03/08/2023
بچوں کو پیار سے سکول یا مدرسہ میں بھیجیں
❤️🧑🏻🏫👩🏻🏫👩🏭👨🏭🏫
اکثر ممالک بشمول پاکستان اور امارات میں سکول موسم گرما کی چھٹیوں کے بعد دوبارہ کھل گئے ہیں۔ بچوں کی روٹین پھر سے وہی سکول، گھر، قرآن، کھیل، ٹی۔وی وغیرہ پہ مشتمل ہے۔صبح شام کی روٹین اور دیگر امور خانہ سے ماؤں کی ذمہ داریاں اور بھی بڑھ گئیں ہیں۔
نیا تعلیمی سال ہو یا چھٹیوں کے بعد سکول واپسی، بچوں کو خوشی کے ساتھ ساتھ انجانا سا خوف بھی لاحق ہو سکتا ہے۔ ایسے میں بہتر ہے کہ بچوں کی کاؤنسلنگ کی جائے کہ یہ مرحلہ ان کے لئے آسان ہو جائے۔
💡چند تجاویز:
⏱️بچوں کو صبح سویرے سکول جانے کے لئیے پیار سے جگائیں۔ ایک دم سے بستر سے اٹھا کہ واش روم نہ بھیجیں بلکہ 2-3 منٹ بستر پہ بیٹھا رہنے دیں ، جب ان کی آنکھ کھل جائے اور نیند کا غلبہ ٹوٹ جائے تو پھر واش روم بھیجیں۔
🥛🍳بچے چھوٹے ہوں یا بڑے، کوشش کریں کہ ان کو صحت بخش ناشتہ ضرور کرائیں۔
🥗🍉🌮رات کو ہی سوچ لیں کہ بچوں کو لنچ میں صحتمند کھانا کیا دینا ہے۔
❤️پیار اور شفقت سے سکول کے لئیے روانہ کریں تا کہ ان کا سارا دن اچھا اور خوش گوار گزرے۔
🤲🏻عمر کے لحاظ سے دعائیں پڑھنے کی تاکید کریں۔ وَقُلْ رَبِّ زِدْنِي عِلْمًاً (طٰہ:114)۔ ترجمہ: اور کہیے کہ اے میرے رب میرے علم میں اضافہ فرما۔
🤲🏻اسی طرح بحیثیت والدین اپنے بچوں کے لئیے خوب دعا کریں: رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا۔(74) الفرقان) ترجمہ: اور وہ جو کہتے ہیں کہ ہمارے رب ہمیں ہماری بیویوں اور اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیزگاروں کا پیشوا بنا دے۔
☺️سکول سے واپسی پہ پیار سے استقبال کریں۔
آتے ہی پڑھائی یا دیگر تعلیمی سرگرمیوں کا نہ پوچھیں۔
💦وضو کرنے کی عادت ڈلوائیں اور یونیفارم فوراً تبدیل کرائیں۔
🌈کھانے کے بعد پوچھیں کہ آج کیا اچھا کام کیا۔ کس کی مدد کی۔ کس سے اچھا کلام کیا۔ کون ان کی وجہ سے خوش ہوا۔ اور کیا نیا سیکھا۔ وغیرہ
🚫اکثر بچے خاص طور پہ چھوٹے بچے، سکول جانے سے کتراتے ہیں، وجہ کوئی بھی ہو سکتی ہے مثلا” اساتذہ کا رویہ، پڑھائی کا مشکل لگنا، دوسرے بچوں کو متشدد رویہ، والدین سے دوری، وغیرہ۔ ایسے میں بچوں کو اعتماد میں لیں اور ان سے وجہ دریافت کریں۔ اور مل جل کہ اس کا حل نکالیں۔
🤼♀️سکول میں پڑھائی کا خوف دور کرنے کے لئے گھر میں پڑھائی کو بوجھ کی بجائے دلچسپ ایکٹیویٹی کے زریعے سے کرائیں۔ پڑھائی کی وجہ سے اکثر بچے کو ڈانٹ ڈپٹ اور تذلیل کا سامنہ کرنا پڑتا ہے۔ جس سے وہ سکول اور پڑھائی سے متنفر ہو جاتا ہے۔ ہر بچےکا رجحان، ذہانت، پسند نا پسند، تخلیقی صلاحیت اور کارکردگی دوسرے سے مختلف ہوتی ہے۔ بلا ضرورت تعلیمی بوجھ، اور ذیادہ نمبر لینے کی دوڑ، بچوں کو ذہنی اذیت میں مبتلا کر سکتی ہے۔ ان کے لئے تعلیمی عمل کو سہل بنائیں نہ کہ خوف کا باعث۔
