29/09/2021
کل جمعہ کی نماز کےبعد جب چندے والا ڈبہ میرے
سامنے سے گزرا تو میں نے اپنے وائلٹ سے چن کر نہایت بوسیدہ سا پچاس کا نوٹ ڈبے میں ڈالا۔ اتنے میں پچھلی لائن سے ایک صاحب نے میرے کندھے کو تھپتھپاتے ہوے ایک کڑک سا ہزار روپے کا نوٹ مجھے پکڑایا جسے میں نے فوراً ڈبے میں ڈال دیا پھر مڑ کر احترامًا اس کی جانب بہت ہی قابل تحسین نظروں سے دیکھا میرےتو حواس تب اڑے جب اس نے مسکراتے ہوئے کہا، بٹوا نکالتے ہوئے آپ کی جیب سے گر گیا تھا احتیاط کیا کریں😂
نوٹ:
صدقات و خیرات آپ خود نکالا کریں ورنہ خود بھی نکل سکتے ہیں..
*
11/09/2021
🌻 *نماز کی نیت کرنے میں غلطی ہوجانے کا حکم*
ہمارے بہت سے مسلمان بھائی نماز شروع کرتے وقت جب زبان سے نماز کی نیت باندھتے ہیں تو عمومًا اس میں غلطی کرجاتے ہیں جس کی وجہ سے وہ سلام پھیر کر اور نماز توڑ کر دوبارہ نیت باندھ لیتے ہیں۔ یہ سلسلہ بسا اوقات بہت پریشان کن صورتحال اختیار کرلیتا ہے حتی کہ رفتہ رفتہ وسوسے اور شک کا مرض بھی پیدا کردیتا ہے۔ اس لیے ذیل میں اس مسئلے کا شرعی حکم ذکر کیا جاتا ہے تاکہ اس پریشانی سے نجات مل سکے۔
📿 *نیت کی حقیقت:*
نماز کے لیے نیت کرنا فرض ہے۔ نیت درحقیقت دل کے ارادے اور عزم کا نام ہے، حقیقی نیت دل ہی کی ہوتی ہے اور اسی کا اعتبار ہوتا ہے، اس لیے دل میں نیت کرلینا کافی ہے۔ زبان سے نیت کے الفاظ ادا کرنا ضروری نہیں، البتہ اگر کوئی شخص زبان سے بھی نیت کے الفاظ ادا کرلے تب بھی درست، بلکہ نیت کرنے میں دل اور زبان دونوں کو یکجا کرنے کے اعتبار سے اچھا بھی ہے۔
📿 *زبان سے نماز کی نیت کرنے میں غلطی ہوجانے کا حکم:*
نیت کی حقیقت جان لینے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ جب حقیقی نیت دل ہی کی ہوتی ہے تو اسی نیت کا اعتبار ہوگا اور اسی پر نماز کے درست ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ ہوگا، اس لیے اگر نماز شروع کرتے وقت کسی شخص کے دل میں صحیح نیت ہو لیکن زبان سے نیت کرتے وقت اس سے غلطی ہوجائے جیسے:
▪️نمازِ عصر کی جگہ نمازِ مغرب کہہ دیا۔
▪️نمازِ جمعہ کی جگہ نمازِ ظہر کہہ دیا۔
▪️نمازِ وتر کی جگہ نمازِ تراویح کہہ دیا۔
▪️چار رکعات کی جگہ تین رکعات کہہ دیا۔
▪️فرض کی جگہ سنت کہہ دیا۔
▪️سنت کی جگہ نفل کہہ دیا۔
▪️ادا کی جگہ قضا کہہ دیا۔
تو ان تمام صورتوں میں اس زبان کی غلطی کی وجہ سے نماز پر کچھ فرق نہیں پڑتا بلکہ نماز بالکل درست ہے، کیوں کہ جب دل کی نیت بالکل درست ہے تو زبان کی غلطی کا کوئی اعتبار نہیں۔ اس لیے ایسی صورت میں زبان کی نیت میں غلطی ہوجانے کے بعد نماز توڑنے اور دوبارہ سے نیت باندھنے کی ضرورت نہیں، بلکہ ایسا کرنا درست بھی نہیں۔
📿 *فوائد:*
1⃣ زبان سے نیت کی غلطی دور کرنے کا ایک مفید طریقہ یہ ہے کہ توجہ اور دھیان سے نیت کی جائے، یوں اس زبان کی غلطی سے بھی حفاظت ہوجاتی ہے۔
2️⃣ جس شخص سے زبانی نیت کرنے میں بار بار غلطی ہوجاتی ہو تو اس میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، کیوں کہ اصل اعتبار دل کی نیت کا ہے جس کا درست ہونا ضروری ہے، جبکہ دل کی نیت درست ہونے کی صورت
09/09/2021
Share ye kai chi tolo musalmanano ta warase aw zamng da page warasara like kai 👍👍👍☝👆👆
08/09/2021
🌻 *بلا ارادہ قرآن مجید گرجانے کا کفارہ*
📿 *بلا ارادہ قرآن مجید گرجانے کا کفارہ:*
1⃣ اگر کسی شخص سے بغیر اختیار اور ارادے کے قرآن کریم گر جائے تو اس غلطی کی وجہ سے بندہ گناہ گار نہیں ہوتا کیوں کہ اس میں اس شخص کا ارادہ اور اختیار شامل نہیں ہے یعنی یہ کام اس نے جان بوجھ کر نہیں کیا ہے۔ اسی طرح اس کے ذمے شرعًا کوئی صدقہ دینا بھی لازم نہیں ہوتا۔
