Knowledge world

Knowledge world

Share

this page is for knowledge if you have good materials which is useful to other students so you can p

31/01/2024

‏حضرت بلالؓ جناب عمرؓ سے ملنے آئے جب بلالؓ دروازے سے داخل ہوئے تو فاروق اعظمؓ نے کرسی چھوڑدی ہاتھ باندھ کے کونے میں کھڑے ہوگئے
کالا رنگ
نام لکھنا نہیں جانتے
قیصر و کسری کو خاطر میں نہ لانے والے عمرؓ بلالؓ کے سامنے کھڑے ہوگئے
لوگ کہنےلگے عمر کون آ رہا ہے جس کے لیے آپکا یہ استقبال ہے حضرت بلالؓ آئے کہنےلگے امیرالمومنین کیا کر رہے ہیں ؟
عمرؓ نے بازو پکڑا اوراپنی کرسی پر بٹھایا حضرت بلال کہنے لگے
حضور میں غلام ہو مجھے تو طریقے بھی نہیں آتے ان کرسیوں پر بیٹھنے کے میں غریب ماں کابیٹا غلام باپ کی اولاد ہوں
حضرت عمرؓ کہنے لگے بلالؓ تو غلام تھا لیکن جب سے تُو مصطفیﷺ کا غلام بنا ہے تُو ہمارا امام بن گیا ہے اب تُو امام ہے رسول اللہ کی امت کا
فرمایا مجھے وہ دن یاد ہے جب مکہ فتح ھوا تھا بت ٹوٹ گئے تھے بڑے بڑےسردار تھے اور میرے نبیﷺ نے فرمایا بلالؓ سے کہو کہ کعبہ کی چھت پر چڑھ کے اذان دے لوگوں نے کہا حضورکسی اور کی ڈیوٹی۔ لگادیں تو آپﷺ نے فرمایا چپ کرو
بدرمیں مار کھا کے اذان پڑھے تو بلال
احد میں پتھر برسے اذان پڑھے تو بلال
تپتے صحراؤں میں پتھر کھا اذان پڑھے تو بلال کو بلاؤ
اور آج اگر اللہ نے عزت دی ہے تو میں لوگوں کودیکھ کے بلالؓ کو عزت نا دوں_
فرمایا کوئی اوپر نہیں چڑھے گا
عمرؓ بھی نیچے
عثمان و علیؓ طلحہ اور زیبرؓ بھی نیچے
آج یہ حبشی غلام کعبہ کی چھت پر چھڑے گا اور میں دنیا کو بتاؤں گا کہ عزت اسی کےپاس ہوتی ہے جو رسول اللہﷺ کا غلام بنتا ہے۔
اللہ اکبر۔۔۔

31/01/2024

‏دوسری جنگ عظیم کے بعد جاپان میں بے انتہا غربت تھی، 1960تک ان کے بچے خوراک کی قلت کا شکار تھے، یہ بچے لاغر اور کم زور پیدا ہوتے تھے اور ان کی پرورش میں بھی کمی رہ جاتی تھی۔

لہٰذا ان کے قد چھوٹے، ہڈیاں کم زور، وزن کم اور رنگ پیلے تھے، جاپانی اس دور میں 24 گھنٹے میں صرف ایک کھانا ‏کھاتے تھے، انھوں نے اس دور میں اندازہ کیا ہم اگر دن تین بجے کھانا کھائیں تو چوبیس گھنٹے گزار سکتے ہیں چناں چہ یہ دن تین بجے کھانا کھاتے تھے اور اگلی خوراک کی باری اگلے دن آتی تھی۔

اس وقت ان کی حالت یہ ہوتی تھی پاکستان نے 1957میں چاولوں سے بھرا ہوا ایک بحری جہاز ٹوکیو بھجوایا ‏جہاز پر جاپان کی امداد کے لیے پاکستان کا تحفہ لکھا ہوا تھا اور اس کی تصویریں باقاعدہ اخبارات میں شایع ہوئیں اور پورے جاپان نے ہاتھ جوڑ کر حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیا، جاپانیوں کو آج بھی پاکستان کا یہ احسان یاد ہے۔

میں نے عرفان صاحب سے عرض کیا، جاپان دنیا کے ان چار ملکوں میں ‏شمار ہوتا ہے جن کے ساتھ پاکستان کے تعلقات شروع دن سے حیران کن رہے، ہندوستان کے آخری وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن پاکستان اور بھارت کو 15 اگست 1947 کو آزادی دینا چاہتے تھے۔

