Karbala ki khani

Karbala ki khani

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Karbala ki khani, Education, Chakwal.

01/12/2025
26/07/2023

::شہادت حضرت قاسم بن امام حسن علیہ السلام ۔

امام حسن علیہ السلام جب دنیا سے جارہے تھے اور زہر کی وجہ سے جگر کے ٹکڑے ہو کر نکل رہے تھے تو امام حسن ایک عالم کرب میں تھے۔ جب آخری وقت آیا تو آپ نے فرمایا: میرا قاسم کہاں ہے؟ ذرا بلالو۔ اس وقت جنابِ قاسم کی عمر صرف تین سال کی تھی۔

جنابِ قاسم کو لایا گیا۔ تین سال کا بچہ، امام حسن نے سینے سے لگایا۔ اُس کا منہ چوما۔ بہت دیر تک سینے سے لگائے ہوئے روتے رہے۔ اب باپ کو جو روتے دیکھا تو یہ بچہ بھی چیخ چیخ کر رونے لگا۔ امام حسن نے خاموش کروایا اور فرمانے لگے:

بیٹا قاسم ! تم بہت چھوٹے ہو، اس لئے تم سے کچھ نہیں کہنا چاہتا۔ بس اتنی سی بات بھولنا نہیں، یہ تعویذ تمہارے بازو پر باندھے دیتا ہوں۔ جب کبھی تمہیں سب سے زیادہ سخت وقت دنیا میں معلوم ہو کہ اس سے زیادہ سخت وقت نہیں آسکتا تو ذرا اس کو کھول کر دیکھ لینا اور قاسم کی ماں سے کہنا کہ ذرا اس کا خیال رکھنا، یہ گم نہ ہونے پائے۔

تعویذ بندھا ہوا ہے، عاشور کا دن آگیا۔ اب بچے کی عمر ہے تیرہ سال۔ امام حسین اپنے بھائی امام حسن کے عاشق تھے۔

یہ عام کتابوں میں ہے کہ جب کبھی امام حسن اور امام حسین ایک جگہ بیٹھ جاتے تھے تو امام حسین بڑے بھائی کے سامنے گفتگو نہیں کرتے تھے۔ اتنی بات تھی اور اتنا احترام تھا۔

عاشور کا دن جب آیا تو یہ بچہ کئی دفعہ آیا، کئی بچوں کی لاشیں آگئیں۔ جنابِ زینب کے بچوں کی لاشیں حسین لے آئے اور بھی ایک دو بچوں کی لاشیں آگئیں۔ یہ بچہ گھر میں جاتا تھا اور پھر نکلتا تھا اور چچا کے پاس آتا تھا۔

میرا یہ خیال ہے کہ ماں بھی کہتی تھیں کہ بیٹا ابھی تک اجازت نہیں لی۔ چنانچہ آتے تھے جنابِ قاسم اور عرض کرتے تھے ، چچا جان! مجھے بھی تو اجازت دیجئے۔ امام حسین بچے کی صورت دیکھتے تھے اور بھائی حسن یاد آجاتے تھے۔ امام حسین گلے سے لگا کر رو دیتے تھے اور فرماتے تھے کہ بیٹا! ابھی ذرا ٹھہر جاؤ۔ جنابِ قاسم اس اُلجھن میں تھے کہ اب کیا کروں؟ چچا اجازت نہیں دیتے۔

ایک مرتبہ خیال آیا کہ بابا نے کہا تھا کہ جب دنیا میں سب سے زیادہ سخت وقت آجائے تو اس تعویذ کو دیکھ لینا۔ جنابِ قاسم ایک طرف چلے گئے۔ وہاں جاکر کھولا یہ تعویذ تو اس میں لکھا تھا کہ بیٹا قاسم ! جس دن تم تعویذ کھولو گے، وہ عاشورہ کا دن ہوگا۔ میرا بھائی چاروں طرف سے گھر چکا ہوگا۔ بیٹا! اگر میں موجود ہوتا تو اپنے بھائی پر سے اپنی جان قربان کر دیتا۔ میں نہ ہوں گا، تم ہوگے۔ میری عزت کا خیال رکھنا۔

جس وقت جنابِ قاسم نے یہ پڑھا تو اس خط کو لے کر آئے اور کہا کہ چچا جان! اب ذرا یہ خط تو دیکھ لیجئے، میں کیا کروں، میں کس طرح نہ جاؤں میدان میں؟ میرے بابا کی وصیت ہے جو آج مجھے معلوم ہو رہی ہے۔ امام حسین علیہ السلام نے وہ خط پڑھا۔ بھائی کی محبت یاد آگئی۔

قاسم کو سینے سے چمٹا لیا اور کافی دیر تک روتے رہے شبیر بلکہ امام بیہوش ہوکر گر پڑے۔

