Daanish School Boys Dera Ghazi Khan

Daanish  School Boys Dera Ghazi Khan Daanish Boys School Dera Ghazi Khan is a free school in the Punjab. This school admit 100 students a

جب دانش ابھی دانش نہیں، ایک خواب ہوا کرتا تھاکیوں نہ آج اردو میں بات کی جائے، شاید اس لیے کہ کچھ یادیں ایسی ہوتی ہیں جنہ...
23/09/2026

جب دانش ابھی دانش نہیں، ایک خواب ہوا کرتا تھا

کیوں نہ آج اردو میں بات کی جائے، شاید اس لیے کہ کچھ یادیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں دوسری زبان میں بیان کیا جا سکتا ہے، مگر ان کی روح منتقل نہیں ہوتی۔ کچھ قصے الفاظ سے زیادہ کیفیت ہوتے ہیں، اور کچھ زمانے گزر تو جاتے ہیں، مگر انسان کے اندر کہیں ٹھہر جاتے ہیں۔

دانش کے ابتدائی دنوں کو جن لوگوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے، وہ جانتے ہیں کہ وہ کیسا دور تھا۔ آج جب دانش ایک تناور درخت کی صورت کھڑا ہے تو شاید نئی نسل کے لیے یہ تصور کرنا بھی مشکل ہو کہ کبھی یہاں صرف ایک پودا تھا، جس کے گرد نہ اتنی عمارتیں تھیں، نہ اتنی رونق، نہ وہ چہل پہل، اور نہ وہ سہولتیں جنہیں آج ہم معمول سمجھتے ہیں۔

2013 کے آس پاس کا وہ زمانہ بھی عجیب تھا۔ پرنسپل لیفٹیننٹ کرنل افتخار احمد صاحب ہوا کرتے تھے۔ ایک باوقار، رعب دار اور ایسی شخصیت جن کی موجودگی ہی کافی ہوتی تھی کہ ماحول خود بخود سنجیدہ ہو جائے۔

تب سکول کے گراؤنڈز میں ہریالی کے بجائے زیادہ تر ریت ہوا کرتی تھی۔ ہاسٹل نمبر 2 زیرِ تعمیر تھا، جس میں بعد کے زمانے میں لیاقت اور ٹیپو ہاؤس آباد ہوئے۔ صوبیدار ریاض صاحب مالیوں کی شام کی کلاس لیا کرتے تھے اور خود بھی ہاسٹل کے ایک کونے میں دو کمروں میں مقیم تھے۔ آج سوچیں تو یوں لگتا ہے جیسے ہم کسی ادارے کے ابتدائی صفحات نہیں بلکہ اس کی بنیادوں پر لکھی ہوئی ایک ایسی داستان کا حصہ تھے، جس کا انجام ہمیں معلوم ہی نہیں تھا۔

کبھی جمعرات یا جمعے کے روز سکول کے سامنے والے گراؤنڈ میں PT صاحب بچوں کو کاغذ اور کچرا اٹھانے پر لگا دیتے۔ تب شاید ہمیں یہ محض ایک حکم لگتا تھا، مگر آج سمجھ آتا ہے کہ وہ چھوٹی چھوٹی مشقتیں دراصل ذمہ داری، نظم اور اپنے ماحول سے تعلق سکھانے کے طریقے تھے۔

ہاسٹل میں نماز کے لیے ایک صلات کمیٹی بھی ہوا کرتی تھی، جس میں بچے بغیر کسی معاوضے کے اپنی ذمہ داریاں نبھاتے تھے۔ شاید ہمیں تب معلوم نہیں تھا کہ ان معمولی سے کاموں میں بھی ایک پورا معاشرتی سبق چھپا ہوا ہے: کسی ادارے کو صرف عمارتیں نہیں بناتیں، لوگ بناتے ہیں۔

اور پھر وہ ابتدائی دنوں کی چھوٹی چھوٹی خوشیاں...