اس کی وجہ جاپان تھا، جاپان نے 1945میں 15 اگست کو امریکا کے سامنے سرینڈر کیا تھا، اتحادی فوجیں (امریکا، برطانیہ ‏اور یورپی ملک) 15 اگست کو یوم فتح کے طور پر مناتے تھے۔

لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی خواہش تھی 15 اگست 1947 کو جب پورا برطانیہ یوم فتح منا رہا ہوتو بھارت اور پاکستان کی پیدائش اس وقت ہوتاکہ ہر سال جب ان دونوں ملکوں کے لوگ آزادی کی تقریبات منائیں تو اس وقت جاپانی افسردہ ہوں اور یہ کھیل ‏تاابد جاری رہے۔

یہ منصوبہ جب قائداعظم کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ نے فوراً انکار کر دیا، قائد کا کہنا تھا "ہم اپنا یوم آزادی کسی دوسری قوم کے یوم شکست پر نہیں رکھیں گے"
جاپانی آج تک پاکستان کا یہ احسان نہیں بھولے، دوسری جنگ عظیم میں شکست کے بعد جاپان نے تاوان ادا کرنا شروع کیا ‏(یہ آج بھی امریکا کو ہر سال 10 بلین ڈالر ادا کرتا ہے)، پاکستان کا اس تاوان میں چھٹا حصہ تھا، قائداعظم نے اس وقت اپنا یہ حصہ بھی جاپان کو معاف کر دیا تھا جب ہمارے پاس سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے لیے رقم نہیں تھی۔

جاپانی آج تک یہ احسان بھی نہیں بھولے اور پاکستان نے اپنے ابتدائی ‏دنوں میں جاپان کو نقد امداد بھی دی اور جاپان کو آج تک یہ بھی یاد ہے چناں چہ کہنے کا مقصد یہ ہے ایک پاکستان ایسا بھی ہوتا تھا۔

ہماری دریا دلی صرف جاپان تک محدود نہیں تھی، ہم نے 1950 کی دہائی میں جرمنی کو پانچ کروڑ روپے قرض دیا تھا، پولینڈ کے متاثرین کو پناہ دی تھی، چین کا دنیا کے ‏ساتھ رابطہ کرایا تھا، پی آئی اے دنیا کی پہلی ائیرلائین تھی جس نے چین کی سرزمین کو چھوا تھا اور ماؤزے تنگ اور چو این لائی نے ائیرپورٹ آ کر ہماری فلائیٹ کا استقبال کیا تھا۔

ہم نے ماؤزے تنگ کو ذاتی استعمال کے لیے جہاز بھی گفٹ کیا تھا، یہ جہاز آج بھی چین کے میوزیم میں پاکستان کے ‏شکریے کے ساتھ کھڑا ہے، ہم نے اپنے ترک بھائیوں کی قیام پاکستان سے پہلے بھی مدد کی تھی اور قیام کے بعد بھی، ترکی کے زیادہ تر امرائ، فوجی افسروں اور سیاست دانوں کے بچے پاکستان میں تعلیم حاصل کرتے تھے۔

ہم نے استنبول میں پہلا بوئنگ طیارہ اتارا تھا اور ترکی نے اس کے لیے ائیرپورٹ پر ‏نیا رن وے بنایا تھا اور پوری کابینہ اس کے استقبال کے لیے ائیرپورٹ گئی تھی، ہم نے مراکو، تیونس اور الجزائر کی آزادی میں بھی مرکزی کردار ادا کیا، پاکستان نے ان کی سیاسی قیادت کو پاسپورٹ بھی دیے اور اقوام متحدہ میں اپنے بینچ سے انھیں خطاب کا موقع بھی دیا۔

چین اور امریکا کا پہلا ‏رابطہ اور ہنری کسنجر اور صدر رچرڈ نکسن کے چین کے پہلے دورے کا انتظام بھی ہم نے کیا تھا، چین میں لوہے کا پہلا کارخانہ پیکو کی طرز پر لگا تھا اور چو این لائی اسے دیکھنے کے لیے اپنے ماہرین کے ساتھ 1960کی دہائی میں لاہور آئے تھے، ایران کی ترقی اور یورپ اور امریکا کے ساتھ تعلقات میں ‏بھی پاکستان نے اہم کردار ادا کیا تھا، شاہ ایران ہر دوسرے ماہ پاکستان کا دورہ کرتے تھے اور پاکستان کی ترقی کو حیرت سے دیکھتے تھے۔