تمام واقعہ کربلا میں آپ کسی کتاب میں نہ دیکھیں گے کہ امام حسین علیہ السلام کسی کی رخصت کے وقت بیہوش ہوئے ہوں، یہاں تک کہ جنابِ علی اکبر گئے ہیں تو امام حسین نے خود سوار کیا ہے۔ خود اپنا عمامہ اُتار کر علی اکبر کے سرپر رکھا لیکن قاسم کی روانگی کے وقت بھائی حسن کو یاد کرتے ہوئے اتنا روئے کہ بیہوش ہوگئے۔

جب ہوش میں آئے تو جنابِ قاسم نے عرض کی کہ اب تو اجازت دیجئے۔ فرماتے ہیں کہ بیٹا جاؤ!اب میں کیا کروں، مگر اپنی ماں سے تو پوچھ لو۔آ ئے جنابِ قاسم دروازے میں کھڑی ہیں اُمّ فروہ دیکھتے ہی کہتی ہیں:بیٹا! اجازت مل گئی؟ قاسم نے کہا: اماں مل گئی۔ فرماتی ہیں:

اچھا بیٹا جاؤ اور ماں کو سرخرو کرو۔ جنابِ قاسم آئے اور امیرالموٴمنین علیہ السلام کے پوتے تھے، آخر دادِ شجاعت دی مگر چاروں طرف سے جب گھر گئے تو کسی کی تلوار لگی،کسی کا نیزہ لگا۔ گھوڑے سے جو گرے تو عزادارانِ اہلِ بیت ! اِدھر کے گھوڑے اُدھرگزر گئے اور اُدھر کے گھوڑے اِدھرگزر گئے۔ ارے تیرہ سال کا بچہ، اس کی ہڈیوں اور گوشت میں تھا کیا، مگر گرتے گرتے آواز دی، چچاجان! اب میں جارہا ہوں، ایک مرتبہ زیارت کروادیجئے۔

حسین روتے ہوئے آئے۔ یزیدیوں کو تلوار سے ہٹایا۔ ارے قاسم کی لاش پر پہنچے مگر قاسم کی ایسی حالت تھی کہ دنیا سے جاچکے تھے ۔ قاسم کواُٹھایا، منہ پر منہ رکھا، سینے کو سینے سے ملایا۔مگر تیرہ سال کے بچے کی لاش کی حالت یہ تھی کہ پاؤں زمین پر گھسٹتے ہوئے آرہے تھے، ہوا کیا؟ گھوڑوں نے وہ کیا جو کسی شہید کے ساتھ نہیں ہوا۔ جب خیمے میں پہنچے تو زینب انتظار میں تھیں۔ امام حسین علیہ السلام نے قاسم کی لاش زمین پر لٹا دی۔ ماں خیمے کے ساتھ کھڑی ہوئی ہیں اور دیکھ رہی ہیں۔ جب تک حسین رہے روئی نہیں جب حسین باہر نکلے، ایک مرتبہ کہا:بیٹا قاسم !ارے دولہا بن کر آگئے، مجھے تم نے سرخرو کردیا۔

نام کتاب: روایات عزا

تاریخ کہتی ہے ! جناب قاسم امام حسینؑ سے جنگ کی اجازت اس طرح طلب کرتے تھے کہ کبھی امام حسینؑ کے ہاتھ چومتے تو کبھی قدموں کو بوسا دیتے

📚 حدیث کربلا، 456
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
" شہادت حضرت قاسم ابن امام حسن علیہ السلام "

راوی کہتا ہے ، ایک تیرہ سالہ نوجوان میدان میں آیا کہ جس کا چہرہ چودھویں کے چاند کی کی مانند تھا ، اس نے بہادری کے ماہرانہ جوہر دکھاۓ- ابن _فضیل ازدی نے اس کے سر پر تلوار ماری اور اس کے سر کو شگافتہ کر ڈالا - اس نے زمین پر گرتے ہوۓ آواز دی :

یا عماه !!!!
امام حسین علیہ السلام شکاری باز کی سی تیزی سے میدان میں آۓ اور غضبناک شیر کی طرح اس سپاہ پر حملہ کر دیا اور اپنی تلوار سے ابن فضیل پر وار کیا اور اس نے اپنے ہاتھہ کو ڈھال بنایا اور اس کا ہاتھہ کہنی سے جدا ہوگیا - اور اس نے فریاد کی جو اسکے لشکر والوں نے سنی - اتنے میں لشکر _کوفہ نے حملہ کیا تاکہ اسے بچا لے لیکن وہ گھوڑوں کی تاپپوں سے کچلا گیا -

راوی کہتا ہے کہ :
جب گرد و غبار زمین پر بیٹھہ گیا تو میں نے دیکھا کہ امام حسین علیہ السلام اس جوان کے سرہانے کھڑے ہیں اور وہ جان کنی کے آلام میں اپنے پاؤں کو زمین پر رگڑ رہا ہے -

