اجمل اصوات القرآن الکریم

اجمل اصوات القرآن الکریم

Share

knowledge and education awareness Quran education online Quran teacher https://www.facebook.com/profile.php?id=61553062486494&mibextid=JRoKGi

27/12/2024

*پاکستان کے کس شہر میں وقت سب سے تیز چلتا یے؟ *

پاکستان کے کس شہر میں وقت سب سے زیادہ تیز چلتا یے؟

آئن اسٹائن کے نظریہ اضافت کے دو حصے ہیں جنہیں سادہ انداز میں مندرجہ ذیل نکات میں بیان کیا جا سکتا ہے:

1. نظریہ عمومی اضافیت کے مطابق زیادہ مضبوط کشش ثقل کے نزدیک وقت آہستہ گزرتا ہے یعنی کسی جگہ پر کشش ثقل جتنی زیادہ ہوگی وہاں پر وقت اتنا ہی سست گزرے گا۔

2. نظریہ خصوصی اضافیت کی رو سے روشنی کی رفتار کے قریب سفر کرنے پر وقت سست گزرتا ہے یعنی کسی جسم کی رفتار جتنی زیادہ تیز ہوگی اس کے لیے وقت اتنی ہی سست رفتار سے چلے گا۔

اب ان نکات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس سوال کا تجزیہ کرتے ہیں کہ پاکستان میں وقت کہاں سب سے زیادہ تیزی سے گزرتا ہے؟۔

1. سطح سمندر سے بلندی
Gravitational Time Dilation:

آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت کے مطابق کمزور کشش ثقل والے مقامات پر وقت زیادہ تیز گزرتا ہے اور طاقتور کشش ثقل والے مقامات پر نسبتاً سست ہوتا ہے۔ گویا جب ہم سطح سمندر سے بلند مقامات پر جاتے ہیں تو وہاں کشش ثقل کم ہوتی ہے جس کے نتیجے میں وقت زیادہ تیز گزرتا ہے۔

لہذا، وہ شہر جو سطح سمندر سے زیادہ بلند ہیں، وہاں وقت زیادہ تیز گزرے گا یا کہا جا سکتا ہے کہ وہاں لوگوں کی گھڑیاں زیادہ تیز چلیں گی۔

2. زمین کی گردشی رفتار کا فرق
Time Dilation due to Relative Velocity:

زمین اپنے محور پر گھوم رہی ہے اور زمین کی گردشی رفتار خط استوا پر یا اس کے نزدیکی مقامات پر سب سے زیادہ ہوتی ہے اور جیسے جیسے خط استوا سے دور جاتے جائیں، زمین کی گردشی رفتار بھی کم سے کم تر ہوتی جاتی ہے۔ اب چونکہ نظریہ اضافیت کے تحت ہم جانتے ہیں کہ تیز رفتار پر وقت سست ہو جاتا ہے، چنانچہ خط استوا کے قریبی علاقوں میں وقت اضافی طور پر سست چلتا ہے جبکہ خط استوا سے دور زمین کی محوری رفتار کم ہونے کی بنیاد پر وقت بھی نسبتاً تیز چلتا ہے۔

واضح رہے کہ گردشی رفتار کا یہ فرق سطح سمندر سے بلندی کے فرق کی نسبت کم موثر ہے لیکن ہم یہاں دونوں عوامل کو مد نظر رکھتے ہوئے بات کریں گے۔

پاکستان میں کس شہر میں وقت سب سے زیادہ تیز چلے گا؟

پاکستان کے مختلف شہروں کی سطح سمندر سے بلندی کو دیکھتے ہوئے وقت کی رفتار وہاں سب سے زیادہ تیز ہوگی جہاں سطح سمندر سے بلندی سب سے زیادہ ہوگی۔

