اس سال ہمارے سکول میں ساہیوال بورڈ نے امتحانی سنٹر نہیں بنایا۔ ادارے کا کیا نقصان ہوا کمنٹ پلیز
GHS 102/12-L Kassowal
ہمیں ہے حُکمِ ازاں لا اِلہ اِللہ Welcome to the Educational Institute (Govt. High School 102/12-L,). The My School website has two main purposes.
We are a training organization that offers classes in asbestos, lead and mold abatement, as well as safety courses. Due to a highly regulated field, we follow strict guidelines on our training agendas to ensure that our students are trained properly to protect themselves, their company and their clients. Our state-of-the-art training facility includes a specially designed “hands-on” room where stu
24/01/2026
اکیسویں صدی کے لیے 21 اسباق میں یووال نوح ہراری ہمیں یہ سمجھانے کی کوشش کرتا ہے کہ آج کا سب سے بڑا مسئلہ علم کی کمی نہیں بلکہ سمت کا فقدان ہے۔ مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی انسان کی نوکریاں ہی نہیں، اس کی شناخت اور مقصدِ زندگی کو بھی چیلنج کر رہی ہیں۔ قوم پرستی، سیاست اور پرانے نعروں سے وہ عالمی مسائل حل نہیں ہو سکتے جو سرحدیں نہیں مانتے، جیسے ماحولیاتی تبدیلی، وبائیں اور معاشی عدم توازن۔ ہراری خبردار کرتا ہے کہ ڈیٹا اور معلومات کے اس سیلاب میں سچ اور جھوٹ میں فرق کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے، اس لیے اندھی تقلید کے بجائے تنقیدی سوچ ناگزیر ہے۔ وہ تعلیم کو رٹے سے نکال کر شعور، لچک اور خود آگاہی کی طرف لے جانے پر زور دیتا ہے اور آخر میں یہی پیغام دیتا ہے کہ اکیسویں صدی میں زندہ وہی رہے گا جو بدلتے حالات کو سمجھے، سوال کرے اور اپنی زندگی کا معنی خود تلاش کرے۔
22/01/2026
پاکستان میں ہر سال تقریباً نیوزی لینڈ کی کل آبادی کے برابر بچے پیدا ہو رہے ہیں، مگر المیہ یہ ہے کہ پانچ سال تک کی عمر کے ہر 100 میں سے 53 بچے خون کی کمی (Anemia) کا شکار ہیں، 49 فیصد بچوں میں آئرن کی کمی، 62 فیصد میں وٹامن اے کی کمی، اور 18 فیصد میں زنک کی کمی پائی جاتی ہے۔ یہ محض ایک طبی مسئلہ نہیں، بلکہ ہماری اجتماعی غفلت، کمزور غذائی نظام اور ناقص پالیسیوں کا واضح ثبوت ہے۔
آنے والی نسل میں برداشت کی کمی، جذباتی ردعمل میں شدت، چیخنا چلانا، کسی ٹارگٹ پر فوکس نہ کر پانا اور دماغی نشوونما میں کمی، بچوں کی سیکھنے کی کم صلاحیت یہ سب بنیادی طور پر ضروری غذائی اجزاء کی کمی کا نتیجہ ہیں۔ اگر آئرن کی کمی ہوگی تو بچہ توجہ مرکوز نہیں کر پائے گا، اور اگر آیوڈین کی کمی ہوگی تو بولنے اور زبان سیکھنے میں مشکلات آئیں گی۔
