Umair Rafique Bismal

Call Website Contact the school

Umair Rafique Bismal Umair Rafique here
Welcome to my page dedicated to raising awareness about social issues in society.

اچھے وقت میں تو ہر کوئی آپ کے ساتھ چلنے اور نبھانے کا دعویٰ کرتا ہے، اصل پہچان تو اُس وقت ہوتی ہے جب زندگی مشکل ہو جائے۔...
08/10/2026

اچھے وقت میں تو ہر کوئی آپ کے ساتھ چلنے اور نبھانے کا دعویٰ کرتا ہے، اصل پہچان تو اُس وقت ہوتی ہے جب زندگی مشکل ہو جائے۔

آزمائش کے دن بتا دیتے ہیں کہ کون صرف خوشیوں کا ساتھی تھا اور کون واقعی آپ کا اپنا ہے

مشکل وقت انسان کو توڑتا ضرور ہے، مگر ساتھ ہی یہ بھی بتا دیتا ہے کہ دل میں کون سچا تھا اور کون صرف وقت کے ساتھ تھا۔

وَيَكْتُبُ اللَّهُ خَيْرًا أَنْتَ تَجْهَلُهُ، وَظَاهِرُ الْأَمْرِ حِرْمَانٌ مِنَ النِّعَمِاور اللہ تمہارے لیے وہ بھلائی ...
23/09/2026

وَيَكْتُبُ اللَّهُ خَيْرًا أَنْتَ تَجْهَلُهُ، وَظَاهِرُ الْأَمْرِ حِرْمَانٌ مِنَ النِّعَمِ

اور اللہ تمہارے لیے وہ بھلائی لکھ دیتا ہے جس سے تم بے خبر ہوتے ہو، جبکہ بظاہر معاملہ نعمتوں سے محرومی نظر آتا ہے۔"

اور ارشاد باری تعالٰی ہے :

وَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ وَعَسَى أَنْ تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَكُمْ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ ۔ (البقرة: ٢١٦)

اور ہو سکتا ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور وہ تمہارے لیے بہتر ہو، اور ہو سکتا ہے کہ تم کسی چیز کو پسند کرو اور وہ تمہارے لیے بُری ہو، اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔"

🌸 شیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:"دل کی کیفیات بہت تیزی سے اور عجیب انداز میں بدلتی رہتی ہیں۔کبھی انسان ...
17/09/2026

🌸 شیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

"دل کی کیفیات بہت تیزی سے اور عجیب انداز میں بدلتی رہتی ہیں۔
کبھی انسان ایک لمحے میں کفر سے ایمان کی طرف منتقل ہو جاتا ہے،
اور کبھی ایمان سے کفر کی طرف۔
لہٰذا ہم اللہ تعالیٰ سے ثابت قدمی کا سوال کرتے ہیں۔"

📙 تفسیر سورۃ الحدید، 1/373

اے اللہ! ہمارے دلوں کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھ۔ آمین۔

"جن جذبات کو ہم مٹی پاؤ کہ کر دفن کر دیتے ہیں، وہ کبھی مرتے نہیں وہ بعد میں جسمانی بیماریوں، چڑ چڑاپن اور بےسکونی کی شکل...
17/09/2026

"جن جذبات کو ہم مٹی پاؤ کہ کر دفن کر دیتے ہیں، وہ کبھی مرتے نہیں وہ بعد میں جسمانی بیماریوں، چڑ چڑاپن اور بےسکونی کی شکل میں باہر نکلتے ہیں۔

کبھی کبھی نا.انسان کے لیے کچھ جملے ، کچھ الفاظ ،کچھ دلاسے ، بہت خاص ہوتے ہیں۔۔۔جیسے کہ ۔۔اپنا خیال رکھو،تکلیف دہ وقت ، گ...
16/09/2026

کبھی کبھی نا.انسان کے لیے کچھ جملے ، کچھ الفاظ ،کچھ دلاسے ، بہت خاص ہوتے ہیں۔۔۔
جیسے کہ ۔۔اپنا خیال رکھو،
تکلیف دہ وقت ، گزر ھی جائے گا،
اچھے وقت کا انتظار کرو،
خدا کی ذات پر یقین رکھو،
میری دعائیں آپ کے ساتھ ہیں،..ایک ناامید اور مایوس انسان کے لیے یہ جملے کچھ نہیں، بہت کچھ ہوتے ہیں.خوش نصیب ہیں وہ جنہیں ایسی تسلیاں دینے والے مخلص لوگ میسر ہیں.

