Birmani Literacy Center, Basti Birmani

Birmani Literacy Center, Basti Birmani

Share

Let's come and take a step towards your's future....F.Sc and Matric, full preparations......
Master degree holders are obliged here...

discipline and concept based knowledge

22/03/2026

جب شاہ فیصل عالم کفر کے لیے خطرہ بن گئے تو ان کو ہٹادیا گیا۔
۔
جب کینیڈی مارا گیا جس کے شاہ فیصل سے اچھے تعلقات تھے تب امریکہ میں بہت کچھ ہوا جو شاہ فیصل دیکھ رہے تھے کہ امریکہ اسرائیل کے قبضے میں آچکا مکمل طور پر
امریکی صدر کینیڈی کے ساتھ شاہ فیصل کے بہت اچھے تعلقات تھے اور دونوں نے منصوبہ بنایا تھا کہ وہ فلسطین کا منصوبہ حل کریں گے اور ایک دوسرے کو طاقت بنائیں گے ساتھ دیں گے
لیکن پھر کینیڈی کو ہٹادیا گیا جس کی کہانی کمنٹ میں دئے لنک سے پڑھ لیں
اس کے بعد لنڈن بی امریکی صدر بنا جو اسرائیل کی کٹھ پتلی تھا اس نے اسرائیل کو اتنا اسلحہ دیا کہ وہ مصر ،شام ،اردن پر حملہ کرکے اس کے کچھ علاقوں پر قبضہ کرسکے
اس کے بعد نکسن آیا وہ بھی اسرائیلی کٹھ پتلی
۔
1973 میں شام اور مصر نے اسرائیل پر حملہ کردیا تاکہ اپنے علاقے واپس لے سکے
اسرائیل جنگ ہار رہا تھا کہ نکسن نے اسلحہ کی بہت بڑی کھیپ اسرائیل کو بھیج دی
شاہ فیصل نے امریکہ کو دھمکی دی کہ وہ اسرائیلی مدد سے باز آجائے ورنہ ہم سخت قدم اٹھائیں گے
امریکہ باز نہ آیا تو شاہ فیصل نے مغرب کا تیل بند کردیا جس سے ان کی پوری معیشت ہل گئی
تیل کی قیمت راتوں رات تین ڈالر سے بارہ ڈالر فی بیرل پہنچ گئی
تب امریکہ وزیر خارجہ ہینری کسنجر نے دھمکی دی کہ امریکہ طاقت کا استعمال کرکے سعودیہ کے کنوؤں پر قبضہ کرسکتا
شاہ فیصل نے جواب دیا کہ
" ہم اور ہمارے آباواجداد کجھوروں اور اونٹنی کے دودھ پر گزارہ کرتے تھے ہم دوبارہ صحرا میں جاکر جی لیں گے لیکن تم لوگوں کے لیے تیل کے بغیر جینا ناممکن ہے"
تب ہینری کسنجر نے مصر ،اردن اور سعودیہ کے چکر لگائے اور شاہ فیصل کو یقین دلایا کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈال کر وہ علاقے چھڑوائے گا آپ تیل کھول دیں
مصر کے صدر انورسادات نے بھی شاہ فیصل کو کہا کہ تیل کھول دو ،شاہ فیصل نے اپنے اتحادی کی بات مان لی
اور ادھر اسرائیل وقتی طور پر پیچھے ہٹ گیا
۔
اسی وجہ اسرائیل و امریکہ کو یقین ہوگیا کہ یہ لوگ ہماری معیشت تباہ کرنے کی طاقت رکھتے تب دو منصوبے بنائے گئے
ایک تو پیٹروڈالر کا منصوبہ اور ایک شاہ فیصل کو ہٹانے کا
پیٹرو ڈالر میں یہ تھا کہ سعودیہ اپنا تیل جس کو بھی بیچے صرف امریکی ڈالر میں بیچے گا ،اس کا منافع امریکی بینکوں میں بھیجے گا تاکہ وہاں سرمایہ کاری ہو اور سعودیہ کی دولت بڑھے ،اس کے بدلے امریکہ سعودیہ عرب کی حفاظت کرے گا اور اس کو جدید اسلحہ فراہم کرے گا
۔
تیل کی بندش کے دوران ہی شاہ فیصل اور ذوالفقار علی بھٹو نے مل کر پوری دنیا کے مسلمان حکمرانوں کو پاکستان بلایا
اور کہا کہ ہمیں متحد ہوجانا چاہیے ،کسی اسلامی ملک کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوں ،اور ایک خفیہ بات کہ ہمیں ایسی اسلامی کرنسی بنانی چاہیے جو ڈالر اور پاونڈ کی محتاج نہ ہو
تب سب لیڈرز نے بادشاہی مسجد میں نماز ادا کی اور شاہ فیصل کے لیے وہ لمحہ جذباتی تھا اور کہا کہ کاش اس کے بعد میں بیت المقدس میں نماز ادا کرسکوں یا پھر شہادت پاؤں
وہ پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے تھے اور ان کے بہت احسانات تھے پاکستان پر
خیر اس میٹنگ نے امریکہ و اسرائیل کے کان کھڑے کردئیے کہ اگر یہ کامیاب ہوجاتے تو پوری دنیا ان کی مٹھی میں ہوگی
۔
1966 میں سعودی شہزادہ فیصل بن مسائد جو شاہ فیصل کا بھتیجا تھا امریکہ گیا تھا تعلیم کے لیے اور وہاں اس نے کولوراڈو یورنیورسٹی میں داخلہ لیا
لیکن وہاں یہ ایک نشے حشیش اور ایل سی ڈی کا شکار ہوگیا اور بیچنے بھی لگ گیا
اس کو گرفتار کرلیا گیا لیکن بغیر اس کو کوئی سزا دئیے بغیر اس کو رہا کردیا اور ایک دوسری یورنیورسٹی برکلے کیلیفورنیا میں داخلہ دے دیا جہاں پر ذہن سازی کی جاتی تھی سٹوڈنٹس کی
اسی دوران موساد نے ایک لڑکی کو تیار کیا جس کا نام تھا "کرسٹین سورما" جو عام سی اداکارہ تھی اس کو فیصل کے پیچھے لگادیا اور یہ فیصل کی گرل فرینڈ بن گئی
(شاہ فیصل کے قاتل بھتیجے کا نام بھی فیصل تھا)
اسی لڑکی نے فیصل کی ذہن سازی کی اور رہی سہی کثر یورنیورسٹی نے پوری کی
اس کو باقاعدہ ٹریننگ دی گئی سعودی حکومت کے خلاف تاکہ آنے والے اس کو ہتھیار بنایا جاسکے
اس میں کافی معاملات ہوئے جس میں یہ یورپ بھی گیا تھا وہاں کچھ لوگوں سے ملا تھا جس سے یہ تیار ہوگیا خیر
1975 میں کویت کا وفد شاہ فیصل سے ملاقات کرنے آیا
وہاں فیصل بھی چلاگیا اس نے ریوالور چھپاکر شاہ فیصل کے قریب چلاگیا
شاہ فیصل نے اس کو پاس آنے کا اشارہ کیا تاکہ وہ شاہ فیصل کے سر پر بوسہ دے ،یہ عزت کی علامت تھی
وہ پاس آیا ،شاہ فیصل نے سر تھوڑا سا آگے کیا لیکن فیصل نے ریوالور نکالا اور شاہ فیصل کے سر میں دو گولیاں مار دی
تیسری گولی نہیں لگی لیکن دو گولیوں نے ہی کام کردیا تھا جس سے شاہ فیصل چل بسے
ادھر امریکہ میں ہل چل مچی ہوئی تھی کچھ رپورٹس تھی جو کافی تفصیلی ہیں میں لکھ نہیں سکتا لیکن اس میں پہلے کوشش کی گئی کہ فیصل کو ذہنی مریض قرار دے دیا جائے
اور یہی ہوا فیصل کو ذہنی مریض قرار دے دیا گیا لیکن پھر کچھ ماہر نفسیات نے چیک کیا تو پتہ چلا یہ بالکل ٹھیک ہے پھر اس کو تین مہینوں بعد ہی سرعام سرقلم کرکے مار دیا گیا اور شاہ فیصل کی فائل کو بند کردیا گیا
فیصل کی گرل فرینڈ غائب کردی گئی ،اس کو اسرائیل نے پیسہ دیا کہ وہ اب میڈیا سے کیمرے سے بالکل دور چلی جائے ،کچھ مہینوں بعد اس نے ایک بیان دیا تھا کہ جو کچھ ریاض میں ہوا وہ ویسا نہیں تھا جیسا دکھایا گیا
یہ اس کا آخری جملہ تھا اس کے بعد سے اب تک کوئی خبر نہیں کہ وہ زندہ رہی یا ماردی گئی
امید تو یہی ہے کہ مار دی گئی کیونکہ موساد اور سی آئی اے کے بہت سے ایجنٹس کی زندگیاں میرے سامنے ہیں جن کو کام مکمل ہونے کے بعد مار دیا گیا
شاہ فیصل کے بعد ہینری کسنجر ،روک فلر خاندان ،جے پی مورگن خاندان اور دیگر لوگوں نے سعودیہ کے ساتھ معاہدے کئے تیل کے جس سے سعودیہ کو پیٹروڈالر معاہدے میں باندھ کر چپ کروادیا اور آج تک چپ ہے
۔
اس کے بعد بھٹو کی باری آئی ،کہانی یہاں بھی تقریبا وہی
عالم اسلام کو اکھٹا کرنے والے بھی ہٹادئیے گئے اور تیل پر بھی قبضہ کرلیا
اس ساری واردات کا ماسٹر مائنڈ ہینری کسنجر تھا
اس کے متعلق روک فلر والی تحریر میں بتایا تھا کہ یہ عام سا پروفیسر ڈاکٹر تھا یہودی مذہب سے ،اس کو روک فلر نے امریکی سیاست میں جگہ دی اور پھر اس نے دنیا کے اہم ترین لوگوں کو ہٹایا اسرائیل کے لیے
اسی نے رتھشیلڈ خاندان اور روک فیلر کو ملایا ،اسی نے اسرائیل کو ٹیکنالوجی دی ،تیل دیا ،ہتھیار دلوائے
،
اگر آپ صرف اس کے متعلق مزید جاننا چاہتے تو کل کو صرف اس پر تحریر لکھ دونگا اپنے پیج پر