مثلاً پاکستان کے مشہور شہروں میں وقت کی رفتار اسکردو شہر میں سب سے زیادہ تیز ہوگی کیونکہ اس کی بلندی سطح سمندر سے تقریباً 2,500 میٹر (8,200 فٹ) ہے جو پاکستان کے نامی گرامی شہروں میں سب سے زیادہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہنزہ بھی ایک اہم امیدوار ہے جہاں بلندی تقریباً 2400 میٹر (7800 فٹ) ہے۔ ان کے بعد چیدہ چیدہ شہروں میں مری تقریباً 2,291 میٹر (7,514 فٹ) کی بلندی کے ساتھ، چترال تقریباً 1,500 میٹر (4,920 فٹ) کے ساتھ اور ایبٹ آباد تقریباً 1,260 میٹر (4,134 فٹ) کی بلندی کے ساتھ اہم نام ہیں۔ ان مقامات پر وقت سب سے زیادہ تیز چلے گا کیونکہ سطح سمندر سے کافی بلند ہیں جبکہ پاکستان کے دیگر شہروں سے ان کا فاصلہ بہت زیادہ نہ ہونے کی وجہ سے گردشی رفتار کا فرق نظر انداز کیا جا سکتا۔

تاہم ابھی تک ہم نے پاکستان کے سب سے بڑے شہروں کی بات نہیں کی لہٰذا اب پاکستان کے صوبائی دارالحکومتوں کی بھی بات کر لیتے ہیں۔

کراچی کی بلندی سطح سمندر سے صرف 10 سے 30 میٹر تک ہے جو اسے پاکستان میں زمین کے مرکز سے قریب ترین شہر بنا دیتی ہے۔ لہٰذا نظریہ اضافیت کے مطابق، کراچی میں کشش ثقل زیادہ ہونے کی وجہ سے وقت سست گزرتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ کراچی پاکستان کے انتہائی جنوب میں واقع ہونے کی وجہ سے خط استوا کے قریب بھی ہے جس کی وجہ سے وہاں زمین کی محوری گردش زیادہ تیز ہوگی اور اس بنیاد پر بھی وقت سست گزرے گا۔ اسی طرح پشاور جو کراچی سے زیادہ بلندی پر ہے، وہاں وقت تیز گزرے گا جبکہ پشاور چونکہ خط استوا سے دور ہے، اس لئے وہاں گردشی رفتار کے نسبتاً کم ہونے کی وجہ سے بھی وقت نسبتاً تیز گرے گا۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ پشاور میں وقت سب سے تیز گزرے گا، ابھی اور بھی شہر باقی ہیں۔ لاہور کی بات کریں تو لاہور کی سطح سمندر سے بلندی اور خط استوا سے فاصلہ کراچی اور پشاور کے درمیان درمیان ہے، اس لئے لاہور میں اضافی اثرات درمیانے درجے کے ہوں گے اور یوں وقت کراچی سے تیز لیکن پشاور کی نسبتاً آہستہ گزرے گا۔ اب آتے ہیں کوئٹہ کی طرف جو صوبائی دارالحکومتوں میں سب سے زیادہ بلندی پر ہے اور اس بلندی کے باعث وہاں وقت سب سے زیادہ تیز چلے گا جبکہ خط استوا سے نسبتاً دور ہونے کے سبب گردشی رفتار نسبتاً کم ہونے کی وجہ سے بھی وہاں وقت تیز گزرے گا۔ چنانچہ کہا جا سکتا ہے کہ صوبائی دارالحکومتوں میں کوئٹہ میں وقت سب سے زیادہ تیزی سے چلتا ہے اور کراچی میں سب سے سست گزرتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کے بڑے شہروں میں سے کراچی میں گھڑیاں سب سے سست جبکہ کوئٹہ میں گھڑیاں سب سے زیادہ تیز چلتی ہیں۔

اس کے علاوہ ایک تیسرا نکتہ زمین کی غیر مساوی گولائی اور خط استوا پر تھوڑا سا باہر کی جانب نکلے ہونے کی وجہ سے زمین کے مرکز سے فاصلے کا فرق ہے یعنی خط استوا زمین کے مرکز سے سب سے زیادہ فاصلے پر ہوتا ہے اور جیسے جیسے قطبین کی جانب جاتے جائیں، یہ فاصلہ کم ہوتا جاتا ہے۔ لیکن یہ فرق بہت ہی معمولی ہے یعنی زمین کے استوائی رداس اور قطبی رداس میں صرف 22 کلومیٹرز کا ہی فرق ہے اور پھر پاکستان کی حدود کے اندر یہ فرق اتنا کم ہے کہ یہ وقت کی رفتار پر کوئی قابل قدر اثر نہیں ڈال سکتا اور اسی لئے ہم یہاں اسے نظر انداز کر رہے ہیں۔ زیادہ قابل ذکر وجوہات سطح سمندر سے بلندی اور زمین کی اضافی گردشی رفتار کا فرق ہی سمجھی جائیں گی۔