2️⃣ اسی کے ساتھ ساتھ یہ بات سمجھنا بھی ضروری ہے کہ چوں کہ قرآن کریم کی عظمتِ شان کا تقاضا یہ ہے کہ اس کی حفاظت میں ذرہ برابر بھی کوتاہی ہرگز نہ کی جائے، اس لیے بلا ارادہ قرآن کریم گرجانا بھی بے احتیاطی کے زمرے میں شامل ہوجاتا ہے خصوصًا جب اس کی حفاظت میں کسی درجے غفلت بھی پائی جارہی ہو۔ اسی طرح بلا ارادہ قرآن کریم کے گر جانے سے اگرچہ گناہ لازم نہیں آتا لیکن قرآن کریم کی عظمتِ شان کے پیشِ نظر اس کو بے احتیاطی قرار دے کر ظاہری صورت کے اعتبار سے گناہ کے مشابہ یا صورتًا گناہ کہا جاسکتا ہے۔ اس لیے ان دونوں باتوں کی وجہ سے احتیاط کا تقاضا یہی ہے کہ اس غلطی پر توبہ واستغفار کرلیا جائے تاکہ آئندہ کے لیے قرآن کریم کی حفاظت میں ہر قسم کی بے احتیاطی اور کوتاہی سے بھرپور اجتناب کیا جاسکے، اور بھرپور طریقے سے اس کی حفاظت کی جاسکے۔
3⃣ بلا ارادہ قرآن کریم گر جانے کی صورت میں بہت سے لوگ اس کو اُٹھا کر آنکھوں اور چہرہ سے لگاتے ہیں اور اس کو چومتے ہیں تو یہ بھی جائز بلکہ قرآن کریم کے احترام کا تقاضا بھی ہے۔اور ویسے بھی تعظیم کی خاطر قرآن کریم کو چومنا یعنی اس کا بوسہ لینا بالکل جائز ہے، اس میں کوئی حرج نہیں، حتی کہ بعض حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بھی اس کا ثبوت ملتا ہے۔
4️⃣ اسی طرح بلا ارادہ قرآن کریم گر جانے کی صورت میں بہت سے لوگ کچھ اناج، آٹا یا رقم وغیرہ صدقہ کردیتے ہیں، تو واضح رہے کہ اس موقع پر صدقہ دینا ضروری نہیں، اس لیے اگر کوئی شخص صدقہ نہ دے تو اس میں کوئی حرج نہیں، البتہ صدقہ دینا جائز ہے، کیوں کہ ایک تو یہ قرآن کریم کے احترام کے زمرے میں آتا ہے، اور دوم یہ کہ قرآن کریم کی حفاظت میں غفلت اور کوتاہی ہوجانے کی وجہ سے اپنے نفس پر جرمانہ لگانے کا بھی تقاضا ہے تاکہ آئندہ بھرپور احتیاط رہے، لیکن اس موقع پر صدقہ دینے کے لیے آٹا یا اناج وغیرہ کوئی چیز خاص کرنا درست نہیں، بلکہ کوئی بھی چیز صدقہ کی جاسکتی ہے۔
(مأ
01/04/2021
پاکستان دینی تعلیم میں اکثر مغربی و دیگر دنیا کیلیے مشعل راہ ہے، الحمدللہ. یہ سب مدارس کی برکات ہیں، اللہ تعالیٰ سب مدارس کو اپنی حفظ و امان میں رکھے اور ہرقسمی شر اور فتنوں سے محفوظ رکھے، آمین.
28/03/2021
کسی زمانے میں ایک غیر مسلم نے اسلام قبول کیا تو اس سے پوچھا گیا کے اسلام کی کس بات نے تجھے متاثر کیا.
تو وہ بولا کہ صرف ایک واقعہ میری ہدایت کا سبب بن گیا.
کہا مجلس رسول صلہ اللہ علیہ وسلم لگی ہوئی تھی لوگوں کا ہجوم تھا.
ایک شخص نے عرض کی حضورﷺ میرے لیے دعا کر دیں میرا بچہ کئی دنوں سے مل نہیںرہا مل جائے.
قبل اس کے کہ حضور کے ہاتھ اٹھتے ۔۔۔۔
ایک شخص مجلس موجود تھا کھڑا ہو گیا حضورﷺ میں ابھی ابھی فلاں باغ سے گزر کر آیا ہوں .
اس کا بچہ وہاں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا.باپ نے جب سنا کے میرا بچہ فلاں باغ میں ہے تو اس نے دوڑ لگا دی.
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کو روکو واپس بلاٶ۔۔
اس نے کہا حضورﷺ آپ جانتے ہیں کے ایک باپ کے جذبات کیا ہوتے ہیں.کہا اچھی طرح سے آگاہ ہوں.. لیکن تمہیں بلایا ہے بلانے کا بھی ایک مقصد ہے. اس نے کہا جی حضور ﷺ ارشاد فرمائیں.
کہا جب باغ میں جاؤ بچوں کے ساتھ اپنے بچے کو کھیلتا ہوا دیکھ لو تو بیٹا بیٹا کہہ کر آوازیں نا دینے لگ جانا.
جو نام رکھا ہے اس نام سے پکارنا کہا حضور میرا بیٹا ہے اگر میں بیٹا کہ کر بلاؤں تو ہرج بھی کیا ہے.
فرمایا تم کئی دنوں کے بچھڑے ہو تمہارے لہجے میں بلا کا رس ہو گا
اور تم نہیں جانتے کے کھیلنے والوں میں کوئی یتیم بھی ہو.
اور جب تم اپنے بیٹے کو بیٹا کہہ کر پکارو گے اتنا میٹھا لہجہ ہو گا تو اس کے دل پر چوٹ لگے گی اور کہے گا کاش آج میرا بھی باپ ہوتا مجھے بیٹا کہ کر پکارتا.فرمایا یہ شوق گھر جا کر پورا کرنا.
آپ نے فرمایا کسی بیوہ کے سامنے اپنی بیوی سے پیار نہ کرو،غریب کے سامنے اپنی دولت کی نمائش کرنے سے روکا گیا.
حضور صل اللہ علیہ وسلم نے یہاں تک فرمایا کے اپنے گوشت کی خوشبو سے اپنے ہمسائے کو تنگ نا کرو.
