السلام علیکم *اے عمر رواں ٹھہر*
*سُن ذرا ! ماضی میں بدلتے لمحوں سے کچھ یاد کے موتی چُننے دے کیا کھویا ھے کیا پایا ھے کچھ سودے بازی کرنے دے ۔ ؟ ۔*
*دوستو اپنی زندگی کو غور سے دیکھیئے ! اس میں تھکن ھے۔ بوریت ھے۔ تشنگی ھے۔ ہر دم ایک بے چینی ھے۔ ہر دم کہیں پہنچنے کی بے سکونی ھے۔۔۔ تو آپ جی نہیں رھے جینے کی تیاری کر رھے ہیں۔ ایک رات ایسے بھی آنے والی ھے کہ آج کا بویا ہوا بیج کل کاٹنا ہوگا ہدایت سننے میں لفظ بہت چھوٹا ھے لیکن معنی بہت بڑا رکھتا ھے یہ اُسی انسان کو ملتی ھے جو ڈھُونڈتا ھے اسے پانے کی کوشش کرتا ھے جو پالیتا ھے وہ غنی ہو جاتاھے اس لیئے کُچھ اور مانگیں یا نا مانگیں ہدایت ضرور مانگا کیجیئے۔ گناہ پہ ہدایت اور سزا نہ ملے۔۔تو ڈرنا چاہیئے۔۔۔خوش نہیں ھونا چاہیئے۔ کیونکہ جس گناہ کا عذاب سخت ھو۔ اسکو دُنیا میں سزا نہیں ملتی۔* *ابا جی ایک قصہ سنایا کرتے تھے کہ کسی مقام پہ ایک شخص رات کے وقت ایک نعش کیساتھ زنا کر رہا تھا۔ اُس وقت بادشاہِ وقت ایک نیک صفت شخص تھا ۔اُسی وقت رات کو بادشاہ کے خواب میں ایک سفید پوش آدمی آیا اور اسے کہا کہ فلاں مقام پر فلاں شخصاس گناہ کا مرتکب ہورہا ھے، اور اسے حکم دیا کہ اس زانی کو فوراً بادشاہی دربار میں لا کر اُسے مشیر خاص کے عہدے پر مقرر کر دو ۔ بادشاہ نے وجہ جاننی چاہی تو فوراً خواب ٹوٹ گیا۔ وہ سوچ میں پڑ گیا بہر حال سپاہی روانہ کردیئے اور وہ جائے وقوعہ پر پہنچے تو وہ زانی شخص وہیں موجود تھا سپاہیوں کو دیکھ کر وہ بوکھلا گیا اور اسے یقین ہو گیا کہ اسکی موت کا وقت آن پہنچا ھے۔۔ اسے پکڑ کر نعش سمیت بادشاہ کے سامنے حاضر کیا گیا۔ بادشاہ نے اُسے اسکا گناہ سنایا اور کہا ۔آج سے تم میرے مشیر خاص ہو دوسری رات بادشاہ کو پھر خواب میں وہ بزرگ نذر آیا۔ تو بادشاہ نے فوراً اس سفید پوش سے اس کی وجہ پوچھی کہ ایک زانی کیساتھ ایسا کیوں کرنے کا کہا آپ نے؟؟ سفید پوش نے کہا اللّٰہ کو اسکا گناہ سخت نا پسند آیا چونکہ اسکی موت کا وقت نہیں آیا تھا اسی لیئےتم سے کہا گیا کہ اسے اپنا مشیر بنا لو تاکہ وہ عیش میں پڑ جائے اور کبھی بھی اپنے گناہ پر نادم ہو کر معافی نا مانگ سکے ۔ کیوں کہ اسکی سزا آخرت میں طے کی جا چکی ھے ۔ مرتے دم تک وہ عیش میں غرق رھے گا بلکہ خوش بھی ہوگا کہ جس گناہ پر اسے سزا دی جانی چاہیئے تھی اس گناہ پر اسے اعلیٰ عہدہ مل گیا۔ سو اسے عیاشی اور بار بار مواقع ملنا قدرت کا اسکو گمراہی میں ہی ڈالے رکھنا مقصد ھے ۔ ابا اُٹھے میرے سر پہ ہاتھ رکھا اور کہا بیٹا۔ جب گناہوں پر آسانی ملنے لگے تو سمجھ لینا آخرت خراب ہو گئی۔ اور توبہ کےدروازے بند کر دیئے گئے ہیں۔۔ میں سن کر حیران رہ گیا۔۔ اپنے گریباں میں اور آس پاس نگاہ دوڑائی۔ کیا آج ایسا نہیں ھو رہا ؟؟ بار بار گناہوں کا موقع ملتا ھے ہمیں اور کتنی آسانی سے ملتا ھے اور کوئی پکڑ نہیں ہوتی ہماری۔ ہم خوش ہیں ۔ عیش میں ہیں۔کتنے ہی مرد و خواتین کتنی ہی بار گھٹیا فعل کے مرتکب ہوتے ہیں اور مرد و عورت اسے اپنی جیت کا نام دیتے ہیں ۔ اور اگلی بار ایک نیا شکار ہاتھ میں ہوتا ھے۔۔ پہلی بار گناہ پر دل زور زور سے دھڑکے گا آپکا دماغ غیر شعوری سگنل دے گا ایک ٹیس اُٹھے گی ذہن میں۔ جسم لاغر ہونے لگے گا کانپنے لگے گا یہ وہ وقت ہوتا ھے جس وقت ایمان جھنجھوڑ رہا ہوتا ھے چِلا رہا ہوتا ھے کہ دور ہٹو باز رہو کبھی بھی خود کو مارجن نہ دیں ۔ نہ پھولیں سمائیں۔۔کہ کچھ نہیں ھوا۔۔۔یا اللّٰہ سبحان وتعالیٰ ہمیں اپنے ہدایت یافتہ بندوں میں شامل فرما اور ہم سب سے راضی ہو جا۔ اور ہر قسم کے گناہ معاف فرماء اور دنیا کی محتاجی سے بھی محفوظ فرما آمین یا ربّٰ العالمین*
*اَلَّهُمَّ صَلِّ عَلَى ُمحَمَّدِ ُّوعَلَى اَلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى اِبْرَاهِيْمَ وَعَلَى اَلِ ابْرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدُ مَجِيِداَلَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمّدِ ٌوعَلَى اَلِ مُحَمّدٍ كَمَابَارَكْتَ عَلَى اِبْرَاهِيْمَ وَعَلَى اَلِ اِبْرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيُد مَّجِيد.*
SACHI BAAT
THIS IS A LEARNING PAGE. THIS PAGE MAKES YOU HOPEFUL MAN.
السلام علیکم *جو بھی لکھی ھے قسمت۔ یارب تیری ہر رضا پر راضی ھوں میں۔*
*دوستو دیر تو لگتی ھے مگر میرا پاک ربّٰ دیتا ضرور ھے۔ دوسروں کے درد کو اپنا درد سمھجنے والوں کو بُلند خیال عطا کیا جاتا ھے۔ دُوسروں کی عزت کرنا آپ کے کِردار کی خُوبصُورتی واضح کرتا ھے۔ ظرف اعلیٰ کریں اور انسان کو عزت دیں چاھے گھر والے ہوں چاھے گھر میں کام کرنے والے ملازم ہوں چاھے سڑک پر موجود سائل ہوں چاھے بہن بھائی ہوں چاھے شوہر ہو چاھے بيوی ہو چاھے بہو ہو اور چاھے ساس ہو کیونکہ! درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو ۔*
عرب میں ایک عورت تھی اس کا نام ام جعفر تھا۔ انتہائی سخی تھیں۔ لوگوں میں ایسے تقسیم کرتی تھی کہ دائیں کو بائیں ہاتھ کا پتا نہ چلتا۔ کچھ دنوں سے وہ ایک راستے سے گزرنے لگی اس راستے پر دو اندھے بیٹھے ہوتے۔ یہ دونوں صدائیں لگاتے۔ ایک کی صدا ہوتی: “الٰہی! مجھے اپنے فضل و کرم سے روزی عطا کر دوسرا اندھا کہتا یا ربّٰ مجھے ام جعفر کا بچا ہوا عطا کر ام جعفر ان دونوں کی صدائیں سنتی اور دونوں کو عطا کرتی۔ جو شخص اللہ کا فضل طلب کر رہا تھا اسے دو درہم دیتی جبکہ ام جعفر کے فضل کے طلبگار کو ایک بھنی ہوئی مرغی عطا کرتی۔ دلچسپ بات یہ ھے کہ جسے مرغی ملتی وہ اپنی مرغی دوسرے اندھے کو دو درہم میں بیچ دیتا کئی دنوں تک یہ سلسلہ چلتا رہا ایک دن ام جعفر اس اندھے کے پاس آئی جو ام جعفر کا فضل طلب کرتا تھا اور اس سے سوال کرتا تھا اور اس سے سوال کیا کیا تمہیں سو دینار ملے ہیں؟ اندھا حیران ہوگیا۔ اس نے کہا نہیں! مجھے صرف ایک بھنی ہوئی مرغی ملتی تھی جو میں دو درہم میں بیچ دیتا تھا ام جعفر نے کہا جو اللہ کا فضل طلب کر رہا تھا میں اسے دو درہم دیتی اور تمہیں بھنی ہوئی مرغی میں دس دینار ڈال کر دیتی رہی اس طرح دو درہم والے شخص کو دس دن میں سو دینار مل گئے اندھے نے اپنا سر پکڑ کر پیٹنا شروع کر دیا۔ وہ چیخنے اور چلانے لگا ہائے میری کمبختی، کاش میں ایسا نہ کرتا۔ میں مارا گیا ام جعفر نے کہایقینا اللہ کا فضل طلب کرنے والا کامیاب ھے اور انسانوں کے فضل کا طلبگار محروم ھے جو اللہ کے فضل کے سوا دیگر راستے تلاش کرتے ہیں انھیں دنیا میں گھاٹا ملتا ھے اور آخرت میں رسوائی نصیب ہوتی ھے۔ کم ہی ایسے ہوں گے جو فاقوں سے مر جاتے ہوں گے۔ اس کے باوجود اس دنیا میں ایسوں کی کمی نہیں جو درہم و دینار کی خاطر ایمان تک بیچ دیتے ہیں انسان انسانیت سے ھے کیونکہ۔
*درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو ۔*
*اَلَّهُمَّ صَلِّ عَلَى ُمحَمَّدِ ُّوعَلَى اَلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى اِبْرَاهِيْمَ وَعَلَى اَلِ ابْرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدُ مَجِيِداَلَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمّدِ ٌوعَلَى اَلِ مُحَمّدٍ كَمَابَارَكْتَ عَلَى اِبْرَاهِيْمَ وَعَلَى اَلِ اِبْرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيُد مَّجِيد.*
السلام علیکم *یا اللّٰہ تیرا شُکر ھے.* *چلتی ہی جارہی ھے عمرِ رواں کی ریل . ہم کو یہیں اُترنا ھے ?*
. *زنجیرکھنچیئے*
*دوستو جس کی کوئی گارنٹی نہیں اُس کا نام زندگی ھے ۔ اور جس کی فل گارنٹی ھے اس کا نام موت ھے ۔ تو لوٹ آیئے اپنے ربّٰ کی طرف ۔ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ دنیا میں بہترین مذہب صرف آپ کا ھے تو دنیا میں بہترین کردار پیش کرنا بھی آپ کی ذمہ داری ھے ۔! ہر بچھڑنے والا رشتہ ہمارے اندر کسی ایک احساس کو مردہ کر جاتا ھے کچھ لوگ ہمارا یقین مار جاتے ہیں کچھ اعتماد کچھ دوستی کچھ خوشیاں اور کچھ ہماری زندگی ۔۔ اماں جان کہتی تھیں: تو اگر چاہتا ھے کہ ملائکہ کے ساتھ اُڑتا پھرے تو ۔ تو ۔ مہربانی میں سورج کی طرح ! پردہ پوشی میں رات کی طرح !