اے اللہ! مجھے ایسی سرزمین میں جگہ عطا فرما جہاں میری روح پھلے پھولے، میری بھلائی پروان چڑھے، اور میں اس انداز سے زندگی گ...
16/09/2026

اے اللہ! مجھے ایسی سرزمین میں جگہ عطا فرما جہاں میری روح پھلے پھولے، میری بھلائی پروان چڑھے، اور میں اس انداز سے زندگی گزاروں جو تجھے مجھ سے راضی کرے اور مجھے تیرے قریب کر دے۔ اللھم آمین یارب

«اللَّهُمَّ مَكِّنِّي فِي أَرْضٍ تُزْهِرُ فِيهَا رُوحِي، وَيَنْمُو بِهَا خَيْرِي، عَلَى النَّحْوِ الَّذِي يُرْضِيكَ عَنِّي وَيُقَرِّبُنِي إِلَيْك».

"پس صبر ہی جمیل ہے"صبر کر، اے میرے ساتھی!اپنا مصحف تھامے رکھ، اور اپنی نمازوں کی حفاظت کر، اپنے درد کا اجر اللہ سے طلب ک...
13/09/2026

"پس صبر ہی جمیل ہے"

صبر کر، اے میرے ساتھی!
اپنا مصحف تھامے رکھ، اور اپنی نمازوں کی حفاظت کر، اپنے درد کا اجر اللہ سے طلب کر،
کیونکہ یہ محض اللہ کی تقدیر ہے۔
اور دنیا تو ایک امتحان ہے جو ختم ہوجائے گا، اور گزرنے کا ایک پڑاؤ ہے جسے ہم عبور کرلیں گے، آخر میں سفر ختم ہوگا۔
اور یقین رکھ کہ ہم ایک دن جنت میں کسی درخت کے سائے تلے بیٹھیں گے،
اور دنیا کی ہر بےمعنی بات پر ہنسیں گے!

(رسائل من القرآن ۔ ادھم شرقاوي)

میری نماز، میری زندگی، میری موت — سب تیرے لیےانسان ساری زندگی کسی نہ کسی مقصد کے گرد گھومتا رہتا ہے۔ کسی کے لیے دولت مقص...
12/09/2026

میری نماز، میری زندگی، میری موت — سب تیرے لیے

انسان ساری زندگی کسی نہ کسی مقصد کے گرد گھومتا رہتا ہے۔ کسی کے لیے دولت مقصد بن جاتی ہے، کسی کے لیے عہدہ، کسی کے لیے شہرت، اور کسی کے لیے اپنے لوگوں کی محبت۔ وہ دن رات مصروف رہتا ہے، مگر کبھی ٹھہر کر یہ سوال نہیں کرتا:

میں آخر کس کے لیے جی رہا ہوں؟

قرآن اس سوال کا جواب ایک ایسے اعلان کی صورت میں دیتا ہے جو بندۂ مومن کی پوری زندگی کا رخ متعین کر دیتا ہے:

قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ

"کہہ دیجیے: بے شک میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت اللہ ہی کے لیے ہے، جو تمام جہانوں کا رب ہے۔"
(الأنعام: 162)

غور کیجیے، اللہ تعالیٰ کے لیے صرف نماز کا ذکر نہیں کیا گیا؛ زندگی اور موت کو بھی اسی مقصد کے ساتھ جوڑ دیا گیا۔ گویا بندگی یہ نہیں کہ انسان دن کے چند لمحات اللہ کے لیے مخصوص کر دے اور باقی زندگی اپنی خواہشات کے حوالے کر دے۔

بندگی یہ ہے کہ زندگی کا پورا رخ اللہ کی طرف ہو۔

ہم نماز میں کھڑے ہوتے ہیں، رکوع کرتے ہیں، سجدے میں جھکتے ہیں اور کہتے ہیں:

إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ

"ہم صرف تیری عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔"

لیکن اصل امتحان نماز کے بعد شروع ہوتا ہے۔ ہماری کمائی، ہمارے فیصلے، ہماری خواہشات، ہمارے معاملات، ہماری تنہائی اور ہمارا اختیار—کیا ان سب میں بھی اللہ کی رضا کو وہی مقام حاصل ہے جو نماز میں ہے؟

یہی وہ مقام ہے جہاں نماز، زندگی سے جڑتی ہے۔

اللہ کے لیے جینا دنیا چھوڑ دینا نہیں؛ بلکہ دنیا میں رہتے ہوئے اللہ کی مرضی کو اپنی مرضی پر ترجیح دینا ہے۔

پھر حلال رزق کمانا صرف روزگار نہیں رہتا، عبادت بن جاتا ہے۔ والدین کی خدمت میں نرمی ہو تو وہ بھی عبادت ٹھہرتی ہے، اولاد کی تربیت میں صبر ہو تو وہ بھی عبادت بن جاتی ہے، اور جب انسان کسی کا حق ادا کر دے، کسی کی خطا معاف کر دے، اپنی زبان کو ظلم سے اور اپنی نگاہ کو حرام سے روک لے، تو یہ سب زندگی کے معمولی کام نہیں رہتے۔ جب مقصد اللہ کی رضا ہو تو یہی روزمرہ زندگی اطاعت کا راستہ بن جاتی ہے۔

