19/12/2025
Jamal-ul-Quraan Model School
Jamal-ul-Quraan Model School is a project of Jamia Fatima-tul-Zahra Jamal-ul-Quraan Chiniot. Jamia was established in 1997 in Chiniot.
It was for Hifz-ul-Quraan with Tajweed initially and now is has many branches in the town with the message of Quraan.
19/12/2025
بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ والہ وسلم میں آج درود شریف لازمی پیش کریں
چوکنا اورذہن حاضررکھنے والی 4 اہم غذائیں
ماہرین کے مطابق بعض غذاؤں کو لازمی جزوبنانے سے جسم میں پھرتی اور دماغ میں تازگی اور یکسوئی پیدا ہوتی ہے لیکن کافی اور چائے کے مقابلے میں یہ زیادہ پرتاثیر اور بہتر ثابت ہوتی ہیں۔
جان لیں کہ ذہنی طور پر حاضر ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ جاگتے رہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کا حافظہ بھی بہتر ہو اورفیصلہ کرنے کی قوت بھی بہترین ہو۔
سیب:
سیب میں قدرتی شکر اور فائبر (ریشے) کی بہت زیادہ مقدار پائی جاتی ہے۔ جسم میں جاکر سیب دھیرے دھیرے ہضم ہوتا ہے اور گلوکوز خارج کرتا رہتا ہے جو دماغ کو توانا رکھتا ہے۔ تحقیق سے ثابت ہے کہ سیب میں ایک اہم شے کیورسٹن موجود ہوتی ہے جو اعصابی خلیات کی سوزش کو دور کرتے ہیں۔ ایک اور تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ سیب کا باقاعدہ استعمال نیوروٹرانسمیٹر کو طاقتور بناکر الزائیمر اور دیگر امراض کو دور کرتا ہے۔
مگرناشپتی: (ایواکیڈو)
ایواکیڈو یا مگرناشپتی اب پاکستان کے بڑے اسٹورز پر دستیاب ہے لیکن یہ باہر سے درآمد کیا جاتا ہے۔ اس میں موجود کئی اہم اجزا دماغی کیفیت، صلاحیت اور افعال کو بڑھاتے ہیں۔ اس کے خاص لحمیات یعنی فیٹس دماغی اعصاب اور ان کے سگنلز کو بہتر بناکر دماغ کو چاق و چوبند رکھتے ہیں۔
گہرے سبز پتوں والی سبزیاں:
پالک اور گہری رنگت والے پتوں کی سبزیاں دماغ کو برق رفتاری عطا کرتی ہیں۔ ان میں فولک ایسڈ اور وٹامن بی 9 کی وافر مقدار ہوتی ہے جنہیں فولیٹ بھی کہا جاتا ہے۔ اگر جسم میں ان اجزا کی کمی ہوجائے تو اس سے ڈپریشن کا مرض لاحق ہوسکتا ہے۔ کیونکہ اس سے دماغ کے اندر کیمیائی توازن متاثر ہوجاتا ہے۔
ناشتہ:
جی ہاں صبح کا ناشتہ آپ کے ذہن کو تازہ و بہتر رکھنے کی سب سے پہلی کلید ہے۔ خواہ دلیہ کھائیں، انڈہ یا دہی ۔ ناشتے میں ان کا استعمال مختصر مدت کی یادداشت کو بہتر بناتا ہے۔ جو لوگ صبح کے ناشتے میں یہ چیزیں استعمال کرتے ہیں وہ امتحانات میں اچھی کارکردگی دکھاپاتے ہیں۔
*آپ کی ناک* ہر وقت آپ کی نظروں کے سامنے ہے مگر دماغ اس کو فلٹر کر دیتا ھے اور آپ ہر وقت اسے نظروں کے سامنے محسوس نہیں کرتے۔
*مچھلی پانی* کو نہیں دیکھ سکتی اس کی نظروں سے پانی ویسا ہی پوشیدہ ہے جیسے آپ کی نظروں سے ہوا۔
ہر *جاندار* کے لئے اگر ایسے فلٹر نہ ہوتے تو فوکس کرنا مشکل ہوتا۔
فطرت سے *رہنمائی* حاصل کیجئے اور اپنے اردگرد ہونے والی غیر اہم باتوں کو نظرانداز کرنا سیکھئے۔
غیر *ضروری شور* کو زندگی سے باہر نکال دیا جائے تو آسان بھر پور اور بامقصد زندگی گزارنا آسان ہو جاتا ھے.
