25/08/2026
محفل میلادالنبی ص 12ربیع الاول کے سلسلے میں پورے مذہبی جوش اور جذبے سے گورنمنٹ گرلز ہائی سکول غفور آباد چنیوٹ میں منعقد کیا گیا جس میں طالبات اور اساتذہ نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔ اور نعت اور تقریر کی صورت میں نذرانہ عقیدت پیش کیا ۔
23/08/2026
School re-opening reparations are being done with zeal n zest ......... InshaAllah it would be fit for safe side of staff n students .
تو سلامت وطن ۔ تا قیامت وطن ۔
06/08/2026
لاکھوں پوزیشن ہولڈرز تو نہیں ہو سکتے تھے نا!
ہر سال امتحانات کے نتائج آتے ہی ہمارے معاشرے میں ایک عجیب منظر دیکھنے کو ملتا ہے۔ چند بچے پوزیشن حاصل کرتے ہیں، ان کی تصویریں اخبارات اور سوشل میڈیا پر آتی ہیں، جبکہ لاکھوں دوسرے بچے خاموشی سے اپنے نتائج دیکھتے رہ جاتے ہیں۔ افسوس اس بات کا نہیں کہ وہ پوزیشن نہیں لے سکے، افسوس اس بات کا ہے کہ اسی لمحے بہت سے والدین، رشتہ دار اور اساتذہ ان کی خود اعتمادی پر ایسے الفاظ کے تیر برسانا شروع کر دیتے ہیں جو شاید برسوں تک ان کے دل میں پیوست رہتے ہیں۔
ہمیں ایک لمحہ رک کر سوچنا چاہیے کہ اگر ایک بورڈ میں پانچ لاکھ بچے امتحان دے رہے ہیں تو کیا واقعی پانچ لاکھ بچے پوزیشن ہولڈر بن سکتے ہیں؟ ظاہر ہے نہیں۔ پوزیشن چند افراد کو ملتی ہے، لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ باقی سب ناکام یا بے صلاحیت ہیں۔ زندگی صرف امتحانی نمبروں سے نہیں چلتی، بلکہ صلاحیت، کردار، محنت، مستقل مزاجی اور صحیح مواقع سے آگے بڑھتی ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے ہاں بچوں کی کامیابی کو صرف نمبروں سے ناپا جاتا ہے۔ اگر کسی بچے نے 95 فیصد نمبر حاصل کیے تو تعریف، اور اگر 75 یا 65 فیصد آئے تو فوراً سوال شروع ہو جاتے ہیں: "اتنے کم نمبر کیوں آئے؟"، "دیکھو تمہارے کزن نے کتنے نمبر لیے ہیں"، "تم سارا دن موبائل چلاتے رہتے ہو"، "تم سے کچھ نہیں ہوگا۔"
یہ الفاظ بظاہر معمولی لگتے ہیں، لیکن ایک بچے کے دل و دماغ پر گہرے زخم چھوڑ جاتے ہیں۔ وہ خود کو دوسروں سے کم تر سمجھنے لگتا ہے، اس کا اعتماد ٹوٹنے لگتا ہے، اور کئی بچے تو اپنی صلاحیتوں پر یقین ہی کھو بیٹھتے ہیں۔
ہر بچہ ایک جیسا نہیں ہوتا۔ کوئی ریاضی میں بہترین ہوتا ہے، کوئی زبانوں میں، کوئی آرٹ میں، کوئی کھیل میں، کوئی کمپیوٹر میں، کوئی کاروباری ذہن رکھتا ہے اور کوئی دوسروں کی قیادت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر ہم ہر بچے کو صرف ایک ہی پیمانے سے ناپیں گے تو یقیناً بہت سے باصلاحیت بچے خود کو ناکام سمجھنے لگیں گے۔
دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ بے شمار کامیاب لوگ کبھی پوزیشن ہولڈر نہیں تھے۔ کئی سائنس دان، صنعت کار، ادیب، فنکار، کھلاڑی اور کاروباری شخصیات نے عام تعلیمی نتائج کے باوجود غیر معمولی کامیابیاں حاصل کیں، کیونکہ انہوں نے اپنی اصل صلاحیت کو پہچانا اور مسلسل محنت کی۔
والدین اور اساتذہ کا اصل کردار صرف نمبر پوچھنا نہیں بلکہ بچے کا حوصلہ بڑھانا ہے۔ اگر نتائج توقع کے مطابق نہ آئیں تو سب سے پہلے بچے کی کوشش کو سراہیں، پھر اس کے ساتھ بیٹھ کر یہ سمجھیں کہ کہاں کمی رہ گئی اور آئندہ اسے کیسے بہتر کیا جا سکتا ہے۔ تنقید کے بجائے رہنمائی، موازنہ کے بجائے تعاون اور طعنوں کے بجائے اعتماد دینا ہی حقیقی تربیت ہے۔
خاص طور پر دوسروں سے موازنہ کرنا بچوں کے لیے انتہائی نقصان دہ ہوتا ہے۔ جب ایک بچے کو بار بار اس کے بہن بھائی، کزن یا کلاس فیلو سے موازنہ کیا جاتا ہے تو اس کے دل میں احساسِ کمتری، حسد اور بے زاری پیدا ہونے لگتی ہے۔ وہ اپنی ذات کو قبول کرنے کے بجائے دوسروں جیسا بننے کی ناکام کوشش میں لگ جاتا ہے۔
یاد رکھیے، ایک درخت آم دیتا ہے، دوسرا سیب، تیسرا کھجور اور چوتھا سایہ۔ کوئی بھی درخت دوسرے سے کم نہیں ہوتا، کیونکہ ہر ایک کی اپنی اہمیت اور اپنی پہچان ہوتی ہے۔ بچے بھی ایسے ہی ہوتے ہیں۔ ہر بچہ اپنی الگ صلاحیت، الگ رفتار اور الگ منزل لے کر پیدا ہوتا ہے۔
اس لیے اگلی بار جب کسی بچے کا نتیجہ آپ کی توقع سے کم آئے تو اسے یہ مت کہیں کہ "تم ناکام ہو۔" بلکہ اس سے کہیں: "یہ صرف ایک نتیجہ ہے، تمہاری پوری زندگی نہیں۔ ہم مل کر مزید بہتر کریں گے۔" شاید آپ کا یہی ایک جملہ اس کے مستقبل کا رخ بدل دے۔
آخر میں ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں: امتحان میں پوزیشن صرف چند بچے لیتے ہیں، لیکن زندگی میں کامیابی ان لوگوں کو ملتی ہے جو خود پر یقین رکھتے ہیں، مسلسل سیکھتے ہیں اور کبھی ہمت نہیں ہارتے۔ بچوں کو نمبر نہیں، اعتماد دیجیے۔ کیونکہ اعتماد والا بچہ ایک دن وہ مقام حاصل کر سکتا ہے جہاں صرف نمبروں والا شاید کبھی نہ پہنچ سکے۔
(تعلیم پاکستان )
#تعلیم
06/08/2026
Alhmdu lillah 80 % result improved from
43 %....As ops head first result above board.2026.
05/08/2026
Plz commet it ..
annalyse the Truth beneath this statement .
1.where our institutions are going.
2.. what are being taught to our young ones. Why our next generation going backward as compare with other nations why we are
unable produce new Dr.abdulqadir khan????
08/05/2026
Cool n satisfied environment is the key to super institution