22/12/2025
"شاہ حسین نے سوچ چھوڑنے کے بجائے زہر کا پیالہ پیا "
سر شاہ حسین مرحوم کا اپنی ہاتھ لکھی ہوئی تحریر ضرور پڑھیں جو سر شاہ صاحب نے آدھا گھنٹہ بعد اپنی روح کو اللّٰہ تعالیٰ کے خوالے کردیا ۔
"چند گزارشات ۔
میں کسی سے ناراض ہو کر جانا نہیں چاہتا ۔ میں نے سب کو معاف کیا ہے ۔۔کیونکہ محبت کے اگے سارے گلے شکوے معمولی سجمھتا ہوں ۔۔میں نے جتنی محنت کی ۔یا باتیں کی ہوگی ۔ان سے شاید لوگوں کو تکلیف پہنچی ہوگی ۔مگر میرا کوٸی سیاسی ایجنڈہ نہیں تھا ہے ۔۔ایک بات یہ واضح کردینا چاہتا ہوں ۔کہ استعماری سوچ پسندوں سے مجھے نفرت تھی ۔میں ازاد تھا ہو اور رہوں گا ۔
یاد رہے مجھے گھریلو مساٸل بھی نہ تھے۔سب فیملی کو والوں کو محبتیں۔♥️🌹🤲🥀۔۔
۔ہاں یہ بات مجھے ستاتی رہی کہ کیوں ہماری نسلیں تعلیم اور شعور سے محروم رکھا جا رہا ہے ۔
سکول میں چاہیے گارڈن سکول تھا یا المدینہ ۔القادر سکول تھا یا مدرسہ میں نے اپنی اپنی بھر پور کوشش کی تاکہ بچے اپنی صحیح مستقبل کی جانب رواں دواں ہو سکے ۔۔بہت سے لوگ میرے نہ ہونے کے بعد سرگوشیاں کریں گے ۔کہ یہ ایجنٹ تھا ۔سورس تھا ۔یا کسی مذہبی تنظیم سے وابستہ تھا ۔قیامت کے دن تک اس کی گیرنٹی دیتا ہوں۔۔کوٸی ثبوت ملا میرےقبر پر اگ جلانا ۔
دوسری اہم بات یہ ہے ۔کہ لڑکیوں کی تعلیم کی کوشش کی ۔۔جو بار اور ثابت ہوٸی ۔اسما نے فٹبال کو لات ماری اسنے ہماری مستقبل کا تعین کیا ۔۔مجھے اس کے نتاٸج کا علم تھا ۔مگر پیچھے نہ ہٹا وجہ صرف یہ تھی کہ ایک پاکستان میں دو مذہب نہیں ہوسکتے بھکر پل سے اگے لڑکیوں کی تعلیم حلال اور ثقافتی ترقی سمجھا جاتا ہے ۔۔جبکہ ہماری ساٸڈ پختون بیلٹ میں لڑکیوں کی تعلیم کے خلاف ہے ۔بس وہ کرایے کا ایجنٹ ہے ۔چاہے جس طبقے سے ہو ۔ جبکہ پختون بیلٹ خاص کر جنوبی اضلاع میں گناہ گبیرہ ۔تو بس اس سرکٹی نے کوشش کی ۔جو اغیار کیلٸے درد سر تھا ۔اغیار کوٸی بھی ہوسکتا تھا ۔۔
میں ایک باغی استاد تھا جو روایت سے ہٹ کر کچھ نیا کرنے کی کوشش کرتا ۔پہلے سے موجود بوسیدہ طرز یا انداز تعلیم میں تبدیلی نہ لانا ہمارے لٸے نقصأن دہ تھا ۔۔تو لایا ۔تقاریر موجود ہیں ۔پریکٹیکل کام سکول میں ہو رہا ہے۔
۔۔علاقہ تناٸی میں زراعت کیلٸے کام کیا۔۔ جسکا اہستہ اہستہ رزلٹ انا شروع ہوچکا ہے ۔بہت سے لوگوں نے زراعت پر کام شروع کیا ۔زراعت کو بطور عید منایا ۔میں تناٸی کے نوجوانوں سے پرزور مطالبہ کرتا ہوں کہ اس پر مزید کام کیا جاٸے ۔ایک زرعی دفترقاٸم کیا جاٸے تاکہ لوگوں کو مفت مشورے ملتے رہے ۔
