Facilitation Center, University of Chakwal

Facilitation Center, University of Chakwal

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Facilitation Center, University of Chakwal, Education, University of Chakwal, Talagang Road Chakwal, Chakwal.

21/05/2026

Dear Students, Faculty Members & Staff, The University of Chakwal will remain closed from Monday, 25th May 2026 to Thursday, 28th May 2026 on account of Eid-ul-Azha celebrations.

Note: Security Staff are required to perform duties as per the roster issued by the Deputy Registrar (General).

Wishing you all a blessed and joyful Eid-ul-Azha filled with peace, happiness and blessings of Allah Almighty.

20/05/2026

𝗔𝘁𝘁𝗲𝗻𝘁𝗶𝗼𝗻 𝗔𝗽𝗽𝗹𝗶𝗰𝗮𝗻𝘁𝘀!

All approved applicants will receive their Coursera invitation in the first week of June 2026 (tentative) - Confirmed date will be announced soon.

Stay tuned for further updates.

18/05/2026

*FINALLY, THE WAIT IS OVER!!! 🔥*

The most awaited *2nd ANNUAL UOC-DEBATIUM* is happening TOMORROW — and the stage is ALL YOURS! 🎤✨

⭐ *Time*: 9:00 AM sharp
⭐ *Venue*: Sethi Hall
⭐ *Date*: May 19th, Tuesday

This is YOUR moment to speak up, shine bright, and OWN the stage!
Bring the energy, bring the arguments, bring your A-game. Let’s make this unforgettable! 💥

Gear up, debaters — it’s showtime!

For updates, keep checking insta handle
https://www.instagram.com/reel/DYe7N-HtPSh/?igsh=MWIybHF0M3k1ZjA2OQ==