07/02/2026

یہ ایک جرمن خاتون ایمیلی شینکل کی کہانی ہے۔ آپ میں سے بہت سے لوگوں نے شاید یہ نام کبھی نہ سنا ہو، اور اگر نہیں سنا تو اس میں آپ کا کوئی قصور نہیں۔ یہ نام دانستہ طور پر تاریخ سے مٹا دیا گیا۔

مسز ایمیلی شینکل نے 1937 میں بھارت کے سب سے محبوب بیٹے سے شادی کی اور بطور ازدواجی گھر اس ملک کا انتخاب کیا جس نے کبھی اپنی اس بہو کو دل سے قبول نہ کیا۔ نہ ان کی آمد پر کوئی روایتی مبارک گیت گائے گئے، نہ ہی ان کی بیٹی کی پیدائش پر کوئی خوشی کے لوک گیت سنائے گئے۔ ان کی زندگی کے بارے میں عوامی سطح پر تقریباً کوئی گفتگو نہیں ہوئی۔

سات سالہ ازدواجی زندگی میں سے انہیں اپنے شوہر کے ساتھ صرف تین سال گزارنے کا موقع ملا۔ اس کے بعد ان کے شوہر بیوی اور ننھی بیٹی کو پیچھے چھوڑ کر قوم کی آزادی کی جدوجہد کے لیے واپس چلے گئے، ایک وعدے کے ساتھ: پہلے وہ ملک کو آزاد کرائیں گے، اور پھر ساری زندگی اپنی اہلیہ کے ساتھ گزاریں گے۔

لیکن ایسا کبھی نہ ہو سکا۔ 1945 میں وہ ایک نام نہاد طیارہ حادثے میں لاپتہ ہو گئے۔

اس وقت ایمیلی شینکل بہت کم عمر تھیں۔ یورپی سماجی معیار کے مطابق وہ دوبارہ شادی کر سکتی تھیں، لیکن انہوں نے ایسا نہ کیا۔ اس کے بجائے انہوں نے پوری زندگی شدید جدوجہد میں گزار دی۔

ٹیلی گراف آفس میں ایک کلرک کی معمولی سی نوکری اور نہایت کم تنخواہ پر انہوں نے اپنی بیٹی کی پرورش کی۔ انہوں نے کبھی کسی سے شکایت نہیں کی اور نہ ہی کسی سے کچھ مانگا۔

اسی دوران بھارت آزاد ہو چکا تھا، اور ان کی خواہش تھی کہ وہ کم از کم ایک بار اس ملک کا دورہ کر سکیں، جس کی آزادی کے لیے ان کے شوہر نے اپنی جان قربان کی تھی۔

لیکن بھارت کا ایک اور سیاسی خاندان اس ایک عورت سے اس قدر خوفزدہ تھا کہ جس شخصیت کو عزت کے ساتھ مدعو کیا جانا چاہیے تھا اور شہریت دی جانی چاہیے تھی، اسے ویزا تک نہ دیا گیا۔

مشکلات سے بھری، ہر طرح کی چکاچوند سے دور، نہایت سادہ زندگی گزارنے کے بعد مسز ایمیلی شینکل مارچ 1996 میں گمنامی میں دنیا سے رخصت ہو گئیں۔

ان کا پورا نام مسز ایمیلی شینکل بوس تھا—ملک کے سب سے مقبول عوامی رہنما، نیتاجی سبھاش چندر بوس کی اہلیہ—ایک ایسی عورت جسے گاندھی خاندان نے کبھی بھارتی سرزمین پر قدم رکھنے کی اجازت نہ دی۔

اس خاندان کو معلوم تھا کہ یہ قوم اس غیر ملکی بہو کو عزت و احترام سے سر آنکھوں پر بٹھائے گی۔ ایمیلی بوس کو بھارت آنے کی اجازت دینا ان کی طاقت کے لیے ایک خطرہ محسوس ہوتا تھا
—اور شاید واقعی ایسا ہی تھا۔

22/01/2026

We should change our preferences on the basis of Human rights so that we can b proud full in our eyes...