سکولوں میں فی سبجیکٹ ٹاٸم بڑھایا جاٸے ۔۔
میرے سے اکثر تناٸی کے نوجوانوں کو شاید ایسی بات نکلی ہوگی جیسے انہیں دل ازاری ہوٸی ہو ۔مگر میں نے انہیں اپنے سابقہ طالب علم ہونے کی وجہ سے ایسا کیا ہوگا ۔۔باقی رہی بات سکول میں بچوں کو سزا و جزا میں کمی بیشی ہوٸی ہوگی ۔مگر میں سب سے معافی کا طلب گار ہوں۔۔
یہ اقدام کرتے ہوٸے میرا مقصد ہر گز یہ نہیں کہ میں زندگی سے تنگ ہوں یا کوٸی اور وجہ مگر انسان کیلٸے بہتر ہے ۔کہ نادیدہ قوتوں کو سیاسی فاٸدہ دینے کے بجاٸے خود کو ختم کیا جاٸے ۔تاکہ معاشرے میں مزید خوف و ہراس نہ پھیل سکے ۔اور تعلیمی سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب نہ ہو۔لازمی بات ہے ۔کہ میرے بچوں کو تکلیف ہوگی ۔مگر ہزاروں اساتذہ اور بچوں کو خوف میں ڈالنے سے بہتر ہے ۔کہ یہ تکلیف میرے گھر تک محدود ہو ۔۔
مجھے ہر قسم کی لالچ دی گٸی ۔مختلف لوگوں کی جانب سے ۔مگر میں نے بہت کوشش کی کہ بندہ ان چیزوں سے پرہیز رکھے ۔اور بغیر کسی لالچ کے اپنی کمیونٹی کی خدمت کی ۔
میرے بہت سارے دوست ہیں ۔مگر مجھے ادم خان سے واقعی محبت تھی ۔۔انکو ہاٸیڈرو فوبیا تھا ۔تو رات کو وہ اکثر ہمارے پاس اتے ۔انکی خدمت انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کی ۔۔اور ایک بہترین دوست کی طرح رکھا ۔جیتے رہو ۔۔۔مگر نہ ہونے کے باٶجود مشکل وقت میں پہلے کی طرح اجایا کرو ۔🥀🌹دوستی نبھانا اپ کو گپ لگتا ہے ۔ہم مرنے کے بعد بھی نبھانا جانتے ہیں۔۔
فیس بک دوستوں میں شاکر کی گپ شپ خیال اور لایہ پشتین کی پوسٹس دیکھ کر لطف اندوز ہوتا ۔
اکثر میرے شاگرد جو مجھے بچہ سمجھ کر میرے مشکل حالات کے بارے میں پوسٹس کرتے تھے ۔پھر بھی نفرت نہیں کی ۔۔انکو محبت اور اداب۔۔♥️🌹
مجھے ہنسی اتی تھی ۔💔 ۔سمجھے اپکی مسکرانے والی سٹوری ۔پھر بھی اداب ۔♥️🌹۔بس کھبی اس محبت صدقہ کا صدقہ کیا کرے ۔🤲
یاد رہے کہ ہر کسی نے اس دنیا کو خیر اباد کہنا ہے۔کوٸی ہمیشہ نہ خان رہ سکتا ہے۔نہ بڑے عہدے پر مگر پھر بھی وہ حسد کرتے ہیں۔۔حسد ٹھیک چیز نہیں ہوتی ۔جب تک مادی نقصان نہ ہو نظریاتی اختلاف کو معمولی سمجھو کر درگزر کرو۔عام مشورہ🐦افغان اور پاکستان صورت حال ۔افغانستان میں مذہب کو مضبوط کیا جا رہا ہے ۔جبکہ پختون خواہ میں قوم پرستی کو ہوا دی جاٸے گی ۔۔افغانستان میں جب سب کچھ مذہبی ہوجاٸے ۔مطلب عام عوام اور حکومت تو پھر اسطرف انکا رجحان بڑھے گا ۔
