Raaz Ki Batain
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Raaz Ki Batain, Chichawatni.
🏰 اسلامی تاریخ کی سنہری داستانیں
✨ خلافت، فتوحات اور بہادری کے قصے
📽 روزانہ ایک نئی تاریخی حقیقت
📖 علم، حکمت اور ایمان کی روشنی
اسلامی سائنسدان سکالرز کی داستانیں اور بہت کچھ
25/12/2025
25 December
کلام اقبال ضاء محی الدین کی زبانی
Old memories ptv
24/12/2025
Daily calendar
*اخلاصِ نیت کی حکایت*
ایک بار حضرت حسن بصری نے ایک واقعہ بیان فرمایا: ایک جگہ ایک درخت تھا جس کی لوگ اللہ کے سوا عبادت کرتے تھے۔ ایک شخص کو یہ بات غیرتِ ایمانی سے سخت ناپسند ہوئی۔ وہ غصے میں بولا:
“میں یہ درخت ضرور کاٹ دوں گا!”
وہ صرف اللہ کے لیے غصے میں بھر کر درخت کاٹنے نکلا۔ راستے میں شیطان انسانی شکل میں ظاہر ہوا اور اس سے پوچھا کہ کہاں جا رہے ہو؟ اس نے بتایا کہ وہ اس درخت کو کاٹنے جا رہا ہے جسے لوگ معبود بنا بیٹھے ہیں۔ شیطان نے کہا:
“اگر تم اسے نہیں پوجتے تو دوسروں کا پوجنا تمہیں کیا نقصان دیتا ہے؟”
مگر وہ شخص نہ مانا اور کہنے لگا:
“میں ضرور اسے کاٹوں گا!”
دونوں میں لڑائی ہوئی اور وہ شخص شیطان پر غالب آگیا۔ تب شیطان نے کہا:
“کیا میں تمہیں اس سے بہتر بات نہ بتاؤں؟ درخت نہ کاٹو، میں تمہیں ہر دن تمہارے تکیے کے نیچے دو دینار رکھ دیا کروں گا۔”
یہ سن کر وہ واپس چلا گیا۔ اگلی صبح واقعی دو دینار ملے۔ لیکن دوسرے دن کچھ نہ ملا۔ وہ غصے میں پھر درخت کاٹنے نکلا۔ شیطان پھر انسان کی شکل میں ظاہر ہوا اور پوچھا:
“اب کیا ارادہ ہے؟”
اس نے کہا:
“آج میں ضرور اسے کاٹوں گا!”
اب کی بار جب دونوں میں لڑائی ہوئی تو شیطان غالب آگیا، اسے زمین پر گرا دیا اور قریب تھا کہ اسے مار ہی دیتا۔ پھر شیطان نے کہا:
“جانتے ہو میں کون ہوں؟ میں ابلیس ہوں!
پہلی بار تم اللہ کے لیے غصے میں آئے تھے، اس لیے میں تمہیں نہ روک سکا۔
پھر میں نے دینار دے کر تمہیں دھوکا دیا۔
آج تم اپنے نفس کے غصے سے آئے ہو، اس لیے میں تم پر غالب آگیا۔
یاد رکھو! عمل اور نصرت صرف اسی وقت ہوتی ہے جب نیت خالص اللہ کے لیے ہو۔”
نیت کے خراب ہوتے ہی انسان شیطان کا شکار بن جاتا ہے، اور پھر اس پر برائیوں اور ظلم کے دروازے کھل جاتے ہیں۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ ایک جنگ میں ایک نہایت سخت دل مشرک سے لڑ رہے تھے۔ طویل جنگ کے بعد آپ نے اسے زمین پر گرا دیا اور تلوار اس پر چلانے والے تھے کہ اس مشرک نے آپ کے چہرے پر تھوک دیا۔ حضرت علی فوراً پیچھے ہٹ گئے اور اسے قتل نہ کیا۔
لوگوں نے پوچھا:
آپ نے اسے چھوڑ کیوں دیا؟
آپ نے فرمایا:
“میں اسے اللہ کی رضا کے لیے قتل کرنا چاہتا تھا،
مگر جب اس نے میرے چہرے پر تھوکا تو مجھے محسوس ہوا کہ اب میرا قتل کرنا اپنے نفس کے بدلے کے لیے ہوگا۔
میں اللہ کے لیے لڑ رہا تھا، نہ کہ اپنے نفس کی خاطر،
اس لیے میں نے اسے چھوڑ دیا۔
مت ٹٹولا کیجیے میرے لفظوں سے میری ذات
اپنی ہر تحریر کا عنواں نہیں ہوں میں ۔
ایسی مزید تحاریر کے لیے اس چینل کو فالو کریں۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Contact the school
Telephone
Address
57200