18/01/2026

ہیکل سلیمانی ، تابوت سکینہ اور ملعون قوم
سازشیں اور لمحہ فکریہ
ہیکل سلیمانی درحقیقت ایک مسجد یا عبادت گاہ تھی۔ جو حضرت سلیمان علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے جنات سے تعمیر کروائی تھی تاکہ لوگ اس کی طرف منہ کرکے یا اس کے اندر عبادت کریں۔
ہیکل سلیمانی کی تعمیر سے پہلے یہودیوں کے ھاں کسی بھی باقاعدہ ہیکل کا نہ کوئی وجود اور نہ اس کا کوئی تصور تھا۔ اس قوم کی بدوؤں والی خانہ بدوش زندگی تھی۔ان کا ہیکل یا معبد ایک خیمہ تھا۔ اس خیمے میں تابوت سکینہ رکھا ھوتا تھا جس کی جانب یہ رخ کرکے عبادت کیا کرتے تھے۔ روایات کے مطابق یہ تابوت جس لکڑی سے تیار کیا گیا تھا اسے " شمشاد کہتے ہیں۔ اور اسے جنت سے حضرت آدم علیہ السلام کے پاس بھیجا گیا تھا۔ یہ تابوت نسل در نسل انبیا سے ھوتا ھوا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے تک پہنچا تھا، اس مقدس صندوق میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا من و سلویٰ اور دیگر انبیا کی یادگاریں تھیں۔ یہودی اس تابوت کی برکت سے ھر مصیبت پریشانی کا حل لیا کرتے تھے مختلف اقوام کے ساتھ جنگوں کے دوران اس صندوق کو لشکر کے آگے رکھا کرتے اس کی برکت سے دشمن پر فتح پایا کرتے۔ جب حضرت داؤد علیہ السلام کو بادشاہت عطا ھوئی تو آپ نے اپنے لئے ایک باقاعدہ محل تعمیر کروایا۔ ایک دن ان کے ذہن میں خیال آیا کہ میں خود تو محل میں رہتا ھوں جبکہ میری قوم کا معبد آج بھی خیمے میں رکھا ھوتا ہے۔ یہ بائیبل کی روایات ہے،
جیسے بائیبل میں ہے
" بادشاہ نے کہا: ’میں تو دیودار کی شان دار لکڑی سے بنے ہوئے ایک محل میں رہتا ہوں، مگر خدا وند کا تابوت ایک خیمے میں پڑا ہوا ہے( 2۔سموئیل 4؛2)۔
چنانچہ آپ نے ہیکل کی تعمیر کا ارادہ کیا اور اس کے لئے ایک جگہ کا تعین کیا گیا۔ ماھرین نے آپ کو مشورہ دیا کہ اس ہیکل کی تعمیر آپ کے دور میں ناممکن ہے آپ اس کا ذمہ اپنے بیٹے حضرت سلیمان علیہ السلام کو دے دیجئیے۔ چنانچہ حضرت سلیمان نے (970 ق م ۔ 930 ق م ) نے اپنے دور حکومت کے چوتھے سال میں اس کی تعمیر کا باقاعدہ آغاز کیا گیا۔ آج اس کی بناوٹ اور مضبوطی سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ یہ تعمیر انسانوں کے بس کی بات نہیں تھی اتنے بھاری اور بڑے پتھروں کو ان جنات کی طاقت سے چنا گیا تھا جن پر حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکومت تھی۔ ہیکل کی پہلی تعمیر کے دوران ہی حضرت سلیمان علیہ السلام اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ لیکن جنات کو پتہ نہ چل سکا اور انہوں نے ہیکل کی تعمیر مکمل کردی۔ یہ واقعہ آپ نے پہلے بھی پڑھا ہوگا۔ کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی روح اللہ نے دوران عبادت ہی قبض کرلی لیکن اس کی ترکیب اس طرح بنی کے آپ ایک لکڑی پر سر اور کمر رکھ کر عبادت میں مصروف ہوگئے اور اس لکڑی کے سہارے سے یوں لگتا تھا کہ آپ اب بھی عبادت ہی کررہے ہیں۔ جبکہ آپ کا انتقال ہوچکا تھا۔ بہرحال یہ ہیکل، معبد یا مسجد بہت عالیشان اور وسیع و عریض تعمیر کی گئی تھی۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کی وفات کے بعد اس میں تین حصے کردئیے گئے تھے بیرونی حصے میں عام لوگ عبادت کیا کرتے اس سے اگلے حصے میں علما جو کہ انبیا کی اولاد میں سے ھوتے ان کی عبادت کی جگہ تھی اس سے اگلے حصے میں جسے انتہائی مقدس سمجھا جاتا تھا اس میں تابوت سکینہ رکھا گیا تھا۔ اس حصے میں کسی کو بھی داخل ھونے کی اجازت نہیں تھی۔ سوائے سب سے بڑے عالم پیش امام کے۔
وقت گزرتا رھا اس دوران بنی اسرائیل میں پیغمبر معبوث ھوتے رہے یہ قوم بد سے بدتر ھوتی رھی ، یہ کسی بھی طرح اپنے گناھوں سے توبہ تائب ھونے یا ان کو ترک کرنے کے لئے تیار نہیں تھے یہ ایک جانب عبادتیں کیا کرتے دوسری جانب اللہ کے احکام کی صریح خلاف ورزی بھی کرتے رہے۔ ان کی اس دوغلی روش سے اللہ پاک ناراض ھوگیا۔ان کے پاس ایک بہت بڑی تعداد میں انبیا بھی بھیجے گئے لیکن یہ قوم سدھرنے کو تیار نہ تھی حتی کہ ان کی شکلیں تبدیل کرکے بندر اور سؤر تک بنائی گئیں لیکن یہ گناھوں سے باز نہ آئے تب اللہ نے ان پر لعنت کر دی۔ 586 ق۔ م میں بخت نصر نے ان کے ملک پر حملہ کیا ان کا ہیکل مکمل طور پر تباہ و برباد کر دیا، ہیکل میں سے تابوت سکینہ نکالا، چھ لاکھ کے قریب یہودیوں کو قتل کیا تقریبا" دو لاکھ یہودیوں کو قید کیا اور اپنے ساتھ بابل (عراق) لے گیا شہر سے باھر یہودی غلاموں کی ایک بستی تعمیر کی جس کا نام تل ابیب رکھا گیا۔ 70 سال تک ہیکل صفحہ ھستی سے مٹا رھا۔ دوسری طرف بخت نصر نے تابوت سکینہ کی شدید بے حرمتی کی اور اسی کہیں پھینک دیا کہا جاتا ہے اس حرکت کا عذاب اسے اس کے ملک کو اس طرح ملا کہ سن 539 ق۔ م میں ایران کے بادشاہ سائرس نے بابل ( عراق) پر حملہ کر دیا اور بابل کے ولی عہد کو شکست فاش دے کر بابلی سلطنت کا مکمل خاتمہ کر دیا۔ سائرس ایک نرم دل اور انصاف پسند حکمران تھا اس نے تل ابیب کے تمام قیدیوں کو آزاد کرکے ان کو واپس یروشلم جانے کی اجازت دے دی۔ اور ساتھ میں ان کو ہیکل کی نئے سرے سے تعمیر کی بھی اجازت دے دی ساتھ میں اس کی تعمیر کے لئے ھر طرح کی مدد فراھم کرنے کا وعدہ بھی کر لیا۔
چنانچہ ہیکل کی(دوسری) تعمیر 537 ق م میں شروع ہوئی۔لیکن تعمیر کا کام سر انجام دینے والوں کو اپنے ہم وطن دشمنوں کی اتنی زیادہ مخالفت کا سامنا کرنا پڑا کہ تعمیراتی کام جلد ہی عملی طور پر بند ہو گیااور دارا (Darius) اوّل کے دورِ حکومت تک مداخلت ہی کا شکار رہا۔ اُس کی حکمرانی کے دوسرے سال میں حضرت زکریا علیہ السلام نے وہاں کے گورنر زروبابل اور سردار کاہن یوشواہ (یوشع) کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ ہیکل کی تعمیر ثانی کی دوبارہ کوشش کریں۔ انھوں نے مثبت ردِ عمل کا اظہار کیااور پوری قوم کی پر جوش تائیداور ایرانی حکام اور بذات خودبادشاہ کی اشیرباد سے ہیکلِ ثانی اپنی اضافی تعمیرات سمیت ساڑھے چار سال کے عرصے میں 520۔ 515 ق م پایۂ تکمیل کو پہنچا۔