میں پہلے مضبوط تھا ۔کسی کا باقاعدہ پیروکار نہیں تھا ۔نہ کسی کی بیعت کی نہ کسی کی تنخواہ لی ۔۔نہ کسی سے ملاقات جو ثابت کرے کہ یہ فلاں کا پیروکار تھا ۔۔۔مگر ایک بات میری سوچ میں عدم توازن تھی ۔جلد بازی تھی جو مندرجہ ذیل میڈیسن کی وجہ سے ہوٸی ۔۔۔اس عدم توازن نے مساٸل میں جھانک دیا ۔ کبھی مذہبی ہوجاتا کبھی لیبرل جوکہ میرے لٸے غیر معمولی تبدیلیاں تھی ۔جیسے جان چھوڑانا مشکل تھا ۔دوسری اہم بد خو تبدیلی گفتگو میں رہی سارا دن بولتا رہتا ۔۔
جب میں بیمار ہوگیا پچھلے سال وہ واقعی کو ڈیپریکیپ گولیوں کی وجہ سے تھا ۔۔کوٸی ابہام نہ رکھے ۔پھر سرکار سے لیکر دوستوں تک کو ایکٹیوں ہونا پڑا۔۔مجھے معلوم ہے ۔کہ انہیں کچھ نہ ملا مگر میری پراگریسیو سوچ نے انکیلٸے مساٸل پیدا کیے ہونگے ۔۔
میں چھوٹوں سے لے کر بڑوں تک یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ اپ کے راز میں اپنے ساتھ لے کر جارہا ہوں۔۔۔بے فکر رہے ۔نمک حرام نہیں ہوں ۔
یہ بات ہے کہ مجالس میں جو منہ پر کہہ دیتا ۔کوٸی کین بغض کسی کے ساتھ نہیں رکھی ۔۔
میں نے رخمت اللہ صأحب اغوا ہونے کے بعد دھرنے میں جس مشکل سے حاضری لگواٸی ۔مجھے نہیں یقین کوٸی دوسرے کر سکے گا ۔اس وقت میرا دماغی لیول بہت گر چکا تھا ۔
رہاٸی کے دن چونکہ دھرنے کے دوران موٹرساٸیکل پر اناجانا ہوتا تھا توچیسٹ انفیکشن ہوگٸی ڈی اٸی خان گیا ۔ویاں دواٸی لینے کے بعد انزاٸیٹی لیول پتہ نہیں کہاں چلا گیا ۔ساری رات جاگا گزارہ ۔صبح جمشید بھاٸی کو کال کیا ۔اس نے دوبارہ ڈاکٹر کے پاس لے جانے کا کہا ۔مگر اتوار تھا چھٹی تھی ۔پھر ڈاکٹر مشورہ کرکے دواٸی کے ٹاٸم ٹیبل تبدیلیاں کی گٸی ۔پھر دس دن تک سکول جاتا رہا ۔مگر رخمت اللہ ملنے کی جرت نہیں تھی ۔گیارویں دن استاد نے گلہ کرکے کہا کہ رخمت اللہ صاحب گلہ کرے گا ۔پھر چلا گیا ۔مگر جاکر پوچھا تو وہ پشاور چلے گٸے تھے ۔شاید انکا گلہ ہو
مگر انسان کے اندر جو ہوتا ہے ۔وہ باہر سے نظر نہیں اتا ۔۔
رخمت اللہ سر مننہ ۔♥️🌹
اکثر لوگ کہتے تھے کہ اپ کوحالات کا پہلے سے علم ہوتا ہے ۔اپ سورس والے ہو ۔۔مگر چھٹی سنس کی وجہ سے حالات کا دراک ہوجاتا تھا ۔ولاعالم ۔
