Hafiz Online Quran Academy

Hafiz Online Quran Academy

Share

I am online Quran teacher .. If you want to teach your children Quran online with Tajweed.

12/08/2025

واضح کرتا ہوں کہ میں اپنی ذاتی معلومات اور تصاویر کے استعمال کے لیے فیس بک یا میٹا کو کوئی اجازت نہیں دیتا۔
کل ایک اہم دن ہے جس پر رات 9:20 بجے باضابطہ مہر لگائی گئی ہے ۔ فیس بک کے نئے قوانین کل سے نافذ ہوں گے جو آپ کی تصاویر کے استعمال کی اجازت دیتے ہیں۔
مدت آج ختم ہو رہی ہے۔ براہِ کرم اس پیغام کو کاپی کریں اور اپنے پروفائل پر ایک نیا پوسٹ بنا کر پیسٹ کریں۔ جو لوگ ایسا نہیں کریں گے، انہیں اجازت دینے والا سمجھا جائے گا۔
پرائیویسی کی خلاف ورزی پر قانونی نتائج ہو سکتے ہیں۔
میں اپنی ذاتی معلومات اور تصاویر کے استعمال کے لیے فیس بک یا میٹا کو کوئی اجازت نہیں دیتا

06/05/2023

Worried About your Kids for Quran Classes?

Hafiz Online Quran Academy Online Quran Academy Provides the finest and most reliable system for kids and adults interested in learning Quran Online.

✅We have highly Experienced Male and Female Tutors.
✅We are flexible with timings.
✅We have Urdu, And English Speaking Tutors.

For more information contact Us on WhatsApp:
+92 330-6786701

21/03/2023
05/03/2023

میری جنم بھومی
میرے چکوال کی یادیں
پاکستان میں انٹرنیٹ کے ابتدائی سال تھے جب چکوال کو کھوجتے کھوجتے مجھے او پی دتا کا یہ مضمون پڑھنے کا اتفاق ہؤا۔محسوس ہؤا یہ وہ آئینہ ہے جس میں ایک صدی پرانا چکوال بآسانی دیکھا جا سکتا ہے۔او پی دتا بھارت کے مشہور فلم ساز تھے اور وہ ۲۰۱۲ میں بمبئی میں انتقال کرگئے ۔انہوں نے بارڈر’ رفیوجی ‘ کارگل اور امراؤ جان ادا کے علاوہ درجنوں فلموں کے لئے سکرین پلے لکھے۔ان فلموں کی ہدایت کاری ان کے بیٹے جے پی دتا نے کی جو ابھی بقید حیات ہیں۔

“ان وقتوں میں چکوال شہرمندرہ بھون ریلوے ٹریک پر آخری منزل سے ایک اسٹیشن پہلے پڑتا تھا۔میں پچھلی صدی کے بیسویں اور تیسویں دہائیوں کی بات کر رہا ہوں جب یہ اسٹیشن شہر سے اگر چلتے قدموں نہیں تو بھاگتے قدموں کے فاصلے پہ ضرور موجود تھا۔جس لمحہ کوئی مندرہ سے آنے والی واحد ٹرین سے اترتا اس کے اردگرد قلیوں کے بجائے تانگہ بانوں کا جھمگٹا لگ جاتا جو اس کے سامان پہ جھپٹنے کے لئیے بے چین ہوتے۔انہیں نہ صرف چکوال شہر بلکہ بھلہ کریالہ اودھڑوال اور روپوال کی طرف جانے والے مسافروں کی تلاش بھی ہوتی تھی۔کلکتہ یا ہانگ کانگ میں چمڑے کا کاروبار کرنے والی چکوال کی خواجہ برادری کے خوش لباس خواتین و حضرات ان کی توجہ کا خصوصی مرکز ہؤا کرتے اور ظاہر ہے اس کی وجہ ان کا مالدار ہونا تھا۔

جب کوئی اسٹیشن سے پیدل یا تانگے پہ عازمِ شہر ہوتا تو ہوا میں تیار شدہ کھانے کی مدھر خوشبو اس کا استقبال کرتی۔راستے میں کافی تعداد میں ہوٹل بھی پائے جاتے جنہیں مقامی زبان میں“ڈھابے” کہا جاتا تھا۔ دنبے کے شوربے کی خوشبو تو سب کی توجہ کھینچ کھینچ لیتی تھی۔تھوڑے سے ہی فاصلے پر بس اسٹیشن تھا جسے اس زمانے میں لاری اڈہ کہا جاتا تھا اور وہ اڈے سے زیادہ گاڑیوں کی ورکشاپ لگتا تھا۔ایسا دکھائی دیتا تھا کہ وہاں مستقلاً اور ہر لمحہ گاڑیاں زیر مرمت رہا کرتی تھیں ۔اس سے آگے “ٹاؤن ہال” کی مختصر مگر اہم عمارت آپ کو خوش آمدید کہتی تھی اور بارش کے پانی کی نکاسی کے لئیے اس کی چھت پہ جانوروں کی شکل کے بنے ہوئے پرنالے بڑے مرعوب کُن سے دکھائی دیتے تھے ۔اس ٹاؤن ہال کی دیکھ بھال اور انتظام کی ذمہ داری حُکم سنگھ نامی ایک شخص کی تھی جس کا تعلق “دہلی لُوٹاں “ نام کے ایک معروف خاندان سے تھا۔لوگ یقین رکھتے تھے کہ اس خاندان کے آباؤاجداد نے ۱۸۵۷ کی شورش میں انگریزوں کا ساتھ دیا تھا اور اس عمل کے دوران دوسرے فاتح سپاہیوں کی طرح دہلی کے گھروں اور دوکانوں کو خوب لُوٹا تھا۔
ٹاؤن ہال میں لائیبریری قسم کی کوئی چیز بھی تھی ۔حُکم سنگھ مقامی لوگوں کو پڑھنے کے لئیے کتابیں مستعار دیتا اور اس ضمن میں اس نے اندراج کے لئیے ایک رجسٹر بھی رکھا ہؤا تھا۔بلاشبہ دفتری زبان ہونے کی وجہ سے اردو کی کتابیں ذیادہ مقبول تھیں جن میں رتن ناتھ سرشار کی فسانئہ آزاد’ منشی پریم چند کی پریم پچیسی اور جسونت سنگھ توہانوی کی سنگیت رامائن شامل تھیں۔

