Teaching comutnity

Teaching comutnity

Share

محمد اعظم اعوان ٹیچر

17/06/2026

کچھ لوگ آپ کو سمجھیں گے،
کچھ نہیں سمجھیں گے۔
کچھ آپ کی نیت جانیں گے،
کچھ غلط مطلب نکالیں گے۔

ہر ایک کو جواب دیتے دیتے
انسان اپنا سکون کھو دیتا ہے۔

ہر سوال کا جواب دینا ضروری نہیں ، اور ہر بات پر ردِعمل دینا بھی نہیں ٹھیک۔ اسلئے سیانے بنو۔۔

17/06/2026

میں اس میں ایڈ کرنا چاہونگا۔۔
بے وقوف سے بحث نہ کریں۔۔ کیونکہ دو منٹ بعد پتہ نہیں چلے گا۔۔ کہ بے وقوف وہ ہے یا آپ۔۔
ہاں جینئیس بندوں کے ساتھ باتیں ڈسکس کیا کریں، تمھارا اپنا دماغ کھلتا جائیگا۔۔

17/06/2026

🌙 محرم الحرام 🌙
محرم ہمیں صبر، قربانی اور حق پر قائم رہنے کا درس دیتا ہے۔ ❤️
✨ امام حسینؓ نے ہمیں سکھایا کہ سچائی اور انصاف کے لیے ہر قربانی دی جا سکتی ہے، مگر حق کا راستہ نہیں چھوڑا جاتا۔ ✨
🤲 یا اللہ! ہمیں حق بات کہنے، صبر کرنے اور نیک راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرما۔ آمین۔
📿 محرم الحرام کا احترام کریں اور اپنی دعاؤں میں تمام امتِ مسلمہ کو یاد رکھیں۔ ❤️
ری ایکٹ کریں:

13/06/2026

یا اللّٰہ پاک رحم فرمائیے

13/06/2026
Photos from Teaching comutnity's post 13/06/2026

With Funkariyan – I just got recognized as one of their top fans! 🎉

13/06/2026

میرا مون

13/06/2026

*اب پہلے جیسے استاد ہی نہیں رہے*
وجہ میں بتاتا ہوں
کیونکہ معاشرے نے اسے استاد رہنے ہی نہیں دیا۔
وہ خود نہیں بدلا،
اسے مجبور، کمزور اور بے اختیار بنا دیا گیا ہے۔
موبائل نے شاگرد کو گستاخ بنا دیا
پہلے شاگرد استاد سے سیکھتا تھا
آج گوگل سے بحث کرتا ہے
نہ ادب، نہ جھجک، نہ لحاظ
ہر دوسرا بچہ سمجھتا ہے کہ وہ استاد سے زیادہ عقل رکھتا ہے
یہ علم نہیں — بدتمیزی کا ڈیجیٹل لائسنس ہے
والدین نے استاد کا ہاتھ باندھ دیا
پہلے کہتے تھے:
“بچہ غلط ہو تو ٹھیک کریں”
اب کہتے ہیں:
“میرے بچے کو کچھ کہا تو اسکول دیکھ لوں گا”
یعنی
بچہ بدتمیز ہو سکتا ہے
مگر استاد سختی نہیں کر سکتا
یہ تربیت نہیں — بگاڑ کی سرپرستی ہے
قانون نے مجرم اور استاد کو ایک صف میں کھڑا کر دیا
استاد ڈانٹے ---> شکایت
سختی کرے --> ویڈیو بنا لو
نمبر کم دے --> ہراسانی کا الزام
نتیجہ؟
استاد پڑھانے سے زیادہ خود کو بچانے کی ڈیوٹی کر رہا ہے
معاشی ذلت نے پیشہ کمزور کر دیا
کم تنخواہ
زیادہ کام
کوئی سہولت نہیں
اوپر سے عزت بھی نہیں
آپ ایک انسان سے جذبہ چاہتے ہیں
مگر اسے دیتے کچھ بھی نہیں
یہ تعلیم نہیں — سستے مزدوروں کا نظام ہے
تدریس اب مشن نہیں، مجبوری ہے
پہلے لوگ استاد بنتے تھے شوق سے
اب بنتے ہیں نوکری نہ ملنے پر
جب نیت روزگار کی ہو اور عزت بھی نہ ملے
تو نتیجہ صرف حاضری پوری کرنا ہوتا ہے
کردار سازی نہیں
شاگرد نہیں، گاہک پیدا ہو رہے ہیں
فیس دو
نمبر لو
ڈگری لو
اخلاق، کردار، تربیت؟
کسی کو پرواہ نہیں
اسکول ادارے نہیں رہے
مارکیٹ بن چکے ہیں
سسٹم کو رزلٹ چاہیے، انسان نہیں
فائلیں پوری
رزلٹ اچھا
رینکنگ اونچی
بس
بچہ انسان بن رہا ہے یا نہیں؟
کسی کی ترجیح نہیں
استاد کو مشین بنا دیا گیا ہے
اصل سچ
آج استاد کمزور نہیں ہوا
اسے کمزور کر دیا گیا ہے
شاگرد بے ادب
والدین جانبدار
نظام ظالمانہ
معاشرہ بے حس
اور پھر ہم کہتے ہیں:
“آج کل استاد ویسے نہیں رہے”
کیسے رہیں؟
جب عزت چھین لو
اختیار چھین لو
تحفظ چھین لو
تو باقی کیا بچتا ہے؟
اگر یہی چلتا رہا
تو مستقبل میں استاد نہیں ہوں گے
صرف سبق سننے والے ملازم ہوں گے
اور پھر ہم روتے رہیں گے کہ
نسلیں کیوں بگڑ گئیں۔
کیونکہ یاد رکھیں:
جہاں استاد بے عزت ہو جائے
وہاں معاشرہ زیادہ دیر مہذب نہیں رہتا۔....!!

13/06/2026

بجٹ 26, 27

Want your school to be the top-listed School/college in Chakwal?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address

Village And Post Office Dhoda Tehsil And Distt Chakwal
Chakwal