فلسطین کے لیے پہلی عالمی آواز بھی ہم نے اٹھائی تھی، شام، اردن اور مصر کی سفارت کاری، آزادی اور بحالی میں بھی پاکستان کا اہم کردار تھا، سعودی عرب ‏میں 1970 تک پاکستان سے زکوٰۃ جاتی تھی اور سعودی شہری خانہ کعبہ میں پاکستانیوں کے رزق میں اضافے کے لیے دعائیں کیا کرتے تھے۔

یو اے ای کی ترقی میں بھی پاکستان کا اہم کردار تھا، دنیا کی چوتھی بہترین ائیرلائین ایمریٹس کا کوڈ (ای۔ کے) ہے، اس کا "کے" کراچی ہے، یہ ائیر لائین کراچی سے ‏اسٹارٹ ہوئی تھی، ہم نے انھیں جہاز بھی دیا تھا اور عملہ بھی لہٰذا یہ آج بھی ای۔ کے (امارات کراچی) ہے، مالٹا کے بچوں کے سلیبس میں پی آئی اے کا پورا باب ہے۔

سنگا پور ائیرلائین اور پورٹ دونوں پاکستانیوں نے بنائیں، انڈونیشیا اور ملائیشیا کی اشرافیہ کے بچے پاکستان میں پڑھتے تھے ‏ملائیشیا کا آئین تک پاکستانی وکلاء نے لکھا تھا، جنوبی کوریا کی گروتھ میں محبوب الحق کے پانچ سالہ منصوبے کا اہم کردار تھا، بھارت 1990کی دہائی میں پاکستان سے بجلی خریدتا رہا اور من موہن سنگھ نے "شائننگ انڈیا" کا پورا منصوبہ پاکستان سے لیا تھا

دنیا کی تین بڑی انجینئرنگ فرمز نے1960ء ‏کی دہائی میں کنسورشیم بنا کر منگلا ڈیم کی "بڈ" کی تھی اور ہارورڈ یونیورسٹی کی انجینئرنگ کلاس کے طالب علم جہاز بھر کر مطالعے اور مشاہدے کے لیے منگلا آتے تھے اور اس منصوبے کوحیرت سے دیکھتے تھے۔

مسلم دنیا کے 27 ملکوں کے فوجی افسر پاکستانی اکیڈمیوں میں ٹرینڈ ہوئے اور بعدازاں اپنے ‏اپنے ملکوں میں آرمی چیف بنے، یو اے ای کے فرمانروا زید بن سلطان النہیان 1970 کی دہائی تک پاکستان کے دورے پر آتے تھے تو ان کا استقبال کمشنر راولپنڈی کرتا تھا، ہمارے وزیر بھی ائیرپورٹ نہیں جاتے تھے اور سب سے بڑھ کر 1961میں جب ایوب خان امریکا کے دورے پر گئے تھے تو پوری امریکی کابینہ
‏نے صدر جان ایف کینیڈی سمیت ائیرپورٹ پر ان کا استقبال کیا اور صدر ایوب خان ائیرپورٹ سے وائٹ ہاؤس کھلی گاڑی میں گئے اور سڑک کی دونوں سائیڈز پر امریکی عوام پھول لے کر کھڑے تھے اور پاکستان زندہ باد اور ویل کم، ویل کم کے نعرے لگا رہے تھے۔

پاکستان نے ایک دور ایسا بھی دیکھا جب دنیا ‏حیرت سے اس کی طرف دیکھتی تھی اور یہ جرمنی اور جاپان جیسے ملکوں کو قرضے اور امداد دیتا تھا لیکن پھر اس ملک پر ایک ایسا دور آیا جس میں ہم ایک ارب ڈالر کے لیے دنیا کے دروازے پر بھکاری بن کر بیٹھے ہیں اور دنیا ہمیں غرور اور نفرت سے دیکھ رہی ہے۔

ایک وقت تھا جب ہم ویزے کے بغیر پوری ‏دنیا میں سفر کرتے تھے اور ایک وقت اب ہے جب ہمیں افغانستان کے ویزے کے لیے بھی قطاروں میں کھڑا ہونا پڑتا ہے، ایسا کیوں ہوا؟ ہم نے کبھی سوچا؟ ہمیں ماننا پڑے گا ہم نے بڑی محنت اور جدوجہد سے اس ملک کو برباد کیا ہے، ہم نے اس کی عزت اور وقار کو ایڑی چوٹی کا زور لگا کر مٹی میں ملایا ہے
‏مگر سوال پھر وہی ہے کیا ہمارے پاس واپسی کی کوئی گنجائش ہے۔

کیا آپ کے پاس اس کا جواب ہے ؟؟؟



07/11/2023
07/11/2023

خیبر پختونخواہ پبلک سروس کمیشن نے لیکچرر ,سبجکٹ سپشلٹ و دیگر پوسٹس کا ٹیسٹ شیڈول جاری کر دیا..
ان پوسٹس کے ٹیسٹ 21 دسمبر سے شروع ہونگے.

