29/07/2023
فریب عشقم
وہ دہرے قتل کی ایک لرزہ خیز واردات تھی! اطلاع ملتے ہی میں نے ایک کانسٹیبل کو ساتھ لیا اور جائے وقوعہ پر پہنچ گیا۔ مئی اختتام پر تھا۔ اس وقت شام کے پانچ بج رہے تھے۔ دوپہر اگرچہ ڈھل چکی تھی لیکن موسم کی شدت کے باعث یونہی محسوس ہوتا تھا، سورج سر پر ٹھہر گیا ہو!
دہرے قتل کی وہ واردات چودھری غنی کے ڈیرے پر ہوئی تھی۔ چودھری غنی کا تعلق موضع ٹبی سے تھا اور مذکورہ ڈیرا، گاؤں کے جنوب میں تاحد نگاہ پھیلے ہوئے کھیتوں کے درمیان واقع تھا۔ ان دنوں میں قصبہ نجیب آباد میں تعینات تھا۔ یہ قصبہ موضع ٹبی سے نزدیک ہی تھا۔ ہم ایک تانگے پر سوار ہو کر پہلے ٹبی آئے پھر چودھری غنی کے ساتھ اس کے ڈیرے پر پہنچ گئے۔
وہ ڈیرا نیچی چھتوں والے تین کمروں اور ایک کشادہ صحن پر مشتمل تھا۔ ایک کمرے میں مختلف زرعی آلات اور کچھ ناکارہ سامان بھرا ہوا تھا۔ دوسرا کمرا ٹیوب ویل کے لئے مخصوص تھا۔ جب کہ تیسرے کمرے کی سیٹنگ سے اندازہ ہوتا تھا، اسے بطور رہائش استعمال کیا جاتا تھا۔ کمرے میں ایک بڑی چارپائی کے علاوہ ایک چھوٹی میز اور دو کرسیاں بھی موجود تھیں دونوں مقتولین کی لاشیں مذکورہ چار پائی پر پڑی تھیں۔ لاشوں کو سفید چادر سے ڈھانپ دیا گیا تھا جو ایک طرف سے خون آلود تھی۔ میں چارپائی کی طرف بڑھا تو چودھری غنی اضطراری لہجے میں بولا۔ ایک منٹ ملک صاحب! میں رک کر سوالیہ نظر سے چودھری کو دیکھنے لگا۔ اس ڈیرے پر نصف درجن سے زیادہ افراد جمع ہو گئے تھے اور مزید بھی آرہے تھے۔ یہ ایسا واقعہ تھا جس نے گاؤں میں ایک کھلبلی سی مچا دی تھی۔ چودھری نے وہاں موجود لوگوں کو کمرے سے باہر نکل جانے کا حکم دیا۔ فوراً اس کے حکم کی تعمیل کی گئی۔
پلک جھپکتے میں کمرا خالی ہو گیا۔ صرف میں، چودھری اور کانسٹیبل ساجد اس کمرے میں رہ گئے۔ چودھری نے کانسٹیبل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
کا کا! تم بھی تھوڑی دیر کے لئے باہر جاؤ۔“
ساجد کی عمر بیس کے قریب تھی لیکن وہ اپنی صحت اور چہرے کی معصومیت کے باعث چودہ پندرہ سال کا لڑکا دکھائی دیتا تھا، اس لئے چودھری نے اسے کاکا معنی بچہ کہہ کر مخاطب کیا تھا۔
ساجد نے متذبذب نظر سے میری طرف دیکھا، پھر میری نگاہ میں تائیدی تاثر کو پا کر وہ خاموشی کے ساتھ کمرے سے باہر چلا گیا۔ چودھری نے دروازے کے کواڑ پھیرے اور میری جانب مڑتے ہوئے بولا۔
در اصل ان دونوں کی حالت ایسی نہیں کہ کمرے میں تماشا لگایا جائے۔“ اس کا اشارہ چارپائی پر رکھی لاشوں کی سمت تھا۔ میں اثبات میں سر ہلاتے ہوئے چارپائی کے نزدیک آ گیا۔ اسی لمحے چودھری غنی نے چادر کو ایک کونے سے پکڑ کر لاشوں کے اوپر سے بھینچ لیا۔
میری نگاہ ایک شرم ناک منظر سے متصادم ہوئی اور بے اختیار جھک گئی۔
وہ مرد وزن کی دو لاشیں تھیں، ایک دوسرے کے اوپر لدی ہوئی۔ ان کے جسم لباس سے عاری تھے۔ عقل مند کے لئے اشارہ کافی ہوتا ہے تاہم ان کی کیفیت کو سمجھنے کے لئے کسی خاص عقل یا واضح اشارے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ فطری لباس میں وہ دونوں اپنی کہانی خود بیان کر رہے تھے۔
میں نے اسی لئے مجمع کو باہر نکالا ہے ! چودھری کی بوجھل اور دھیمی آواز میری سماعت سے ٹکرائی۔
میں نے چونک کر اس کی طرف دیکھا اور پوچھا۔ ”کون ہیں یہ دونوں؟“ مشتاق تو میرا نوکر ہے۔“ اس نے مرد کی لاش کی جانب اشارہ کیا۔ ادھر ڈیرے پر ہی ہوتا ہے پھر وہ عورت کے بارے میں بتانے لگا۔ یہ سُگی ہے . صُغری عرف سُگی ۔
بشارت کی بیوی۔“
ان دونوں کا آپس میں کیا رشتہ ہے؟“ بے اختیار میری زبان سے نکل گیا۔ چودھری معنی خیز لہجے میں بولا ۔ " آپ خود ہی دیکھ لیں ۔" میں گمبیھر انداز میں سر ہلا کر رہ گیا۔ چودھری نے لوگوں کو جائے وقوعہ سے ہٹا کر عقل مندی کا ثبوت دیا تھا۔ واقعی مقتولین