اس غیر مسلم نے کہا کے حضور صل اللہ علیہ والہ وسلم کے اس واقعے نے کے کسی یتیم کے سامنے اپنے بیٹے کو بیٹا کہ کر نا پکارو
اس نے مجھے بتایا کے اسلام کیا ہے۔“
اگر یہ تحریر آپ کو پسند آٸی تو اسے شیٸرلازمی کرنا
ہو سکتا ہے آپ کے ایک شیٸرسے یہ بات کسی کے دل میں اتر جاۓ جزاك الله
صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم
27/03/2021
ہمارے ہاں وقفے وقفے سے ایسی باتیں عوامی سطح پر اچھالی جاتی ہیں جن میں کسی کو صلیب نظر آتی ہے تو کسی کو ہر تکونی چیز میں دجالی تکون دکھائی دیتی ہے اور جہاں جیومیٹری یا ایبسڑیکٹ آرٹ کے انداز کی لکیریں ہوں تو وہاں مقدس نام نظر آنے لگتے ہیں.
کوکا کولا کو الٹ کر "لامکہ" پڑھنے والے بھی بڑی وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں.
بچے جب آسمان کی طرف منہ کرکے لیٹتے ہیں تو ان کو بادلوں کے مخلتف ہیئت کے ٹکڑے بھی بلی چوہا خرگوش کی طرح لگنے لگتے ہیں اور وہ بتاتے ہیں کہ وہ بلی جا رہی ہے اور وہ بکرا جا رہا ہے.
لان کا کوئی بھی پرنٹ لے آئیں اس کے ڈیزائن میں دس طرح کے مقدس نام اور ممنوع شبیہ نکل آئیں گی.
بعض مساجد میں بعض مقتدی مسجد میں بچھے ہوئے قالین میں ایسی صورتیں سوچ کر امام مسجد اور کمیٹی کا ناطقہ بند کئے ہوتے ہیں.
ہمیں یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہیئے کہ یہ سب انسان کی قوت متخیلہ کے کارنامے ہیں اس کے سوا کچھ نہیں اور اس طرح کی چیزوں کے پیچھے پڑنا ایک لغو پسندی کی دلیل ہے.
جب تک واضح طور پر کوئی چیز نہ نظر آئے اس کو عام چیز سمجھ کر ہی استعمال کرنا چاہیئے اور ہندی کی چندی کرنے سے پرہیز کرنا چاہیئے.( مفتی ارشاد احمد اعجاز صاحب )
27/03/2021
ﻭﻓﺎﻕ ﺍﻟﻤﺪﺍﺭﺱ ﻧﮯ ﻧﯿﺎ ﺭﯾﮑﺎﺭﮈ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﺮﺩﯾﺎ
ﻭﻓﺎﻕ ﺍﻟﻤﺪﺍﺭﺱ ﮐﮯ ﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭﺍﻥ ﮐﻮ ﺭﺍﺕ ﺩﺱ ﺑﺠﮯ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﺧﺒﺮ ﻣﻠﯽ
ﮐﮯ ﺍﺑﻮ ﺩﺍﺅﺩ ﺷﺮﯾﻒ ﮐﺎ ﭘﺮﭼﮧ ﻟﯿﮏ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﮨﮯ
ﻭﻓﺎﻕ ﮐﮯ ﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭﺍﻥ ﺍﺳﯽ ﻭﻗﺖ ﯾﮧ ﺍﻋﻼﻥ ﺑﮭﯽ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﯾﮧ
ﭘﺮﭼﮧ ﻣﻨﺴﻮﺥ ﺳﻤﺠﮭﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﺳﮯ ﺑﻌﺪﻣﯿﮟ ﻟﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ
ﻟﯿﮑﻦ ﻭﻓﺎﻕ ﻧﮯ ﺭﺍﺗﻮﮞ ﺭﺍﺕ ﺻﺮﻑ ﻧﯿﺎ ﭘﺮﭼﮧ ﺟﺎﺭﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺑﻠﮑﮧ ﺍﺳﮯ
ﮐﺮﺍﭼﯽ ﺳﮯﮐﺸﻤﯿﺮﺗﮏ ﮨﺰﺍﺭﻭﮞ ﺳﻨﭩﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻨﭽﺎﯾﺎ ﺑﮭﯽ ﺍﻭﺭﺻﺒﺢ ﺗﻤﺎﻡ
ﻃﻠﺒﮧ ﺳﮯ ﻧﯿﺎ ﺟﺎﺭﯼ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﭘﺮﭼﮧ ﻟﯿﺎ ﮔﯿﺎ۔
ﻭﻓﺎﻕ ﺍﻟﻤﺪﺍﺭﺱ ﮐﺎﯾﮧ ﺍﻗﺪﺍﻡ ﺍﻥ ﺗﻤﺎﻡ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﻤﯿﺖ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﮯ ﻣﻨﮧ ﭘﺮ
ﺑﮭﯽ ﺯﻧﺎﭨﮯ ﺩﺍﺭ ﻃﻤﺎﻧﭽﮧ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻭﻓﺎﻕ ﺍﻟﻤﺪﺍﺭﺱ ﺍﻭﺭ ﻣﺪﺍﺭﺱ ﮐﮯ ﻧﻈﺎﻡ
ﺗﻌﻠﯿﻢ ﭘﺮ ﺍﻧﮕﻠﯿﺎﮞ ﺍﭨﮭﺎﺗﮯ ﭘﮭﺒﺘﯿﺎﮞ ﮐﺴﺘﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﮑﺘﮯ ﺍﺭﺑﻮﮞ ﺭﻭﭘﮯ ﺑﺠﭧ
ﻟﯿﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﺑﮍﮮ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﻋﺼﺮﯼ ﺑﻮﺭﮈ ﯾﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﯾﻮﻧﯽ ﻭﺭﺳﭩﯽ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ
ﺳﻮﭺ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﭼﻨﺪ ﮔﮭﻨﭩﮯ ﻗﺒﻞ ﻟﯿﮏ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﭘﺮﭼﮯ ﮐﻮ ﺍﺯﺳﺮﻧﻮ
ﺗﯿﺎﺭ ﮐﺮﮐﮯ ﺍﺳﮯ ﭘﻮﺭﮮ ﻣﻠﮏ ﮐﮯ ﺍﻣﺘﺤﺎﻧﯽ ﺳﻨﮍﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺳﮑﮯ؟؟
ﺍﺭﺑﻮﮞ ﺭﻭﭘﮯ ﺑﺠﭧ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﺎﻡ ﭨﯿﮑﻨﺎﻟﻮﺟﯽ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﮐﺴﯽ ﺑﻮﺭﮈ
ﮐﺴﯽ ﯾﻮﻧﯽ ﻭﺭﺳﭩﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﯽ ﺳﮑﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﺟﻮ ﮐﺎﺭﻧﺎﻣﮧ ﻭﻓﺎﻕ
ﺍﻟﻤﺪﺍﺭﺱ ﻧﮯ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ،
ﺷﺮﻡ ﺳﮯ ﮈﻭﺏ ﻣﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﻣﻘﺎﻡ ﮨﮯ ﻋﺼﺮﯼ ﺳﺮﮐﺎﺭﯼ ﻭﭘﺮﺍﺋﯿﻮﭦ ﺍﺩﺍﺭﻭﮞ
ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺟﻮ ﺍﺭﺑﻮﮞ ﺭﻭﭘﮯ ﮐﮯ ﺑﺠﭧ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﺎﻡ ﺗﺮ ﺣﮑﻮﻣﺘﯽ ﻣﺸﯿﻨﺮﯼ
ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺍﯾﺴﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺜﺎﻝ ﭘﯿﺶ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﺎﮐﺎﻡ ﮨﯿﮟ
post ko share karo!