یاد رہے کہ وقت کی رفتار کا یہ فرق انتہائی معمولی یا کم یعنی صرف مائیکروویو سیکنڈز تک ہی ہوتا ہے اور اسے روزمرہ زندگی میں محسوس نہیں کیا جا سکتا اور اس فرق کو جانچنے کے لئے عام گھڑیاں مناسب نہیں بلکہ ایٹمی گھڑیوں کی ضرورت ہوگی لیکن نظریہ اضافیت کے مطابق یہ فرق ایک کائناتی حقیقت ہے جسے باقاعدہ طور پر تجربات سے ثابت بھی کیا جا چکا ہے۔

(تحریر: ڈاکٹر احمد نعیم)

27/12/2024

تُحذَف همزةُ الوصلِ من كَلِمة (ابن) بثلاثة شُروطٍ:

إذا جاءت #صِفةً، #مُفرَدةً، بيْن #عَلَمَيْن الثَّاني #أبٌ للأول

مثل: إسماعيلُ بنُ إبراهيمَ أبو العرَبِ، محمَّدُ بنُ عبْدِ الله خاتمُ الأنبياءِ، عبدُ الرحمنِ بنُ أبي بَكرٍ صَحابيٌّ جَليلٌ، عبدُ اللهِ بنُ الفاروقِ فارسٌ مِغْوارٌ.

ويُقصَد بالعَلَم هنا العَلَمُ المفرَد، والعلم المركَّب، والكُنية، واللَّقَب.

وتُثبَت ألِفُ الوصلِ في كَلِمةِ (ابن) -ولو كانت بيْن علَمين- في الحالات الآتية:
إذا كانت (ابن) خَبرًا عن العَلَم الذي قبلها، مثل: وَقَالَتِ الْيَهُودُ عُزَيْرٌ ابْنُ اللَّهِ وَقَالَتِ النَّصَارَى الْمَسِيحُ ابْنُ اللَّهِ ذَلِكَ قَوْلُهُمْ بِأَفْوَاهِهِمْ

وفي الآيةِ عِلَّةٌ أُخرى، وهي أنَّ الثانيَ ليس أبًا للأوَّل؛ فاللهُ سُبحانَه ليس أبًا لعُزيرٍ ولا لعِيسى عليه السَّلامُ، و(إنَّ خالدًا ابنُ الوليدِ)، و(هل تَيمٌ ابنُ مُرَّةَ؟).
- أو فُصِل بينها وبين العَلَم بفاصلٍ؛ كقولك: زيدٌ الفاضلُ ابنُ عمرو.

- أو جاءت مُثنًّى، مثل: الحسنُ والحسينُ ابْنَا علِيٍّ سيِّدَا شبابِ أهلِ الجنَّةِ.
- أو جاءت في أوَّلِ السَّطرِ.

27/12/2024

السَيفُ أَصدَقُ أَنباءً مِنَ الكُتُبِ
في حَدِّهِ الحَدُّ بَينَ الجِدِّ وَاللَعِبِ

بيضُ الصَفائِحِ لا سودُ الصَحائِفِ في
مُتونِهِنَّ جَلاءُ الشَكِّ وَالرِيَبِ

وَالعِلمُ في شُهُبِ الأَرماحِ لامِعَةً
بَينَ الخَميسَينِ لا في السَبعَةِ الشُهُبِ

أَينَ الرِوايَةُ بَل أَينَ النُجومُ وَما
صاغوهُ مِن زُخرُفٍ فيها وَمِن كَذِبِ

27/12/2024

لي صاحب والله كم أهواهُ
أنسى أنا نفسي ولا أنساهُ!

أرخصتُ روحي دونه وجعلتها
عند الملمَّاتِ الشداد فداهُ!

وأكون -إن خطبٌ ألمَّ- بقربه
دوماً؛ ولكن لا أكاد أراهُ!

كنتُ الوفي له وكان يخونني
من خلف ظهري والشهيد اللهُ!

ويُذيعُ أسراري ويفضحُ عورتي
ويُطيل شتمي بالبذاءة فاهُ!

يا صاحبي لسنا نعاتب خائناً
بل إننا من باعنا بعناهُ!

ما أنتَ أول صاحبٍ فارقتُهُ
أو أنت آخر صاحب أهواهُ!