بریک ٹائم میں Maza جوس کا پیکٹ مل جانا۔
گن کر رکھے ہوئے Super بسکٹ۔
اور اگر کبھی کوئی بسکٹ بچ جاتا اور اتفاق سے ہمارے ہاتھ لگ جاتا تو گویا اس دن قسمت نے خصوصی مہربانی کی ہوتی۔

آج کے بچوں کو شاید یہ سب معمولی لگے، مگر ہمیں معلوم ہے کہ خوشی کی قیمت ہمیشہ بڑی چیز نہیں ہوتی۔ کبھی ایک جوس کا پیکٹ بھی پورے دن کو خوبصورت بنانے کے لیے کافی ہوتا ہے۔

ہاسٹل بوائے راہب اور شیراز بھی اسی دور کی یادوں کا حصہ ہیں۔ وہ زمانہ جب انہیں بچوں کو مارنے کا اختیار بھی حاصل تھا، اور پھر وقت نے ایک دن وہ اختیار ان سے لے لیا۔ ہاسٹل میں میٹرن شیبا ہوا کرتی تھیں جو بچوں کے ناخن تک چیک کیا کرتی تھیں۔ آج کے دور میں شاید یہ سب کسی پرانی فلم کے مناظر لگیں، مگر ہمارے لیے یہ ہماری روزمرہ زندگی تھی۔

تب کوئی TV Room نہیں تھا۔ ہاسٹل میں ایک IT Lab بھی ہوا کرتی تھی، جس میں جانے کا خواب تو بہت دیکھا، مگر وہ خواب بھی عجیب نکلا۔ وقت گزرتا گیا، IT Lab نے بالآخر Store Room کا روپ دھار لیا اور ہماری امیدیں بھی شاید اسی کے ساتھ کسی شیلف پر رکھ دی گئیں۔

کمپیوٹرز پر اس وقت نذیر صاحب کا راج ہوا کرتا تھا۔

اور پھر شخصیتوں کا ایک ایسا سلسلہ تھا جس کے بغیر وہ دور مکمل ہی نہیں ہوتا۔

شہزادہ علی رضا اپنی شخصیت کے باعث الگ ہی چرچے رکھتے تھے۔
اور سکول کے اس وقت کے محبوب ترین لوگوں میں، جو بعد کے برسوں میں جا کر شاید اور بھی زیادہ مقبول ہوئے، ڈپٹی ہیڈ جمشید رزاق صاحب کا نام نمایاں تھا۔

وہ جب Spoken English کا لیکچر دینے آتے تو کچھ دیر کے لیے واقعی محسوس ہوتا کہ ہم حسن ابدال یا چاند باغ جیسے کسی بڑے اور مشہور ادارے میں پڑھ رہے ہیں۔ ان کی لکھی ہوئی تقریروں کا اپنا ہی ایک سحر تھا۔

اور پھر وہ تقریریں...

انعام فرید، شاہد سرفراز، سعد الرحمن کی "مور رقص کرتے ہیں"،
اور انوار رحیم کی "لیاری میں گولی کی قیمت تیس روپے" جیسی تقاریر آج بھی یادوں کے کسی کونے میں محفوظ ہیں۔

پھر ساغر صاحب کا "دل دل پاکستان، جان جان پاکستان"،
عادل نذیر کا گانا، جس کے بول شاید آج یاد نہ ہوں مگر ساز آج بھی کہیں اندر بجتے ہیں،
اور رؤف خالد کی وہ سریلی آواز جس میں وہ گاتے تو قاری یاسین حیدر صاحب اکثر ان کی "چربی" اتار دیا کرتے تھے۔

کچھ لوگ وقت گزرنے کے بعد یاد نہیں آتے، بلکہ وقت گزرنے کے بعد زیادہ یاد آتے ہیں۔

مشہور ویٹر موسیٰ،
مشہور Sweeper WIFI، جو بعد میں ایک حادثے میں ہم سے جدا ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں جگہ دے۔

اور پھر اس زمانے کی سب سے mysterious اور "arrogant" شخصیت، میجر صاحب۔

ان کا نام ہمیں شاید دسویں جماعت میں جا کر معلوم ہوا، جب وہ ایک تقریب میں تشریف لائے اور باقاعدہ ان کا نام پکارا گیا۔ اس سے پہلے ان کا دیدار کبھی کبھار صوبیدار ریاض صاحب کی کلاس لیتے ہوئے ہو جایا کرتا تھا۔

پرانے PA رضا بھائی بھی یادوں میں کہیں اسی طرح محفوظ ہیں، جو ملازمت کے ساتھ ساتھ اپنی ڈگری بھی مکمل کر رہے تھے۔

اور تنصر بھائی اور عمار کے کیمرے...