لیکن اس بار اس میں تابوت سکینہ نہیں مل سکا ۔ اس کے بارے آج تک معلوم نہیں ھوسکا کہ بخت نصر نے اس کا کیا کیا۔ کچھ لوگوں کا کہنا ھے کہ اس مقدس صندوق کی مزید توھین سے بچانے کے لئے اسے اللہ پاک کے حکم سے کسی محفوظ مقام پر معجزانہ طور پر چھپا دیا گیا جس کا کسی انسان کو علم نہیں۔لیکن یہودی اس کی تلاش میں پورے کرہ ارض کو کھود ڈالنا چاھتے ھیں۔
ایک اور دلچسپ بات عام طور پر تاریخ دان ہیکل کی دو دفعہ تعمیر اور دو دفعہ تباھی کا ذکر کرتے ھیں۔ تاریخ کے مطالعے سے ایک بات میرے سامنے آئی کہ ایسا نہیں ، اس ہیکل کو تین بار تعمیر کیا گیا لیکن اس کے ساتھ بھی ایک دلچسپ کہانی وجود میں آئی۔ ھیروڈس بادشاہ جو کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش سے چند سال پہلے کا بادشاہ ہے اس نے جب اس کی بہتر طریقے سے تعمیر کی نیت کی تو یہودیوں کے دل میں ایک خوف پیدا ھوا کہ اگر اسے نئے سرے سے تعمیر کے لئے گرایا گیا تو دوبارہ تعمیر نہیں ھوگا۔ ھیروڈس نے ان کو بہلانے کے لئے کہا کہ وہ صرف اس کی مرمت کرانا چاھتا ھے اسے گرانا نہیں چاھتا۔ چنانچہ سن 19 ق م میں اس نے ہیکل کے ایک طرف کے حصے کو گرا کر اسے تبدیلی کے ساتھ اور کچھ وسیع کرکے تعمیر کروایا یہ طریقہ کامیاب رھا اور یوں یہودیوں کی عبادت میں خلل ڈالے بغیر تھوڑا تھوڑا کرکے ہیکل گرایا جاتا اور اس کی جگہ نیا اور پہلے سے مختلف ہیکل وجود میں آتا رھا۔ یہ کام اٹھارہ ماہ میں مکمل ھوا اور یوں تیسری بار ھیروڈس کے ذریعے ایک نیا ہیکل وجود میں آ گیا۔ کچھ عرصہ بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ظہور ھوا، اللہ کے اس رسول پر ایک بار پھر یہودیوں نے حسب معمول مظالم کے پہاڑ توڑنے شروع کر دئیے۔ دراصل وہ اپنے مسیحا کے منتظر تھے جو دوبارہ آ کر ان کو پہلے جیسی شان و شوکت عطا کرتا ، یہودیوں کی طرف سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو (قرآن پاک برحق کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو رب تعالیٰ نے زندہ اٹھا لیا، اسلامی تعلیمات کے مطابق ان کے ہم شکل کو) مصلوب کرنے کا واقعہ پیش آیا ، اس واقعہ کے 70 سال بعد ایک بار پھر یہودیوں پر اللہ کا عذاب نازل ھوا۔ اس بار اس عذاب کا نام ٹائٹس تھا۔ یہ رومی جرنیل، بابل کے بادشاہ بخت نصر سے بھی زیادہ ظالم ثابت ھوا۔ اس نے ایک دن میں لاکھوں یہودیوں کو تہہ تیغ کر دیا۔ اس نے ھیروڈس کے بنائے ھوئے عظیم الشان ہیکل کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ اور یہودیوں کو ھمیشہ کے لئے یروشلم سے نکال باھر کیا۔
یہودی پوری دنیا میں بکھر کر اور رسوا ھوکر رہ گئے۔ کم و بیش اٹھارہ انیس سو سال تک بھٹکنے کے بعد برطانیہ نے جب فلسطین پر قبضہ کیا تو ساتھ ہی ایک ناجائز بچےاسرائیل کو فلسطین میں جنم دے دیا۔ اور یوں صدیوں سے دھکے کھانے والی قوم کو ایک بار پھر اس ملک میں اکٹھے ھونے رھنے کی اجازت مل گئی۔ لیکن یہ قوم اپنی ھزاروں سال پرانی گندی فطرت سے باز نہ آئی ۔ یہ برطانیہ کے جنم دئیے ھوئے اسرائیل تک محدود نہ رھے ایک بار پھر ھمسایہ ممالک کے لئے اپنی فطرت سے مجبور ھوکر مصیبت بننے لگے۔ 5 جون 1967 کو اس نے شام کی گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کر لیا۔ 1968 میں اردن کے مغربی کنارے پر قابض ھوگئے۔ اسی سال مصر کے علاقے پر بھی کنٹرول کر لیا۔ آج اس قوم کی شرارتیں اور پھرتیاں دیکھ کر اندازہ ھوتا ہے کہ یہ آج سے دو تین ھزار سال پہلے بھی کس قدر سازشی رہے ہوں گے۔ جس کی وجہ سے اللہ نے ان پر لعنت کر دی تھی۔ مسلمان ممالک میں غیرت کی کمی، کرپٹ لیڈرز کی فراوانی، جہاد سے دوری اور بزدلی کی وجہ سے اب اس نے پوری دنیا کے مسلمان ممالک میں آگ لگا کر رکھ دی ہے۔
اب ان کا اگلا مشن جلد ازجلد اسی ہیکل کی تعمیر ھے اور اس ہیکل میں تخت داؤد اور تابوت سکینہ کو دوبارہ رکھنا ہے تاکہ ایک بار پھر یہ اپنے مسایا (یہودی زبان کا لفظ ) مسیحا کے آنے پر پوری دنیا پر اپنی حکومت قائم کر سکیں۔ وہ یہ کام انتہائی تیزرفتاری سے کر رہے ھیں۔ اس ہیکل کی تعمیر کے نتیجے میں یہ پوری دنیا جنگ کی آگ میں لپٹ جائے گی۔امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اسرائیل کے دارالخلافہ کی تبدیلی کا اعلان بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ لیکن ایمان سے عاری مسلمان اقوام کو کوئی پرواہ نہیں۔