سیاسی منظر پس منظر کو دیکھتے ہوٸے مجھے علی وزیر کے گھر والوں سے دلی ہمدر دی تھی ۔۔
باقی سب سیاسی وکروں کے ساتھ گپ شپ ہوتی تھی ۔۔عمران مخلص۔امان اللہ ۔اصغر ۔ایاز ۔۔جماعت اسلامی والوں کے ساتھ گپ شپ تھی ۔۔پرنسپلز میں مجھے سب اچھے لگتے تھے ۔سب نے مجھے بے حد محبت دی ۔
علماء کرام کیلٸے محبت تھی ۔کیونکہ میرا اپنا ایک بھاٸی مفتی صدیق صأحب کو میں پڑھوایا ۔ایک بھاٸی حافظ بھی ہے ۔مگر اکثر علماء کا مذہبی سیاسی ایجنڈہ وطن کی بربادی پر قاٸم تھا ۔ پتہ نہیں وہ کیوں ایسا کرتے تھے ۔ہماری دماغی ترقی انکی سیاسی موت تھی۔۔انکا مانتے تو مادی ترقی رک جاتی ۔نہ مانتے تو کافر ہونےکےفتوے ۔ بھلے وہ سیاست کرتے مگر پنجاب کے مولویوں کی طرح۔۔۔جدید دور میں اخلاقیات سے مساٸل حل نہیں ہوسکتے جدید ٹیکنالوجی بھی اہم ہے۔۔
باقی اچھے علماء بھی تھے اور ہیں بھی ۔جس کا میں قدر کرتا تھا ۔اور کرتا رہوں گا
مدرسہ میں کافی پڑھاٸی کی ۔صرف ان بچوں کی خاطر جو سکول فیس نہیں دے سکتے تھے ۔۔کافی دن ایسے گزرے جہاں ہم نے دوپہر کا کھانا نہیں کھایا ۔
مگر ہم چپ رہے شکایت کیے بغیر ۔
ایک بات نوٹ کی کہ اپ اپنے علاقہ کی خدمت اس وقت تک نہیں کرسکتے جب تک اپ کسی طاقت ور کے انڈر کور نہ ہو ۔
غیرت اور اپنی علاقہ کی صحیح معنوں میں ضرورت کے مطابق تبدیلی ممکن نہیں ہے ۔۔
مجھے علاقہ میں سب سےبڑی نفرت سورس والوں سے تھی ۔۔
میں کسی کے سرکاری نوکری کا خلاف نہیں تھا ۔مگر بغیر کسی ٹیسٹ کےپاگلوں کو جمع کرکے جاسوسی کروانا بڑا خطرناک تھا ۔کیونکہ انکو ماحول اور مجلس کا ادراک ہوٸے بغیر اپنے بڑوں تک پہنچاتا تھا ۔کہ ایک غلط غیر حقیقی تصویر حکام بالہ تک پہنچ جاتا ۔۔انسان کی باتیں جزبات پر مبنی ہوسکتی ہے غصہ مووقع محال پر مختلف ہوسکتی تھی ۔مگر عملی زندگی میں ان انسانوں کا کردار معاشرے کی ضروریات کے عین مطابق ہوتا تھا ۔۔ سرکار کو چاہیے کہ اپنی پکی نوکری کا ان لوگں کیلٸے بندوبست کرے ۔تاکہ تلف کرنا نہ پڑے ۔اور سیاسی مبہم حالات ٹھیک ہوسکے ۔
بہت ساری باتیں ہیں ۔بہت ساری مجالس ہیں مگر کیا کہوں۔
سپین میں مثبت کردار ادا کرنے پر گارڈن کے پرنسپل خان محمد ۔پرنسپل والی سر ۔پرنسپل زین اللہ سر ۔۔کا بے حد شکریہ کہ انہوں نے تعلیم کیلٸے اپنا جان اور مال وقت وقف کردیا ہے ۔
میرے چند پیارے دوست کا ذکر کرتا چلوں ۔جمیشد کونڈاکاٸی ۔
