16/10/2025
بچوں میں بدتمیزی اور نافرمانی کے پانچ نمایاں اسباب
بچے، بے شک، خدا کی عظیم نعمت ہیں۔ جب یہ نہ ہوں تو انسان ان کے حصول کے لیے ہر کوشش کرتا ہے، مگر جب یہی بچے نافرمان اور بدتمیز نکلیں تو یہ والدین کے لیے ایک کڑا اور صبر آزما امتحان بن جاتے ہیں۔ ایسے بچے نہ صرف خاندان کے سکون کو غارت کرتے ہیں بلکہ والدین کو وقت سے پہلے ہی ذہنی اور جذباتی طور پر تھکا دیتے ہیں۔
جدید ماہرینِ نفسیات اور ماہرینِ عمرانیات کا تجزیہ ہے کہ آج کی نسل کے بچے پچھلی نسلوں کے مقابلے میں زیادہ سرکش اور حاکمانہ رویہ رکھتے ہیں۔ اس تبدیلی کی جڑیں ہمارے نئے سماجی اور خاندانی ڈھانچے میں پیوست ہیں۔
ذیل میں پانچ ایسے بنیادی عوامل درج ہیں جو بچوں میں بدتمیزی کو پروان چڑھا رہے ہیں۔
۱۔ سماجی دوری اور بزرگوں کی ناقدری کا رجحان
آج کے والدین کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ وہ بچوں کی تربیت کو ایک خالص ذاتی معاملہ سمجھتے ہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ کوئی دوسرا، حتیٰ کہ دادا، دادی، نانا یا نانی بھی ان کے بچوں کے رویے میں مداخلت کرے۔ ماضی میں، وسیع خاندانی نظام (Joint Family System) بچوں کو بڑوں کا ادب اور احترام سکھاتا تھا، جہاں چچا، ماموں اور تایا جیسی شخصیات بچوں کی تربیت میں فعال کردار ادا کرتی تھیں۔
مگر اب، اگر کوئی بزرگ بچے کو سمجھائے تو والدین ناراض ہو جاتے ہیں۔ اس رویے نے بچوں کو گھر کے بزرگوں کی اہمیت اور احترام سے مکمل طور پر محروم کر دیا ہے، جس کا نتیجہ نافرمانی اور گستاخی کی صورت میں نکلتا ہے۔
۲۔ گستاخی کو "نظر انداز" کرنے کی خطرناک غلطی
والدین کی ایک عام اور تباہ کن غلطی بچوں کی بدتمیزی کو محض "بچپنے" یا "عمر کا تقاضا" سمجھ کر نظرانداز کر دینا ہے۔ یہ بہت بڑی کوتاہی ہے۔ بچوں کا ذہن ایک کچی مٹی کی مانند ہے؛ وہ بہت تیزی سے سیکھتے ہیں۔ جب غلط رویے (جیسے زور سے بات کرنا، چیخنا، یا دھمکی دینا) پر فوری اصلاح نہیں کی جاتی، تو وہ اسے ایک معمول کا رویہ سمجھ کر اپناتے ہیں۔
خاموشی دراصل بدتمیزی کو پختہ کر دیتی ہے۔ بدتمیزی کی پہلی علامت پر ہی واضح اور پرعزم انداز میں روک ٹوک کرنا، بچے کی صحیح تربیت کا پہلا قدم ہے۔
۳۔ ٹیکنالوجی میں خود مختاری اور حدود سے تجاوز
ماضی میں، بچوں کو ریڈیو دیکھنے یا ٹی وی کھولنے کے لیے والدین سے اجازت لینا پڑتی تھی، اور وقت بھی مقرر ہوتا تھا۔ اس سے وہ قواعد کی پابندی اور اجازت طلبی کا احترام سیکھتے تھے۔
مگر آج، بچے ٹیبلٹ، سمارٹ فونز اور انٹرنیٹ پر مکمل خود مختار ہیں۔ وہ نہ وقت کی پرواہ کرتے ہیں اور نہ ہی اجازت کی ضرورت سمجھتے ہیں۔ جب والدین انہیں روکنے کی کوشش کرتے ہیں، تو فوری طور پر ناراضگی اور جھنجھلاہٹ کا اظہار کرتے ہیں۔ ڈیجیٹل حدود کی خلاف ورزی کی یہ عادت جلد ہی عام بدتمیزی اور نافرمانی کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔
۴۔ والدین کی حد سے زیادہ نرمی کا ناجائز استعمال
یہ ایک حقیقت ہے کہ آج کے والدین بچوں کی آزادیٔ رائے کا حد سے زیادہ احترام کرتے ہیں۔ بچوں کی ہر بات سننا اور ہر خواہش پر سر جھکا دینا درست نہیں۔ بچوں کی رائے لینا ایک مثبت عمل ہے، لیکن ہر چھوٹے بڑے معاملے میں دخل دینے کی عادت دراصل ان کی تربیت کو بگاڑتی ہے۔
اگر تربیت میں مناسب سختی (Discipline) اور رعب کا استعمال نہ کیا جائے تو بچے حدود پار کرنے لگتے ہیں۔ وہ یہ سمجھ جاتے ہیں کہ والدین کی نرمی کو اپنی مرضی منوانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، اور اسی سے ناجائز ضد اور بدتمیزی جنم لیتی ہے۔
۵۔ "ہر وقت کی موجودگی" کا غلط تصور
والدین کا پیار اور قربت ضروری ہے، لیکن بچوں کو یہ سکھانا بھی اتنا ہی اہم ہے کہ والدین کی بھی ایک ذاتی زندگی اور وقت (Personal Space) ہوتا ہے۔ ہر وقت والدین سے چپکے رہنا یا ہر کام میں شامل ہونے کی ضد کرنا، دراصل ادب کے منافی ہے۔
مثال کے طور پر، اگر والد کسی کام کے لیے باہر جا رہے ہیں تو ہر قیمت پر ساتھ جانے کی ضد کرنا ضدّی رویہ ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کو یہ سمجھائیں کہ کب ان کے ساتھ رہنا ہے اور کب انہیں خود کو مصروف رکھنا ہے۔ اس تعلیم سے بچے خود انحصاری سیکھتے ہیں اور دوسروں کی حدود کا احترام کرتے ہیں۔
خلاصہ کلام
صحیح تربیت کے لیے ضروری ہے کہ والدین نرمی، سختی اور حدود کے درمیان ایک متوازن لکیر کھینچیں۔ بچوں کو سکھائیں کہ کس مقام پر آزادی ہے اور کس مقام پر ادب اور فرمانبرداری ضروری ہے۔
صدقہ جاریہ کی نیت سے اس پیغام کو دیگر والدین کے ساتھ ضرور شیئر کریں، تاکہ کسی گھر کا ماحول اور بچوں کی تربیت بہتر ہو سکے۔
دا کامٹ پبلک سکول غازی آباد