راموڑہ چکدرہ RamoraChakdara

راموڑہ چکدرہ RamoraChakdara Governament High School Ramora chakdara one of the ancient and historical school of Dir Lower K.P.K.
(1)

اس پیج کا مقصد سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم پر پر ا پنےابتدائی ما در علمی ادارے گورنمنٹ ہا ئی سکو ل راموڑہ چکدرہ اور اس کے اساتذ ہ کا تعارف ,اوردوران تعلیم اپنے دیگر ان ہم جماعت ساتھیوں سے متعلق معلومات , تصاویر, ویڈیوز کا تبادلہ جن سے سکو ل سے پڑھائی کے بعد ھمارا کئی سال سے رابطہ یا کوئی اطلاع نھیں ,نیز آپس میں مستقل رابطہ اور ما در علمی ادارے کے متعلق دستیاب مزید معلومات کا تبادلہ کر نا ہے
لھذہ ہر ساتھی اپنا نام,تصویر اور میٹرک کا سال ضرور لکھا کریں..شکریہ

21/08/2026
ایسوسی ایشن اف انٹرنیشنل لایرز لندن نے چکدرہ علی مست سے تعلق رکھنے والے عمران خان ایڈوکیٹ کو سال 2026.27 کے لیے بطور جوا...
20/08/2026

ایسوسی ایشن اف انٹرنیشنل لایرز لندن نے چکدرہ علی مست سے تعلق رکھنے والے عمران خان ایڈوکیٹ کو سال 2026.27 کے لیے بطور جواینٹ سیکرٹری خیبرپختونخوا منتخب کرکے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا۔

شوشل میڈیا نے مزید دو گھروں کو اجھاڑ دیاٹک ٹاک تنازع پر قتل کا ملزم انویسٹی گیشن آفس کے اندر فائرنگ سے ہلاک، لواحقین کا ...
20/08/2026

شوشل میڈیا نے مزید دو گھروں کو اجھاڑ دیا
ٹک ٹاک تنازع پر قتل کا ملزم انویسٹی گیشن آفس کے اندر فائرنگ سے ہلاک، لواحقین کا احتجاج۔ روڈ بلاک

مردان: تھانہ صدر کے علاقے چمتار سید عظم گاؤں میں ٹک ٹاک پر گالی گلوچ سے شروع ہونے والے تنازع نے خونریز موڑ لے لیا۔ گزشتہ روز معمولی تلخ کلامی پر مشال نامی نوجوان کی فائرنگ سے حماد شدید زخمی ہو کر جاں بحق ہو گیا تھا۔ پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ملزم مشال کو دفعہ 302 کے تحت گرفتار کر لیا تھا، تاہم آج واقعے نے اس وقت مزید سنگین صورتحال اختیار کر لی جب مقتول کے بھائی نے گرفتاری کے باوجود انتقام لے لیا۔
آج دوسرے روز جب صدر پولیس ملزم مشال کو ایس پی انویسٹی گیشن کے دفتر منتقل کر رہی تھی، تو مقتول حماد کے بڑے بھائی عمران نے انویسٹی گیشن آفس کے اندر ہی اپنے بھائی کے قتل کا بدلہ لیتے ہوئے ملزم پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ فائرنگ کے نتیجے میں مشال موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ پولیس کے مطابق ملزم عمران مردان ٹریفک پولیس کا اہلکار ہے، جسے آلہ قتل سمیت موقع سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔
تھانے کی حدود میں ملزم کے قتل پر مشال کے ورثاء میں شدید غم و غصہ پھیل گیا۔ مظاہرین نے لاش کو تھانہ صدر کے سامنے نوشہرہ روڈ پر رکھ کر سڑک کو ہر قسم کے ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند کر دیا۔ مقتول کے لواحقین کا موقف ہے کہ جب ملزم کو تھانے کے اندر نشانہ بنایا جا رہا تھا تو وہاں موجود پولیس نے جوابی فائرنگ کیوں نہیں کی؟ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے اپنے پیٹی بند اہلکار کو بچانے کی کوشش کی۔
واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) مسعود بنگش نے فوری طور پر جائے وقوعہ کا دورہ کیا۔ ڈی پی او نے غفلت برتنے پر موقع پر موجود تین پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا ہے، جبکہ گرفتار ملزم عمران کو مزید تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

راموڑہ چکدرہ دیر کآ حیام خان پاکستان انڈر 19 کرکٹ ٹیم کے دورہ انگلینڈ کےلیے نامزد ،
20/08/2026

راموڑہ چکدرہ دیر کآ حیام خان پاکستان انڈر 19 کرکٹ ٹیم کے دورہ انگلینڈ کےلیے نامزد ،

جامعہ جمشید ثمرباغ دیر کا خوبصورت منظر
20/08/2026

جامعہ جمشید ثمرباغ دیر کا خوبصورت منظر

ڈوگدرہ پناغار دیرتنہائی اختیار کریں اور اپنے دل کو سنواریں.ہر انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ کچھ وقت تنہائی میں گزارے، اس و...
19/08/2026

ڈوگدرہ پناغار دیر
تنہائی اختیار کریں اور اپنے دل کو سنواریں.
ہر انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ کچھ وقت تنہائی میں گزارے، اس وقت اللہ سے دعا کرے، اس کا ذکر کرے، نماز پڑھے، غور و فکر کرے، اپنے اعمال کا جائزہ لے اور اپنے دل کی اصلاح کی کوشش کرے۔“

There must be times when a servant withdraws by himself, devoting them to supplication, remembrance of Allah, prayer, reflection, self-accountability, and rectifying his heart.”

19/08/2026

انا للہ و انا الیہ راجعون
د راموڑی سیرئ کلی د میاں شیر مرحوم کور والہ ، د شیر زمان خان مرحوم او د محمد زمان خور بی بی او د سید باچہ مور بی بی وفات شوی دہ
جنازہ بہ نن 11بجی سیرئ کلی کی ادا کیگی
اللہ تعالی دی دہ مرحومی کامل مغفرت نصیب کڑی او خاندان تہ دی صبر جمیل نصیب کڑی

ایک جگہ شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب کے بتلائے گئے یہ نکات دیکھے، اچھےاور مفید لگے۔ یہ حضرت نے اپنےشاگرد...
19/08/2026

ایک جگہ شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب کے بتلائے گئے یہ نکات دیکھے، اچھےاور مفید لگے۔ یہ حضرت نے اپنےشاگردوں کےلئے ارشاد فرمائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1) ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کیا کرو۔
(2) کوشش کرو کہ پوری زندگی میں کوئی تمہاری شکایت کسی دوسرے انسان سے نہ کرے۔ پروردگار سے تو بہت دور کی بات ہے۔
(3) خاندان والوں کے ساتھ کبھی مقابلہ مت کرنا۔ نقصان قبول کر لینا ،مگر مقابلہ مت کرنا۔بعد میں نتیجہ خود مل جائے گا۔
(4)کسی بھی جگہ یہ مت کہنا کہ میں عالم ہوں۔ میرے ساتھ رعایت کرنا۔ یہ ایک غیر نامناسب عمل ہے۔کوشش کرو دینے والے بن جاؤ۔
(5) سب سے بہترین دسترخوان گھر کا دسترخوان ہے. جو بھی تمہاری نصیب میں ہوگا بادشاہوں کی طرح کھا لوگے۔
(6) اللہ کے سوا کسی سے امید مت رکھنا۔
(7) ہر آنے والے دن میں اپنی محنت میں مزید اضافہ کرنا۔
(8)مالداروں اور متکبروں کی مجالس سے دوری اختیار کرنا مناسب ہے۔
(9) ہردن صبح کے وقت صدقہ کرنا ،شام کے وقت استغفار کا ورد کرنا۔
(10) اپنی گفتگو میں مٹھاس پیدا کرنا۔
(11)اونچی آواز میں چھوٹے بچے سے بھی بات مت کرنا ۔
(12)جس جگہ سے تمہیں رزق مل رہا ہے اس جگہ کی دل وجان سے عزت کرنا۔جس قدر ادب کروگے ان شاءاللہ رزق میں اضافہ ہوگا۔
(14) کوشش کرو کہ زندگی میں کامیاب لوگوں کی صحبت میں بیٹھا کرو۔ ایک نہ ایک دن ضرور تم بھی اس جماعت کا حصہ بن جاؤگے۔
(15) ہر فیلڈ کےہنر مند کی عزت کرنا ،ان کے ساتھ ادب سے پیش آنا چاہئے ،خواہ وہ کسی بھی فیلڈ کا ھو۔
( 16) والدین ،اساتذہ اور رشتے داروں کے ساتھ جس قدر اخلاق کا معاملہ کروگے اس قدر تمہارے رزق اور زندگی میں برکت ھوگی۔
(17)ہر کام میں میانہ روی اختیار کرنا۔
(18) عام لوگوں کے ساتھ بھی تعلق رکھنا اس سے بھی بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا۔
(19) ایک انسان کی شکایت دوسرے سے مت کرنا، ہمارے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شکایت کرنے والے کو پسند نہیں فرماتے تھے۔
(20) ہر بات کو مثبت انداز میں پیش کرنا ،اس سے بہت سے مسائل حل ھو جائیں گے۔
21) بڑوں کی مجلس میں زبان خاموش رکھنا۔
آخر میں درج ذیل دعا سکھائی کہ مشکل وقت میں اہتمام کے ساتھ پڑھا کرو ان شاء الله بہت فائدہ ھوگا۔
"رَبَّنَا آتِنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً وَّهَيِّئْ لَنَا مِنْ أَمْرِنَا رَشَدًا۔۔۔۔۔"
سلدم شیرینگل دیر

