Govt Degree college Chichawatni

Govt  Degree college Chichawatni

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Govt Degree college Chichawatni, Education, Chichawatni.

26/09/2024

مشین سے رقم نکلواتے ھوئے اگر چور آجائے اور آپ کو (اے ٹی ایم ) سے پیسہ لینے کے لۓ مجبور کرے تو بحث نہ کریں یا مزاحمت نہ کریں، آپ کو معلوم نہیں کہ وہ آپ کو کیا کر سکتا ہے. آپ کو کیا کرنا چاہئے اپنے PIN کو (ریورس) میں enter کریں... مثال: اگر آپ کا PIN 1234 ہے تو، آپ کو 4321 enter کرنا ہے. مشین آدھے راستے میں پھنس جائے گی اور مشین چور کے نوٹس کے بغیر پولیس کو خبردار کردے گی. ہر ATM میں یہ خاص طور پر خطرے کی نشاندہی اور مدد کرنے کے لئے یہ Signal بنایا گیا ہے.
ہر کوئی اس سے واقف نہیں ہے. آپ یہ اپنے تمام دوستوں کےساتھ ضرور شیئر کریں

20/09/2024

ایک دل چسپ کہانی
ایک آدمی کی بیوی چالیس سال کی عمر میں انتقال کر گئی۔ جب اس کے دوستوں اور رشتہ داروں نے دوسری شادی کا مشورہ دیا تو اس نے جواب دیا کہ اس کی بیوی کا سب سے بڑا تحفہ ایک بیٹے کا ہونا ہے، اور وہ اس کے ساتھ اپنی زندگی گزارے گا۔
بیٹے کی تربیت
جب بیٹا بڑا ہوا، تو اس نے اپنے تمام کاروبار کی ذمہ داریاں بیٹے کو سونپ دیں۔ وہ اکثر اپنے دفتر میں یا دوست کے دفتر میں وقت گزارنے لگا۔
تنہائی کا احساس
بیٹے کی شادی کے بعد، وہ آدمی زیادہ تنہا محسوس کرنے لگا۔ اس نے اپنے گھر کا مکمل کنٹرول اپنی بہو کے حوالے کر دیا۔
ایک دن کا واقعہ
بیٹے کی شادی کے ایک سال بعد، وہ دوپہر کا کھانا کھا رہا تھا جب بیٹا بھی دفتر سے آیا۔ ہاتھ دھو کر کھانے کے لیے تیار ہو رہا تھا۔ بیٹے نے سنا کہ والد نے کھانے کے بعد دہی مانگی، تو بیوی نے جواب دیا کہ آج گھر میں دہی نہیں ہے۔
کھانا کھانے کے بعد، والد باہر چہل قدمی کے لیے نکل گیا۔ کچھ دیر بعد، بیٹا اپنی بیوی کے ساتھ کھانا کھانے بیٹھ گیا۔ کھانے کے برتن میں دہی موجود تھا، مگر بیٹے نے بغیر کسی ردعمل کے کھانا کھایا اور پھر دفتر چلا گیا۔
حیرت انگیز خبر
کچھ دنوں بعد، بیٹے نے اپنے والد سے کہا، "آج آپ کو عدالت جانا ہے اور آپ کی شادی ہو رہی ہے!" والد نے حیرت سے اپنے بیٹے کی طرف دیکھا اور کہا، "بیٹا! مجھے اب شادی کی ضرورت نہیں، اور میں تم سے اتنی محبت کرتا ہوں اور اب تمہیں بھی ماں کی ضرورت نہیں، تو پھر میری دوبارہ شادی کیوں؟"
حقیقت کا انکشاف
لڑکے نے جواب دیا، "بابا، میں اپنی ماں کو آپ کے لیے نہیں لا رہا، نہ ہی ایک ساس کو اپنی بیوی کے لیے لا رہا ہوں! میں صرف آپ کے لیے دہی کا انتظام کر رہا ہوں! کل سے میں آپ کی بہو کے ساتھ کرائے کے گھر میں رہوں گا اور آپ کے دفتر میں ایک ملازم کی حیثیت سے کام کروں گا تاکہ آپ کی بہو دہی کی قیمت جان سکیے۔"
والدین کی اہمیت
یہ کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ والدین ہمارے لیے اے ٹی ایم کارڈز ہو سکتے ہیں، لیکن وہ ہماری مرضی پر نہیں بلکہ ہم ان کی مرضی پر چلتے ہیں۔ دنیا کے تمام والدین کو زندہ باد! ہر گھر میں ایسے مثالی طرز عمل اپنائے جانے چاہئے..
Tanweer Alam