عاجزی میں زمین کی طرح ! بُردباری میں مَیت کی طرح ! اور سخاوت میں جاری نہر کی طرح بن جا !۔۔ تیرے امیر ہونے کے بعد ۔ تمہیں بہت سے رشتہ دار نظر آئیں گے.. مگر ایسے لوگوں کے ساتھ مت بیٹھنا۔ جو دوسروں کے متعلق باتیں کرتے ہیں کیوں کہ جب تم اُٹھو گے تو اگلا موضوعِ تبصرہ تمہاری ذات ہوگی ! دلوں کے کھیل جو کھیلو تو یہ بات مت بھولنا۔ کھیل کھیل میں اکثر۔کھلونے ٹوٹ جاتے ہیں۔ اختلافات میں یہ گنجائش بھی ضرور رکھنا۔کہ کہیں اچانک ملاقات کے وقت آنکھیں ملانے میں شرمندگی محسوس نہ ہو ۔۔ وہ ہمیشہ کہتی تھیں کہ زنــدگی کــے حسیــن لمحــات واپــس نہیـں آتــے لیکــن اچھـے لوگـوں سے تعلقـــات اور ان ســے وابستـــہ اچھـی یــادیں ھمیشـــہ دلـوں میـں زنـــدہ رھتی ہیں ۔ زمیـــن اور اہـل زمیــن کے درمیـــان بکھـــری اچھـــی باتــوں اور اچھـی عــادتوں کو یــوں چـن لیــا کـرو جس طـرح پرنــدے اپنـی زنــدگی میں رزق : پیارے لوگو موت سے بچنے کی کوششوں نے ہی انسان کو ہلاک کر دیا ھے : حاصل کی کوشش نے انسان کو محروم کر کے رکھ دیا ھے:خوشی کی تلاش غم تک لے آتی ھے : اور آرام کی تمنا میں انسان بےآرام ہوجاتا ھے: سکون کی آرزو ہی اضطراب کا باعث ھے: انسان کیا کرے ۔ ابتلاء میں گھرا ہوا ھے بے بس انسان ؟ ۔ انسان کو اس کی خواہش نے قید کر رکھا ھے نہ وہ خواہش چھوڑتا ھے نہ ہی قید خانے سے رہائی ہوتی ھے: کچھ لوگ گھروں میں قید ہیں اور خوش ہیں کہ ان کے فرائض ادا ہو رھے ہیں کچھ دکانوں میں قید ہیں۔سامان فروخت کرنے کی آرزو میں عمر بھی فروخت ہو رہی ھے چھوٹی سی دکان میں بڑی زندگی کٹ جاتی ھے ۔اور انسان خوش ھے کہ اس نے بہت کمایا ۔کیا کمایا اور کیا لُٹایا کسے خبر ھے: کچھ لوگ دفتر میں مقیّد ہیں: وقت پر آنا اور وقت پر جانا کوہلو کے بیل کی طرح ہر وقت ایک خاص عمل میں مصروف رہنا اُن کی ابتلا ھے: افسری کی خواہش ایک مصیبت بن کر رہ گئی ھے: افسر شاہی کی ابتلاء کیلئے کوئی راہِ نجات نہیں: اپنے آپ کو بلند سمجھنے کے خیال نے ہی انہیں پست قامتی عطا کی ھے ۔ انسان اور انسان کے درمیان جو خلیج حائل ھے وہی ابتلاء ھے: ایک مبتلا دوسرے مبتلا کی بات نہیں سمجھ سکتا: ہر آدمی اپنا رونا رو رہا ھےاس لیئے کوئی کسی کا پُرسانِ حال نہیں۔*
آیئے حُکمِ خدا وندی کی تکمیل کریں نبیِ محترم ﷺ کو تحفہِ درودِ پاک کا نزرانہ پیش کریں کیوں کہ جس نے درود پاک بھیجا وہ دوزخ میں جا سکتا ہی نہیں اور اُسے کوئی دوزخ میں بھیج سکتا ھی نہیں ۔ یہ کیسے ہوسکتا ھے کہ اللّٰہ اپنے محبوب ﷺ کے چاہنے والوں کو دوزخ میں ڈالے۔ در اصل درود شریف ایک درجے کی زیارت ھے نبیِ کریم ﷺ کا خیال آتا ہی اُسی کو ھے جسے خود نبیِ محترم ﷺ خیال کریں ۔ رجوع اُمتی سے پہلے وہ آپ ﷺ خود ہی کرتے ھیں پہلے حضور کریم ﷺ اپنی محفل میں اپنی شان کے مطابق امتی کا ذکر کرتے ھیں پھر اُمتی کے لب پر درود شریف جاری ہوتا ھے۔ آیئے منہ میٹھا کریں۔
