23/09/2026
جب دانش ابھی دانش نہیں، ایک خواب ہوا کرتا تھا
کیوں نہ آج اردو میں بات کی جائے، شاید اس لیے کہ کچھ یادیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں دوسری زبان میں بیان کیا جا سکتا ہے، مگر ان کی روح منتقل نہیں ہوتی۔ کچھ قصے الفاظ سے زیادہ کیفیت ہوتے ہیں، اور کچھ زمانے گزر تو جاتے ہیں، مگر انسان کے اندر کہیں ٹھہر جاتے ہیں۔
دانش کے ابتدائی دنوں کو جن لوگوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے، وہ جانتے ہیں کہ وہ کیسا دور تھا۔ آج جب دانش ایک تناور درخت کی صورت کھڑا ہے تو شاید نئی نسل کے لیے یہ تصور کرنا بھی مشکل ہو کہ کبھی یہاں صرف ایک پودا تھا، جس کے گرد نہ اتنی عمارتیں تھیں، نہ اتنی رونق، نہ وہ چہل پہل، اور نہ وہ سہولتیں جنہیں آج ہم معمول سمجھتے ہیں۔
2013 کے آس پاس کا وہ زمانہ بھی عجیب تھا۔ پرنسپل لیفٹیننٹ کرنل افتخار احمد صاحب ہوا کرتے تھے۔ ایک باوقار، رعب دار اور ایسی شخصیت جن کی موجودگی ہی کافی ہوتی تھی کہ ماحول خود بخود سنجیدہ ہو جائے۔
تب سکول کے گراؤنڈز میں ہریالی کے بجائے زیادہ تر ریت ہوا کرتی تھی۔ ہاسٹل نمبر 2 زیرِ تعمیر تھا، جس میں بعد کے زمانے میں لیاقت اور ٹیپو ہاؤس آباد ہوئے۔ صوبیدار ریاض صاحب مالیوں کی شام کی کلاس لیا کرتے تھے اور خود بھی ہاسٹل کے ایک کونے میں دو کمروں میں مقیم تھے۔ آج سوچیں تو یوں لگتا ہے جیسے ہم کسی ادارے کے ابتدائی صفحات نہیں بلکہ اس کی بنیادوں پر لکھی ہوئی ایک ایسی داستان کا حصہ تھے، جس کا انجام ہمیں معلوم ہی نہیں تھا۔
کبھی جمعرات یا جمعے کے روز سکول کے سامنے والے گراؤنڈ میں PT صاحب بچوں کو کاغذ اور کچرا اٹھانے پر لگا دیتے۔ تب شاید ہمیں یہ محض ایک حکم لگتا تھا، مگر آج سمجھ آتا ہے کہ وہ چھوٹی چھوٹی مشقتیں دراصل ذمہ داری، نظم اور اپنے ماحول سے تعلق سکھانے کے طریقے تھے۔
ہاسٹل میں نماز کے لیے ایک صلات کمیٹی بھی ہوا کرتی تھی، جس میں بچے بغیر کسی معاوضے کے اپنی ذمہ داریاں نبھاتے تھے۔ شاید ہمیں تب معلوم نہیں تھا کہ ان معمولی سے کاموں میں بھی ایک پورا معاشرتی سبق چھپا ہوا ہے: کسی ادارے کو صرف عمارتیں نہیں بناتیں، لوگ بناتے ہیں۔
اور پھر وہ ابتدائی دنوں کی چھوٹی چھوٹی خوشیاں...
