Ubaid Online Quran Institute

Ubaid Online Quran Institute

Share

I Am Online Quran Teacher

28/12/2025
22/12/2025

کیا الله کے ولی کی قبرسےخوشبو آنا ضروری ہے؟
ایم طاہر رفیق

ماضی قریب میں جن بزرگوں کی وفات ہوئی ہے۔ انکی وفات کے بعد ان کے مریدین و محبین کی طرف سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ ان کی قبر سے خوشبوآرہی ہے۔
حال ہی میں وفات پانے والے حضرت پیر ذوالفقار احمد نقشبندی کے مریدین کی طرف سے بھی ایسے بیانات سامنے آئے کہ انکی قبر سے خوشبو محسوس کی گئی

یہ ایسا معاملہ ہے کہ نہ تو اسکی تردید کرنی چاہیے اور نہ ہی بلا مشاہدہ تصدیق۔

کیو نکہ یہ عالم برزخ کے معاملات ہیں جو اللہ کسی پر کھولتا ہے اور کسی پر نہیں

لیکن ایسے امور کا چرچا کرنا اور خصوصاً سوشل میڈیا کی زینت بنانا کسی طورپر مناسب نہیں کہ اسکے فوائد کم اور نقصانات زیادہ ہیں

فوائد تو یہ ممکن ہیں کہ معتقدین کے اعتقاد میں اضافہ ہوگا ۔ دل کو تسلی ہوگی کہ ہم واقعی الله کے ولی کے مرید تھے
وغیرہ وغیرہ
لیکن کرامات کے بارے میں ہمارے اکابرین کا طریقہ کار یہ رہا ہے کہ اسکو پھیلایا نہ جائے بلکہ اس کو چھپایا جائے کہ کرامت کا ظہور غیر اختیاری ہے(الله تعالٰی کی کوئی مصلحت ہوتی ہے)لیکن اسکو پھیلانا اختیاری ہے۔

دارالعلوم دیوبند کے ایک بزرگ سید اصغر حسین شاہ رحمۃاللہ علیہ کا جب انتقال ہوا تو عصر کے بعد انکی قبر سے پارہ نمبر تیس کی تلاوت کی آواز آنے لگی۔ (کیونکہ عصر کے بعدانکا تیسویں پارہ کی تلاوت کا معمول تھا) دو تین یہ آواز آتی رہی۔ حضرت مولانا انور شاہ کشمیری کو جب اس کا علم ہوا تو وہ قبر پر تشریف لائے اور فرمایا اے شاہ جی کیا ہم آپ کو سٹام لکھدیں کہ تم اللہ کے ولی ہو خدا را یہ تلاوت بند کرو ورنہ مخلوق خدا گمراہ ہوجائے گی۔ پھر تلاوت کی آواز نہیں آئی۔۔۔۔۔۔

قبر سے خوشبو آنے کا سب سے معروف واقعہ ہمارے اکا برین میں حضرت لاہوری علیہ الرحمۃ کا ہے۔
ورنہ ان سے قبل بے شمار اولیاء اللہ دنیا سے پردہ فرماگئے۔ ہمارے اکابرین میں شاہ ولی اللہ سے لیکر حضرت مدنی رحمہ اللہ تک کسی بزرگ کی قبر سے خوشبو کی خبر میرے علم میں تو نہیں ۔ اگر کسی کرامت کا ظہور ہوا بھی ہوگا تو اسے مخفی رکھا گیا ہوگا

کیونکہ ہمارے اکابرین کا منہج کرامات کے ذریعے لوگوں کو دین کی طرف لانے کا نہیں بلکہ قرآن وسنت کی دعوت وعمل کے ذریعے سے دین کی طرف متوجہ کرنے کا ہے۔

دوسری بات یہ ہےکہ قبر سے خوشبو آنے کو بزرگ کی قبولیت کا معیار بنا لیا گیا تو جس کی قبر سے خوشبو نہ آئی تو اس کے بارے میں طرح طرح کی بدگمانیاں دل میں جنم لیں گی۔ جس کی سختی سے ممانعت فرمائی گئی ہے۔

ہمارے اکابرین فرماتے تھے کہ کہ قرآن و سنت کے مطابق زندگی گزاری اور ساری عمر کسی کرامت کا ظہور نہ ہو تو اس دور میں سنت کے مطابق زَندگی گزارنا ہی سب سے بڑی کرامت ہے۔

ابھی سے اس چیز کی حوصلہ شکنی کرنے کی ضرورت ہے کہ دین میں بدعات کا آغاز کسی معمولی چیز سے ہوتا ہے اور اگر اس کو نہ روکا جائے تو آنے والی نسلیں اسکو دین کا لازمی جزو بنادیتی ہیں۔