آپ اندازہ کیجئے یہودیوں کو جس بستی تل ابیب میں بخت نصر نے قیدی بنا کر رکھا تھا وہ اس کو آج تک نہیں بھولے ، انہوں نے اسرائیل بنانے کے بعد اپنے ایک شہر کا نام تل ابیب رکھ لیا۔ جبکہ ھم مسلمان اس مسجد اقصی کو بھی بھول چکے ھیں جہاں ھمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کا سفر شروع کیا تھا۔ یہودی آج تک بار بار گرائے گئے ہیکل کو نہیں بھولے حتی کہ اس میں رکھے تابوت سکینہ کی تلاش میں پوری دنیا کو کھود دینا چاہتے ہیں جبکہ ہم کو یہ بھی یاد نہیں کہ عراق میں کتنے انبیا اولیاء کے مزارات پچھلے کچھ عرصہ میں بم لگا کر شہید کر دئیے گئے ہیں۔ وہ بھی اس تنظیم داعش نے کئے ہیں جن کے تانتے بانتے اسرائیل سے ملتے ہیں۔ جن کے لیڈر ابوبکر بغدادی کا بیان تھا خدا ہمیں اسرائیل کے خلاف جہاد کا حکم نہیں دیتا۔ اس تنظیم کی ساری توجہ مسلمانوں کو مارنے میں ہی لگی رہی اور اب تک ہے۔ افسوس کبھی مکے اور مدینے پر حملے کی دھمکیاں دیتے ہیں۔ اور کبھی انتشار پھیلانے کےلئے مسلمان ملکوں میں بم دھماکے کرتے ہیں۔

سبطین برمانی۔۔۔۔۔

16/01/2026

نواب آف کالاباغ

بھیگے بادام اور گاجریں‘ نواب آف کالا باغ ملک امیر محمد خان کی صبح جسم و جاں میں توانائی کے خزانے بھر دینے والی اِن نعمتوں سے ہوا کرتی تھی۔ 26 نومبر 1967 کی صبح بھی نواب کے ذاتی ملازم خدا بخش معمول کے مطابق اُن کے کمرے میں داخل ہوئے، سجی سجائی سینی (گول ٹرے) ان کے سامنے رکھی اور باہر آ کر سیڑھیوں پر بیٹھ گئے۔

معمول یہ تھا کہ نواب صاحب جیسے ہی گاجر کا آخری ٹکڑا چبا لیتے، ملازم کو بُلا کر برتن اٹھا لینے کی ہدایت کرتے لیکن اُس روز معمول میں کچھ فرق آ گیا۔

اُس روز کچھ گاجریں اور بادام ابھی باقی تھے کہ خواب گاہ کے باہر شور سُنائی دیا۔ پتا چلا کہ نواب صاحب کے دو فرزند دروازے پر کھڑے ہیں اور کہیں جانے کے لیے نواب صاحب کی جیپ طلب کر رہے ہیں۔

نواب صاحب نے چابی ان کے حوالے کر دی۔ جیسے ہی چابیاں اُن کے ہاتھ میں آئیں، وہ دونوں گاڑی کی طرف جانے کے بجائے خواب گاہ کے دروازے کی طرف بڑھے اور ہیجانی انداز میں اسے کھولتے ہوئے اندر داخل ہو گئے۔
نواب امیر محمد خان کے سوانح نگار سید صادق حسین شاہ نے اپنی کتاب ’نواب آف کالاباغ‘ میں یہ واقعات پوری تفصیل کے ساتھ لکھے ہیں۔

نواب صاحب کے بوڑھ والے بنگلے میں، جہاں وہ کبھی سعودی عرب کے شاہ فیصل، ایوب خان، اسکندر مرزا، ذوالفقار علی بھٹو، امریکی خاتون اوّل مسز روز ویلٹ سمیت کئی دوسری عالمی شخصیات کی میزبانی کر چکے تھے، گذشتہ کئی روز سے کشیدگی کے آثار تھے۔ اس کشیدگی کے پتا بنگلے کے مکینوں کے علاوہ ملازمین کے چہروں سے بھی عیاں تھا۔

سوانح نگار سید صادق حسین شاہ کے مطابق نواب صاحب کے دو بیٹوں نوابزادہ مظفرخان اور نواب زادہ اسد خان کی اپنے والد کے کمرے میں یہ گستاخانہ انٹری اسی کشیدگی کا تسلسل تھی۔ اس کے فوراً ہی بعد باہر سیڑھیوں پر بیٹھے خدا بخش کو کمرے سے تلخ کلامی کی آوازیں سنائی دیں، اس کے بعد فائرنگ کی۔
’اوئے، کے پئے کریندے او؟‘ (ارے، کیا کررہے ہو؟)۔ خدا بخش کے کانوں میں نواب صاحب کا جب یہ جملہ پڑا تو وہ بھی کمرے میں داخل ہو گئے، نوابزادہ مظفر نے انھیں بالوں سے پکڑ کر صوفے پر پٹخا اور کہا ’کسی کو بتایا تو اس سے بھی بُرا حشر کروں گا۔‘

اسی دوران اور ایک اور ملازم عالم خان کمرے میں داخل ہوا، اسے یہ کہہ کر واپس بھیج دیا گیا کہ ’کمرے سے نکل جاؤ، نواب صاحب کو دورہ پڑ گیا ہے۔‘ گولی لگنے کے بعد نواب صاحب قالین پر اوندھے منھ گر چکے تھے اور اُن کے جسم سے خون بہہ رہا تھا۔
عینی شاہدین کے مطابق دونوں بیٹے اس وقت تک کمرے میں موجود رہے جب تک روح نواب کے جسم سے پرواز نہیں کر گئی۔

آخر ایسا کیا اختلاف تھا جس کی وجہ سے معاملات ایسی انتہا پر جا پہنچے کہ بیٹے اپنے باپ کی جان کے درپے ہو گئے؟

سید صادق حسین شاہ نے کئی برس گزرنے کے بعد یہ سوال نوابزادہ اسد خان سے پوچھا جو اپنے والد کے قتل کے الزام میں نامزد رہنے کے بعد عدم ثبوت کی بنا پر بری ہو چکے تھے۔ نوابزادہ اسد نے سوانح نگار کے سوال کا براہ راست کوئی جواب دینے کے بجائے کہا کہ ان کے تو اپنے والد سے کوئی اختلافات نہ تھے، البتہ بھائی نوابزادہ مظفر خان کو ان کی پالیسیوں سے کچھ اختلاف تھا جس کا اظہار وہ برملا کیا کرتے تھے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ وقوعہ کے روز انھوں نے اپنے بھائی کو والد کے کمرے کی طرف جاتے دیکھا تو وہ بھی ان کے پیچھے چلے گئے۔ پہلے خود نواب صاحب (یعنی ان کے والد) نے فائرنگ کی، ایک گولی انھیں (یعنی نوابزادہ اسد) کے بازو میں لگی اور دوسری قریبی دیوار میں پیوست ہو گئی۔ جواب میں نوابزادہ مظفر نے پانچ گولیاں چلائیں، نہایت قریب سے چلائی گئی بریٹا پستول کی گولیاں نواب صاحب کی جان لے گئیں۔

نواب صاحب کی وہ کیا پالیسیاں تھیں، نوابزاد ہ مظفر کو جن سے اختلاف تھا؟ مصنف کے مطابق نواب صاحب جن دنوں پنجاب کے گورنر تھے، ’ریاست‘ کالاباغ کا تمام تر انتظام ان کے بیٹوں کے ہاتھ میں آ گیا جس کے نتیجے میں ضلع میانوالی میں جبر کی فضا قائم ہو گئی اور نواب زادگان نے سیاسی مخالفین کو زور زبردستی راستے سے ہٹا دیا یا مخالفین کو جان سے ہاتھ دھونے پڑے۔