اادم خان ۔وزیر ۔
مجھے بیماری کی حالت میں اسلام اباد میں بہتر خدمت دینے کا شکریہ ۔اعجاز ۔افتاب ۔منصور گل۔عزیز ۔راز محمد کا ۔بخت عالم کا ۔سب کا شکریہ۔
اخرکار سکول یونین کی بات کی جاٸے ۔تو یہ ایک مردہ گھوڑا تھا ۔کوٸی مثبت رول ادا نہ ہوتا تھا ۔ماسواٸے کھانا کھانے کے ۔۔اس موقع پر سخت لہجہ اس لٸے استعمال کرنا ضروری ہے ۔کہ انکا تبدیلی میں بہت ہی اہم رول تھا مگر مگر افسوس ! ۔
باقی رہی بات ہم بے حد غریب اور تنگ دست تھے اور ہیں۔مگر خود داری سے جیا اور موت بھی خود انتخاب کیا ۔تاکہ کسی کا احسان نہ رہے ۔۔۔
یہ میری تحریر ان جاہل انسانوں پر ایک زور دور چمیٹ ہوگا ۔۔جو ہمیشہ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم نے ازلی حیات پاٸی ہے ۔ بھاٸی سب نے جانا ہے اپنا غلط ایجنٹ کاکردار چھوڑ دو۔مزید علاقہ میں خوشحالی چھوڑ دو مثبت سوچ چھوڑ دو ۔۔اپ نے بھی ایک دن اس دنیا سے جانا ہے ۔مگر کالا منہ کرکے چلے جاٸیں گے ۔۔۔ہمیشہ اازاد رہے ۔اپنی خیالات میں ۔۔میرا مقصد یہ نہیں کہ مذہب سے غداری کرو ۔مگر ناپاک عزاٸم معاشرے میں پھیلانے سے بہتر ہے کہ بندہ کنارہ کش رہے ۔ذاتی دکانداری کرے۔وقتی ساٹھ سال تک تحظ تو مل جاٸیگی مگر تاحیات نسلوں کی بدعاٸیں أپ کو ملتی رہے گی ۔
اخر میں ایک بات بتا تا چلوں کہ میرا تعلیم اتنا نہیں تھا ۔مگر پھر بھی بات سمجھنے کی قوت بہت شاندار تھی ۔
مجھےجب مسلہ درپیش ہوتا تھا ۔میں سمجھنے سے قاصر ہوتا ۔تو دو تین دن تک ۔۔پھر مجھے اس موضوع کا نیند میں نتیجہ ملتا۔۔باٸیں سر کان کےاوپر والے حصہ میں مجھے خواب میں وہ مسلہ اتا۔۔اور ٹاٸپ ہوتا تھا ۔بہت درد بھی ہوتی تھی ۔اس سے مجھے نیند کے مساٸل بھی ہوٸے ۔میں بزرگ بننا نہیں چاہتا نہ میرے قبر پر مزار کی خواہش ہے ۔جو لکھ رہا ہوں خدا دیکھ رہا ہے اور ہم سب نے ادھر ہی جانا ہے ۔شاید یہ بزرگی نہ ہو مگر چھٹی سینس ایکٹیو ہوچکی تھی ۔جس سے میں بے چین رہتا تھا ۔۔مجھ پر اللہ نے زندگی میں اچھے احسانات کیٸے ۔۔مجھے دوست دشمن کی پہچان ہوتی تھی ۔۔مگر دشمن کو کھبی یہ احساس ہونے نہ دی ۔کہ انکو سب علم ہے ۔۔مگر جس سے ملتا محبت بھانٹتا ۔ہنستا مسکراتا ۔کیونکہ میں اللہ کی دی ہوٸی عطاء پر ناشکری نہیں کرنا چاہتا تھا ۔اکثر میرے دوست مجھے بے خبر ناسمجھ سمجھ لیتے تھے ۔انکو دل کا تحفہ♥️🌹کیونکہ اسکے بدلے خدا راہ میں پڑے رکاوٹوں کو ہٹاتا ۔
