PTI Chunian

PTI Chunian Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from PTI Chunian, Education, .

میہڑ تہرے قتل کیس کا فیصلہ: آٹھ سال، تین سو بانوے (392) پیشیاں اور ایک بیٹی کی ننگے پاؤں فریاد شواہد کے ترازو میں ہلکی پ...
31/03/2026

میہڑ تہرے قتل کیس کا فیصلہ: آٹھ سال، تین سو بانوے (392) پیشیاں اور ایک بیٹی کی ننگے پاؤں فریاد شواہد کے ترازو میں ہلکی پڑ گئی.

سندھ کی دھرتی پر جب انا کے بت تراشے جاتے ہیں، تو اکثر ان کی بنیادوں میں کمزوروں کا خون سینچا جاتا ہے۔ میہڑ کے اس تہرے قتل کیس کا آج کا فیصلہ محض ایک عدالتی کارروائی نہیں، بلکہ اس نظام پر ایک گہرا سوالیہ نشان ہے جہاں آٹھ سال، تین سو بانوے (392) پیشیاں اور ایک بیٹی کی ننگے پاؤں فریاد بھی شواہد کے ترازو میں ہلکی پڑ گئی۔

اس خونریز واقعے کی جڑیں ایک دیرینہ زمینی تنازع میں پیوست تھیں۔ ام رباب کے خاندان (چانڈیو برادری کی ایک شاخ) اور علاقے کے بااثر چانڈیو سرداروں کے درمیان زمین کے ایک ٹکڑے پر اختلاف چل رہا تھا۔

مقامی ذرائع اور پولیس ریکارڈ کے مطابق، ام رباب کے والد مختیار چانڈیو اور ان کے خاندان نے سرداروں کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا تھا اور وہ اپنی زمین پر حق ملکیت کے لیے قانونی اور سماجی سطح پر آواز اٹھا رہے تھے۔ سرداری نظام میں اس طرح کی "سرکشی" کو اکثر انا کا مسئلہ بنا لیا جاتا ہے۔

17 جنوری 2018 کی صبح میہڑ (ضلع دادو) کے علاقے میں کرم اللہ چانڈیو (ام رباب کے دادا) کے گھر پر مسلح افراد نے دھاوا بول دیا۔ عینی شاہدین کے مطابق، درجن بھر سے زائد مسلح افراد گاڑیوں میں آئے اور اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ اس فائرنگ کے نتیجے میں ام رباب کے دادا کرم اللہ چانڈیو، ان کے والد مختیار چانڈیو اور ان کے چچا قابل چانڈیو موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔
حملے کے بعد ملزمان باآسانی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے، جس نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا اور پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے۔یہ صرف قتل نہیں تھا، بلکہ ایک پیغام تھا کہ جو سرداری نظام کے سامنے سر اٹھائے گا، اس کا انجام یہی ہوگا۔

اس واقعے نے ایک عام سی لڑکی "ام رباب" کو ایک ایسی جنگجو بنا دیا جس نے سندھ کی روایات کو چیلنج کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ محض زمین کا جھگڑا نہیں تھا بلکہ پیپلز پارٹی کے ایم پی ایز سردار احمد خان چانڈیو اور برہان خان چانڈیو کے حکم پر کیا گیا ایک "سزائے موت" کا عمل تھا تاکہ علاقے میں ان کی ہیبت برقرار رہے۔

اس کیس کی سب سے طاقتور تصویر وہ تھی جب ام رباب چانڈیو انصاف کے حصول کے لیے سپریم کورٹ کے باہر ننگے پاؤں پہنچیں۔ ان کا کہنا تھا کہ:

"جب تک میرے خاندان کے قاتلوں کو سزا نہیں ملتی، میں جوتا نہیں پہنوں گی۔"

ان کی اس علامت نے پورے ملک کی توجہ حاصل کی اور عدلیہ کو اس ہائی پروفائل کیس میں براہِ راست مداخلت کرنی پڑی۔

اس کیس کی تفتیش اور جے آئی ٹی (JIT) کی رپورٹ اس پورے مقدمے کا سب سے متنازع حصہ رہی ہے، کیونکہ اسی تفتیش کی بنیاد پر آج کا فیصلہ سامنے آیا ہے۔ پولیس کی کارروائی اور تحقیقاتی ٹیموں کے قیام کے دوران کئی اہم موڑ آئے۔ واقعے کے فوراً بعد پولیس پر شدید دباؤ تھا کیونکہ نامزد ملزمان (سردار احمد خان اور برہان خان چانڈیو) حکمران جماعت کے طاقتور ایم پی ایز تھے۔ ام رباب چانڈیو نے بارہا الزام لگایا کہ مقامی پولیس شواہد مٹانے اور ملزمان کو فرار ہونے میں مدد دے رہی ہے۔

سپریم کورٹ کے حکم پر ایک اعلیٰ سطح کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (JIT) تشکیل دی گئی تاکہ غیر جانبدارانہ تفتیش ہو سکے۔ جے آئی ٹی کی رپورٹ کے چند اہم نکات یہ تھے۔ رپورٹ میں تصدیق کی گئی کہ فائرنگ کا واقعہ پیش آیا اور تین افراد جان بحق ہوئے۔ جے آئی ٹی نے کچھ ملزمان کی موجودگی اور حملے میں ملوث ہونے کے اشارے دیے، لیکن ماسٹر مائنڈز (ایم پی ایز) کے خلاف براہِ راست ملوث ہونے کے "ٹھوس دستاویزی یا ڈیجیٹل شواہد" کی کمی کا ذکر بھی کیا۔ رپورٹ میں استعمال ہونے والے اسلحے اور گاڑیوں کا ذکر تو تھا، لیکن ان کا تعلق براہِ راست سرداروں کی ذات سے جوڑنا استغاثہ کے لیے مشکل ثابت ہوا۔