کے منظر کو عام نمائش کے لئے پیش نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اس وقت میرا پورا بدن پسینے میں شرابور ہو رہا تھا۔ یہ موسم کی شدت کا نہیں بلکہ حالات کی حدت کا نتیجہ تھا۔ بہر حال، موقع کی کارروائی بہت ضروری تھی اس لئے میں بڑے محتاط طریقے سے ان لاشوں کے معائنے میں مصروف ہو گیا۔ پندرہ منٹ کے تنقیدی جائزے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا کہ مشتاق اور سُگی کو ان کی بے خبری میں موت کے گھاٹ اتارا گیا تھا۔ یہ بے خبری ان کی بے گانگی اور خشوع و خضوع کا نتیجہ بھی ہو سکتی تھی۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ان دونوں کے جسموں میں کسی پوری طرح بھرے ہوئے ریوالور کو خالی کر دیا گیا تھا۔ دونوں کے ابدان کے بالائی حصے خون میں نہائے ہوئے تھے۔ یہ واردات بادی النظر میں کسی شدید انتقامی کارروائی کا نتیجہ دکھائی دیتی تھی۔ سُگی اور مشتاق کی خوں چکاں لاشوں کو دیکھ کر مجھے دلی افسوس ہوا۔ سُگی اگر چہ اب زندگی سے بہت دور جا چکی تھی تاہم اس کے چہرے کے نقوش اسے غیر معمولی حسین ظاہر کرتے تھے۔ مشتاق بھی ایک وجیہہ و شکیل مرد تھا۔ میں نے ایک گہری سانس خارج کرتے ہوئے ان دونوں کی لاشوں کو دوبارہ سفید ، خون آلود چادر سے ڈھانک دیا۔ یہ کس کا کارنامہ ہو سکتا ہے؟ میں نے چودھری غنی کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔ وہ اپنی ایک ٹانگ کو دباتے ہوئے بولا۔ یہ تو آپ پتا چلائیں گے جناب۔" آپ کا ذہن کیا کہتا ہے؟“
میرا ذہن تو بشارت کی طرف جا رہا ہے۔" یعنی سُگی کے شوہر کی طرف ؟" میں نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا۔ وہ دوبارہ اپنی ٹانگ کو مسلتے ہوئے بولا ۔ ایسی غیرت مندی کی کارروائی کوئی شوہر ہی کر سکتا ہے ملک صاحب !" کیا بشارت سے اس بارے میں کوئی پوچھ گچھ کی گئی ہے؟"
میں نے اس کی طرف بندہ دوڑایا تھا ۔ چودھری نے بتایا۔ لیکن وہ گھر پر نہیں ملا۔“ اس کا مطلب ہے، بشارت کو ابھی تک اس واقعے کی اطلاع نہیں ملی۔ میں نے پر سوچ انداز میں کہا۔ چودھری بولا ۔ ملک صاحب ! اگر میرا ذہن صحیح خطوط پر سوچ رہا ہے تو پھر عین ممکن ہے بشارت خود ہی کہیں ادھر اُدھر ہو گیا ہو!“
چودھری نے معنی خیز انداز میں بات مکمل کی تو مجھے یہ سمجھنے میں کوئی دشواری پیش نہ آئی کہ وہ بشارت کو شکی اور مشتاق کا قاتل سمجھ رہا تھا۔ میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سوال کیا۔
چودھری صاحب! آپ اس واردات کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟ کچھ زیادہ نہیں ۔ اس کا ہاتھ ایک مرتبہ پھر دائیں ٹانگ کی جانب چلا گیا۔ میں نے پوچھا۔ ” کیا آپ کی ٹانگ کے ساتھ کوئی مسئلہ ہے؟“
ہاں، پچھلے دنوں سے یہ مسئلہ شروع ہوا ہے۔ اس نے جواب دیا۔ ”حکیم اسے عرق النسا کہتا ہے۔" پھر وہ بڑے بھونڈے انداز میں بولا ۔ پتہ نہیں، کس کم بخت کا عرق مجھے تکلیف پہنچانے اس ٹانگ میں آبیٹھا ہے۔ بہر حال ...
اس نے جملہ ادھورا چھوڑ کر خجالت آمیز نظر سے مجھے دیکھا۔ میں نے اس کے عامیانہ بیان پر جب کوئی تبصرہ نہ کیا تو وہ اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے بیزاری سے بولا۔ میں تو ادھر اپنی حویلی میں آرام کر رہا تھا۔ مراد گھبرایا ہوا میرے پاس آیا اور بتایا کہ ڈیرے پر کسی نے مشتاق اور سُگی کو قتل کر دیا ہے۔ میں حویلی سے ڈیرے پر آیا اور ان دونوں کی لاشوں کو خون میں لت پت پڑے دیکھ کر پلک جھپکتے میں سمجھ گیا ، وہ کس ڈرامے کے کردار بنے ہوئے تھے۔ میں نے ہی مراد کو حکم دیا کہ وہ لاشوں کو چادر سے ڈھک دے۔ اس کے بعد میں نے اپنے ایک بندے کو بشارت کی طرف دوڑایا۔ وہ گھر میں نہ ملا اور نہ ہی کھیتوں میں کہیں نظر آیا۔ میرا بھیجا ہوا بندہ ناکام لوٹ آیا وہ لمحے بھر کو سانس لینے کی خاطر رکا پھر سلسلہ کلام کو آگے بڑھاتے ہوئے بولا۔ پھر میں حویلی چلا گیا اور منظورے کو آپ کی طرف بھیج دیا تا کہ آپ موقع پر پہنچ کر قانونی کارروائی کر سکیں۔ اور ہاں مشتاق کی بیوی کو بھی اطلاع دے دی گئی ہے۔ اس نے اپنے گھر میں رونا پیٹنا ڈال رکھا ہے۔ وہ ایک مرتبہ یہاں سے بھی ہو کر گئی ہے لیکن میری ہدایت کے مطابق مراد نے اسے کمرے میں نہیں گھسنے دیا۔ پھر رک کر وہ مجھ سے متنفر ہوا۔ " آپ ہی بتائیں، ایک بیوی کا اپنے شوہر کو اس حالت میں دیکھنا کیا مناسب ہے
قطعی مناسب نہیں ۔ " میں نے دوٹوک انداز میں کہا۔ چودھری بولا۔ بلقیس، مراد سے بحث و تکرار کرتی رہی لیکن وہ میری تاکید کے مطابق ایک ہی بات پر ڈٹا رہا کہ پہلے پولیس اپنی ضروری کارروائی کرے گی پھر کسی کو لاشوں تک جانے دیا جائے گا۔
میں اس سے زیادہ اور کیا کر سکتا تھا؟“ "آپ نے جتنا کیا، یہ بھی کافی ہے۔" میں نے چودھری غنی کے خاموش ہونے پر کہا پھر پوچھا۔ "کیا مراد نامی وہ بندہ باہر موجود ہے؟“
وہ معتدل انداز میں بولا نہیں جناب ! وہ اس وقت ادھر گاؤں میں ہے۔" پھر ایک لمے کا توقف کرنے کے بعد اضافہ کرتے ہوئے بولا۔ ملک صاحب! آپ وقوعہ کی کارروائی سے فارغ ہو کر میری حویلی میں آجائیں۔ باقی باتیں وہیں ہوں گی۔ میں عرق النسا کی وجہ سے بہت پریشان ہوں اس لئے مجھے اجازت دیں۔ میں حویلی میں جا کر آرام کروں گا۔“
ٹھیک ہے چودھری صاحب! آپ جائیں۔ میں نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔ چودھری ڈیرے سے رخصت ہوا تو میں اپنے کام میں مصروف ہو گیا۔ ساجد کو میں نے کمرے کے دروازے پر متعین کر دیا تا کہ میری اجازت کے بغیر کوئی اس کمرے میں داخل نہ ہو۔ باہر موجود آٹھ نو افراد اندر آنے اور لاشوں کا نظارہ کرنے کے لئے بے چین تھے۔ اس بے چینی کو میں بہ خوبی سمجھ رہا تھا۔ وہ اپنے فطری جنس سے مجبور تھے۔ اس پر مستزاد واردات کی نوعیت تھی جو ان کے اشتیاق کو بڑھانے کا باعث تھی۔ تاہم میں نے انہیں ڈیرے کے صحن تک محدود کر دیا۔ لاشوں کا میں تفصیلی معائنہ کر چکا تھا لہذا پہلی فرصت میں انہیں ضلعی ہسپتال پہنچانے کا فیصلہ کر لیا۔ مشتاق اور سُگی کی لاشیں اگر جائے وقوعہ سے ہٹ جاتیں تو وہاں موجود لوگوں کی بے چینی اور تجسس کو بھی قرار آ جاتا ، وہ صبر کر کے بیٹھ جاتے۔ سرکاری ہسپتال کے آپریشن تھیٹر تک ان کی رسائی ممکن نہیں تھی۔
جو شے رسائی میں نہ ہو اس پر صبر آ ہی جاتا ہے! میں نے کانسٹیبل ساجد کو بھی لاشوں کے ساتھ ہی ہسپتال بھیج دیا۔ ساجد ایک ذہین اور معاملہ فہم اہل کار تھا۔ اس کی پولیس سروس کا عرصہ چند سال پر محیط تھا لیکن مجھے اس سے بڑی امیدیں تھیں۔ مجھے یقین تھا، وہ آگے جا کر بہت ترقی کرے گا۔ برسبیل تذکرہ ... بعد میں ساجد تھانہ انچارج بننے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ میں اس کمرے کا تفصیلی جائزہ لینے لگا۔ وہ بارہ ضرب پندرہ فٹ کا ایک عام سا نیچی چھت والا کمرا تھا۔ جس میں دروازے کے علاوہ دو پٹ والی ایک کھڑ کی بھی موجود تھی۔ مذکورہ کھڑکی کمرے کی عقبی جانب کھلتی تھی۔ میں نے کھڑکی کے پٹ کھول کر باہر کا جائزہ لیا۔
جاری ھے۔
https://youtu.be/oMkBT4ycdw4
پولیس آفیسر کی تفتیش پر مبنی دوہرے قتل کی لرزہ خیز داستان
An Emotional Heart Touching Story || Moral Story | Sachi Kahani || Sabak Amoz Urdu Kahani
An Emotional Heart Touching Story || Moral Story | Sachi Kahani || Sabak Amoz Urdu KahaniThis story shows how an honest police officer reveal a murder case ,...