ان کے کھینچے ہوئے وہ فوٹو جن میں ہم تقریباً کبھی اچھے نہیں لگے، سوائے ان تصاویر کے جو امتحانات کے لیے بنوائی جاتی تھیں۔ شاید کیمرہ خراب نہیں تھا، شاید ہم ہی اس عمر میں فوٹو جینک ہونے کے قابل نہیں تھے۔

تب دانش، دانش نہیں تھا۔

دانش ایک خواب تھا۔
دانش ایک تجربہ تھا۔
دانش ایک چھوٹی سی دنیا تھی۔
اور شاید ہمارے لیے دانش، دانش سے بڑھ کر ایک جنت تھا۔

پھر ساجد صاحب کا رعب و دبدبہ تھا۔ ان کی آواز سنتے ہی ہاسٹل پر ایسی خاموشی اترتی کہ جیسے کسی نے وقت کو بھی روک دیا ہو۔

ان کا وہ جملہ آج بھی کانوں میں گونجتا ہے:

"یہ ہاسٹل میں ہسل اینڈ بسل نہیں ہونی چاہئے..."

اور پھر اجمل صاحب کو کیسے بھلایا جا سکتا ہے؟

کم مارنے کے باوجود آخری دنوں تک ایسا رعب قائم رہا کہ ان سے مذاق کرنے کا خیال بھی انسان اپنے ذہن میں آنے سے پہلے واپس بھیج دیتا تھا۔

خالق جلبانی صاحب اس دور کے سب سے diplomatic لوگوں میں سے تھے۔ نمبروں کی ریل پیل میں ان کا کردار شاید تاریخ کبھی پوری طرح بیان نہ کر سکے۔ بدرالدین مغیرہ جیسے کرخت انسان کو بھی اپنی مٹھی میں رکھنے کا ہنر ہر کسی کے بس کی بات نہیں تھی۔

اور پھر PT احمد صاحب کی چپیڑیں...

جن سے تقریباً ہر شخص ڈرتا تھا۔

مگر شاید کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو آپ کو صرف ڈسپلن نہیں سکھاتے، وہ آپ کے اندر چھپی ہوئی کسی کمزوری کو بھی خاموشی سے ختم کر دیتے ہیں۔

مغرب کے وقت وہ میرے کمرے میں آتے اور مجھے اپنے ساتھ لے جاتے۔ انہوں نے مجھے سکول کے Discipline سے ایک خاص حد تک آزادی بھی دے رکھی تھی۔ شاید اسی وجہ سے آج بھی میرے اندر احساسِ کمتری کا خانہ خالی ہے۔

اور اس خالی خانے میں ان کا حصہ شاید ہمیشہ رہے گا۔

پھر اسد مجید صاحب...

جن کے ایک اشارے سے بچے سنبھل جاتے تھے۔

ان کے بارے میں مشہور تھا کہ جس دن ہاسٹل میں بریانی ہوگی، ان کی آمد کے امکانات بھی روشن ہوں گے۔ ہماری لائبریری کے دو لیکچر تو خاص طور پر مشہور تھے۔ ان دنوں ہم ان لیکچرز کے بجائے لائبریری کو تالا لگا کر بریانی کی طرف جاتے دیکھ کر بہت کوستے تھے۔

وقت گزرا۔

بریانی کم ہوگئی۔

اور عجیب بات ہے کہ بریانی کے ساتھ ساتھ ہماری لائبریری سے انسیت بھی کم ہوتی گئی۔

شاید عمر کے ساتھ انسان بہت سی چیزیں کھو دیتا ہے، اور اسے خبر بھی نہیں ہوتی کہ وہ کب کھوئیں۔

پھر بھی بہت سی باتیں ایسی ہیں جو آج بھی ان کہی ہیں۔

کچھ باتیں زبان تک آ کر واپس چلی جاتی ہیں۔
کچھ قصے یاد آتے ہیں تو ہنسی بھی آتی ہے اور دل بھی بھاری ہو جاتا ہے۔
کچھ لوگوں کا ذکر کیا جائے تو احترام درمیان میں آ کھڑا ہوتا ہے۔
اور کچھ یادوں پر وقت کا اتنا غبار جم چکا ہے کہ انہیں صاف کرنے کی ہمت ہی نہیں ہوتی۔

قاری یاسین حیدر صاحب کا وہ جملہ بھی تو یاد ہے:

"وقت کی قلت ہے۔"