اس کیس کے دوران کئی بار تفتیشی افسران (IOs) کو تبدیل کیا گیا۔ ام رباب کا موقف تھا کہ جب بھی کوئی افسر ایمانداری سے تفتیش شروع کرتا، اس کا تبادلہ کر دیا جاتا۔ اس عدم تسلسل نے کیس کی بنیاد کمزور کر دی۔

کیس کے کچھ نامزد ملزمان طویل عرصے تک مفرور رہے۔ پولیس نے کئی بار چھاپوں کا دعویٰ کیا، لیکن بااثر ملزمان اکثر عدالتوں سے حفاظتی ضمانتیں حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں اس بات پر بھی مایوسی کا اظہار کیا تھا کہ مقامی آبادی خوف کی وجہ سے گواہی دینے سے کتراتی ہے۔

ماڈل کورٹ کے جج حسین کلوڑ نے اپنے فیصلے میں اسی جے آئی ٹی اور پولیس تفتیش کے خلا کا فائدہ ملزمان کو دیا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ استغاثہ (Prosecution) یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا کہ قتل کے احکامات براہِ راست سرداروں نے دیے تھے۔ گواہوں کے بیانات میں تضاد اور موقع کے آزاد گواہوں کی عدم موجودگی نے ملزمان کے حق میں کام کیا۔

یہ کیس اس بات کی کلاسک مثال بن گیا ہے کہ پاکستان میں "نظامِ انصاف" کتنا کمزور ہے، جہاں طاقتور افراد کے خلاف تفتیش کو منطقی انجام تک پہنچانا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔




01/10/2025

‏ہم غزہ سے مزید قریب ہو گئے ہیں اور اب ہمیں دور سے اسرائیلی جہاز اپنی جانب آتے دکھائی دے رہے ہیں۔ عین ممکن ہے کہ آج رات ہم پر حملہ کیا جائے۔ میرا موبائل پہلے ہی اسرائیل نے جام کر دیا ہے لہذا اب اس ناکارہ فون کو میں سمندر برد کرتا ہوں۔
آپ سب سے یہی اپیل ہے جو میں گزشتہ ڈیڑھ سال سے کرتا آیا ہوں کہ اگر آپ غزہ نہیں آ سکتے تو کم از کم تمام دینی و سیاسی جماعتیں اور تمام پاکستانی امریکی سفارت خانے پر لا متناہی پر امن دھرنا دیں کیونکہ امریکہ اس نسل کشی میں اسرائیل کے ساتھ برابر کا شریک ہے۔



23/08/2025

غزہ میں ایک باپ اپنے خوفزدہ بیٹے کو گلے لگائے ہوئے ہے، جب کہ قریب ہی ہونے والے دھماکوں نے پورے گھر کو ہلا کر رکھا ہوا ہے
ذرا اس والد کی جگہ خود کو اور اس بچے کی جگہ اپنے بچے کو رکھ کر دیکھیں اور پھر اپنے گریبان میں جھانکیں کہ ہم اپنے ان مظلوم بھائیوں کے لیے کیا کر رہے ہیں؟؟؟
United Nations
United Nations Human Rights
Human Rights Watch

کہنا کیا چاہتا ہے یہ بندہ؟Fakhar Kasur Rana Irfan Haider PTI Lahore
22/08/2025

کہنا کیا چاہتا ہے یہ بندہ؟
Fakhar Kasur
Rana Irfan Haider
PTI Lahore

الجزیرہ کی زندہ بچ جانے والی نامہ نگار یسریٰ العکلوق نے انس الشریف شہیدؒ کی بیوہ بیان کا انٹرویو کیا ہے۔ جس کے مندرجات ع...
18/08/2025