سچے بے ایمان اور جھوٹے ایمان دار قاضی فضل اللہ شمالی امریکہبظاہر مذکور الصدر دونوں تراکیب اجتماع الضدین معلوم ہوتے ہیں ل...
19/08/2026

سچے بے ایمان اور جھوٹے ایمان دار
قاضی فضل اللہ شمالی امریکہ

بظاہر مذکور الصدر دونوں تراکیب اجتماع الضدین معلوم ہوتے ہیں لیکن غوروخوض سے پتہ چلے گا کہ اس کا معنی کیا ہے ،ممکن ہے آرٹیکل پڑھنے کے بعد سمجھ میں آجائے۔
عقیدہ ‘‘عقد ’’سے ماخوذ ہے اور عقد کا معنی ہے ‘‘گرہ باندھنا’’اور اس سے ہے ‘‘عقدہ ’’ جس کا معنی ہے گرہ۔بیع وشراء کو بھی عقد کہتے ہیں اور نکاح بھی عقد ہے ۔بیع میں جب بائع ایجاب کرے تو جیسا کہ اس نے خود کو باندھا،اگر مشتری نے مجلس عقد میں قبول کیا تو عقد ہوگیا۔اب بائع کہے کہ نہیں میں نہیں فروخت کرتا ،وہ بندھ گیا ہے اور مشتری نے بھی قبول کرکے خود کو باندھا ہے وہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ نہیں میں نہیں لیتا۔اب دونوں کے پاس صرف ایک راستہ ہے جس کو ’’اقالہ‘‘کہتے ہیں ۔اقالہ کا معنی ہے’’ بندھ یا بندھے ہوئے کو کھولنا‘‘
اقیلوا عن ذوی الھیئات عثراتھم (الحدیث)
کھولو ذی ہیئت (صاحب مرتبہ یا صاحب حیثیت )لوگوں سے ان کی ٹھوکریں۔
یعنی اگر انہوں نے ٹھوکر کھائی ہے تو ان کی ذمہ داری بڑی ہوتی ہے ،چھوٹی موٹی لغزشوں پر ان کی گرفت نہ کرو کہ ایسے میں تو پھر کوئی حیثیت کو قبول کرنے والا نہیں ہوگا۔قاضی سےاگر لغزش ہوگئی اور ریاست نے اس کو سزا دی تو پھر کون ہے جو قضاء کو قبول کرے گا ۔ایک ضبط اس حدیث میں ’’اقلوا‘‘کا ہے جس کا معنی ہے کہ کم کرو ان سے ان کے عثرات ،یعنی ان کو زیادہ ٹھوکریں نہ کھانے دو ،یعنی انکو زیادہ ٹھوکریں کھانے والے حالات میں دھکیلو۔یا ’’عثرات ‘‘بمعنی مشکلات ہے کہ ان کے لیے ان کے مشکلات حل کرویا کم کرو۔
اور ’’عقیدہ ‘‘جو مصطلح ہے وہ بھی گرہ باندھنا ہے یا خود کو ایک تصور کے ساتھ باندھنا ہے یا خود کو معتقدات کے ساتھ باندھنا ہے یا خدا کے ساتھ، یا کسی تصور کو دل کے ساتھ باندھنا ہے ۔
سو عقیدہ
Belief is to be sure of what you hope certain of what you do not see
یعنی جس کی توقع کرتے ہیں اس پر یقین اور جو نہیں دیکھ پاتے اس پر ایقان۔
ایک لفظ جو اردو مصطلحات میں مستعمل ہے اور زیادہ تر دینی حلقوں میں استعمال ہوتا ہے کہ فلاں سے عقیدت ہے یا فلاں کا عقیدت مند ہے، تو یہ تقریباً عقیدے کی حد تک کی محبت ہے۔یعنی نہایت ہی محبت اور وہ بھی متعلقہ بندے کی علمی اور عملی صفت کی وجہ سے۔اور یہی وجہ ہے کہ عقیدت مند کے سامنے متعلقہ بندے کی خامی یا غلطی کی بات کی جائے تو وہ اسے ماننے کے لیے تو بالکل بھی تیار نہیں ہوتا بلکہ مرنے مارنے پر اتر آتا ہے کہ وہ محبت اس کے نفس ناطقہ پر ثبت ہے ،وہ یہ بات کیسے برداشت کرے ،حتی کہ اگر خود بھی اس کو اس بندے کی کوئی خامی معلوم ہو تو وہ اس میں تاویل کرتا رہتا ہے کہ اس کی عقیدت اس کو غلط ماننے کی اجازت نہیں دیتی کہ اس کی اس کے ساتھ عقیدت کی وجہ سے اس کی نظر میں اس کو ایک وجہ عصمت یا تقدیس بلکہ تنزیہ حاصل ہے ،اور یہی چیز پھرشرک میں دھکیل دیتی ہے ،جبکہ عقیدہ کا مسئلہ یہ ہے کہ معصوم صرف انبیاء ہیں، جبکہ منزہ صرف ذات خداوندی ہے۔
عقیدت کو جب دائرہ میں نہ رکھا جائے تو وہ شرک کی حدوں کو چھونا شروع کرتا ہے اور بعض اوقات بندہ شرک میں گر ہی جاتا ہے اور اسے پتہ ہی نہیں لگتا
وما یومن اکثرھم باللہ الا وھم مشرکون
وجہ یہ ہے کہ عقیدت آنکھوں پر بھی پردہ ڈال دیتا ہے اور قلب دوماغ کو بھی ماؤف کردیتا ہے اور جس کے ساتھ عقیدت ہو اگر وہ ہی یہی چاہتا ہے اور خوشی سے پھولا نہیں سماتا تو وہ تو بزعم خویش ایک چھوٹا خدا بن جاتا ہے، او ریہ چیز بت پرستی سے بھی زیادہ خطرناک ہے کہ بت میں تو نہ حس ہے نہ حرکت ہے اور نہ حیات ہے لیکن یہاں تو ایک جیتا جاگتا بندہ ہے، اور وہ بھی ایسا کہ اسے کرتب آتے ہیں جس سے وہ اپنے عقیدت مندوں کو مزید ورغلا سکتا ہے اور وہ بھی تو اندھے ہیں۔
بہر تقدیر تو بات عقیدے کی ہورہی تھی کہ عقیدہ کی اپنی وضع اس کی مقتضی ہے کہ اس میں کسی شک ووھم وغیرہ کی گنجائش نہیں ہوتی یہ یقین واذعان کا نام ہے ۔اسلام پر ایمان عقیدہ ہے اور ایمان کے حوالے سے حسن بصری کا قول ہے
لیس الایمان بالتمنی ولا بالتحلی ولکن الایمان ماوقر فی الصدر وصدقہ القلب
ایمان نہ آرزو سے ہو، نہ ظاہری حلیہ بنانے سے ،بلکہ ایمان تو وہ ہے جو سینہ میں قرار پکڑے اور دل اس کی تصدیق کرے۔
ایک اور چیز نظریہ ہے ۔علم منطق میں نظر کاذکر ہوتا ہے جو فکر کے مترادف ہے اور اس کا معنی ہے:
ترتیب الامور المعلومۃ لتحصیل المجھول
معلوم امور کو مجہول کے حصول کے لیے ایک ترتیب دینا۔
یعنی مقدمات مرتب کرنا کہ اس سے ایک نتیجہ حاصل ہو۔اب اس قسم کے کئی سارےانظار کو اکٹھا کرکے منظم اور مرتب کیا جائے تو اس کو‘‘نظریہ’’کا نام دیا جاتا ہے اور یہ سیاسی مصطلح ہے ،اور اسی کے اساس پر سیاست کی جاتی ہے کہ لوگوں کو بتایا جاتا ہے کہ یہ ہمارا نظریہ ہے اور ان کو اس کے لیے راغب کیا جاتا ہے تاکہ وہ ساتھ دیں۔