♧ 1960 کی دہائی میں جرمن جیل میں یہ واقعہ پیش آیا ، قیدیوں کو جیل کے گارڈز کی طرف سے ظلم اور ہر لحاظ سے بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔
قیدیوں میں ایک شمٹ نامی قیدی بھی شامل تھا جس کو طویل مدت تک کے لیے سزا سنائی گئی تھی لیکن اس قیدی کو جیل میں اچھی مراعات مل رہی تھیں اور محافظ اس کے ساتھ عزت اور احترام سے پیش آیا کرتے تھے۔
جس کی وجہ سے باقی قیدی یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے کہ وہ ان محافظوں کا ایک ایجنٹ ہے۔ شمٹ نے قیدیوں کو یقین دلانے کے لیے حلف اٹھایا کہ وہ ان جیسا ہی ایک قیدی ہے اور اس کا سیکیورٹی سروسز سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
لیکن کسی نے بھی اس کی بات پر یقین نہ کیا، چنانچہ قیدیوں نے کہا ، "ہم جاننا چاہتے ہیں کہ جیل کے محافظ آپ کے ساتھ ہم سے مختلف سلوک کیوں کرتے ہیں؟"
شمٹ نے قیدیوں سے کہا: "ٹھیک ہے، مجھے یہ بتائیں کہ آپ اپنے رشتہ داروں کو ہفتہ وار جو خطوط لکھتے ہیں اس میں کیا لکھ کر بھیجتے ہیں؟"
سب نے ایک زبان ہوکر کہا : "ہم ان لعنتی محافظوں کے ہاتھوں جیل میں ہم پر ہونے والے ظلم اور زیادتی کی داستان کے بارے میں لکھتے ہیں-"
شمٹ نے قیدیوں کو جواب میں کہا : "میں ہر ہفتے اپنی بیوی کو خط لکھتا ہوں اور خط کی آخری سطروں میں جیل کے محافظوں اور محسنوں اور ان کے حسن سلوک کا ذکر کرتا ہوں اور بعض اوقات اپنے خطوط میں کچھ محافظوں کے نام بھی لکھ دیتا ہوں اور ان کی تعریف بھی کردیتا ہوں."
قیدیوں نے شمٹ کو جواب دیا : اس سب کا کیا لینا دینا جب کہ تمہیں معلوم ہے کہ ہمارے ساتھ یہاں بہت ظلم کیا جاتا ہے؟
شمٹ نے کہا کہ ذہین لوگو، ہمارے تمام خطوط اور پیغامات جیل سے اس وقت تک باہر نہیں بھیجے جاتے جب تک کہ محافظ ان کو خود پڑھ نہ لیں اور اس طرح وہ ہر چھوٹی بڑی بات کا پتہ لگا لیتے ہیں اور خطوط میں درج باتوں کو بدل بھی دیتے ہیں۔
اگلے ہفتے قیدیوں کو یہ دیکھ کر حیرت سے شدید دھچکا لگا کہ تمام جیل گارڈز نے قیدیوں کے ساتھ پہلے سے بھی کہیں زیادہ بدترین سلوک کیا، حتی کہ شمٹ کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا گیا اور اس کے ساتھ جیل کا عملہ نہایت سختی سے پیش آیا۔
کچھ دن بعد شمٹ نے قیدیوں سے پوچھا : "تم نے اس ہفتے کے خطوط میں ایسا کیا لکھ دیا تھا؟"
سب نے جواب میں کہا : "ہم نے لکھا تھا کہ شمٹ نے ہمیں ملعون محافظوں کو دھوکہ دینے اور ان کا اعتماد اور یقین حاصل کرنے کا ایک نیا طریقہ سکھایا ہے-"
یہ سن کر شمٹ نے دکھ کے مارے اپنے گال پیٹ لیے اور اپنے بال پاگلوں کی طرح نوچنے شروع کردیے۔
~ حاصل کلام :-
دوسروں کی مدد کرنا اچھا ہے، لیکن یہ جاننا زیادہ ضروری ہے کہ آپ جس شخص سے بات کر رہے ہیں، وہ کس فطرت کا مالک ہے۔“
ماخوذ جرمن ادب
Copied #
03/04/2024
Link for registration: https://forms.gle/3sMiHgrjVB95SaZR9
Are you Matriculation student and wants to get admission in Superior College Chiniot on Scholarship based on healthy Educational or athletic background, then just fill the form and submit, we'll contact you soon.
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Telephone
Website
Address
35400
Opening Hours
| Monday | 05:00 - 19:00 |
| Tuesday | 05:00 - 19:00 |
| Wednesday | 05:00 - 19:00 |
| Thursday | 05:00 - 19:00 |
| Saturday | 05:00 - 19:00 |
| Sunday | 05:00 - 19:00 |
23/03/2024