حالانکہ وہ اس وقت تک تقریباً ایک گھنٹہ تقریر کر چکے ہوتے تھے۔

اور عجیب بات یہ تھی کہ ہم پھر بھی بے تابی سے سنتے رہتے تھے۔

شاید اس لیے کہ وہ صرف تقریریں نہیں تھیں، وہ ہمارے بچپن اور جوانی کے درمیان بننے والا ایک پل تھیں۔

پھر وقت گزرتا گیا۔

وہ چھوٹا سا پودا جسے ہم نے ریت میں کھڑا دیکھا تھا، آہستہ آہستہ بڑا ہونے لگا۔

شاخیں نکلیں۔
عمارتیں بنیں۔
گراؤنڈز بدل گئے۔
ہاسٹل بدل گئے۔
لوگ بدل گئے۔
چہرے بدل گئے۔
عہدے بدل گئے۔
اور شاید ہم خود بھی بدل گئے۔

دانش ایک بڑا درخت بن گیا۔

مگر درخت جب بڑا ہوتا ہے تو اس کے سائے میں کھڑے لوگ ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے۔

پھر روایتی سیاستیں آئیں۔
کرداروں کے رویے بدلنے لگے۔
طلبہ کے درمیان وہ فاصلے پیدا ہوئے جو کبھی سوچے بھی نہیں تھے۔
ایک دوسرے کے لیے محبت کی جگہ کبھی کبھی نفرت نے لے لی۔
اور پھر زندگی نے اپنے اصل امتحان شروع کیے۔

فنانشل زندگی کی تلخیاں، ذاتی مصروفیات، اپنے اپنے مسائل، اپنی اپنی جنگیں...

وقت سب کو ایک میز پر بٹھانے سے قاصر ہو گیا۔

اور شاید اب کبھی بٹھا بھی نہ سکے۔

زندگی کا سب سے بڑا المیہ یہی تو ہے کہ جن لوگوں کے ساتھ ہم ایک وقت میں روز جیتے ہیں، ایک دن انہی لوگوں سے ملنے کے لیے ہمیں وقت نکالنا پڑتا ہے۔

کبھی ہم ایک ہی ہاسٹل میں رہتے تھے،
آج ایک دوسرے کے شہروں تک کا راستہ معلوم نہیں۔

کبھی ایک ہی گراؤنڈ میں کھڑے ہوتے تھے،
آج ایک دوسرے کی زندگیوں میں صرف چند تصویریں باقی ہیں۔

کبھی ایک بسکٹ بھی بانٹ کر کھا لیا کرتے تھے،
آج اپنی اپنی زندگیوں کی قیمتیں الگ الگ ادا کر رہے ہیں۔

مگر پھر بھی...

جہاں بھی ہیں، خدا کی حفاظت میں رہیں۔
خوب ترقی کریں۔
خوش رہیں۔
اپنوں کے کام آئیں۔
اور زندگی جہاں بھی لے جائے، اپنے اندر اس پرانے دانش کا کچھ حصہ ضرور بچا کر رکھیں۔

کیونکہ زندگی کا یہ تھکا دینے والا سفر ابھی بہت کچھ آزمانے والا ہے۔

ہم میں سے کچھ لوگ شاید منزل تک پہنچ جائیں گے، کچھ راستوں میں کہیں رہ جائیں گے، کچھ کامیابیوں کے شور میں گم ہو جائیں گے، اور کچھ خاموشی سے اپنی اپنی جنگیں لڑتے رہیں گے۔

لیکن اگر اس طویل سفر میں کبھی تھکن بہت بڑھ جائے، اگر دنیا بہت بے معنی لگنے لگے، تو شاید ہمیں صرف اتنا یاد کرنا چاہیے کہ ہم کبھی ایک ایسے وقت کا حصہ تھے جب دانش ابھی دانش نہیں تھا۔

وہاں ریت تھی۔

کچھ زیرِ تعمیر عمارتیں تھیں۔

کچھ سخت مزاج استاد تھے۔

کچھ ڈانٹیں تھیں۔

کچھ چپیڑیں تھیں۔

کچھ تقریریں تھیں۔

کچھ گانے تھے۔

کچھ جوس کے پیکٹ تھے۔

گنے ہوئے بسکٹ تھے۔

اور بہت سے ایسے لوگ تھے جنہیں ہم اس وقت صرف اپنے روزمرہ کا حصہ سمجھتے تھے، مگر آج معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہماری زندگی کے ناقابلِ تکرار کردار تھے۔

