29/07/2023
فریب عشقم
وہ دہرے قتل کی ایک لرزہ خیز واردات تھی! اطلاع ملتے ہی میں نے ایک کانسٹیبل کو ساتھ لیا اور جائے وقوعہ پر پہنچ گیا۔ مئی اختتام پر تھا۔ اس وقت شام کے پانچ بج رہے تھے۔ دوپہر اگرچہ ڈھل چکی تھی لیکن موسم کی شدت کے باعث یونہی محسوس ہوتا تھا، سورج سر پر ٹھہر گیا ہو!
دہرے قتل کی وہ واردات چودھری غنی کے ڈیرے پر ہوئی تھی۔ چودھری غنی کا تعلق موضع ٹبی سے تھا اور مذکورہ ڈیرا، گاؤں کے جنوب میں تاحد نگاہ پھیلے ہوئے کھیتوں کے درمیان واقع تھا۔ ان دنوں میں قصبہ نجیب آباد میں تعینات تھا۔ یہ قصبہ موضع ٹبی سے نزدیک ہی تھا۔ ہم ایک تانگے پر سوار ہو کر پہلے ٹبی آئے پھر چودھری غنی کے ساتھ اس کے ڈیرے پر پہنچ گئے۔
وہ ڈیرا نیچی چھتوں والے تین کمروں اور ایک کشادہ صحن پر مشتمل تھا۔ ایک کمرے میں مختلف زرعی آلات اور کچھ ناکارہ سامان بھرا ہوا تھا۔ دوسرا کمرا ٹیوب ویل کے لئے مخصوص تھا۔ جب کہ تیسرے کمرے کی سیٹنگ سے اندازہ ہوتا تھا، اسے بطور رہائش استعمال کیا جاتا تھا۔ کمرے میں ایک بڑی چارپائی کے علاوہ ایک چھوٹی میز اور دو کرسیاں بھی موجود تھیں دونوں مقتولین کی لاشیں مذکورہ چار پائی پر پڑی تھیں۔ لاشوں کو سفید چادر سے ڈھانپ دیا گیا تھا جو ایک طرف سے خون آلود تھی۔ میں چارپائی کی طرف بڑھا تو چودھری غنی اضطراری لہجے میں بولا۔ ایک منٹ ملک صاحب! میں رک کر سوالیہ نظر سے چودھری کو دیکھنے لگا۔ اس ڈیرے پر نصف درجن سے زیادہ افراد جمع ہو گئے تھے اور مزید بھی آرہے تھے۔ یہ ایسا واقعہ تھا جس نے گاؤں میں ایک کھلبلی سی مچا دی تھی۔ چودھری نے وہاں موجود لوگوں کو کمرے سے باہر نکل جانے کا حکم دیا۔ فوراً اس کے حکم کی تعمیل کی گئی۔
پلک جھپکتے میں کمرا خالی ہو گیا۔ صرف میں، چودھری اور کانسٹیبل ساجد اس کمرے میں رہ گئے۔ چودھری نے کانسٹیبل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
کا کا! تم بھی تھوڑی دیر کے لئے باہر جاؤ۔“
ساجد کی عمر بیس کے قریب تھی لیکن وہ اپنی صحت اور چہرے کی معصومیت کے باعث چودہ پندرہ سال کا لڑکا دکھائی دیتا تھا، اس لئے چودھری نے اسے کاکا معنی بچہ کہہ کر مخاطب کیا تھا۔
ساجد نے متذبذب نظر سے میری طرف دیکھا، پھر میری نگاہ میں تائیدی تاثر کو پا کر وہ خاموشی کے ساتھ کمرے سے باہر چلا گیا۔ چودھری نے دروازے کے کواڑ پھیرے اور میری جانب مڑتے ہوئے بولا۔
در اصل ان دونوں کی حالت ایسی نہیں کہ کمرے میں تماشا لگایا جائے۔“ اس کا اشارہ چارپائی پر رکھی لاشوں کی سمت تھا۔ میں اثبات میں سر ہلاتے ہوئے چارپائی کے نزدیک آ گیا۔ اسی لمحے چودھری غنی نے چادر کو ایک کونے سے پکڑ کر لاشوں کے اوپر سے بھینچ لیا۔
میری نگاہ ایک شرم ناک منظر سے متصادم ہوئی اور بے اختیار جھک گئی۔