امام حسین علیہ السلام نے فرمایا :
رحمت _خداوندی سے محروم رہیں وہ لوگ جنھوں نے تمہیں قتل کیا اور قیامت کے روز تیرے قاتلوں کے دشمن تیرے جد_بزگوار اور تیرے باپ ہوں گے - اس کے بعد فرمایا :

خدا کی قسم یہ وقت تیرے چچا پر بہت سخت ہے کہ تو اسے پکارے اور وہ جواب نہ دے - یا جواب دے جو تیرے لئے فائدہ مند نہ ہو- خدا کی قسم ! آج وہ دن ہے کہ تیرے چچا کے دشمن زیادہ اور مدد گار کم ہیں -اس کے بعد اس جوان کی لاش کو اپنے سینے سے لگایا اور اہلبیت کے شہدا کے درمیان لے گئے اور زمین پر رکھہ دیا -

10/08/2022

پیارے نبیﷺ کی پیاری نواسی (ص) شام کو قیدی بن کے چلی ہے۔ صبر کی ملکہ ، زہراء (ص) کی پیاری شام کو قیدی بن کے چلی ہے😭🥺💔

09/08/2022

” زیارت ناحیہ “

" میرا سلام ہو اس شہید پر جس کی داہنی طرف کی پسلیاں ٹوٹ کر بائیں طرف آ گئی تھیں، اور بائیں طرف کی پسلیاں ٹوٹ کر داہنی طرف آ گئی تھیں

ﺳﻼﻡ ﺍُﻥ ﭘﺎﮐﯿﺰﮦ ﻧﻔﻮﺱ ﭘﺮ ﺟﻨﮭﯿﮟ ﭨﮑﮍﮮ ﭨﮑﮍﮮ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ،

مسافرں میں سب سے زیادہ بے کس ؤ مظلوم مسافر پے سلام

ان گریبانوں پے سلام جو خون سے بھرے ہوے تھے

سلام اس مظلوم امام پر جس کے سر کو پشت گردن سے کاٹا گیا

اس ریش اقدس پرسلام جو خون سے سرخ تھی

اس رخسار پر سلام جو خاک الودہ تھا

ﺳﻼﻡ ﺍﺭﺽِ ﮐﺮﺑﻼ ﭘﮧ ﺑﮩﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺧﻮﻥ ﭘﺮ ،

ﺳﻼﻡ ﺟﺴﻤﻮﮞ ﺳﮯ ﺟﺪﺍ ﮐﺮﺩﯾﮱ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﻋﻀﺎﺀ ﭘﺮ ،

ﺳﻼﻡ ﻧﯿﺰﻭﮞ ﭘﮧ ﺍُﭨﮭﺎﮰ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺳﺮﻭﮞ ﭘﺮ ،

میرا سلام ہو اس مظلوم حسین صلواۃ پرکہ جس پرآسمان کے فرشتےبھی رو دیئے

میرا سلام ہو اس قیدی پر جس کا گوشت زنجیریں کھا گیں.......

میرا سلام ھو اس معصومہ پہ جس کے رخساروں کی رنگت کربلا سے شام تک مسلسل تبدیل ھوتی رہی

سلام" اُن ھونٹوں پر جو پیاس سے سوکھے ھوۓ تھے

میرا سلام ہو اس بی بی (س) پر جس نے کربلا سے شام تک اپنے زخمی ہاتھوں سے اپنے بھائی کے یتیموں کو کھانا کھلایا

سلام ہو اُس پر جس کے قبر کی مٹی خاکِ شفا ہے-

سلام ہو اس پر جس کے حرم کی فضامیں دعائیں قبول ہوتی ہیں "

07/08/2022

" رسم _علمداری کب سے ؟؟؟ "

حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام اپنے بھائی کے علمدار تھے جیسا کہ حضرت امیر علیہ السلام اپنے بھائی رسول الله (ص) کے علمدار تھے - اس سے پہلے بھی علم _حق انبیاء و اولیا کے ہاتھوں ہی میں رہا -

ایک قول کے مطابق سب سے پہلے علم اٹھانے والے حضرت شیث بن آدم علیہ السلام تھے -
علم خلیل الله حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف منتقل ہوا -
پھر ان کے بیٹے حضرت اسماعیل ذبیح الله علیہ السلام کی طرف منتقل ہوا -
پھر حضرت ثابت بن اسماعیل۴ کے پاس آیا -
پھر ان کے بیٹوں اور پوتوں سے ہوتا ہوا اجداد پیغمبری ، قصی بن کلاب اور عبد مناف تک پہنچا -
پھر انکے بیٹے ہاشم۴ ، پھر عبدالمطلب۴ ، پھر ابوطالب۴ تک آیا -

حضرت ابوطالب۴ کے بعد خود رسول الله صل الله علیہ و آل وسلم کی طرف منتقل ہوا اور آپ نے علم امیر المومنین امام علی علیہ السلام کے سپرد کیا -