24/05/2024

جب جہالت چیخ اٹھتی ہے تو عقل خاموش رہتی ہے۔

ایک بار ایک گدھے نے کسی لومڑی سے کہا:
"گھاس نیلی ہے"۔
لومڑی نے جواب دیا:
"نہیں، گھاس سبز ہے."
بحث گرم ہوئی، اور دونوں نے اسے ثالثی میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا، اور اس کے لیے وہ جنگل کے بادشاہ شیر کے سامنے گئے۔

جنگل کے دربار میں پہنچنے سے پہلے، جہاں شیر اپنے تخت پر بیٹھا تھا، گدھا چیخنے لگا:
"ہائز ہائنس، کیا یہ سچ نہیں کہ گھاس نیلی ہے؟"

شیر نے جواب دیا:
"سچ ہے، گھاس نیلی ہے۔"

گدھے نے جلدی کی اور کہا:
"لومڑی مجھ سے متفق نہیں ہے اور مخالفت کرتی ہے اور میرا مزاق اڑاتی ہے،

براہ کرم اسے سزا دیں۔"
بادشاہ نے پھر اعلان کیا:
"لومڑی کو 1 ماہ کی خاموش رہنے کی سزا دی جائے گی۔"

گدھا خوش دلی سے اچھل کر اپنے راستے پر چلا گیا، مطمئن اور دہراتا گیا:
"گھاس نیلی ہے"...

لومڑی نے اپنی سزا قبول کر لی لیکن اس سے پہلے اس نے شیر سے پوچھا:
"مہاراج، آپ نے مجھے سزا کیوں دی؟ آخر آپ بھی جانتے ہیں کہ گھاس ہری ہے۔"

شیر نے جواب دیا:
"یہ حقیقت ہے کہ، گھاس سبز ہے."
لومڑی نے پوچھا:
"تو مجھے سزا کیوں دے رہے ہو؟"

شیر نے جواب دیا:
"اس کا اس سوال سے کوئی تعلق نہیں ہے کہ گھاس نیلی ہے یا سبز۔

سزا اس لیے دی ہے کہ تم جیسی ذہین مخلوق کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ گدھے سے بحث کرکے وقت ضائع کرے اور اس کے اوپر آکر مجھے اور باقی رعایا کو اس سوال سے پریشان کرے۔‘‘

یاد رکھیے!
وقت کا سب سے زیادہ ضیاع اس احمق اور جنونی، اور بیوقوف کے ساتھ بحث کرنا ہے جسے سچ یا حقیقت کی پرواہ نہیں ہے، بلکہ صرف اپنے عقائد شخصیت پرستی، ذہنی اختراع اور وہم کو اپنی فتح جانتا ہے۔

ایسے دلائل پر وقت ضائع نہ کریں جن کا کوئی مطلب نہیں...

ایسے لوگ موجود ہیں جو چاہے ہم ان کے سامنے کتنے ہی شواہد اور ثبوت پیش کر دیں، حق کو واضح کریں وہ سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، اور دوسرا انا، نفرت اور ناراضگی میں اندھے ہو جاتے ہیں، اور وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ وہ نہ ہونے کے باوجود درست مانے جائیں۔

اسکو پلے باندھ لیجیے جب۔۔۔۔
جب جہالت چیخ اٹھتی ہے تو عقل خاموش رہتی ہے۔

آپ کا سکون اور خاموشی زیادہ قیمتی ہے۔

07/05/2024

یہ ہندوستان کی ایک خاتون کی کہانی ہے جس کے پاس ایک پالتو سانپ، ازگر تھا، جسے وہ بہت پسند کرتی تھی۔ سانپ 4 میٹر لمبا اور صحت مند نظر آتا تھا۔ تاہم، ایک دن اس کے غیر معمولی پالتو جانور نے کھانا پینا چھوڑ دیا۔
سانپ میں بھوک کی یہ کمی چند ہفتوں تک جاری رہی۔ مایوس عورت نے اپنی ہر ممکن کوشش کی اور ہر وہ چیز پیش کی جسے سانپ گلا گھونٹ کر کھا لے۔ پر کچھ فائدہ نہ ہوا، اور آخر کار وہ عورت اپنے پیارے پالتو جانور کو جانوروں کے ڈاکٹر کے پاس لے گئی۔