Photos from Ubaid Online Quran Institute's post 21/12/2025

توحید اور الحاد پر مکالمہ
(تاثرات)
طاہر رفیق

مفتی شمائل ندوی اور جاوید اختر کے درمیان ہونے والا مکالمہ علمی گفتگو پر مبنی تھا جس میں علم کی بہت سی نئی جہتیں سامنے آئیں
نوجوان مفتی صاحب مکمل تیاری کے ساتھ آئے تھے جبکہ جاوید صاحب کے پاس مفتی صاحب کی کسی بات کا ٹھوس علمی جواب نہیں تھا۔ بلکہ آخر تک مفتی صاحب کے دلائل کے کئی الفاظ کو وہ سمجھ ہی نہیں سکے جس کا وہ آخر تک اقرار کرتے رہے۔
اس موضوع کے طلباء کو یہ گفتگو باربار سننی چاہیےاور مشکل الفاظ واصطلات کی تحقیق کرکے عبور حاصل کرنا چاہیے کیونکہ ملحدین یہ سمجھتے ہیں کہ مستقبل میں خدا کا تصور ختم ہو جائے گا یعنی یہ وبا پھیلے گی اور عمومی مشاہدہ بھی یہی ہے کہ یونیورسٹیز میں یہ وبا تیزی سے پھیل رہی ہے جس کو ملحدین اپنی کامیابی سمجھتے ہیں جیسا کہ جاوید اختر نے بھی کہا کہ مستقبل میں تصور خدا ختم ہوجائے گاشائد یہ میری زندگی کے بعد ہو
دونوں طرف سے دلا ئل مشہور ومعروف تھے البتہ دلائل پیش کرنے کے انداز میں جدت اور انگلش میں مہارت نے مفتی شمائل ندوی کی طرف لوگوں کو زیادہ متوجہ کیااور مذہبی طبقات میں احساس پیدا کیا کہ بلسان قومہ لیبین لھم کا مصداق آج کے دور میں انگلش ہے۔ اس میں مہارت ہوگی تو نئے دور کے چیلنجز کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔
دوسری چیز جس سے مفتی صاحب نے لوگوں کو متاثر کیا وہ اپنے موضوع کے اندر رہ کر بات کرنے کا ملکہ تھا جاوید اختر نے کئی دفعہ جزباتی باتیں کرکے کوشش کی کہ بات کو پھیلادیا جائے لیکن مفتی صاحب اس کی دام میں نہیں آئے
مفتی صاحب نے اپنے حواس پر قابورکھا اور جاوید اختر کے بعض گستاخانہ ریمارکس پر جذباتی نہیں ہوئے ورنہ مذہبی طبقات کا امیج اور شہرت ہی یہی ہے کہ یہ بہت جلدی مشتعل ہو جاتے ہیں ۔ اس میں بھی غور وفکر کا بڑا سامان ہے اشتعال وجذبات کے رویوں نے جدید طبقات کو مذہبی لوگوں سے بہت دور کردیا ہےاور وہ ان کی بات سننے کے لیے تیارہی نہیں
الحاد کے میدان سے ہٹ کر بھی معمولی اختلاف وتنقید ناقابل برداشت ہوچکے ہیں۔
الحاد کے میدان میں کام کرنے والوں کو آئے روز ایسی گستاخیوں اور تنقید کو سننا پڑتا ہے۔ جس کا مقابلہ صرف وسعت ظرفی سے ہی کیا جاسکتا ہے۔
یہ بھی واضح ہوگیا کہ ملحدین کے ہاں کوئی سینڈرز(معیارات) متعین نہیں ہیں جس پر سوسائٹی کو چلایا جائے۔
ہر برائی خدا کے کھاتے میں ڈالتے ہیں اور جو اچھا ہوجائے وہ سوسائٹی یا اپنے کھاتے میں ڈال لیتے ہیں

مفتی شمائل ندوی کو شاباش دینے کے بعد زرا اس پہلو پر بھی نظر ڈالنا ضروری ہے کہ مناظرہ کو مجموعی طور پر اکابرین نے پسند نہیں فرمایا یہ صرف احقاقِ حق اور ابطال باطل کو لوگوں کے سامنے لانے کے لیے کیاجاتا ہے
ایمان کا اصل کمال تویہ ہے کہ انسان بغیر دلیل کے ہی الله تعالٰی کو مانے اور اسکی ذات وصفات پر یقین رکھے
ہردور میں ایسے لوگ موجود رہیں گے جو وان یروا کل ایۃ لا یؤمنوا بھا کے مصداق ہونگے

