوسری طرف بخت نصر نے تابوت سکینہ کی شدید بے حرمتی کی اور اسی کہیں پھینک دیا کہا جاتا ہے اس حرکت کا عذاب اسے اس کے ملک کو اس طرح ملا کہ سن 539 ق۔ م میں ایران کے بادشاہ سائرس نے بابل ( عراق) پر حملہ کر دیا اور بابل کے ولی عہد کو شکست فاش دے کر بابلی سلطنت کا مکمل خاتمہ کر دیا۔ سائرس ایک نرم دل اور انصاف پسند حکمران تھا اس نے تل ابیب کے تمام قیدیوں کو آزاد کرکے ان کو واپس یروشلم جانے کی اجازت دے دی۔ اور ساتھ میں ان کو ہیکل کی نئے سرے سے تعمیر کی بھی اجازت دے دی ساتھ میں اس کی تعمیر کے لئے ھر طرح کی مدد فراھم کرنے کا وعدہ بھی کر لیا۔
چنانچہ ہیکل کی(دوسری) تعمیر 537 ق م میں شروع ہوئی۔لیکن تعمیر کا کام سر انجام دینے والوں کو اپنے ہم وطن دشمنوں کی اتنی زیادہ مخالفت کا سامنا کرنا پڑا کہ تعمیراتی کام جلد ہی عملی طور پر بند ہو گیااور دارا (Darius) اوّل کے دورِ حکومت تک مداخلت ہی کا شکار رہا۔ اُس کی حکمرانی کے دوسرے سال میں حضرت زکریا علیہ السلام نے وہاں کے گورنر زروبابل اور سردار کاہن یوشواہ (یوشع) کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ ہیکل کی تعمیر ثانی کی دوبارہ کوشش کریں۔ انھوں نے مثبت ردِ عمل کا اظہار کیااور پوری قوم کی پر جوش تائیداور ایرانی حکام اور بذات خودبادشاہ کی اشیرباد سے ہیکلِ ثانی اپنی اضافی تعمیرات سمیت ساڑھے چار سال کے عرصے میں 520۔ 515 ق م پایۂ تکمیل کو پہنچا۔