07/07/2023
https://youtu.be/oSCelItNAYU
پورا ہال کھچا کھچ لوگوں سے بھرا پڑا تھا۔۔۔ بچے بوڑھے جوان سب اسٹیج کی طرف دیکھ رہے تھے۔۔۔۔ اور وہ جس کی برتھ ڈے تھی وہ مگن سا ہو کر اسے دیکھ رہا تھا جسے اس کی پر زور فرمائش پر مدعو کیا گیا تھا۔۔۔۔
اسٹیج کی داہنی سائیڈ پر ایک میوزک بینڈ کے بیچ و بیچ وہ ایک اونچی کرسی پر بیٹھی تھی۔۔۔ بلو کھلی جینز پر سفید ٹی شرٹ اور ٹی شرٹ پر سرخ رنگ کی بٹنوں والی شرٹ جو کے آگے سے کھلی تھی اور اس کی سلیویس اس نے فولڈ کی ہوئی تھی۔۔۔ ہاتھ کی داہنی کلائی پر مختلف رنگوں کے بینڈ بندھے ہوئے تھے۔۔۔اور بائیں کلائی پر گھڑی۔۔۔۔ پتلی پتلی انگلیاں کسی بھی انگوٹھی کے بغیر سفیدی مائل چمک رہی تھیں۔۔۔ لمبے بالوں کی فرینچ چٹیا بنی ہوئی تھی جو کہ داہنے کندھے پر رکھ کر آگے کی طرف تھی۔۔۔ کانوں کے آس پاس بہت سی لٹیں چٹیا سے نکل کر جھول رہیں تھیں۔۔۔کانوں میں تین سراخ تھے جن میں چھوٹے چھوٹے چاندی کے سٹڈ آویزاں تھے۔۔۔لباس ایسا تھا کے وہ اس کھلے ڈھلے لباس میں جھلی لگ رہی تھی۔۔۔ یا پھر یوں کہا جا سکتا ہے ہڈیوں کا ڈھانچہ۔۔۔ رنگ سفیدی مائل تھا۔۔۔ اتنا سفیدی مائل تھا کے ہری ہری نسیں گردن اور ہاتھوں میں صاف دکھائی دیتی تھیں۔۔۔اور بڑی بڑی آنکھوں پر موٹا چشمہ۔۔۔ جو اتنا ڈھیلا ہو چکا تھا کے بار بار ناک پر آہ جاتا تھا۔۔۔اود وہ ہر بار ماتھے پر بل لاتی اسے پیچھے دھکیلتی تھی۔۔۔ جبکہ ایسا کرنے پر جھنجلاہٹ اور بیزاری چہرے پر واضح دکھائی دیتی تھی۔۔۔۔ وہ ایک گٹار آرٹسٹ تھی یا پھر یوں کہا جا سکتا ہے کے گٹار کی دھنیں اس کی انگلیوں کی محتاج تھیں۔۔۔۔ ان انگلیوں کو اتنا کمال حاصل تھا اپنے فن پر کے وہ جادو کر دیتیں تھیں دھنوں پر اور دھنیں سننے والے کی سماعتوں کو جکڑ لیتیں تھیں۔۔۔۔
اس وقت وہ اپنی کلاس کے سب سے امیر سٹوڈنٹ کی برتھ ڈے پر مدعو تھی۔۔۔ بچہ اپنی ٹیچر کے میوزک کے سحر میں اس قدر جکڑا ہوا تھا کے اسے کوئی اور بھاتا ہی نہیں تھا۔۔۔۔ وہ اس سالگرہ کی مہمان خصوصی تھی۔۔۔
اس وقت بھی وہ ایک انگلش سونگ کی دھن بجا رہی تھی۔۔۔۔ آنکھیں بند کیے ایک الگ جہان میں۔۔۔۔ اور اپنے ساتھ سننے والوں کو بھی اسی جہان کی سیر کروا رہی تھی۔۔۔۔ سب ایک راحت بخش لمحے میں قید تھے کے اچانک انگلیاں رک گئی دھن ختم ہوئی ہال تالیوں سے گونج اٹھا ہر کوئی اس کے فن کی داد دے رہا تھا اسے۔۔۔ وہ کرسی سے اٹھی گٹار کو گردن سے نکالا پیٹ پر ہاتھ رکھ کر سر کو جھکایا داد کو وصول کیا اور اپنی کراس باڈی گلے میں لٹکائی گٹار کو اس کے کور میں پیک کیا اور چشمہ کو ناک پر ٹھیک کرتے اسٹیج سے اتری تھی۔۔۔۔
01/07/2023
ہمارے پرانے محلے کی ایک لڑکی تھی اور اس قدر خوبصورت تھی کہ اس کے مقابلے کی کوئی لڑکی نہیں تھی مگر محلے والے رانی کے بارے میں ایک ایسی بات کہتے تھے جس پر یقین کرنا ناممکن سا تھا ۔۔۔۔۔۔ محلے کے کچھ لوگ کا کہنا تھا کہ رانی کوئی لڑکی نہیں ہے بلکہ ایک خواجہ سرا ہے ۔۔۔۔
یہ بات اپنے آپ میں کافی حد تک عجیب تھی رانی کے کسی بھی انداز سے نہیں لگتا تھا کہ وہ لڑکی نہیں ہے نہ آواز سے ، نہ جسامت سے نہ چال ڈھال سے ۔۔۔۔ پھر کیوں محلے کے کچھ لوگ اس کے بارے میں ایسی باتیں کرتے تھے ۔۔۔۔۔۔
جہاں رانی کو آدھے محلے والے خواجہ سرا مانتے تھے وہیں آدھے لوگ یہ بھی کہتے تھے ' شریف اور سادہ سی لڑکی ہے بس زرا سا رنگ روپ باقی لڑکیوں سے خوبصورت ہے اس لئے کچھ لوگ اسے خواجہ سرا سمجھتے ہیں '
مجھے یہ بات ہضم نہیں ہوئی اگر کسی کا رنگ روپ خوبصورت ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ خواجہ سرا ہے ۔۔۔مجھے نہ تو کبھی رانی سے ہمدردی تھی نہ ہی محلے والوں کی باتوں میں کوئی دلچسپی تھی مگر دل میں ایک تجسس ایک سسپنس سا پیدا ہو گیا کہ یہ چکر کیا ہے ۔۔۔۔۔
میں نے رانی کے گھر کے بہت سارے لوگوں سے پتا کرانے کی کوشش کی سب کا یہی جواب تھی کہ وہ لڑکی ہے مگر محلے والے کس بنا پر یہ بات کر رہے تھے ۔ ۔۔۔ اور اس بات کے جواب میں اکثر وہ یہ کہتے تھے ۔۔۔۔
' اب گھر والے تو اپنی اولاد کے عیب چھپائیں گے ناں ۔۔۔۔ سچ تو یہ ہے رانی ایک خواجہ سرا پیدا ہوئی تھی ۔۔۔ جس دائی نے ڈیلیوری کی تھی اس نے خود ہی یہ بات بتائی تھی ۔۔۔۔ اب اپنی عزت بچانے کے لئے اس کے گھر والے جھوٹ بول رہے ہیں ۔۔۔۔'
میرا تجسس ختم ہونے کی بجائے مزید بڑھ گیا یہ گھتی الجھتی چلی جا رہی تھی آخر حقیقت کیا تھی ۔۔۔۔ میں محلے کے ایک بزرگ کے پاس گیا اور اس سے دائی اور رانی کے حوالے سے چھیڑا جوابا اس نے کہا تھا ۔۔۔۔۔
https://youtu.be/MkOieqVjQf4
29/03/2023
السلام علیکم👨❤️👨👨❤️👨
پیارے دوستو!