ہمیں تب معلوم نہیں تھا کہ ہم تاریخ کا حصہ بن رہے ہیں۔

ہم صرف زندگی گزار رہے تھے۔

اور شاید یہی زندگی کی سب سے خوبصورت حقیقت ہے کہ انسان اپنے سب سے قیمتی لمحات کو جیتے وقت پہچان نہیں پاتا۔

آج پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ وقت کتنا غنی تھا۔

وہ لوگ کتنے اپنے تھے۔

وہ دن کتنے سادہ تھے۔

اور ہم خود کتنے خوش قسمت تھے کہ ہمیں معلوم ہی نہیں تھا کہ ہم خوش قسمت ہیں۔

اب دانش ایک بڑا درخت ہے۔

ہم اس کی مختلف شاخوں پر بکھرے ہوئے پرندوں کی طرح اپنی اپنی سمتوں میں اڑ چکے ہیں۔

کچھ واپس آتے ہیں۔

کچھ صرف خوابوں میں آتے ہیں۔

اور کچھ شاید کبھی واپس نہ آئیں۔

مگر اس درخت کی جڑوں میں ہماری آوازیں آج بھی کہیں موجود ہوں گی۔

ہماری ہنسی۔

ہماری شرارتیں۔

ہماری ڈانٹیں۔

ہماری تقریریں۔

ہماری دعائیں۔

اور وہ تمام ان کہے جذبات جنہیں وقت کبھی زبان نہ دے سکا۔

شاید یہی دانش کی اصل کہانی ہے۔

ایک ادارہ کیسے بنتا ہے، یہ کتابیں اور عمارتیں بتاتی ہیں۔
مگر ایک ادارہ انسان کے اندر کیا بناتا ہے، یہ صرف یادیں بتاتی ہیں۔

اور ہماری یادوں میں...
دانش آج بھی وہی ہے۔
وہی ریت۔
وہی ہاسٹل۔
وہی گراؤنڈ۔
وہی آوازیں۔
وہی لوگ۔
وہی بسکٹ۔
اور وہی ہم...
جو شاید وقت کے ہاتھوں بہت دور نکل آئے ہیں، مگر اندر کہیں اب بھی اسی پرانے دانش کے ایک کمرے میں بیٹھے ہیں اور شاید ہمیشہ بیٹھے رہیں گے۔

22/09/2026

𝐋𝐞𝐭’𝐬 𝐬𝐞𝐞 𝐡𝐨𝐰 𝐰𝐞𝐥𝐥 𝐨𝐮𝐫 𝐃𝐚𝐚𝐧𝐢𝐬𝐡 𝐟𝐚𝐦𝐢𝐥𝐲 𝐫𝐞𝐦𝐞𝐦𝐛𝐞𝐫𝐬 𝐢𝐭𝐬 𝐨𝐰𝐧 𝐡𝐢𝐬𝐭𝐨𝐫𝐲!
𝐂𝐚𝐧 𝐚𝐧𝐲𝐨𝐧𝐞 𝐢𝐧 𝐭𝐡𝐞 𝐚𝐮𝐝𝐢𝐞𝐧𝐜𝐞 𝐭𝐞𝐥𝐥 𝐮𝐬 𝐰𝐡𝐞𝐧 𝐭𝐡𝐞 𝐯𝐞𝐫𝐲 𝐟𝐢𝐫𝐬𝐭 𝐀𝐧𝐧𝐮𝐚𝐥 𝐏𝐚𝐫𝐞𝐧𝐭𝐬’ 𝐃𝐚𝐲 𝐨𝐟 𝐃𝐚𝐚𝐧𝐢𝐬𝐡 𝐒𝐜𝐡𝐨𝐨𝐥 𝐁𝐨𝐲𝐬 𝐃𝐞𝐫𝐚 𝐆𝐡𝐚𝐳𝐢 𝐊𝐡𝐚𝐧 𝐰𝐚𝐬 𝐡𝐞𝐥𝐝 𝐚𝐧𝐝, 𝐦𝐨𝐫𝐞 𝐢𝐦𝐩𝐨𝐫𝐭𝐚𝐧𝐭𝐥𝐲, 𝐰𝐡𝐨 𝐰𝐚𝐬 𝐭𝐡𝐞 𝐏𝐫𝐢𝐧𝐜𝐢𝐩𝐚𝐥 𝐨𝐟 𝐨𝐮𝐫 𝐬𝐜𝐡𝐨𝐨𝐥 𝐢𝐧 𝐭𝐡𝐨𝐬𝐞 𝐡𝐢𝐬𝐭𝐨𝐫𝐢𝐜 𝐞𝐚𝐫𝐥𝐲 𝐝𝐚𝐲𝐬? 𝐋𝐞𝐭’𝐬 𝐬𝐞𝐞 𝐰𝐡𝐨 𝐜𝐚𝐧 𝐭𝐚𝐤𝐞 𝐮𝐬 𝐛𝐚𝐜𝐤 𝐭𝐨 𝐭𝐡𝐞 𝐯𝐞𝐫𝐲 𝐛𝐞𝐠𝐢𝐧𝐧𝐢𝐧𝐠!