نواب صاحب گورنر کا منصب چھوڑ کر واپس کالاباغ پہنچے تو اِس صورت حال کو انھوں نے اپنے لیے ناخوش گوار پایا۔انگریزی اخبار’دی نیشن‘ نے اپنی ایک تحقیقی رپورٹ میں وراثت کی تقسیم سے متعلق اختلافات کا بھی ذکر کیا ہے جن کے مطابق نواب صاحب نے کچھ ایسے اشارے دیے تھے کہ وہ اپنی جائیداد اپنے بیٹو ں کو منتقل کرنے کے بجائے براہ راست اپنے پوتوں کے نام کر دیں گے، یہی اختلاف تھا جو اِن کی جان لے گیا۔
یہ شخص جو یوں ایک صبح بے بسی کے ساتھ مارا گیا، کبھی اتنا طاقتور تھا کہ مغربی پاکستان میں اس کی اجازت کے بغیر پتہ تک نہیں ہلتا تھا۔

یہ شخص سیاست میں نہیں آنا چاہتا تھا لیکن یہ دیکھ کر کہ اس زمانے کے وزیر اعلیٰ نواب افتخار حسین ممدوٹ اراکین اسمبلی کے سوا کسی دوسرے کو ملاقات کا وقت ہی نہیں دیتے، وہ انتخاب لڑ کر اسمبلی میں پہنچ گئے لیکن بعد میں حکومت نے انھیں وزیر بنانا چاہا تو ان کی انا آڑے آئی۔

یہ اس زمانے کی بات ہے جب اسکندر مرزا ملک کے صدر اور ایوب خان سیاہ و سفید کے مالک تھے۔ بیرون ملک جاتے ہوئے اسکندرمرزا سے کہہ گئے کہ نواب آف کالاباغ کو مرکز میں وزیر بنا لیا جائے۔ یہ پیشکش ان تک پہنچائی گئی تو کہا میرے لیے یہ ممکن نہیں کہ ٹکے ٹکے کے ممبران اسمبلی کے سوالوں کے جواب دوں اور بات بات پر جناب سپیکر، جناب سپیکر کی گردان کروں۔

تاہم ایوب خان نے اقتدار پر قابض ہونے کے بعد انھیں گورنر مغربی پاکستان بننے کی پیشکش کی تو اسے قبول کرنے میں انھیں کوئی تامل نہ ہوا۔ یہ منصب ان کے مزاج کے مطابق تھا کیونکہ انھیں یہاں کسی کو جواب نہیں دینا تھا، سب ان کے سامنے جوابدہ تھے۔

پنجاب کا یہ جدی پشتی جاگیردار اقتدار کے ایوان میں داخل ہوا تو اس کے انداز بڑے جداگانہ تھے۔ انھوں نے پابندی عائد کر دی کہ خاندان کا کوئی شخص بھی گورنر ہاؤس میں داخل نہیں ہو گا۔

ایک بار کوئی سفر درپیش تھا، صورتحال کچھ ایسی بنی کہ ان کے ایک صاحبزادے کو ان کی گاڑی میں بیٹھنا پڑا، انھوں نے پچھلی سیٹ کا دروازہ کھول کر والد کے برابر بیٹھنا چاہا تو انھیں وہاں سے اٹھا دیا اور کہا کہ یہ جگہ ملٹری سیکریٹری کی ہے، تم اگلی نشست پر ڈرائیور کے ساتھ بیٹھو۔
گورنر مغربی پاکستان کی حیثیت سے صوبے کے تمام امور پر ان کی گرفت انتہائی سخت تھی، یہ شہرت ملکہ برطانیہ تک پہنچی تو انھوں نے کہا کہ جنگل کا شیر بھی نواب کا کہنا ماننے پر مجبور ہے۔

ان کی مؤثر ایڈمنسٹریشن کا راز یہ تھا کہ وہ اہم عہدوں پر تعیناتی کے لیے افسروں کا انٹرویو خود کرتے، خاندانی پس منظر اور اُن کی کئی پشتوں تک کے بارے میں آگاہی حاصل کرتے۔ افسروں کے انتخاب میں ان کی احتیاط کو دیکھتے ہوئے کسی نے ان سے کچھ سوال کیا تو کہا کہ ہم لوگ تو گھوڑا اور کتا خریدتے ہوئے بھی شجرہ دیکھتے ہیں، یہ تو ملک کا معاملہ ہے۔

ایک بار پی ایم اے کے کیڈٹس کے انتخاب پر بھی اسی قسم کا تبصرہ کرتے ہوئے کہا مجھے خدشہ ہے کہ آنے والے دنوں میں عسکری قیادت کا معیار کمزور ہو جائے گا۔

سول افسروں کی طرح فوجی افسروں کے بارے میں وہ خاصی معلومات رکھتے تھے۔ انھیں جب معلوم ہوا کہ ایوب خان یحییٰ خان کو فوج کا سربراہ بنانے والے ہیں تو کہا کہ یہ ان کی عظیم ترین غلطی ہو گی کیونکہ وہ شرابی اور عیاش آدمی ہیں۔

جنرل سرفراز چاہتے تھے کہ یحییٰ کی جگہ انھیں یہ منصب ملنا چاہیے، اس مقصد کے لیے وہ نواب صاحب کی مدد کے طلب گار بھی ہوئے لیکن ان کے بارے میں نواب صاحب کی رائے مثبت نہیں تھی، ان کا خیال تھا کہ سنہ 1965 کی جنگ میں لاہور کے محاذ پر ان کی کارکردگی اطمینان بخش نہ تھی۔

صوبے کے حالات سے آگاہی کے لیے انھوں نے تمام متعلقہ افسروں کو ہدایت کر رکھی تھی کہ وہ اپنے محکمے اور علاقے کی تمام تر معلومات براہ راست گھر کے پتے پر انھیں روانہ کیا کریں۔ صوبے کے حالات کے بارے میں اس طرح کی رپورٹیں اور اپنے نام آنے والے تمام خطوط وہ اپنے ہاتھ سے کھولتے، براہ راست احکا م جاری کرتے اور ان احکامات پر ہونے والی پیش رفت سے ذاتی طور پر آگاہ رہتے۔

اس مقصد کے لیے انھوں نے ذاتی طور پر ایک نظام قائم کر رکھا تھا۔ ان کی کارکردگی اور حالات سے واقفیت سے حیران ہو کر لوگ ان سے سوال کیا کرتے کہ یہ سب آپ کیسے معلوم ہو جاتا ہے؟ وہ کہا کرتے کہ یہ باتیں مجھے میرا جن بتاتا ہے۔
سنہ 1965 کی جنگ اور اس سے پہلے آپریشن جبرالٹر اور گرینڈ سلام کے بارے میں ان کی رائے یہ تھی کہ یہ ایک سازش ہے جس میں بھٹو اور ان کے ساتھی ملوث ہیں۔ ان آپریشنوں اور جنگ کے بارے میں وہ سمجھتے تھے کہ ان کی وجہ سے ناصرف ملک نقصان میں رہے گا بلکہ ایوب خان کا اقتدار بھی کمزور ہو جائے گا۔