میرے یوٹیوب چینل
❤❤
کا وزٹ کریں🏃🏃 اگر ناولز پسند آئیں توچینل کو ضرور سبسکرائب کریں
اگر آپ یوٹیوب چینل کے بارے میں مشورہ لینا چاہیں تو بندہ ناچیز حاضر ہے
❤❤👍👍
26/02/2023
پہلی چاہت
قسط3 پارٹ ون
مرحا اور اشعر ناشتہ کر کے اپنے کمرے میں آئے تھے ۔۔۔۔
رپورٹس کا کیا ہوا ۔۔۔۔ مرحا نے اشعر سے اس کی رپورٹس کے بارے میں سوال کیا تھا ۔۔۔۔۔
ابھی نہیں آئی رپورٹس ۔۔۔۔۔ جب آئیں گی تب ہی کچھ بتائیں گے وہ
اشعر ابھی فی الحال ان چیزوں کو ڈسکس نہیں کرنا چاہتا تھا ۔۔۔۔
اسی لئے مرحا کو مزید کچھ پوچھنے سے منع کر دیا ۔۔۔۔
وہ بیڈ پر لیٹ گیا تھا ۔۔۔۔ لیکن مرحا کو پتہ نہیں کون سے کام یاد آ گئے تھے جو وہ اس کے پاس ہی نہیں آ رہی تھی ۔۔۔۔
مرحا ۔۔۔۔ اشعر کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا تو اسے آواز دی ۔۔۔۔۔
وہ سائیڈ روم میں پتہ نہیں کیا ڈھونڈ رہی تھی ۔۔۔۔ جو اسے مل نہیں رہا تھا ۔۔۔۔ اشعر کی آواز پر جلدی سے آئی تھی ۔۔۔۔
کیا ہوا اشعر ۔۔۔۔ ایسے کیوں آواز دی میں تو ڈر ہی گئی ۔۔۔۔
وہ دل پہ ہاتھ رکھے اسے بتانے لگی ۔۔۔۔۔
آپ کو احساس ہی نہیں ہے شوہر تھکا ہوا آیا ہے ۔۔۔۔۔ اور آپ کو پتہ نہیں کون سے کام یاد آ رہے ہیں ۔۔۔۔۔ اشعر کا غصہ اب عروج پر تھا
وہ میں نے آپ کے کپڑے رکھے تھے کبرڈ میں مگر مل نہیں رہے ۔۔۔۔ استری کرنے تھے تو ڈھونڈ رہی تھی میں ۔۔۔۔۔ مرحا اشعر کا غصہ دیکھ کر گھبرا گئی تھی ۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے جائیں آپ کپڑے ڈھونڈیں ۔۔۔۔۔ شوہر جائے بھاڑ میں ۔۔۔۔
غصے سے کہتا وہ رخ پھیر کر لیٹ گیا ۔۔۔۔
وہ اس کے پاس آئی تھی ۔۔۔۔ سوری ۔۔۔۔۔ اس نے اشعر کے بازو پر اپنا ہاتھ رکھ کر معذرت کی تو ۔۔۔۔ اشعر نے اسے اپنی طرف کھینچ لیا تھا
آپ کو احساس نہیں ہے نہ میرا ۔۔۔۔ اشعر نے گلہ کیا تھا اس سے ۔۔۔۔
نہیں وہ ۔۔۔۔ مرحا کچھ کہنے ہی لگی کہ اشعر نے اس کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ کر اسے مزید کچھ کہنے سے روک دیا ۔۔۔۔ اور اس کی بولتی بند کر دی ۔۔۔۔۔
مرحا کی جب آنکھ کھلی تو اسے اپنے قریب پایا ۔۔۔۔
وہ شخص اب اس کا سب کچھ تھا ۔۔۔۔۔۔
اب تو وہ ایک پل بھی اس کے بنا رہنے کا تصور نہیں کر سکتی تھی
اشعر آپ میرا سب کچھ ہیں ۔۔۔۔ آپ کو نہیں پتہ ۔۔۔۔ وہ بہت آہستہ آواز میں اس سے مخاطب تھی ۔۔۔ وہ جانتی تھی وہ سو رہا تھا ۔۔۔۔ اور اس نے نہیں سنا ہو گا ۔۔۔۔ مگر اس نے سن لیا تھا ۔۔۔۔۔
آنکھیں کھولے بنا ہی ۔۔۔۔۔ اسے بانہوں کے حصار میں لیتے اسے خود سے قریب کیا تھا ۔۔۔۔۔ مجھے سب پتہ ہے ۔۔۔۔۔ میں سب جانتا ہوں کہ میری بیوی مجھ سے کتنا پیار کرتی ہے ۔۔۔۔ میری زندگی کے لیے دعائیں مانگتی ہے ۔۔۔۔۔ یہ کہتے ہوئے اس نے مرحا کے چہرے پر کس کی تھی ۔۔۔
کب آئے گی رپورٹس ۔۔۔۔ شام کو عصر کی نماز کے بعد ۔۔۔۔ مرحا نے پھر سے اشعر سے رپورٹس کے بارے میں سوال کیا تھا ۔۔۔۔
آپ ایک چیز کے پیچھے کیوں پڑ جاتی ہیں ۔۔۔۔ کہہ رہا ہوں نہ جب آئیں گی پتہ چل جائے گا ۔۔۔۔ وہ غصے سے کہتا کمرے سے نکل گیا تھا
مرحا بے چاری بہت پریشان ہو گئ تھی ۔۔۔۔ کسی سے اپنا دکھ بھی نہیں کہہ سکتی تھی ۔۔۔ پتہ نہیں کیسے انسان ہیں یہ ۔۔۔ پل میں تولہ ۔۔۔ پل میں ماشہ