بریک ٹائم میں Maza جوس کا پیکٹ مل جانا۔
گن کر رکھے ہوئے Super بسکٹ۔
اور اگر کبھی کوئی بسکٹ بچ جاتا اور اتفاق سے ہمارے ہاتھ لگ جاتا تو گویا اس دن قسمت نے خصوصی مہربانی کی ہوتی۔
آج کے بچوں کو شاید یہ سب معمولی لگے، مگر ہمیں معلوم ہے کہ خوشی کی قیمت ہمیشہ بڑی چیز نہیں ہوتی۔ کبھی ایک جوس کا پیکٹ بھی پورے دن کو خوبصورت بنانے کے لیے کافی ہوتا ہے۔
ہاسٹل بوائے راہب اور شیراز بھی اسی دور کی یادوں کا حصہ ہیں۔ وہ زمانہ جب انہیں بچوں کو مارنے کا اختیار بھی حاصل تھا، اور پھر وقت نے ایک دن وہ اختیار ان سے لے لیا۔ ہاسٹل میں میٹرن شیبا ہوا کرتی تھیں جو بچوں کے ناخن تک چیک کیا کرتی تھیں۔ آج کے دور میں شاید یہ سب کسی پرانی فلم کے مناظر لگیں، مگر ہمارے لیے یہ ہماری روزمرہ زندگی تھی۔
تب کوئی TV Room نہیں تھا۔ ہاسٹل میں ایک IT Lab بھی ہوا کرتی تھی، جس میں جانے کا خواب تو بہت دیکھا، مگر وہ خواب بھی عجیب نکلا۔ وقت گزرتا گیا، IT Lab نے بالآخر Store Room کا روپ دھار لیا اور ہماری امیدیں بھی شاید اسی کے ساتھ کسی شیلف پر رکھ دی گئیں۔
کمپیوٹرز پر اس وقت نذیر صاحب کا راج ہوا کرتا تھا۔
اور پھر شخصیتوں کا ایک ایسا سلسلہ تھا جس کے بغیر وہ دور مکمل ہی نہیں ہوتا۔
شہزادہ علی رضا اپنی شخصیت کے باعث الگ ہی چرچے رکھتے تھے۔
اور سکول کے اس وقت کے محبوب ترین لوگوں میں، جو بعد کے برسوں میں جا کر شاید اور بھی زیادہ مقبول ہوئے، ڈپٹی ہیڈ جمشید رزاق صاحب کا نام نمایاں تھا۔
وہ جب Spoken English کا لیکچر دینے آتے تو کچھ دیر کے لیے واقعی محسوس ہوتا کہ ہم حسن ابدال یا چاند باغ جیسے کسی بڑے اور مشہور ادارے میں پڑھ رہے ہیں۔ ان کی لکھی ہوئی تقریروں کا اپنا ہی ایک سحر تھا۔
اور پھر وہ تقریریں...
انعام فرید، شاہد سرفراز، سعد الرحمن کی "مور رقص کرتے ہیں"،
اور انوار رحیم کی "لیاری میں گولی کی قیمت تیس روپے" جیسی تقاریر آج بھی یادوں کے کسی کونے میں محفوظ ہیں۔
پھر ساغر صاحب کا "دل دل پاکستان، جان جان پاکستان"،
عادل نذیر کا گانا، جس کے بول شاید آج یاد نہ ہوں مگر ساز آج بھی کہیں اندر بجتے ہیں،
اور رؤف خالد کی وہ سریلی آواز جس میں وہ گاتے تو قاری یاسین حیدر صاحب اکثر ان کی "چربی" اتار دیا کرتے تھے۔
کچھ لوگ وقت گزرنے کے بعد یاد نہیں آتے، بلکہ وقت گزرنے کے بعد زیادہ یاد آتے ہیں۔
مشہور ویٹر موسیٰ،
مشہور Sweeper WIFI، جو بعد میں ایک حادثے میں ہم سے جدا ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں جگہ دے۔
اور پھر اس زمانے کی سب سے mysterious اور "arrogant" شخصیت، میجر صاحب۔
ان کا نام ہمیں شاید دسویں جماعت میں جا کر معلوم ہوا، جب وہ ایک تقریب میں تشریف لائے اور باقاعدہ ان کا نام پکارا گیا۔ اس سے پہلے ان کا دیدار کبھی کبھار صوبیدار ریاض صاحب کی کلاس لیتے ہوئے ہو جایا کرتا تھا۔
پرانے PA رضا بھائی بھی یادوں میں کہیں اسی طرح محفوظ ہیں، جو ملازمت کے ساتھ ساتھ اپنی ڈگری بھی مکمل کر رہے تھے۔
اور تنصر بھائی اور عمار کے کیمرے...