*اَلَّهُمَّ صَلِّ عَلَى ُمحَمَّدِ ُّوعَلَى اَلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى اِبْرَاهِيْمَ وَعَلَى اَلِ ابْرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدُ مَجِيِداَلَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمّدِ ٌوعَلَى اَلِ مُحَمّدٍ كَمَابَارَكْتَ عَلَى اِبْرَاهِيْمَ وَعَلَى اَلِ اِبْرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيُد مَّجِيد.*
السلام علیکم *یا اللّٰہ اُلجھا کے رکھ دیا اِسی کشمکش نے مجھے تو آ بسا ھے مُجھ میں یا میں تُجھ میں کھو گیا ھوں۔ بس ایک لمحے میں بکھر جاتا ھے تانا بانا میرا۔ اور عمر گزر رہی ھے یکجائی میں ۔ کبھی کبھی خود کو بھی چھان کے دیکھ لیتا ھوں ۔اِس خاک کے سوا مُجھ میں رکھا کیا ھے۔* دوستو میں نے والد صاحبؒ کے ساتھ بہت وقت گزارا تھا ۔انہیں بہت سنا لیکن شائد ہی کبھی کوئی سوال کیا ہو میرے والد صاحبؒ میرے پیر و مرشد بھی تھے۔ ہمارے پُرانے محلے 27 بلاک میں ہمارے ہمسایئے موچی رہتے تھے ۔ ابا جی سےاُن موچیوں کے بارے میں بڑا کچھ سُننے کو ملتا رہتا تھا قصے کہانیوں میں کہ فلاں جگہ پر ایک موچی تھا بڑا اللّٰہ والا تھا۔موچیوں میں کوئی خاص بات ہوتی ھے۔ کیا خاص ہوتا ھے ۔ایک دن میں نے شوخی شوخی میں ایک سوال کر دیا۔ والد صاحب کھانا کھاتے کھاتے ہاتھ روک کر بولے موچی ٹوٹے ہوئے تعلق کو جوڑ دیتا ھے۔ موچی چمڑے کے دو ٹکڑوں کو سی کر ایک کر دیتا ھے۔ یہ جواب اب بھی میرے دل میں ایک گونج بن کر بیٹھا ہوا ھے ۔ اب میں بھی موچیوں کا بہت احترام کرتا ہوں۔ میں پہلے جوتا مرمت کروانے جاتا تو ان کے پاس زمین پر بیٹھ جاتا تھا۔ ایک موچی ہماری شاپ کے آگے اب بھی بیٹھا رہتا ھے یہ بھی بڑا اچھا انسان ھے۔ حق حلال کی کمانے میں بہت باریک بین ھے۔ میں نے دیکھا ھے کہ یہ جب دو چمڑوں کی سلائی کر رہا ہوتا ھے دونوں کو آپس میں ملا رہا ھوتا ھے ۔ آج میرا لکھنے کا ایک ہی مقصد ھے کہ اللّٰہ اور بندے کےتعلق کو بھی کسی طرح جوڑ دوں ۔بندے کو اللّٰہ سے ڈائریکٹ کر دوں۔ جتنا مجھے علم ھے اتنا کر دوں ایک ذرہ برابر ہی کر دوں۔ اللّٰہ سے روکنے والی ہر چیز درمیان سے کلئیر کر دوں مگر کیسے۔ اللّٰہ تعالیٰ ہمارے دلوں کو اپنے قرب کا احساس عنایت فرمائے ۔ آپ کو کبھی محسوس ہوا ھے کہ سجدہ کتنی مزیدار کیفیت ھے۔ بندہ بہت تھکا ہوا بہت دیر دھوپ میں پھر کر آیا ہو یا سردی سے کانپ رہا ہو یا غمگین ہو یا ضرورتمند ہو یا دل شکستہ ہو ایسا لگتا ھے جیسے سجدے میں سر رکھتے ہی کوئی بہت بڑا آسرا مل گیا ھے۔ ایسے لگتا ھے جیسے ہر مشکل حل ہو گئی ھے کوئی مشکل رہی ہی نہ ھو۔ بندہ بہت زیادہ لمبے قیام کے بعد رکوع اور سجدے میں جائے تو ایسی ہی کیفیت محسوس ہوتی ھے۔ دل کرتا ھے وہیں پڑا رہوں۔ بعض دفعہ تو بندہ خاموش ہوتا ھے۔ بس اللّٰہ کا احساس ہوتا ھے کہ وہ کہیں سے دیکھ رہا ھے۔ بندہ کہتا ھے اب تو میرے اور اس کے درمیان کوئی نہیں ھے۔ آگے کی آگے دیکھی جائے گی۔ اب تو اس نے مہلت دے رکھی ھے ابھی تو اس نے سجدے کی محبت دے رکھی ھے۔ ہر نماز کے سجدے کی کیفیت مختلف ہوتی ھے۔ تہجد کے سجدے کی کیفیت دیکھ لیں۔ ایسا لگتا ھے جیسے کوئی اور ھے ہی نہیں۔ بس میں ہوں اور میرا ربّٰ ھے اور ربّٰ تعالیٰ سے تعلق بن گیا ھے جیسے اللّٰہ مل گیا ھے ۔ تہجد بڑی خوبصورت نماز ھے۔ ایسے لگتا ھے جیسے اللّٰہ تعالیٰ نے بہت سی رعایتیں دے رکھی ہیں جیسے اللّٰہ تعالیٰ نے سب کچھ بندے پر چھوڑ دیا ھے کہ میرے بندے تو جو جو بھی کرے گا، سب قبول ھے۔ تہجد اپنے بیوی بچوں کے ساتھ گھر میں ادا کرنے کی جو محبت ھے اس سجدے کی محبت ہی کچھ اور ھے فجر، ظہر، عصر، مغرب، عشاء، ہر نماز کے سجدے کی خوبصورتی اور خوشی ھے۔ بندہ نماز شروع کرنے سے پہلے ایک لمحے کا تصور کر لے کہ اللّٰہ دیکھ رہا ھے جیسے اللّٰہ سے اجازت لے کر بات شروع کرنے لگا ہوں جیسے اس کی اجازت سے اپنی عرض بیان کرنے لگا ہوں۔ جیسے اس نے کال اٹینڈ کر لی ھے اور اب میں نے کچھ کہنا ھے۔ بڑا مزہ آتا ھے اللّٰہ سے مل کر ایسی نماز اور ایسے سجدوں کے زریئے۔ اللّٰہ تعالیٰ ہمیں سجدوں میں اپنی قربت کا احساس عنایت فرمائے، آمین۔
*اَلَّهُمَّ صَلِّ عَلَى ُمحَمَّدِ ُّوعَلَى اَلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى اِبْرَاهِيْمَ وَعَلَى اَلِ ابْرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدُ مَجِيِداَلَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمّدِ ٌوعَلَى اَلِ مُحَمّدٍ كَمَابَارَكْتَ عَلَى اِبْرَاهِيْمَ وَعَلَى اَلِ اِبْرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيُد مَّجِيد.*
زندگی کا سچ بتاؤں دنیا میں جو ھماری آنکھیں دیکھ رھی ھوتیں وہی ھم سچ سمجھتے ھیں۔
اچھے اور برے ھم خود ھوتے ھیں صرف چشمے کا فرق ھوتا ھے ۔جیسے سبز چشمے سے سبز دکھتا ھے سرخ سے سرخ جبکہ انکھیں وھی ھوتی ھیں۔
20/12/2022
دن کا آغاز صبح کی نماز اور قرآن کی تلاوت سے کیجے ۔اور پھر رزق کی تلاش میں گھر سے نکلیے جو رزق ملے گا اس میں سکون ھوگا۔
26/10/2022
تاریخ کی سب سے طاقت ور ترین معذرت
جب حضرتِ ابوذرؓ نے بلالؓ کو کہا .