عندي سواكَ فلا شجونَ ولا أسى
وسواك عندي غيره وسواهُ!

عبد التواب محفوف
١٤٤٦/٠٦/٢٦هـ

26/12/2024

--------- بسم الله الرحمن الرحيم
------ علم النحو
،، ------------أنواع الواوات في اللغة العربية--

✍️أنواع الواوات في اللغة العربية

واو الحال
واو المعية
واو الإشباع
الواو الزائدة
واو العطف
واو الاستئناف
واو رب
واو بحسب ما قبلها
واو الجماعة
واو الأسماء الخمسة
واو القسم
واو الجزاء
واو الثمانية
واو الفصل
واو جمع مذكر السالم
واو الأصداغ
، -_________♕______♕♕♕♕________♕____________
🌹واو الحال

تعريف واو الحال
واو الحال هي: الواو الداخلة على جملة اسمية أو فعلية مسبوقتين بمعرفة👇👇
مثال : زارني أخي وهو مسرور.____________
__________♕♕♕___________________________

واو المعية
تعريف واو المعية:
واو المعية هي: الواو التي بمعنى (مع)
مثال: سرت والليل.

واو الإشباع
تعريف واو الإشباع:
واو الإشباع هي: الواو الواقعة بعد ضمير الرفع (التاء المتحركة) أو بعد ضمير النصب (كاف الخطاب) أو ضمير نصب
هل أديتم الواجب وفهمتموه ؟ وهل ناقشناكموه؟
____♕___♕___♕__________🌹🌹

👈الواو الزائدة
تعريف الواو الزائدة:👇
الواو الزائدة هي: الواو التي تكون زائدة على المعنى الأصلي للكلام.😔
مثال: ربنا ولك الحمد
فهنا الواو زائدة.
،،___________♕____♕♡♡♡♡♡♡_________
واو العطف😍
تعريف واو العطف:👇
واو العطف هي: الواو العاطفة جملة على جملة أو العاطفة مفردا على مفرد
مثال: محمد حاضر وعلي غائب، حضر محمد وفهد.
-_____________________
واو الاستئناف👇👇👇😎
تعريف واو الاستئناف:
واو الاستئناف أو واو الابتداء هي الواو الواقع بعدها جملة لا علاقة لها بما قبلها معنى وإعرابا
مثال: ثم قضى أجلا وأجل مسمى.
👇👇👇😔👇👇👇😍😍😍😍

واو ربّ

تعريف واو رب:😱
واو رب هي: الواو التي بمعنى (رب) وهي حرف جر للنّكرات.
مثال: وليل كموج البحر أرخى سدوله.
🌹🌹🌹🌹🌹
الواو التي بحسب ما قبلها😱
تعريف الواو التي بحسب ما قبلها:
الواو التي بحسب ما قبلها هي: الواقعة في بداية البيت الشعري إذا أتى وحده.
مثال ذلك قول الشاعر:
وأخفت أهل الشرك حتى إنه🌷
لتخافك النطف التي لم تُخلق♥
-____♕_______♕______♕_________

واو الجماعة🌹
تعريف واو الجماعة:
واو الجماعة هي: واو الضمير التي تتصل بالأفعال.
مثال: المسلمون سينتصرون.
👇👇👇👇👇👇👇
واو الأسماء الخمسة
تعريف واو الأسماء الخمسة:
واو الأسماء الخمسة هي: الواو التي تجون علامة رفع الأسماء الخمسة.
مثال: قدم أبوك.
👇👇👇👇👇
واو القسم
تعريف واو القسم:
واو القسم هي: حرف جر دالة على قسم.
مثال: والسماء والطارق.
😍😍😍😍
واو الجزاء
تعريف واو الجزاء:
واو الجزاء هي: الواو التي ينصب الفعل المضارع بعدها بـ (أن) المضمرة جوازا.
مثال: قراءتك للكتب وتستفيد خير لك من اللهو.

👇👇👇😍😍😍👇👇واو الثمانية
تعريف واو الثمانية:
واو الثمانية هي: الواو التي يقع بعدها كلمة دالة على العدد ثمانية.
مثال : "حتى إذا جاؤوها وفتحت أبوابها"

👇واو الفصل🌹
تعريف واو الفصل:
واو الفصل هي: الواو المحصورة في هذه الكلمات:
مثال: (عمرو، أولاء، أولئك، أولي، أولو، أولات).
😍😍😍😍😍😍😍😍
واو جمع المذكر السالم👇👇
تعريف واو جمع المذكر السالم:
واو جمع المذكر السالم هي: علامة رفع جمع المذكر السالم.
مثال: حضر المعلمون.