یہی علم انبیاء حضرت عباس علیہ السلام کے پاس پہنچا اور میدان _کربلا میں علمداری آپ کے نام کے ساتھہ ایسی جچی کہ ہمیشہ آپ کے نام کے ساتھہ ٹھہر گئی -

📚 خصائص عباس علمدار ، صفحہ _178 / 179

06/08/2022

*امام حسین ع نے صرف علی اصغر ع کو کیوں دفن کیا ۔۔۔ ؟*

مرحوم شیخ جعفر شوستری رح اپنی کتاب خصائص میں لکھتے ہیں کہ :

حضرت امام حسین ع نے شہزادہ علی اصغر ع کو دفن کیا جبکہ کسی اور شہید کو دفن نہیں کیا،

امام کے اس عمل کی 5 وجوہات ہو سکتی ہیں ۔۔۔

1۔ شیر خوار بچے کا دفن کرنا ایک شخص کیلیے ممکن تھا ۔

2۔ جنگ کے بعد دوسرے شہیدوں کی طرح شیر خوار کا سر نہ کٹے ۔

3۔ دوسرے شہدا کی طرح تین دن تک دھوپ اور گرمی میں نہ پڑا رہے ۔

4۔ شیر خوار بچے کا جسم پامالی سے بچ جائے ۔

5۔ دوبارہ اس خون آلودہ قنداقہ پر نظر نہ پڑے اور دل کو مزید دکھ نہ ہو ۔

الا لعنت اللہ علی القوم الظالمین ۔۔۔۔

#اَلّٰلھُمَّ_لْعَنْ_قَتَلَۃَ_اَلحُسَیِنَؑ_وَ_اُولاَدِ_اَلحُسَیِنَؑ_وَ_اَصحَابِ_الحُسینؑ

06/08/2022

آج کا دن مخصوص ہے جناب قاسم ع سے بلخصوص انکی شادی اور مہندی سے (اگرچہ شادی پر اختلاف موجود ہے) مگر جواں سال قاسم ع کی رسم مہندی پر اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔ ہر ماں کی حسرت ہوتی ہے کہ اسکے جواں سال بیٹے کے سر سہرہ سجا دیکھے۔ اور ساری عزاداری ہے ہی کربلا والوں کی حسرتوں کی وجہ سے

سہرا و مہندی بھی یہی حسرت لئے نکالی جاتی ہے (یہاں کے کلچر کے مطابق) کہ سہرا باندھنے کی عمر میں شہید کر دیا گیا

اب یہاں پاکستان میں ایک رسم ہے کہ اگر کسی پاکستانی ماں کا جوان بیٹا مر جائے تو وہ اسکی لاش پر سہرا و مہندی رکھ کر غم کرتی ہے۔
یہ کلچر ہے یہاں کا۔

وہی ماں اگر شیعہ ہو تو جوان قاسم ع کی شہادت اپنے رسمی طور طریقے پر منائے تو اس کیا گناہ ہے ؟

آج کے دن اہل تشیع کے ساتھ ساتھ کثرت سے اہل سنت کی خواتین بھی مجالس میں شرکت کرتی ہیں اپنے بیٹیوں اور بیٹوں کی شادی کی منت سے مہندی اٹھاتی ہیں۔

اللّه جناب قاسم ع کا صدقہ آپ سب سے کی منتیں مُرادیں پوری فرمائے ، اپنی منت و مرُادوں میں مجھے بھی یاد رکھیے گا 🙏🏻😥

02/08/2022

*کیا حسین علیہ السلام نے یزیدی لشکر کے سامنے اپنے پچھلے موقف سے رجوع کرتے ہوۓ کوئی شرط رکھی تھی۔؟*

کتب اہل سنت میں روایت ہے کہ

امام حسین ع نے عمر بن سعد سے کہا کہ مجھے امیر المومنین یزید کے پاس جانے دو تا کہ میں اسکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ دے سکوں۔

فَحَدَّثَنِي هِلَالُ بن يساف أن ابن زياد أمر النَّاس أن يأخذوا مَا بَيْنَ وَاقِصَةَ إِلَى طَرِيقِ الشَّامِ إِلَى طريق البصرة حفظاً فَلَا يَدَعُونَ أَحَدًا يَلِجُ وَلَا أَحَدًا يَخْرُجُ، وأقبل الحسين ولا يشعر بشئ حَتَّى أَتَى (1) الْأَعْرَابَ فَسَأَلَهُمْ عَنِ النَّاسِ فَقَالُوا: وَاللَّهِ لَا نَدْرِي، غَيْرَ أَنَّكَ لَا تَسْتَطِيعُ أَنْ تَلِجَ وَلَا تَخْرُجَ، قَالَ: فَانْطَلَقَ يَسِيرُ نَحْوَ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ، فَتَلَقَّتْهُ الْخُيُولُ بِكَرْبَلَاءَ فَنَزَلَ يُنَاشِدُهُمُ اللَّهَ وَالْإِسْلَامَ، قَالَ: وَكَانَ بَعَثَ إِلَيْهِ ابْنُ زِيَادٍ عُمَرَ بْنَ سَعْدٍ وَشَمِرَ بْنَ ذِي الْجَوْشَنِ وَحُصَيْنَ بْنَ نُمَيْرٍ، فَنَاشَدَهُمُ اللَّهَ وَالْإِسْلَامَ أَنْ يُسَيِّرُوهُ إِلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ يَزِيدَ فَيَضَعَ يَدَهُ فِي يَدِهِ،