شہر کے شمالی کونے پہ سناتن دھرم مندر سے ملحقہ ایک مسجد بھی ہؤا کرتی تھی۔ دونوں عبادت گاہوں کے درمیان اینٹوں کی ایک پتلی سی دیوار تھی جو ان کے درمیان قدر مشترک کا کام کرتی تھی۔لوگ کہتے تھے کہ ویسے تو مسجدوالے حافظ صاحب اور مندر کا پجاری ہر وقت ایک دوسرے سے سینگ پھنسائے رکھتے تھے مگر خفیہ طور پر انہوں نے دیوار میں ایک اینٹ اسلئیے ڈھیلی بھی رکھ چھوڑی تھی تاکہ جب وہ کھانے پینے کی اشیا ایک دوسرے کو دیں تو اینٹ کو بآسانی سرکا کے پیٹ پوجا بھی کی جا سکے۔
جب کوئی بائیں طرف کی ڈھلوانی جگہ جسے مقامی لوگ “ پرات “ کہتے تھے عبور کرتا تو گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول کی عمارت کو اپنے سامنے پاتا۔پختہ اینٹوں سے بنی ہوئی اس عمارت کے ساتھ ہی ایک اور مستقل شخصیت “ چاچا گندُو” کے نام سے بڑی دیر سے موجود تھی جو وہاں پہ کالا لوبیہ فروخت کرتا تھا۔ظاہر ہے اُن دنوں کنٹینز یا پیسٹری کیک اور دیگر اشیا والی دکانیں نہیں ہؤا کرتی تھیں۔ گندُو کو آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرُو سے بہت پہلے ہی “چاچا عالمی” کا خطاب مل چُکا تھا۔ایک پیسے یا دھیلے کے عوض چاچا ابلے ہوئے لوبیے کا پورا پتہ گاہک کو مہییا کرتا جبکہ جوانوں کے لئے مزید پرلطف بنانے کے لئیے وہ لوبیہ میں نمک ‘کالی و سُرخ مرچ اور لیموں کے رس کا اضافہ کر کے اسے مزید چٹخارے دار بھی بنا دیتا تھا۔اس کے لیموں ہمیشہ سبز رنگ کے ہوتےاور ان کی ایک منفرد مہک ہؤا کرتی تھے۔اس ہلکی پھُلکی صحت بخش غذا کو گاہک کے ہاتھ دیتے ہوئے چاچا اس میں اپنی مسکراہٹ کا اضافہ کرنا کبھی نہ بھُولتا۔
پانچ دہائیوں تک مفت میں مسکراہٹیں بانٹنے والا یہ شخص بالآخر اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔اس نے اپنے پیچھے دس ہزار کی رقم اور یہ خواہش چھوڑی کہ اس کی زندگی کی یہ ساری بچت گرلز اسکول میں دو مزید کمروں کی تعمیر پہ خرچ کی جائے۔یہ کہا جاتا تھا کہ کسی زمانے میں چاچا کی ایک بیٹی ہؤا کرتی تھی جسے وہ تعلیم دلانا چاہتا تھا مگر چیچک میں مبتلا ہونے کی وجہ سے لڑکپن میں ہی اس کی موت واقع ہو گئی تھی۔
ہفتے کی صبح ہر شخص عموماً اور نوجوان خصوصاً بے چینی کے ساتھ ایک خاص آواز کے منتظر رہتے تھے۔جب اچانک دور سے وہ “چھنچھناور کے چھولے” کی مخصوص آواز بلند آہنگ اور صاف سنائی دیتی تو بچے فوراً اس سمت کو بھاگ پڑتے۔ہفتے کو مقامی زبان میں چھنچھناور کہا جاتا تھا۔ یہ منتظر آواز “را” نامی ایک نیم نابینا شخص کی ہوتی تھی -گزشتہ زمانے کے “چھولے” یا آج کے “کابلی چنا “کہلانے والی یہ رکابی وہ صرف ہفتے کی صبح کو بیچا کرتا تھا۔ باقی چھ دن وہ ریلوے پلیٹ فارم پہ لوہے کے مشکیزے اور پیتل کے لوٹے کےساتھ پیاسے مسافروں کو پانی پلاتے یا انہیں شیرینی کی پیش کش کرتے گزارتا تھا اور اگر کوئی جواب میں اسے پیسے دینے کی جرات کرتا تو پھر را سے خدا ہی اس کو بچا سکتا تھا۔ را کی دلیل یہ ہوتی تھی کہ بادل بھی تو پانیوں کو برساتے وقت کوئی رقم نہیں لیتے تو میں کیوں لُوں۔
اگر کبھی کسی کا را کے گھر جانا ہوتا تو چھنچھناور کے چھولوں کی مصالحہ آمیز خوشبو اس کا استقبال کرتی تھی۔اس سے بالکل اگلا گھر قیوم دین کا تھا جو کہ ایک نامی گرامی موچی یا جوتا ساز تھا۔اسے دلہن کے تِلے والے عروسی جوتے بنانے میں خاص مہارت حاصل تھی جس میں چمڑے کے اوپر سنہری کشیدہ کاری کا کام کیا جاتا تھا۔اگر کوئی اسے متوقع دلہن کے لئیے جوتوں کا جوڑا بنانے کو کہتا تو اس کا پہلا سوال یہ ہوتا تھا کہ “کتنے گلابوں کا”؟۔اگر جواب ملتا کہ ایک درجن تو پھر یہ بات یقینی تھی کہ جو جوتیاں وہ بنائے گا انُکا وزن ایک درجن پھل گلاب کے برابر ہو گا۔یہ پھول چوآسیدن شاہ میں موجود سچ مچ کے اس گلاب باغ سے لائے جاتے تھے جسے ایک پہاڑی ندی سیراب کرتی تھی اور اس ندی کو سیدن نامی ایک صوفی فقیر معجزے کے زریعے وجود میں لائے تھے۔
