Thar Jo Saeen Sachal Janjhi

Thar Jo Saeen Sachal Janjhi Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Thar Jo Saeen Sachal Janjhi, Chachro.

22/10/2025

ابھرتے ہوئے نوعمر طلبہ کے مسائل اور خدشات


سے متعلق مسائل اور خدشات پر۔ آج ہم بات کریں گے ابھرتے ہوئے نوعمری

نوعمری ایک ایسا مرحلہ ہے جو بچپن اور جوانی کے درمیان آتا ہے۔ اس دور میں بچوں کے جسم میں کئی جسمانی، جذباتی اور ہارمونی تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں۔
نئی احساسات، نئی خواہشیں اور جذبات ابھرنے لگتے ہیں جنہیں وہ اکثر سمجھ نہیں پاتے۔

والدین اور اساتذہ کبھی کبھار مدد کرتے ہیں، مگر کئی بچے اپنی بات کھل کر بیان نہیں کر پاتے۔ یہی وجہ ہے کہ اس عمر میں کئی اہم مسائل سامنے آتے ہیں، جن میں سے چند بڑے درج ذیل ہیں:

1. ذہنی صحت کے مسائل

یہ سب سے بڑا مسئلہ ہے — نہ صرف بھارت میں بلکہ پوری دنیا میں۔
نوعمر بچوں میں ڈپریشن، اینگزائٹی (اضطراب) اور ذہنی دباؤ عام ہیں۔
یہ مسائل ان کی تعلیمی کارکردگی، تعلقات اور روزمرہ زندگی پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔
اکثر والدین بچوں کی بات نہیں سنتے یا چھوٹی باتوں پر ڈانٹ دیتے ہیں، جس سے بچے اپنے مسائل بیان نہیں کر پاتے۔
اسی وجہ سے وہ اندرونی دباؤ میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔
کچھ نوجوان جینڈر شناخت (Gender Identity) کے مسئلے سے بھی گزرتے ہیں اور اپنی شناخت پر غیر مطمئن ہوتے ہیں، جس سے ان میں اضطراب اور ذہنی الجھن بڑھتی ہے۔

2. کم عمری میں شادی اور حمل

اب بھی کم عمری کی شادی ایک حقیقت ہے، جس کے نتیجے میں ابتدائی حمل (Early Pregnancy) سامنے آتا ہے۔
جب ایک نابالغ لڑکی ماں بن جاتی ہے تو اسے نہ صرف جسمانی بلکہ نفسیاتی اور سماجی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
یہ ماں اور بچے دونوں کے لیے صحت کے خطرات کا باعث بنتا ہے اور بعض اوقات سماجی بدنامی (Social Stigma) کا سبب بھی بنتا ہے۔
بغیر شادی کے حمل کے معاملات میں تو صورتحال مزید سنگین ہو جاتی ہے۔

4. تشدد اور بدسلوکی

گھریلو تشدد، جسمانی یا جنسی استحصال، یا جذباتی بدسلوکی کے واقعات بچوں میں غصہ، خوف اور جارحیت پیدا کرتے ہیں۔
کئی بچے ایسے ماحول میں پلتے ہیں جہاں انہیں مارا پیٹا جاتا ہے، اور یہی تجربہ آگے چل کر ان کے رویے پر اثر ڈالتا ہے۔
تشدد کا سامنا کرنے والے بچوں میں اکثر نفسیاتی صدمات دیکھے جاتے ہیں۔

5. تعلیمی مشکلات

غربت، وسائل کی کمی، اور معیاری تعلیم تک محدود رسائی بہت سے نوجوانوں کو ان کی صلاحیتوں کے اظہار سے روکتی ہے۔
اسکولوں میں ذات، مذہب یا معاشی پس منظر کی بنیاد پر امتیاز (Discrimination) بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔
یہ عوامل بچوں کی خوداعتمادی کو کم کرتے ہیں اور انہیں تعلیم سے دور کر دیتے ہیں۔

