Mohammad Ilyas

Mohammad Ilyas Knowledge of Islam is very important of the Muslims.I want people know better and better Islam.

16/05/2026

عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا رَأَيْتُمْ هِلَالَ ذِي الْحِجَّةِ وَأَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يُضَحِّيَ فَلْيُمْسِكْ عَنْ شَعْرِهِ وَأَظْفَارِهِ
ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’جب تم ذوالحجہ کا چاند دیکھو اور تم میں سے کوئی شخص قربانی کا ارادہ رکھتا ہو، وہ اپنے بالوں اور ناخنوں کو (نہ کاٹے) اپنے حال پر رہنے دے۔‘‘ صحیح مسلم حدیث 1977.02
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ أَتَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَقْرِئْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لَهُ اقْرَأْ ثَلَاثًا مِنْ ذَاتِ الر فَقَالَ الرَّجُلُ كَبِرَتْ سِنِّي وَاشْتَدَّ قَلْبِي وَغَلُظَ لِسَانِي قَالَ فَاقْرَأْ مِنْ ذَاتِ حم فَقَالَ مِثْلَ مَقَالَتِهِ الْأُولَى فَقَالَ اقْرَأْ ثَلَاثًا مِنْ الْمُسَبِّحَاتِ فَقَالَ مِثْلَ مَقَالَتِهِ فَقَالَ الرَّجُلُ وَلَكِنْ أَقْرِئْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ سُورَةً جَامِعَةً فَأَقْرَأَهُ إِذَا زُلْزِلَتْ الْأَرْضُ حَتَّى إِذَا فَرَغَ مِنْهَا قَالَ الرَّجُلُ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَزِيدُ عَلَيْهَا أَبَدًا ثُمَّ أَدْبَرَ الرَّجُلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْلَحَ الرُّوَيْجِلُ أَفْلَحَ الرُّوَيْجِلُ ثُمَّ قَالَ عَلَيَّ بِهِ فَجَاءَهُ فَقَالَ لَهُ أُمِرْتُ بِيَوْمِ الْأَضْحَى جَعَلَهُ اللَّهُ عِيدًا لِهَذِهِ الْأُمَّةِ فَقَالَ الرَّجُلُ أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ أَجِدْ إِلَّا مَنِيحَةَ ابْنِي أَفَأُضَحِّي بِهَا قَالَ لَا وَلَكِنْ تَأْخُذُ مِنْ شَعْرِكَ وَتُقَلِّمُ أَظْفَارَكَ وَتَقُصُّ شَارِبَكَ وَتَحْلِقُ عَانَتَكَ فَذَلِكَ تَمَامُ أُضْحِيَّتِكَ عِنْدَ اللَّهِ
حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا یا رسول اللہ مجھے قرآن پڑھا دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا تم وہ تین سورتیں پڑھ لو جن کا آغاز الر سے ہوتا ہے وہ آدمی کہنے لگا کہ میری عمر زیادہ ہوچکی ہے دل سخت ہو گیا ہے اور زبان موٹی ہوچکی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تم حم سے شروع ہونے والی تین سورتیں پڑھ لو اس نے اپنی وہی بات دہرائی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سبح سے شروع ہونے والی تین سورتوں کا مشورہ دیا لیکن اس نے پھر وہی بات دہرائی اور کہنے لگا کہ یا رسول اللہ مجھے کوئی جامع سورت سکھا دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سورہ زلزال پڑھا دی جب وہ اسے پڑھ کر فارغ ہوا تو کہنے لگا اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا میں اس پر کبھی اضافہ نہ کروں گا اور پیٹھ پھیر کر چلا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق دو مرتبہ فرمایا کہ وہ یہ آدمی کامیاب ہوگیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے میرے پاس لے کر آؤ جب وہ آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے عیدالاضحی کے دن قربانی کا حکم دیا گیا ہے اور اللہ نے اس دن کو اس امت کے لئے عید کا دن قرار دیا ہے وہ آدمی کہنے لگا یہ بتائیے اگر مجھے کوئی جانور نہ ملے سوائے اپنے بیٹے کے جانور کے تو کیا میں اسی کی قربانی دے دوں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں بلکہ تم اپنے ناخن تراش وبال کاٹو مونچھیں برابر کرو اور زیر ناف بال صاف کرو اللہ کے یہاں کے یہی کام تمہاری طرف سے مکمل قربانی تصور ہوں گے۔ اسنادہ حسن۔مسند احمد حدیث 6575