را کے گھر سے واپسی کے رستے پہ خواجہ وکیل کا متاثر کن مکان ہؤا کرتا تھا جو اچھی شہرت کے حامل ایک باقاعدہ متحرک وکیل تھے۔ان کی اپنے ہم پیشہ موتی شاہ کے ساتھ اچھوتی اور حیرت انگیز پیشہ ورانہ رقابت تھی ۔چالاک دیہاتی لوگ ان دونوں کو ایک دوسرے سے الجھانے کا کھیل اس وقت تک جاری رکھتے جب تک ان کے عدالتی کاموں کی تکمیل نہ ہو جاتی اور وہ ان دونوں کو ادائیگی بھی گھیا کدو اور توریوں سے بھرے ہوئے ٹوکرے جیسی ناقابل ذکر اجناس کی صورت میں کرتے تھے۔مجسٹریٹ کی عدالت میں ان دونوں مخالفین کے درمیان سب سے ذیادہ مشہور مقدمہ وہ تھا جس میں موتی شاہ کے بھائی جواہر شاہ پہ کسی جرم کا الزام تھا۔مدعی خواجہ صاحب کا مؤکل تھا اورخواجہ صاحب ملزم کو سزا دلوانے میں کامیاب بھی ہو گئے۔جواہر شاہ کو اس ضمن میں ایک ہزار روپیہ بطور جرمانہ جمع کرانا تھا مگر دونوں بھائی اتنی بڑی رقم اکٹھی نہ کر سکتے تھے۔مقامی لوگ بتاتے ہیں کہ ایک دن خواجہ صاحب آدھی رات کو موتی شاہ کے گھر گئے اور انہیں امداد کی پیش کش کی ۔وہ ایک سرخ رومال میں اپنی بیوی کے زیورات باندھ کے لائے تھے۔جب خواجہ صاحب نے زیورات پیش کرنے کے لئیےہاتھ آگے بڑھائے تو موتی شاہ نے انتہائی غصے سے زیورات کو پاؤں کی ٹھوکر سے پرے کرنے کی کوشش کی جس سے جواباًخواجہ صاحب بھی طیش میں آ گئے کیونکہ وہ یہ سوچنا بھی برداشت نہ کر سکتے تھے کہ کوئی ان کی بیوی کے زیورکو اس طرح ادھر ادھر ٹھوکریں مارتا پھرے۔باآوازِ بلند چیخ پُکار نے آس پاس کی ساری آبادی خصوصاً بڑی عمر کے لوگوں کو جاگنے پر مجبور کر دیا۔ بالآخر کہانی ان دونوں کے آنسوؤں کے ساتھ ایک دوسرے کو گلے لگانے پہ منتج ہوئی
چکوال کی ایک اور اہم اور امتیازی شخصیت “چوہدری” نام کا ایک کاشتکار تھا جو ٹاؤن ہال کے عین مقابل رہائش پزیر تھا۔وہ ہمیشہ بے داغ شلوار قمیض اور جیکٹ میں ملبوس ہوتا اور پگڑی پہ کُلہ اس کی شخصیت کی خاص نشانی تھی۔اس کے سر پہ پگڑی اس زاویے پہ کسی ہوتی جس سے اس کی ذات میں افتخار و امتیاز کے پہلو نمایاں دکھائی دینے لگتے تھے۔اس کے سر پہ اکڑا ہؤا سیدھا طُرّا کششِ ثقل کے نظریے کو تقریباً مات دیتا نظر آتا تھا۔وہ شہر کی انتظامیہ خاص طور پہ سب جج اور ایس ڈی او کے پسندیدہ آدمی یتھے۔وہ سب اس کے اور اس کی گھوڑی “زمُورت” دونوں کے مشکور تھے کیونکہ دورے پہ آنے والے کمشنر یا انگلینڈ سے آنے والے کمشنر کے مہمانان کے لئیے زمورت گھوڑی شہر کی واحد تفریح کا کام دیتی تھی۔چوہدری نیزہ بازی کا ماہر تھا نیز زمورت جس کے پاؤں میں رقص والی گھنٹیاں بندھی تھیں اپنے پچھلے پیروں پہ ڈھول کی تال پہ ناچا بھی کرتی جسےا میر خان بجا رہا ہوتا۔
امیر ڈھولی بھی ایک وکھری ٹائپ کا کردار تھا۔اس کے چہرے کا رنگ سفید سے بھی کچھ ذیادہ سفید تھا جسے اس کی بھورے بالوں ‘مونچھوں اور بادامی رنگ کی پرشوق آنکھوں نے اور دلکش بنا دیا تھا۔وہ مقامی لوگوں اور مہمانوں دونوں میں یکساں مقبول تھا۔ جب اس کی گردن میں ڈالا ہؤا بڑا ڈھول جسے دو لکڑی کے بنی ہوئی دو چوبوں سے مختلف تالوں پہ بجایا جا رہا ہوتا اور ایک سیدھی سی چوب بائیں طرف اور نسبتاً موٹی اور آخر میں ایک مخصوص زاویے پہ مڑی ہوئی چوب دوسری طرف سے روبہ عمل ہوتی تو امیر خان اس لمحے ہمیشہ متوازن اور بانکا سا نظر آتا۔
جب چکوال کے شہری اس کے ڈھول کی آواز فاصلے سے بھی سنتے تو تب بھی وہ اس کے ڈھول کی تالوں کے پیچھے پوشیدہ بنیادی پیغام کو بخوبی جان اور پہچان لیتے کیونکہ ہر موقع کےلئے تان مختلف ہؤا کرتی تھی۔امیر خان کے پاس کبڈی کے اعلان اور کشتی کے مقابلے کے لئے ڈھول کی الگ تانیں ہوتیں جبکہ موسم بہار کے آغاز یا راجہ خضر کے خاندان میں لڑکے کی ولادت پہ الگ تھاپیں ہوتیں۔اتفاق یہ کہ راجہ خضر نے یہ دعویٰ بھی کر رکھا تھا کہ اس کے آباؤاجداد مغل راج کے” پنج ہزاری” تھے اور اسی لئیے وہ اپنے لقب راجہ سے بھی چمٹا رہتا تھا۔