23/03/2021
کم سنی میں عفیفہ کائنات ام امومنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا- کا نکاح
تحقیق و تجزیہ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا نکاح نبی اکرم -صلى الله علیه وسلم- کے ساتھ کم سنی میں ہوا یعنی ۶/ سال کی عمر میں نکاح اور ۹/سال کی عمر میں رخصتی ہوئی، اس سلسلہ میں معاندینِ اسلام کی طرف سے یہ شکوک و شبہات قائم کئے جاتے ہیں کہ اس کم سنی کی شادی پیغمبرِ اسلام -صلى الله علیه وسلم- کے لئے موزوں اور مناسب تھی، چنانچہ ایک یہودی عالم نے انٹرنیٹ پر یہی اعتراض پیش کیا ہے زیر نظر مضمون میں اسی کا مفصل ومدلل جواب دیاگیا ہے۔
سوال: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا نکاح نبی اکرم -صلى الله علیه وسلم- کے ساتھ کم سنی میں ہوا، بیان کیا جاتاہے کہ ۶/ سال کی عمر میں نکاح اور ۹/سال کی عمر میں رخصتی ہوئی۔ اس سلسلہ میں معاندین اسلام کی طرف سے یہ شکوک و شبہات قائم کئے جاتے ہیں کہ اس کم سنی کی شادی پیغمبر اسلام -صلى الله علیه وسلم- کے لئے موزوں اور مناسب نہیں تھی۔ چنانچہ ایک یہودی عالم نے انٹرنیٹ پر یہی اعتراض پیش کیا ہے۔ آپ اس کا تحقیقی و تفصیلی جواب عنایت فرمائیں تو شکرگذار ہوں گا۔ (فاروق عبدالعزیز قریشی رنگ روڈ مہدی پٹنم، حیدرآباد)
جواب: حضرت عائشہ صدیقہ-رضی الله عنہا- سے جو حضوراکرم -صلى الله علیه وسلم- نے اُن کی کم سنی میں نکاح فرمایا اور پھر ان کی والدہ حضرت ام رومان-رضی الله عنہا- (زینب-رضی الله عنہا-) نے تین سال بعد ۹/ سال کی عمر میں رخصتی کردی، اس پر بعض گوشوں سے اعتراضات اور شکوک و شبہات نئے نہیں ہیں؛ بلکہ پرانے ہیں، علماء اور محققین نے جوابات بھی دئیے ہیں، تاہم ذیل کی سطروں میں ایک ترتیب کے ساتھ جواب دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ امید کہ جواب میں تحقیق و تجزیہ کے جو پہلو سامنے آئیں گے، اُن سے ذہنی غبار دھل جائے گا اور ذہن کا مطلع بالکل صاف اور واضح ہوجائے گا۔ اس لیے مسئلہ کی اہمیت کے پیش نظر تفصیلی جواب لکھنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ کارگاہِ عالم کا سارا نظام قانونِ زوجی پر مبنی ہے اور کائنات میں جتنی چیزیں نظر آرہی ہیں سب اسی قانون کا کرشمہ اور مظہر ہیں۔ (الذاریات:۴۹) یہ اور بات ہے کہ مخلوقات کا ہر طبقہ اپنی نوعیت، کیفیت اور فطری مقاصد کے لحاظ سے مختلف ہیں لیکن اصل زوجیت ان سب میں وہی ایک ہے۔ البتہ انواعِ حیوانات میں انسان کو خاص کرکے یہ ظاہر کیاگیا ہے کہ اس کے زوجین کا تعلق محض شہوانی نہ ہو بلکہ محبت اور انس کا تعلق ہو دل کے لگاؤ اور روحوں کے اتصال کا تعلق ہو۔ وہ دونوں ایک دوسرے کے راز دار اور شریک رنج و راحت ہوں، ان کے درمیان ایسی معیت اور دائمی وابستگی ہو جیسی لباس اور جسم میں ہوتی ہے۔ دونوں صنفوں کا یہی تعلق دراصل انسانی تمدن کی عمارت کا سنگِ بنیاد ہے اس ربط و تعلق کے بغیر نہ انسانی تمدن کی تعمیر ممکن ہے اور نہ ہی کسی انسانی خاندان کی تنظیم۔ جب یہ قانونِ زوجی خالقِ کائنات کی طرف سے ہے تو یہ کبھی صنفی میلان کو کچلنے اور فنا کرنے والا نہیں ہوسکتا۔ اس سے نفرت اور کلی اجتناب کی تعلیم دینے والا بھی نہیں ہوسکتا؛ بلکہ اس میں لازماً ایسی گنجائش رکھی گئی ہے کہ انسان اپنی فطرت کے اس اقتضاء کو پورا کرسکے حیوانی سرشت کے اقتضاء اور کار خانہٴ قدرت کے مقرر کردہ اصول و طریقہ کو جاری رکھنے کے لیے قدرت نے صنفی انتشار کے تمام دروازے مسدود کردئیے،اور ”نکاح“ کی صورت میں صرف ایک دروازہ کھولا۔ کسی بھی آسمانی مذہب و شریعت نے اس کے بغیر مرد و عورت کے باہمی اجتماع کو جائز قرار نہیں دیا۔ پھر اسلامی شریعت میں یہاں تک حکم دیاگیا ہے کہ اس فطری ضرورت کو تم پورا کرو، مگر منتشر اور بے ضابطہ تعلقات میں نہیں، چوری چھپے بھی نہیں، کھلے بندوں بے حیائی کے طریقے پر بھی نہیں؛ بلکہ باقاعدہ اعلان و اظہار کے ساتھ، تاکہ تمہاری سوسائٹی میں یہ بات معلوم اور مسلم ہوجائے کہ فلاں مرد اور عورت ایک دوسرے کے ہوچکے ہیں۔
