09/06/2026
عملی سرگرمی یعنی ایکٹویٹی کے ذریعے سیکھنا علم کی وہ چاشنی ہے جو خشک کتابوں کے صحراؤں کو ہرا بھرا باغ بنا دیتی ہے۔ روایتی تعلیم علم کا مردہ خزانہ ہے جو سینے میں بند پڑا رہتا ہے، جبکہ عملی سرگرمی اس خزانے کی کنجی ہے جو طالب علم کے ہاتھ میں تھما دی جاتی ہے۔ جب بچہ خود کر کے سیکھتا ہے تو اس کا ذہن زمین کی مانند نرم ہو کر علم کا بیج قبول کر لیتا ہے اور تجربے کا پانی پا کر تنقیدی سوچ کا درخت بن جاتا ہے۔ رٹا لگانا ریت پر لکیر کھینچنے کے مترادف ہے جو ہوا کا جھونکا مٹا دیتا ہے، مگر ایکٹیویٹی وہ پتھر پر نقش ہے جو وقت کی گرد سے بھی محفوظ رہتا ہے۔ اس طریقے میں طالب علم محض "چپ کا روزہ" نہیں رکھتا بلکہ "ہاتھ پاؤں مار کر" اپنی منزل پاتا ہے۔ بے شک عملی سرگرمی تعلیم کی وہ ماں ہے جو علم کو گود میں لے کر اسے زندگی کے دودھ سے پالتی ہے، تاکہ وہ کل کا کارگر شہری بنے نہ کہ صرف ڈگریوں کا بوجھ اٹھانے والا "کتابی کیڑا"۔
AQSS Class KG students