امیر کا ہم نام ایک اور شخص جو پیشے کے لحاظ سے درزی تھا کچھ فاصلے پہ رہتا تھا۔یہ شریف آدمی اپنی سلائی کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنی بیوی ستارہ کی وجہ سے جانا جاتا تھا جو کہ شہرہ آفاق درزن اور توانائی سے بھرپور اور کامیاب ہو کر رہنے والی پرعزم عورت تھی۔یہ اس کے ساتھ ناانصافی ہوگی اگر میں یہاں اس کی دیدہ زیب اداؤں کا ذکر نہ کروں جن کی وجہ سے انتظامیہ کا اعلیٰ ترین افسر بھی اس کو سننے پر مجبور ہو جاتا تھا۔ اس کے گھر کے پچھواڑے ایک کھلی جگہ تھی جو اس ڈرامہ کمپنی کو کرائے پہ دی جاتی تھی جو ٹکٹ لگا کے مقامی لوگوں کے لئیے شوز کا اہتمام کرتی تھی۔ایک مرتبہ جب یہ جگہ ایک چھوٹی سی سرکس کمپنی کو کرائے پہ دی گئی تو ستارہ بیگم بپھر گئی۔علاوہ اس کے کہ سرکس سے جانوروں کی بدبُو آتی تھی’ سرکس کی انتظامیہ اپنے ایک پالتو شیر کے بارے بھی خوب ڈینگیں مارتی تھی۔ سرکس کے اولیں شو میں ہی مزکورہ شیر نے بار بار دھاڑنے کا کام کچھ اس طرح جاری رکھا کہ اگلی صبح اسی خوف کی وجہ سے ستارہ کی گائے دودھ دینے سے انکاری ہو گئی۔ستارہ جب اپنے اس مسئلے میں تعاون کے لئیے گھر گھر گئی تو جیسے قیامت برپا ہو گئی۔وہ تقریباً پچاس عورتوں کا وفد لے کے مقامی تھانیدار کے پاس گئی اور اس بات کو یقینی بنایا کہ اگلے دن تک سرکس کا بوریا بسترا گول کر د یا جائے۔بہر حال گائے کا دودھ سرکس کے پیدا کردہ جوش و ہیجان سے کئی گنا ذیادہ قیمتی ثابت ہؤا۔ اس طرح ستارہ ایک بار پھر سب سے روشن ستارہ بن کر چمکنے میں کامیاب ہوئی۔
اور ہاں وہ تھانیدار ۔۔ اس سخت گیر آدمی کا نام محمد خان تھا۔ جب اس کو اپنی حاکمیت دکھانا مقصود ہوتی تو وہ انتہائی سنجیدہ مزاج اور کام سے کام رکھنے والا بن جاتا تھا ۔مرکزی حکومت کےوزیر راجہ غضنفر علی کے ساتھ اس کا جھگڑا تو اپنی جگہ پہ تقریباً ایک داستان کی حیثیت رکھتا تھا۔ایسے لگتا ہے کہ راجہ صاحب نے چکوال آنے اور مسلم لیگ کے ایک اجلاس سے خطاب کرنے کا فیصلہ کیا۔چکوال کے باسیوں کا ایک وفد محمد خان سے ملا اور اسے قائل کیا کہ ایسا کوئی اجلاس شہرمیں فرقہ وارانہ گروہی کچھاؤ پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ کہانی ایسے بیان کی جاتی ہے کہ محمد خان نے ریلوے اسٹیشن جا کر راجہ صاحب کا استقبال کیا اور اسٹیش کے خلوتی کمرے میں ان کی خاطر تواضح کرنے کے بعد مطلع کیا کہ ان کا مجوزہ اجلاس منسوخ کر دیا گیا ہے۔ راجہ صاحب نے محمد خان کو سختی سے واضح کیا کہ وہ ایک مرکزی وزیر سے محو گفتگو ہے۔تھانیدار نے جواب دیا “جناب عالی مجھے اس کا شعور ہے مگر آپ کو یہ احساس بھی کرنا چاہئیے کہ میں اس جگہ پہ موجود ہوں اور یہاں امن و امان کا ذمہ دار بھی ہوں۔اسلئیے آپ کا یہ اجلاس منعقد نہیں ہو پائے گا”۔راجہ صاحب جلسے سے خطاب کئیے بغیرغصے میں بپھرے ہوئے واپس لوٹ گئے جبکہ دوسری طرف حیرت در حیرت یہ ہوئی کہ تھانیدار محمد خان کے لئے محکمہ داخلہ نے اس واقعہ کی بنا پر ترقی کی سفارش بھی کر دی۔
کہا یہ جاتا ہے کہ سماجی قانون بنائے نہیں جاتے بلکہ وہ خود بخود بتدریج مرتب ہوتے چلے جاتے ہیں۔۱۹۳۰ کے چکوالی معاشرے نے یہ حقیقت ثابت کر کے دکھا دی تھی۔اس کا آغاز ایک اسکول استاد رام سرن داس کی بالغ بیٹی کی خودکشی کی کوشش سے ہؤا۔ متوقع خاوند کی طرف سے جہیز کا مطالبے پورا نہ کر سکنے پہ لڑکی نے اپنے والد کی حالت دیکھی تو مایوسی اسے دھکیل کر وہاں تک لے گئی جہاں اس نے اپنے باپ کو مزید پریشانی سے بچانے کے لئے اپنی زندگی کے خاتمے کا فیصلہ کر لیا۔رامن داس اپنی تھوڑی سی تنخواہ سے اپنے خاندان کو دو وقت کی روٹی ہی مہیا کر سکتا تھا ایسے عالم میں جہیز کہاں سے لاتا۔
چنانچہ شہر کی پنجائیت اکٹھی ہوئی اور ہربنس سنگھ سیستانی ‘ ماسٹر گیان چند ‘ تر لوکی ناتھ ایڈووکیٹ ‘ برہان الدین خواجہ’ امین قریشی ( وہ شہر میں بڑے گوشت کی واحددکان چلاتے تھے)’ قاضی عمر’ اور ماسٹر بدھ رام جیسے دانا لوگوں کی رہنمائی میں چکوال کے شہریوں نے اتفاق رائے سے ایک قراداد منظور کرتےہوئے دلہن کی طرف سے دئیے جانے والے جہیز پہ پانچ سو روپے مالیت کی حد لگا دی چاہے دلہن کے والد کی مالی حالت کیسی ہی کیوں نہ ہو( تاکہ اس اقدام سے فریقین کے تقابل اور تفاوت کو خفیہ رکھا جا سکے)۔یہ بھی طے کیا گیا کہ جو بھی اس قانون کی خلاف ورزی کرے گا اسے برادری سے باہر نکال دیا جائے گا۔ جو معاشرہ بظاہر روایتی عقائد میں گُندھا ہؤا قدامت پسند دکھائی دیتا تھا’ وہ اندر سے درحقیقت ترقی پسند ثابت ہؤاتھا۔
کیا ہم اس ساری روداد میں “ ہری” سے ملے ہیں ؟ وہ اپنی ذات میں ایک نامور شخصیت تھا۔ ایک مکمل طبلہ نواز کی حیثیت سے وہ بھائی سمند سنگھ راگی’ اور پروفیسر رام آنند جیسے باصلاحیت موسیقاروں کے ساتھ طبلہ بجایا کرتا تھا۔پروفیسر صاحب ایک ممتاز گلوکار اور وائلن نواز تھے جنہیں بابو ہری چند برما والے کی سرپرستی حاصل تھی جو کہ فنون لطیفہ کے بہت امیر کبیر پشتیبان تھے( یہ علیحدہ بات ہے کہ بابو جی وائلن اورسارنگی میں تمیز نہ کر سکتے تھے) ۔پروفیسر رام آنند’ ہری سے اتنا متاثر ہوئے کہ انہوں نے اسے شہرت اور مالی فائدے کے امکان کی خاطر اپنے ساتھ سارے برصغیر کے دورے پہ لے جانے کی پیش کش کی۔لوگ بتاتے ہیں کہ ہری نے اس پیش کش سے انکار کر دیا۔آپ سوچ رہے ہوں گے کس وجہ سے؟
جن اوقات میں ہری طبلہ نہ بجا رہا ہوتا وہ ان لمحوں میں ایک مقامی اسکول میں بچوں کو قلفیاں بیچتا تھا۔جب ہری سے پوچھا گیا کہ اس نے پروفیسر رام آنند کی پیشکش کیوں ٹھکرائی تھی تو جواب میں ہیری نے جو کہا وہ صرف اتنا ہی تھا کہ “میری قلفی سے لطف اندوز ہونے کے بعد اگر تم بچوں کے چہروں پہ پھیلی خوشی کو دیکھ سکتے تو تمہیں اس سوال کی ضرورت نہ پڑتی”۔
ایک اور نامور اور مہا دانشور شخصیت منوہر تلیلی کی تھی جو اردو کے ممتاز شاعر اور چکوال کے حقیقی ذریعۂ فخر تھے۔تلیلی ان کا تخلص تھا اور پیشے کے لحاظ سے وہ بھی وکیل تھے۔ وقفے وقفے سے چکوال میں وہ باقاعدگی سے مشاعرے کا اہتمام کرتے اور اس میں وہ اپنے ہم عصروں نانک چند ناز’ تری لوک چند محرونی’ اختر رضوانی’ لبھو رام ملسیانی اور مائل دہلوی کو بھی مدعو کرتے تھے۔مائل دہلوی کا سرزمین چکوال کو درج زیل خراج عقیدت tتو ناقابل فراموش ہے۔