ان کے کھینچے ہوئے وہ فوٹو جن میں ہم تقریباً کبھی اچھے نہیں لگے، سوائے ان تصاویر کے جو امتحانات کے لیے بنوائی جاتی تھیں۔ شاید کیمرہ خراب نہیں تھا، شاید ہم ہی اس عمر میں فوٹو جینک ہونے کے قابل نہیں تھے۔
تب دانش، دانش نہیں تھا۔
دانش ایک خواب تھا۔
دانش ایک تجربہ تھا۔
دانش ایک چھوٹی سی دنیا تھی۔
اور شاید ہمارے لیے دانش، دانش سے بڑھ کر ایک جنت تھا۔
پھر ساجد صاحب کا رعب و دبدبہ تھا۔ ان کی آواز سنتے ہی ہاسٹل پر ایسی خاموشی اترتی کہ جیسے کسی نے وقت کو بھی روک دیا ہو۔
ان کا وہ جملہ آج بھی کانوں میں گونجتا ہے:
"یہ ہاسٹل میں ہسل اینڈ بسل نہیں ہونی چاہئے..."
اور پھر اجمل صاحب کو کیسے بھلایا جا سکتا ہے؟
کم مارنے کے باوجود آخری دنوں تک ایسا رعب قائم رہا کہ ان سے مذاق کرنے کا خیال بھی انسان اپنے ذہن میں آنے سے پہلے واپس بھیج دیتا تھا۔
خالق جلبانی صاحب اس دور کے سب سے diplomatic لوگوں میں سے تھے۔ نمبروں کی ریل پیل میں ان کا کردار شاید تاریخ کبھی پوری طرح بیان نہ کر سکے۔ بدرالدین مغیرہ جیسے کرخت انسان کو بھی اپنی مٹھی میں رکھنے کا ہنر ہر کسی کے بس کی بات نہیں تھی۔
اور پھر PT احمد صاحب کی چپیڑیں...
جن سے تقریباً ہر شخص ڈرتا تھا۔
مگر شاید کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو آپ کو صرف ڈسپلن نہیں سکھاتے، وہ آپ کے اندر چھپی ہوئی کسی کمزوری کو بھی خاموشی سے ختم کر دیتے ہیں۔
مغرب کے وقت وہ میرے کمرے میں آتے اور مجھے اپنے ساتھ لے جاتے۔ انہوں نے مجھے سکول کے Discipline سے ایک خاص حد تک آزادی بھی دے رکھی تھی۔ شاید اسی وجہ سے آج بھی میرے اندر احساسِ کمتری کا خانہ خالی ہے۔
اور اس خالی خانے میں ان کا حصہ شاید ہمیشہ رہے گا۔
پھر اسد مجید صاحب...