ڈاکٹر نے عورت کی بات غور سے سنی اور پوچھا، "کیا آپ کا سانپ رات کو آپ کے ساتھ سوتا ہے، آپ کے گرد لپٹ کر اپنی لمبائی میں پھیلتا ہے؟"
عورت حیران ہوئی اور بہت امید کے ساتھ کہنے لگی، "ہاں! جی ہاں! یہ ہر روز کرتا ہے اور یہ مجھے بہت اداس کرتا ہے کیونکہ میں دیکھتی ہوں کہ گویا یہ مجھ سےکچھ پوچھ رہا ہے، اور میں اسے بہتر محسوس کرنے میں مدد نہیں کر پاتی۔
پھر، ڈاکٹر نے کچھ چونکا دینے والی اور سب سے زیادہ غیر متوقع بات کہی۔ "میڈم، آپ کا پالتو جانور بیمار نہیں ہے۔ یہ صرف تمہیں کھانے کی تیاری کر رہا ہے۔"

"ہر بار، یہ رینگتا ہے اور آپ کو "گلے لگاتا ہے"، آپ کے جسم کے گرد لپٹتا ہے، یہ سائز کی جانچ پڑتال کر رہا ہے کہ آپ کتنا اچھا کھانا ہیں اور حملے سے پہلے خود کو کیسے تیار کرنا چاہیے۔ اور ہاں، یہ نہیں کھاتا، تاکہ آپ کو زیادہ آسانی سے ہضم کرنے کے لیے پیٹ میں کافی جگہ مل جائے"۔

اب ذرا غور سے سنیں: (خاص طور پر لڑکیوں کے لیے)
وہ لوگ جو آپ کے قریب ہیں، جن سے آپ بہت پیار کرتے ہیں، ان کے ارادے غلط بھی ہو سکتے ہیں۔
آپ کو اپنے آس پاس کے سانپ اور ان کے حقیقی ارادے کی شناخت کرنے کی ضرورت ہے۔
اس دشمن سے مت ڈریں جو آپ پر حملہ کرے، بلکہ اس جعلی دوست سے ڈریں جو فیس بک کے ذریعے آپ کی تصویریں مانگ کر گویا آپ کو گلے لگاتا ہے۔ واٹس اپ پر یا یونیورسٹی لائف میں آپ سے قریب ہوتا ہے، تاکہ آپ کو آسانی سے ہضم کر سکے۔

یقین جانیں، آپ کے والدین سے زیادہ کوئی آپ سے محبت نہیں کر سکتا، نکاح سے قبل محبت کا ہر دعوہ جھوٹا ہے۔ زنانہ کمزوری یہ ہے کہ وہ تعریف سے، تحائف سے، لالچ یا کسی کے بار بار محبت کے دعوے سے نرم پڑ جاتی ہے، اعتماد کرنے لگتی ہے، نتیجتاً وہ ازگر بن کر آپ کی پاکدامنی کو ڈس لیتا ہے، پھر سوائے افسوس کے کچھ باقی نہیں رہتا۔ فاصلہ رکھیں، بے تکلف نہ ہوں، غیر ضروری کوئی فری ہونے کی کوشش کرے، تحائف دینا چاہے، بہت زیادہ تعریف کرنے لگے تو سمجھ جائیں کہ سانپ ہضم کرنے کی تیاری میں ہے۔
اللہ نے آپ کے لئے یقیناً کوئی خوبصورت جوڑ بنا رکھا ہے، اس کا انتظار کریں، وقت پر وہی آپ کو ملنا ہے۔
کسی سانپ کو ساتھ سلانے کی حماقت کبھی نہ کریں...