یہ شہرِ غریباں ہے یا دل والوں کی بستی
ہر لب پہ تبسم ہے تو ہر آنکھ میں مستی
باندھے چلے جاتا ہے محبت سے بنا جال
چکوال ہے چکوال ہےچکوال ہے چکوال”

تحریر: او پی دَتّا
مترجم: پروفیسر شاہد آزاد

Thanks to My Chakwal

28/02/2023

*▪️مصائب و مشکلات میں صبر و استقامت پر بے شمار اجر و ثواب کی بشارت*
مولانا نعمان نعیم

قرآن کریم میں اہل ِایمان پر آنے والے مصائب ،مشکلات اور آزمائشیں درحقیقت امتحان کا درجہ رکھتی ہیں۔ یعنی اس طرح اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آزماتا ہے کہ وہ ایسے حالات میں کیا طرزِ عمل اختیار کریں گے اور آخر کار ایسے بندگان خدا کو بے شمار اجر و ثواب کی نوید سنائی گئی۔ اس حوالے سے ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اور ضرور آزمائیں گے ہم تمہیں کسی قدر خوف اور بھوک سے اور (مبتلا کرکے) نقصان میں مال وجان کے اور آمدنیوں کے اور خوش خبری دو صبر کرنے والوں کو، وہ (صبر کرنے والے)کہ جب پہنچتی ہے، اْنہیں کوئی مصیبت ،تو کہتے ہیں، بے شک ،ہم اللہ ہی کے ہیں اور بے شک ،ہمیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے، (دراصل) یہی وہ لوگ ہیں کہ اْن پر ہیں عنایتیں اْن کے رب کی اور رحمتیں بھی اور یہی لوگ ہیں جو ہدایت یافتہ ہیں۔ (سورۃ البقرہ، ۱۵۵تا۱۵۷)

ان آیات میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسان کو متنبہ فرمایا ہے کہ اسے مختلف چیزوں کےذریعے ضرور بالضرور آزمایا جائے گااور جو ان آزمائشوں پر صبر کرتے ہوئے پورا اترے گا،اسے رحمت و مغفرت کی بشارت دی گئی ہے۔ احادیثِ مبارکہ کے مطابق تکلیفوں پر صبر ثواب میں اضافے کا باعث بننے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کا بھی ذریعہ ہے۔

جامع ترمذی میں رسول اکرم ﷺ کا یہ ارشاد مروی ہے کہ’’ ثواب میں اضافہ مصیبتوں کے ساتھ ہے اور فرمایا کہ اللہ جب کسی قوم سے محبت کرتاہے تو انہیں کسی نہ کسی مصیبت میں مبتلا کردیتا ہے اور جو راضی رہتا ہے، اس کے لیے اللہ کی رضا ہے اور جو ناراض ہوجاتا ہے، اس کے لیے اللہ کی ناراضی ہے‘‘۔

مصیبت پر صبر کرنے کے حوالے سے کنز العمال میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے مروی ہے کہ رسول اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ’’ تحقیق لوح محفوظ میں پہلی چیز جو کہ اللہ تعالیٰ نے لکھی ہے، وہ یہ ہے، بسم اللہ الرحمن الرحیم اور بے شک، میں ہی معبود ہوں، میرے سواکوئی حاجت روا نہیں ،میرا کوئی شریک نہیں، جس نے میرے فیصلے کو مان لیااور میری دی ہوئی مصیبت پر صبر کیا اور میرے حکم پر راضی رہا ،میں اسے اپنے یہاں صدیق لکھ دیتا ہوں اور اسے قیامت کے دن صدیقوں میں اٹھاؤں گا‘‘۔

رسولِ رحمت ﷺکی اُمت پر اللہ تعالیٰ کی خصوصی رحمتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ سابقہ اُمتوں کے شہیدوں کی طرح اُمتِ محمدیہ میں درجہِ شہادت پانے والوں کو صِرف اللہ کی راہ میں لڑتے ہوئے قتل ہونے والوں تک ہی محدود نہیں رکھا، بلکہ دوسروں کو بھی اِس درجےپر فائز فرمایا ہے۔