🌟💫🌙🌹
بچے کو اپنے بارے میں جو بات بار بار سننے کو ملتی ہے، وہ اسی طرح کا بننے کو کشش کرتا ہے۔ بچوں کی خوب تعریف کریں، کہ وہ نیک ہیں، بہادر ہیں، محنتی ہیں، اعلی اخلاق کے حامل ہیں وغیرہ۔
💎اپنے کردار سے بھی ان کی رہنمائی کریں۔
💡مذید برآں:
✍️اس کو پیار سے سمجھائیں کہ اللہ علم حاصل کرنے، تحقیق کرنے اور سوچنے سمجھنے کا حکم دیتا ہے۔
👩🏻🏫-استاد کی عزت کرنا سکھائیں
📝-جو سبق سکول میں پڑھے اس ایکٹیویٹی کی مدد سے پڑھائیں
🏞️-کتب میں درج علم کو اصل زندگی سے متصل کریں
-🌠تجربہ ، تجزیہ اور مشاھدہ کرائیں
❓❓-سوال کرنے پہ اکسائیں
-💻سبق سے متعلق ویڈیو دکھائیں
-بچے کے ساتھ مل کر سبق دھرائیں
-📑ورک شیٹس کا استعمال کریں
بچوں کے اساتذہ سے اچھا تعلق بنائیں اور مسائل پہ بات چیت کریں۔
📃- جس مضموں میں بچے کو مسئلہ ہے اس پہ خاص توجہ دیں۔
اگر پھر بھی آپ فرق محسوس نہ کریں تو بچے کی اسیسمنٹ کرائیں کہ کہیں وہ کسی تعلیمی مسئلے (لرننگ ڈیفیکلٹی)کا شکار تو نہیں۔
✍️ان عملی تدابیر سے امید ہے کہ بچہ ضرور بہتری کی طرف گامزن ہو گا۔
📚جو سبق یا مشق بچے کو مشکل لگے یا کسی سبق کی دہرائ کرنی ہو تو ٹیچر ٹیچر کھیلیں اور بچے سے کہیں کہ وہ آپ کو سکھائے یا پڑھاۓ۔ اس طرح سبق کی دہرائی ہا جائے گی۔
🧰🎒گاہے بگاہے ان کا سکول بیگ چیک کریں۔ کتابوں کا جائزہ لیں۔ کاپیاں دیکھیں۔ مل جل کر پر سکون ماحول میں ہوم ورک کریں۔
ان کی لکھائی دیکیھیں۔ لکھائی کو بہتر بنانے کی ضرورت ہو تو کھیل ہی کھیل میں مشق کروائیں۔
💎 اہم بات، بچے معصوم ہوتے ہیں, بنا لعن طعن یا شک کئے ان کے سکول بیگ دیکھیں کہ کہیں غلطی سے کسی دوسرے بچے کی کوئی چیز تو نہیں آ گئی ان کے بیگ میں۔ اگر آ گئی ہو تو پیار سے سمجھائیں کہ کل واپس کردے، کیونکہ اللہ کریم کو یہ بات ناپسند ہے۔ اور کسی کی چیز بلا اجازت لینے یا استعمال کرنے سے ہم پہ مشکلات آ سکتی ہیں، اور بائیں جانب والا فرشتہ ہماری غلطی بھی لکھ لیتا ہے لہذا کسی کی بھی چیز لینے سے سختی سے گریز کیا جائے۔
💎بچوں کو ایک سے ذائد پینسل اور دیگر سٹیشنری دیں تا کہ بوقت ضرورت وہ کسی دوسرے ہم جماعت کی مدد کر سکیں۔ اس طرح لنچ میں بھی کچھ اضافی اشیاء یا پیسے دیں تا کہ وہ اپنے دوستوں کے ساتھ مل بانٹ کر کھا سکیں۔
👬اپنے بچوں کے کلاس فیلوز یا دوستوں کے بارے میں ضرور باخبر رہیں، کیونکہ بچوں کی شخصیت پہ ان کے دوستوں کا بھی گہرا اثر ہوتا ہے۔ گاہے بگاہے ان کے دوستوں کے بارے میں ہلکے پھلکے انداز سے پوچھتے رہیں۔ اہم ہے کہ انہیں بتائیں کہ اللہ کریم پسند فرماتا ہے کہ اچھے اور نیک دوست بنائے جائیں۔
🤲🏻اللہ سبحانہ و تعالی سب بچوں کو اعمال صالح کی توفیق دے۔ آمین
جامعہ حنفیہ چیچہ وطنی