28/09/2026
> "کسی کے لیے اپنے دل اور گھر کے دروازے کھولنا صرف اخلاق نہیں، بلکہ اللہ اور آخرت پر سچے ایمان کی خوبصورت علامت ہے!"
>
حدیث شریف کی تفصیلی تشریح و وضاحت:
عربی:
وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ۔
ترجمہ:
اور جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ اپنے مہمان کی عزت کرے۔ (صحیح مسلم، حدیث: 48)
یہ مبارک فرمانِ مصطفوی ﷺ اسلامی معاشرت، حسنِ اخلاق اور باہمی تعلقات کی روح کو بیان کرتا ہے۔
1. ایمان سے تعلق:
نبی کریم ﷺ نے مہمان نوازی اور اس کی عزت کو براہِ راست اللہ تعالیٰ پر ایمان اور روزِ قیامت کے یقین سے جوڑا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک مومن کی نشانی یہ ہے کہ وہ مہمان کی آمد کو بوجھ سمجھنے کے بجائے اپنے لیے خیر و برکت اور سعادت کا ذریعہ سمجھتا ہے۔
2. اکرامِ ضیف (مہمان کی عزت) کی حقیقت:
مہمان کی عزت کرنے کا مطلب صرف عمدہ کھانا کھلانا ہی نہیں، بلکہ:
* کشادہ دلی اور کھلے چہرے سے اس کا استقبال کرنا۔
* اس کے ساتھ بیٹھ کر اچھے انداز میں گفتگو کرنا۔
* اس کے آرام و راحت کا خیال رکھنا اور اسے اپنے گھر میں عزت و احترام کا احساس دلانا۔
3. مہمان نوازی کے معاشی اور روحانی فوائد:
اسلامی تعلیمات کے مطابق مہمان اپنا رزق ساتھ لاتا ہے اور جب وہ رخصت ہوتا ہے تو گھر والوں کے لیے مغفرت اور برکت کا سبب بنتا ہے۔ مہمان نوازی سے دلوں کی دوری ختم ہوتی ہے اور باہمی محبت و اخوت کو فروغ ملتا ہے۔
4. عملی زندگی کے لیے پیغام:
آج کے جدید دور میں جہاں لوگ اپنی زندگیوں میں حد سے زیادہ مصروف ہو چکے ہیں، یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ رشتوں، تعلقات اور مہمانوں کی قدر کریں۔ جب بھی کوئی آپ کے گھر آئے تو اسے اللہ کی رحمت جان کر خوش دلی سے قبول کریں۔
> "نیکی اور سنت کو پھیلانا بھی ایک عظیم صدقہ ہے! اس خوبصورت پیغام کو لائیک اور شیئر کر کے ثوابِ جاریہ کا حصہ بنیں— کیا خبر آپ کا ایک شیئر کسی کے دل میں حسنِ اخلاق کی شمع روشن کر دے! ❤️"