وہ مرد وزن کی دو لاشیں تھیں، ایک دوسرے کے اوپر لدی ہوئی۔ ان کے جسم لباس سے عاری تھے۔ عقل مند کے لئے اشارہ کافی ہوتا ہے تاہم ان کی کیفیت کو سمجھنے کے لئے کسی خاص عقل یا واضح اشارے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ فطری لباس میں وہ دونوں اپنی کہانی خود بیان کر رہے تھے۔
میں نے اسی لئے مجمع کو باہر نکالا ہے ! چودھری کی بوجھل اور دھیمی آواز میری سماعت سے ٹکرائی۔
میں نے چونک کر اس کی طرف دیکھا اور پوچھا۔ ”کون ہیں یہ دونوں؟“ مشتاق تو میرا نوکر ہے۔“ اس نے مرد کی لاش کی جانب اشارہ کیا۔ ادھر ڈیرے پر ہی ہوتا ہے پھر وہ عورت کے بارے میں بتانے لگا۔ یہ سُگی ہے . صُغری عرف سُگی ۔
بشارت کی بیوی۔“
ان دونوں کا آپس میں کیا رشتہ ہے؟“ بے اختیار میری زبان سے نکل گیا۔ چودھری معنی خیز لہجے میں بولا ۔ " آپ خود ہی دیکھ لیں ۔" میں گمبیھر انداز میں سر ہلا کر رہ گیا۔ چودھری نے لوگوں کو جائے وقوعہ سے ہٹا کر عقل مندی کا ثبوت دیا تھا۔ واقعی مقتولین
کے منظر کو عام نمائش کے لئے پیش نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اس وقت میرا پورا بدن پسینے میں شرابور ہو رہا تھا۔ یہ موسم کی شدت کا نہیں بلکہ حالات کی حدت کا نتیجہ تھا۔ بہر حال، موقع کی کارروائی بہت ضروری تھی اس لئے میں بڑے محتاط طریقے سے ان لاشوں کے معائنے میں مصروف ہو گیا۔ پندرہ منٹ کے تنقیدی جائزے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا کہ مشتاق اور سُگی کو ان کی بے خبری میں موت کے گھاٹ اتارا گیا تھا۔ یہ بے خبری ان کی بے گانگی اور خشوع و خضوع کا نتیجہ بھی ہو سکتی تھی۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ان دونوں کے جسموں میں کسی پوری طرح بھرے ہوئے ریوالور کو خالی کر دیا گیا تھا۔ دونوں کے ابدان کے بالائی حصے خون میں نہائے ہوئے تھے۔ یہ واردات بادی النظر میں کسی شدید انتقامی کارروائی کا نتیجہ دکھائی دیتی تھی۔ سُگی اور مشتاق کی خوں چکاں لاشوں کو دیکھ کر مجھے دلی افسوس ہوا۔ سُگی اگر چہ اب زندگی سے بہت دور جا چکی تھی تاہم اس کے چہرے کے نقوش اسے غیر معمولی حسین ظاہر کرتے تھے۔ مشتاق بھی ایک وجیہہ و شکیل مرد تھا۔ میں نے ایک گہری سانس خارج کرتے ہوئے ان دونوں کی لاشوں کو دوبارہ سفید ، خون آلود چادر سے ڈھانک دیا۔ یہ کس کا کارنامہ ہو سکتا ہے؟ میں نے چودھری غنی کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔ وہ اپنی ایک ٹانگ کو دباتے ہوئے بولا۔ یہ تو آپ پتا چلائیں گے جناب۔" آپ کا ذہن کیا کہتا ہے؟“
میرا ذہن تو بشارت کی طرف جا رہا ہے۔" یعنی سُگی کے شوہر کی طرف ؟" میں نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا۔ وہ دوبارہ اپنی ٹانگ کو مسلتے ہوئے بولا ۔ ایسی غیرت مندی کی کارروائی کوئی شوہر ہی کر سکتا ہے ملک صاحب !" کیا بشارت سے اس بارے میں کوئی پوچھ گچھ کی گئی ہے؟"