سیدنا عبد اللہ بن عمررضی اللہ عنہ نے ایام ذی الحجہ میں ایک عورت کو اپنے بچے کے بال کاٹتے دیکھ کر فرمایا:''اگر قربانی والے دن تک موخر کر دیتی تو بہتر تھا ''المستدرک علی الصّحیحین للحاکم ، ٤/٢٤٦ ،ح ، ٧٥٢٠, وسندہ، حسنٌ

15/05/2026

عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْغَازِي فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَالْحَاجُّ وَالْمُعْتَمِرُ وَفْدُ اللَّهِ، دَعَاهُمْ فَأَجَابُوهُ، وَسَأَلُوهُ فَأَعْطَاهُمْ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا، حج کرنے والا اور عمرہ کرنے والا اللہ تعالیٰ کا مہمان ہے، اللہ تعالیٰ نے ان کو بلایا تو انہوں نے حاضری دی، اور انہوں نے اللہ تعالیٰ سے مانگا تو اس نے انہیں عطا کیا“۔ اسنادہ حسن۔ ابن ماجہ حدیث 2893

09/05/2026

عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ صِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ صِيَامُ الدَّهْرِ وَأَيَّامُ الْبِيضِ صَبِيحَةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ وَخَمْسَ عَشْرَةَ
حضرت جریر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے، نبی ﷺ نے فرمایا: ”ہر مہینے تین روزے رکھنا (ثواب کے لحاظ سے) زمانے بھر کے روزوں کے برابر ہے۔ اور ایام بیض (چمکتی راتوں والے دن) تیرہ، چودہ اور پندرہ ہیں۔“ اسنادہ حسن۔ سنن نسائی حدیث 2427

09/05/2026

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" أَسْلَمَتِ امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ لِبَعْضِ الْعَرَبِ وَكَانَ لَهَا حِفْشٌ فِي الْمَسْجِدِ، قَالَتْ: فَكَانَتْ تَأْتِينَا فَتَحَدَّثُ عِنْدَنَا فَإِذَا فَرَغَتْ مِنْ حَدِيثِهَا، قَالَتْ: وَيَوْمُ الْوِشَاحِ مِنْ تَعَاجِيبِ رَبِّنَا أَلَا إِنَّهُ مِنْ بَلْدَةِ الْكُفْرِ أَنْجَانِي فَلَمَّا أَكْثَرَتْ، قَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ: وَمَا يَوْمُ الْوِشَاحِ، قَالَتْ: خَرَجَتْ جُوَيْرِيَةٌ لِبَعْضِ أَهْلِي وَعَلَيْهَا وِشَاحٌ مِنْ أَدَمٍ فَسَقَطَ مِنْهَا , فَانْحَطَّتْ عَلَيْهِ الْحُدَيَّا وَهِيَ تَحْسِبُهُ لَحْمًا , فَأَخَذَتْ فَاتَّهَمُونِي بِهِ فَعَذَّبُونِي , حَتَّى بَلَغَ مِنْ أَمْرِي أَنَّهُمْ طَلَبُوا فِي قُبُلِي , فَبَيْنَاهُمْ حَوْلِي وَأَنَا فِي كَرْبِي إِذْ أَقْبَلَتِ الْحُدَيَّا حَتَّى وَازَتْ بِرُءُوسِنَا ثُمَّ أَلْقَتْهُ فَأَخَذُوهُ، فَقُلْتُ: لَهُمْ هَذَا الَّذِي اتَّهَمْتُمُونِي بِهِ وَأَنَا مِنْهُ بَرِيئَةٌ".
عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ایک کالی عورت جو کسی عرب کی باندی تھی اسلام لائی اور مسجد میں اس کے رہنے کے لیے ایک کوٹھری تھی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا وہ ہمارے یہاں آیا کرتی اور باتیں کیا کرتی تھی، لیکن جب باتوں سے فارغ ہو جاتی تو وہ یہ شعر پڑھتی ”اور ہار والا دن بھی ہمارے رب کے عجائب قدرت میں سے ہے، کہ اسی نے (بفضلہ) کفر کے شہر سے مجھے چھڑایا۔“ اس نے جب کئی مرتبہ یہ شعر پڑھا تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس سے دریافت کیا کہ ہار والے دن کا قصہ کیا ہے؟ اس نے بیان کیا کہ میرے مالکوں کے گھرانے کی ایک لڑکی (جو نئی دولہن تھی) لال چمڑے کا ایک ہار باندھے ہوئے تھی۔ وہ باہر نکلی تو اتفاق سے وہ گر گیا۔ ایک چیل کی اس پر نظر پڑی اور وہ اسے گوشت سمجھ کر اٹھا لے گئی۔ لوگوں نے مجھ پر اس کی چوری کی تہمت لگائی اور مجھے سزائیں دینی شروع کیں۔ یہاں تک کہ میری شرمگاہ کی بھی تلاشی لی۔ خیر وہ ابھی میرے چاروں طرف جمع ہی تھے اور میں اپنی مصیبت میں مبتلا تھی کہ چیل آئی اور ہمارے سروں کے بالکل اوپر اڑنے لگی۔ پھر اس نے وہی ہار نیچے گرا دیا۔ لوگوں نے اسے اٹھا لیا تو میں نے ان سے کہا اسی کے لیے تم لوگ مجھے اتہام لگا رہے تھے حالانکہ میں بےگناہ تھی۔ صحیح بخاری حدیث 3835