انسان کو اس کی اس زندگی میں مختلف پریشانیوں اور مسائل سے دوچار ہونا پڑتا ہے، وہ ان مصائب کو کیسے برداشت کرے اور کس طرح ان مسائل سے چھٹکارے اور نجات کی راہ اپنائے۔ ان مصائب کو برداشت کرنے اور ان کو آسان تربنانے کا سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ مومن کے لیے ہر وقت یہ تصور پیشِ نظر رہے کہ یہ دنیادار الامتحان ہے، یہ دائمی گھر نہیں ہے، یہ عمل کی جگہ ہے اور آخرت دارالجزاء ہے، وہاں بدلہ ملے گا، مزدور صبح سے شام تک، کسان بویائی سے کٹائی تک تمام تکالیف، سردی کی شدت، دھوپ کی حدت، اور عمل کی محنت اس لیے برداشت کرتا ہے کہ مزدور کو شام ڈھلنے پر اجرت کی امید اور کسان کو کٹائی کے وقت پھل کی توقع ہوتی ہے، مومن بھی دین پر عمل کی راہ میں مصائب کی بھٹیوں میں اپنے آپ کو اس لیے جلاتا ہے کہ اسے گناہوں کے میل کچیل سے پاک صاف ہوکر دخولِ جنت کی توقع ہوتی ہے، آخرت کے آرام وراحت اور وہاں کی نعمتوں کے مقابلے میں دنیا کے مصائب، بلکہ یہاں کی اعلیٰ سے اعلیٰ درجے کی نعمت بھی کوئی اہمیت نہیں رکھتی، اللہ کا دستور اس دنیا میں یہ ہے کہ جو بندہ جس قدر اللہ عزوجل کا مقرب ومحبوب ہوتا ہے، اسی قدر اسے اس دنیا کے احوال وپریشانیوں سے دوچار ہونا پڑتا ہے، حدیث میں مومن کے لیے دنیا کو ’’قید خانہ‘‘ قرار دیا گیا ہے، ظاہر ہے کہ قید خانے میں آدمی کو گھرکی طرح سہولیات وآرام نہیں مل سکتا۔

حضرت سعدؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺسے دریافت کیا گیا کہ مصائب وشدائد میں سب سے زیادہ کون ہوتے ہیں؟ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: سب سے زیادہ مصائب وشدائد میں انبیاءؑ ہوتے ہیں، پھر اس کے بعد درجہ بہ درجہ دوسرے افضل لوگ، آدمی کی اس کی دین داری کے لحاظ سے آزمائش ہوتی ہے، اگر وہ دین میں سخت ہوتا ہے تو اس کی آزمائش بھی سخت ورنہ ہلکی، آدمی پر مصائب کاسلسلہ اس وقت تک رہتا ہے کہ وہ روئے زمین پر بغیر گناہ چلتا ہے (یعنی مصائب کی وجہ سے اس کے سارے گناہ دھل جاتے ہیں)۔(مشکوٰۃ شریف ۱۳۶)

ایک حدیث میں حضور اکرم ﷺکا یہ بھی ارشاد ہے کہ بڑا بدلہ بڑی آزمائش کے ساتھ ہے، اللہ تعالیٰ جس قوم کو چاہتا ہے، اسے آزمائش میں مبتلا فرماتا ہے، جو شخص اس آزمائش پر اللہ سے راضی رہتا ہے، اللہ تعالیٰ بھی اس سے راضی رہتا ہے اور جو ناراض رہتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس سے ناراض ہوتا ہے۔ (ریاض الصالحین)جو شخص مصائب میں دنیا کی عدمِ پائیداری، اس کے مقابل آخرت کی زندگی کے دوام وبقا اور مصائب میں اللہ سے قرب ونزدیکی کے تصور کو ذہن میں رکھے گا، اس کی مشکلیں اس کے لیے کسی حد تک ضرور کم ہوجائیں گی۔

مصائب وآلام اور اس کے دردوکسک کو دور کرنے اور ان مصائب وپریشانیوں کے بادلوں سے لطفِ خداوندی اور عنایاتِ ایزدی کی بارش کے متلاشی کے لیے یہ بھی ایک آسان نسخہ ہے کہ وہ بیماریوں، پریشانیوں، تنگیوں وتنگ دستیوں میں اجرِ خداوندی، ثوابِ آخرت، گناہوں اور خطاوٴں سے پاکی کی بشارتوں کو بھی پیش نظر رکھے، اس طرح اس کے مصائب اس کے لیے ایمان ویقین کی تازگی، فکرِ آخرت میں اضافہ اور پائے ثبات واستقامت میں مضبوطی کا باعث ہوں گے۔

ایک حدیث میں حضورِ اکرمﷺ کا ارشادِ گرامی ہے:”مردِ مومن کو جو بھی دکھ درد، جو بھی بیماری وپریشانی،جو بھی رنج وغم اور جو بھی اذیت وتکلیف پہنچتی ہے، یہاں تک کہ جو کانٹا بھی اسے چبھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے اس کے گناہوں کی صفائی کردیتا ہے۔(ریاض الصالحین)

ایک دوسری روایت میں ہے بندہٴ مومن کو جوبھی کانٹے وغیرہ کی تکلیف پہنچتی ہے، تو اللہ عزوجل اس طرح اس کے گناہوں کو جھاڑدیتا ہے، جیسے سوکھا درخت اپنے پتوں کو جھاڑ دیتا ہے۔ (حوالہ سابق)

بعض مومن مرد اور بعض مومن عورتوں پر مصائب وحوادث کبھی ان کی جان، کبھی ان کے مال اور کبھی ان کی اولاد پر اس طرح آتے ہیں کہ (اس کے نتیجے میں ان کے گناہ جھڑجاتے ہیں) اور وہ مرنے کے بعد اللہ عزوجل سے اس حال میں ملتے ہیں کہ ان پر کوئی گناہ نہیں ہوتا۔ (مشکوٰۃ شریف ۱۳۶)