👈واو الأصداغ
تعريف واو الأصداغ:
واو الأصداغ هي: واو تزين الجملة وتوضح معناها.
مثلا أقول لك هل تريد شيئا؟
ستقول: لا و يرحمك الله
ولا تقل: لا يرحمك الله
ولولاها قد ينقلب المعنى ..

مع خالص الشكر والتقدير لكم جميعا
دكتورة شيلان حسن احمد

،،،،،،،،،،________________&&&&&&&&•(•••••••••

26/12/2024

پیغام
ہمارے سر کا وزن تقریباً 5kg ہے۔
گردن سر کے وزن کو سہارا دیتی ہے جو جھکاؤ کے زاویے کے مطابق بڑھتا ہے۔ جتنا ہم نیچے کی طرف دیکھتے ہیں، اتنا ہی ہمارے سر کا وزن بڑھتا ہے۔ سروائیکل جو وزن اور تناؤ لیتا ہے، اس کے مطابق سر کا وزن 5 کلوگرام سے کم ہو جاتا ہے، لیکن اگر آپ آگے کی طرف جھکتے ہیں تو اس کا وزن زیادہ ہوتا ہے۔ 60 ڈگری پر جھکنے پر، یہ گریوا کے نچلے حصے اور سینے کے نیچے 22-27 کلوگرام چارج کرتا ہے۔ درحقیقت، پوری ریڑھ کی ہڈی.

مزید یہ کہ نرم بافتوں، فاشیاس، مسلز، لیگامینٹس اور کنڈرا کا سپورٹ بہت زیادہ تناؤ اور تھکاوٹ کا شکار ہو جاتا ہے جس سے جوڑوں اور ڈسکس پر تناؤ بڑھ جاتا ہے۔ اگر ابھی نہیں، تو پٹری سے نیچے، اس کا اثر گردن پر پڑے گا کیونکہ یہ سخت ہوتی جاتی ہے اور کہیں اور مسائل پیدا ہونے کا امکان ہوتا ہے۔

اسمارٹ فون استعمال کرتے ہوئے اپنا خیال رکھیں۔ ہم جو کچھ ہو رہا ہے اس میں پوری طرح جذب ہو جاتے ہیں اور ہم اپنی جسمانی پوزیشن اور وقت کے ساتھ یہ چھوٹا سا
آلہ ہمارے ساتھ کیا کر سکتا ہے اس کی جانچ نہیں کرتے
کچھ وقت اپنے اور اپنوں کے ساتھ گزاریں اپنے ساتھ مخلص رہیں۔
جتنا ہو سکے سکرین فوکس کم کریں بلخصوص چھوٹے بچوں کو موباٸل ہرگز نا دیں.
#سردار

26/12/2024

🌺🌺🌺

:

◾المطابقة. ◾المُقابلة.
◾مراعاة النظير. ◾الإرصاد.
◾المُشاكلة. ◾المُزاوجة.
◾العكس. ◾التّورية.
◾الاستخدام. ◾الطّيّ والنّشر.
◾الجمع. ◾التفريق.
◾التقسيم. ◾الجمع مع التفريق.
◾الجمع مع التقسيم. ◾التجريد.
◾المُبالغة. ◾المذهب الكلامي.
◾حُسن التعليل. ◾التفريغ.
◾تأكيد المدح بمايشبه الذم. ◾تأكيد الذم بمايشبه المدح.
◾الاستتباع. ◾الإدماج.
◾التوّجيه. ◾الهزل الذي يراد به الجِدُّ.
◾تجاهل العارف. ◾القول بالموجب.
◾الاطراد. ◾الأسلوب الحكيم.
◾تشابه الأطراف. ◾موافقة اللفظ للمعنى.
◾حسن الابتداء. ◾حسن الختام.

#المفصّل في علوم البلاغة العربية للعاكوب.

26/12/2024

THE 48 LAWS OF POWER.

A Book written by Robert Greene that offers a Series of Strategies for Obtaining and Maintaining Power in various situations. Here I leave you a summary of the 48 Laws:

1. Don't Outshine the Boss: Make your Superiors feel Superior. Don't expose your Talent too much or you might Trigger their Insecurity.