میں بھی اب بات نہیں کروں گی ۔۔۔۔ سمجھتے کیا ہیں خود کو ۔۔۔۔
غصے سے سر جھٹکتی وہ کبرڈ میں کپڑے ڈھونڈنے لگی ۔۔۔۔
وہ نیچے لاؤنج میں آیا تو ارحم ٹی وی دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔
اسے دیکھ کر کوئی رسپانس نہیں دیا تو وہ خود ہی اسے تنگ کرنے لگا ۔۔۔۔
نہ کریں چاچو ۔۔۔۔ پیچھے ہٹیں ۔۔۔۔ وہ چاچو سے کچھ خفا خفا سا لگ رہا تھا ۔۔۔۔۔
کیوں ۔۔۔۔ کیا ہوا ہے ۔۔۔۔ ارحم کا موڈ خراب دیکھا تو اسے گود میں اٹھا لیا ۔۔۔۔
آپ سارا دن اپنی دلہن کے ساتھ ہوتے ہیں ۔۔۔۔ مجھ سے تو بات بھی نہیں کرتے اور اب تو باہر بھی لے کر نہیں جاتے ۔۔۔۔۔ وہ ٹی وی کی طرف دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔مگر بات اشعر سے کر رہا تھا ۔۔۔۔۔
ہاہاہاہا ۔۔۔۔ اچھا اب تو آپ کے ساتھ ہوں ۔۔۔۔۔ چلو چلتے ہیں ۔۔۔۔۔
ارحم کو گود میں اٹھاتے وہ باہر چلا گیا تھا ۔۔۔۔۔
قریبی مارکیٹ سے کچھ ضرورت کی چیزیں لیں اور ارحم کو بھی شاپنگ کروائی ۔۔۔۔۔ ارحم کے ضد کرنے پر اسے پلے لینڈ لے گیا ۔۔۔۔ پھر گھر کی راہ لی ۔۔۔۔۔
تقریباً دو ڈھائی گھنٹے بعد گھر واپس آئے تھے وہ لوگ ۔۔۔۔۔
گاڑی کا ہارن بجانے کے باوجود بھی کسی نے دروازہ نہیں کھولا تو خود اتر کر گیٹ کا لاک کھولا اور پھر گاڑی اندر کی ۔۔۔۔۔
وہ اندر آیا تو بالکل سناٹا تھا۔۔۔۔۔ گھر کھانے کو آ رہا تھا ۔۔۔۔۔
گھر میں کوئی نہیں تھا ۔۔۔۔۔۔
موبائل وہ گھر پر چھوڑ گیا تھا ۔۔۔۔۔ جلدی سے اوپر کمرے میں گیا ۔۔
کمرہ بھی اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا ۔۔۔۔ لائیٹس آن کی ۔۔۔
مرحا بھی نہیں تھی ۔۔۔۔ کہاں چلے گئے سب ۔۔۔۔ اشعر بہت پریشان ہو گیا تھا ۔۔۔۔۔
موبائل چیک کیا تو اس پر مرحا اور فیصل بھائی کی مسڈ کالز آئی ہوئی تھیں ۔۔۔۔ فوراً سے کال ملائی ۔۔۔۔ مرحا تو فون نہیں اٹھا رہی تھی ۔۔۔۔ پھر فیصل بھائی کو کال ملائی تو انھوں نے بتایا کہ مرحا کی امی کی طبیعت اچانک سے خراب ہو گئی تھی اسی لیے انھیں فورا وہاں جانا پڑا ۔۔۔۔ لیکن اب ان کی طبیعت کچھ سنبھل گئی تھی اسی لیے اب انھیں گھر لے آئے تھے
اشعر کو سخت شرمندگی محسوس ہوئی کہ اس وقت اسے وہاں ہونا چاہیے تھا ۔۔۔۔ پھر جلدی سے بھتیجے کو ساتھ لئے گاڑی میں بٹھایا اور سسرال روانہ ہو گیا ۔۔۔۔۔
وہاں پہنچا تو سب ہی وہاں موجود تھے سوائے اشعر کے ۔۔۔۔ اور اسے مزید شرمندگی تو اس وقت ہوئی جب اس نے مرحا کی بھابی کے گھر والوں کو وہاں بیٹھے دیکھا ۔۔۔۔۔
اب ہر ایک کو کیا بتاتا کہ وہ کیوں لیٹ آیا تھا ۔۔۔۔۔
پھر بھی تھوڑی بہت وضاحت دے دی ۔۔۔۔۔۔
حالانکہ اشعر کے گھر والے بتا ہی چکے تھے مگر پھر بھی اپنی تسلی کے لیے اس نے دیر سے آنے پر خود بھی معذرت کی تھی ۔۔۔۔۔
تھوڑی دیر وہاں رکنے کے بعد ۔۔۔۔ مرحا کی بھابی کے گھر والے اپنے گھر واپس چلے گئے تو فیصل بھائی ، فریال بھابھی اور بی جان بھی جانے کے لیے اٹھ گئے تھے ۔۔۔۔ البتہ اشعر مرحا کے ساتھ وہیں رک گیا تھا ۔۔۔۔۔ جب سب چلے گئے تو اشعر نے پھر سے اپنے لیٹ آنے پر ان لوگوں سے معذرت کی تھی ۔۔۔۔
کوئی بات نہیں ہو جاتا ہے کبھی کبھار ایسا ۔۔۔۔ مرحا کے بھائی نے اشعر کے کندھے پر ہاتھ رکھتے اسے کہا اور کمرے سے باہر چلے گئے۔