جن کے ایک اشارے سے بچے سنبھل جاتے تھے۔
ان کے بارے میں مشہور تھا کہ جس دن ہاسٹل میں بریانی ہوگی، ان کی آمد کے امکانات بھی روشن ہوں گے۔ ہماری لائبریری کے دو لیکچر تو خاص طور پر مشہور تھے۔ ان دنوں ہم ان لیکچرز کے بجائے لائبریری کو تالا لگا کر بریانی کی طرف جاتے دیکھ کر بہت کوستے تھے۔
وقت گزرا۔
بریانی کم ہوگئی۔
اور عجیب بات ہے کہ بریانی کے ساتھ ساتھ ہماری لائبریری سے انسیت بھی کم ہوتی گئی۔
شاید عمر کے ساتھ انسان بہت سی چیزیں کھو دیتا ہے، اور اسے خبر بھی نہیں ہوتی کہ وہ کب کھوئیں۔
پھر بھی بہت سی باتیں ایسی ہیں جو آج بھی ان کہی ہیں۔
کچھ باتیں زبان تک آ کر واپس چلی جاتی ہیں۔
کچھ قصے یاد آتے ہیں تو ہنسی بھی آتی ہے اور دل بھی بھاری ہو جاتا ہے۔
کچھ لوگوں کا ذکر کیا جائے تو احترام درمیان میں آ کھڑا ہوتا ہے۔
اور کچھ یادوں پر وقت کا اتنا غبار جم چکا ہے کہ انہیں صاف کرنے کی ہمت ہی نہیں ہوتی۔
قاری یاسین حیدر صاحب کا وہ جملہ بھی تو یاد ہے:
"وقت کی قلت ہے۔"
حالانکہ وہ اس وقت تک تقریباً ایک گھنٹہ تقریر کر چکے ہوتے تھے۔
اور عجیب بات یہ تھی کہ ہم پھر بھی بے تابی سے سنتے رہتے تھے۔
شاید اس لیے کہ وہ صرف تقریریں نہیں تھیں، وہ ہمارے بچپن اور جوانی کے درمیان بننے والا ایک پل تھیں۔
پھر وقت گزرتا گیا۔
وہ چھوٹا سا پودا جسے ہم نے ریت میں کھڑا دیکھا تھا، آہستہ آہستہ بڑا ہونے لگا۔
شاخیں نکلیں۔
عمارتیں بنیں۔
گراؤنڈز بدل گئے۔
ہاسٹل بدل گئے۔
لوگ بدل گئے۔
چہرے بدل گئے۔
عہدے بدل گئے۔
اور شاید ہم خود بھی بدل گئے۔
دانش ایک بڑا درخت بن گیا۔
مگر درخت جب بڑا ہوتا ہے تو اس کے سائے میں کھڑے لوگ ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے۔
پھر روایتی سیاستیں آئیں۔
کرداروں کے رویے بدلنے لگے۔
طلبہ کے درمیان وہ فاصلے پیدا ہوئے جو کبھی سوچے بھی نہیں تھے۔
ایک دوسرے کے لیے محبت کی جگہ کبھی کبھی نفرت نے لے لی۔
اور پھر زندگی نے اپنے اصل امتحان شروع کیے۔
فنانشل زندگی کی تلخیاں، ذاتی مصروفیات، اپنے اپنے مسائل، اپنی اپنی جنگیں...
وقت سب کو ایک میز پر بٹھانے سے قاصر ہو گیا۔
اور شاید اب کبھی بٹھا بھی نہ سکے۔
زندگی کا سب سے بڑا المیہ یہی تو ہے کہ جن لوگوں کے ساتھ ہم ایک وقت میں روز جیتے ہیں، ایک دن انہی لوگوں سے ملنے کے لیے ہمیں وقت نکالنا پڑتا ہے۔
کبھی ہم ایک ہی ہاسٹل میں رہتے تھے،
آج ایک دوسرے کے شہروں تک کا راستہ معلوم نہیں۔
کبھی ایک ہی گراؤنڈ میں کھڑے ہوتے تھے،
آج ایک دوسرے کی زندگیوں میں صرف چند تصویریں باقی ہیں۔
کبھی ایک بسکٹ بھی بانٹ کر کھا لیا کرتے تھے،
آج اپنی اپنی زندگیوں کی قیمتیں الگ الگ ادا کر رہے ہیں۔
مگر پھر بھی...