اب یہ نظریہ کچھ بھی ہوسکتا ہے مثلاً سرمایہ دارانہ نظام ایک نظریہ ہے ،اشتراکیت ایک نظریہ ہے کہ اس کی طرف لوگوں کو بلایا جاتا ہے اور لوگ بھی ساتھ ہوہی جاتے ہیں او راس کے اساس پر انقلاب بھی لایا جاتا ہے یا حکومت بھی قائم کی جاتی ہے ۔پھر نظریہ جیسا بھی ہو جب اس کو ایک جگہ اقتدار مل جائے تو یہ اپنی وضع کے اعتبار سے پھر پھیلنا بھی چاہتا ہے تاکہ یہ باقی بھی رہے اور پھلے پھولے اور پھیلے ،کیونکہ یہ اگر برآمد نہیں کیا جاتاتو پھر یہ سکڑنا شروع ہوجاتا ہے اور سکڑ سکڑ کر کمزور ہوجاتا ہے او رپھر اقتدار بھی کھوبیٹھتا ہے اور بعد ازاں یہ ایک تصور اور فلسفہ رہ جاتا ہے نظام نہیں رہتا ہے۔ہاں یہ ہے کہ اسے بطور ایک سائنس کے پڑھایا بھی جاتا ہے ،اس کا تجزیہ بھی کیا جاتا ہے ۔
یہ اقتدار کیوں کھو بیٹھا ؟
اس کے وجوہات بھی بیان کیے جاتے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ یہ چونکہ انسانی انظار وافکار کا ایک مجموعہ ہوتا ہے اور انسان کا علم تو محدود بھی ہوتا ہے اور احوال وظروف اور زمان ومکان حتی کہ تعصب او رجانبداری سے متاثر بھی ہوتا ہے اور اس کے تو نہاد ہی میں اس کے جلد یا بدیر ناکام ہونے کے وجوہات موجود ہوتے ہیں کہ مخلوق کے فنا ہونے کا مواد تو اس کی ساخت میں موجود ہوتا ہے۔
اب دوسری جانب اسلام اور اس کا نظام ہے۔تو یہ تو اللہ کا دین ہے جو خاتم النبیین ﷺ لے آیا ہے ۔اللہ کا علم محیط ہے ،اس کی قدرت کامل ہے ،اس کا دیا ہوا نظام اور قانون زمان ومکان اور احوال وظروف سے تو متاثر نہیں ہوتا ہے ،نہ اس میں تعصب ہے ۔سو یہ اس حوالے سے نظریہ تو نہیں کہا جاتا کہ انظار وافکار کا مجموعہ ہو کہ وہ تو انسان کے افکار وانظار ہوتے ہیں ،البتہ آج کی سیاسی دنیا میں اور جب سے دنیا کے مختلف خطوں میں اسلامی انقلاب یا اسلامی نظام کے نفاذ کے نام سے تحریکات وتنظیمات اٹھی ہیں تو اس نظام کے لیے نظریہ کا اصطلاح استعمال ہوتا ہے۔نظریہ جو ایک سیاسی مصطلح ہے سرمایہ دارانہ نظام کے حاملین نے تو کم استعمال کیا ہوگا البتہ اسلامی انقلاب کے داعی اور اس طرح سرمایہ دارانہ نظام کے مقابلے میں وجود میں آنے والی اشتراکیت نے نظریے کے مصطلح کو خوب رواج دیا۔بلکہ اگر یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ اشتراکیت کا حصہ اس مصطلح کی ترویج میں زیادہ ہے اور اس کی وجہ یہ تھی کہ اشتراکیت سرمایہ دارانہ نظام کے مقابلے میں وجود میں آیا کہ اس کے بانیان اینجلز او رپھرخصوصاً کارل مارکس نے اس فلسفے ،اس سائنس اور اسی نظام کو متعارف کروائے اور اس کے قبول کروانے کے لیے سرمایہ دارانہ نظام کا وہ مطالعہ کیا کہ شاید اس کے حاملین نے بھی اتنا گہرا کیا ہو کہ اس نے اسے رد کرنا تھا ،اور کسی بھی فکر کو رد کرنے کے لئے اس کا گہرا اور عمیق مطالعہ ضروری ہوتا ہے۔مشرکین نے جب قرآن کریم او ررسول پاکﷺ سے انکار کیا تو اللہ نے فرمایا:
بل کذبوا بما لم یحیطوا بعلمہ ولما یاتہم تاویلہ(یونس)
بلکہ انہوں نے تکذیب کی اس کی کہ جس کے علم پر یہ احاطہ نہیں کرچکے اور ابھی تک ان کو اس کی تاویل بھی نہیں آئی۔
اور قیامت میں اس سے کہا جائے گا:
اکذبتم بآیاتی ولم تحیطوا بہا علما
تو تم تکذیب کرچکے میرے آیات کی جبکہ تم اس پر علم کے اعتبار سے احاطہ بھی نہ کرچکے تھے۔
البتہ نظریہ ترویج کے ساتھ پھیلاؤ بھی چاہتا ہے اگر اسے قدرت ملے تو،اوراشتراکیت کے حوالے سے ہم اس کا مشاہدہ کرچکے ہیں کہ سوویت یونین اپنے نظریہ کو فکری، نظریاتی، سیاسی او رنظامی طور پر بھی برآمد کرتا رہا اور ساتھ ساتھ قریب کے ممالک پر یلغار کرکے انہیں ساتھ ملاتا رہا، اور ظاہر ہے وہاں اس نظریے کو نافذ کرتا رہا اور ظاہر ہے کہ یہ بھی جب ضد ہی سرمایہ دارانہ نظام کا تھا تو مغرب جو سرمایہ دارانہ نظام کا حامل تھا وہ اسے اپنے لیے خطرہ محسوس کرتا رہا۔ لہذا وہ ایک کوشش تو یہ کرتے کہ اس کا راستہ روکا جائے اور ساتھ یہ بھی کہ اس کے اس نظریے او رنظام کی ترویج نہ ہو، لہذا جہاں تک ہوسکتا تھا تو وہ بھی اپنی فکر برآمد کرتے کہ ہمارا یہ نظام اپناؤ ورنہ جس بھی نظام میں اشتراکیت کا رد اور مقابلہ ہوسکتا تھا وہ اسے سپورٹ دیتے رہے جب تک کہ وہ دوسرا نظام ان کے فکر کے لیے خطرہ نہ ہو ،مثلاً وہ کئی ایک ممالک میں اسلامی انقلاب کا نعرہ لگانے والوں کو بالواسطہ سپورٹ دیتے تاکہ اشتراکیت کا راستہ روکا جائے ،نہ یہ کہ اسلام نافذ ہوجائے ،اس لیے تو وہ ڈائریکٹ سپورٹ نہ دیتے ،ان ڈائریکٹ سپورٹ دیا کرتے اور وہ بھی اشتراکیت کا راستہ روکنے کی حد تک ،یعنی یہ کہ نعرہ تو زندہ رہے اسلام کا کہ اشتراکیت تو نظریہ تھا اور اس کا راستہ بھی نظریہ ہی روک سکتا تھا،لیکن اسلام نافذ نہ ہو کہ وہ تو مغربی سیاست کی ضد ہے کہ اس کی سیاست کی تو بنیاد ہی ریاست اور مذہب کی جدائی ہے۔گویا اس حوالے سے سرمایہ دارانہ نظام بھی ایک نظریہ ہے جو پھیلاؤ چاہتا تھا اور چاہتا ہے، او ریہی وجہ ہے کہ مغرب اور سوویت ایک دوسرے کے مقابلے میں دو مخالف قوتیں تھیں تو کسی کو سپورٹ کرتے ،لیکن اسلام کی بطور نظام بات آجاتی تو دونوں مختلف طریقوں سے اس کا راستہ روکتے رہے۔