دنیا کے مصائب اور آزمائشیں آخرت کے عذاب وعقاب کے مقابلے میں کوئی اہمیت اور حیثیت نہیں رکھتے، بسا اوقات اللہ عزوجل ان تکالیف وبلیات کے ذریعے بندے کے ساتھ خیر خواہی کا ارادہ فرماتا ہے، وہ اس طرح کہ اسے عذابِ آخرت سے بچانے کے لیے دنیا ہی میں اس کے گناہوں کی سزادے دیتا ہے اور وہ آخرت کے ہولناک وخطرناک عذاب سے بچ جاتا ہے، اس کے بالمقابل جب اللہ عزوجل کسی بندے کے ساتھ برائی کا ارادہ فرماتا ہے تو دنیا میں اس کے گناہوں کی سزاکو روک لیتا ہے، اور اسے روزِ قیامت پوری طرح وصول فرماتا ہے۔ (ریاض الصالحین ۳۳)

کبھی یوں ہوتا ہے کہ ایک بندہٴ مومن اخروی اعتبار سے ایک مقام ومرتبے کاحامل ہوتا ہے، وہ اپنی صحت مند، آرام دہ زندگی کے ساتھ اس مقام ومرتبے کی جانب اس قدر سبک روی اور تیزگامی کے ساتھ بڑھتا ہوا نہیں ہوتا، اللہ عزوجل اسے اس کے طے شدہ مقام تک پہنچانے کا سامان یوں فرماتا ہے کہ اس پر مصائب وحوادث کا بوجھ ڈال کر، اسے اندیشہ ہائے زمانہ اور غم ہائے زمانہ میں مبتلا کرکے اس کے طے شدہ مقام تک پہنچادیتا ہے۔ اسی کو رسول اللہ ﷺ نے یوں فرمایا: جب بندہ اللہ تعالیٰ کے یہاں ایک مرتبے کا حامل ہوتا ہے، جسے وہ اپنے عمل کے ذریعے حاصل نہیں کرسکتا تو اللہ تعالیٰ اسے اس کی جان یا مال یا اس کی اولاد میں مصیبت مبتلا فرماتا ہے، پھر اسے ان مصائب پر صبر کی توفیق دیتا ہے، پھر اسے من جانب اللہ طے شدہ مقام تک پہنچادیتا ہے۔ (مشکوٰۃ شریف ۱۳۷)

مصائب کے نعمتِ خداوندی ہونے پر یہ روایت بھی دلالت کرتی ہے:جس وقت روزِ قیامت دنیا میں مصائب برداشت کرنے والوں کو ثواب دیا جارہا ہوگا، اس روز اہلِ عافیت بھی یہ چاہیں گے کہ کاش! ان کے جسم کی کھال دنیا میں قینچیوں سے کاٹی جاتی۔(مشکوٰۃ شریف ۱۳۷)

ایک روایت میں مصائب ومشکلات کے گناہوں کے ازالے میں اثر انگیزی کو بیان کرتے ہوئے حضورِ اکرم ﷺکا ارشادِ گرامی حدیثِ قدسی کی شکل میں یوں بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ یوں فرماتا ہے: میری عزت وجلال کی قسم! جس شخص کی میں مغفرت اور بخشش کاارادہ کرتا ہوں تو اس کے جسم کو بیماری میں ڈال کر اور اس کی روزی کو تنگ کرکے اس کی ہر غلطی اور گناہ کو مٹاد یتا ہوں۔(مشکوٰۃ ۱۳۸)

جیسا کہ مذکورہ بالا احادیث سے معلوم ہوا کہ مصائب میں بندۂ مومن کا رجوع اللہ تعالیٰ کی طرف بڑھ رہا ہے تو یہ مصائب اس کے حق میں رحمتِ خداوندی کے نزول کے عنوان ہیں، لیکن بندہ چونکہ کمزور وناتواں ہوتا ہے، وہ رحمتِ خداوندی کا ادراک نہیں کرسکتا،وہ اپنی آخرت کے بناوٴ وبگاڑکے پہلو سے واقف نہیں ہوتا، وہ دوسروں کی مانند اپنے کو بھی خوشحال وفارغ البال دیکھنا چاہتا ہے اور وہ حقیقت میں بھی مصائب کو برداشت کرنے کی سکت بھی اپنے اندر نہیں پاتا، اس لیے اللہ تعالیٰ سے عافیت کو طلب کرتا رہے، دعاوٴں کے اہتمام کے ذریعے بارگاہِ خداوندی میں اس بات کی التجاکرتا رہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی بیماری کی نعمت کو صحت کی نعمت اور بے روزگاری کی نعمت کو روزگاری کی نعمت سے بدل دے، دراصل اللہ تعالیٰ بندے کو مبتلائے مصیبت کرکے اس کی عاجزی وبندگی کے مظاہرے کو دیکھنا چاہتا ہے، ظاہر ہے دعا سے بڑھ کر اپنی عاجزی وبے بسی کا اظہار بندہ اپنے دوسرے اعمال کے ذریعے کہاں کرسکتا ہے؟ بلکہ دعا کو احادیث میں حاصلِ عبادات قرار دیا گیا ہے۔

مصائب میں مبتلا شخص ان دعاوٴں کا خوب اہتمام کرتا ہے:”اَللّٰہُمَّ رَحْمَتَکَ اَرْجُوْ فَلَا تَکِلْنِیْ الٰی نَفْسِیْ طَرْفَةَ عینٍ وَاَصْلِحْ لِیْ شَانِی کُلَّہ لااِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ“اے اللہ! میں تیری رحمت کی امید کرتا ہوں تو مجھے پل بھر بھی میرے سپرد نہ کر اور میرا سارا حال درست فرمادے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔”یَاحَیُّ یَاقَیُّوْمُ بَرَحْمَتِکَ اَسْتَغِیْثُ“ اے زندہ اور اے قائم رکھنے والے! میں تیری رحمت کے واسطے سے فریاد کرتا ہوں۔”اَللہُ، اَللہُ رَبِّیْ، لَااُشْرِکُ بِہ شَیئًا۔“ اللہ! اللہ میرا رب ہے، میں اس کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہیں بناتا۔ ان دعاؤں کو مصائب اور پریشانیوں کے دفاع میں خوب اثر ہے، حضورِ اکرم ﷺ نے حضراتِ صحابہؓ کو مصائب اور مشکلات کے وقت ان ہی دعاؤں کی تلقین فرمائی تھی۔(حیاۃ الصحابہ عربی :۳/۵۳۱)

26/02/2023



" یہ وہ شخص ہے جس نے 1835 میں ہمارا "نظام تعلیم" ترتیب دیا- اور آج تقریبا 2 صدیاں گزرنے کے بعد بھی ہم اسی نظام کا حصہ ہیں!.