میں نے اس کی طرف بندہ دوڑایا تھا ۔ چودھری نے بتایا۔ لیکن وہ گھر پر نہیں ملا۔“ اس کا مطلب ہے، بشارت کو ابھی تک اس واقعے کی اطلاع نہیں ملی۔ میں نے پر سوچ انداز میں کہا۔ چودھری بولا ۔ ملک صاحب ! اگر میرا ذہن صحیح خطوط پر سوچ رہا ہے تو پھر عین ممکن ہے بشارت خود ہی کہیں ادھر اُدھر ہو گیا ہو!“
چودھری نے معنی خیز انداز میں بات مکمل کی تو مجھے یہ سمجھنے میں کوئی دشواری پیش نہ آئی کہ وہ بشارت کو شکی اور مشتاق کا قاتل سمجھ رہا تھا۔ میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سوال کیا۔
چودھری صاحب! آپ اس واردات کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟ کچھ زیادہ نہیں ۔ اس کا ہاتھ ایک مرتبہ پھر دائیں ٹانگ کی جانب چلا گیا۔ میں نے پوچھا۔ ” کیا آپ کی ٹانگ کے ساتھ کوئی مسئلہ ہے؟“
ہاں، پچھلے دنوں سے یہ مسئلہ شروع ہوا ہے۔ اس نے جواب دیا۔ ”حکیم اسے عرق النسا کہتا ہے۔" پھر وہ بڑے بھونڈے انداز میں بولا ۔ پتہ نہیں، کس کم بخت کا عرق مجھے تکلیف پہنچانے اس ٹانگ میں آبیٹھا ہے۔ بہر حال ...
اس نے جملہ ادھورا چھوڑ کر خجالت آمیز نظر سے مجھے دیکھا۔ میں نے اس کے عامیانہ بیان پر جب کوئی تبصرہ نہ کیا تو وہ اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے بیزاری سے بولا۔ میں تو ادھر اپنی حویلی میں آرام کر رہا تھا۔ مراد گھبرایا ہوا میرے پاس آیا اور بتایا کہ ڈیرے پر کسی نے مشتاق اور سُگی کو قتل کر دیا ہے۔ میں حویلی سے ڈیرے پر آیا اور ان دونوں کی لاشوں کو خون میں لت پت پڑے دیکھ کر پلک جھپکتے میں سمجھ گیا ، وہ کس ڈرامے کے کردار بنے ہوئے تھے۔ میں نے ہی مراد کو حکم دیا کہ وہ لاشوں کو چادر سے ڈھک دے۔ اس کے بعد میں نے اپنے ایک بندے کو بشارت کی طرف دوڑایا۔ وہ گھر میں نہ ملا اور نہ ہی کھیتوں میں کہیں نظر آیا۔ میرا بھیجا ہوا بندہ ناکام لوٹ آیا وہ لمحے بھر کو سانس لینے کی خاطر رکا پھر سلسلہ کلام کو آگے بڑھاتے ہوئے بولا۔ پھر میں حویلی چلا گیا اور منظورے کو آپ کی طرف بھیج دیا تا کہ آپ موقع پر پہنچ کر قانونی کارروائی کر سکیں۔ اور ہاں مشتاق کی بیوی کو بھی اطلاع دے دی گئی ہے۔ اس نے اپنے گھر میں رونا پیٹنا ڈال رکھا ہے۔ وہ ایک مرتبہ یہاں سے بھی ہو کر گئی ہے لیکن میری ہدایت کے مطابق مراد نے اسے کمرے میں نہیں گھسنے دیا۔ پھر رک کر وہ مجھ سے متنفر ہوا۔ " آپ ہی بتائیں، ایک بیوی کا اپنے شوہر کو اس حالت میں دیکھنا کیا مناسب ہے