نظریہ چونکہ جغرافیائی سرحدات سے ماوراء ہوتا ہے لہذا وہ عالم انسانیت کو ایک اکائی کے طور پر دیکھتا ہے اور ایک نظریہ کے حامل مختلف ممالک بلکہ مختلف براعظموں میں بھی ہوں تو وہ ایک دوسرے ،اگر علاقات نہ بھی رکھ سکتے تھے کہ کسی زمانے میں اتصالات کے موجودہ سہولتیں تو میسر نہ تھیں لیکن ایک نظریہ کے حامل تنظیمیں اور تحریکات آپس میں ایک دوسرے سے ایک لگاؤ رکھتی تھیں اور اس طرح ریاست کی اس حوالے سے جو بھی پالیسی ہوتی تھی یا ہوتی ہے یہ تحریکات او ر تنظیمیں خود کو اس دوسری ریاست میں اس نظریہ کے حامل تنظیم اور تحریک کے ساتھ خود کو زیادہ قریب سمجھتے تھے اور سمجھتے ہیں، جبکہ اپنی ریاست کے جغرافیائی حدود سے خود کو آزاد سمجھتے ہیں اگر چہ یہ معاملہ کچھ دیر کے لیے ہوتا ہے۔ یعنی جب کوئی نیا واقعہ رونما ہوتا ہے تو اپنی ریاست کی پالیسی سے صرف نظر کرکے اس تنظیم یا تحریک کے حق میں جلسہ جلوس وغیرہ کرجاتے ہیں ،یہی معاملہ قوم پرستی کا بھی ہے کہ اقوام تو مختلف ہوتی ہیں لیکن قوم پرستی قوم پرست سے تحریکات کے درمیان قدر مشترک ہوتا ہے لہذا وہ ایک دوسرے کے ساتھ لگاؤ رکھتے ہیں ۔قوم پرستی کا تصور تو اصلاً یورپ اور مغرب کا پیدا کردہ ہے اور اشتراکیت جو وہاں کے سرمایہ دارانہ نظام کے مقابلہ میں پیدا ہوا اس میں توعمومیت اور انسانیت کا تصور اساسی تھا کہ امتیازات نہیں مساوات، اس لیے تو انہوں نے نہ مذہب کو اہمیت دی، نہ قومیت کو اور نہ مذہبی خطوں او رمنطقوں کو۔انہوں نے بھی تقسیم تو کی لیکن بورژوا اور پرولتاری کی ،کہ ایک وہ لوگ ہیں جو وسائل پر قابض ہیں ،اور دوسرے وہ جو کسان ہیں ،مزدور ہیں یا بالفاظ دیگر محروم ہیں۔لیکن مسئلہ تو وہی اپنے مفاد کا ہوتا ہے لہذا اشتراکیت یعنی سوویت نے قوم پرست تحریکات کو گود لیا ،ان کو متبنی بنایا اور ان کی رضاعت کرنی شروع کردی کہ ان ممالک میں مسلط حکومات مغرب کی پروردہ ،ا نکی مسلط کردہ یا ان کی تائید سے آئی بھی تھیں او رچل بھی رہی تھیں اور ان کے افکار ونظریات او رپالیسیوں کی محافظ تھیں ،جبکہ وہاں پر قوم پرست تحریکات ان کے خلاف تھیں تو سوویت ان کو سپورٹ کرتا رہا، جبکہ کسی دوسری جگہ پر حکومت اگر سوویت بلاک سے تعلق رکھتی تھی اور وہاں پر کوئی تحریک یا تنظیم اس کی مخالف ہوتی تو اس کو مغرب او ر امریکہ سپورٹ دیتا رہا۔یعنی بالفاظ دیگر اپنے نظریہ کی ترویج یا اس کا پھیلاؤ،اب یہ باتیں کوئی ڈھکی چھپی تو نہ ہوتیں اس میدان کا ہر بندہ اس کو سمجھتا رہتا ہے ۔
اب قوم پرستی کا تصور بلکہ قومی ریاستوں کا تصور بھی بھی مغرب کا دیا ہوا ہے اور وہ مسلط تو ہے کہ معیشت ان کی مضبوط ہے ،ٹیکنالوجی میں وہ آگے ہیں ،عسکری قوت ان کی زیادہ ہے اور کسی حد تک آزادیاں بھی وہاں میسر ہیں۔ تواو ل الذکر تین کو آپ مادی کہیں کہ ان کی مادی حیثیت برتر ہے اور مؤخر الذکر یعنی نسبتاً ایک اچھی گورننس کی فراہمی کو کسی حد تک روحانی سمجھیں، لیکن ایک جانب نظریہ کا تصور اور دوسری جانب قومی ریاست کا تصور جو کہ جغرافیائی سرحدات تک محدود بلکہ اس میں محصور ہے ۔یہ ایک قسم کے ہلچل کا باعث بنتا ہے ۔انسان کے اندر اور بعض اوقات بندہ گھٹن محسوس کرتا ہے اور جب باہر کوئی ایشو پیدا ہوجس کا تعلق نظریہ سے ہو تو اس وقت یہ بغاوت جیسا تصور ابھر آتا ہے کہ بندہ پھر اپنی ریاست کی پالیسی کے خلاف بیان دے دیتا ہے ،یعنی اس نظریہ کی تائید میں اور یہاں پر پھر وہی بات آجاتی ہے غداروں کی کہ یہ فلاں غدار ہے۔ مغرب جہاں کسی نہ کسی صورت جمہوریت عملی ہے اور جمہوریت کے عناصر میں آزادی ،مساوات اور حقوق ہیں تو یہ کچھ نہ کچھ ہیں جبکہ مکمل کا تو نہ تصور ہوسکتا ہے او رنہ ہوتے ہیں ،البتہ وہاں آپ ریاست کی پالیسی سے اختلاف کریں تو فوراً نہ آپ کو غدار کہا جاتا ہے،نہ آپ کا گلا گھونٹا جاتا ہے اس کو آپ مغربی جمہوریت کے اخلاقیات کہہ سکتے ہیں ،البتہ یہ آفادی ہیں یعنی وہ سمجھتے ہیں کہ اسی سے فائدہ ہوتا ہے ،اور ظاہر بات ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کی تو عمارت ہی افادیت پرکھڑی ہے کہ یہ کروں لیکن اس میں فائدہ کیا ہے کہ یہ نظام اساساً ذات کے گرد گھومتا ہے، یعنی میرا فائدہ ،نہ یہ کہ کسی اور کا فائدہ یا اجتماعی فائدہ،اس میں جہاں اجتماعی فائدہ بھی اگر نظرآرہا ہوتا ہے تو وہ بھی اس لیے ہے کہ اس سے ذاتی فائدہ ہوتا ہے، یعنی اس نظام میں گھاٹے کے سودا کا کوئی تصور نہیں ہوتا ہے۔اور یہ اس وجہ سے کہ مغرب نے اولاً تو چرچ اور سٹیٹ یعنی مذہب اور سیاست میں تفریق کردی اور پھر بعد ازاں اخلاق اور سیاست میں تفریق کردی ۔اولاًکہا کہ مذہب کو ریاست میں داخل نہ کریں ،بالفاظ دیگر ریاست اور سیاست کو لامذہب اور بے اخلاق بنادیں اس لیے ہم نے ان کے جمہوریت کے کچھ اصول کو اخلاقیات کا نام تو دیا لیکن فوراً اسے افادی کہا۔افادیت کے لیے تو وہ کبھی کبھار مذہب کا بھی سہارا لے لیتے ہیں ،پشتو میں ایک متل ہے کہ
‘‘خر یار کہ مطلب پرے بار کہ’’
‘‘یعنی گدھے کو یار کرو اور اس پر اپنا مطلب لاد دو’’
بالفاظ دیگر خود غرضی اور خود غرضی ،بالفاظ دیگر کمینگی۔
اور مقابلے میں اشتراکیت کہ اس نے تو سرمایہ دارانہ نظام میں اپنائے جانے والے افادی اخلاقیات کا بھی تیا پانچہ کردیا کہ اس نے اس کے مرحلے متعین کیے ،اول الذکر میں مذہب اور اخلاقیات کی نفی کہ یہ بھی استحصال ہی کےلیے استعمال ہوتے ہیں ،ان کے ہاں کمیونزم کا نفاذ مقصد ہے اور باقی چیزوں کی اس کے مقابلے میں کوئی اہمیت نہیں ،لہذا اس کے لئے ہر دغا،فریب ،حربہ اور ہر ہتھیار استعمال کرنا جائز ہے ۔اس کے لیے لاکھوں انسانوں کا خون ہوجائے لیکن کمیونزم نافذ ہو تو یہ صحیح ہے کہ
الاعتبار للخواتیم