12/04/2024

بہاولنگر واقعہ سے سبق حاصل کرنا چاہیئے
زرائع کے مطابق
بہاولنگر میں پولیس اور فوج کی آپس میں صلح ہوچکی ہے، اب آتے ہیں کہ اصل حقائق کی جانب جس کی وجہ سے مُلک کے دو بڑے ادارے یعنی بڑا بھائی چھوٹے بھائی سے لڑپڑا-

اصل حقائق :
زرائع کے مطابق
بہاولنگر کے تھانہ مدرسہ کے ایس ایچ او رضوان پہلے پولیس میں سپاہی تھا - گیارہ سال کی نوکری کے بعد ایک امتحان پاس کرکے اے ایس آئی ہوگیا بعد میں ترقی پا کر سب انسپکٹر ہوگیا !!! اب تک ان کو پولیس میں 24 سال ہوگئے ہیں، کافی تجربہ کار پولیس افسر ہیں کافی تھانوں میں ایس ایچ او رہ چُکے ہیں-

ایس ایچ او رضوان کے پاس ایک سپاہی علی نام کا ہے، علی اور رضوان پولیس میں کانسٹیبل ایک ساتھ بھرتی ہوئے تھے بطور کانسٹیبل گیارہ سال تک ایک ساتھ کام کیا تھا !!!! اسی وجہ سے جہاں بھی کوئی اطلاع یا ریڈ ہوتا ایس ایچ او رضوان، کانسٹیبل علی کو اپنے ساتھ رکھتا تھا

کانسٹیبل علی نے ایک ملزم سے ایک پسٹل برآمد کیا اور ایس ایچ او رضوان نے ملزم سے چالیس ہزار لے کر اُس کو چھوڑ دیا ملزم نے پوچھ گچھ کے دوران بتایا کہ اُس نے یہ پسٹل عمران نامی بندے سے خریدا ہے!!!!

کانسٹیبل علی، عمران کو گرفتار کرکے لاتا ہے اور پوچھ گچھ کے دوران عمران بتاتا ہے کہ اُس نے پسٹل رفاقت نامی شخص سے خریدا ہے!!! ملزم عمران کو بھی ایس ایچ او رضوان چالیس ہزار کی ڈیل کے بعد چھوڑ دیتا ہے !!! اب رفاقت کی گرفتاری اور “ رہائی” کی باری تھی

ایس ایچ او رضوان اور کانسٹیبل علی، رفاقت کو گرفتار کرنے چلے جاتے ہیں !!! رفاقت گھر پر نہیں تھا!!! رفاقت کے بھائی انور سے ایس ایچ او نے ایک لاکھ روپیہ مانگا کہ یا تو رفاقت کو پیش کرو یا ایک لاکھ دو !!!! انور نے حامی بھرلی کہ دوسرے دن وہ ایک لاکھ کا بندوبست کرکے ایس ایچ او رضوان کو تھانہ پر دے آئے گا

دوسرے دن انور سے ایک لاکھ کا بندوبست نہیں ہوسکا اس پر ایس ایچ او صاحب بُہت ناراض ہوئے اور انور اور رفاقت کو گرفتار کرنے اُن کے گھر پر چلے گئے!!! انور کا ایک بھائی پاک فوج میں کمانڈو ہے وہ بھی اُس وقت گھر پر موجود تھا!!! گھر پر ایس ایچ او اور انور والوں کی تقرار ہوگئی!!!
اہل محلہ بھی جمع ہوگئے اُن لوگوں نے ایس ایچ او اور کانسٹیبل علی کو پکڑ کر بٹھا لیا کہ ایک لاکھ روپیہ کس چیز کا لینے آئے ہو !!!! ایس ایچ او رضوان نے 15 پر فون کرلیا !!! 15 سے Elite force کی تین چار گاڑیاں انور کے گھر پہنچیں اور Elite force کے جوانوں نے سب بندوں کو مار مار کر گاڑیوں میں ڈالا اسی دوران انور کے بزرگ والدہ اور بھابی کو بھی مارا گیا

تھانے آکر ایس ایچ رضوان نے سب کی اچھی طرح سے دُھلائی کی یہاں تک کہ انور ورک اور دوسرے گرفتار شُدہ افراد کو پیچھے سے پیٹرول بھی ڈالا گیا اور سب کے خلاف کار سرکار میں مُداخلت کا پرچہ دے دیا گیا !!! پرچے میں عورتوں کے نام بھی ڈال دیئے گئے

ڈی پی او صاحب کو بتایاگیا کہ ڈکیتوں کا ایک گروپ پکڑا گیا ہے، ڈی پی او صاحب نے ایس ایچ او رضوان کو کہا کہ ان کو تُن کے رکھو !!!! ڈی پی او صاحب کے ایسے ایس ایچ او “ کمائو پتر “ ہوتے ہیں اور اُن کو ڈی پی او صاحب کی غیر مشروط حمایت حاصل ہوتی ہے