یونیسیف کے سروے کے مطابق پاکستان میں صرف 3.6 فیصد بچے ایسے ہیں جنہیں مناسب غذا کی دستیابی ممکن بنائی گئی ہے۔”
میری تحقیق کے مطابق حل درج ذیل ہیں:
1) ماں اور بچے کی غذا کو قومی ترجیح بنانا
روایتی معاشروں میں ہمیشہ ماں کی غذا کو بنیاد سمجھا گیا ہے۔ حمل کے دوران اور پیدائش کے بعد کم از کم دو سال تک ماں اور بچے کو آئرن، آیوڈین، وٹامن اے اور زنک کی لازمی سپورٹ دینا ہوگی۔ یہ خیرات نہیں، سرمایہ کاری ہے۔
2) آیوڈین ملا نمک اور فورٹیفائیڈ آٹا لازمی کرنا
ریاست کو سختی سے یہ یقینی بنانا ہوگا کہ مارکیٹ میں دستیاب نمک آیوڈین ملا ہو اور آٹا آئرن و فولک ایسڈ سے فورٹیفائیڈ ہو۔ یہ کام قوانین سے نہیں، عملدرآمد سے ہوگا۔
3) بنیادی صحت مراکز کو کاغذ سے نکال کر زمین پر لانا
BHUs اور RHCs صرف فائلوں میں نہیں، گاؤں گاؤں فعال ہونے چاہئیں، جہاں بچوں کی باقاعدہ اسکریننگ، سپلیمنٹس اور فالو اپ ہو۔ پرانا نظام تھا، مگر کام کرتا تھا اسے بحال کرنا ہوگا۔
4) سکول نیوٹریشن پروگرام دوبارہ شروع کرنا
سرکاری سکولوں میں کم از کم ایک متوازن خوراک یا دودھ، انڈا، یا دال دینا۔ ماضی میں یہ روایت تھی، آج ضرورت ہے۔ خالی پیٹ تعلیم نہیں ہو سکتی۔
5) والدین کی آگاہی، خاص طور پر ماؤں کی تعلیم
ماں پڑھی لکھی ہو تو بچہ محفوظ ہوتا ہے۔ سادہ زبان میں یہ سکھانا کہ کیا کھلانا ہے، کب کھلانا ہے، اور کیا نقصان دہ ہے۔ اشتہارات پر پیسہ لگانے کے بجائے یہ علم پھیلانا ہوگا۔
6) آبادی پر قابو خاموش مگر فیصلہ کن اقدام
بغیر منصوبہ بندی کے پیدا ہونے والے بچے سب سے پہلے غذائی قلت کا شکار ہوتے ہیں۔ خاندانی منصوبہ بندی کو مذہب یا سیاست نہیں، عقل کے دائرے میں رکھنا ہوگا۔
اگر ہم نے آج بچے کی غذا درست نہ کی تو کل ہمیں ایک کمزور، جذباتی، غیر متوازن اور غیر مؤثر قوم ملے گی۔ قومیں نعرے سے نہیں، عمل سے بنتی ہیں۔
GHS 102/12-L Kassowal
22/10/2025
ایک اچھا ہیڈماسٹر وہ نہیں ہوتا
جو ہر وقت عملے پر حکم چلائے
بلکہ وہ ہوتا ہے جو
دلوں پر حکمرانی کرنا جانتا ہے۔
ادارے نظم و ضبط سے نہیں،
باہمی احترام اور اعتماد سے سنورتے ہیں۔
جہاں خوف کا سایہ ہو،
وہاں تخلیق اور جذبہ ماند پڑ جاتے ہیں۔
ایک سچا لیڈر اپنے عملے کو ،
کا حوصلہ بڑھا کر آگے لے کر جاتا ہے۔
وہ غلطی پر تنقید نہیں کرتا،
رہنمائی کرتا ہے۔
وہ دوسروں کی کامیابی کو اپنی کامیابی سمجھتا ہے۔
اسی لیے کہا گیا ہے:
"Bosses demand respect, but leaders inspire it."