الجزیرہ کی زندہ بچ جانے والی نامہ نگار یسریٰ العکلوق نے انس الشریف شہیدؒ کی بیوہ بیان کا انٹرویو کیا ہے۔ جس کے مندرجات عرب سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکے ہیں۔ آیئے غزہ کے سب سے مشہور صحافی کی دلدوز یادیں تازہ کرتے ہیں۔
انس ایک رات اچانک، بنا کسی اطلاع کے گھر آ گئے۔ وہ آخری جمعہ اور آخری ملاقات تھی۔ طویل جدائی کے بعد اچانک نمودار ہوئے اور جب دروازے پر کھڑے اپنی کھلی باہوں کے ساتھ سامنے آئے تو بیان کو لگا جیسے سارا جہان اُن کی آغوش میں سمٹ آیا ہو۔ اس بار انہوں نے خلافِ معمول سیدھا اپنے بچوں کی طرف رُخ کیا، ضد کر کے انہیں نیند سے جگایا اور باری باری دونوں کو بانہوں میں اُٹھایا۔ کبھی فضا میں اچھالتے اور پھر سینے سے لگاتے، بار بار انہیں گود میں گھماتے جیسے آنے والے دنوں کی تنہائی کے لیے اُن کی ہنسی اور معصوم خوشبو کو اپنے اندر محفوظ کر لینا چاہتے ہوں۔ انس کبھی صوفے پر بیٹھتے، کبھی زمین پر دراز ہوتے اور کبھی بستر پر لیٹ کر دونوں بازو پھیلا دیتے۔ اُن کا بدن تھکن سے نڈھال تھا اور پہلی بار انہوں نے کھل کر اس تھکن کا اعتراف کیا۔ ہم دیر تک باتیں کرتے رہے۔ میں نے اُن کے چہرے پر ایسا انکسار اور تھکن دیکھی جو پہلے کبھی نہ تھی۔ پہلی بار انہوں نے کہا کہ انہیں سکون اور ایک سادہ، بے خوف زندگی کی چاہت ہے۔”
اس شب انس کے پاس نہ موبائل فون تھا، نہ خبریں، نہ ہنگامے۔ وہ صرف اپنے احساسات لے کر آئے تھے اور گھر کی دیواروں کے بیچ ایسے پھرتے جیسے تتلی اپنی خوشبو بکھیرتی ہے۔ ان کی آنکھوں میں ایک گہرا سکوت تھا اور آغوش میں چھپا ہوا ایک خاموش الوداع۔ میرے دل میں ایک صدا ابھری:”کیا یہ آخری ملاقات ہے؟” مگر میں نے اُس صدا کو دبا دیا اور خود کو قائل کر لیا کہ یہ صرف شوق کی شدت ہے، وداع کی کیفیت نہیں۔
چند گھنٹے بعد انس نے رخصت ہونے کا ارادہ کیا۔ ان کے ہر قدم کے ساتھ مجھے یوں محسوس ہوتا جیسے کوئی خنجر میرے دل میں پیوست ہو رہا ہو۔ دروازے پر پہنچ کر وہ پلٹے، مسکرائے اور بولے: “وعدہ ہے کہ تمہاری سالگرہ میں دوبارہ ملاقات ہوگی، تب واپس آؤں گا اور میرے ہاتھوں میں تمہارے لیے ایک تحفہ بھی ہوگا۔” میں جانتی تھی کہ انس ہمیشہ میری خوشیوں کو ایک تہوار بنا دیتے تھے۔ بہرحال میں نے بوجھل قدموں کے ساتھ اُنہیں رخصت کرکے واپس پلٹ گئی اور وہ نظروں سے اوجھل ہوگئے۔
اس ملاقات کے صرف 48 گھنٹوں بعد وہ دن آیا جسے میں اپنی زندگی کا سب سے خوبصورت دن سمجھتی تھی میری سالگرہ، 14 اگست کا دن۔ مگر اس روز انس کسی تحفے کے ساتھ تو نہ لوٹے۔ وہ گھر تو آئے، مگر کندھوں پر سوار ہوکر، خاموش، بے صدا، نہ کوئی تحفہ، نہ کوئی حیرانی، نہ کوئی بغل گیری۔ مجھے صرف ایک منٹ دیا گیا کہ اپنے محبوب شوہر کا آخری دیدار کر سکوں۔ میں نے روتے ہوئے کہا: “کفن کھولو، میں اُن کا چہرہ دیکھنا چاہتی ہوں، ان کے رخسار پر الوداعی بوسہ ثبت کرنا چاہتی ہوں۔” مگر قریب موجود لوگوں نے انکار کیا، کیونکہ انس کی آنکھیں باقی نہ رہی تھیں۔ میں نے کپکپاتے ہاتھوں سے کفن پر اپنا چہرہ رکھا اور زارو قطار رونے لگی: “اس کا جسم سرد ہے، مگر گوشت اب بھی نرم ہے…”
انس کی داستان محض ایک صحافی کی شہادت نہیں، بلکہ ایک شوہر، ایک باپ اور ایک عاشقِ وطن کی جاودانی ہے۔ مگر سب سے بڑھ کر یہ ایک بیوہ کا نوحہ ہے، جس کا دل اب ٹوٹ پھوٹ کر گھل رہا ہے اور جو دنیا سے فریاد کر رہی ہے: میرا دل کون لوٹائے گا؟
محض ایک منٹ کی مہلت تھی، جس میں “بیان” (انس کی بیوہ) نے اپنے شوہر کے کانوں میں آہستہ سے بس ایک سوال سرگوشی کیا: “کہاں گیا وہ وعدہ جو تم نے کیا تھا کہ ہم اکٹھے مریں گے تاکہ کوئی بھی دوسرے کی جدائی کا زخم نہ سہہ سکے؟ ہم نے تو ایسا طے نہیں کیا تھا میرے محبوب، کیا تم نے وعدہ نہیں کیا تھا کہ میری سالگرہ کے دن واپس آؤ گے؟” یہ جملے ابھی لبوں پر ہی تھے کہ لوگوں نے انس کو اُس کے سامنے سے اُٹھا لیا اور کندھوں پر رکھ کر آخری آرام گاہ کی طرف لے کر چل پڑے۔
