22/07/2026
بالآخر خطرے کی گھنٹی بج گئی!
تاریخ میں پہلی بار دنیا کی دو انتہائی اہم آبی گزرگاہیں بیک وقت بند ہو چکی ہیں-
جس عالمی بحران کی میں بار بار بات کر رہا ہوں، وہ اب آہستہ آہستہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینے جا رہا ہے۔
آج دنیا کے سامنے ایک انتہائی خطرناک صورتحال ہے:
🔴 آبنائے ہرمزخلیج فارس سے دنیا تک تیل اور گیس کی سب سے اہم گزرگا
🔴 باب المندب بحیرۂ احمر، نہر سویز اور یورپ و ایشیا کے درمیان عالمی تجارت کا دروازہ
آبنائے ہرمز سے عام حالات میں تقریباً 20 ملین بیرل تیل روزانہ گزرتا ہے، جو دنیا کی کل پٹرولیم کھپت کا تقریباً 20 فیصد** ہے۔ دنیا کی تقریباً 20 فیصد LNG یعنی مائع قدرتی گیس کی تجارت بھی اسی راستے سے ہوتی ہے۔
اور باب المندب؟
یہ وہ راستہ ہے جہاں سے دنیا کی تقریباً 12 فیصد عالمی تجارت گزرتی ہے۔ تیل کی بھی لاکھوں بیرل روزانہ ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔
اب ذرا تصور کیجیے…
اگر ایک طرف آبنائے ہرمز بند ہو اور دوسری طرف باب المندب بھی بند یا انتہائی غیر محفوظ ہو جائے تو:
⛽ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں آسمان کو چھو سکتی ہیں۔
🔥 گیس کی عالمی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
🌾 کھاد، خصوصاً گیس سے بننے والی یوریا اور دیگر نائٹروجن کھادوں کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہو سکتا ہے۔
🚢 بحری جہازوں کو افریقہ کے گرد لمبا راستہ اختیار کرنا پڑے گا، جس سے سفر کا وقت، ایندھن اور شپنگ لاگت کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔
دنیا مالیاتی recession نہیں depression کی طرف بڑھ رہی ھے-