اور اس خون خرابے کا خاتمہ کمیونزم کے نافذ ہونے پر ہوا جو ان کے ہاں ایک ایک ختمی خیر ہے ۔انہوں نے کہا جاگیرداروں اور صنعت کاروں کو آپس میں لڑاؤ ،اس سے عوام میں سیاسی شعور آجائے گا جس سے کمیونزم کے لیے راستہ نکل آئے گا ۔وہ کہتے ہیں جھوٹ سچ اور صحیح وغلط کے وہاں باقی سارے پیمانے غلط ہیں بس صرف وہ صحیح ہے جسے کمیونزم صحیح کہے ،اپنے نفاذ سے پہلے بھی اور اس کے بعد بھی ۔وہ کہتے ہیں اخلاق واقدار استحصالی طبقہ کا اسلحہ یوثروائی تصورات ہیں ۔سو سرمایہ دارانہ نظام نے بھی کہا کہ اخلاق صرف وہ جو ہماری فکر اور نظام کے لیے خطرہ نہ ہو، باقی اخلاقیات کو اجتماعی زندگی میں داخل نہ کرو کہ اخلاقیات کا داخلہ ہوگا تو مذہب آجائے گا اور مذہب سے تو ہم نے چھٹکارا حاصل کیا ہے کہ یہ ہر فرد کا شخصی معاملہ ہے ۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جہاں جہاں اس کے کسی تصور سے ہماری مقصد برابری ہورہی ہو اس حصے کو بصورتے یابدیگر استعمال کرجائیں گے اور جہاں جہاں یہ ہمارے لیے رکاوٹ ہو تو یہ پیٹنٹ جملہ کہ مذہب شخصی معاملہ ہے ،اجتماعیت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہونا چاہئے ،جبکہ اشتراکیت نے تو اخلاق اور مذہب کی بالکل پہلے مرحلے میں نفی کی،اور اخلاقیات سے چھٹکارا اس لیے کہ پابندیاں ختم یا کم از کم ہوں اور یوں برسراقتدار ٹولے اور ان کے حواشی واشرافیہ کے اللوں تللوں پر کوئی قدغن نہ ہو۔یعنی بالفاظ دیگر یہ سارے انسانی نظام ،عوامی فلاح سے زیادہ سیاسی ضروریات کے لیے لائے گئے اور وہ بھی ایک مخصوص طبقہ یا طبقات کے مفاد کےلئے۔عوامی فلاح یہ ہے کہ عام آدمی کی زندگی آسان ہو، جبکہ سیاسی ضرورت یہ ہے کہ اشرافیہ برسراقتدار رہے اور وجہ اخلاقیات کا نہ ہونا یا اخلاقی کمی اور کمزوری ہے کہ اخلاقیات کے لیے رہنما کے کردار کی ضرورت ہے اور رہنما یا رہنماؤں کا کردار عالی ہو تو اس کا لازمی نتیجہ عوام کی اخلاقی بہتری ہوتا ہے ،کہ لوگ راہنماؤں کی اتباع اور نقل اتارتے ہیں ،نیز یہ بھی کہ اخلاقیات تو اپنی وضع میں تجرد اور روحانیت کے حامل ہیں لہذا ایک غیر مرئی طریقے سے یہ نیچے عوام پر اثر ڈالتا ہے ۔شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ اس کو ملأاعلیٰ کے دعاؤں کا اثر ،پرتو ،انعکاس کہتے ہیں کہ رہبر ان کے عالی اخلاق کی شعاعیں اوپر جاتی ہیں تو وہاں سے وہ اس کا پرتو معاشرہ پر منعکس کرواتے ہیں اور اس طرح بداخلاقی اور برے کردار کا معاملہ بھی ہے کہ اخلاق نام ہے شعور بندگی اور اللہ اور انسانوں کے ساتھ تعلق کے اطلاق کا اور اس کے تین پہلو ہیں:
۱۔روحانی کہ اس کے ذریعے اللہ سے تعلق مضبوط ہوجاتا ہے کہ اللہ ذات مجرد ہے اور اخلاقیات میں بھی تجرد ہے۔
۲۔جمالیاتی کہ اس سے ظاہر وباطن میں جمال اور حسن آجاتا ہے۔
۳۔افادی کہ اس سے دنیا اور آخرت دونوں میں فوائد ملتے ہیں بلکہ اس کے دنیوی فوائد سے تو دیگران کو بھی فائدہ مل جاتا ہے۔
اخلاقیات بندے کو خلوت میں روشن رکھتا ہے ،تو جلوت تو پھر اس سے روشن ہو ہی جاتی ہے او راخلاقیات درحقیقت اللہ اور روز آخرت پر عقیدہ رکھنے سے پیدا ہوتے ہیں کہ یہ دونوں تصورات وعقائد جواب دہی اور مجازاۃ کا کا تصور دیتے ہیں ،لہذا بندہ الرٹ رہتا ہے۔یوں بندے کا اپنے باطن سے تعلق مستحکم ہوتا جاتا ہے ،یعنی نفس ناطقہ سے اور وہی تو اصل انسان ہے۔
جبکہ اس کے مقابلے میں آج کی مروجہ سیاست ہے ،یہ بندے کو ظاہر پرست بنادیتا ہے او ریوں بندہ باطن سے مکمل کٹ جاتا ہے یا باطن سے اس کا علاقہ کمزور ہوجاتا ہے ،البتہ سیاسی بندے کا اللہ سے تعلق مضبوط ہو تو پھر اسے سیاست کا کشش ثقل اپنے طرف نہیں کھینچ پاتا کہ اس کا وزن اس کشش کی قوت سے زیادہ ہوتا ہے، لہذا وہ اس میدان میں ہوکے بھی ظاہر پرست نہیں بنتا، نہ اس کے اطوار اور طرز زندگی بودوباش ورہائش وغیرہ میں کوئی نمایاں فرق واقع ہوتا ہے کہ وہ حقیقت کے قریب رہتا ہے،اصل حقیقت سے اس کا تعلق رہتا ہے اور وہ حقیقت پرست رہتا ہے ،حقائق کی دنیا میں رہتا اور حقائق کی بات کرتا ہے ،وہ باتیں بناتا نہیں اور یہ بات اسے اس کا باطن بھی بناتا رہتا ہے ،کہیں اس سے بھول چوک ہو بھی جائے تو اس کا باطن فوراً اسے مطلع کرجاتا ہے اور وہ یوٹرن لے لیتا ہے ۔یہ اس لیے کہ آخرت اور حساب ومجازاۃ پر عقیدہ بندے کو رعونت سے اور فرعون بننے سے روکتا ہے، جبکہ محض سیاسی بندے سے اگر آپ بھی حقائق کی بات کرنا شروع کریں تو وہ بڑی چالاکی سے گفتگو کا منہ موڑ لیتا ہے اور لفاظی سے کام لیتا ہے، یا خود ساختہ اختراعی مکارانہ لیکن جاہلانہ فلسفے سے پتلی گلی سے نکل جاتا ہے ،لیکن تابہ کے ،
ان اللہ کان علیکم رقیبا
اللہ تو ہر ایک کی نگرانی کرتا رہتا ہے۔
ومااللہ بغافل عما تعملون
اور اللہ تمہارےاعمال سے بے خبر نہیں ہے۔
اب عامۃ الناس کا اخلاقی معیار کیسے بلند ہو؟
تو ہم نے ذکر کیا کہ سیاست تدبیر امور اور اصلاح احوال کا نام ہے ،لہذا سیاست کے میدان سے اخلاقیات کو چلتا نہیں کرنا جیسا کہ انسان کے ساختہ نظاموں نے کیا ہے اور اس کی حشر سامانیاں ہمارے سامنے ہیں ۔یعنی سیاست اور ریاست تمام انسانی علوم میں سب سے بالا ہے کہ معاشرے کے سارے پہلوؤں کا تعین ،امور کی تدبیر اور احوال کی اصلاح کرتا ہے کہ اس کا مقصد ہی ایک پرامن اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے۔سو اخلاقیات کے کے لیےکم از کم بنیادی ضروریات کی فراہمی ضروری ہے کہ معیشت پر زندگی موقوف ہے اور اخلاقیات کے لیے تو زندہ افراد اور زندہ معاشرہ ضروری ہے ۔اب بھوک سے مفلوک الحال لوگ اور معاشرہ تو مردہ یا کم از کم نیم مردہ ہوتا ہے ۔خشک لکڑی مردہ ہوتی ہے لہذا اس میں تو الیکٹرک کرنٹ بھی نہیں گزرتا تو مردہ افراد یا معاشرہ میں اخلاقی کرنٹ کیسے سرایت کرے گا ،اور ایسے ہی معاشرے ہوتے ہیں جو پھر خود معاشرتی لیول پر برقرار نہیں رکھ سکتے ۔یہ معاشرے شکست وریخت ،افراتفری ،خانہ جنگی او رخون خرابے کا شکار ہوجاتے ہیں کہ یہ مردے کی طرح ہے اور کہتے ہیں کہ