ایوب خان کے سیکریٹری اطلاعات الطاف گوہر نے لکھا ہے کہ جنگ کے زمانے میں نواب صاحب منظر سے غائب ہو گئے تھے لیکن دوسری طرف اس کے بالکل متضاد اطلاعات بھی موجود ہیں۔

ان کے سوانح نگار نے جنرل شیر علی کے حوالے سے لکھا ہے کہ ایک بار وہ ہیلی کاپٹر میں جنگی زدہ علاقے کا دورہ کر رہے تھے کہ زمین پر انھوں نے ایک سویلین کو فوجیوں کے ساتھ باتیں کرتے دیکھا۔ یہ منظر حیرت انگیز تھا، لہٰذا انھوں نے ہیلی کاپٹر اتروا کر صورت حال کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا۔ معلوم ہوا کہ وہ تو نواب آف کالا باغ ہیں جو فوجیوں میں بسکٹ تقسیم کر رہے تھے۔

سوجی، السی اور دیسی گھی سے بنے ہوئے یہ بسکٹ انھوں نے خصوصی طور پر اپنے گھر میں تیار کرائے تھے۔ جنرل شیر علی یہ دیکھ کر متاثر ہوئے اور انھوں نے کہا کہ قوم کو آپ جیسے لیڈروں ہی کی ضرورت ہے۔ نواب صاحب نے جواب دیا کہ جنگیں ہمیشہ قوم کے جذبے سے لڑی جاتی ہیں اور میں بھی اسی قوم کا ایک فرد ہوں۔

اسی جنگ کے دوران ایوب خان نے انھیں مشورہ دیا کہ حفاظت کے پیش نظر وہ گورنر ہاؤس سے ملٹری ہاؤس میں منتقل ہو جائیں جس پر انھوں نے کہا کہ جوانوں کو محاذ پر بھیج کر میں خود چھپ کر بیٹھ جاؤں، یہ میرے لیے ممکن نہیں۔

یہ جنگ کے بالکل ابتدائی دنوں کی بات ہے کہ انھوں نے تاجروں کو طلب کیا، یہ لوگ گورنر ہاؤس کے دربار ہال میں جمع ہو گئے جہاں وسط میں صرف ایک کرسی رکھی تھی۔

تاجروں کا وفد ہال میں آ کر کھڑا ہوا تو کچھ دیر کے بعد وہ ہال میں آئے اور وہاں موجود واحد کرسی پر بیٹھ کر کہا کہ لمبی چوڑی گفتگو کی گنجائش نہیں یہ جنگ کا زمانہ اور قربانی کا وقت ہے۔ اگر کسی نے اشیائے ضرورت ذخیرہ کیں یا مقررہ نرخ سے زائد پر فروخت کیں تو ذخیرہ شدہ سامان عوام میں تقسیم اور دکان مستقل طور پر سیل کر دی جائے گی۔

جنگ ہی کے دنوں میں ایک بار سکیورٹی کے بغیر وہ بازار پہنچ گئے۔ انھیں اطلاع ملی تھی کہ کوئی تاجر مقررہ نرخ سے زائد پر گندم فروخت کر رہا ہے۔ اسے کہا تم شاید یہ سمجھتے ہوگے کہ امیر محمد جنگ میں مصروف ہے اور تم من مانی کر لو گے؟ میری مونچھ کو تاؤ آنے سے پہلے نرخ اپنی جگہ پر آ جائیں ورنہ ایسی سزا دوں گا کہ دنیا یاد کرے گی، اس کے بعد پورے صوبے سے ایسی کوئی شکایت نہ آئی۔

سنہ 1962 میں ایوب خان نے جب کنونشن لیگ بنائی تو رکنیت کا فارم بھر کر سب سے پہلے خود انھوں نے ہی اس کی رکنیت اختیار کی۔ اس موقع پر معروف سیاسی راہنما راؤ عبدالجبار نے نواب صاحب سے کہا کہ آپ بھی فارم بھر دیں۔ انھوں نے یہ سنا، مسکرائے اور کہا کہ مجھے اس گندگی میں نہ گھسیٹیں۔
ایوب خان نے یہ بات سن لی اور کہا کہ نواب صاحب، یہ آپ نے کیا کہا؟ وہ پھر مسکرائے اور کہا ’جناب صدر، گورنر تو سرکاری ملازم ہوتا ہے، اسے سیاست سے دور رہنا چاہیے۔‘

ایوب خان یہ سن کر خاموش ہو گئے ورنہ وہ بھی جانتے تھے کہ نواب صاحب کے انکار کا مقصد کیا تھا، نواب صاحب کو مسلم لیگ میں پھوٹ ڈال کر ایک نئی جماعت کا قیام ناپسند تھا۔ نواب صاحب کنونشن لیگ میں تو اگرچہ شریک نہ ہوئے لیکن تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ صدارتی انتخاب میں بانی پاکستان کی ہمشیرہ فاطمہ جناح کو شکست سے دوچار کرنے کے جوڑ توڑ میں وہ پوری طرح شریک رہے۔

دل و جان سے ایوب خان کا ساتھ دینے کے باوجود وہ ان سے برملا اختلاف بھی کر لیا کرتے تھے۔ سنہ 1963 میں جماعت اسلامی کے ایک جلسے میں فائرنگ ہو گئی جس میں ایک کارکن اللہ بخش جاں بحق ہو گئے۔

ان کے سوانح نگار کے مطابق اس واقعے نے انھیں الجھن میں مبتلا کر دیا تھا کیونکہ مولانا مودودی سے ان کے دوستانہ تعلقات تھے، چنانچہ بانی جماعت کے نام ایک خط میں انھوں لکھا کہ اس طرح کی حرکتیں نئے سیاست دانوں (اشارہ ایوب خان کی طرف تھا) کی ہیں، میرا یہ طریقہ کار نہیں۔
اس سلسلے میں انھوں نے ایوب خان کو بھی ایک خط میں لکھا کہ حزب اختلاف کے ساتھ ایسے سلوک سے قانون کی دھجیاں اڑ جائیں گی۔

جماعت اسلامی کی تاریخ کے ماہر پروفیسر سلیم منصور خالد اس کہانی سے اتفاق نہیں کرتے۔ وہ مولانا مودودی کی ایک تقریر کا حوالہ دیتے ہیں جس میں انھوں نے نواب صاحب کا نام لے کر کہا تھا کہ انھوں نے دھمکی دی تھی کہ وہ جماعت کا ایسا حشر کریں گے کہ لوگ مصر کے صدر ناصر کے ہاتھوں اخوان المسلمون پر مظالم بھول جائیں گے۔
جماعت کے سابق امیر میاں طفیل محمد نے بھی پروفیسر صاحب کو ایک انٹرویو میں انکشاف کیا تھا کہ اس زمانے کے حکمران چاہتے تھے کہ جماعت اسلامی کو ردعمل میں مبتلا کر کے احتجاج پر مجبور کیا جائے تاکہ اس کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔ اس اختلاف کے باوجود پروفیسر خالد تصدیق کرتے ہیں نواب صاحب مولانا کی کتابوں کے مستقل قاری اور ان کے تحقیقی مجلے ’ترجمان القرآن‘ کے خریدار تھے۔