لیکن اس بار اس میں تابوت سکینہ نہیں مل سکا ۔ اس کے بارے آج تک معلوم نہیں ھوسکا کہ بخت نصر نے اس کا کیا کیا۔ کچھ لوگوں کا کہنا ھے کہ اس مقدس صندوق کی مزید توھین سے بچانے کے لئے اسے اللہ پاک کے حکم سے کسی محفوظ مقام پر معجزانہ طور پر چھپا دیا گیا جس کا کسی انسان کو علم نہیں۔لیکن یہودی اس کی تلاش میں پورے کرہ ارض کو کھود ڈالنا چاھتے ھیں۔
ایک اور دلچسپ بات عام طور پر تاریخ دان ہیکل کی دو دفعہ تعمیر اور دو دفعہ تباھی کا ذکر کرتے ھیں۔ تاریخ کے مطالعے سے ایک بات میرے سامنے آئی کہ ایسا نہیں ، اس ہیکل کو تین بار تعمیر کیا گیا لیکن اس کے ساتھ بھی ایک دلچسپ کہانی وجود میں آئی۔ ھیروڈس بادشاہ جو کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش سے چند سال پہلے کا بادشاہ ہے اس نے جب اس کی بہتر طریقے سے تعمیر کی نیت کی تو یہودیوں کے دل میں ایک خوف پیدا ھوا کہ اگر اسے نئے سرے سے تعمیر کے لئے گرایا گیا تو دوبارہ تعمیر نہیں ھوگا۔ ھیروڈس نے ان کو بہلانے کے لئے کہا کہ وہ صرف اس کی مرمت کرانا چاھتا ھے اسے گرانا نہیں چاھتا۔ چنانچہ سن 19 ق م میں اس نے ہیکل کے ایک طرف کے حصے کو گرا کر اسے تبدیلی کے ساتھ اور کچھ وسیع کرکے تعمیر کروایا یہ طریقہ کامیاب رھا اور یوں یہودیوں کی عبادت میں خلل ڈالے بغیر تھوڑا تھوڑا کرکے ہیکل گرایا جاتا اور اس کی جگہ نیا اور پہلے سے مختلف ہیکل وجود میں آتا رھا۔ یہ کام اٹھارہ ماہ میں مکمل ھوا اور یوں تیسری بار ھیروڈس کے ذریعے ایک نیا ہیکل وجود میں آ گیا۔ کچھ عرصہ بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ظہور ھوا، اللہ کے اس رسول پر ایک بار پھر یہودیوں نے حسب معمول مظالم کے پہاڑ توڑنے شروع کر دئیے۔ دراصل وہ اپنے مسیحا کے منتظر تھے جو دوبارہ آ کر ان کو پہلے جیسی شان و شوکت عطا کرتا ، یہودیوں کی طرف سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو (قرآن پاک برحق کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو رب تعالیٰ نے زندہ اٹھا لیا، اسلامی تعلیمات کے مطابق ان کے ہم شکل کو) مصلوب کرنے کا واقعہ پیش آیا ، اس واقعہ کے 70 سال بعد ایک بار پھر یہودیوں پر اللہ کا عذاب نازل ھوا۔ اس بار اس عذاب کا نام ٹائٹس تھا۔ یہ رومی جرنیل، بابل کے بادشاہ بخت نصر سے بھی زیادہ ظالم ثابت ھوا۔ اس نے ایک دن میں لاکھوں یہودیوں کو تہہ تیغ کر دیا۔ اس نے ھیروڈس کے بنائے ھوئے عظیم الشان ہیکل کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ اور یہودیوں کو ھمیشہ کے لئے یروشلم سے نکال باھر کیا۔
یہودی پوری دنیا میں بکھر کر اور رسوا ھوکر رہ گئے۔ کم و بیش اٹھارہ انیس سو سال تک بھٹکنے کے بعد برطانیہ نے جب فلسطین پر قبضہ کیا تو ساتھ ہی ایک ناجائز بچےاسرائیل کو فلسطین میں جنم دے دیا۔ اور یوں صدیوں سے دھکے کھانے والی قوم کو ایک بار پھر اس ملک میں اکٹھے ھونے رھنے کی اجازت مل گئی۔ لیکن یہ قوم اپنی ھزاروں سال پرانی گندی فطرت سے باز نہ آئی ۔ یہ برطانیہ کے جنم دئیے ھوئے اسرائیل تک محدود نہ رھے ایک بار پھر ھمسایہ ممالک کے لئے اپنی فطرت سے مجبور ھوکر مصیبت بننے لگے۔ 5 جون 1967 کو اس نے شام کی گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کر لیا۔ 1968 میں اردن کے مغربی کنارے پر قابض ھوگئے۔ اسی سال مصر کے علاقے پر بھی کنٹرول کر لیا۔ آج اس قوم کی شرارتیں اور پھرتیاں دیکھ کر اندازہ ھوتا ہے کہ یہ آج سے دو تین ھزار سال پہلے بھی کس قدر سازشی رہے ہوں گے۔ جس کی وجہ سے اللہ نے ان پر لعنت کر دی تھی۔ مسلمان ممالک میں غیرت کی کمی، کرپٹ لیڈرز کی فراوانی، جہاد سے دوری اور بزدلی کی وجہ سے اب اس نے پوری دنیا کے مسلمان ممالک میں آگ لگا کر رکھ دی ہے۔
اب ان کا اگلا مشن جلد ازجلد اسی ہیکل کی تعمیر ھے اور اس ہیکل میں تخت داؤد اور تابوت سکینہ کو دوبارہ رکھنا ہے تاکہ ایک بار پھر یہ اپنے مسایا (یہودی زبان کا لفظ ) مسیحا کے آنے پر پوری دنیا پر اپنی حکومت قائم کر سکیں۔ وہ یہ کام انتہائی تیزرفتاری سے کر رہے ھیں۔ اس ہیکل کی تعمیر کے نتیجے میں یہ پوری دنیا جنگ کی آگ میں لپٹ جائے گی۔امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اسرائیل کے دارالخلافہ کی تبدیلی کا اعلان بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ لیکن ایمان سے عاری مسلمان اقوام کو کوئی پرواہ نہیں۔

آپ اندازہ کیجئے یہودیوں کو جس بستی تل ابیب میں بخت نصر نے قیدی بنا کر رکھا تھا وہ اس کو آج تک نہیں بھولے ، انہوں نے اسرائیل بنانے کے بعد اپنے ایک شہر کا نام تل ابیب رکھ لیا۔ جبکہ ھم مسلمان اس مسجد اقصی کو بھی بھول چکے ھیں جہاں ھمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کا سفر شروع کیا تھا۔ یہودی آج تک بار بار گرائے گئے ہیکل کو نہیں بھولے حتی کہ اس میں رکھے تابوت سکینہ کی تلاش میں پوری دنیا کو کھود دینا چاہتے ہیں جبکہ ہم کو یہ بھی یاد نہیں کہ عراق میں کتنے انبیا اولیاء کے مزارات پچھلے کچھ عرصہ میں بم لگا کر شہید کر دئیے گئے ہیں۔ وہ بھی اس تنظیم داعش نے کئے ہیں جن کے تانتے بانتے اسرائیل سے ملتے ہیں۔ جن کے لیڈر ابوبکر بغدادی کا بیان تھا خدا ہمیں اسرائیل کے خلاف جہاد کا حکم نہیں دیتا۔ اس تنظیم کی ساری توجہ مسلمانوں کو مارنے میں ہی لگی رہی اور اب تک ہے۔ افسوس کبھی مکے اور مدینے پر حملے کی دھمکیاں دیتے ہیں۔ اور کبھی انتشار پھیلانے کےلئے مسلمان ملکوں میں بم دھماکے کرتے ہیں۔

سبطین برمانی۔۔۔۔۔

Address

Basti Birmani, Choti Zareen D G Khan
Dera Ghazi Khan

Telephone

+923318413587

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Birmani Literacy Center, Basti Birmani posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Birmani Literacy Center, Basti Birmani:

Shortcuts

Share