اور پھر قرآن کہتا ہے:

وَمَمَاتِي لِلَّهِ

"اور میری موت بھی اللہ کے لیے ہے۔"

موت جس سے انسان ساری زندگی فرار چاہتا ہے، قرآن اسے بھی بندگی کے سفر کا آخری مرحلہ بنا دیتا ہے۔

جس رب کے لیے زندگی گزاری، اسی کے سامنے ایک دن حاضر ہونا ہے۔

تب نہ دولت ساتھ جائے گی، نہ منصب، نہ شہرت، نہ وہ دنیا جسے حاصل کرنے میں پوری عمر گزر گئی۔ ساتھ وہی عمل فائدہ دے گا جو اللہ کی رضا کے لیے، اس کے حکم کے مطابق کیا گیا۔

اس لیے شاید اصل سوال یہ نہیں کہ کیا میں نماز پڑھتا ہوں؟

اصل سوال اس سے کہیں زیادہ گہرا ہے:

کیا میری نماز کے بعد کی زندگی بھی اللہ کی ہے؟

اگر نماز ہمیں سجدے تک لے جاتی ہے مگر ہماری خواہشات کو نہیں جھکاتی، اگر عبادت مسجد میں رہ جاتی ہے مگر ہمارے معاملات میں داخل نہیں ہوتی، تو ہمیں ابھی اس آیت کے پیغام پر غور کرنا ہے۔

کیونکہ جب انسان حقیقتاً اپنی زندگی کا رخ اللہ کی طرف کر دیتا ہے تو اس کے فیصلے بدلنے لگتے ہیں۔ وہ لوگوں کی رضا سے زیادہ رب کی رضا کو اہم سمجھتا ہے، وہ اپنی خواہش سے پہلے اللہ کے حکم کو دیکھتا ہے۔

اور پھر سجدہ صرف پیشانی کا جھکنا نہیں رہتا، خواہش کا جھکنا بھی بن جاتا ہے۔

عبادت صرف چند اعمال کا نام نہیں رہتی، پوری زندگی تسلیم و رضا کا سفر بن جاتی ہے۔

اور شاید بندے کی سب سے خوبصورت منزل یہی ہے کہ جب اس کا سفرِ حیات اختتام کو پہنچے تو اس کے دل کی گواہی یہی ہو:

اے میرے رب! میری نماز تیرے لیے تھی، میری عبادت تیرے لیے تھی، میری زندگی تیری رضا کے لیے تھی، اور اب میری موت بھی تیری ہی طرف واپسی ہے۔

میں تیرا بندہ تھا، تیرا بندہ ہوں، اور تیری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔

امیر المؤمنین عمر بن عبد العزيز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ! "اللہ تعالیٰ کسی بندے کو کوئی نعمت عطا فرما کر جب اس سے واپس لی...
10/09/2026

امیر المؤمنین عمر بن عبد العزيز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ!

"اللہ تعالیٰ کسی بندے کو کوئی نعمت عطا فرما کر جب اس سے واپس لیتا ہے، اور اس کے بدلے اسے 'صبر' کی توفیق عطا کر دیتا ہے، تو جو صبر اسے بدلے میں دیا گیا ہے وہ اس چھینی گئی نعمت سے کہیں زیادہ بہتر ہوتا ہے۔"
پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی:

{إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُم بِغَيْرِ حِسَابٍ}
(ترجمہ: صبر کرنے والوں ہی کو ان کا اجر بغیر حساب کے پورا پورا دیا جائے گا)

(تفسیر ابن رجب: 1/135)

ممکن ہے کہ برسوں پہلے آپ نے جو دعا مانگی تھی، آج آپ اسی زندگی کی شکایت کر رہے ہوں۔یہاں موجود ہر شخص کی زندگی میں کوئی نہ...
09/09/2026

ممکن ہے کہ برسوں پہلے آپ نے جو دعا مانگی تھی، آج آپ اسی زندگی کی شکایت کر رہے ہوں۔

یہاں موجود ہر شخص کی زندگی میں کوئی نہ کوئی ایسی نعمت ضرور ہے جس کے لیے کہیں نہ کہیں کوئی دوسرا شخص اس وقت اللہ سے گڑگڑا کر دعا کر رہا ہے۔

آپ اپنے بچوں کی وجہ سے رات کو پوری نیند نہ ملنے کی شکایت کرتے ہیں،
جبکہ کہیں کوئی شخص رات بھر جاگ کر اللہ سے اولاد کی دعا کر رہا ہے۔