📚 البدایہ و النہایہ، جز ٨ صفحہ ١٨٤

*اسکا جواب خود اہل حدیث کی زبانی سنیں*

زبیر علی زئی صاحب کہتے ہیں کہ، یہ روایت اصل میں کتاب "الانساب الاشرف " میں ہے،

اسکی سند پر بحث کرتے ہوۓ محدث زمانہ حافظ زبیر علی زئی کہتے ہیں:

یہ روایت کئی وجوہات کی بناء پر مردود ہے

١) انساب الاشرف کے مطبوعہ نسخے کی اصل *سند نامعلوم* ہے

٢) بلاذری سے اس کتاب کے راوی کا نام معلوم نہیں

٣) اس کتاب کی اکثر روایات صحیح مسلم و بخاری کے خلاف ہیں

📚 ماہنامہ الحدیث، شمارہ نمبر ١٠٨، صفحہ نمبر ٣٤

علاوہ ازایں *ھلال بن یساف* کا واقعہ کربلا میں *حضرت حسین علیہ السلام کے ساتھ ہونا کسی طرح ثابت نہیں ہے،*

لہٰذا یہ روایت *منقطع ہے* اور قابل حجت نہیں۔

اس روایت پر چند عقلی اعتراضات بھی کیے جا سکتے ہیں،

١) اگر حضرت حسین علیہ السلام نے بیعت ہی کرنی تھی تو پہلے ٤ سال تک کیوں نہیں کی؟

٢) اگر حسین علیہ السلام مان گئے تھے تو یزید کے فوجیوں نے اس کو اس عظیم فتح کی خبر دے کے انعام حاصل کرنے کی بجاۓ رد کیوں کر دیا؟

٣) یزید نے معاملہ خراب کرنے پر ان کو سزا کیوں نہیں دی؟

٤) کیا یہ قصہ شیر خدا علی علیہ السلام کے فرزند کے کردار کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے؟

*خلاصہ کلام*

اس جھوٹی روایت کی بنیاد پر حضرت حسین علیہ السلام کے اس عظیم کارنامہ جرت کو غارت کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے..!

حصہ دوم 👇🏻

❌ *امام حسین ع نے کوئی ایسی شرط نہیں رکھی کہ وہ یزید کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر بیعت کر لیں گے* ❌

کتب اہل سنت 👇🏼

عَنْ عُقْبَةَ بْنِ سَمْعَانَ. قَالَ: لقد صَحِبْتُ الْحُسَيْنَ مِنْ مَكَّةَ إِلَى حِينِ قُتِلَ، وَاللَّهِ مَا مِنْ كَلِمَةٍ قَالَهَا فِي مَوْطِنٍ إِلَّا وَقَدْ سَمِعْتُهَا، وَإِنَّهُ لَمْ يَسْأَلْ أَنْ يذهب إلى يزيد فيضع يده إلى يَدِهِ، وَلَا أَنْ يَذْهَبَ إِلَى ثَغْرٍ مِنَ الثُّغور، وَلَكِنْ طَلَبَ مِنْهُمْ أَحَدَ أَمْرَيْنِ، إِمَّا أَنْ يَرْجِعَ مِنْ حَيْثُ جَاءَ، وإمَّا أَنْ يَدَعُوهُ يَذْهَبُ فِي الْأَرْضِ الْعَرِيضَةِ حَتَّى يَنْظُرَ مَا يَصِيرُ أَمْرُ النَّاسِ إِلَيْهِ.

عقبہ بن سمعان کہتے ہے کہ میں مکہ سے لے کر مقتل حسین علیہ السلام تک حسین علیہ السلام کے ساتھ رہا، خدا کی قسم امام حسین علیہ السلام نے کوئی ایسا کلام ارشاد نہیں فرمایا جسے میں سے نہ سنا ہو، (اس دعوے کے بعد عقبہ فرماتے ہیں کہ) امام حسین ع نے کبھی یہ پیشکش اور سوال نہیں کیا کہ وہ یزید کے پاس جائیں اور اس کے ہاتھوں میں ہاتھ رکھیں، یا مسلمانوں کی سرحدوں میں سے کسی سرحد کی طرف نکل جائیں۔