نبی کریم -صلى الله علیه وسلم- ایک ایسی قوم میں مبعوث ہوئے تھے، جو تہذیب و تمدن کے ابتدائی درجہ میں تھی آپ -صلى الله علیه وسلم- کے سپرد اللہ نے صرف یہی کام نہیں کیا تھا کہ اُن کے عقائد وخیالات درست کریں؛ بلکہ یہ خدمت بھی آپ -صلى الله علیه وسلم- کے سپرد تھی کہ ان کا طرزِ زندگی، بود وباش اور رہن سہن بھی ٹھیک اور درست کریں۔ ان کو انسان بنائیں، انہیں شائستہ اخلاق، پاکیزہ معاشرت، مہذّب تمدن، نیک معاملات اور عمدہ آداب کی تعلیم دیں، یہ مقصد محض وعظ و تلقین اور قیل و قال سے پورا نہیں ہوسکتا تھا، تیس سال کی مختصر مدتِ حیات میں ایک پوری قوم کو وحشیت کے بہت نیچے مقام سے اٹھاکر تہذیب کے بلند ترین مرتبہ تک پہنچادینا اس طرح ممکن نہ تھاکہ محض مخصوص اوقات میں ان کو بلاکر کچھ زبانی ہدایات دیدی جائیں۔ اس کے لیے ضرورت تھی کہ آپ -صلى الله علیه وسلم- خود اپنی زندگی میں ان کے سامنے انسانیت کا ایک مکمل ترین نمونہ پیش کرتے اور ان کو پورا موقع دیتے کہ اس نمونہ کو دیکھیں اور اپنی زندگیوں کو اس کے مطابق بنائیں۔ چنانچہ آپ -صلى الله علیه وسلم- نے ایسا ہی کیا۔ یہ آپ -صلى الله علیه وسلم- کا انتہائی ایثار تھا کہ آپ -صلى الله علیه وسلم- نے زندگی کے ہر شعبہ کو قوم کی تعلیم کے لیے عام کردیا۔ اپنی کسی چیز کو بھی پرائیویٹ اور مخصوص نہ رکھا۔ حتی کہ ان معاملات کو بھی نہ چھپایا جنھیں دنیا میں کوئی شخص عوام کے لئے کھولنے پر آمادہ نہیں ہوسکتا۔ آپ -صلى الله علیه وسلم- نے اتنا غیر معمولی ایثار اس لئے کیا تاکہ رہتی دنیا تک کے لئے لوگوں کو بہترین نمونہ اور عمدہ نظیر مل سکے۔ اسی اندرونی اور خانگی حالات دنیا کے سامنے پیش کرنے کے لئے آپ -صلى الله علیه وسلم- نے متعدد نکاح فرمایا۔ تاکہ آپ -صلى الله علیه وسلم- کی نجی زندگی کے تمام حالات نہایت وثوق اور اعتماد کے ساتھ دنیا کے سامنے آجائیں اور ایک کثیر جماعت کی روایت کے بعد کسی قسم کا شک و شبہ باقی نہ رہے اور شریعت کے وہ احکام ومسائل جو خاص عورتوں سے متعلق ہیں اور مردوں سے بیان کرنے میں حیاء اور حجاب مانع ہوتا ہے ایسے احکام شرعیہ کی تبلیغ ازواجِ مطہرات-رضی الله عنهن- کے ذریعہ سے ہوجائے۔
تنہائی کے اضطراب میں، مصیبتوں کے ہجوم میں اور ستمگاریوں کے تلاطم میں ساتھ دینے والی آپ -صلى الله علیه وسلم- کی غمگسار بیوی ام الموٴمنین حضرت خدیجہ-رضی الله عنہا- کا رمضان ۱۰ ء نبوت میں جب انتقال ہوگیا تو آپ -صلى الله علیه وسلم- نے چار سال بعد یہ ضروری سمجھا کہ آپ -صلى الله علیه وسلم- کے حرم میں کوئی ایسی چھوٹی عمر کی خاتون داخل ہوں جھنوں نے اپنی آنکھ اسلامی ماحول میں ہی میں کھولی ہو اور جو نبی -صلى الله علیه وسلم- کے گھرانے میںآ کر پروان چڑھیں، تاکہ ان کی تعلیم و تربیت ہر لحاظ سے مکمل اور مثالی طریقہ پر ہو اور وہ مسلمان عورتوں اور مردوں میں اسلامی تعلیمات پھیلانے کا موٴثر ترین ذریعہ بن سکیں۔ چنانچہ اس مقصد کے لیے مشیت الٰہی نے حضرت عائشہ-رضی الله عنہا- کو منتخب فرمایا اور شوال ۳ ء قبل الہجرہ مطابق ۶۲۰/ مئی میں حضرت عائشہ-رضی الله عنہا- سے آپ -صلى الله علیه وسلم- کا نکاح ہوا، اس وقت حضرت عائشہ کی عمر جمہور علماء کے یہاں چھ سال تھی اور تین سال بعد جب وہ ۹ سال کی ہوچکی تھیں اور اُن کی والدئہ محترمہ حضرت ام رومان-رضی الله عنہا- نے آثار و قرائن سے یہ اطمینان حاصل کرلیا تھا کہ وہ اب اس عمر کو پہنچ چکی ہیں کہ رخصتی کی جاسکتی ہے تو نبی اکرم -صلى الله علیه وسلم- کے پاس روانہ فرمایا اور اس طرح رخصتی کا عمل انجام پایا۔ (مسلم جلد۲، صفحہ ۴۵۶، اعلام النساء صفحہ ۱۱، جلد ۳، مطبوعہ بیروت)