2 فروری 1835 میں 'لارڈ میکالے' نے کہا:

میں نے ہندوستان کے طول و عرض میں سفر کیا ہے۔ مجھے کوئی بھی شخص بھکاری یا چور نظر نہیں آیا۔ اس ملک میں میں نے بہت دولت دیکھی ہے، لوگوں کی اخلاقی اقدار بلند ہیں اور سمجھ بوجھ اتنی اچھی ہے کہ میرے خیال میں ہم اس وقت تک اس ملک کو فتح نہیں کر سکتے جب تک کہ ہم ان کی دینی اور ثقافتی اقدار کو توڑ نہ دیں جو انکی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس لیے میں یہ تجویز کرتا ہوں کہ ہم ان کا قدیم نظام تعلیم اور تہذیب تبدیل کریں۔ کیونکہ اگر ہندوستانی لوگ یہ سمجھیں کہ ہر انگریزی اور غیر ملکی شے ان کی اپنی اشیاء سے بہتر ہے تو وہ اپنا قومی وقار اور تہذیب کھو دیں گے اور حقیقتاً ویسی ہی مغلوب قوم بن جائیں گے جیسا کہ ہم انہیں بنانا چاہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔

(جی ہاں اسی "لارڈ میکالے" نے ہمارا نظام تعلیم مرتب کیا ہے!)

1835 میں English Education Act بنایا گیا۔
'لارڈ میکالے' کا اصرار تھا کہ ہندوستانیوں کو انگریزی ادب پڑھایا جائے جبکہ خود انگریز اس زمانے میں کیمیاء، برقیات، دھات کاری اور معدنی وسائل سے متعلق تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ انگریز اچھی طرح جانتا تھا کہ سائنس اور ٹیکنولوجی پڑھانے سے ملک معاشی ترقی کی جانب گامزن ہو جاتا ہے جبکہ ادب پڑھانے سے معاشی ترقی نہیں ہوتی۔

ہمارے معاشرے میں سب سے بڑا علامہ, تعلیم دان, پروفیسر, سیاستدان,جج,وکیل,صحافی,پولیس افسر وہی ہوتا ہے جسکی انگلش زیادہ بہتر ہو پھر چاہے وہ اصل علوم و فنون کی ابجد سے ناواقف ہو! بس یہ انگلش ملک کو ترقی بھی نہیں دے رہی اور ساتھ میں ہمیں باور کروا رہی ہے کہ تم بہت پڑھے لکھے ہو!

ماننا پڑے گا لارڈ میکالنے نے ایسی چال بنائی جسے ہم 2 سو سال میں توڑنا تو اپنی جگہ سمجھ بھی نہ سکے! اسی لیے کسی مفکر نے کہا تھا کہ سب سے مشکل کام غلام کو یہ سمجھانا ہے کہ تم غلام ہو-
منقول

26/02/2023

*دنیا کی پہلی توپ ، جو سلطنت عثمانیہ کے 21 سالہ سلطان محمد فاتح خان نے 1453 میں بنوائی تھی .*
*اس توپ کی مدد سے عثمانیوں نے قسطنطنیہ (استنبول) شہر کی سب سے مضبوط دیواروں کو تباہ کیا اور پہلی بار مسلمانوں کے ہاتھوں قسطنطنیہ (استنبول) مکمل طور پر فتح ہوا اور بازنطینی سلطنت (عیسائیوں) کو بری طرح شکست ہوئی*

26/02/2023

انسانیت

ایک بچہ دس روپے لے کر پلاؤ والے کے پاس آیا، رہڑی پر ٹھہرے ہوئے لڑکے نے چاول دینے سے انکار کر دیا۔ میں کہنے ہی والا تھا کہ بچے کو چاول دے دو باقی پیسے میں دوں گا کہ اتنے میں پلاؤ والا خود آ گیا اور بچے سے دس روپے لے کر اسے بہت پیار سے شاپر میں ڈال کر دیئے۔ میں نے سوال پوچھا" مہنگائی کے اس دور میں دس روپے کے چاول؟" کہنے لگے" بچوں کیلئے کیسی مہنگائی؟ بچے تو بچے ہی ہوتے ہیں۔ میرے پاس پانچ روپے لے کر بھی آتے ہیں اور میں ان بچوں کو بھی انکار نہیں کرتا جب کہ پانچ روپے تو صرف شاپر اور سلاد کے بھی نہیں لیکن ہر جگہ منافع نہیں دیکھا جاتا۔ میں چھوٹی چھوٹی چکن کی بوٹیاں بھی دیگ میں ڈالتا ہوں اور وہ ان بچوں کیلئے ہی ہوتی ہیں جو پانچ یا دس روپے لے کر آتے ہیں۔ وہ چاول کے ساتھ یہ چھوٹی سی بوٹی دیکھ کر جب مسکراتے ہیں تو مجھے لگتا ہے میری نمازیں اب قبول ہوئی ہیں۔ آج کے دور میں امیروں کے بچے پانچ دس روپے لے کر نہیں آتے یہ غریب بچے ہوتے ہیں"

یہ میرے سوال کا جواب کم اور انسانیت کا درس زیادہ تھا۔ یہ محبت کا خالص جذبہ، یہ بچوں سے محبت، یہ غریبوں کا احساس۔۔ مجھے سمجھ آ گئی کہ اس چاول والے کے چہرے پر مسکراہٹ کیوں بسیرا کرتی ہے۔ اسے دیکھ کر روحانیت کا احساس کیوں ہوتا ہے۔ ہر جگہ منافع نہیں دیکھا جاتا کیوں کہ ہر انویسٹمنٹ اگر دنیاوی فائدے کیلئے کرتے رہیں گے تو آخرت میں ہمارے پلے کیا ہوگا؟ یہاں کچھ ایسی انویسٹمنٹ ضرور کیجئے جس کا منافع وہاں ملے گا جہاں کوئی کسی کا نہیں -

Photos from Hafiz Online Quran Academy's post 26/02/2023

120 engineers and technicians to balance the audio system in Masjid Al Haram. 7000 speakers to operate one of the largest audio systems in the world.

Want your school to be the top-listed School/college in Chakwal?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address

Chakwal
48800

Opening Hours

09:00 - 17:00