04/08/2024
شیخ اسماعیل شہید رحمه الله تعالیٰ کی شہادت کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں، ایک مغربی اخبار نے لکھا کہ دو ماہ پہلے اس عمارت میں بم نصب کیا گیا تھا، جبکہ دوسری خبر گائیڈڈ میزائل کے ذریعے عمارت کو نشانہ بنانے کی ہے۔ کل پرسوں سے فیس بک اور وٹس ایپ وغیرہ پر ایک تحریر گردش میں ہے کہ ان کی لاش تو کسی نے نہیں دیکھی، کیا پتا ان کو امریکا کے حوالے کیا گیا ہو، آپ لوگوں نے کیسے یقین کرلیا کہ اس تابوت کے اندر شیخ شہید رحمه الله تعالیٰ کا جسدِ خاکی ہے؟ لا حول ولاقوة إلا بالله !
یہ باتیں غیر ضروری، بے فائدہ، بلکہ مضحکہ خیز ہیں۔ یہ قطعا غیر معقول ہے کہ ہم بغیر معلومات کے اندازوں کے گھوڑے دوڑائے اور اپنی محدود کچی پکی معلومات کی بنیاد پر بیانیے تشکیل دیں اور لوگوں سے منوانے کی کوشش کریں۔ ہمیں وہ کام کرنا چاہیے جس کا وقت تقاضا کرتا ہے، یعنی فلسطینی مسلمانوں کے ساتھ تعاون، ان کے لیے آواز اٹھانا اور دشمن کے خلاف ہر سطح پر کام کرنا۔
جہاں تک واقعے کی تفصیلات کا تعلق ہے تو اس حوالے سے ان کے اہلِ خانہ، ان کی تحریک اور تحریک کے ذمہ داران اصل فریق ہیں، انہی کی بات سب سے زیادہ معتبر ہوگی۔ ہمیں خاموشی کے ساتھ وہ کام کرنا چاہیے جو ہمارے کرنے کا ہے اور ان کے تفصیلی موقف کا انتظار کرنا چاہیے۔
الجزیرۃ پر تحریک کے ایک اہم ذمہ دار ڈاکٹر خالد قدومی نے اس حوالے سے مختصر گفتگو کی ہے، ڈاکٹر صاحب اس وقت خود اسی بلڈنگ کی دوسری منزل میں موجود تھے، جبکہ شیخ شہید رحمه الله تعالیٰ چوتھی منزل میں تھے۔ ان کے مطابق انہوں نے واقعہ کے بعد اس کمرے میں جا کر شیخ شہید اور ان کے محافظ وسیم ابو شعبان دونوں کے جسدِ خاکی کو دیکھا، شیخ شہید رحمه الله کا جسدِ خاکی کمرے کے درمیان میں تھا، جبکہ ان کے محافظ وسیم ابو شعبان قرآن کو سینے سے لگائے ہوئے تھے اور ان کا پاکیزہ خون قرآن پر لگا ہوا تھا۔ الله أکبر ! انہوں نے کہا باہر سے کسی چیز نے آکر عمارت کو نشانہ بنایا، اندر کسی بم وغیرہ کے ہونے کی انہوں نے نفی کی اور کہا یہ بات غیر معقول ہے۔
ڈاکٹر خالد قدومی کی گفتگو کا لنک کمنٹ میں ملاحظہ فرمائیں۔
(عبد الله ولی)