11/06/2026
Why Do People Procrastinate?
کام کو ٹال دینا کیا ہے؟؟
بہت سے لوگ اہم کاموں کو جانتے بوجھتے ہوئے بھی ٹالتے رہتے ہیں، حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ بعد میں اس کا نقصان ہو سکتا ہے۔
اس رویّے کو Procrastination (کام کو مؤخر کرنا) کہا جاتا ہے۔
عام خیال یہ ہے کہ procrastination سستی کی وجہ سے ہوتی ہے، لیکن نفسیات بتاتی ہے کہ اس کے پیچھے اکثر خوف، anxiety، perfectionism یا ناکامی کا ڈر بھی موجود ہوسکتا ہے۔
بعض لوگ کام شروع ہی اس لیے نہیں کرتے کیونکہ انہیں ڈر ہوتا ہے کہ وہ اسے مکمل طور پر اچھا نہیں کر پائیں گے یا پورا نہیں کر پائیں گے۔
Tim Pychyl
کے مطابق کام کو موخر کرنا
دراصل وقت کی مینجمنٹ کا نہیں بلکہ جذبات کی مینجمنٹ (emotion regulation) کا مسئلہ ہے۔
انسان مشکل یا ناخوشگوار جذبات سے بچنے کے لیے کام کو ٹال دیتا ہے۔
اس کو ایک مثال سے سمجھتے ہیں
یاد کریں جب آپ نے کوئی کام کرنا ہو، یا آپ کا ٹیسٹ ہو تو آپ ایک بوجھ سا یا بے چینی محسوس کرتے ہو مگر جیسے ہی آپ کا ٹیسٹ کینسل ہوا تو آپ نے اچھا محسوس کیا۔ اسی طرح جب اپنا کام آپ اگلے دن پے ڈالتے ہیں تو اچھا محسوس کرتے ہیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ وقتی سکون حاصل کرنے کے لیے کام کو ٹالنا بعد میں مزید stress، guilt اور anxiety پیدا کرتا ہے۔
Tim Pychyl
کے مطابق کام کو ٹالنے (Procrastination) سے نمٹنے کے چند مؤثر طریقے یہ ہیں:
1. صرف آغاز کریں
خود سے کہیں کہ میں صرف 5 منٹ کام کروں گا۔
2. بڑے کام کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کریں تاکہ وہ آسان محسوس ہو۔
3. بے آرامی کو قبول کریں
ہر کام کرنے کے لیے موڈ یا حوصلہ ہونا ضروری نہیں۔
4. جذبات کے بجائے عمل پر توجہ دیں "دل نہیں کر رہا" کا انتظار نہ کریں۔
5. خود پر سخت تنقید نہ کریں Self-compassion اختیار کریں۔
6. کام کو اپنے مستقبل کے اہداف سے جوڑیں تاکہ اس کی اہمیت واضح ہو۔
7. توجہ بٹانے والی چیزوں کو کم کریں اور کام کے لیے مناسب ماحول بنائیں.
یاد رکھیں۔۔۔۔
آپ کو موٹیویشن کا انتظار نہیں کرنا چاہیے؛ اکثر موٹیویشن کام شروع کرنے کے بعد پیدا ہوتی ہے۔
Psychologist Latif Rehmani
SelfDevelopment StressManagement EmotionalHealth UrduPsychology PersonalGrowth
01/06/2026
PPSC Job Opportunities for Psychologists in Punjab
*Child Psychologist (Female) – BS-17*
*Dept*: Child Protection & Welfare Bureau
*Posts*: 01 |
*Contract*: 3 years
*Qualification*: Master’s in Psychology (2nd Division)
*Eligibility*: Female only (Special Persons Quota)
*Age*: 22-30 + 15 yrs relaxation = 45 yrs
*Domicile*: Punjab
*Test*: One paper MCQ | 100 marks | 90 mins | 100% subject related
*Junior Psychologist – BS-17*
*Dept*: PPSC Lahore
*Posts*: 01 (Open Merit)
*Contract*: 3 years
*Qualification:* Master’s in Psychology with focus on test construction, statistics, research methods & assessment
*Age (Male)*: 21-32 + 5 yrs relaxation = 37 yrs
*Age (Female)*: 21-32 + 8 yrs relaxation = 40 yrs
*Gender*: Male, Female & Transgender
*Domicile*: Punjab | Posting: PPSC offices
*Test*: One paper MCQ | 100 marks | 90 mins | 100% subject related
*Last Date to Apply*: 15 June 2026
Apply online through official PPSC website.