Photos from The University of Chakwal's post 15/05/2026

یونیورسٹی آف چکوال کے شعبۂ بین الاقوامی تعلقات (International Relations Department) کے زیرِ اہتمام یونیورسٹی کے سیتھی ہال میں
“Strategic Dynamics and Security Risks in the Era of Persistent Conflict”
کے عنوان سے دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جو علمی معیار، تحقیقی ماحول، نوجوان نسل کی فکری تربیت اور عالمی امور پر سنجیدہ مکالمے کے اعتبار سے ایک نہایت کامیاب، منفرد اور یادگار علمی سرگرمی ثابت ہوئی۔
کانفرنس میں طلبہ، اساتذہ، محققین، مہمان مقررین، علمی شخصیات، صحافیوں اور شعبۂ بین الاقوامی تعلقات کے سابق طلبہ نے بھرپور شرکت کی۔ پورے پروگرام کے دوران ایک سنجیدہ علمی ماحول، تحقیقی معیار اور بین الاقوامی موضوعات پر فکری گہرائی نمایاں رہی، جس نے اس کانفرنس کو یونیورسٹی سطح کی ایک منفرد اور مؤثر علمی سرگرمی بنا دیا۔
پہلے روز کانفرنس میں معروف اسکالر، تجزیہ کار اور نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز اسلام آباد کے ممتاز استاد و اسکالر ڈاکٹر طاہر ملک بطور مہمانِ خصوصی شریک ہوئے جبکہ یونیورسٹی آف چکوال کے وائس چانسلر ڈاکٹر فرخ ارسلان صدیقی نے بطور چیف گیسٹ آف آنر شرکت کی۔ تقریب کے آغاز سے قبل وائس چانسلر نے طلبہ کی جانب سے تیار کردہ اسٹریٹجک اسٹڈیز نمائش کا باقاعدہ افتتاح کیا اور ربن کٹنگ کی۔ بعد ازاں انہوں نے مختلف اسٹالز کا دورہ کرتے ہوئے طلبہ کی تخلیقی، تحقیقی اور علمی کاوشوں کو بے حد سراہا۔ اس موقع پر شعبۂ بین الاقوامی تعلقات کے طلبہ و طالبات نے وائس چانسلر کو پھولوں کا گلدستہ پیش کیا اور پرتپاک استقبال کیا۔
نمائش میں طلبہ نے مختلف ممالک کی نمائندگی کرتے ہوئے عالمی سیاست، دفاعی حکمتِ عملی، علاقائی تنازعات، سفارتی تعلقات اور عالمی طاقتوں کے کردار کو تحقیقی اور تخلیقی انداز میں پیش کیا۔ طلبہ کی جانب سے تیار کردہ معلوماتی اسٹالز اور تحقیقی مواد شرکاء کی خصوصی توجہ کا مرکز بنے رہے۔
پہلے روز مختلف طلبہ و طالبات نے عالمی سیاست، سکیورٹی، جغرافیائی تنازعات اور بین الاقوامی تعلقات کے اہم موضوعات پر مدلل اور پروفیشنل انداز میں اظہارِ خیال کیا۔ زبیر فاروق نے امریکہ اور اسرائیل کے اتحاد اور اس کے عالمی بحرانوں پر اثرات کا تجزیہ پیش کیا، سعیدہ عثمانی نے عالمی تجارتی راستوں کی عسکری اہمیت کو اجاگر کیا جبکہ سائرہ ساجد نے جدید دور میں سکیورٹی کے بدلتے ہوئے تصورات پر گفتگو کی۔
شعبہ اکنامکس کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر منیبہ ثناء نے
“امریکہ ایران کشیدگی کے معاشی و عالمی اثرات”
کے موضوع پر فیکٹس اینڈ فگرز کے ساتھ جامع اور تحقیقی پریزنٹیشن پیش کی، جسے شرکاء نے بے حد سراہا۔ انہوں نے اپنی گفتگو میں خطے میں جاری کشیدگی کے پاکستان کی معیشت پر مرتب ہونے والے اثرات، مہنگائی، تجارتی عدم استحکام، تیل کی قیمتوں میں اضافے، معاشی بحران اور عالمی معیشت پر پڑنے والے ممکنہ اثرات کا تفصیلی تجزیہ پیش کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جنگیں صرف عسکری محاذ تک محدود نہیں رہتیں بلکہ ان کے گہرے اثرات عام عوام، معیشت اور ریاستی استحکام پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔
گیسٹ سپیکر ڈاکٹر طاہر ملک نے اپنے خطاب میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، ایران امریکہ تعلقات، اسرائیل کی پالیسیوں، غزہ کے حالات، عرب دنیا کے کردار اور عالمی طاقتوں کے بدلتے ہوئے توازن پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے روس کے دوبارہ ابھرتے ہوئے کردار کو عالمی سیاست میں ایک اہم تبدیلی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا دوبارہ بائی پولر ورلڈ کی جانب بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔
پہلے روز سوال و جواب کا خصوصی سیشن بھی منعقد ہوا جس میں طلبہ و طالبات نے نہایت سنجیدہ اور معیاری سوالات کیے، جس سے کانفرنس مزید مؤثر اور علمی بن گئی۔
کانفرنس کے دوسرے روز علمی، تحقیقی اور فکری سرگرمیوں کا نہایت شاندار اور متاثر کن انعقاد کیا گیا۔ دوسرے روز معروف ماہرِ تعلیم، فیڈرل بورڈ کے بورڈ آف گورنرز کے ممبر اور خورشید انٹرنیشنل اسکول اینڈ کالج کے بانی پروفیسر مہر خان مغل نے بطور مہمان مقرر شرکت کی جبکہ منہاج یونیورسٹی لاہور کے اسکول آف انٹرنیشنل ریلیشنز کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر سید وقاص حیدر بخاری نے بطور مہمان مقرر خصوصی شرکت کی۔
کانفرنس سے قبل شعبۂ بین الاقوامی تعلقات کے سربراہ اسسٹنٹ پروفیسر شکیل الرحمٰن نے مہمان مقررین کے ہمراہ “Strategic Standards” نمائش کا دورہ کیا۔ اس نمائش میں چین، روس، امریکا، بھارت، جاپان، شمالی کوریا اور پاکستان سمیت مختلف ممالک کی خارجہ پالیسی، دفاعی حکمتِ عملی، معاشی صورتحال، عالمی سیاست میں کردار اور علاقائی اثر و رسوخ کو تحقیقی انداز میں پیش کیا گیا۔