06/11/2023

پچھلے سال خیبر پختونخوا میں اساتذہ بھرتی کے لئے سلیبس اس طرح کا تھا، اور قوی امکانات ہیں کہ اس بار بھی اس طرح کا سلیبس ہو، اس لئے آپ سب اس کو لے کر اپنی تیاری شروع لر سکتے ہیں۔

18/09/2023

اﯾﮏ teacher ﮐﻮ ﺟﺎﺏ ﻧﮧ ﻣﻠﯽ تو ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﻠﯿﻨﮏ ﮐﮭﻮل لیا ﺍﻭﺭ ﺑﺎﮨﺮ بورڈ پر ﻟﮑﮭﺎ
''ﺗﯿﻦ ﺳﻮ ﺭﻭﭘﮯ ﻣﯿﮟ ﻋﻼﺝ ﮐﺮﻭﺍﺋﯿﮟ، اگر ﻋﻼﺝ ﻧﮩﯿﮟ ھوﺍ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ھزﺍﺭ ﺭﻭﭘﮯ ﻭﺍﭘﺲ''
ﺍﯾﮏ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﻧﮯ ﺳﻮﭼﺎ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ھﺰﺍﺭ ﺭﻭﭘﮯ ﮐﻤﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﭼﮭﺎ ﻣﻮﻗﻊ ھے۔ ﻭﮦ کلینک ﭘﺮ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻻ: ﻣﺠﮭﮯ ﮐﺴﯽ ﺑﻬﯽ ﭼﯿﺰ ﮐﺎ ﻣﺰﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﺎ. میرا ٹیسٹ (ذائقہ) خراب ھے۔Teacher نے نرس سے کہا: ﺑﺎﮐﺲ ﻧﻤﺒﺮ 22 ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺩﻭﺍﺋﯽ ﻧﮑﺎﻟﻮ ﺍﻭﺭ 3 ﺑﻮﻧﺪﯾﮟ اس مریض کو پلا دو۔ ﻧﺮﺱ ﻧﮯ بوندیں ﭘﻼ دیں۔
ﻣﺮﯾﺾ: ﯾﮧ ﺗﻮ ﭘﭩﺮﻭﻝ ھﮯ؟
Teacher: ﻣﺒﺎﺭﮎ ھﻮ ﺁﭖ ﮐﻮ ٹیسٹ ﻣﺤﺴﻮﺱ ھﻮ ﮔﯿﺎ۔
ﻻﺅ ﺗﯿﻦ ﺳﻮ ﺭﻭﭘﮯ.😜😉😀
(ﮈﺍﮐﭩﺮ ﮐﻮ ﻏﺼﮧ ﺁ ﮔﯿﺎ)
ﮐﭽﮫ ﺩﻥ ﺑﻌﺪ ﭘﮭﺮ ﻭﺍﭘﺲ ﮔﯿﺎ، ﭘﺮﺍﻧﮯ ﭘﯿﺴﮯ ﻭﺻﻮﻝ ﮐﺮﻧﮯ کے چکر میں۔
ﻣﺮﯾﺾ: ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺻﺎﺣﺐ ﻣﯿﺮﯼ ﯾﺎﺩدﺍﺷﺖ ﮐمزور ھﻮﮔﺌﯽ ھے۔
Teacher
ﺑﺎﮐﺲ ﻧﻤﺒﺮ 22 ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺩﻭﺍﺋﯽ ﻧﮑﺎﻟﻮ ﺍﻭﺭ 3 ﺑﻮﻧﺪﯾﮟ پی لو۔
ﻣﺮﯾﺾ: ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ ﺗﻮ ﺯﺑﺎﻥ ﮐﮯ ٹیسٹ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮨﯿﮟ؟
Teacher
: ﯾﮧ ﻟﻮ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﯾﺎﺩدﺍﺷﺖ ﺑﻬﯽ ﻭﺍﭘﺲ ﺁ ﮔﺌﯽ.
ﻻﺅ ﺗﯿﻦ ﺳﻮ ﺭﻭﭘﮯ😉😜😀
(اﺱ ﺑﺎﺭ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﻏﺼﮧ سے پاگل ھو گیا)
کچھ دنوں کے بعد پھر پیسے پورے کرنے کے چکر میں teacher کے پاس گیا)
ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺻﺎﺣﺐ ﻣﯿﺮﯼ ﻧﻈﺮ کمزور ھﻮ ﮔﺌﯽ teacher
: ﺍﺱ ﮐﯽ ﺩﻭﺍﺋﯽ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﻧﮩﯿﮟ ھﮯ۔ ﻟﻮ ﯾﮧ ﮨﺰﺍﺭ ﺭﻭﭘﮯ!
مریض: مگر ﯾﮧ ﺗﻮ ﭘﺎﻧﭻ ﺳﻮ ﮐﺎ ﻧﻮﭦ ھﮯ۔
Teacher
: مبارک هو آپ کی ﻧﻈر واپس آ گئی۔
لائیں تین ﺳﻮ ﺭﻭﭘﮯ!!!🤣
نتیجہ
استاد استاد ہوتا ہے😍😇😂🤣

