14/05/2026
حضرت مولانا قاری سیف الدین صاحب
بندہ نا چیز اور ادارے کے لیے آپ کے خلوص,محبت اور نیک تمناٶں کے اوپر لکھے ہوۓ حروف کے لیۓمیں آپ کا مشکور و ممنوع ہوں۔
*عطاء الرحمن عطا — پسماندہ علاقے میں روشنی کا نام*
عطاء الرحمن عطا صرف ایک نام نہیں، ایک سوچ ہے۔
ایک ایسی سوچ جس نے فیصلہ کیا کہ جہاں لوگوں نے مایوسی کے سائے دیکھے ہیں، وہیں علم کی شمع جلائی جائے۔
# # # # پسماندہ علاقے کا انتخاب، اتفاق نہیں
بڑے شہروں میں آئی ٹی سینٹر اور انگلش لینگویج انسٹیوٹ کھولنا آسان ہے۔ وہاں طلبہ خود آتے ہیں، سہولیات موجود ہوتی ہیں۔
عطاء الرحمن عطا نے وہ راستہ چنا جو مشکل تھا۔ انہوں نے پسماندہ علاقے کا انتخاب کیا۔
وجہ صرف ایک تھی: یہاں کے بچے بھی اتنے ہی قابل ہیں، بس انہیں موقع نہیں ملا۔
کمپیوٹر کیا ہوتا ہے، انگریزی کیوں ضروری ہے، یہ باتیں کتابوں میں لکھی رہ جاتی ہیں اگر کوئی ہاتھ پکڑ کر نہ دکھائے۔ عطاء الرحمن نے وہ ہاتھ بننے کا فیصلہ کیا۔
# # # # عظیم شخصیت کی پہچان
عظمت کرسی سے نہیں آتی، خدمت سے آتی ہے۔
عطاء الرحمن عطا کو میں نے کبھی کرسی پر بیٹھ کر حکم دیتے نہیں دیکھا۔ وہ خود کلاس میں کھڑے ہوتے ہیں، خود چیک کرتے ہیں کہ ہر بچے کے پاس کمپیوٹر چلا یا نہیں، ہر شاگرد ایک جملہ انگریزی میں بول سکا یا نہیں۔
ان کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ سہولت کے ساتھ حوصلہ بھی دیتے ہیں۔
جو بچہ پہلے دن کمپیوٹر کو ہاتھ لگانے سے ڈرتا ہے، وہی تین ماہ بعد پریزینٹیشن بنا کر دکھاتا ہے۔
جو بچہ "ہیلو" کہتے ہوئے ہچکچاتا ہے، وہی انٹرویو کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔
یہ تبدیلی صرف کورس سے نہیں آتی، اس استاد کے یقین سے آتی ہے جو کہتا ہے "تم کر سکتے ہو"۔
# # # # جدید تعلیم، دیسی انداز میں
عطاء الرحمن نے جدید تعلیم کو علاقے پر مسلط نہیں کیا، اسے علاقے کے مزاج کے مطابق ڈھالا۔
نہ دکھاوا، نہ مہنگے اشتہار۔ بس سادگی، محنت اور تسلسل۔
آئی ٹی سینٹر میں وہی بچے بیٹھتے ہیں جن کے گھر میں شاید پہلے کبھی لیپ ٹاپ نہ دیکھا ہو۔
انگلش لینگویج کلاس میں وہی بچے آتے ہیں جن کے لیے انگریزی صرف کتابوں کی زبان تھی۔
آج وہی بچے فری لانسنگ کر رہے ہیں، آن لائن کام کر رہے ہیں، شہر کے کالجز میں اعتماد سے بول رہے ہیں۔
# # # # شخصیت کا اصل سرمایہ
عطاء الرحمن عطا کے پاس بڑی عمارت نہیں، بڑا دل ہے۔
ان کے پاس بینک بیلنس سے زیادہ یہ اطمینان ہے کہ ہر ماہ دس بچے ایسے نکلتے ہیں جو کل تک بے روزگار تھے، آج کما رہے ہیں۔
یہی ان کی اصل کامیابی ہے۔
وہ اپنی کامیابی کو شور نہیں بناتے۔ وہ خاموشی سے ہر سال ایک اور بیچ تیار کر دیتے ہیں، اور پھر اگلے بیچ کی فکر میں لگ جاتے ہیں۔
# # # # آخر میں
پسماندہ علاقے ہمیشہ وسائل کی کمی کا رونا روتے ہیں۔
عطاء الرحمن عطا نے ثابت کیا کہ اگر نیت صاف ہو اور ارادہ مضبوط ہو تو ایک شخص بھی پورے علاقے کی تقدیر بدل سکتا ہے۔
عطاء الرحمن عطا جیسے لوگ ادارے نہیں بناتے، وہ مستقبل بناتے ہیں۔
اللہ کرے ان کا یہ سفر جاری رہے۔ کیونکہ جب تک عطاء الرحمن جیسے لوگ موجود ہیں، پسماندگی پر امید غالب
رہتی ہے۔
*علاقے کے لوگوں کے نام ایک دعوت فکر*
محترم والدین، بھائیو اور بزرگو!