07/05/2026

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْ قَبْرِي وَثَنًا لَعَنَ اللَّهُ قَوْمًا اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ یہ دعا فرماتے تھے کہ اے اللہ میری قبرکو بت نہ بنائیے گا (جس کی پوجا شروع کردیں ) ان لوگوں پر اللہ کی لعنت ہو جو اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیتے ہیں۔ إسناده قوي. مسند احمد حديث 7516

05/05/2026

عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً سَمِعَ مِنَّا حَدِيثًا فَحَفِظَهُ حَتَّى يُبَلِّغَهُ، فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ، وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ لَيْسَ بِفَقِيهٍ".
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ تعالیٰ اس شخص کو تروتازہ رکھے جس نے ہم سے کوئی بات سنی اور اسے یاد رکھا یہاں تک کہ اسے دوسروں تک پہنچا دیا کیونکہ بہت سے حاملین فقہ ایسے ہیں جو فقہ کو اپنے سے زیادہ فقہ و بصیرت والے کو پہنچا دیتے ہیں، اور بہت سے فقہ کے حاملین خود فقیہ نہیں ہوتے ہیں“۔ اسناده صحیح. ابوداؤد حدیث 3660

04/05/2026

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي مُسْتَحَمِّهِ فَإِنَّ عَامَّةَ الْوَسْوَاسِ مِنْهُ
حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سےروایت ہے، نبی ﷺ نے فرمایا: ’’تم میں سے کوئی اپنے غسل کی جگہ میں پیشاب نہ کرے کیونکہ عموماً وسوسے اسی سے پیدا ہوتے ہیں۔‘‘اسناده صحیح. سنن نسائى حدیث 36

04/05/2026

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فِي كَمْ أَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟ قَالَ:" فِي شَهْرٍ" قَالَ: إِنِّي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ، يُرَدِّدُ الْكَلَامَ أَبُو مُوسَى وَتَنَاقَصَهُ حَتَّى قَالَ:" اقْرَأْهُ فِي سَبْعٍ" قَالَ: إِنِّي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ، قَالَ:" لَا يَفْقَهُ مَنْ قَرَأَهُ فِي أَقَلَّ مِنْ ثَلَاثٍ"
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں قرآن کتنے دنوں میں ختم کروں؟ فرمایا: ”ایک ماہ میں“، کہا: میں اس سے زیادہ کی قدرت رکھتا ہوں (ابوموسیٰ یعنی محمد بن مثنیٰ اس بات کو بار بار دہراتے رہے) آپ اسے کم کرتے گئے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے سات دن میں ختم کیا کرو“، کہا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، فرمایا: ”وہ قرآن نہیں سمجھتا جو اسے تین دن سے کم میں پڑھے۔ اسنادہ صحیح۔ ابوداؤد حدیث 1390

28/04/2026

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ خَبَّبَ خَادِمًا عَلَى أَهْلِهَا فَلَيْسَ مِنَّا وَمَنْ أَفْسَدَ امْرَأَةً عَلَى زَوْجِهَا فَلَيْسَ هُوَ مِنَّا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک جو شخص کسی نوکر کو اس کے اہل خانہ کے خلاف بھڑکاتا ہے وہ ہم میں سے نہیں ہے اور جو شخص کسی عورت کو اس کے شوہر کے خلاف بھڑکاتا ہے وہ بھی ہم میں سے نہیں ہے۔ اسنادہ صحیح۔مسند احمد حدیث 9335

Address

Street No. 2 Chak No. 140/pb
Chak
64410

Telephone

+923006774240

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mohammad Ilyas posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Mohammad Ilyas:

Shortcuts

Share