الجزیرہ نے انس الشریف کی بیوہ، بیان خاتون سے ملاقات عین اُس دن کی جب اُن کا جنم دن تھا۔ مگر اب یہ دن اُن کی زندگی میں ایک نیا عنوان پا چکا ہے، سالگرہ نہیں، بلکہ غم اور تعزیت کا دن۔ ہمارے سامنے وہ بیٹھی تھیں، ایک تھکا ماندہ جسم، سوجی ہوئی آنکھیں اور درد سے جھکا ہوا سر۔ وہ تحفہ جس کا وعدہ تھا نہ آسکا، آیا تو ایک کڑوا اور بے رحم وداع، جو موت کی طرح اچانک اور بے خبر تھا۔ انس کی ننھی بیٹی شام بھی اُس غم کی زندہ تصویر ہے۔ جب وہ اپنے والد کی خیمہ گاہ ڈھونڈنے گئی تو نہ خیمہ تھا نہ اُس کا شفیق باپ۔ وہ واپس آئی تو آنکھوں میں سوالات اور دل میں خلا لیے، ایک خلا جو کبھی پُر نہ ہوگا۔
انس کو دھمکیاں روز ملتی تھیں، مگر آخری دھمکی کچھ اور ہی تھی۔ قابض فوج نے فون پر کہا: “ہم تمہاری کمر تمہاری بیوی اور بچوں سے توڑ دیں گے۔ ہم اُن کا ٹھکانہ جانتے ہیں اور انہیں قتل کریں گے۔” یہ وہ الفاظ تھے، جنہوں نے انس کے دل میں ایک الگ ہی نوعیت کا خوف بھر دیا۔ اُس نے بیان سے فوراً گھر چھوڑنے کو کہا، کیونکہ اُسے لگا کہ اس بار دشمن اپنے ارادے میں سنجیدہ ہے۔ یہ اندیشہ انس کو آخری سانس تک کچوکے دیتا رہا۔ بمباری سے محض پانچ منٹ قبل اُس نے بیان کو فون کیا۔ اُس کی آواز میں ایک پوشیدہ سوز تھا، جسے بیان نے فوراً محسوس کر لیا۔ اُس نے کہا: “بیان، سمجھ نہیں آ رہا کیا کروں۔ تمہارے لیے خوفزدہ ہوں۔ رپورٹنگ کے لیے نکلتا ہوں مگر دماغ تمہارے پاس ہی ہے۔” پھر اچانک اُس نے وصیت کی: “تمہیں لازماً غزہ سٹی چھوڑ کر جنوب جانا ہوگا۔ اگر شمال اور جنوب کے درمیان رکاوٹیں ڈال دیں تو تم محفوظ نہ رہو گی۔ وہ تمہیں میرے خلاف ہتھیار بنائیں گے اور میرے لیے موت اُس ذلت سے آسان ہے۔” مگر ہمیشہ کی طرح بیان نے انکار کر دیا۔ اُس نے کہا: “میں سب کچھ کر سکتی ہوں مگر تم سے دوری برداشت نہیں کر سکتی۔ یہ خیال فوراً دل سے نکال دو۔”
یوں انس اپنی آخری ہچکچاہٹ اور فکر کے ساتھ زندگی کی اُس سرحد کو عبور کر گئے، جہاں سے واپسی نہیں۔ پیچھے رہ گئی ایک بیوہ جس کا دل مسلسل گھل رہا ہے اور ایک ننھی شام جس کی معصومیت کو بابا کی جدائی نے ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ محض پانچ منٹ کا وقفہ تھا انس کے آخری فون کال کے اختتام اور اُس ہولناک حملے کے درمیان۔ انہی لمحوں میں وہ اپنی بیوی کو بار بار سمجھانے کی ناکام کوشش کرتے رہے کہ وہ فوراً غزہ شہر سے نکل کر وسطی علاقے کی طرف چلی جائیں، اس اندیشے سے کہ کہیں دشمن زمینی یلغار نہ کر دے۔ مگر بیان کے لیے یہ فیصلہ ممکن نہ تھا۔ اس سے قبل بھی انہیں کئی مواقع ملے کہ وہ غزہ چھوڑ دیں، لیکن ہر بار انہوں نے انکار کیا۔ جب ہم نے اُن سے پوچھا: “آخر تم نے بار بار انکار کیوں کیا؟” تو اُنہوں نے اشک بار لہجے میں کہا: “انس ہی میری پوری زندگی ہے۔ میں کیسے اُسے اس کے بچوں کی صورت سے محروم کر دیتی، جب کہ انہی لمحات کی دید اسے زندگی کا سہارا دیتی تھی؟ میں کیسے غزہ سے نکل کر سکون پاتی جبکہ وہ تنہا جنگ کے دکھ سہتا رہتا؟ میں کیسے اسے بیابان سڑکوں اور کھنڈر نما راستوں پر اکیلا چھوڑ دیتی؟”
انس الشریف، اس کہانی کا مرکزی کردار 3 دسمبر 1996 کو پیدا ہوئے۔ وہ سات بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ پانچ برس قبل شادی کی اور اللہ نے اُنہیں دو بچوں سے نوازا۔ اُن کی بڑی بیٹی شام ہے، عمر محض پانچ برس۔ انس نے اپنی وصیت کا آغاز بھی اُسی کے نام سے کیا تھا، گویا وہی اُن کے دل کی سب سے پہلی دھڑکن تھی۔ بیان کہتی ہیں: “انس نے جیا بھی شام کے لیے اور اپنی آخری وصیت بھی شام ہی کے نام لکھی۔”