𝐏𝐚𝐤𝐢𝐬𝐭𝐚𝐧 𝐂𝐫𝐢𝐜𝐤𝐞𝐭 𝐁𝐨𝐚𝐫𝐝 𝐃𝐢𝐬𝐭𝐫𝐢𝐛𝐮𝐭𝐞𝐬 𝐂𝐫𝐢𝐜𝐤𝐞𝐭 𝐊𝐢𝐭𝐬 𝐀𝐦𝐨𝐧𝐠 𝐃𝐚𝐚𝐧𝐢𝐬𝐡 𝐒𝐜𝐡𝐨𝐨𝐥 𝐁𝐨𝐲𝐬 𝐃𝐆𝐊 𝐂𝐫𝐢𝐜𝐤𝐞𝐭 𝐓𝐞𝐚𝐦The Pakistan Cricket Board (PC...
16/09/2026

𝐏𝐚𝐤𝐢𝐬𝐭𝐚𝐧 𝐂𝐫𝐢𝐜𝐤𝐞𝐭 𝐁𝐨𝐚𝐫𝐝 𝐃𝐢𝐬𝐭𝐫𝐢𝐛𝐮𝐭𝐞𝐬 𝐂𝐫𝐢𝐜𝐤𝐞𝐭 𝐊𝐢𝐭𝐬 𝐀𝐦𝐨𝐧𝐠 𝐃𝐚𝐚𝐧𝐢𝐬𝐡 𝐒𝐜𝐡𝐨𝐨𝐥 𝐁𝐨𝐲𝐬 𝐃𝐆𝐊 𝐂𝐫𝐢𝐜𝐤𝐞𝐭 𝐓𝐞𝐚𝐦

The Pakistan Cricket Board (PCB) distributed cricket kits among the talented students of Daanish School Boys Dera Ghazi Khan, supporting the promotion of sports and nurturing young cricketing talent.

On this occasion, Mr. Kaleem Farooqi and the District Education Officer (DEO), Dera Ghazi Khan, distributed the cricket kits among the boys. The students expressed their gratitude for this valuable initiative and showed great enthusiasm for enhancing their cricketing skills.

Mr. Tariq Rasheed, Sports Coach, represented Daanish School Boys Dera Ghazi Khan during the kit distribution ceremony.

The initiative reflects the shared commitment to promoting sportsmanship, physical fitness, discipline, teamwork, and sporting excellence among the students.

𝐀 𝐂𝐨𝐦𝐩𝐫𝐞𝐡𝐞𝐧𝐬𝐢𝐯𝐞 𝐌𝐨𝐜𝐤 𝐄𝐱𝐞𝐫𝐜𝐢𝐬𝐞 𝐨𝐧 𝐅𝐢𝐫𝐞 𝐅𝐢𝐠𝐡𝐭𝐢𝐧𝐠 & 𝐅𝐢𝐫𝐞 𝐄𝐱𝐭𝐢𝐧𝐠𝐮𝐢𝐬𝐡𝐢𝐧𝐠Today, 12th September 2026, a comprehensive Mock Exer...
12/09/2026

𝐀 𝐂𝐨𝐦𝐩𝐫𝐞𝐡𝐞𝐧𝐬𝐢𝐯𝐞 𝐌𝐨𝐜𝐤 𝐄𝐱𝐞𝐫𝐜𝐢𝐬𝐞 𝐨𝐧 𝐅𝐢𝐫𝐞 𝐅𝐢𝐠𝐡𝐭𝐢𝐧𝐠 & 𝐅𝐢𝐫𝐞 𝐄𝐱𝐭𝐢𝐧𝐠𝐮𝐢𝐬𝐡𝐢𝐧𝐠

Today, 12th September 2026, a comprehensive Mock Exercise on Fire Fighting and Fire Extinguishing was conducted in the hostel premises of Daanish School Boys Dera Ghazi Khan.