مرحا کی امی سو گئی تھیں ۔۔۔۔ تو اشعر نے مرحا سے اکیلے میں بات کرنے کے لیے کہا تو وہ اسے دوسرے کمرے میں لے گئی ۔۔۔۔ جو شادی سے پہلے اس کا کمرہ تھا ۔۔۔۔ اب بھی وہاں مرحا کی بہت سی چیزیں رکھی تھیں ۔۔۔۔ اور بھائی نے اپنی بیوی سے کہہ دیا تھا کہ یہ مرحا کا کمرہ ہے ۔۔۔۔۔ وہ جب آیا کرے گی تو اسی کمرے میں رہے گی ۔۔۔۔ لحاظہ اس کمرے کی سیٹنگ ویسی ہی تھی ۔۔۔۔۔ کچھ بھی چینج نہیں ہوا تھا ۔۔۔۔۔
مرحا ۔۔۔۔۔ آپ چل رہی ہیں میرے ساتھ ۔۔۔۔۔ اشعر صبح ہونے والی لڑائی کی وجہ سے پریشان تھا ۔۔۔۔۔
نہیں ۔۔۔۔۔ میں نہیں جاؤں گی ۔۔۔۔۔ مرحا نے منہ ہی پھر لیا
کیوں نہیں جائیں گی آپ ۔۔۔۔ اشعر پہلے ہی پریشان تھا اس کا انکار سننے کے بعد تو اس کے دل کی دھڑکنیں جیسے رکنے لگیں ۔۔۔۔۔
آپ جو سلوک میرے ساتھ کرتے ہیں نہ ۔۔۔۔۔ ابھی مرحا کی بات بھی پوری نہیں ہوئی تھی کہ دروازہ ناک ہوا ۔۔۔۔۔
دروازہ کھولا تو مرحا کا بھائی تھا سامنے ۔۔۔۔۔ امی آپ دونوں کو بلا رہی ہیں
یہ کہہ کر مرحا کے بھائی نے ایک گہری نظر اشعر پر ڈالی اور پھر تیز تیز قدم اٹھاتا وہاں سے چلا گیا ۔۔۔
بیٹا یہ پراپرٹی کے کاغذات ہیں ۔۔۔۔۔ تمھارے بابا نے مرنے سے پہلے تمھارے نام کی تھی ۔۔۔۔۔ انھوں نے اپنی زندگی میں ہی دونوں بچوں
کا حصہ دے دیا تھا ۔۔۔۔۔ یہ گھر اور ایک پلاٹ تمھارے بھائی کے نام ہے ۔۔۔۔ اور دوسرا پلاٹ تمھارے نام کیا تھا ۔۔۔۔۔ میں چاہتی ہوں ۔۔۔۔۔
اپنی زندگی میں ہی دے دوں ۔۔۔۔۔
مرحا کی امی نے وہ فائل مرحا کی طرف بڑھائی تھی ۔۔۔۔۔
امی مگر مجھے اس کی ضرورت نہیں ۔۔۔۔۔
مرحا لینا نہیں چاہ رہی تھی مگر پھر ماں اور بھائی کے کہنے پر لے لی ۔۔۔۔۔
وہ دونوں وہیں بیٹھے رہے کچھ دیر ۔۔۔۔ پھر مرحا کے بھائی نے مرحا کو اشارہ کرتے ہوئے باہر آنے کو کہا ۔۔۔۔ اور پھر اس نے اشعر کو بھی باہر بلا لیا تھا ۔۔۔۔۔۔
میں ذرا اشعر کے ساتھ باہر جا رہا ہوں ۔۔۔۔۔۔
مرحا کے بھائی نے اپنی بیوی سے کہا
اور پھر وہ دونوں ۔۔۔۔ اشعر کی گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے چلے گئے ۔۔۔
وہ لوگ ایک ریسٹورنٹ میں بیٹھے تھے ۔۔۔۔۔
میرا خیال ہے کہ ۔۔۔۔۔ آپ مجھے بتا سکتے ہیں کہ آپ دونوں کے درمیان کیا مسئلہ چل رہا ہے ۔۔۔۔۔ اگر آپ نے جھوٹ بولا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا ۔۔۔۔۔
مرحا کے بھائی کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا ۔۔۔۔۔
کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔۔۔۔۔ وہ تو ہم ویسے ہی ۔۔۔۔۔ ابھی اشعر کی بات پوری بھی نہیں ہوئی تھی کہ وہ پھر سے بول پڑا ۔۔۔۔۔
میری بہن کے معاملے میں میں نے کبھی اپنی بیوی کو برداشت نہیں کیا تو تم کیا چیز ہو ۔۔۔۔۔ اب کی بار مرحا کے بھائی کا لہجہ ذرا سخت ہو گیا تھا ۔۔۔۔۔۔
وہ میں نے آپ کی بہن کو منع کیا تھا کہ مجھ سے شادی نہ کرے مگر یہ نہیں مانی ۔۔۔۔۔ اشعر کی اس بات پر مرحا کا بھائی حیران ہی ہو گیا ۔۔۔۔
کیا مطلب ۔۔۔۔ کیوں منع کیا تھا ۔۔۔۔۔ اسے اشعر کی بات سمجھ نہیں آئی تو حیرت سے اشعر کی طرف دیکھنے لگا ۔۔۔۔۔
وہ مجھے برین ٹیومر ہے ۔۔۔۔۔ میں بی جان کو نہیں بتا سکتا ۔۔۔۔۔
میں نے شادی سے انکار کیا تھا مگر وہ نہیں مانیں ۔۔۔۔۔
اشعر نظریں جھکائے اسے سب بتانے لگا ۔۔۔۔۔۔