For how long one can carry the dead bodies
کہ کب تک کوئی مردہ باڈیز کو اٹھا کر پھرے گا؟
ایسے میں لوگ پھر وہاں کی حکومت کو خاطر میں نہیں لاتے کہ ان کے ذہن میں ایک فطری تصور ابھر آتا ہے کہ
The utility of govt is now over
اب حکومت کا استعمال (اور تصور)بے معنی ہوگیا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ نہ ضروریات فراہم ہیں ،نہ انصاف اور نہ امن ،اور نہ ہمیں بولنے کا حق ہے ،نہ ہمارے بولنے کا کوئی اثر ہے کہ معاشرہ مردہ ہے، اور جیسا کہ ڈیڈ باڈی تو تعفن پیدا کرتا ہے ،اس طرح ایسا معاشرہ گھٹن پیدا کرتا ہے اور سانس ڈوبنا شروع ہوتا ہے ۔اب افراد میں اتنی زندگی تو کم از کم ہے کہ اسے باقی رکھنے کے لیے ہاتھ پاؤں مارے اور ایسی حالت میں جب زندگی خطرے میں ہو وہ ہاتھ پاؤں مارنا پورے زور سے بھی ہوتا ہے اور بے ترتیب اور بے نظم بھی،جو کہ پھر تباہی لے آتا ہے۔
سوملک کے لیے سماجی اور معاشرتی اخلاق ،سیاسی انتظام ،معاشی استحکام اور دفاعی مضبوطی ضروری ہے جس میں آج کے دور میں سائنس وٹیکنالوجی ،آئی ٹی اور اے آئی کا بہت بڑا حصہ بلکہ بنیادی حصہ ہے ۔جن کے پاس نہ ہو وہ خطرات میں گرے ہوئے ہونگے اور قوم کے لیے یہ کہ ‘‘عام آدمی کی زندگی میں کیا بہتری آئی ہے‘‘صرف یہ نہیں دیکھا جاتا کہ حکومت نے کتنے روڈز او رپل بنائے کہ قوم کو مطمئن کرنا لازمی ہے ۔تاریخ اور جغرافیہ کی اہمیت سے انکار نہیں لیکن اصل چیز معروضی حالات میں تصور حیات پیدا کرنا ہے تاکہ لوگ زندہ رہیں ،تہذیبیں ہمیشہ اپنے لوگوں کے ہاتھوں دم توڑتی ہیں ۔انسان تاریخ اور قومی شناخت سے وابستہ رہتا ہے ،روایات کی پاسداری او رتاریخی حوالوں کی صداقت سے اس کا محبت کا رشتہ ہوتا ہے ،اخلاقیات ،تمیز اور تہذیب کا ایک جملہ منہ بند کردیتا ہے یعنی اس میں قومیت پسندی ہے جو فی نفسہ بری چیز تو نہیں لیکن اس کو وجہ امتیاز او رپھر تعصب کا سبب بنانا انسان اور انسانیت کے ساتھ بڑا ظلم ہے۔
حکومت عوامی اور ذمہ دارانہ ہو تاکہ شہری آزادی ،سلامتی اور سکون کی فضا فراہم ہو ۔
اب ذمہ دارانہ اور عوامی حکومت کیا ہے؟
وہ جو عوام کی رائے سے آئے ،آئین ،قانون اور عوام کے سامنے جوابدہ ہو اور اس کی پالیسیوں میں ملک وقوم کے مفاد مقدم ہوں کہ اس سے پھر افراد ،معاشرہ ،رہن سہن ،معیشت اور زندگی مسلسل ترقی اور مثبت تبدیلیوں کی راہ پر گامزن ہوتے ہیں۔قومیت اور آزادی کی تحریکات اصلاً تو سرمایہ دارانہ نظام نے پیدا کیے کہ معاشرہ گھٹن کے شکار تھے کہ ریاست اور چرچ ایک دوسرے کے معاون بنے ہوئے تھے اور وہ بھی ایک دوسرے کی کارستانیوں میں ،اب چرچ زیادتی کرے و ریاست تدارک کرے اور ریاست ظلم کرے تو چرچ سے آواز اٹھے ،لیکن جب دونوں ایک ہوگئے تو یوں تو ظلم دو آتشہ کیا کئی آتشہ ہوگیا ،یعنی سچے بےایمان اور جھوٹے ایمان دار ایک ہوگئے تھے۔
جب دنیا ایسے سچے بے ایمان اور جھوٹے ایمان داروں میں پھنسی ہوئی ہو تو کیا اس سے دنیا میں کسی خیر وفلاح کی توقع ہوسکتی ہے، یا جیسا کہ ہمیشہ عام انسان جھوٹ ،منافقت ،مکاری ،فریب اور دغا بازی کی بھٹی میں راکھ ہوتے رہے ہیں ہوتے رہیں گے؟اس کا ایک خاموش جواب ہمیشہ موجود رہا ہے ۔تاریخ میں جہاں جہاں بڑی طاقتوں نے مداخلت کی ہے کہ ہم شر ختم کرنے کے لیے آرہے ہیں کہ وہاں پر جو حکومت میں تھے یا ان کے آنے کا احتمال تھا یا وہاں پر ان بڑی ہے ،طاقتوں کے مفادات تھے تو اس کے لیے ضروری تھا کہ جن سے ٹکر لینا تھا پہلے ان کی مٹی پلید کرنی تھی، تو پلید کردی کہ یہ آزادی کے دشمن ہیں ،مساوات نہیں کرنے دیتے ،انسانی حقوق پامال کررہے ہیں ،بچوں پر ظلم کررہے ہیں ،خواتین پر ظلم کررہے ہیں ،عوام کو حق حکمرانی نہیں دیتے ،جمہوریت نہیں لاتے ،ملک وقوم کے مال لوٹ کر بیرون ملک جائیدادیں بنادئے ہیں ،لوگ بھوکے مررہے ہیں ،یہ اور ان کے خاندان والے اور ان کے مشیر وحواشی عیاشیاں کررہے ہیں ،یہ چور ہیں بلکہ یہاں تک کہ کسی مسلمان ملک پر یلغار کرنا ہو تو کہتے ہیں اقلیتوں کو حقوق نہیں دیتے ،ان کی زندگی اجیرن کردی ہے ،ان کی جانوں کو خطرہ ہے ،جبکہ بعض ممالک میں اگر ایسا ہے بھی تو وہاں تو خود مسلمانوں کی زندگی بھی اجیرن ہوتی ہے ،ان کے جان ومال بھی محفوظ نہیں کہ وہاں پر امن وامان کا مسئلہ عمومی ہے ،اور کبھی کسی مسلمان ملک میں وہاں کی حکومت کے خلاف ملک کے اندر سے مذہبی لوگوں کو پمپ کردیتے ہیں کہ یہ اسلام نافذ نہیں کررہے اور
حالات اگر گھمبیر ہوجاتے ہیں اور وہ حکمران اپنی حکومت بچانے کے لیے کچھ رسمی قسم کےاعلانات کرجاتے ہیں کہ آج کے بعد ہفتہ وار چھٹی جمعہ کو ہوگی،احترام رمضان آرڈی نینس نافذ کردیتے ہیں جس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ ریسٹورنٹ کے دروازے پر سیاہ کپڑا لگادیتے ہیں کہ اس تاریک پردے سےآرڈی نینس پار نہیں گزرتا ،امتناع شراب آرڈی نینس نافذ کردیتے ہیں اور یوں غیر مسلموں کے نام پر لائسنس لینے کا چور دروازہ کھول کر انڈر دی ٹیبل بڑا اماؤنٹ افسر شاہی کے جیبوں میں جانے کا راستہ کھل جاتا ہے ،کوئی صلوۃ آرڈی نینس یا زکوۃ آرڈی نینس جاری ہوتا ہے جبکہ صلوۃ والے آرڈی نینس کی جلد چھٹی ہوجاتی ہے کہ اس سے کسی کو کیا ملتا ہے، جبکہ زکوۃ والا جاری رہتا ہے جس کی ذمہ داری حکمران طبقہ کے حواشی کو مل جاتی ہے جو اسے اپنے بھانجوں ،بھتیجوں ،کزنز ،رشتہ داروں اور احباب کو بانٹتے رہتے ہیں او رمزے کی بات یہ کہ اس کے اپنے والے حکومتی بالو اس کا چیک دینے کا کمیشن پہلے سے وصول کردیتے ہیں۔