17/09/2023

کنٹریکٹ ملازم اور ایڈہاک ملازم میں فرق:
(1) کنٹریکٹ ملازمین سول سرونٹ نہیں ہوتے جبکہ ایڈہاک ملازمین سول سرونٹ ہو سکتے ہیں۔ [ 2001 PLC (CS) 1224]
(2) کنٹریکٹ ملازم کسی قسم کی پنشن یا دیگر مراعات کا حق دار نہیں ہوتا جبکہ ایڈہاک ملازم ہر قسم کے فائدہ جات سول سرونٹ کی طرح لے سکتا ہے اور پنشن وغیرہ کا بھی حق دار ہوتا ہے۔
(3) کنٹریکٹ ملازم اپنے حقوق کیلئے سروس ٹریبونل سے رجوع نہیں کر سکتا جبکہ ایڈہاک ملازم سول سرونٹ کی طرح اپنے حقوق کیلئے سول سرونٹ کی طرح اپنے حقوق کیلئے سروس ٹریبونل سے رجوع کر سکتا ہے۔
(4) کنٹریکٹ ملازمین کی بھرتی بذریعہ امتحان کی جاتی ہے جن کو بعد میں Competent Authority مستقل بھی کر سکتی ہے
(5) ایڈہاک ملازمین کو سول سرونٹ شمار کیا جاسکتا ہے مگر کنٹریکٹ ملازمین کو نہیں (2017SCMR 482)

13/09/2023

ون ڈاؤن بیٹسمین

تحریر احمد جواد

چین باقی دنیا سے 20 سال آگے سوچتا ہے, اسکے پاس ون ڈاؤن کا آپشن ہمیشہ رہتا ہے

سی پیک چین کے ون بیلٹ، ون کوریڈور کا اہم اور افتتاحی بیٹسمین تھا، لیکن چونکہ افتتاحی بیٹسمین کی کارکردگی میں تسلسل نہیں تھا تو چین نے ون ڈاؤن بیٹسمین بھی تیار رکھا ہوا تھا

چین کا ون ڈاؤن بیٹسمین وہ اکنامک کوریڈور ہے جو تجارت کو چین، افغانستان، وسطی ایشیائ ممالک، ایران، ترکی سے یورپ تک ٹرین کے ذریعے پہنچاتاہے،، چین نے ایران والا ٹرین روٹ بہت پہلے ڈویلپ کر لیا تھا، گوادر چاہ بہار کا ون ڈاؤن بیٹسمین تھا اور افغانستان پچھلے ایک سال میں دوسرے افتتاحی بیٹسمین کے طور پر شامل ہوچکا ہے