ملحدین سمیت تمام منکرین ہدایت کی دعا اور محبت واخلاق کے بہت زیادہ مستحق ہیں۔
فتوی کی زبان اور جذباتی بیانات سے یہ لوگ بہت زیادہ بدکتے ہیں

الحاد کے اثرات سے اپنے ایمان کو بچانے کے لیے دلائل سے مسلح ہونے کے ساتھ ساتھ سورہ اخلاص روزانہ کم ازکم دس مرتبہ بطور ورد پڑھنی چاہیے

20/12/2025

قبر سے خوشبو"
۔۔۔۔۔۔

یہ خبر پھیلتی جا رہی ہے کہ حاجی عبد الوھاب صاحب کی قبر سے خوشبو آرہی ہے۔ اسی طرح حاجی صاحب سے پہلے گذشتہ سال وفات پانے والے چند دیگر بزرگان دین کے بارے میں بھی یہ خبر مشہور ہوئی۔

میری درخواست یہ ہے کہ ایسی خبریں اگرچہ اپنا وجود رکھتی بھی ہو تب بھی انہیں پھیلانا ہرگز نہیں چاہیے۔ یہ خبریں اگر اسی رفتار سے پھیلتی رہی تو جلد ہے یہ بزرگوں کے حق اور ناحق ہونے کا معیار طے ہوجائے گا، لوگوں کی زبان پر باآسانی یہ جملہ آجایا کرے گا فلاں بزرگ کو تو ہم بڑا نیک اور عالم سمجھتے رہے لیکن انکی قبر سے تو خوشبو ہی نہیں آئی۔ حالانکہ قبر سے خوشبو کا آنا یہ کسی بھی طرح کا کوئی شرعی معیار ہرگز نہیں۔ اللہ کے ہاں کامیابی کا معیار اس کی رضامندی اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اتباع ہے۔

اگر واقعی قبر سے خوشبو آرہی ہوگی تو قبر پر حاضر شخص خود محسوس کرلے گا اور نہیں آرہی ہوگی تب بھی کوئی حرج نہیں نا اس پر رنجیدہ ہونے کی ضرورت ہے۔

یہ بھی یاد رکھیں کہ آپ اس خبر کو پھیلاتے رہے اور اس خوشبو کی غرض سے لوگوں نے سفر شروع کیا تو یہ عمل کسی بھی وقت بدعات کا دروازہ کھلنے کا سبب بن سکتا ہے۔ اور اس کا مکمل ذمہ دار وہ شخص ہوگا جس نے یہ خبر پھیلائی ہے۔ اسلیے براہ کرم اس سے اپنے آپ کو بچائیے۔

راحیل جاڈا

20/12/2025

شدید سردی میں دل کے امراض اور اچانک اموات میں بے پناہ اضافہ ہو گیا ھے
اس کی بڑی وجہ یہ ھے کہ ہم پانی کا استعمال بہت کم کر دیتے ہیں۔اور ٹھنڈا پانی بھی نقصان دہ ھے نیم گرم پانی کی بوتل ہر وقت اپنے پاس رکھیں اور دن کے اوقات میں زیادہ سے زیادہ نیم گرم پانی پیئں۔پیشاب کی کثرت کے اندیشہ کو اپنی سستی اور تن آسانی کی وجہ سے خود پر طاری نہ کریں۔ہر جگہ بہت ہی قریب واش روم موجود ہیں۔رات کے اوقات میں بے شک پانی کم پیئں۔دن میں کثرت سے نیم گرم پانی پیئں۔
چائے کی بجائے صبح شام
سونف،الائچی،دار چینی،لیموں،ادرک،پودینہ کا قہوہ پیئں۔
واک ایک گھنٹہ معمول کے ساتھ عصر کے وقت کر لیں ورنہ موسم میں بعد میں ٹھنڈک آجاتی ھے۔
چکنائی سے پرہیز کریں۔
پودینہ،ادرک،لہسن،اناردانہ کی چٹنی بنا کر رکھیں ہر کھانے کے ساتھ سب گھر والے استعمال کریں۔
گھر کے بڑے تمام اہل خانہ کو پاس بٹھا کر اہتمام سے ان گزارشات کی تاکید کریں۔

اس میسیج کی طوالت سے نہ گھبرائیں اس کو فیس بک،وٹس ایپ،گروپس اور تمام متعلقین تک پہنچائیں۔
آپ کی کوشش سے لوگوں کی صحت اور جانوں کا فائدہ ھو تو سودا مہنگا نہیں۔
جزاک اللہ۔

Want your school to be the top-listed School/college in Chishtian Mandi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address

Chishtian Mandi