انس شہیدؒ کے بیٹے کا نام صلاح ہے، جو جنگ کی کوکھ میں پیدا ہوا۔ محض ڈیڑھ سال کا ہے۔ ابھی ابھی اس نے اپنے بابا کے چہرے کو پہچاننا شروع کیا تھا اور “بابا” کی صدا اُس کی زبان پر سجنے لگی تھی۔ مگر دجالی قوت نے یہ تعلق توڑ دیا اور اُسے اس شفقت سے محروم کر دیا جو ابھی اُس کے نصیب میں لکھی ہی نہ گئی تھی۔ بیان کی آنکھوں سے آنسو بہتے ہیں جب وہ کہتی ہیں:”اگر انس اور صلاح کے اکٹھے دنوں کو گنوں تو آدھا مہینہ بھی نہیں بنتا۔” اب صلاح کے پاس جب باپ کی یاد کی پیاس جاگتی ہے تو ماں کے پاس اس کے سوا کوئی سہارا نہیں کہ اسے انس کی تصویریں دکھائے یا اُن کے ویڈیوز سنائے۔ چند لمحے کے لیے جب وہ باپ کی آواز کانوں میں سنتا ہے تو اُس کا ننھا دل کچھ دیر کے لیے ٹھہر سا جاتا ہے، لیکن پھر وہی خلا، وہی پکار “بابا” مگر جواب دینے والا کوئی نہیں ہوتا۔
یسریٰ العکلوق کا کہنا ہے کہ گفتگو کے دوران اچانک ننھی شام کمرے میں داخل ہوئی۔ ہر وقت چہچہاتی شام کے معصوم چہرے سے مسکراہٹ رخصت ہو چکی ہے۔ قدموں میں لرزش، آنکھوں میں ہیبت اور چہرے پر بے بسی کی لکیریں۔ اب وہ ہر وقت ماں کے دامن سے چمٹی رہتی ہے کہ کہیں وہ بھی بابا کی طرح اسے چھوڑ نہ جائے، مگر یہ غزہ ہے جہاں وصل کے فصل میں بدلتے دیر نہیں لگتی۔ صبح ماں باپ کا سائبان سلامت اور شام کو یتیمی کی چادر تنی ہوئی۔ شام ماں کے دامن سے ایسے لپٹی رہتی ہے جیسے کوئی کشتی طوفان میں لنگر تلاش کرے۔ بیان کا بیان ہے کہ شام بضد ہے کہ مجھے اپنا پاپا سے ملنا ہے۔ اس کے اصرار پر میں اسے انس شریف کے خیمے میں لے گئی، جہاں شام نے اپنے پاپا کو تلاش کیا، مگر وہاں نہ خیمہ تھا نہ خیمے کا مکین۔ اُس نے سوال کیا، بابا کہاں ہیں؟ اور میں نے تسلی دی: “وہ جنت میں ہیں، تمہارے دادا کے پاس۔” مگر بچی کا دل کاغذ نہیں کہ آسانی سے لکھ دیا جائے اور یقین آ جائے۔ شام نے میرا فون تھام لیا اور ضد کرنے لگی کہ مجھے بابا کی آواز سننی ہے۔ میں نے ٹوٹتے دل کے ساتھ کہا: “بابا تھکے ہوئے ہیں میری جان، وہاں آرام کر رہے ہیں، اس لیے فون اپنے ساتھ نہیں لے گئے۔” مگر یہ کہانی شام کو مطمئن نہ کر سکی، بالکل اُسی طرح جیسے وہ لمحہ جب رخصتی پر اس کے سامنے ایک اسٹریچر پر بے جان جسم رکھا گیا تھا۔ اُس نے سوالیہ لہجے میں کہا تھا: “یہ بابا نہیں، بابا تو اپنے پیروں پر چل سکتے ہیں۔”
انس کی اہلیہ نے بتایا: “شام ہمیشہ اپنے بابا انس سے پوچھتی تھی کہ وہ ہمارے ساتھ کیوں نہیں رہتے؟ انس جواب دیتے: بیٹی، دشمن مجھے مار دینا چاہتا ہے۔ تو شام معصومیت سے اُنہیں گلے لگاتی، دونوں ہاتھوں سے اُن کا چہرہ تھام لیتی اور کہتی: بابا نہ ڈریں، وہ آپ کو ہرگز نہیں مار سکیں گے۔ انس کی زندگی کا سفر بھی ایک درد بھری کہانی ہے۔ انہوں نے جامعہ الاقصیٰ میں ریڈیو اور ٹیلی ویژن کی تعلیم حاصل کی۔ پھر آزاد فوٹوگرافر کے طور پر میدانِ جدوجہد میں اترے۔ اُن کے کیمرے کا شیشہ محض منظر قید نہیں کرتا تھا، بلکہ قابض دشمن کے مظالم کی شہادت بن جاتا تھا اور جب غزہ پر تازہ قیامت ٹوٹی تو انس نے رفتہ رفتہ الجزیرہ کے ساتھ کام شروع کیا اور بالآخر اُس کے نمائندے بن گئے۔ وہ نمائندہ جو اپنی جان کی قیمت پر سچ کو زندہ رکھتا رہا، یہاں تک کہ خود سچ کی راہ میں قربان ہوگیا۔
انس کی کہانی محض ایک صحافی کی نہیں، بلکہ ایک باپ کی، ایک شوہر کی اور ایک عاشقِ وطن کی کہانی ہے۔ مگر سب سے بڑھ کر یہ ایک ننھی شام کی ادھوری مسکراہٹ کی کہانی ہے جو آج بھی بابا کی آواز سننے کے لیے ماں کا فون تھامے بیٹھی ہے اور تڑپ رہی ہے۔