*حوالے جات:*

📚 البداية والنهاية ج 8 ص 189 الناشر: دار إحياء التراث العربي الطبعة: الأولى 1408، هـ - 1988 م

📚 تاريخ الطبري ج 5 ص 413 الناشر: دار التراث - بيروت الطبعة: الثانية - 1387 هـ

ایک مشہور سنی دانشور جن کا نام شیخ محمد خضری ہے
جو جامع مصریہ قاہرہ کے استاد رہ چکے ہے__ اپنی کتاب میں رقم طراز ہے:

و لیس بصحیح انھ عرض علیھم ان یضع یدہ فی ید یزید فلم یقبلو منہ

اور یہ بات صحیح نہیں کہ امام حسین ع نے یزیدی فوج کے سامنے یہ تجویز دی کہ امام حسین ع یزید کے پاس جائیں (اور اس کے ہاتھوں میں ہاتھ رکھیں) اور انہیں نے آپ ع کی بات قبول نہیں کی-

*حوالہ:*

📚 محاضرات تاریخ الامم الاسلامیتہ، جز دوم، صفحہ 128-129، طبع چہارم، 1354 ہجری-

*اگر اب بھی یزیدی مطمئن نہیں ہوئے تو ان کے آل ٹائم فیورٹ یعنی ابن کثیر کی شہادت کو پیش کرتے ہے، ابن کثیر رقم طراز ہیں:*

وَلَمْ يَدْرِ أَحَدٌ مَا قَالَا، وَلَكِنْ ظَنَّ بَعْضُ النَّاسِ أَنَّهُ سَأَلَهُ أَنْ يَذْهَبَ معه إلى يزيد بن معاوية إلى الشام

امام حسین ع اور ابن سعد کے درمیان جو گفتگوں ہوئی اس کی حقیقت کسی کو بھی نہیں معلوم، البتہ بعض افراد کا گمان ہے کہ وہ یزید کے پاس جائیں اور اس کے ہاتھوں میں ہاتھ رکھیں-

📚 البداية والنهاية ج 8 ص 189 الناشر: دار إحياء التراث العربي الطبعة: الأولى 1408، هـ - 1988 م

02/08/2022

*تین محرم کا منظر :-

تیسری محرم الحرام یوم جمعہ کو عمر ابن سعد (بقول علامہ اربلی) ۲۲ ہزار سوار و پیادے لے کر کربلا پہنچا اور اس نے امام حسین (ع) سے تبادلہ خیالات کی خواہش کی۔

حضرت نے ارادہ کوفہ کا سبب بیان فرمایا۔

اس نے ابن زیاد کو گفتگو کی تفصیل لکھ دی اور یہ بھی لکھا کہ امام حسین (ع) فرماتے ہیں کہ اگر اب اہل کوفہ مجھے نہیں چاہتے تو میں واپس جانے کو تیار ہوں ۔

ابن زیاد نے عمر بن سعد کے جواب میں لکھا کہ اب جب کہ ہم نے حسین (ع) کو چنگل میں لے لیا ہے تو وہ چھٹکارا چاہتے ہیں۔
یہ ہرگز نہیں ہوگا۔

ان سے کہہ دو کہ یہ اپنے تمام اعزا و اقربا سمیت بیعت یزید کریں یا قتل ہونے کے لیے آمادہ ہوجائیں۔

میں بیعت سے پہلے ان کی کسی بات پر غور کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں

اسی تیسری تاریخ کی شام کو *حبیب ابن مظاہر* قبیلہ ابنی اسد میں گئے اور ان میں سے جانباز امداد حسینی کے لیے تیار کیے وہ انھیں لارہے تھے کہ کسی نے ابن زیاد کو اطلاع کر دی۔
اس نے ۴۰۰ سو کا لشکر بھیج کر اس کمک کو رکوا دیا۔

جب عمر ابن سعد لشکر لے کر کربلا پہنچا تو جنابِ زینب نے امام سے کہا:

بھیا! چاروں طرف سے فوجیں آرہی ہیں۔

آپ بھی تو اپنے دوستوں میں سے کسی کو لکھ دیجئے کہ وہ آپ کی مدد کیلئے آجائیں

امام نے فرمایا: اچھا بہن!