بہر تقدیر اس پروپیگنڈے کے توڑ کے لیے حکومت ان رسمی کاموں کو اسلام کے نفاذ کا نام دے دیتے ہیں کہ شاید حالات کچھ نارمل ہوجائیں گے ،لیکن جنہوں نے یہ غلغلہ برپا کیا ہوتا ہے ان کو پیچھے سے دھکا لگایا جاتا ہے
کلما خبت زدناھم سعیرا
کے مصداق اس تنور کو پیچھے والے بھڑکاتے رہتے ہیں اور پھر انہی کی ایماء پر مارشل لاء جنرل آگے آکر اوور ٹیک کرجاتا ہے اور نشری تقریر سے پہلے ایک قاری گلے کو لمبا کھینچ کر تلاوت کرجاتا ہے کہ
ھوالذی ارسل رسولہ بالھدی ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ الخ
کہ یہ دین حکمرانی کے لیے آیا ہے ،اور ہمارے جیسے جذباتی اور سادہ لوح بلکہ بے ادبی معاف بے وقوف مسلمان اچھلنا شروع کردیتے ہیں کہ یہ لو اسلام آگیا۔بھائی اسلام نہیں آیا اسلام کے نام پر دھوکہ دیا گیا اور یہ دھوکہ آیا۔
تو بات کررہے تھے ان بڑی قوتوں کے یلغار کی کہ ان کے کسی ملک میں آنے جانے سے وہاں کے عوام کو کیا ملا سوائے افراتفری کے ،اور پھر جب یہ ایک ملک کو دوسرے پر ڈال دیتے ہیں تو دو مخالف قوتیں ایک ایک کو اپنا کر انہیں تھپکی دیتے ہیں اور اگر کسی مفلوک الحال کے ساتھ یہ قوت خود انوالو ہوئی ہے تو کیا اس کے مقابلے کی دوسری یا اس مفلوک الحال کو اسلحہ بیچ کر اس کا مزید بیڑا غرق کردیتےہیں۔
کیا اب کے معاہدہ میں کہیں غزہ اور فلسطین کا ذکر ہوا ؟کہ اصل معاملہ تو ان کا ہے ،باقی تو ان کے خون پر گرم کیے گئے تنور میں اپنی اپنی روٹی لگا کر پکاتے ہیں اور ان کی روٹی پک جائے تو وہ پتلی گلی سے نکل جاتے ہیں اور ان پر وہ تنور ویسے کا ویسا رہتا ہے۔جو لوگ القدس القدس اور قبلہ اول کی پکار کے نعرے لگاتے ہیں ان سے پوچھا جائے یا وہ پوچھیں کہ اس میں کون سے بند میں القدس کا نام ہے یا فلسطین کا نام ہے ؟اب اس کا مطلب یہ نہیں کہ معاہدہ اچھا نہیں ہوا، بہت اچھا ہوا کہ جنگ رک گئی ،ساری دنیا کی سانسیں رک گئی تھیں اور نسیں بند ہورہی تھیں، اور بات وہی ہے کہ سارا مسئلہ معاشیات کا ہے ،باقی مظلوم تو لیور ہیں بشمول اسلام اور القدس کے کہ اس سے جذبات ابھارے جاسکتے ہیں۔لیکن بات یہ ہے کہ مسلمان ہوش وحواس سے کام لیں ،کوئی ان کا نہیں حتی کہ ان کے اپنے حکمران اور اپنی حکومتیں بھی، بلکہ سارے اپنی اپنی قومی ریاستوں کے لیے سوچتے رہتے ہیں اور تو اور جو گروہ اسلام کے نام پر پھلتی پھولتی بلکہ اب تو پھٹتی ہیں کہ انہوں نے اس نام پر اتنا کمایا وہ بھی اپنے کو زندہ رکھنے اور پھلنے پھولنے کی حد تک اسلام کے علمبردار ہیں ۔ہاں ان میں لوگ خصوصاً نچلے درجے والے مخلص ہوتے ہیں ،لیکن نہ تو ان کا اپروچ ہے، نہ علم ہے نہ ان کو پتہ لگتا ہے کہ کیا ہورہا ہے اور لیڈران کیا کررہے ہوتے ہیں؟ وہ تو بس ایک دو جذباتی بیانات سے خوش ہوجاتے ہیں ۔اور یہی مسئلہ سیکولر گروہوں کا بھی ہے ،اس کے بھی لیڈرز سٹیج پر کھڑے ہوکر کہہ جاتے ہیں کہ اشرافیہ کے کتے مکھن کھاتے ہیں اور غریب کے بچے کو دو وقت کی روٹی میسر نہیں ۔اب بہت ہوگیا ان کے پیٹ پھاڑ کر یہ مکھن اور مرغے نکال کر آپ کو کھلائیں گے ،او رہم نعرہ بلند کرجاتے ہیں اور جلسے سے واپس آکر کہتے رہتے ہیں کہ آج تو خان صاحب ،سردار صاحب ،نواب صاحب یا دوسرے جو بھی صاحب ہیں اس نے فیصلہ کرہی دیا ۔ستر کے دہائی میں ایک دو لیڈرز ایسا کہا کرتے تھے تو میں نے ان کے فالورز سے کہا :ارے ابھی تو پھر بھی روکھی سوکھی کھاتے ہو جو پاک بھی ہے او رحلال بھی ہے یہ تو ان کے پیٹ سےان کا گوہ نکال کر تمہیں کھلانا چاہتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے تو یہ سوچا نہیں تھا۔
توگویاہمیشہ جھوٹے ایمان دار اور سچے بے ایمان دھندہ کرتے آئے ہیں اور ان کی پہچان مشکل سے ہوتی ہے کہ وہ ملمع کاری کرتے ہیں۔یہ دونوں مصطلحات ہی خبر دیتے ہیں ملمع کاری کی ،اس لیے تو قرآن کریم
ولکن اکثر الناس لا یعلمون
کہتا ہے کہ اکثریت اپنی جہالت یا مفاد کی وجہ سے معاملات سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کرتے ،جبکہ انسان کو تو عقل سے نوازا گیا اور ساتھ اسے نقل یعنی وحی بھجوائی گئی ۔یہ دونوں علم اور ہدایت کے ذریعے ہیں لیکن عقل تو تمام انسانوں کو دیا گیا ہے لہذا وہ خیر کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے اور شر کا بھی،بلکہ اس خواہشات اور مادیات کی دنیا میں تویہ زیادہ تر شر ہی کا ذریعہ بنتا ہے اور ہے ۔تو ایک ذریعہ علم کا اور علم ایک تو ہدایت والا ہے اگر اللہ کسی کو نصیب کرے اوردوسرا کائنات کا ہے ،اور ظاہر ہے کہ وحی تو دونوں کو شامل ہے کہ اس کائنات کو کیسے استعمال کرنا ہے ۔لیکن انسان پر چونکہ شر کا شعور اور جبلی تقاضے غالب آجاتے ہیں کہ رہتا وہ خواہشات اور مادیات کی دنیا میں ہے جو تعصبات ،تسابق اور حسد پیدا کرتی ہے۔ لہذا یہ علم اگر دین کا بھی ہو تو بسا اوقات یہ عالم اس کو بھی ان چیزوں کے لیے استعمال کرتا ہے اور علم تو چونکہ اساساً فکر ہی ہے تو علماء کی تعبیرات جو یا تو ان کے علم کے لیول سےآگے کے ہوتے ہیں تو جہل ہوتا ہے لیکن لیبل تو ان پر علم کا ہے یا پھر ان تعبیرات میں ان کے مفاد ،عناد ،تعصبات ،حسد کارفرما ہوتے ہیں تو کتنے فکری فتنے پیدا ہوئے ہیں،ہوتے ہیں اور ہوتے رہیں گے اور ظاہر بات ہے کہ فکر عمل پر لے جاتا ہے تو کتنے عملی فتنے پیدا ہوئے ہیں اور کتنی غارت گری ،خون خرابہ ،مقاتلات ،نفرتیں اور فرقے پیدا ہوئے ہیں ۔یہ تفسیق ،تبدیع وتکفیر کے فتوے اللہ کی پناہ!اور معاشرہ میں یہ چیزیں ہوں تو وہ معاشرہ خاک ترقی کرے گی کہ معاشرت کا اساسی تقاضا اخلاقیات ہے اور اخلاق کا ثمرہ جوڑ اور ہم آہنگی ہوتا ہے ،نہ کہ توڑ اور نفرتیں ،کہ امن وامان ضروری ہے ۔یہ ہوتو سماج پروان چڑھے گا ،معاشی سرگرمیاں ہونگی ،سیاسی استحکام ہوگا ۔گویا اخلاق اعمال کے محرک ہیں ۔