قطعی مناسب نہیں ۔ " میں نے دوٹوک انداز میں کہا۔ چودھری بولا۔ بلقیس، مراد سے بحث و تکرار کرتی رہی لیکن وہ میری تاکید کے مطابق ایک ہی بات پر ڈٹا رہا کہ پہلے پولیس اپنی ضروری کارروائی کرے گی پھر کسی کو لاشوں تک جانے دیا جائے گا۔
میں اس سے زیادہ اور کیا کر سکتا تھا؟“ "آپ نے جتنا کیا، یہ بھی کافی ہے۔" میں نے چودھری غنی کے خاموش ہونے پر کہا پھر پوچھا۔ "کیا مراد نامی وہ بندہ باہر موجود ہے؟“
وہ معتدل انداز میں بولا نہیں جناب ! وہ اس وقت ادھر گاؤں میں ہے۔" پھر ایک لمے کا توقف کرنے کے بعد اضافہ کرتے ہوئے بولا۔ ملک صاحب! آپ وقوعہ کی کارروائی سے فارغ ہو کر میری حویلی میں آجائیں۔ باقی باتیں وہیں ہوں گی۔ میں عرق النسا کی وجہ سے بہت پریشان ہوں اس لئے مجھے اجازت دیں۔ میں حویلی میں جا کر آرام کروں گا۔“
ٹھیک ہے چودھری صاحب! آپ جائیں۔ میں نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔ چودھری ڈیرے سے رخصت ہوا تو میں اپنے کام میں مصروف ہو گیا۔ ساجد کو میں نے کمرے کے دروازے پر متعین کر دیا تا کہ میری اجازت کے بغیر کوئی اس کمرے میں داخل نہ ہو۔ باہر موجود آٹھ نو افراد اندر آنے اور لاشوں کا نظارہ کرنے کے لئے بے چین تھے۔ اس بے چینی کو میں بہ خوبی سمجھ رہا تھا۔ وہ اپنے فطری جنس سے مجبور تھے۔ اس پر مستزاد واردات کی نوعیت تھی جو ان کے اشتیاق کو بڑھانے کا باعث تھی۔ تاہم میں نے انہیں ڈیرے کے صحن تک محدود کر دیا۔ لاشوں کا میں تفصیلی معائنہ کر چکا تھا لہذا پہلی فرصت میں انہیں ضلعی ہسپتال پہنچانے کا فیصلہ کر لیا۔ مشتاق اور سُگی کی لاشیں اگر جائے وقوعہ سے ہٹ جاتیں تو وہاں موجود لوگوں کی بے چینی اور تجسس کو بھی قرار آ جاتا ، وہ صبر کر کے بیٹھ جاتے۔ سرکاری ہسپتال کے آپریشن تھیٹر تک ان کی رسائی ممکن نہیں تھی۔
جو شے رسائی میں نہ ہو اس پر صبر آ ہی جاتا ہے! میں نے کانسٹیبل ساجد کو بھی لاشوں کے ساتھ ہی ہسپتال بھیج دیا۔ ساجد ایک ذہین اور معاملہ فہم اہل کار تھا۔ اس کی پولیس سروس کا عرصہ چند سال پر محیط تھا لیکن مجھے اس سے بڑی امیدیں تھیں۔ مجھے یقین تھا، وہ آگے جا کر بہت ترقی کرے گا۔ برسبیل تذکرہ ... بعد میں ساجد تھانہ انچارج بننے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ میں اس کمرے کا تفصیلی جائزہ لینے لگا۔ وہ بارہ ضرب پندرہ فٹ کا ایک عام سا نیچی چھت والا کمرا تھا۔ جس میں دروازے کے علاوہ دو پٹ والی ایک کھڑ کی بھی موجود تھی۔ مذکورہ کھڑکی کمرے کی عقبی جانب کھلتی تھی۔ میں نے کھڑکی کے پٹ کھول کر باہر کا جائزہ لیا۔
جاری ھے۔
https://youtu.be/oMkBT4ycdw4
پولیس آفیسر کی تفتیش پر مبنی دوہرے قتل کی لرزہ خیز داستان
An Emotional Heart Touching Story || Moral Story | Sachi Kahani || Sabak Amoz Urdu KahaniThis story shows how an honest police officer reveal a murder case ,...