آٹھویں سمسٹر مارننگ اور ایوننگ کے طلبہ کی جانب سے تحریر کردہ تحقیقی و تجزیاتی مضامین بھی نمائش کا حصہ تھے، جنہیں اخبارات میں شائع کیا گیا تھا۔ ان مضامین میں عالمی سیاسی حالات، بین الاقوامی تنازعات اور عصرِ حاضر کے اہم موضوعات پر طلبہ کی علمی بصیرت اور تحقیقی صلاحیتوں کو مؤثر انداز میں اجاگر کیا گیا۔
نمائش میں اسرائیل کی اسٹریٹجک صلاحیتوں اور ایک حریف قوت کے طور پر اس کے کردار کا تجزیاتی جائزہ بھی پیش کیا گیا، کیونکہ علمی حلقوں میں یہ تصور موجود ہے کہ کسی بھی حریف کو سمجھنا کامیاب حکمتِ عملی کی بنیادی شرط ہوتی ہے۔ مہمانوں نے طلبہ کی تحقیقی استعداد، پریزنٹیشن اسکلز اور تخلیقی صلاحیتوں کو بے حد سراہتے ہوئے اسے عالمی معیار کی علمی کاوش قرار دیا۔
دوسرے روز کانفرنس کی افتتاحی نشست کا آغاز شعبۂ بین الاقوامی تعلقات کے سربراہ اسسٹنٹ پروفیسر شکیل الرحمٰن کے خطاب سے ہوا۔ انہوں نے اساتذہ اور طلبہ کو کامیاب کانفرنس کے انعقاد پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی علمی سرگرمیاں نوجوان نسل کو عالمی مسائل، سفارتی پیچیدگیوں اور عملی زندگی کے چیلنجز کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں۔ انہوں نے اسرائیلی جارحیت اور مشرقِ وسطیٰ میں ہونے والے مظالم کی شدید مذمت کرتے ہوئے عالمی ضمیر کو بیدار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
کانفرنس کے دوران ارم فاطمہ نے
“Iran vs America: How to Counter a Powerful Enemy?”
کے موضوع پر جامع پریزنٹیشن پیش کی، جس میں انہوں نے جدید جنگی حکمتِ عملیوں، غیر متوازن جنگ (Asymmetric Warfare)، عالمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی اور دفاعی حکمتِ عملیوں کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
شعبۂ بین الاقوامی تعلقات کے سابق طالب علم شاہ زیب قمر نے
“پاکستان، ایران اور امریکہ کے مسلسل تنازعے کا متحمل کیوں نہیں ہو سکتا؟”
کے عنوان پر خطاب کرتے ہوئے خطے کی سیاسی صورتحال، سفارتی چیلنجز، معاشی اثرات، علاقائی سلامتی کے خدشات اور عالمی طاقتوں کی مداخلت کا تفصیلی تجزیہ پیش کیا۔
پروفیسر مہر خان مغل نے اپنے خطاب میں شعبۂ بین الاقوامی تعلقات کی غیر معمولی علمی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی آف چکوال کے شعبے نے ایک حساس اور عصری موضوع کا انتخاب کر کے اپنی علمی بصیرت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا ثبوت دیا ہے۔ انہوں نے ایرانی مزاحمت کو عزم، حکمتِ عملی اور استقامت کی مؤثر مثال قرار دیا۔
ڈاکٹر سید وقاص حیدر بخاری نے اپنے خطاب کے آغاز میں یونیورسٹی آف چکوال کے شعبۂ بین الاقوامی تعلقات، اساتذہ اور طلبہ کی علمی و تحقیقی سرگرمیوں کو بے حد سراہا۔ انہوں نے کانفرنس کی معیاری اسٹریٹیجک سرگرمیوں، تحقیقی ماحول اور شاندار بصری پریزنٹیشنز کو نمل یونیورسٹی، قائداعظم یونیورسٹی اور نسٹ جیسے بڑے تعلیمی اداروں کی سرگرمیوں کے ہم پلہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے طلبہ نے جس اعتماد، تحقیق اور پیشہ ورانہ انداز کا مظاہرہ کیا ہے، وہ قابلِ تحسین ہے۔
بعد ازاں انہوں نے
“Spirit of Former Crisis: International Law vs Military Power”
کے عنوان سے خصوصی پریزنٹیشن پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ اصولی موقف، ثابت قدمی اور علمی شعور ہی قوموں کو تاریخ میں باوقار مقام دلاتے ہیں۔ انہوں نے کانفرنس کے اعلیٰ انتظامات، طلبہ کی تیاری اور تحقیقی معیار کو بے حد سراہا۔
کانفرنس کے دوسرے روز کی نمایاں سرگرمیوں میں آٹھویں سمسٹر ایوننگ کے طلبہ کی جانب سے تیار کردہ ڈاکومنٹری
“USA, Iran, Israel Current Conflict”
بھی شامل تھی، جس میں مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال، امریکہ، ایران اور اسرائیل کے تعلقات، عسکری حکمتِ عملیوں، سفارتی تنازعات اور خطے پر مرتب ہونے والے اثرات کو نہایت مدلل اور پیشہ ورانہ انداز میں پیش کیا گیا۔ حاضرین نے اس ڈاکومنٹری کو کانفرنس کا ایک نہایت متاثر کن اور معلوماتی حصہ قرار دیا۔
اس ڈاکومنٹری کی ڈائریکشن اور ایڈیٹنگ کے فرائض مائد ہنزلہ، رابیہ بتول، کرن شاہین راجا، چوہدری حماد، راجا عمر فاروق، طلحہ، قاسم زمان، عروج اور اریبہ نے نہایت مہارت، تخلیقی صلاحیت اور ذمہ داری کے ساتھ انجام دیے۔
وائس چانسلر ڈاکٹر فرخ ارسلان صدیقی نے اختتامی خطاب میں کہا کہ یونیورسٹی آف چکوال میں اس نوعیت کی جامع، منظم اور معیاری کانفرنس پہلی مرتبہ منعقد کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دیگر شعبہ جات کو بھی اسی طرز کی علمی سرگرمیاں منعقد کرنی چاہئیں تاکہ طلبہ کو عملی اور تحقیقی میدان میں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ ڈاکٹر صاحب کی یہ سوچ اس بات کی غماز ہے کہ وہ یونیورسٹی آف چکوال کو محض ایک انتظامی اداره نہیں بلکہ ایک حقیقی علمی و تحقیقی مرکز کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں۔

