13/05/2025
وہ 87 سال کی عمر میں آج کل اسلام آباد میں
گوشہ عزلت میں گمنامی کی زندگی گزار رہے ہیں۔
وہ 1940 میں امرتسر میں راجپوت خاندان
میں محمد شریف کے ہاں پیدا ہوئے۔
بہت کم پاکستانیوں کو علم ہے کہ انہوں نے
کامیابیوں کے کون کون سے زینے عبور کرکے ملک
و قوم کے لئے ایسی خدمات سر انجام دیں
کہ انہیں "ستارہ امتیاز" سے نوازا گیا۔
بچپن کی ابتدائی تعلیم امرتسر سے حاصل کرنے کے بعد آزادی کے وقت بعد پاکستان آئے اور گورنمنٹ کالج لاہور سے FSc کی۔ انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد اٹامک انرجی کمیشن میں شمولیت اختیار کی اور یہیں سے مزید اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے انگلینڈ روانہ ہوئے۔
مانچسٹر یونیورسٹی سے نیوکلیئر ریکٹر کنٹرول انجنیئرنگ میں MS کی ڈگری حاصل کرکے واپس پاکستان آ گئے۔ کہتے ہیں کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو پاکستان لانے کے لئے وہ خفیہ طور پر ہالینڈ چلے گئے۔ آخر کار پاکستان اٹامک بم بنانے میں کامیاب ہوا جس کے لئے مشترکہ طور پر کام کرنے میں انہی کا بڑا کردار رہا۔ انہیں کچھ عرصہ کے لئے اسلام آباد میں نظر بند کر دیا گیا۔
2001 میں انہیں رہائی ملی اور تب سے اب تک انہوں نے اسلام اور سائنس پر بیشمار قابل ذکر کتابیں تحریر کی ہیں۔ میرا پہلا تعارف ان کے ساتھ ان کی مشہور کتاب "قرآن پاک ایک چیلنج ایک سائنسی معجزہ" کے ذریعے ہوا۔
اس کتاب میں انہوں نے اپنے ہنر سے میتھمیٹکس اور سائنسی حسابات کا استعمال کرکے سورہ الکہف کی آیت نمبر 25 کی کچھ یوں تشریح کی کہ اصحاب کہف اپنے غار میں شمسی حساب سے 300 جبکہ قمری حساب سے 309 سال تک پڑے رہے۔ یقین کیجئے کہ اسی ایک تشریح نے مجھے ورطہ حیرت میں ڈال کر کی مزید کتابیں پڑھنے پر مجبور کر دیا۔
جی ہاں میں بات کر رہا تھا ، ایٹمی سائنسدان جناب سلطان بشیرالدین محمود کی جو ISPR کے موجودہ اور 22 ویں ڈائریکٹر جنرل ، لیفٹینینٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے والد محترم ہیں۔
19/04/2024
27/03/2024