اور تمھیں میری بہن کی زندگی برباد کرتے ہوئے ذرا سا بھی اس کا خیال نہیں آیا ۔۔۔۔۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اشعر کا گلا اپنے ہاتھوں سے دبا دیتا ۔۔۔۔۔
میں اسلام آباد گیا تھا ۔۔۔۔۔ ڈاکٹروں نے میٹنگ کی تھی ۔۔۔۔۔۔
ان کا کہنا ہے کہ علاج میں ساٹھ سے ستر لاکھ کا خرچہ آئے گا ۔۔۔۔۔
میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں ۔۔۔۔۔ کہ علاج کروا سکوں ۔۔۔۔۔
آسٹریلیا کے ایک سرجن نے سرجری کا کہا ہے ۔۔۔۔۔ لیکن وہ یہاں زیادہ نہیں رک سکتے علاج کے لیے وہیں جانا ہو گا ۔۔۔۔۔
میرے پاس پیسے نہیں ہیں تو ۔۔۔۔۔ بس ٹھیک ہے جتنی زندگی ہے کافی ہے میرے لیے ۔۔۔۔
اس اذیت کو تو وہ کب سے ہی اکیلے جھیل رہا تھا ۔۔۔۔ مگر پچھلے دس پندرہ دن سے مرحا بھی اس آگ میں جل رہی تھی ۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے مرنا ہے تو مرو مگر میری بہن اب تمھارے ساتھ نہیں جائے گی ۔۔۔۔ وہ غصے سے پاگل ہو رہا تھا ۔۔۔۔۔
تم نے مجھے بتانا تھا ۔۔۔۔ میں یہ شادی ہونے ہی نہیں دیتا ۔۔۔۔۔
مرحا کے بھائی کی آنکھیں جیسے سرخ انگارا ہو گئی تھیں ۔۔۔۔۔
اگر آپ یہ شادی نہ ہونے دیتے تو وہ جیتے جی مر جاتی ۔۔۔۔۔
وہ کسی اور سے شادی نہ کرتی ۔۔۔۔۔ اس نے مجھے بچپن سے چاہا ہے
اور یہ سب باتیں اس نے مجھے خود بتائی ہیں ۔۔۔۔۔
اشعر خود بھی بہت پریشان تھا
بہرحال جو بھی ہے ۔۔۔۔۔ وہ اب تمھارے ساتھ نہیں جائے گی ۔۔۔۔۔
خلع کے پیپرز تمھیں مل جائیں گے ۔۔۔۔۔
اب تم گھر جا سکتے ہو ۔۔۔۔۔ میں خود چلا جاؤں گا گھر ۔۔۔۔۔
مرحا کا بھائی غصے سے کہتا وہاں سے اٹھ چکا تھا ۔۔۔
اشعر غم سے پاگل ہو رہا تھا ۔۔۔۔۔ ہاں اس نے بھی کہا تھا کہ وہ میرے ساتھ گھر نہیں جانا چاہتی ۔۔۔۔ چلو اچھا ہی ہے ۔۔۔۔۔ راہیں جدا ہو جائیں گی تو پھر جینے کی خواہش بھی نہیں رہے گی ۔۔۔۔۔
شکریہ مرحا ۔۔۔۔۔ آپ نے مجھ سے اتنی محبت کی ۔۔۔۔۔
مجھے محبت کرنا سکھائی ۔۔۔۔۔
بس اب بی جان کی فکر رہے گی مجھے ۔۔۔۔۔
پتہ نہیں ان کے دل پر کیا گزرے گی ۔۔۔۔۔
بس ٹھیک ہے میں کسی کو بھی نہیں بتاؤں گا ۔۔۔۔۔
خاموشی سے مر جاؤں گا ۔۔۔۔۔
بے بسی کیا ہوتی ہے ۔۔۔۔۔ اسے آج اچھے سے اندازہ ہو گیا تھا ۔۔۔۔۔
پھر یک دم ہی کچھ سوچتے اس نے موبائل سے میسیج کیا تھا ۔۔۔۔۔
وہ ہوٹل سے نکل کر قریب ہی ایک پارک میں چلا گیا تھا ۔۔۔۔۔
اس وقت وہ کسی سے بھی بات نہیں کرنا چاہتا تھا ۔۔۔۔۔
میری بہن ۔۔۔۔۔ میری گڑیا ۔۔۔۔۔ تم سے کتنی محبت تھی مجھے کبھی دنیا کی گرم ہوا بھی نہیں لگنے دی تمھیں ۔۔۔۔۔ مگر تمھارا نصیب نہیں بدل سکا تمھارا یہ بد قسمت بھائی ۔۔۔۔۔ مجھے معاف کر دینا ۔۔۔
تم نے کیوں کیا ایسا اپنے ساتھ ۔۔۔ مرحا میری جان ۔۔۔۔
اپنے بھائی کو تو بتا دیتی ۔۔۔۔ خود پر اتنا ظلم کر لیا ۔۔۔۔۔ اتنا کچھ سہہ لیا ۔۔۔۔۔ کیوں کیا تم نے اپنے ساتھ ایسا ۔۔۔۔۔
وہ بے آواز رو رہا تھا ۔۔۔۔۔
ابھی تو تم نے خوشیاں بھی نہیں دیکھی تھیں ۔۔۔۔۔ اور اتنی بڑی آزمائش ۔۔۔۔ خود چن لی تم نے اپنے لیے ۔۔۔۔۔۔
کیوں کیا تم نے ایسا ۔۔۔۔۔۔
اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اپنی بہن کو جھنجھوڑ کر پوچھتا ۔۔۔
مگر وہ اب فیصلہ کر چکا تھا ۔۔۔۔۔
اور اب اسے اس فیصلے پر عمل کرنا تھا ۔۔۔۔۔
جاری
https://youtu.be/ZPaS36pyTwU