6. معاشی تنگدستی

غربت بچوں کو تعلیم، خوراک اور رہائش جیسے بنیادی حقوق سے محروم رکھتی ہے۔
جب بنیادی ضروریات پوری نہ ہوں تو ان کی ذہنی اور جسمانی نشوونما متاثر ہوتی ہے۔

7. سماجی امتیاز

کئی نوجوان ذات، مذہب یا جنس کی بنیاد پر امتیاز کا شکار ہوتے ہیں۔
بالغ افراد شاید اس کا سامنا کر لیں، مگر نوعمر بچوں کے لیے یہ تجربہ شدید ذہنی دباؤ کا باعث بنتا ہے، اور بعض اوقات خودکشی جیسے انتہائی اقدامات تک نوبت آ جاتی ہے۔

ان مسائل کا حل کیا ہو سکتا ہے؟

ذہنی صحت پر کھل کر بات کرنا ضروری ہے۔
اگر کوئی نوجوان کہتا ہے کہ وہ پریشان ہے یا تھراپی لے رہا ہے تو اس کا مذاق نہ اُڑایا جائے۔

جنسی تعلیم کو اسکولوں میں شامل کیا جائے تاکہ بچے آگاہ رہیں کہ کون سی چیز ان کے لیے محفوظ ہے۔

تشدد کی روک تھام کے لیے والدین، اساتذہ اور سماج کو ذمہ داری نبھانی چاہیے۔

تعلیمی مواقع بڑھانا — ہر بچے کو معیاری تعلیم تک رسائی دینا ریاست کی ترجیح ہونی چاہیے۔

سماجی انصاف — امتیاز کے خلاف آواز بلند کرنا، اور مظلوم بچوں کی حمایت کرنا ہر شہری کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔

ٿرڪول ريلوي لائين لاءِ ڳوٺ تڳوسر مان به مٽي کڻڻ جو سلسلو شروع،ڳوٺاڻن جو سخت اعتراض،
19/10/2025

ٿرڪول ريلوي لائين لاءِ ڳوٺ تڳوسر مان به مٽي کڻڻ جو سلسلو شروع،ڳوٺاڻن جو سخت اعتراض،

Under the Benazir Income Support Programme, why is no action being taken against the mafias openly deducting Rs. 1,000 t...
19/10/2025

Under the Benazir Income Support Programme, why is no action being taken against the mafias openly deducting Rs. 1,000 to 1,500 illegally from the stipends of 95,352 women of Tharparkar district at eleven centres established across Mithi, Islamkot, and other towns of Thar — amounting to over Rs. 100 million in total?

Who will ensure legal access to stipends for 67,000 poor and deserving women who have been deprived of their rightful payments due to the non-completion of verification surveys?

And why have more than a dozen elected representatives of Thar and the district administration remained silent spectators?

https://www.youtube.com/watch?v=uY2V5BOP5ek
22/09/2025

https://www.youtube.com/watch?v=uY2V5BOP5ek

How to present at a job interview is simpler when you treat your slides as support, not a script. In this video, Morgane Peng explains how to prepare a focus...

https://www.youtube.com/watch?v=yP0WbXjtznc
22/09/2025

https://www.youtube.com/watch?v=yP0WbXjtznc

This is the in-depth guide you need for applying to scholarships! We dive into everything from developing your scholarship application strategy to refining y...