جہاں بھی ہیں، خدا کی حفاظت میں رہیں۔
خوب ترقی کریں۔
خوش رہیں۔
اپنوں کے کام آئیں۔
اور زندگی جہاں بھی لے جائے، اپنے اندر اس پرانے دانش کا کچھ حصہ ضرور بچا کر رکھیں۔
کیونکہ زندگی کا یہ تھکا دینے والا سفر ابھی بہت کچھ آزمانے والا ہے۔
ہم میں سے کچھ لوگ شاید منزل تک پہنچ جائیں گے، کچھ راستوں میں کہیں رہ جائیں گے، کچھ کامیابیوں کے شور میں گم ہو جائیں گے، اور کچھ خاموشی سے اپنی اپنی جنگیں لڑتے رہیں گے۔
لیکن اگر اس طویل سفر میں کبھی تھکن بہت بڑھ جائے، اگر دنیا بہت بے معنی لگنے لگے، تو شاید ہمیں صرف اتنا یاد کرنا چاہیے کہ ہم کبھی ایک ایسے وقت کا حصہ تھے جب دانش ابھی دانش نہیں تھا۔
وہاں ریت تھی۔
کچھ زیرِ تعمیر عمارتیں تھیں۔
کچھ سخت مزاج استاد تھے۔
کچھ ڈانٹیں تھیں۔
کچھ چپیڑیں تھیں۔
کچھ تقریریں تھیں۔
کچھ گانے تھے۔
کچھ جوس کے پیکٹ تھے۔
گنے ہوئے بسکٹ تھے۔
اور بہت سے ایسے لوگ تھے جنہیں ہم اس وقت صرف اپنے روزمرہ کا حصہ سمجھتے تھے، مگر آج معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہماری زندگی کے ناقابلِ تکرار کردار تھے۔
ہمیں تب معلوم نہیں تھا کہ ہم تاریخ کا حصہ بن رہے ہیں۔
ہم صرف زندگی گزار رہے تھے۔
اور شاید یہی زندگی کی سب سے خوبصورت حقیقت ہے کہ انسان اپنے سب سے قیمتی لمحات کو جیتے وقت پہچان نہیں پاتا۔
آج پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ وقت کتنا غنی تھا۔
وہ لوگ کتنے اپنے تھے۔
وہ دن کتنے سادہ تھے۔
اور ہم خود کتنے خوش قسمت تھے کہ ہمیں معلوم ہی نہیں تھا کہ ہم خوش قسمت ہیں۔
اب دانش ایک بڑا درخت ہے۔
ہم اس کی مختلف شاخوں پر بکھرے ہوئے پرندوں کی طرح اپنی اپنی سمتوں میں اڑ چکے ہیں۔
کچھ واپس آتے ہیں۔
کچھ صرف خوابوں میں آتے ہیں۔
اور کچھ شاید کبھی واپس نہ آئیں۔
مگر اس درخت کی جڑوں میں ہماری آوازیں آج بھی کہیں موجود ہوں گی۔
ہماری ہنسی۔
ہماری شرارتیں۔
ہماری ڈانٹیں۔
ہماری تقریریں۔
ہماری دعائیں۔
اور وہ تمام ان کہے جذبات جنہیں وقت کبھی زبان نہ دے سکا۔
شاید یہی دانش کی اصل کہانی ہے۔
ایک ادارہ کیسے بنتا ہے، یہ کتابیں اور عمارتیں بتاتی ہیں۔
مگر ایک ادارہ انسان کے اندر کیا بناتا ہے، یہ صرف یادیں بتاتی ہیں۔
اور ہماری یادوں میں...
دانش آج بھی وہی ہے۔
وہی ریت۔
وہی ہاسٹل۔
وہی گراؤنڈ۔
وہی آوازیں۔
وہی لوگ۔
وہی بسکٹ۔
اور وہی ہم...
جو شاید وقت کے ہاتھوں بہت دور نکل آئے ہیں، مگر اندر کہیں اب بھی اسی پرانے دانش کے ایک کمرے میں بیٹھے ہیں اور شاید ہمیشہ بیٹھے رہیں گے۔