19/03/2026
Dr.Barakat Shah Govt Shaheed Umar Hayat Higher Secondary School NO1 Chd
Students Awareness
19/03/2026
13/03/2026
📢 خبردار ☠️ ہوشیار 🥁
موجودہ حالات میں گھر پر رہیں محفوظ رہیں۔
راتوں کو بازاروں میں چکر لگانے سے گریز کریں۔
جب ضرورت کے لیے بازار نکلتے ہیں تو زیادہ رقم یا قیمتی موبائل ساتھ نہ لے کر جائیں۔جب کوئی آپ کو کال کریں تو گھر والوں کو ضرور آگاہ کریں کہ فلاں جگہ یا فلاں بندے کے ساتھ یا فلاں بندے کے پاس جا رہا ہوں۔
جب رات کے وقت دروازے پر کوئی دستک دے تو سائڈ پر کھڑے ہوکر پوچھیں کہ کون ہیں۔۔۔؟ ڈائریکٹ دروازہ مت کھولیں۔
گورنمنٹ شہید عمر حیات ہائیر سیکنڈری سکول نمبر 1 چارسدہ – تاریخ کے آئینے میں :
(تحریر: ڈاکٹر برکت شاہ ایس ایس ٹی سکول ہٰذا)
ہر بستی کی پہچان اس کے چراغِ علم سے ہوتی ہے اور ہر چراغ کو روشنی بخشنے والے وہ چراغاں ہیں جو نسلوں کو شعور، تہذیب اور کردار کی روشنی سے منور کرتے ہیں۔ ضلع چارسدہ کی علمی و ادبی تاریخ میں اگر کسی تعلیمی ادارے کا نام سنہری حروف میں لکھا جا سکتا ہے تو وہ ہے ’’گورنمنٹ شہید عمر حیات ہائیر سیکنڈری سکول نمبر 1 چارسدہ‘‘ — ایک ایسا مادرِ علمی جس نے وقت کی ہر کڑی آزمائش کے باوجود علم کے سفر کو جاری رکھا اور اپنی شاندار روایات قائم رکھیں۔
ضلع چارسدہ کا یہ مشہور اور تاریخی ادارہ 1885ء میں پرائمری سکول کی حیثیت سے چارسدہ ٹاؤن میں قائم ہوا۔ ٹھیک بیالیس برس بعد، یعنی 1927ء میں، اسے مڈل سکول کا درجہ دیا گیا اور اعلیٰ کارکردگی کے اعتراف اور علاقائی ضرورتوں کے پیش نظر صرف دو برس بعد، 1929ء میں، یہ ہائی سکول کے رتبے پر فائز ہوا۔
طلبہ کی مسلسل بڑھتی ہوئی تعداد اور زیادہ سے زیادہ بچوں کو زیورِ علم سے آراستہ کرنے کے لیے 1940ء میں تحصیل چارسدہ کے مرکزی چوک کے قریب، پڑانگ روڈ پر، اس مادرِ علمی کے لیے 53 کنال اراضی مختص کی گئی، جس میں 24 کنال عمارت اور 29 کنال کھیل کے میدان کے لیے مخصوص کیے گئے۔ انگریز دور کی تعمیر شدہ یہ عمارت انگریزی حرف "U" کی شکل میں ڈیزائن کی گئی۔ اسی موقع پر سکول کو چارسدہ ٹاؤن ( گورنمنٹ ہائ سکول چارسدہ خاص ) سے موجودہ مقام پر منتقل کیا گیا اور وہ رہائشی طلبہ کے لۓ بطور بورڈنگ ہاؤس استعمال ہونے لگا۔ چونکہ اس وقت یہ پورے علاقے کا پہلا اور منفرد تعلیمی ادارہ تھا، اس لیے ’’گورنمنٹ ہائی سکول نمبر 1 چارسدہ‘‘ کے نام سے شہرت حاصل کی۔
وقت گزرنے کے ساتھ تعلیمی ضروریات میں اضافہ ہوا۔ کالجوں پر طلبہ کا بوجھ کم کرنے اور انہیں بہتر تعلیمی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے، ادارے کی شاندار کارکردگی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے، 2013ء میں اسے ہائیر سیکنڈری سکول کا درجہ دیا گیا اور یہ ’’گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول نمبر 1 چارسدہ‘‘ کہلانے لگا۔