بیان کے مطابق: “انس پہلے ہی ایک صاحبِ پیغام انسان تھے، توانائی سے بھرپور، مخلص اور نڈر۔ میں نے انہیں اُبھارا کہ وہ الجزیرہ کا حصہ بنیں، کیونکہ میں جانتی تھی کہ وہ حق کی تصویر بہتر طور پر دنیا کے سامنے رکھ سکتے ہیں۔” بیان مزید کہتی ہیں: “جب انس الجزیرہ میں شامل ہوئے تو انہوں نے سمجھا کہ اللہ نے انہیں ایک ایسا پلیٹ فارم دیا ہے جس پر وہ مظلوموں کی آواز بنیں اور اُن پر لازم ہے کہ اس امانت کو بہترین طریقے سے نبھائیں۔”
مگر جلد ہی دھمکیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ ایسے میں بیان اُنہیں حوصلہ دیتی اور تنبیہ کرتی: “انس، احتیاط سے، بلا خطرہ کام کیجیے۔ یاد رکھیں ہم سب کو آپ کی ضرورت ہے۔” اور انس جواب دیتے: “اللہ ہی محافظ ہے اور ہمیں وہی کچھ پہنچے گا جو اُس نے ہمارے لیے لکھ دیا ہے۔”
بیان کی زندگی کے وہ بائیس ماہ جیسے صدیوں پر محیط تھے۔ انتظار، جدائی، خوف اور تنہائی کا بوجھ وہ اپنے دو بچوں کے ساتھ اٹھائے رہی اور انس، جو ساتھ ہوتے ہوئے بھی گویا غیر موجود تھے۔ وہ بتاتی ہیں:” جتنا بھی ذہنی دباؤ سہتی، انس سے ملاقات اور اُن کی قربت میری تمام تکالیف کو مٹا دیتی۔ اُن کے الفاظ میرے لیے ڈھارس تھے، وہی میرا حوصلہ اور صبر کا سہارا تھے۔” پھر اچانک بیان رکتی ہے، کمرے پر نظر دوڑاتی ہے اور آنکھوں میں نمی لیے سوال کرتی ہے: “اب مجھے کس کے لیے چھوڑ گئے؟ اے انس، میں اپنی طاقت کہاں سے لاؤں؟”
انس اور ان کے گھر کے درمیان صرف چند منٹ اور دو گلیوں کا فاصلہ تھا، لیکن ملاقاتیں محدود رہتی تھیں۔ انہیں ڈر تھا کہ دشمن کہیں اُنہیں قریب پاکر اہلِ خانہ کو بھی نشانہ نہ بنالے۔ مگر انس کی آواز بچوں سے کبھی کٹتی نہ تھی۔ بیان کہتی ہیں: “میرے دل پر قہر سا گزرتا جب بھی اُن سے پوچھتی کہ کب وہ دن آئے گا جب ہم سب ایک ہی چھت تلے، بغیر کسی خطرے یا چھپنے کے، سکون سے جی سکیں گے؟”
بہت سوں کو شاید “مکمل انسان” کہنا مبالغہ لگے، مگر بیان کے لیے یہ الفاظ بھی انس کی سیرت کے مقابلے میں کم ہیں۔ وہ پُر یقین لہجے میں کہتی ہیں: “انس مثالی شوہر تھے، مثالی بیٹے اور مثالی باپ۔ خدا کی قسم، اُن جیسا ہم دوبارہ نہیں پائیں گے۔”
شہادت سے صرف پانچ دن پہلے انس نے بیان کو ایک پیغام بھیجا، جس میں کئی وصیتیں درج تھیں۔ سب سے پہلی یہ کہ اُن کے جانے پر آنسو نہ بہائے۔ پھر کہا کہ بچوں کو تعلیم ضرور دلانا، اُنہیں اُس تربیت سے گزارنا جس کا وہ خواب دیکھتے تھے اور اپنی وہ تعلیم مکمل کرنا جو انس نے ان کے لیے منتخب کی تھی۔ اپنی ماں کا خاص خیال رکھنے کی بھی تلقین کی اور آخر میں لکھا: “بیان، میرا پچھلے دنوں کی گھر میں عدم موجودگی ثابت کر چکی ہے کہ تم مضبوط اور باصلاحیت ہو۔ میں تم پر بھروسہ کرتا ہوں۔”
بیان کے لیے ان جملوں کی تکلیف لفظوں سے زیادہ تھی۔ وہ صرف کہہ پائیں: “ایسا نہ کہیے، خدا آپ کو لمبی عمر دے یا پھر ہم دونوں اکٹھے دنیا چھوڑیں۔”
انس کے تعزیتی اجتماع میں شہداء کی مائیں اُن کی والدہ کو گھیرا ڈالے ہوئے تھیں اور شہداء کی بیویاں ایک دوسرے کے زخموں پر مرہم رکھنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ ہر ایک اپنی کہانی سناتی اور دوسروں کے دکھ کو ہلکا کرتی۔ لیکن انس کی کہانی میں سب کے لیے تسلی کا پیغام تھا۔ کوئی بڑھ کر بیان سے کہتا: “سر اُٹھا کر جیو، تمہارا شوہر فخر ہے۔ اُس نے بہت محنت کی اور اب اُسے آرام نصیب ہوا ہے۔”
ان سب کے درمیان بیان کی نگاہ بار بار گھڑی پر ٹھہر جاتی اور اُن کی آنکھیں موبائل کی اسکرین پر جمی رہتیں، جہاں انس کی تصویر روشن تھی۔ وہ آہستہ سے اپنے سر کو میری جانب جھکا کر بولیں: “میں جو خود بھی پرانے داغ رکھتی ہوں، مجھے لگتا ہے وہ ابھی فون کرے گا یا اچانک آکر ثابت کر دے گا کہ یہ سب غلط ہے۔” پھر اپنی نشست سیدھی کرتے ہوئے زیرِ لب کہنے لگیں: “میرا دل اندر ہی اندر پگھل رہا ہے… کون ہے جو میرا سرتاج مجھے لوٹا سکے؟”