2.Don't Trust friends too much, use your Enemies: Friends Betray you more easily, but if you Manage to WIN an Enemy, they will be more Loyal.

3. Hide your Intentions: Keep People Off Balance so they can't anticipate your Actions.

4. Always say Less than Necessary: Silence Breeds Power, and Talking too much Reveals your Plans.

5. Protect your Reputation at all Costs: Reputation is the Cornerstone of Power.

6. Call Attention at all Costs: Be Visible to be Relevant.

7. Make others Work for you and Attribute it: Take Advantage of the Work and Effort of others to your Advantage.

8. Make others come to you: Don't Run after Others, make them Look for you.

9. Win with Actions, Never Arguments: Prove your Point through Actions, Not Words.

10. Avoid Losers and Unhappy: The Misfortune of others is Contagious; stay away from those who Bring you Down.

11. Make People Depend on you: If others Depend on you, you're in Control.

12. Disarm with Sincerity and Selective Generosity: Emotional Disarmament will give you an Edge.

13. When you ask for Help, Appeal to the Interests of Others: Appeal to what Benefits Others, not Gratitude or Compassion.

14. Introduce yourself as a Friend, act as a Spy: Learn to Extract Valuable Information from others without them Noticing.

15. Crush your Enemy Completely: Do not let your Enemy Recover, or he will seek Revenge.

16. Use Absence to Increase Respect: The Value of something Increases with Scarcity..

17. Keep Others in Suspense: Be Unpredictable, you will Confuse Others and Gain Power.

18. Do Not Isolate yourself: Loneliness Weakens you; Engage yourself in the Web of Influence.

19. Know Who You’re Dealing With: Choose Your Opponents And Partners Wisely.

20. Don't compromise with anyone: Maintain your Independence so you don't get Caught up in other People's Affairs.

21. Pretend to be a Fool to Catch the Sly: Let others think they have an Advantage over you.

22. Use the Surrender Tactic: Sometimes giving in at the Right Time gives you the Advantage.

23. Focus your Forces: Keep your Energy Focused on what really Matters.

24. Be a Master at Simulation and Disguise: Don't reveal all your cards.

25. Recreate your own identity: Be the architect of your own destiny.

26. Keep your hands clean: Make sure the responsibility for the problems falls on others.

27. Play with people's needs to create devotion: Satisfy their deep desires to earn you their loyalty.

28. Be bold in acting: Timidity is dangerous, boldness is powerful.

29. Plan everything to the end: Having a detailed plan allows you to avoid unpleasant surprises.

30. Make your accomplishments look easy: Minimize the effort you put in to make others think you have innate talent.

31. Control Other People's Options: Guide the decisions of others by giving them limited options.

32. Play with people's fantasy: Appeal to people's emotions and dreams to gain clout.

33. Discover the weaknesses of others: Identify what drives people to manipulate their actions.

34. Be rule in your behavior: Power lies in the appearance of greatness and dignity.

35. Master the art of timing: Don't rush; everything has its right time.

36. Despise what you can’t have: Don’t obsess over things that are out of your reach.

37. Create engaging spectacles: Theatrics and spectacles capture attention.

38. Think as you wish, but behave like everyone else: Do not openly defy social norms.

39. Stir the waters to catch fish: Destabilize others to make mistakes.

40. Despise free: What is free usually comes with a hidden cost.

41. Avoid imitating great men: Forge your own path instead of following in the footsteps of others.

42. Beat the shepherd and the sheep will scatter: He demolishes leaders to weaken his followers.

43. Work on the hearts and minds of others: Conquer the spirit of people to control them.

44. Disarm and anger with mirror effect: Reflect the actions of others to destabilize them.

45. Preach the need for change, but never reform too much: Radical change can generate resistance.

46. Never look too perfect: Perfection breeds envy and haters.

47. Don't exceed your goal: When you achieve what you want, retire on time.

48. Be amorphous: Be adaptable, don't limit yourself to a rigid form.

These laws are designed to handle situations of power, but it's important to consider context and personal ethics when applying them.

Want your school to be the top-listed School/college in Charsadda?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Address

4PVP+2RG, Zareen Abad Road, Sardheri, Khyber Pakhtunkhwa
Charsadda
24460

Opening Hours

09:00 - 17:00