خارگوس دنیا کی سب سے بڑی چینی ڈرائ پورٹ ہے جہاں سے ایران تک ٹرین روٹ صرف 2300 کلو میٹر ہے، اس روٹ سے چین کی 60% تجارت ہو رہی ہے اور روازانہ کروڑوں ٹن مال چین سے یورپ کو پہنچ رہا ہے، اگر سوچا جاۓ تو چین کو سی پیک کی کوئ ضرورت نہیں تھی لیکن چین نے سی پیک کو ایک معاشی انعام کے طور پر پاکستان کو پیش کیا تاکہ پاکستان اسکے مضبوط اتحادی کے طور پر متبادل معاشی ٹریڈ بنا سکے جسمیں پاکستان بُرے طریقے سے ناکام ہوا، اس ناکامی کا سادہ ثبوت یہ ہے کہ آج چین کی کتنی تجارت خنجراب سے گوادر تک ہو رہی ہے؟ شاید نا ہونے کے برابر؟ چین باقی دنیا سے 20 سال آگے سوچتا ہے چین کو سی پیک کے آہستہ ہونے یا بند ہونے سے کوئ خاص فرق نہیں پڑتا

مودی نے بھارت، مشرق وسطی، یورپ کوریڈور کا اعلان کرکے متوازی اکنامک پلان کا اعلان کر دیا ہے جس کو امریکہ، یورپ، سعودیہ، ترکیہ اور دنیا کے18 امیر ترین ممالک کی حمایت حاصل ہے

ایک طرف بھارت، امریکہ اور یورپ کا بلاک، دوسری طرف چین اور روس کا بلاک جبکہ پاکستان بلکل غیر متعلق ہو چکا ہے، پاکستان اپنی سٹریٹیجک لوکیشن کی اہمیت کھو چکا ہے اپنی حرکتوں کیوجہ سے، دنیا نے 75 سال تک پاکستان کو موقع دیا، پاکستان نے اس موقعے کو امریکی جنگیں لڑنے سے زیادہ نہیں دیکھا، دنیا آپ کا انتظار نہیں کرتی، اسلئے دنیا آگے بڑھ چکی ہے، پاکستان آج اپنی اندرونی لڑائیوں میں بُری طرح پھنس چکا ہے ، پاکستان کی خارجہ، معاشی، تجارتی اور سیاسی پالیسی بُری طرح ناکام ہو چکی ہے

سیکھنا ہے تو ایران سے سیکھو کہ اسنے کیسے اپنی اہمیت منوائ، کبھی امریکہ کی جنگ نہیں لڑی، افغانستان کے ساتھ سرحد ہونے کے باوجود کوئ دہشت گردی نہیں، ایران کمزور کرنسی اور بین الاقوامی پابندیوں کے باوجود ایک خود مختار ملک ہے جہاں انصاف، میرٹ، انفراسٹرکچر ، لوکل انڈسٹری ترقی کر رہی ہے، عام آدمی مطمعین ہے، ترکیہ سے سیکھیں جو نیٹو میں بھی ہے، روس اور چین کا دوست بھی ہے، یورپ کا انرجی کوریڈور بھی ہے اور اب بھارت کے کوریڈور کا حصہ بھی ہے، یوکرین کا بھی دوست ہے، اسکے ڈرون آزدبائیجان کو آرمینیا کیخلاف جنگ جتا چکے ہیں، یوکرین بھی روس کیخلاف انہیں ڈرونز کو استعمال کر رہا ہے، ترکیہ اسرائیل کا دوسرا بڑا ایکسپورٹر ہے، ترکیہ بیک وقت ون بیلٹ، ون روڈ اور بھارت،مشرق وسطی، یورپ،کوریڈور کا اہم ترین حصہ ہے، ترکیہ پوری دنیا کا ون ڈاؤن بیٹسمین ہے جو ہر میچ میں سکور کرتا ہے، اسے کہتے ہیں خارجہ پالیسی اورویثرن یہ سب کچھ ترکیہ میں 2001 میں فوج کا 78 سالہ سیاسی کردار ختم کرنے کے بعد ہوا

ہم مشرقی پاکستان گنوا بیٹھے، کشمیر گنوا بیٹھے، سیاچن گیا، کارگل گیا، سی پیک گنوا بیٹھے اور اب باقی کا حال سب کے سامنے ہے، اب کوئ بھی ٹیم ہمیں کسی بھی پوزیشن پر کھلانے کو تیار نہیں، بس بارہویں کھلاڑی کے طور پر کھیل رہے ہیں
#منقول

12/09/2023

Please type
Allah..

Want your school to be the top-listed School/college in Charsadda?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address

Umarzai Charsadda
Charsadda
24510

Opening Hours

Monday 19:00 - 12:00
Tuesday 19:00 - 12:00
Wednesday 19:00 - 12:00
Thursday 19:00 - 12:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 11:00 - 12:00
Sunday 09:00 - 12:05