16/08/2025

پنجاب حکومت نے سرکاری سکولوں سے 43960 اساتذہ کی آسامیاں ختم کر دی

ایس ایس ای/ ایس ایس ٹی (گریڈ 16) کی 53 آسامیاں ختم کی گئی

ایس ای ایس ای/ ای ایس ٹی (گریڈ 15) کی 283 آسامیاں ختم کی گئی

ای ایس ای/ پی ایس ٹی (گریڈ 14) کی 43624 آسامیاں ختم کی گئی

سرکاری سکولوں کو پرائیویٹ اداروں اور این جی اوز کے حوالے کرنے کے منصوبے پر تیزی سے عمل درآمد جاری
Well-done Rana Sikandar Hayat 🖕

پاک فوج کے سربراہ عاصم منیر:اگر بھارت ڈیم تعمیر کرے گا تو پاکستان اسے میزائل سے تباہ کر دے گا۔اب حافظ کو کون بتائے کہ اگ...
12/08/2025

پاک فوج کے سربراہ عاصم منیر:

اگر بھارت ڈیم تعمیر کرے گا تو پاکستان اسے میزائل سے تباہ کر دے گا۔

اب حافظ کو کون بتائے کہ اگر بھارت دریائے سندھ پر ڈیم بنائے اور پاکستان اسے میزائل سے تباہ کرے تو پانی کا بہاؤ پاکستان کی طرف ہوگا جو شدید سیلاب کا سبب بن سکتا ہے۔ یہ دھمکی حقیقت میں پاکستان کو ہی نقصان پہنچا سکتی ہے۔

شام کے علاقے رقہ میں فرات دریا کے خشک ہونے پر دیہاتیوں کو سونے کے ذرات ملے۔قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک دریائے فرات...
31/07/2025

شام کے علاقے رقہ میں فرات دریا کے خشک ہونے پر دیہاتیوں کو سونے کے ذرات ملے۔
قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک دریائے فرات سونا اُگل نہ دے، جس پر لوگ لڑیں گے، اور ہر 100 میں سے 99 مارے جائیں گے، اور ہر ایک کہے گا کہ شاید میں بچ جاؤں۔"

"ایک پرچی… اور ختم ہوتی ایک زندگی"سرگودھا کی ہوا آج کچھ بوجھل سی ہے…درخت خاموش ہیں، جیسے کسی نوحے میں ڈوبے ہوں…سپورٹس اس...
30/07/2025

"ایک پرچی… اور ختم ہوتی ایک زندگی"

سرگودھا کی ہوا آج کچھ بوجھل سی ہے…
درخت خاموش ہیں، جیسے کسی نوحے میں ڈوبے ہوں…
سپورٹس اسٹیڈیم کے قریب، جہاں کبھی قہقہے گونجتے تھے، آج ایک نوجوان کی خاموش لاش پڑی ہے۔
نام تھا محمد طیب… عمر صرف چوبیس سال… زندگی کے اصل رنگ دیکھنے سے پہلے ہی، وہ اس اسٹیج سے پردہ کر گیا۔

اس کی جیب میں ایک پرچی ملی…
نہ کوئی شاعری تھی، نہ خوابوں کی فہرست…
صرف ادھار کی تفصیل تھی…
اور ایک سطر… جو دل چیر کر رکھ دیتی ہے:
"گھر والوں سے التجا ہے کہ میرا یہ ادھار دے دینا، تاکہ میرے اوپر کچھ عذاب کم ہو سکے…" 😢

یہ الفاظ ایک تھکی ہوئی روح کے تھے، جو اس معاشی بوجھ تلے دب کر چیخ تو نہ سکی، پر الفاظ میں اپنا درد چھوڑ گئی۔

کتنا اکیلا تھا وہ لمحہ، جب طیب نے دنیا کی بےرخی، رشتوں کی خاموشی، اور حالات کی بےرحمی کو مات دے کر اپنے آپ کو ہی سزا دے دی۔

کسے آواز دی ہو گی اُس نے آخری لمحے میں؟
کسے دیکھنے کو دل کیا ہوگا؟
ماں؟
باپ؟
یا وہ قرض خواہ جو روز اس کے دروازے پر تیز آواز سے دستک دیتا تھا؟

یہ محض ایک خودکشی نہیں… یہ ایک سوال ہے،
ہمارے سماج کے نام،
ہماری حکومت کے نام،
اور ہم سب کے ضمیر کے نام:

کیا ہم واقعی اتنے مصروف ہو چکے ہیں کہ ایک نوجوان کی خاموش چیخیں سننے کا وقت بھی نہیں؟

آج طیب چلا گیا… کل شاید کوئی اور ہو…

آؤ اس نظام کو بدلیں
آؤ امید بنیں
آؤ ایک ہاتھ تھامیں، قبل اس کے کہ کوئی اور ہاتھ ہمیشہ کے لیے چھوٹ جائے۔

اللہ محمد طیب کو اپنی رحمت میں جگہ دے
اور ہم سب کو وہ احساس دے، جو ہمیں انسان بناتا ہے۔

إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ

30/07/2025

کسی بھی صوبے میں آپریشن صوبائی حکومت کی درخواست اور آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت فوج کی طلبی کے بعد ہی کیا جاتا ہے۔ اگر گنڈاپور باجوڑ آپریشن میں ملوث نہیں ہیں تو ڈی سی باجوڑ اب تک اپنے عہدے پر کیوں برقرار ہیں؟ کیا گنڈاپور کی وزارتِ قانون، وزیرِ قانون یا ایڈووکیٹ جنرل نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا کہ اُن کے صوبے میں بغیر اجازت کے آپریشن شروع کر دیا گیا ہے؟

30/07/2025

‏صدر اور وزیراعظم دونوں کی چینی کی ملیں ہیں پھر بھی ملک میں چینی کا بحران ہے
اس سے اندازہ لگا لیں ملک کتنے محفوظ ہاتھوں میں ہے

14/06/2025

بے آواز ماتم: صیہونی ریاست کی چھپی ہوئی شکست

صیہونی ریاست کی میڈیا پالیسی ہرگز اتفاقی یا وقتی ردِعمل نہیں بلکہ ایک طویل المدتی حکمتِ عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد اپنی عسکری ناکامیوں، جانی نقصانات، اور اندرونی خوف و انتشار کو دنیا کی آنکھوں سے اوجھل رکھنا ہے۔ غزہ میں جاری جنگ اور ایران کے حملوں کے دوران اسرائیل کو جتنا شدید جانی و مالی نقصان پہنچا ہے، اس کا عشرِ عشیر بھی عالمی میڈیا پر دیکھنے کو نہیں ملتا۔ وجہ صاف ہے: صیہونی حکومت نے اپنے عوام اور دنیا کو ایک مخصوص بیانیے میں قید کر رکھا ہے، جس میں وہ ہمیشہ طاقتور، غالب اور ناقابلِ شکست نظر آتے ہیں۔ اس بیانیے کو بچانے کے لیے وہ سچ پر پہرہ بٹھا چکے ہیں۔

میدانِ جنگ میں زخمی ہونے والے فوجیوں کی کوئی تصویر نشر نہیں ہونے دی جا رہی، مردار ہونے والوں کی لاشیں خفیہ طریقے سے ہسپتالوں یا سردخانوں تک پہنچائی جا رہی ہیں اور ان کے جنازے بھی میڈیا بلیک آؤٹ کے سائے میں دفن کیے جا رہے ہیں۔ جو بھی جگہ میزائلوں اور ڈرونز کے حملوں کا نشانہ بنی، وہاں سے غیرملکی اور حتیٰ کہ بعض اسرائیلی صحافیوں کو بھی زبردستی ہٹا دیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ مقامی رپورٹرز کو بھی کڑی نگرانی میں رکھا جاتا ہے تاکہ کوئی حقیقت باہر نہ جا سکے۔

اس پالیسی کی تین بڑی وجوہات ہیں:

اولاً، عوامی حوصلہ برقرار رکھنا: اسرائیلی حکومت جانتی ہے کہ اگر عوام کو اپنے فوجیوں کی لاشیں، تباہ حال گاڑیاں، یا زخمیوں کی دلدوز حالت دیکھنے کو ملے تو ان کے اندر مایوسی، خوف اور اضطراب جنم لے گا۔ اس سے نہ صرف داخلی دباؤ بڑھے گا بلکہ جنگی حمایت میں بھی کمی آئے گی۔

ثانیاً، عالمی رائے عامہ پر قابو پانا: اسرائیل ہمیشہ اپنے آپ کو “شکار” کے طور پر پیش کرتا آیا ہے، تاکہ مغرب کی ہمدردی سمیٹ سکے۔ اگر اس کے نقصان کی اصل تصویر دنیا کو دکھائی جائے تو مظلوم اور ظالم کے بیانیے میں دراڑ پڑ جائے گی۔ عالمی برادری کو اگر معلوم ہو جائے کہ فلسطینی مزاحمت اور حالیہ ایرانی حملہ نے اسرائیل کو کتنا جانی و نفسیاتی نقصان پہنچایا ہے تو فلسطینیوں کی جدوجہد کو مزید اخلاقی حمایت مل سکتی ہے۔

ثالثاً، دشمن کو کمزور ظاہر کرنا
اسرائیلی پالیسی کا ایک اہم مقصد دشمن کو نفسیاتی شکست دینا ہے۔ اگر میڈیا پر یہ خبریں اور مناظر آنے لگیں کہ اسرائیل کو بھی شدید نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے تو اس سے فلسطینی عوام اور مجاہدین کے حوصلے مزید بلند ہوں گے۔

لیکن اب دنیا 1990 کی نہیں رہی۔ سوشل میڈیا اور غیر روایتی ذرائع ابلاغ نے اس سنسرشپ کی دیوار میں دراڑیں ڈال دی ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ وہ حقائق بھی سامنے آ رہے ہیں جنہیں دبانے کی پوری کوشش کی گئی۔ اسرائیل جتنا بھی چھپانے کی کوشش کرے، حقیقت کا سورج بالآخر طلوع ہو کر ہی رہتا ہے۔ اور جب یہ سچ دنیا کے سامنے مکمل طور پر عیاں ہوگا، تو دنیا کو پتا چلے گا کہ طاقتور دکھنے والا اسرائیل اندر سے کتنا کمزور اور خوف زدہ ہو چکا ہے۔

Address


55220

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when PTI Chunian posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

  • Want your school to be the top-listed School/college?

Share