ایوب خان سے اختلافات اور گورنر مغربی پاکستان کے منصب سے استعفیٰ ایک ایسا واقعہ ہے جس سے نواب کالاباغ کے زوال کی ابتدا ہوئی۔ دونوں راہنماؤں کے درمیان کشیدگی کی ابتدا اُس واقعے سے ہوئی جب نواب صاحب نے ایوب خان کو کراچی میں گوہر ایوب کی سیاسی و غیر سیاسی سرگرمیوں کی طرف متوجہ کیا جس پر ایوب خان نے جھنجھلا کر کہا کہ کیا میری اولاد کو پاکستان میں رہنے کا کوئی حق نہیں۔

دوسرا واقعہ ان کے علاقے کی ایک خاتون کے اغوا کا تھا جس میں ایوب خان کے عزیز ملوث تھے۔ نواب صاحب نے یہ بات براہ راست ایوب خان سے کہی۔ کچھ دنوں کے بعد لڑکی تو واپس آ گئی لیکن دونوں خاندانوں کے درمیان سرد جنگ شروع ہو گئی۔

اس سیاسی اتحاد کو سب سے بڑی زک کراچی کے ایک ضمنی انتخاب سے پہنچی جس میں ایوب خان کے امیدوار حبیب اللہ خان تھے جب کہ نواب صاحب بلوچستان کے قوم پرست راہنما میر غوث بخش بزنجو کی حمایت کر رہے تھے، بزنجو صاحب انتخاب جیت گئے جس سے ایوب خان کو بہت رنج پہنچا، اس کے بعد ان دونوں کے درمیان دوری بڑھتی چلی گئی اور نواب صاحب اس نتیجے پر پہنچے کہ انھیں حکومت سے علیحدہ ہو جانا چاہیے۔

الطاف گوہر لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ ایوان صدر میں ایوب خان کے ٹیلی ویژن انٹرویو کے لیے کیمرے لگائے گئے۔ایوب خان ایک ایسی جگہ پر بیٹھنے والے تھے جس کے پس منظر میں نواب صاحب کی تصویر بھی آتی۔ نواب صاحب چونکہ اس وقت تک مستعفیٰ ہو چکے تھے، اس لیے ان کی تصویر ہٹا دی گئی۔

ایوب خان نے جب یہ دیکھا کہ تصویر اپنی جگہ پر نہیں تو تصویر اپنی جگہ پر رکھنے کی ہدایت کی، اس موقع پر دھیمی آواز میں انھوں نے ایک جملہ کہا ’تنداں ٹٹیاں جڑدیاں نئیں‘ (ٹوٹے ہوئے رشتے دوبارہ استوار نہیں ہوتے)۔

ایک طرف نواب آف کالاباغ کے بارے میں ایوب خان کا یہ رویہ تھا دوسری طرف ان ہی کے ایما پر گورنر جنرل موسیٰ خان ریٹائرڈ نے ضلعی انتظامیہ، خاص طور پر پولیس کو یہ ہدایت کر دی تھی کہ ان کے کا م نہ کیے جائیں اور انھیں پروٹوکول تو بالکل نا دیا جائے۔ گویا نواب آف کالا باغ کو سیاسی طور پر غیر مؤثر کرنے کے لیے منظم طریقے سے کام شروع کر دیا گیا۔

نواب صاحب کے قتل کے بعد صورتحال بدل گئی۔ ان کے خاندان کی گرفت اگرچہ کالا باغ کی سیاست پر تادیر برقرار رہی لیکن ان کے مخالفین مزید متحرک اور منظم ہو گئے، نواب صاحب کے زمانے میں جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔

کالاباغ کے نواب زادگان کے خلاف سب سے مؤثر سیاسی تبدیلی اس علاقے میں پیپلز پارٹی کے قیام کی صورت میں رونما ہوئی۔ نواب زادگان نے اعلان کیا کہ اگر یہاں کسی نے پیپلز پارٹی کا جھنڈا لہرایا تو اسے سبق سکھا دیا جائے گا لیکن بعد میں وہ خود ہی پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے۔ اس موقع پر پیپلز پارٹی کے پرانے ارکان نے اعلان کیا کہ وہ ان لوگوں کی پارٹی میں شمولیت کے باوجود ان کے خلاف جدوجہد جاری رکھیں گے۔

سنہ 1976 میں نواب زادگان کے خلاف اس عوامی لہر کی شدت میں بتدریج اضافہ ہوا جس کا پہلا بڑا سیاسی نتیجہ سنہ 1985 کے غیر جماعتی انتخابات میں سامنے آیا۔ ان انتخابات میں نواب صاحب کے صاحبزادے نواب زادہ مظفر خان کے مقابلے میں مقبول خان نیازی بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے۔

سنہ 1988 کے انتخابات میں جمعیت علمائے پاکستان کے سیکریٹری جنرل مولانا عبدالستار خان نیازی کی کامیابی سے نوابزادگان کی سیاسی اہمیت میں مزید کمی ہوگئی۔ کالاباغ کے اس طاقتور خانوادے کے خلاف رائے عامہ کو بیدار کرنے میں ایک مقامی تنظیم ’بغورچی محاذ‘ نے بھی اہم کردار ادا کیا۔

سیاسی زوال کے اس وقفے کے بعد سنہ 2002 کے انتخابات میں یہ خاندان ایک بار پھر ابھر کر سامنے آیا جب نواب صاحب کی پوتیاں عائلہ ملک اور سمیرا ملک قومی اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں، ان کے بعد نواب صاحب کا ایک پڑنواسہ بھی سنہ 2013 کی قومی اسمبلی کا رکن منتخب ہوا۔

نواب آف کالا باغ امیر محمد خان کا خاندان زوال کے اس دورانئے کے بعد بساط سیاست پر ایک بار پھر نمایاں ہے لیکن نواب صاحب کے زمانے کو لوگ اب بھی الف لیلوی داستانوں کی طرح یاد کرتے ہیں جب شام ڈھلے ان کے خاندان کی خواتین گھر سے نکلتیں تو روشنیاں گل کر دی جاتیں، ڈھنڈورچی ڈھول بجاتا ہوا نکلتا اور مرد راستے کی طرف پیٹھ کر کے کھڑے ہو جاتے تاکہ نوابوں کے خاندان کی عورتوں پر کسی غیر مرد کی نظر نہ پڑ سکے۔

کہا جاتا کہ حکم عدولی کرنے والوں کی کھال تک کھنچوا لی جاتی تھی۔

لوگوں کو بوڑھ والے بنگلے کی رونقیں بھی اب تک یاد ہیں جہاں نواب صاحب کچہری لگاتے اور فیصلے کیا کرتے۔ اس دوران ان کے مصاحبین اور کارندے حسب مرتبہ خاموش بیٹھے یا کھڑے رہا کرتے۔ مزاج شغل میلے کی طرف مائل ہوتا تو کچہری میں ہی ریچھ کتے کی لڑائی برپا کی جاتی لیکن ریچھ اور کتا دونوں ہی اشرف المخلوقات میں سے چنے جاتے۔

ضرورت مند براہ راست سوال نہ کرتے، ان کے کارندوں کے ساتھ کھڑے ہو کر گانا شروع کر دیتے، نواب صاحب سمجھ جاتے، مسکراتے اور کسی کو اشارہ کرتے ’اس کا منھ بند کر اوئے‘ سوالی کا گھر دانوں سے بھر جاتا۔ اب وہ باتیں کہانیاں بن چکیں، خواب و خیال ہو گئیں۔

Want your school to be the top-listed School/college in Dera Ghazi Khan?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Website

Address

Basti Birmani, Choti Zareen D G Khan
Dera Ghazi Khan