اس شاندار اور علمی کانفرنس کے تصور، آغاز اور بنیادی وژن کا سہرا شعبۂ بین الاقوامی تعلقات کی معزز استاد محترمہ میم صوبیہ تبسم کے سر جاتا ہے، جن کی فکری رہنمائی، علمی وژن اور مسلسل حوصلہ افزائی نے اس کانفرنس کو عملی شکل دینے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ انہوں نے نہ صرف طلبہ کی علمی رہنمائی کی بلکہ کانفرنس کے ہر مرحلے میں بھرپور دلچسپی، اعتماد اور تعاون فراہم کیا، جس نے اس پروگرام کو ایک کامیاب اور یادگار علمی سرگرمی بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
کانفرنس کے انتظامی اُمور، تنظیم سازی اور مجموعی مینجمنٹ میں سر عاکف علی اور سر فیض علی شاہ کی خدمات بھی نہایت قابلِ ستائش رہیں۔
اختتامی تقریب میں وائس چانسلر ڈاکٹر فرخ ارسلان صدیقی نے کانفرنس میں شریک طلبہ، اساتذہ، منتظمین اور مختلف سرگرمیوں میں حصہ لینے والے شرکاء میں سرٹیفکیٹس تقسیم کیے۔ تقریب کے اختتام پر انہوں نے ڈاکٹر سید وقاص حیدر بخاری کو یادگاری شیلڈ اور اعزازی سرٹیفکیٹ پیش کیا۔ بعد ازاں شعبۂ بین الاقوامی تعلقات کے سربراہ اسسٹنٹ پروفیسر شکیل الرحمٰن نے شعبے کی جانب سے وائس چانسلر ڈاکٹر فرخ ارسلان صدیقی کو بھی یادگاری شیلڈ پیش کی۔
یونیورسٹی آف چکوال کی انتظامیہ نے شعبۂ بین الاقوامی تعلقات کے ساتھ مکمل اور بھرپور تعاون فراہم کیا، جس کے باعث یہ کانفرنس نہایت بہترین انداز میں منعقد ہو سکی۔
اس کانفرنس کے لیے مختلف اداروں کی جانب سے فراہم کی گئی اسپانسرشپ اس امر کی عکاس ہے کہ چکوال کی کاروباری و سماجی برادری علمی ترقی، فکری بیداری اور نوجوان نسل کی مثبت تربیت جیسے اقدامات کو بھرپور اہمیت دیتی ہے۔