میں نے بہت سے بڑوں کو روتے دیکھا ۔مگر میرے مشاہدے کے مطابق وہ سب نیت کے خوار تھے ۔۔اخلاص روشنی ہے ۔
پراجیکٹیڈ رونے سے کسی کی عزت میں اضافہ نہیں ہوتا۔۔
ایک مثال دیتا ہوں کہ زافرکاٸی گالیاں دیتا تھا ۔انکی گالیوں میں اخلاص ہوتا ۔جوکہ اج تک لوگ یاد کرتے ہیں ۔۔اس سے محبت کرتے ہیں ۔۔
مجھے یہ بیماری تھی کہ جس کو زخمی دیکھتا یا بغیر جوتے کسی کو دیکھتا ۔تو دل میں درد محسوس ہوتا ۔۔روتا بہت کم تھا ۔مگر جب روتا اکیلے میں روتا ۔
اچانک والدین اور بھاٸی یاد اتے تو میں رو لیتا تھا ۔محبت کی وجہ سے ۔۔باقی کسی کیلٸے نہیں رویا ۔مگر ہاں دل میں درد محسوس ہوتا ۔دوسروں کیلٸے مگر دیر تک اس پر گفتتگو نہ کرتا ۔
بہت سے مولویوں نے مجھے ملحد اور کافر کہا ۔۔مگر مجھے ہنسی اتی تھی ۔۔ مگر اصل میں انسان اندر کیسا ہے وہ بات اہم ہے ۔۔
۔۔۔۔۔۔ظاہر بین مے پہ ظاہر صورت غلط شو ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔پہ باطن پہ خاٶرو پٹہ خزانہ ییم ۔۔
مشورہ یہ ہے۔کہ حقیقی تبدیلی لانے والوں سے امید نہ لگاٸیں ۔
خود اپنے اندر تبدیلیاں لانے کی کوشش کریں۔۔اپنے بچوں کو وقت دے ۔پیار دے ۔۔
ٹاٸم دے ۔
تعلیمی انقلاب کیلٸے ریاضی کا پریٹیکل ہونا لازمی ہے۔۔
ہر روز دو کلاس ۔دو گھنٹے ۔بس بچوں کا مستقبل بن گیا ۔
اپ کے بچے بھی ایلیٹ کلاس کے بچوں کی طرح سوچیں گے ۔انداز بدل جاٸے گا ۔اور ایک کول اور پر سکون معاشرہ تشکیل پاٸے گا ۔۔
میں نے اپنی پوری زندگی اپنی مرضی سے جیا ۔نہ کسی کا ایجنڈہ لے کر گیا ۔نہ کسی کو خوش یا خفا کرکے ۔نہ کسی سے ۔تنخواہ لی ۔۔۔پچھلے انقلاب سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا ۔
مگر لکھنا گناہ ہے ۔۔مجالس راز کے مہتاج ہوتے ہیں۔۔ویسے مجالس تو ہرکوٸی کرتا ہے ۔۔۔
مجھے الفاظوں کو گہراٸی سے سمجھنے کی عادت تھی ۔۔
پھر دروازے کھلتے اور بہت ننگے لوگوں اندر پالیتا ۔۔
مگر کسی کی راز کی بے حرمتی نہ کرتا ۔۔ہر سیاسی بیان کا نتیجہ معلوم ہوتا اور مقاصد بھی ۔مگر میں تماش بین بم کر یہ سب کچھ دیکھتا تھا ۔
مجلس میں محمداللہ کی مجلس پسند تھی ۔۔شاید علی وزیر کو سپورٹ دینا مین وجہ ہو ۔۔یا ولاعالم ۔
اب سیاسی طورپر ہم ایسے اہم موڑ پر کھڑے ہیں ۔۔کہ پرانوں کی اخری سانسیں ہیں۔اور نیٸوں کی امد ہے ۔۔۔