اے کالی کلوٹی ماں کے بیٹے ! اب تو بھی میری غلطیاں نکالے گا ؟
بلال یہ سن کر غصے اور افسوس سے بے قرار ہو کر یہ کہتے ہوے اٹھے خدا کی قسم ! میں اسے ضرور بالضرور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے اٹھاؤں گا !!
یہ سن کر اللہ کے رسول کے چہرے کا رنگ بدل گیا اور آپ نے ارشاد فرمایا : ابوذر ! کیا تم نے اسے ماں کی عار دلائی ؟ تمھارے اندر کی جہالت اب تک نہ گئی !!
اتنا سننا تھا کہ ابوذر یہ کہتے ہوے رونے لگے : یا رسول اللہ ! میرے لیے دعائے مغفرت کر دیجئے ، اور پھر روتے ہوے مسجد سے نکلے ۔۔
باہر آکر اپنا رخسار مٹی پر رکھ دیا اور بلال سے مخاطب ہو کر کہنے لگے :
بلال ! جب تک تم میرے رخسار کو اپنے پاؤں سے نہ روند دو گے ، میں اسے مٹی سے نہ اٹھاؤں گا ، یقیناً تم معزز و محترم ہو اور میں ذلیل و خوار !! یہ دیکھ کر بلال روتے ہوے آئے اور ابوذر سے قریب ہو کر ان کے رخسار کو چوم لیا اور بے ساختہ گویا ہوے:
خدائے پاک کی قسم ! میں اس رخسار کو کیسے روند سکتا ہوں ، جس نے ایک بار بھی خدا کو سجدہ کیا ہو پھر دونوں کھڑے ہو کر گلے ملے اور بہت روئے !!
(صحیح بخاری :31 )
اور آج ہم ایک دوسرے کی ہزاروں بار دل آزاری کرتے ہیں مگر کوئی یہ نہیں کہتا کہ ۔ ۔ بھائی ! معاف کریں ، بہن ! معذرت قبول کریں"۔
یہ سچ ہے کہ ہم آئے دن لوگوں کے جذبات کو چھلنی کر دیتے ہیں ؛ مگر ہم معذرت کے الفاظ تک زبان سے ادا نہیں کرتے اور "معاف کر دیجئے" جیسے الفاظ کہتے بھی ہمیں شرم آتی ہے ۔۔
معافی مانگنا عمدہ ثقافت اور بہترین اخلاق ہے ، جب کہ کئی لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ خود کی بے عزتی ہے ۔۔۔ ہم سب مسافر ہیں ، اور سامانِ سفر نہایت ہی کم ہے ، ہم سب دنیا و آخرت میں اللہ سے معافی اور درگزر کا سوال کرتے ہیں۔
09/09/2022
اللہ کی یاد دلوں کو سکون دیتی ھے(یاد رکھو اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو تسلی حاصل ہوتی ہے ۔ دل کا سکون ذکر الہی میں ہی ہے اور جو لوگ الللہ کا ذکر کرتے ہیں وہ حقوق العباد اور اپنی عوم کا کبھی حق نہیں مارتے.. کاش تم لوگ اس پر عمل بھی کرو !!! بیشک اللہ ہی پدایت دینے والا ھے)
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Dera Ghazi Khan
32200