The core purpose of this practical exercise was to equip the senior students with the necessary knowledge, skills, and confidence to respond effectively to fire emergencies and other unforeseen situations.

The students of the senior-most class were practically briefed and trained on how to respond to a fire emergency, follow safety protocols, and use appropriate techniques for fire extinguishing.

Mr. Rashid and Mr. Zeeshan, senior members of Rescue 1122, along with their supportive team, rendered their valuable services and conducted the exercise in a highly professional and engaging manner.

All the students participated actively, attentively, and practically in the exercise. The mock drill proved to be a valuable learning experience and an important step towards developing a culture of safety, preparedness, and responsible response to emergencies.

𝐈𝐧𝐭𝐞𝐫𝐧𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧𝐚𝐥 𝐅𝐢𝐫𝐬𝐭 𝐀𝐢𝐝 𝐃𝐚𝐲 𝟐𝟎𝟐𝟔On 12th September 2026, a delegation from Rescue 1122 visited Daanish School Boys Dera G...
12/09/2026

𝐈𝐧𝐭𝐞𝐫𝐧𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧𝐚𝐥 𝐅𝐢𝐫𝐬𝐭 𝐀𝐢𝐝 𝐃𝐚𝐲 𝟐𝟎𝟐𝟔

On 12th September 2026, a delegation from Rescue 1122 visited Daanish School Boys Dera Ghazi Khan to conduct an informative session on First Aid, CPR, and the handling of minor injuries.

First Aid plays a vital role in saving lives during emergencies. This day is observed worldwide to highlight the importance of First Aid and to raise awareness about essential life-saving skills and timely assistance.

Mr. Zeeshan Sb., along with his dedicated team members, conducted a comprehensive and practical session for the students and staff. The participants were guided on basic First Aid techniques, Cardiopulmonary Resuscitation (CPR), and appropriate ways to manage minor injuries and emergency situations.

The session was highly informative and beneficial, equipping the students and staff with valuable skills that can help save lives in critical situations.

𝐈𝐧𝐭𝐞𝐫𝐧𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧𝐚𝐥 𝐋𝐢𝐭𝐞𝐫𝐚𝐜𝐲 𝐃𝐚𝐲 𝟐𝟎𝟐𝟔On 8th September 2026, International Literacy Day was celebrated at Daanish School Boys D...
09/09/2026

𝐈𝐧𝐭𝐞𝐫𝐧𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧𝐚𝐥 𝐋𝐢𝐭𝐞𝐫𝐚𝐜𝐲 𝐃𝐚𝐲 𝟐𝟎𝟐𝟔

On 8th September 2026, International Literacy Day was celebrated at Daanish School Boys Dera Ghazi Khan.

The session featured insightful presentations by:

- 𝐌𝐫. 𝐙𝐚𝐡𝐢𝐝 𝐌𝐨𝐡𝐲𝐮𝐝𝐢𝐧 (𝐃𝐞𝐩𝐮𝐭𝐲 𝐇𝐞𝐚𝐝): Delivered a comprehensive presentation on the importance of literacy.
- 𝐃𝐫. 𝐌𝐮𝐡𝐚𝐦𝐦𝐚𝐝 𝐇𝐚𝐬𝐡𝐢𝐦: Briefly explained the significance of International Literacy Day and its international scope.
- 𝐌𝐫. 𝐀𝐥𝐢 𝐑𝐚𝐳𝐚 𝐒𝐡𝐞𝐢𝐤𝐡: Shared valuable information on Computer Technology and Artificial Intelligence (AI) and their role in promoting literacy.
- 𝐌𝐫. 𝐙𝐚𝐢𝐧 𝐮𝐥 𝐀𝐛𝐢𝐝𝐞𝐞𝐧: Delivered an insightful presentation on how literacy can be enhanced and encouraged across the country.