بڑوں کی کشمکش سے دور رہے ورنہ اگ میں جل کر ختم ہوجاٶگے ۔۔اپنی ریاستی قوت کمپروماٸیزڈ ہے کسی بھی اپنی شہری کو تحفظ نہیں دے سکتی ۔چاہے اسکا کتنا ہی سیاسی نقصان نہ ہو ۔۔اب جین زی نسل کی وجہ سےعوام کو طاقت وروں کے فیصلوں سے ہم اہنگ کرنا بھی مشکل ہے ۔۔۔اللہ نہ کرے کہ یا تو ہماری ریاست انگڑاٸی لے گی یا طاقت وروں کا خطے سے بستر گول ہونے کا وقت ہوا چاہتا ہے ۔
۔جین زی ۔
میں نے سیاست میں حصہ اس لیے نہیں لیا ۔کہ سکول بچوں کی سوچ کی فکر ہوتی تھی ۔کہ ان پر منفی اثرات نہ پڑے ۔۔وہ کم عمری میں میرا تقلید شروع نہ کردے ۔پھر انکا تعلیمی کیٸر یٸر خطرے میں ہوتا ۔۔۔
سکول بچوں کی لوفری پر کھبی کمپروماٸیز نہیں کیا ۔۔
بچوں کی گھر تک کے سرگرمیوں کو دیکھتا ۔تاکہ فضول مجالس سے اور لوگوں سے محفوظ ہو سکے ۔
مجھے دو ماہ تک ذہنی مساٸل تھے۔۔۔بہت منفی ہوچکا تھا ۔۔بچوں کے ساتھ غیر ضروری گفتگو کرلیتا ۔۔۔پھر میں نے بلال سر اور روشان سر کو بتایا کہ شاید میں ہندو بن چکا ہوں۔۔۔وہ ادویات کا اثر تھا جو میں نے غلط اور بغیر ڈاکٹر کےکھاٸے ۔۔اور کھاتا اور پھر چھوڑ دیتا۔۔
القادر سکول کو اگست کے مہینے میں ایا ۔دو ہزار سترا کو ۔۔بہت بری حالت تھی ۔تناٸی بہت پسماندہ ہوچکی تھی ۔خاص کر تعلیمی میدان میں۔لوگ مایوس ہوچکے تھے ۔مگر ہم اساتذہ نے بہت تعاون کے ساتھ بچوں کی مستقبل کو دیکھتے ہوٸے کوششیں کی ایک اہم بات جو اس وقت کے اساتذہ کو یاد نہ کرنا ذیادتی ہوگی ۔صدام سر کرے خیل ۔جمیل سر ۔یاسر سر ۔بلال سر صدیق سر اسخاق سر ۔ساجد سر روشان سر عامر دانش ذاکقرنین ۔صدام سر تناٸی والا ۔کرے خیل ۔۔۔تعلیم اب فعل حال گزارے حال ہے ۔۔
مگر القادر سکول نے مجھے پہچان دی ۔اور میں نے القادر کو پہچان دی ۔
یہ میرا ناخشہ ہے ۔۔۔۔۔میرے بھاٸی اسکو اپنے نرم دل اور خوب صورت دلوں کے مالک مشتاق ۔ستار ۔اقبال اور عالم گیر کے تعاون سے اگے چلاٸیں گے ۔۔کمی بیشی حساب کتاب پر مجھے بخشش کرے ۔سب چھوٹے بڑوں کو میرا یہ پیغأم ہے۔کیونکہ ان میں سب خاندان کا رزق شامل تھا ۔
اورمیرا یہ ادارہ یادگار رہے گا ۔۔۔۔
میرے چلے جانے کے بعد میرا جنازہ سپین میں ادا کردو ۔۔۔اور غاٸبانہ جنازہ تناٸی گراونڈ میں ادا کردیا جاٸے ۔
وانا کے سارے جاننے والے فاتحہ خوانی میں ضرور شرکت کرے ۔تاکہ بھاٸیوں کا حوصلہ رہے ۔۔
اور مجھے خاٶرے خلہ میں دفن کردیا جاٸے۔