اگر آپ ہیڈماسٹر ہیں، تو یاد رکھیں —
ادارہ آپ کے خوف سے نہیں،
آپ کے رویے سے پہچانا جاتا ہے۔
ایک مسکراہٹ، ایک تعریف، اور ایک حوصلہ افزا جملہ
کئی دلوں میں روشنی بھر دیتا ہے۔
سو، ہیڈماسٹر بنیں، مگر رہنما بن کر۔ 🌿"
we L❤️be you All ❤️🤲❤️
19/10/2025
"طلباء کو ایک پرفیکٹ استاد کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ ایک خوش مزاج استاد کی ضرورت ہوتی ہے - جو انہیں اسکول آنا پسند کرنے اور سیکھنے سے لطف اندوز ہونے کی ترغیب دے۔" ہر استاد کے لیے واقعی ایک متاثر کن یاد دہانی کیونکہ ایک مثبت اور خوش مزاج استاد طلبہ کو پڑھائی سے پیار میں شامل کر سکتا ہے
17/10/2025
محکمہ تعلیم پنجاب کے مراسلے کے مطابق طلبا کی حفاظت اور سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے 📢 محفوظ رہیں — کیونکہ ہر طالب علم قیمتی ہے! 🛡️
آئیں مل کر اپنے اسکول کو محفوظ، پُر سکون اور منظم بنائیں۔
✅ کسی بھی مشکوک چیز یا شخص کی فوراً اطلاع والدین/ٹیچر/ہیڈماسٹر کودیں۔
✅ اپنا اسکول بیگ صاف رکھیں، خطرناک اشیاء ہرگز نہ لائیں۔
✅ اسکول کے قواعد کی پابندی کریں اور ہمیشہ چوکس رہیں۔
✅ یاد رکھیں — آپ کی حفاظت، آپ کی اپنی ذمہ داری ہے!
🧠 سوچ سمجھ کر قدم بڑھائیں، کیونکہ ایک محتاط لمحہ بڑی پریشانی سے بچا سکتا ہے!
یہ پیغام مفاد عامہ کے لیے جاری کیا گیا۔
منجانب:
GOVT. HIGH SCHOOL 102/12-L
CHICHAWATNI DISTT. SAHIWAL
17/10/2025
🎉 I earned the emerging talent badge this week, recognizing me for creating engaging content that sparks an interest among my fans!
17/10/2025
وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کیطرف سکولز میں صاف پانی پراجیکٹ شروع کرنے کا اعلان
پانی سکولز اور کمیونٹی دونوں کو مہیا کیا جائے گا۔
بیس 20 ہزار سکولز کے لیے یہ پروگرام شروع ہو گا
ٹیچر بننا بظاہر ایک عام کام لگتا ہے، مگر حقیقت میں یہ بہت مشکل اور قربانی والا پیشہ ہے۔ جو لوگ صرف تنخواہ یا اسکول کے اوقات دیکھ کر اسے آسان سمجھتے ہیں، وہ نہیں جانتے کہ ایک استاد کو روز کتنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
کلاس میں بچوں کی شرارتیں، شور اور نافرمانی تو ایک پہلو ہے، مگر اس کے ساتھ اسکول کے اصول، دباؤ، اور بعض اوقات انتظامیہ کا سخت رویہ استاد کو تھکا دیتا ہے۔
جب ایک استاد دن بھر کی تھکن کے بعد گھر آتا ہے، تو والدین کی شکایتیں اور لوگوں کی باتیں اس کا حوصلہ مزید کم کر دیتی ہیں۔
سب سے دکھ کی بات یہ ہے کہ معاشرہ جس استاد سے بچوں کا مستقبل سنوارنے کی امید رکھتا ہے، اسی کو سب سے کم عزت، سہولت اور اہمیت دیتا ہے۔
13/10/2025
ادنی کاوشیں مستقبل رنگین بنا رہی ہیں
11/10/2025
پسوال سوال۔کو جواب
پر اعتماد استاد اور ماحول
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Chichawatni
57301
Opening Hours
| Monday | 08:00 - 14:00 |
| Tuesday | 08:00 - 14:00 |
| Wednesday | 08:00 - 14:00 |
| Thursday | 08:00 - 14:00 |
| Friday | 08:00 - 12:00 |
| Saturday | 08:00 - 14:00 |