13/05/2026
AMSAC - Ouch Chowk Dir Lower KPK
Adenzai Model School and College Ouch is an english medium educational institution, affiliated with the BISE Chakdara.
AMSAC is
situated at Ouch Chowk Kharkani on G.T road, 2km from Ouch and easy approachable from Talash and Gulabad. AMSAC aims at providing quality education with a view to developing knowledge, skills, personality, character, moral and spiritual up-gradation, discipline, academic excellence and physical fitness of students to make them responsible citizens and enlightened leaders, who will play p
13/05/2026
10/05/2026
إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ
ادینزیی ماڈل اینڈ کالج کا سابق طالب علم عدنان خان ولد باچا سید ساکن خرکنئ اوچ برضاۓ الٰہی وفات پا گیا ہے انکی نماز جنازہ 2:30 خرکنئ میں ادا کی جائے گی اللّٰہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے والدین کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین
07/05/2026
پرائیویٹ سکول… جسے لوگ بڑے آرام سے مافیا کہہ دیتے ہیں یا صرف ایک بڑا کاروبار سمجھ لیتے ہیں۔
حقیقت اتنی سادہ نہیں ہے۔
یقیناً پرائیویٹ سکول ایک کاروبار ہے۔ اور کچھ لوگوں کی وجہ سے بدنام بھی ہے
اگر کوئی یہ کہے کہ وہ صرف خدمتِ خلق کے لیے آیا ہے تو یہ بات مکمل سچ نہیں۔
مگر اگر کوئی اپنا حق صحیح طریقے سے ادا کر رہا ہے دیانتداری سے کام کر رہا ہے، بچوں کو تعلیم اور تربیت دے رہا ہے، تو یہ صرف کاروبار نہیں رہتا… یہ ایک ذمہ داری، ایک جدوجہد، بلکہ ایک طرح کا جہاد بن جاتا ہے۔
لیکن اس کے ساتھ کچھ تلخ حقیقتیں بھی ہیں جنہیں دیکھنے والا کوئی نہیں۔
ایک سکول کھڑا کرنا مذاق نہیں۔
آدمی اپنی جمع پونجی لگا دیتا ہے، اپنی جوانی لگا دیتا ہے، اپنے گھر والوں کا وقت قربان کر دیتا ہے۔
نہ اتوار کی چھٹی، نہ رات کا سکون باقی رہتا ہے
(شرط یہ ہے کہ کوئی اسے واقعی میں ذمہ داری سمجھ رہا ہو تو)
جب بچے چھٹی کر کے چلے جاتے ہیں، تب اصل مافیا کا کام شروع ہوتا ہے
صبح کی فکر شروع ہو جاتی ہے
صفائی، بجلی کے مسائل، انتظامات، اگلے دن کی تیاری… تاکہ صبح کوئی شکایت نہ آئے۔
یہ شاید سب سے مشکل کاروبار ہے۔
لوگوں کو صرف صاف کپڑے، اچھی عمارت اور باہر کی چمک نظر آتی ہے،
مگر یہ کوئی نہیں دیکھتا کہ اس کے پیچھے ایک شخص روزانہ کن پریشانیوں، دباؤ اور قربانیوں سے گزر رہا ہوتا ہے۔
وہ اپنی زندگی کے 15–20 سال، اپنی تعلیم، اپنی توانائی، حتیٰ کہ اپنے بچوں کا بچپن تک قربان کر چکا ہوتا ہے۔
اور پھر بھی اسے مافیا کہا جاتا ہے۔
سوچنے کی بات یہ ہے:
اگر ایک سکول میں 300 بچے ہیں، تو اس کا مطلب ہے 300 مختلف مزاج، 300 مختلف ضروریات، اور 300 گھروں کی توقعات۔
کوئی والدین کہتے پانی ٹھنڈا دینا ہے تو وہیں کئی میسج دن میں آ جاتے بچوں کو ٹھنڈے پانی سے بچائیں
ہر بچے کے والدین کی الگ ڈیمانڈ… اور یہ سب آپ نے 3000 یا 4000 روپے ماہانہ فیس میں پورا کرنا ہوتا ہے۔
یعنی ایک بچہ اگر 3000 روپے دیتا ہے، تو روزانہ تقریباً 100 روپے بنتے ہیں۔
اب ذرا خود حساب لگائیں:
اسی 100 روپے میں
سیکیورٹی،
کلاس روم،
فرنیچر،
بجلی اور پنکھے،
صاف ستھرا ماحول،
اور قابل اساتذہ…
جو سارا دن بچے کی تعلیم اور تربیت پر محنت کریں۔
یہ سب کچھ صرف 100 روپے روزانہ میں۔
دور سے ہر چیز آسان لگتی ہے… دور کے ڈھول سہانے یہاں بھی سچ ہے۔
اگر کوئی واقعی معیار کے ساتھ تعلیم دے رہا ہے، بچوں کی فکر کر رہا ہے، ایک بہتر ماحول فراہم کر رہا ہے،
تو یقین مانیں، یہ آسان نہیں… یہ مسلسل دباؤ، قربانی اور ذمہ داری کا نام ہے۔
تنقید کرنا آسان ہے،
مگر اس میدان میں کھڑے ہو کر ہر دن نبھانا… ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔
30/04/2026
Click here to claim your Sponsored Listing.