14/09/2024

کیوں نہ پھِر سے اُس دور میں جایا جائے
مانگ کر آگ گھر کا چُولھا جلایا جائے
بیٹھ کر گلی میں کریں سب دِل کی باتیں
رَکھ کر مکئی کی روٹی پہ ساگ کھایا جائے
جب درختوں پہ چڑھ کے بیر کھاتے تھے
کوئی ویسا درخت پھِر گھر میں لگایا جائے
وہ تانگے کی سواری وہ گھوڑے کی ٹپ ٹپ
دھیمے سُروں میں پھِر کوئی ترانہ گایا جائے
مہمان آئیں گھر میں اور ہو گرمی کا موسم
شکر اور ستو کا شربت اُن کو پلایا جائے
شام ہو تو بچوں کو گھر بُلائیں آوازیں دے کر
ڈال کر مٹی کا تیل لالٹین کو جلایا جائے
کاش وہ سادہ لوح لوگ پلٹ آئیں واپس امیر
اور جدیدیت کا جنازہ دھُوم سے اُٹھایا جائے

11/09/2024

فیملی پنشن 10 سال تک محدود، رضاکارانہ ریٹائرمنٹ پر جرمانہ، فوجیوں کی پنشن کی شرح میں 50 فیصد اضافہ
وفاقی حکومت کے ملازمین کیلئے اہم خبر ہے کہ فنانس ڈویژن نے پے اینڈ پنشن کمیشن2020کی سفارش پر وفاقی ملازمین کے پنشن رولز میں تین اہم ترامیم کردی ہیں.

آفس میمو ر نڈم کے مطابق شریک حیات کی وفات یا اہل نہ ہونے کی صورت میں باقی ماندہ اہل فیملی ممبرز کو پنشن کی مدت کو زیادہ سے زیادہ دس سال تک محدود کردیاگیا ،اگر متوفی پنشنر کا بچہ معذور ہو تو اسے تاحیات پنشن ملے گی،اہل بچے کی صورت میں عمو می فیملی پنشن دس سال تک یا بچے کی عمر21سال ہونے تک ملے گی.

سپیشل فیملی پنشن میں کی گئی ترمیم کے تحت پنشن وصول کرنے والی شریک حیات کی وفات یا اہل نہ رہنے کی صورت میں فیملی ممبرز کو25سال تک پنشن ملے گی،اگر پنشنر کا بچہ یا بچی معذور ہو اتو یہ پنشن تاحیات ہو گی،آر مڈ فورسز اور سول آر مڈ فورسز کے تمام ر ینکس کیلئے پہلے سے موجودپنشنر کیلئے پنشن کی شرح میں پچاس فیصد کا اضا فہ کیا گیا۔

یہ پنشن اہل وارثوں کو ٹر انسفر کی جاسکے گی،تیسری تر میم کے تحت رضا کا رانہ ر یٹا ئر منٹ لینے والے ملازمین کو پینلٹی لگے گی.

نئی تر میم کے مطابق اگر کوئی ملازم پچیس سال سروس کے بعد رضاکا رانہ طور پر ریٹائرمنٹ لے گا تو اسے پنشن میں کٹوتی کا سامنا کرنا پڑے گا، پنشن کی کٹوتی تین فی صد کی شرح سے ہوگی۔

اس کا اطلاق ریٹائرمنٹ کی تاریخ سے ہو گا۔ اس تاریخ سے 60سال کی عمر تک کی باقی رہ جانے والی سروس پر ماہانہ گراس پنشن پر تین فی صد کٹوتی کی جا ئے گی ۔

اس تخفیف کی بالائی حد بیس فی صد مقرر کی گئی ہے۔ان ترامیم کا با ضابطہ نو ٹیفکیشن جا ری کردیاگیا ، تمام وزارتوں اور ڈویژنون کو ان ترامیم پر عملدرآ کیلئے او ایم بھیج دیاگیا ،ان ترامیم کا اطلاق فوری ہو گا،عمو می فیملی پنشن میں ترمیم کیلئے جاری کئے گئے۔

08/09/2024

سندھ کے سرکاری اسکولوں میں درسی کتاب نہ ملنے پر
سیکریٹری تعلیم، سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ سمیت
دیگر کے خلاف سندھ ھاء کورٹ میں درخواست دائر

Address

Chachro

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Thar Jo Saeen Sachal Janjhi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share