اسلام میں جو شریعت اور طریقت ہے یعنی مدرسہ ہے اور خانقاہ ہے تو مدرسہ کا کام علم کی ترویج ہے،اور خانقاہ کا کام اخلاق وکردار کی تربیت۔اب مدرسوں میں علم کی کتنی ترویج ہورہی ہے ،کتنے علم کی ہورہی ہے اور کس علم کی ہورہی ہے؟ اور خانقاہ میں کردار واخلاق کی کتنی تربیت ہوتی ہے؟ علامہ نے صحیح کہا تھا کہ
؎ اٹھا میں مدرسہ وخانقاہ سے غمناک
نہ محبت نہ معرفت نہ حقیقت نہ نگاہ
یعنی مدرسہ میں شریعت سکھائی جاتی تھی ا ور خانقاہ میں طریقت، لیکن ہر دو میں کردار اور اخلاق مشترک تھا کہ ارباب شریعت اور اصحاب طریقت کے ہاں صرف بیٹھنے سے دل کی دنیا بدل جاتی تھی اس لیے کہ وہ پابند شریعت اور عملی لوگ ہوتے نہ ان کودنیا کی ہوس ،نہ شہرت کی آس ،نہ نام ونمود ونمائش کی ضرورت اور وہ حددرجہ متواضع لوگ ہوتے ۔اب جب آج کچھ درد دل رکھنے والے یہ بات کرجاتے ہیں تو اس سے توجہ ہٹانے کے لیے فوراً کہاجاتا ہےیہ مدارس اور خانقاہوں کے مخالف ہیں ،یہ مدرسے ختم کرنا چاہتے ہیں ۔ہاں یہ تو ہے کہ مدرسہ برائے چندہ جہاں بھی ہے اسے ختم ہونا ضروری ہے اور خانقاہ برائے نذرانہ وشکرانہ بھی۔شریعت تو کسی بھی چیز میں کمیت کا اعتبار نہیں کرتا بلکہ کیفیت کو دیکھتی ہے ۔چند مدرسے ہوں لیکن کام کے ہوں صرف نام کے نہ ہوں ،علم دین کے ترویج کے لیے ہوں چندوں کے لیے نہ ہوں اور وہاں سے کما حقہ علم تو حاصل ہی ہوں لیکن ساتھ حاملین کردار پیدا ہوں ۔یہی معاملہ خانقاہوں کا ہے کہ چند ایک ہوں لیکن تزکیہ ،اصلاح اور تربیت کے لیے ہو نہ کہ نذرانوں اور شکرانوں کےلیے ۔اس قسم کے احبار نے یہودیت کا بیڑا غرق کردیا تھا اور اس کے رہبان نے نصرانیت کا جنازہ نکالا:
وان کثیرا من الاحبار والرھبان لیاکلون اموال الناس بالباطل ویصدون عن سبیل اللہ
کے مصداق بنے تھے اور کہا
من فسد من علماءنا ففیہ شبۃ من الیھود ومن فسد من زھادنا ففیہ شبہ من النصاری
کہ جوہمارے علماء میں سے فاسد بنا اس میں یہود کا رنگ ہے اور جو ہمارے زھاد میں سے فاسد ہوا تو ان میں نصاری کا رنگ ہے ۔
شباہت رنگ سے آتی ہے ۔مغرب کا ایک جملہ Back to the basic
یا
Back to the origin
اپنی بنیاد یا اپنی اصل پر لوٹ کے جانا ہے ۔
اس دین کی اساس ہے قرآن جو کلام الہی اور صفت الہی ہے اور اللہ کی ذات بھی قدیم اور صفات بھی قدیم ،گویا دین کی اساس اور خمیر میں قدم ہے اور اس میں قدیم ہونا ہی کمال ہے اور اس قدم کا کوئی نہ کوئی پرتو اس دین سے منسلک ہر چیز میں نظر آنی چاہئے ۔توکتنے علماء یا پیران میں یہ قدم کا رنگ نظر آتا ہے ،اس میں اسلاف کی سادگی کا کتنا عکس ہے کہ زیادہ تر تو رنگ ڈھنگ بنانے میں مصروف رہتے ہیں ۔ان کے دفاتر دیکھیں زرق برق صوفوں پر بیٹھے ،میچنگ لباس بلکہ جوتے اور ٹیلی فون کو ر تک میں لگے رہتے ہیں اور ممکن ہے اب یہ بھی ساتھ شروع کریں تو اس کا رنگ اگر میرے ہر ڈریس کے ساتھ میچڈ نہ ہو لیکن اس کی سیٹ کورز تو ضرور اس رنگ کے ہو۔کہتے ہیں کہ رنگ گرگٹ بدلتا رہتا ہے ،ایک اپنی حفاظت کے لیے اور دوسرا اپنی شکار کو دھوکہ دینے کے لیے ،یہاں تو یہ رنگ اول الذکر کے لیے نہیں ہونگے لیکن ثانی الذکر وجہ تو ثابت ہوتی ہے ۔سو نکالوں ان صوفوں کو باہر ،مدرسوں کے دفاتر سے بھی اور خانقاہوں سے بھی ۔پہلے ایک اصطلاح تھی ’’چٹائی پر بیٹھنے والے یا بوریہ نشین ‘‘کہاں ہیں چٹائی اور کہاں ہے بوریہ ۔اب توقالین ہیں اور وہ بھی چندوں اور نذرانوں کے۔خدا کا خوف کرو ،یہ چندے دین کی خدمت کے لیےدیے نہ کہ مہتمم یا اس کے بچوں کے عیاشیوں کے لیے ،نہ پیران پارسا کے صاحبزادوں کی عیاشیوں کے لیے ۔اوریہی دو ہی طبقے تو تھے اللوں تللوں کے خلاف بولنے والے ،اب یہ خود اس میں لگے ہیں تو بولے گا کون؟اور نام لیتے ہیں ہم قریب میں شاہ ولی اللہ کا کہ سارے مسالک کا انٹر چینج ہے ،تفسیر کا بھی اور حدیث کا بھی ،اور نام لیتے ہیں مجدد الف ثانی ،خواجہ اجمیری ،حضر ت شیخ جیلانی اور شیخ جنید کا۔یعنی بیچتے ہیں ان کے نام اور کام وہ کرتے ہیں جن کے خلاف یہی لوگ عمر بھر لگے رہے
؎ اندکی پیش تو گفتم غم دل ترسیدم
کہ دل آزردہ شوی ،ورنہ سخن بسیار است
ہاں اب بھی کچھ مدرسے اور کچھ خانقاہیں ہیں جہاں خدا خوفی ہے ،عاجزی اور سادگی ہے ،تعلیم وتربیت ہے ،لیکن بہتات دوسروں کی ہے توانہیں بھی اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا ۔اللہ تعالیٰ ہم سب کی اصلاح فرمائے آمین۔

Address

Chakdara Fort
18800

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when راموڑہ چکدرہ RamoraChakdara posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category