آخر میں کہا جا سکتا ہے کہ فیکلٹی، طلبہ، اور انتظامیہ کی مشترکہ کاوشوں سے یہ دو روزہ کانفرنس نہایت شاندار، مؤثر، کامیاب اور علمی اعتبار سے یادگار ثابت ہوئی، جس نے نوجوان نسل میں عالمی شعور، تحقیقی سوچ اور فکری بیداری کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

13/05/2026

میڈیا کوریج

Photos from The University of Chakwal's post 12/05/2026
12/05/2026

🩸 E BLOOD THALASSEMIA CONFERENCE 2026 🩸

E BLOOD is proudly organizing a Blood Donation Camp in collaboration with SAM Life Savers and Blood Donor Society, University of Chakwal to support thalassemia patients and emergency blood needs. ❤️

📍 Thalassemia Conference
📅 Date: 14 May
⏰ Time: 9:00 AM – 11:00 AM
📌 Venue: University of Chakwal

🩸 Blood Donation Camp
📅 Date: 14 May
⏰ Time: 11:00 AM – 4:00 PM
📌 Venue: University of Chakwal

📲 Download the E BLOOD App now and become a lifesaver.

✨ One donation can save many lives.
💖 Be a Hero, Donate Blood!

11/05/2026

Get Ready for Mushaira 2026.
Shah Murad Literary Society is pleased to invite you to Grand Mushaira, at Sethi Hall, UOC. All students and faculty are cordially invited. Join us to celebrate the voices and beauty of Urdu poetry. We look forward to your presence.

11/05/2026

Intermediate Admissions Open at The University of Chakwal - Chakwal College of Arts and Sciences! 🎓

Programs Offered:
* F.Sc (Pre-Medical & Pre-Engineering)
* ICS
* F.A

Limited seats available! Don't miss this golden opportunity.

📍 University of Chakwal, Chakwal College of Arts and Sciences
📞 For Details & Admission: 0543-551167
🔗 Visit us directly for more information.

Want your school to be the top-listed School/college in Chakwal?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address

University Of Chakwal, Talagang Road Chakwal
Chakwal

Opening Hours

Monday 08:00 - 05:00
Tuesday 08:00 - 05:00
Wednesday 04:00 - 05:00
Thursday 04:00 - 05:00
Friday 08:00 - 05:00