بیٹھ کر خط لکھا

📜 بسم اللہ الرحمن الرحیم

حسین ابن علی (ع) کی طرف سے مرد فقیہ، حبیب بن مظاہرکے نام ۔

آگاہ ہو کہ ہم کربلا میں وارد ہوچکے ہیں اور تم میری رسول اللہ (ص) سے قرابت کو بھی خوب جانتے ہو ۔ اگر ہماری مدد کرنا چاہتے ہو تو ہمارے پاس آؤ ۔

بی بی نے فرمایا، بھیا! ذرا خط مجھے سنا دیجئے۔ امام حسین نے سنایا تو عرض کیا: بھیا! ایک فقرہ میری طرف سے بھی لکھ دیجئے۔

فرمایا، کیا؟

کہا: "اَلْعَجَلْ، اَلْعَجَلْ"۔

(اگر آنا ہے تو جلدی آجاؤ)۔

نوٹ: یہ خط کسی معتبر کتب میں نقل نہیں ہوا البتہ میں نے اسے کتاب اصحاب الیمین سے نقل کیا ہے

اُدھر حبیب کی حالت یہ تھی کہ ایک دن پہلے مہندی خریدنے گئے-

بازار میں مسلم ابن عوسجہ ملے۔ آپس میں دعا و سلام ہوا تو

حبیب نے کہا: بھائی مسلم! یہ کوفے میں کیا ہو رہا ہے؟

تلواریں صیقل کی جا رہی ہیں۔ نیزوں کی انیاں زہروں میں بجھائی جارہی ہیں۔ یہ کس بڑی لڑائی کا اہتمام کیا جا رہا ہے؟

مسلم ابن عوسجہ نے کہا: حبیب! اتنے غافل بیٹھے ہو؟

تمہیں پتہ ہی نہیں کہ یہ کس سے لڑنے کا سامان ہے؟

یہ میرے اور تمہارے مولا حسین کے قتل کی تیاریاں ہورہی ہیں۔

حبیب نے کہا: اچھا! کیا وہ وقت آگیا ؟

عوسجہ نے کہا، ہاں بالکل قریب آگیا ۔

حبیب نے جو مہندی خریدی تھی، وہ پھینک دی کہ اب اس کی ضرورت نہیں۔

اب میری داڑھی میرے خون سے خضاب کی جائے گی۔ پھر گھر چلے آئے اور متفکر اور پریشان ہو کر دستر خوان پر بیٹھے تھے کہ ایک مرتبہ دروازے پر دستک ہوئی۔ پوچھا کون ہے؟

مہمان نے کہا: امام حسین کا قاصد ہوں، امام نے آپ کے لئے یہ خط دیا ہے۔

حبیب نے خط ہاتھ میں لے کر آنکھوں سے لگایا، بوسے دئیے۔ تھوڑی دیر تک کھڑے ہوئے روتے رہے۔ اس کے بعد وہاں سے خط کو بند کرکے آنسو پونچھ کر گھر میں آئے اور خاموش بیٹھ گئے،

زوجہ نے کہا کہ کس کا خط ہے؟

حبیب نے کہا حسین ابن فاطمہ زہرا سلام اللہ کا۔

زوجہ نے پوچھا کہ کیا لکھا ہے؟

کہا کہ بلایا ہے۔

زوجہ نے پوچھا تمہارا کیا خیال ہے؟

کہنے لگے کہ میں ابھی اس بارے میں سوچ رہا ہوں۔

اُس موٴمنہ نے ناراض ہوکر کہا:

حبیب بوڑھے ہوگئے، اب بھی زندگی سے محبت ؟

فاطمہ کا بیٹا بلائے اور تم بیٹھ کر سوچو؟۔

اگر تم نہیں جاتے ہو تو یہ میری چادر تم اوڑھ لو۔ میں جاؤں گی۔

حبیب یہ سن کر خوش ہوگئے اور کہنے لگے:

مصلحت کی بناء پر میں نے یہ بات کہی تھی۔

میں بڑا خوش ہوں کہ تمہاری عقیدت اس درجے پر ہے۔

بہرحال حبیب رات کو گھر نکلے اور راستوں کو کاٹتے ہوئے کربلا کی طرف سفر شروع کیا ۔

ادھر امام حسین علیہ السلام خیمہ میں تشریف فرما تھے۔

حبیب ابھی کربلا سے دور تھے تو امام حسین علیہ السلام نے جناب علی اکبر علیہ السلام سے فرمایا:

اے میرے بیٹے!

"اِسْتَقْبِلْ عَمَّکَ الْحَبِیْبَ"۔
(جاؤ اور حبیب کا استقبال کرو)

جناب علی اکبر، جنابِ قاسم اور تمام شہزادے استقبال کیلئے آگے بڑھے۔ حبیب نے جب شہزادوں کو دیکھا تو گھوڑے سے کود پڑے۔ اُن کے ہاتھ چومتے ہوئے آگے آئے۔ امام حسین کے قریب بڑھے تو اصحاب نے نعرہ تکبیر بلند کیا۔

اس نعرہ تکبیر کی آواز خیموں میں پہنچی۔

جنابِ زینب نے حضرت فضہ سے کہا: ذرا دیکھیے کہ یہ نعرہ تکبیر کیوں بلند ہوا؟

فضہ آئیں اور پوچھا پھر واپس گئیں اور کہا:

آقا زادی! حبیب آگئے۔

جنابِ زینب نے کہا:

فضہ حبیب بھائی کو میرا سلام پہنچا دو اور کہہ دو کہ حبیب بھائی! آپ نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے۔

