31/03/2026
میہڑ تہرے قتل کیس کا فیصلہ: آٹھ سال، تین سو بانوے (392) پیشیاں اور ایک بیٹی کی ننگے پاؤں فریاد شواہد کے ترازو میں ہلکی پڑ گئی.
سندھ کی دھرتی پر جب انا کے بت تراشے جاتے ہیں، تو اکثر ان کی بنیادوں میں کمزوروں کا خون سینچا جاتا ہے۔ میہڑ کے اس تہرے قتل کیس کا آج کا فیصلہ محض ایک عدالتی کارروائی نہیں، بلکہ اس نظام پر ایک گہرا سوالیہ نشان ہے جہاں آٹھ سال، تین سو بانوے (392) پیشیاں اور ایک بیٹی کی ننگے پاؤں فریاد بھی شواہد کے ترازو میں ہلکی پڑ گئی۔
اس خونریز واقعے کی جڑیں ایک دیرینہ زمینی تنازع میں پیوست تھیں۔ ام رباب کے خاندان (چانڈیو برادری کی ایک شاخ) اور علاقے کے بااثر چانڈیو سرداروں کے درمیان زمین کے ایک ٹکڑے پر اختلاف چل رہا تھا۔
مقامی ذرائع اور پولیس ریکارڈ کے مطابق، ام رباب کے والد مختیار چانڈیو اور ان کے خاندان نے سرداروں کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا تھا اور وہ اپنی زمین پر حق ملکیت کے لیے قانونی اور سماجی سطح پر آواز اٹھا رہے تھے۔ سرداری نظام میں اس طرح کی "سرکشی" کو اکثر انا کا مسئلہ بنا لیا جاتا ہے۔
17 جنوری 2018 کی صبح میہڑ (ضلع دادو) کے علاقے میں کرم اللہ چانڈیو (ام رباب کے دادا) کے گھر پر مسلح افراد نے دھاوا بول دیا۔ عینی شاہدین کے مطابق، درجن بھر سے زائد مسلح افراد گاڑیوں میں آئے اور اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ اس فائرنگ کے نتیجے میں ام رباب کے دادا کرم اللہ چانڈیو، ان کے والد مختیار چانڈیو اور ان کے چچا قابل چانڈیو موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔
حملے کے بعد ملزمان باآسانی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے، جس نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا اور پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے۔یہ صرف قتل نہیں تھا، بلکہ ایک پیغام تھا کہ جو سرداری نظام کے سامنے سر اٹھائے گا، اس کا انجام یہی ہوگا۔
اس واقعے نے ایک عام سی لڑکی "ام رباب" کو ایک ایسی جنگجو بنا دیا جس نے سندھ کی روایات کو چیلنج کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ محض زمین کا جھگڑا نہیں تھا بلکہ پیپلز پارٹی کے ایم پی ایز سردار احمد خان چانڈیو اور برہان خان چانڈیو کے حکم پر کیا گیا ایک "سزائے موت" کا عمل تھا تاکہ علاقے میں ان کی ہیبت برقرار رہے۔
اس کیس کی سب سے طاقتور تصویر وہ تھی جب ام رباب چانڈیو انصاف کے حصول کے لیے سپریم کورٹ کے باہر ننگے پاؤں پہنچیں۔ ان کا کہنا تھا کہ:
"جب تک میرے خاندان کے قاتلوں کو سزا نہیں ملتی، میں جوتا نہیں پہنوں گی۔"
ان کی اس علامت نے پورے ملک کی توجہ حاصل کی اور عدلیہ کو اس ہائی پروفائل کیس میں براہِ راست مداخلت کرنی پڑی۔
اس کیس کی تفتیش اور جے آئی ٹی (JIT) کی رپورٹ اس پورے مقدمے کا سب سے متنازع حصہ رہی ہے، کیونکہ اسی تفتیش کی بنیاد پر آج کا فیصلہ سامنے آیا ہے۔ پولیس کی کارروائی اور تحقیقاتی ٹیموں کے قیام کے دوران کئی اہم موڑ آئے۔ واقعے کے فوراً بعد پولیس پر شدید دباؤ تھا کیونکہ نامزد ملزمان (سردار احمد خان اور برہان خان چانڈیو) حکمران جماعت کے طاقتور ایم پی ایز تھے۔ ام رباب چانڈیو نے بارہا الزام لگایا کہ مقامی پولیس شواہد مٹانے اور ملزمان کو فرار ہونے میں مدد دے رہی ہے۔
سپریم کورٹ کے حکم پر ایک اعلیٰ سطح کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (JIT) تشکیل دی گئی تاکہ غیر جانبدارانہ تفتیش ہو سکے۔ جے آئی ٹی کی رپورٹ کے چند اہم نکات یہ تھے۔ رپورٹ میں تصدیق کی گئی کہ فائرنگ کا واقعہ پیش آیا اور تین افراد جان بحق ہوئے۔ جے آئی ٹی نے کچھ ملزمان کی موجودگی اور حملے میں ملوث ہونے کے اشارے دیے، لیکن ماسٹر مائنڈز (ایم پی ایز) کے خلاف براہِ راست ملوث ہونے کے "ٹھوس دستاویزی یا ڈیجیٹل شواہد" کی کمی کا ذکر بھی کیا۔ رپورٹ میں استعمال ہونے والے اسلحے اور گاڑیوں کا ذکر تو تھا، لیکن ان کا تعلق براہِ راست سرداروں کی ذات سے جوڑنا استغاثہ کے لیے مشکل ثابت ہوا۔
اس کیس کے دوران کئی بار تفتیشی افسران (IOs) کو تبدیل کیا گیا۔ ام رباب کا موقف تھا کہ جب بھی کوئی افسر ایمانداری سے تفتیش شروع کرتا، اس کا تبادلہ کر دیا جاتا۔ اس عدم تسلسل نے کیس کی بنیاد کمزور کر دی۔
کیس کے کچھ نامزد ملزمان طویل عرصے تک مفرور رہے۔ پولیس نے کئی بار چھاپوں کا دعویٰ کیا، لیکن بااثر ملزمان اکثر عدالتوں سے حفاظتی ضمانتیں حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں اس بات پر بھی مایوسی کا اظہار کیا تھا کہ مقامی آبادی خوف کی وجہ سے گواہی دینے سے کتراتی ہے۔
ماڈل کورٹ کے جج حسین کلوڑ نے اپنے فیصلے میں اسی جے آئی ٹی اور پولیس تفتیش کے خلا کا فائدہ ملزمان کو دیا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ استغاثہ (Prosecution) یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا کہ قتل کے احکامات براہِ راست سرداروں نے دیے تھے۔ گواہوں کے بیانات میں تضاد اور موقع کے آزاد گواہوں کی عدم موجودگی نے ملزمان کے حق میں کام کیا۔
یہ کیس اس بات کی کلاسک مثال بن گیا ہے کہ پاکستان میں "نظامِ انصاف" کتنا کمزور ہے، جہاں طاقتور افراد کے خلاف تفتیش کو منطقی انجام تک پہنچانا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