پولیس کے بے پناھ تشدد کی وجہ سے انور اور دیگر ساتھیوں جس میں فوج کے حاضر سروس جوان بھی تھے اُن کی حالت خراب ہوگئی!!! دوسرے دن انور کے رشتیداروں نے ایس ایچ او رضوان سے رابطہ کیا !!! رضوان نے مُبینہ طور پر اُن سے پانچ لاکھ روپیہ کا مطالبا کیا !!!! تھانے سے مایوس ہوکر انور کے رشتداروں نے ہائیکورٹ میں پٹیشن داخل کردی: ہائیکورٹ نے ایس ایچ او کو نوٹس کردیا کہ ملزمان کو ہائیکورٹ میں پیش کیا جائے !!!!

ایس ایچ او رضوان نے ڈی پی او کو بتایا کہ عدالت کا ریڈ نہ ہوجائے اور ڈی پی او کی رضامندی سے ملزمان کو تخت محل تھانہ میں منتقل کردیا گیا !!!!
تھانہ تخت محل کے ایس ایچ او نے جب دیکھا کہ ملزمان کی حالت خراب ہے اور سارے لوگ پولیس کے تشدد کی وجہ سے زخمی ہیں تو ایس ایچ او تخت محل نے ملزمان کو سول ہسپتال بھاولنگر میں چھوڑ کر چلا گیا:
جیساکہ پولیس تشدد کی وجہ سے زخمیوں میں فوج کے جوان بھی تھے انھوں نے ہسپتال سے اپنے یونٹ کمانڈر سے فون پر رابطہ کیا اور یونٹ کمانڈر سول ہسپتال پہنچ گیا اور اُس کو ساری صورت حال کا وہاں پتہ چلا اور اُس نے اپنے سینئر کمانڈ کو ساری صورت حال کا بتایا !!!!

فوج کے سینئر افسران نے ہسپتال میں زخمیوں سے معلومات لیں اور انور کی والدہ، والد اور بہن کو Elite کے جوانوں زردکوب کیا تھا اور اُن کو لاتین ماری گئی تھیں اُن سے بھی پوچھ گچھ کی گئی اور بعد میں فیصلہ کیا گیا کہ ان کا بھی وہی حشر کیا جائے جس طرح پولیس نے کیا ہے !!!!!

اُس کے بعد فوج کا کیا ردعمل آیا اُس کے متعلق کچھ لکھنے کی اسلیئے ضرورت نہیں کہ لوگ سوشل میڈیا پر سب کچھ دیکھ چُکے ہیں:!!!!

ہر عمل کا ردعمل ہوتا ہے !!!! اب یہ فیصلہ قارئین نے کرنا ہے کہ قصور وار کون ہے !!!! ایسے واقعات ایسے اضلاع میں ہوتے ہیں جہاں کے ڈی پی او یا ایس ایس پی صآحبان سائلوں سے دور بھاگتے ہیںُ- تھانے کا ایس ایچ او یہ سب کچھ کررہا ہے اور اُس کو روکنے ٹوکنے اور لگام دینے والا ڈی پی او آگر اُس کے ساتھ کھڑا ہو تو اس قسم کا ردعمل آنا قدرتی بات ہے!!!!



09/04/2024

سولر پینل مارکیٹ بھی کریش کرگئ ۔ شیٹ کی طرح دیوار پر آویزاں ہونے والی سولر نے مارکیٹ کا روح چینج کردیا ۔اور پورانے سولر پینل کی مارکیٹ تباہ کردیا ۔ اور مزید کریش ہو جائیگی ۔ کیونکہ شیٹ کی طرح سولر کا ریٹ بھی بہت کم ہے ۔ نہ طوفان میں ٹوٹنے کا خطرہ ۔ اور نہ اسکیلئے بڑے بڑے فریم بنانے کی ضرورت ہے ۔ گاڑی وغیرہ میں لے جانے کا بھی کوئی مسلہ نہیں ۔ دنیا بہت تیزی سے بدل رہی ہے ۔

Photos from Govt  Degree college Chichawatni's post 23/02/2024
01/02/2024
Photos from Govt  Degree college Chichawatni's post 29/01/2024

Iptv free 15 days

Want your school to be the top-listed School/college in Chichawatni?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address

Chichawatni
57200