فضہ نے آ کہ کہا کہ حبیب! آقا زادی سلام کہہ رہی ہیں۔

حبیب نے جب یہ سنا تو اپنے منہ پر طمانچے مارنا شروع کر دئیے کہ میں اور اِس قابل کہ فاطمہ زہرا کی بیٹی مجھے سلام کہیں۔ (روایات عزا)

امام حسین علیہ السلام نے عمر بن سعد کی جانب عمرو بن قرظة بن کعب انصاری کو بھیجا کہ وہ آپ سے دونوں لشکروں کے درمیان ملا قات کرے۔

وقت مقررہ پر عمر بن سعد اپنے تقریبا ً ٢٠ سواروں کے ہمراہ باہر نکلا تو امام حسین علیہ السلام بھی اسی انداز میں نکلے لیکن جب وہ لوگ ملے تو امام حسین علیہ السلام نے اپنے اصحاب کو حکم دیا کہ وہ پیچھے ہوجائیں اور عمر بن سعد نے بھی اپنے سپاہیوں کو یہی حکم دیا

پھر دونوں کے درمیان گفتگو کا سلسلہ شروع ہوا۔ یہ گفتگو بڑی طولانی تھی یہاں تک کہ رات کا کچھ حصہ گذرگیا۔ اس کے بعد دونوں اپنے اصحاب کے ہمراہ اپنے لشکر کی طرف واپس لوٹ گئے۔

*نوٹ:*

کچھ اہل سنت تاریخ دانوں نے اس گفتگو سے اپنے گمان کے مطابق ہی مندرجہ ذیل امور اخذ کر لئے کہ جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔

مثلاً یہ کہ امام علیہ السلام نے 3 شرائط ارشاد فرمائیں:

١۔ میں اسی جگہ پلٹ جاؤں جہاں سے آیا ہوں ۔

٢۔ میں یزید بن معاویہ کے ہاتھ میں ہاتھ دے دوں تو وہ میرے اور اپنے درمیان اپنی رائے کا اظہار خیال کرے۔

٣۔ یا تم لوگ مجھے کسی بھی اسلامی حدود میں بھیج دو تاکہ میں انھیں کا ایک فرد ہو جاؤں اور میرے لئے و ہ تما م چیزیں ہوں جو ان لوگوں کے لئے ہیں۔

📚 طبری، ج٥، ص٤١٣، ابو الفرج ،ص ٧٥،ط نجف

*اسکا رد اگلی پوسٹ پر دیکھیں*

31/07/2022

*پہلی محرم سے غم کیوں؟*

روی عن الرضا(علیه السلام):قال:

⚫️ *کان أبي إذا دخل شهر المحرم لا يري ضاحکا و كانت الكآبة تغلب عليه حتى تمضي عشرة أيام،* فإذا كان يوم العاشر كان ذلك اليوم يوم مصيبته و حزنه و بكائه.

امام رضاؑ نے فرمایا
جب بھی محرم کا مہینہ داخل ہوتا تو میرے بابا کو ہنستا ہوا نہ دیکھا گیا، اور اداسی ان پر غالب رہتی یہانتک کہ محرم کے دس دن گزر جاتے، پس جب محرم کا دسواں دن (عاشور) آتا تو یہ دن ان کی مصیبت، غم اور گریہ کا دن ہوتا، وہ کہ رہے ہوتے کہ یہ وہ دن ہے کہ جس دن حسین علیہ السلام کو شہید کیا گیا

📚 الأمالي لشيخ الصدوق، ص191 - وسائل الشيعة (چاپ آل البيت) للحر العاملي، ج14، ص505

📚 إقبال الأعمال للسيد ابن طاووس، ص 16

قال الامام الصادق(علیه السلام):

*⚫️ نفس المهموم لظلمنا تسبیح و همه لنا عبادة و کتمان سرنا جهاد فی سبیل الله.* ثم قال ابو عبد الله علیه السلام: یجب ان یکتب هذا الحدیث بالذهب

امام جعفر صادقؑ نے فرمایا
ہماری مظلومیت پر مغموم شخص کا سانس لینا تسبیح ہے اور اس کا ہمارے لیے غم کرنا عبادت ہے، اور ہمارے رازوں کا چھپانا اللہ کی راہ میں جہاد ہے،
اس کے بعد امام جعفر صادقؑ نے فرمایا: واجب ہے کہ اس حدیث کو سونے سے لکھا جائے۔

📚 امالی شیخ مفید، ص338

#اَلّٰلھُمَّ_لْعَنْ_قَتَلَۃَ_اَلحُسَیِنَؑ_وَ_اُولاَدِ_اَلحُسَیِنَؑ_وَ_اَصحَابِ_الحُسینؑ

Want your school to be the top-listed School/college in Chakwal?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Culinary Team

Attire

Telephone

Website

Address

Chakwal