16 دسمبر 2014ء کے سانحہ آرمی پبلک سکول نے پوری قوم کو سوگوار کر دیا۔ دہشت گردوں کے ظالمانہ حملے میں کئی معصوم طلبہ اور بہادر اساتذہ جامِ شہادت نوش کر گئے۔ شہداء کی قربانیوں کو امر کرنے کے لیے صوبے کے متعدد ادارے ان کے ناموں سے منسوب کیے گئے۔ انہی میں چارسدہ کے علاقے کپتان کورونہ کے ایک معزز اور تعلیم یافتہ گھرانے کے فرزند، ’’شہید عمر حیات‘‘ کے نام پر یہ مادرِ علمی بھی موسوم ہوا، اور یوں ’’گورنمنٹ شہید عمر حیات ہائیر سیکنڈری سکول نمبر 1‘‘ کے نام سے پہچانا جانے لگا۔
اس ادارے کے پہلے ہیڈماسٹر جناب ظفر احمد خان تھے۔ بعد ازاں اس اہم منصب پر جو شخصیات فائز رہیں ان کے اسماۓ گرامی حسب ذیل ہیں۔
تقسیم سے پہلے ہیڈ ماسٹرز صاحبان :
۱) جناب ظفر احمد خان (1929)
۲) جناب حافظ عبد الحمید (1932)
۳) جناب چوہدری عبد الرحمان (1936)
۴) جناب عبد الصمد خان (1939)
۵) جناب فقیر چند (1941)
۶) جناب احسن گل خٹک (1944)
۷) جناب حضرت گل (1947)
پاکستان بننے کے بعد ہیڈ ماسٹر صاحبان :
۸) جناب عبد الرؤف خان (1948)
۹) جناب میاں فضل ہادی (1948)
۱۰) جناب احمد نواز سلیم (1949)
۱۱) جناب عبد الرشید خان (1950)
۱۲) جناب عبدالاکبر خان (1960)
۱۳) جناب عبدالاول خان (1963)
۱۴) جناب میاں جمیل الدین (1964)
۱۵) جناب عبد الرشید خان (1967)
۱۶) جناب میاں جمیل الدین (1969)
۱۷) جناب عبد الرحمان (1977)
۱۸) جناب قاضی فضل حقانی (1978)
۱۹) جناب سیّد مدثر شاہ گیلانی (1979)
۲۰) جناب عنایت اللّٰہ جان (1986)
پرنسپل صاحبان :
۱) جناب کریم اللّٰہ خان (1988)
۲) جناب قاضی فضل حقانی (1988)
۳) جناب مہابت خان (1990)
۴) جناب لطف الرحمان (1994)
۵) جناب محمد ابرہیم (2001)
۶) جناب محمد اشرف (2002)
۷) جناب شاکر اللّٰہ (2010)
۸) جناب تشریف اللّٰہ (2012)
۹) جناب غنی الرحمان (2013)
1۰) جناب احمد جان (2014)
۱۱) جناب عصمت اللّٰہ (2017)
۱۲) جناب احمد جان (2017)
۱۳) جناب ہاشم خان آفریدی (2020)
۱۴) جناب بہادر علی خان (2024)
تدریسی عملے میں آج بھی اکثریت اُن اساتذہ کی ہے جو خود اسی مادرِ علمی کے فارغ التحصیل ہیں۔ مختلف ادوار میں یہ ادارہ علمی، ادبی اور ہم نصابی سرگرمیوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کرتا رہا ہے۔ خاص طور پر گزشتہ ایک دہائی سے میٹرک اور ایف ایس سی کے طلبہ ’’ستوری دَ پختون خوا‘‘ سکالرشپ کے تحت ہر سال لاکھوں روپے کے وظائف حاصل کر رہے ہیں، جو اس ادارے کی تعلیمی معیار کی روشن دلیل ہے۔
اللّٰہ تعالیٰ اس مادرِ علمی کو تا قیامت علم و فن کا مینار بنائے رکھے، یہاں کے اساتذہ اور طلبہ کو علم و کردار کی وہ روشنی عطا فرمائے جو نسلوں کو منور کر کے وطنِ عزیز کی خدمت کے قابل بنائے۔
یہ ادارہ نہ صرف چارسدہ بلکہ پورے خیبر پختونخوا کا فخر ہے اور اس کی دیواروں پر وقت کے سنہری نقوش ہمیشہ یادگار رہیں گے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.