آپ کا کام آپ کو تھکا دیتا ہے،
مگر کوئی شخص مہینوں سے ملازمت کی تلاش میں ہے اور اللہ سے صرف ایک دروازہ کھلنے کی دعا کر رہا ہے۔

آپ کو اپنا گھر چھوٹا محسوس ہوتا ہے،
جبکہ کوئی دوسرا خاندان اللہ سے صرف ایسی جگہ کی دعا کر رہا ہے جسے وہ اپنا گھر کہہ سکے۔

کبھی آپ اپنے شریکِ حیات کے رویّے سے تنگ آ جاتے ہیں،
جبکہ کوئی شخص سجدے میں آنسو بہا کر اللہ سے نیک اور صالح شریکِ حیات مانگ رہا ہے۔

آپ کبھی اپنے والدین سے اکتا جاتے ہیں،
جبکہ جس شخص نے ابھی اپنی ماں یا باپ کو دفن کیا ہے، وہ ان کی آواز صرف ایک مرتبہ دوبارہ سننے کے لیے بھی بہت کچھ قربان کرنے کو تیار ہوگا۔

آپ آئینے میں خود کو دیکھ کر اپنے جسم کی ان چیزوں پر توجہ دیتے ہیں جو آپ کو پسند نہیں،
جبکہ کوئی شخص ہسپتال کے بستر پر نلکیوں اور پیشاب کی تھیلی کے ساتھ لیٹا ہوا اللہ سے دعا کر رہا ہے کہ یا اللہ! مجھے دوبارہ چلنے کی توفیق دے تاکہ میں باہر جا سکوں۔

حتیٰ کہ وہ ذمہ داریاں جو آج آپ کو بوجھ محسوس ہوتی ہیں،
ممکن ہے کوئی دوسرا شخص انہی ذمہ داریوں کے ملنے کے لیے اللہ سے تہجد میں دعائیں مانگ رہا ہو۔

اور شاید سب سے بڑی نعمتوں میں سے ایک یہ ہے کہ:

آپ اللہ کو جانتے ہیں۔
آپ وضو کر سکتے ہیں۔
آپ کھڑے ہو کر نماز پڑھ سکتے ہیں۔
آپ قرآن کھول سکتے ہیں۔
آپ استغفراللہ کہہ سکتے ہیں۔
آپ کسی بھی لمحے اپنے رب کے سامنے ہاتھ اٹھا کر اس سے بات کر سکتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

وَإِن تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا ۗ إِنَّ اللَّهَ لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ

“اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو انہیں شمار نہیں کر سکتے۔ بے شک اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔”
(سورۃ النحل: 18)

حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ سے منقول ہے:

“اللہ کی نعمتوں کو اللہ کی شکرگزاری کے ذریعے محفوظ کرو۔”
(شعب الإيمان، 4546)

کبھی ہم اس نعمت میں اتنے مشغول ہو جاتے ہیں جس کا ہمیں انتظار ہے کہ ہم ان بے شمار نعمتوں کو دیکھنا ہی چھوڑ دیتے ہیں جو اللہ تعالیٰ ہمیں پہلے ہی عطا کر چکے ہیں۔

ممکن ہے آج آپ اپنی زندگی کے جن حصوں کی شکایت کر رہے ہیں، وہی کسی دوسرے شخص کی تہجد کی دعاؤں کا موضوع ہوں۔

اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ اللہ سے مزید مانگنا چھوڑ دیں۔
یہ بھی نہیں کہ اپنے خواب بڑے نہ رکھیں یا اپنی زندگی بہتر بنانے کی کوشش نہ کریں۔

اللہ سے مانگیں۔
کوشش کریں۔
اپنے حالات بہتر بنانے کے لیے قدم اٹھائیں۔

لیکن جو چیز آپ کی زندگی میں موجود نہیں، اسے اتنا بڑا نہ ہونے دیں کہ وہ آپ کو ان نعمتوں سے اندھا کر دے جو پہلے ہی آپ کے پاس موجود ہیں۔

آج رات اللہ سے کوئی نئی چیز مانگنے سے پہلے،
چند لمحے رک کر صرف اس بات پر غور کریں کہ:

اللہ نے آپ کو پہلے ہی کتنا کچھ عطا کر رکھا ہے۔

پھر دل سے کہیں:

الحمدللہ یا اللہ! ان تمام نعمتوں کے لیے جنہیں میں شمار بھی نہیں کر سکتا۔

Address

Amirumair Travels And Tours Chunian Road
Chunian
55220

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Umair Rafique Bismal posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Umair Rafique Bismal:

Shortcuts

Share