آج کا زمانہ علم اور ہنر کا زمانہ ہے۔ جس کے پاس ہنر ہے، وہ جہاں بھی جائے عزت پاتا ہے۔ جس کے پاس صرف ڈگری ہے، مگر ہنر نہیں، وہ اکثر پیچھے رہ جاتا ہے۔
ہمارے علاقے میں ایک ایسا ادارہ موجود ہے جو آپ کے بچوں کو اسی ہنر سے جوڑ رہا ہے۔ وہ ادارہ ہے *عطا آئی ٹی سینٹر اینڈ انگلش لینگویج*۔
# # # # کیوں عطا آئی ٹی میں داخلہ ضروری ہے؟
*1. وقت کا تقاضا*
آج کمپیوٹر اور انگریزی کے بغیر کوئی میدان مکمل نہیں۔ چاہے سرکاری نوکری ہو، پرائیویٹ جاب ہو، یا فری لانسنگ، بنیاد یہی دو چیزیں ہیں۔ عطا آئی ٹی یہی بنیاد مفت کی طرح سستی فیس میں دے رہا ہے۔
*2. پسماندگی کا علاج*
ہمارا علاقہ وسائل کی کمی کی وجہ سے پیچھے رہ گیا۔ لیکن اب یہ بہانہ ختم ہو گیا ہے۔ آپ کا بچہ گھر کے قریب بیٹھ کر وہی کورس کر سکتا ہے جو شہر کے بچے کرتے ہیں۔ نہ سفر کا خرچ، نہ رہائش کا مسئلہ۔
*3. اعتماد کی تعمیر*
عطا آئی ٹی صرف کورس نہیں کراتا، بچے کا اعتماد بناتا ہے۔ جو بچہ کل "ہیلو" کہنے سے شرماتا تھا، وہ آج انٹرویو کے قابل ہو جاتا ہے۔ جو بچہ کمپیوٹر کو چھو نہیں سکتا تھا، وہ آج ڈیزائن اور ڈیٹا انٹری کر رہا ہے۔
*4. محنت کا صلہ*
یہاں پڑھنے والے کئی بچے آج آن لائن کام کر رہے ہیں۔ گھر بیٹھے کما رہے ہیں۔ والدین کا سہارا بنے ہیں۔ یہ سب اس لیے ممکن ہوا کیونکہ انہوں نے وقت پر قدم اٹھایا۔
# # # # والدین سے گزارش
آپ اپنے بچے کے لیے زمین، گھر، زیور سب کچھ جوڑتے ہیں۔
کیا ایک ہنر جوڑنا اس سے زیادہ ضروری نہیں؟
زمین بک سکتی ہے، زیور چوری ہو سکتا ہے، مگر جو ہنر آپ کا بچہ سیکھ لے گا، وہ کوئی نہیں چھین سکتا۔
عطا آئی ٹی سینٹر آپ کے بچے کو وہی ہنر دے رہا ہے۔ بس آپ کو فیصلہ کرنا ہے کہ آپ اپنے بچے کو اس موقع سے محروم رکھیں گے، یا اسے آگے بڑھنے کا راستہ دیں گے۔
# # # # آخر میں
سوچیں، اگر آج آپ نے قدم نہ اٹھایا تو کل آپ کا بچہ بھی دوسروں کو دیکھ کر کہے گا "کاش میں نے بھی سیکھا ہوتا"۔
اور اگر آج آپ نے داخلہ کروا دیا تو کل وہی بچہ فخر سے کہے گا "میرے والدین نے میرا ہاتھ پکڑا تھا"۔
علاقے کے ہر والدین سے گزارش ہے کہ ایک بار عطا آئی ٹی سینٹر تشریف لے جائیں۔ بچے کو دکھائیں، ماحول دیکھیں، اساتذہ سے ملیں۔
فیصلہ آپ کا ہے۔
مگر یاد رکھیں، وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا۔
*آج کا قدم، کل کی کامیابی ہے۔*