حضرت عائشہ-رضی الله عنہا- کے والدین کا گھر تو پہلے ہی نوراسلام سے منور تھا، عالمِ طفولیت ہی میں انہیں کا شانہٴ نبوت تک پہنچادیا گیاتاکہ ان کی سادہ لوح دل پر اسلامی تعلیم کا گہرا نقش مرتسم ہوجائے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت عائشہ-رضی الله عنہا- نے اپنی اس نوعمری میں کتاب وسنت کے علوم میں گہری بصیرت حاصل کی۔ اسوئہ حسنہ اور آنحضور -صلى الله علیه وسلم- کے اعمال و ارشادات کا بہت بڑا ذخیرہ اپنے ذہن میں محفوظ رکھا اور درس و تدریس اور نقل و روایت کے ذریعہ سے اُسے پوری امت کے حوالہ کردیا۔ حضرت عائشہ-رضی الله عنہا- کے اپنے اقوال و آثار کے علاوہ اُن سے دوہزار دو سو دس (۲۲۱۰) مرفوع احادیث صحیحہ مروی ہیں۔ اور حضرت ابوہریرہ-رضی الله عنه- کو چھوڑ کر صحابہ وصحابیات میں سے کسی کی بھی تعدادِ حدیث اس سے زائد نہیں۔
بعض مریضانہ ذہن و فکر رکھنے والے افراد کے ذہن میں یہ خلش اور الجھن پائی جاتی ہے کہ آپ -صلى الله علیه وسلم- کی حضرت عائشہ-رضی الله عنہا- سے اس کم سنی میں نکاح کرنے کی کیا ضرورت تھی؟اور یہ کہ اس چھوٹی سی عمر میں حضرت عائشہ-رضی الله عنہا- سے نکاح کرنا آپ -صلى الله علیه وسلم- کے لئے موزوں اور مناسب نہیں تھا؟ چنانچہ ایک یہودی مستشرق نے انٹرنیٹ پر اس قسم کا اعتراض بھی اٹھایا ہے اور اس طرح اس نے بعض حقائق و واقعات، سماجی روایات، موسمی حالات اور طبی تحقیقات سے اعراض اور چشم پوشی کا اظہار بھی کیا ہے کہ حضرت عائشہ-رضی الله عنہا- سے نکاح اور رخصتی اس کم سنی میں کیوں کر ہوئی؟
یہ اعتراض درحقیقت اس مفروضہ پر مبنی ہے کہ حضرت عائشہ-رضی الله عنہا- میں وہ اہلیت وصلاحیت پیدا نہیں ہوئی تھی جو ایک خاتون کو اپنے شوہر کے پاس جانے کے لئے درکار ہوتی ہے، حالانکہ اگر عرب کے اس وقت کے جغرافیائی ماحول اور آب و ہوا کا تاریخی مطالعہ کریں تو یہ واقعات اس مفروضہ کی بنیاد کو کھوکھلی کردیں گے، جس کی بناء پر حضرت عائشہ-رضی الله عنہا- کے نکاح کے سلسلہ میں ناروا اور بیجاطریقہ پر لب کو حرکت اور قلم کوجنبش دی گئی ہے۔ سب سے پہلے یہ ذہن میں رہے کہ اسلامی شریعت میں صحت نکاح کے لیے بلوغ شرط نہیں ہے سورہ ”الطلاق“ میں نابالغہ کی عدت تین ماہ بتائی گئی ہے، واللّائی لم یحضن (المائدہ:۴) اور ظاہر ہے کہ عدت کا سوال اسی عورت کے معاملہ میں پیدا ہوتا ہے جس سے شوہر خلوت کرچکا ہو؛ کیوں کہ خلوت سے پہلے طلاق کی صورت میں سرے سے کوئی عدت ہی نہیں ہے۔ (الاحزاب:۴۹) اس لیے ”واللائی لم یحضن“ سے ایسی عورت کی عدت بیان کرنا جنھیں ماہواری آنا شروع نہ ہوا ہو صراحت کے ساتھ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس عمر میں نہ صرف لڑکی کا نکاح کردینا جائز ہے بلکہ شوہر کا اس کے ساتھ خلوت کرنا بھی جائز ہے۔ ( احکام القرآن للجصاص جلد۲، صفحہ ۶۲۔ الفقہ الاسلامی وادلتہ جلد ۷ صفحہ ۱۸)
حضرت عائشہ-رضی الله عنہا- کی نسبت قابل وثوق ذرائع سے معلوم ہے کہ ان کے جسمانی قوی بہت بہتر تھے اور ان میں قوت نشو و نما بہت زیادہ تھی۔ ایک تو خود عرب کی گرم آب و ہوا میں عورتوں کے غیرمعمولی نشوونماکی صلاحیت ہے۔ دوسرے عام طورپر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جس طرح ممتاز اشخاص کے دماغی اور ذہنی قویٰ میں ترقی کی غیرمعمولی استعداد ہوتی ہے، اسی طرح قدوقامت میں بھی بالیدگی کی خاص صلاحیت ہوتی ہے۔ اس لیے بہت تھوڑی عمر میں وہ قوت حضرت عائشہ-رضی الله عنہا- میں پیدا ہوگئی تھی جو شوہر کے پاس جانے کے لیے ایک عورت میں ضروری ہوتی ہے۔ داؤدی نے لکھا ہے کہ وکانت عائشة شبت شبابا حسنا یعنی حضرت عائشہ-رضی الله عنہا- نے بہت عمدگی کے ساتھ سن شباب تک ترقی کی تھی (نووی ۴۵۶/۳) حضرت عائشہ کے طبعی حالات تو ایسے تھے ہی، ان کی والدہ محترمہ نے ان کے لیے ایسی باتوں کا بھی خاص اہتمام کیا تھاجو ان کے لیے جسمانی نشوونما پانے میں ممدومعاون ثابت ہوئی۔ چنانچہ ابوداؤد جلد دوم صفحہ ۹۸ اور ابن ماجہ صفحہ ۲۴۶ میں خود حضرت عائشہ-رضی الله عنہا- کا بیان مذکور ہے کہ ”میری والدہ نے میری جسمانی ترقی کے لیے بہترے تدبیریں کیں۔ آخر ایک تدبیر سے خاطر خواہ فائدہ ہوا، اور میرے جسمانی حالات میں بہترین انقلاب پیدا ہوگیا“ اس کے ساتھ اس نکتہ کو بھی فراموش نہ کرنا چاہئے کہ حضرت عائشہ-رضی الله عنہا- کو خود ان کی والدہ نے بدون اس کے کہ آنحضرت -صلى الله علیه وسلم- کی طرف سے رخصتی کا تقاضا کیاگیاہو، خدمتِ نبوی میں بھیجا تھا اور دنیا جانتی ہے کہ کوئی ماں اپنی بیٹی کی دشمن نہیں ہوتی؛ بلکہ لڑکی سب سے زیادہ اپنی ماں ہی کی عزیز اور محبوب ہوتی ہے۔ اس لیے ناممکن اور محال ہے کہ انھوں نے ازدواجی تعلقات قائم کرنے کی صلاحیت واہلیت سے پہلے ان کی رخصتی کردیا ہو اور اگر تھوڑی دیر کے لیے مان لیا جائے کہ عرب میں عموماً لڑکیاں ۹/برس میں بالغ نہ ہوتی ہوں تواس میں حیرت اور تعجب کی کیا بات ہے کہ استثنائی شکل میں طبی اعتبار سے اپنی ٹھوس صحت کے پس منظر میں کوئی لڑکی خلافِ عادت ۹/برس ہی میں بالغ ہوجائے، جو ذہن و دماغ منفی سوچ کا عادی بن گئے ہوں اور وہ صرف شکوک و شبہات کے جال بننے کے خوگر ہوں انھیں تویہ واقعہ جہالت یا تجاہل عارفانہ کے طور پر حیرت انگیز بناکر پیش کرے گا؛ لیکن جو ہرطرح کی ذہنی عصبیت و جانبداری کے خ*ل سے باہر نکل کر عدل و انصاف کے تناظر میں تاریخ کا مطالعہ کرنا چاہتے ہوں وہ جان لیں کہ نہایت مستند طریقہ سے ثابت ہے کہ عرب میں بعض لڑکیاں ۹/برس میں ماں اور اٹھارہ برس کی عمر میں نانی بن گئی ہیں۔ سنن دار قطنی میں ہے حدثنی عباد بن عباد المہلبی قال ادرکت فینا یعنی المہالبة امرأة صارت جدة وہی بنت ثمان عشرة سنة، ولدت تسع سنین ابنة، فولدت ابنتہا لتسع سنین فصارت ہی جدة وہی بنت ثمان عشرة سنة (دارقطنی، جلد۳، صفحہ ۳۲۳، مطبوعہ: لاہور پاکستان) خودہمارے ملک ہندوستان میں یہ خبر کافی تحقیق کے بعد شائع ہوئی ہے کہ وکٹوریہ ہسپتال دہلی میں ایک سات سال سے کم عمر کی لڑکی نے ایک بچہ جنا ہے۔ (دیکھئے اخبار ”مدینہ“ بجنور، مجریہ یکم جولائی ۱۹۳۴/ بحوالہ نصرت الحدیث صفحہ ۱۷۱)
جب ہندوستان جیسے معتدل اور متوسط ماحول وآب و ہوا والے ملک میں سات برس کی لڑکی میں یہ استعداد پیدا ہوسکتی ہے تو عرب کے گرم آب و ہوا والے ملک میں ۹/ سال کی لڑکی میں اس صلاحیت کا پیدا ہونا کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت علی-رضی الله عنه- نے اپنی لڑکی ام کلثوم کا نکاح عروة بن الزبیر سے اور عروة بن الزبیر نے اپنی بھتیجی کا نکاح اپنے بھتیجے سے اور عبداللہ بن مسعود-رضی الله عنه- کی بیوی نے اپنی لڑکی کا نکاح ابن المسیب بن نخبة سے کم سنی میں کیا۔ (الفقہ الاسلامی وادلتہ جلد۷، صفحہ ۱۸۰)
ان حضرات کا کم سنی میں اپنی لڑکیوں کا نکاح کردینا بھی اس بات کی کھلی ہوئی دلیل ہے کہ اس وقت بہت معمولی عمر میں ہی بعض لڑکیوں میں شادی وخلوت کی صلاحیت پیدا ہوجاتی تھی، تو اگر حضرت عائشہ-رضی الله عنہا- کا نکاح ۶/برس کی عمر میں ہوا تو اس میں کیا استبعاد ہے کہ ان میں جنسی صلاحیتیں پیدا نہ ہوئی ہوں۔ جیساکہ ابھی ثابت ہوچکا ہے کہ ان کی والدہ نے خصوصیت کے ساتھ اس کا اہتمام کیا تھا الغرض شوہر سے ملنے کے لیے ایک عورت میں جو صلاحیتیں ضروری ہوتی ہیں وہ سب حضرت عائشہ-رضی الله عنہا- میں موجود تھیں۔ لہٰذا اب یہ خیال انتہائی فاسد ذہن کا غماز ہوگا اور موسمی، ملکی، خاندانی اور طبی حالات سے اعراض اور چشم پوشی کا مترادف ہوگا کہ حضرت عائشہ-رضی الله عنہا- سے کم سنی میں شادی کرنے کی آپ -صلى الله علیه وسلم- کو کیا ضرورت تھی؟ علاوہ ازیں حضرت عائشہ کے ماسواء جملہ ازواج مطہرات-رضی الله عنهن- بیوہ، مطلقہ یا شوہر دیدہ تھیں، حضرت عائشہ-رضی الله عنہا- سے کم سنی میں ہی اس لئے نکاح کرلیا گیا تاکہ وہ آپ -صلى الله علیه وسلم- سے زیادہ عرصہ تک اکتسابِ علوم کرسکیں۔ اور حضرت عائشہ-رضی الله عنہا- کے توسط سے لوگوں کو دین و شریعت کے زیادہ سے زیادہ علوم حاصل ہوسکیں۔ چنانچہ آنحضرت -صلى الله علیه وسلم- کی وفات کے بعد حضرت عائشہ-رضی الله عنہا-(48) اڑتالیس سال زندہ رہیں، زرقانی کی روایت کے مطابق ۶۶ھ میں حضرت عائشہ-رضی الله عنہا- کا انتقال ہوا۔ ۹/برس میں رخصتی ہوئی آپ کے ساتھ ۹/ سال رہیں اور آپ کی وفات کے وقت ان کی عمر ۱۸ برس تھی۔ (زرقانی، الاستیعاب) اور صحابہ و تابعین ان کی خداداد ذہانت و فراست، ذکاوت وبصیرت اور علم و عرفان سے فیض حاصل کرتے رہے،اور اس طرح ان کے علمی و عرفانی فیوض و برکات ایک لمبے عرصہ تک جاری رہے۔ (زرقانی جلد ۳، صفحہ ۲۲۹-۲۳۶)
حقیقت یہ ہے کہ آپ -صلى الله علیه وسلم- کے سوا کوئی ایسا آدمی دنیا میں نہیں گزرا جو کامل ۲۳ برس تک ہر وقت، ہر حال میں منظر عام پر زندگی بسر کرلے، سینکڑوں ہزاروں آدمی اس کی ایک ایک حرکت کے تجسس میں لگے ہوئے ہوں۔ اپنے گھر میں اپنی بیویوں اور اپنی اولاد کے ساتھ برتاؤ کرتے ہوئے بھی اس کی جانچ پڑتال ہورہی ہو اور اتنی گہری تلاش کے بعد نہ صرف یہ کہ اس کے کیریکٹر پر ایک سیاہ چھینٹ تک نظر نہ آئے؛ بلکہ یہ ثابت ہو کہ جو کچھ وہ دوسروں کو تعلیم دیتا تھا، خود اس کی اپنی زندگی اس تعلیم کا مکمل نمونہ تھی؛ بلکہ یہ ثابت ہوکہ اس طویل زندگی میں وہ کبھی ایک لمحہ کے لیے بھی عدل وتقویٰ اور سچائی و پاکیزگی کے معیاری مقام سے نہیں ہٹا؛ بلکہ یہ ثابت ہوکہ جن لوگوں نے سب سے زیادہ قریب سے اس کو دیکھا وہی سب سے زیادہ اس کے گرویدہ اور معتقد ہوئے۔ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وصحبہ وسلم۔
یہی وجہ ہے کہ انسان کی پوری آبادی میں ”انسانِ کامل“ کہلائے جانے کے آپ -صلى الله علیه وسلم- ہی مستحق ہیں اور عیسائی سائنسداں نے جب تاریخ عالم میں ایسے شخص کو جو اپنی شخصیت کے جگمگاتے اور گہرے نقوش چھوڑے ہیں سب سے پہلے نمبر پر رکھ کر اپنی کتاب کاآغاز کرنا چاہا تو اس نے دیانت کا ثبوت دیتے ہوئے حضرت عیسیٰ علیہ الصلاة والسلام اوراپنے من پسند کسی سائنسداں کا تذکرہ نہیں کیا بلکہ اس کی نظر انتخاب اسی پر پڑی اور اسی سے اپنی کتاب کاآغاز کیا جسے دنیا حضرت محمد -صلى الله علیه وسلم- کے نام سے جانتی اور پہچانتی ہے۔ اس لئے آپ -صلى الله علیه وسلم- کی زندگی جلوت کی ہو یا خلوت کی ایک کامل نمونہ ہے اور اس میں ایسا اعتدال و توازن پایا جاتا ہے کہ کسی قسم کے شک و شبہ کی گنجائش نہیں رہتی۔ اور جب کوئی ”یرقانی“ نظر والے آپ -صلى الله علیه وسلم- کی زندگی میں کسی کمی کو تلاش کریں تو حقیقت پسند شاعر یہ کہہ کر اس کی طرف متوجہ ہوگا۔
فرق آنکھوں میں نہیں، فرق ہے بینائی میں
عیب میں عـیب، ہنرمند ہنر دیکھتے ہیں
انٹرنیٹ کی دنیا سے قریبی تعلق رکھنے والے جانتے ہیں کہ اسلام کے خلاف مختلف شکوک و شبہات اور فتنے پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس قسم کے شکوک وشبہات کاازالہ اور فتنوں کا سدِّباب وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، جو لوگ انٹرنیٹ کے ذریعہ فتنے کے شوشے چھوڑ دیتے ہیں ان کا منظم و منصوبہ بند طریقہ پرجواب دیا جائے کسی وجہ سے اگر علماء براہِ راست انگریزی میں جواب نہیں دے سکتے تو ان کا علمی تعاون حاصل کرکے جواب کی اشاعت عمل میں لائی جاسکتی ہے، زندگی کا کارواں جب چلتا ہے تو گرد و غبار کا اٹھنا لازمی ہے؛ لیکن منزل کی طرف رواں دواں رہنے ہی میں منزل پر پہنچا جاسکتا ہے؛ لیکن اس کے لئے قدم میں طاقت اور دست و بازو میں قوت چاہئے۔ ع
اس بحرِ حوادث میں قائم پہنچے گا وہی اب ساحل تک
جو موجِ بلاء کا خوگر ہو رخ پھیرسکے طوفانوں کا