𝐌𝐫. 𝐉𝐚𝐟𝐟𝐚𝐫 𝐇𝐮𝐬𝐬𝐚𝐢𝐧 𝐌𝐚𝐥𝐢𝐤 𝐚𝐧𝐝 𝐌𝐫. 𝐊𝐡𝐚𝐥𝐢𝐝 𝐇𝐮𝐬𝐬𝐚𝐢𝐧 graced the event with their esteemed presence.
Rana Sikandar Hayat
Afsar Shah
The Following

🇵🇰 Defence Day Celebration — A Tribute to the Spirit of Our Nation 🇵🇰On 6th September 2026, Daanish School Boys Dera Gha...
06/09/2026

🇵🇰 Defence Day Celebration — A Tribute to the Spirit of Our Nation 🇵🇰

On 6th September 2026, Daanish School Boys Dera Ghazi Khan commemorated Defence Day with immense passion, patriotic spirit, and national pride.

The celebration was beautifully enriched with heartfelt national songs performed by our dedicated teachers and talented students, filling the atmosphere with a deep sense of patriotism. The students also presented a powerful skit carrying a meaningful message for the young generation, highlighting the values of courage, sacrifice, unity, and love for the motherland.

It was truly a grand gathering filled with enthusiasm, emotion, and national spirit—a memorable occasion that reminded us that the strength of a nation lies in the character, unity, and dedication of its youth.

Salute to the heroes who defended our homeland. 🇵🇰
Long Live Pakistan! 🇵🇰

𝐀𝐧 𝐄𝐱𝐜𝐮𝐫𝐬𝐢𝐨𝐧 𝐁𝐞𝐲𝐨𝐧𝐝 𝐭𝐡𝐞 𝐂𝐥𝐚𝐬𝐬𝐫𝐨𝐨𝐦 — 𝐋𝐞𝐚𝐫𝐧𝐢𝐧𝐠, 𝐄𝐱𝐩𝐥𝐨𝐫𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧 & 𝐑𝐞𝐜𝐫𝐞𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧At Daanish School Boys Dera Ghazi Khan, education ...
06/09/2026

𝐀𝐧 𝐄𝐱𝐜𝐮𝐫𝐬𝐢𝐨𝐧 𝐁𝐞𝐲𝐨𝐧𝐝 𝐭𝐡𝐞 𝐂𝐥𝐚𝐬𝐬𝐫𝐨𝐨𝐦 — 𝐋𝐞𝐚𝐫𝐧𝐢𝐧𝐠, 𝐄𝐱𝐩𝐥𝐨𝐫𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧 & 𝐑𝐞𝐜𝐫𝐞𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧

At Daanish School Boys Dera Ghazi Khan, education goes far beyond the walls of the classroom. The Principal and Management remain committed to providing students with meaningful opportunities that nurture not only their academic excellence but also their confidence, exposure, social development, and extracurricular interests.

In continuation of this vision, the School recently organised an Educational cm Recreational Excursion for the students to Mehmood Group of Industries, with a special visit to Mehmood Textile Mills Ltd. The visit provided students with a valuable opportunity to witness industrial operations firsthand and connect their classroom learning with the practical world.

Upon arrival, the students and faculty members were warmly welcomed by Assistant Admin Officer Capt. (R) Latif Sb. and his team. The group was then escorted to the assembly area, where the students were given a comprehensive briefing about the Mehmood Group of Industries, its operations, and its industrial significance.

The students were subsequently divided into two groups. One group visited the Spinning Section, while the other explored the Garments Section. The approximately one-and-a-half-hour industrial visit offered students an insightful glimpse into the processes, technology, teamwork, and discipline involved in a modern textile industry.

At the conclusion of the visit, the students and faculty were graciously served Biryani for lunch, after which the group proceeded towards Multan.

The recreational phase of the excursion included a visit to the historic Multan Fort, followed by Fateha at the sacred tomb of Hazrat Baha-ud-Din Zakariya (رحمتہ اللہ علیہ). The students then enjoyed a short swimming session, adding an element of fun and refreshment to the memorable day.

The excursion continued with a visit to Askari Lake, where the students spent some pleasant moments before finally heading back to Daanish School Boys Dera Ghazi Khan.

It was truly a day filled with learning, discovery, spirituality, recreation, and cherished memories—a perfect reflection of the School’s commitment to developing students through experiences that educate both the mind and character.

Daanish School Boys Dera Ghazi Khan; Where Learning Extends Beyond the Classroom.

04/09/2026

Sports_Time
Rana Sikandar Hayat
Afsar Shah

Address

Dera Ghazi Khan

Telephone

+923338868861

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Daanish School Boys Dera Ghazi Khan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category