شاکردوں سے گزارش ہے کہ ایک بڑی تختی بناٶ ۔۔جس پر یہ لکھا ہو ۔۔۔
شاہ حسین نے اپنی سوچ چھوڑنے کے بجاٸے ۔زہر کا پیالہ پیا ۔
اور امر ہوگیا ۔۔
سکول میں میری فیس بک پروفاٸل فیکچر سے ایک بینر بناٸیں ۔جس پر مندرجہ بالہ جملہ لکھا ہو ۔یہ کام یاسر سر کرے گا ۔۔۔
اس بینر کولگاتے ہوۓ محمد اللہ سپین وال ۔مدوع کرے ۔اگر علی وزہر رہا ہوٸے تو انکو بھی دعوت ہے ۔۔۔۔ایک تقریب رکھے ۔۔۔
گپ شپ کرے ہنسی مزاح کرے ۔۔۔
میرا کوٸی ایجنڈہ نہیں ہے ۔۔۔ویسے مرنے کے بعد کسی کا کیا عملی فاٸدہ ہو سکتا ہے ۔۔مگر لوگوں کو پیغام دے کہ حق پر ڈٹے لوگوں کی ہم قدر کرتے ہیں۔
چاٸےکا بسکٹ کا خرچہ بھی حاجی محمداللہ کرے گا ۔۔۔
میرے بچے جدھر اپ کو ملے ۔انکو پیار دو ۔محبت دو
انکو یہ احساس نہ دے کہ تم یتیم ہو ۔۔۔کیونکہ میرا کردار انکی راہنماٸی اپ کی صورت میں عملی طور پر موجود ہوگی ۔۔
سب جاننے والوں سے معافی کا طلب گار ہوں خاصکر اساتزہ اور سب شاگردوں سے معافی چاہتا ہوں ۔۔جن کے ساتھ اگر زندگی میں زیادتی ہوٸی ہو ۔۔۔
پیر نور علی صحافی یاد اگٸے ۔۔بس یار۔۔۔ لووووو ۔۔یوووووو۔۔
مجھے سید الرخمان عرف سیدی کی باتے پسند تھی ۔
جہانزیب بھاٸی تناٸی نے سپورٹ کیا ۔۔۔۔۔
مجھے پسند کیا تھا ۔۔یہ لکھ لیتا ہوں۔
مجھےغروب افتاب کا منظر بے حد پسند تھا ۔
مطالعہ کرنا پسند تھا ۔۔مگر مشکل سبجیکٹ ۔
میں نے سردی کے چھٹیوں کو بنوں میں گزارنا ہوتے تھے ۔
وہاں میرے شاگرد اوردوست ہیں ۔سب کو الوداع غلطی پر معزرت خواں ہو ۔۔
ویسے غسل دینا اچھی بات ہے ۔۔۔۔مجھے غسل دے تاکہ اس دنیا کی پلید مٹی سے پاک صأف ہوکر چلو ۔۔
سب جاننے والوں کو الوداع۔سب کے نام نہ لکھ سکا ۔۔
ناراض نہ ہونا ۔۔
میری پاک دامنی پر یقین رکھے وسلام ۔۔
اپ کو میرے ساتھ دوستی پر فخر ہونی چاہیے ۔۔اپ اصل کے ساتھ رہے کم اصل کے ساتھ نہیں۔۔چاہیے اپ نے اچھا کیا یا برا ۔۔
میں اپ سب کی بھلاٸی چاہتا ہوں۔۔♥️🌹🥀🤲🤲🤲💞💞💪💪💪💪💪💪
القادر سکول کے گراونڈ میں چھوٹے بچے بچیاں کھیل رہے تھے ۔
تو ادھر سڑک پر پراجیکٹڈ بالوں والے موٹر ساٸیکل پر سوار ہوکر گزرے ۔تو انہوں نے اشاروں سے ایک دوسرے کو سمجھایا کہ یہ دیکھو ۔۔۔ملطب انکو تکلیف تھی ۔ہمارے بچوں کی خوشی سے ۔ہماری سکول سے ۔ہماری تربیت سے ۔۔
اج ہم سرخ رو ہوگٸے اغیار چلتا بنا ۔
القادر سکول میرا یاد گار میری فیملی کا یادگار ۔
میرے فیملی کو اسے الگ نہ کرے ۔"