*WhatsApp for Preparation*
03004459057
26/05/2026
Important Update for Students
HEC has postponed the implementation of ETC GRE/HAT tests for MS/MPhil and PhD admissions from Fall 2026 to Fall 2027.
Admissions for Fall 2026 will continue according to the existing university admission criteria.
This new policy will now be implemented from Fall 2027.
Students applying in 2026 should follow the current admission policies of their respective universities.
23/05/2026
Why Do People Fear Rejection?
لوگ مسترد ہونے سے کیوں ڈرتے ہیں؟
بہت سے لوگ “No” سننے، نظر انداز ہونے یا reject ہونے سے غیر معمولی خوف محسوس کرتے ہیں۔ بعض اوقات یہ خوف اتنا بڑھ جاتا ہے کہ انسان اپنی اصل شخصیت چھپانے لگتا ہے، ہر کسی کو خوش کرنے کی کوشش کرتا ہے یا تعلقات میں اپنی حدود قائم نہیں کر پاتا۔
نفسیات کے مطابق مسترد ہونے کا خوف اکثر بچپن کے تجربات، جذباتی طور پر نظر انداز کرنا، تنقید یا غیر محفوظ لگاو کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ اگر کسی انسان نے بچپن میں بار بار تنقید، نظراندازی یا محبت کی کمی محسوس کی ہو، تو وہ بڑا ہو کر دوسروں کی acceptance کو اپنی اہمیت سے جوڑ لیتا ہے۔
John Bowlby
کے مطابق ابتدائی تعلقات انسان کے جذباتی تحفظ پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ کچھ لوگ مسترد کئے جانےکو صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ اپنی قدر (value) کے خلاف فیصلہ سمجھ لیتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان کو ہر جگہ قبول نہیں کیا جا سکتا، اور مسترد کیا جانا ہمیشہ انسان کی اہمیت کا فیصلہ نہیں ہوتی۔
کسی کا آپ کو reject کرنا، آپ کی اہمیت اور قدر کم نہیں کرتا۔
Psychologist Latif Rehmani
22/05/2026
Why Do People Seek Validation?
لوگ اپنی اہمیت سمجھنے کے لیے دوسروں کے محتاج کیوں ہوتے ہیں
بہت سے لوگ اپنی خوشی، اعتماد اور خود کی اہمیت کو دوسروں کی رائے سے جوڑ لیتے ہیں۔ جب لوگ تعریف کریں تو اچھا محسوس ہوتا ہے، اور جب نظر انداز کریں تو انسان خود پر شک کرنے لگتا ہے۔
اسے نفسیات میں Validation Seeking کہا جاتا ہے۔
یہ عادت اکثر بچپن کے تجربات، جذباتی طور پر نظر انداز کیا جانا،
low self-esteem
یا مسلسل تنقید کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ ایسے لوگ اپنی قدر خود محسوس کرنے کے بجائے دوسروں کے اہمیت دینے سے خود کو اہم سمجھنے لگتے ہیں۔
سوشل میڈیا نے بھی اس رجحان کو بڑھا دیا ہے، جہاں لائک، کمنٹ اور توجہ کو
self-worth
سمجھ لیا جاتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اگر انسان کی خوشی ہمیشہ دوسروں کی رائے پر منحصر ہو، تو وہ کبھی emotionally stable نہیں رہ سکتا۔
Carl Rogers
کے مطابق انسان کی اصل growth اُس وقت شروع ہوتی ہے جب وہ اپنی قدر یا اہمیت کو دوسروں کی منظوری سے الگ سمجھنا سیکھتا ہے۔
جو انسان اپنی ویلیو خود جان لیتا ہے، وہ ہر وقت دوسروں سے توجہ یا اہمیت کا محتاج نہیں ہوتا۔
Psychologist Latif Rehmani
19/05/2026
Only Psychology Students can Understand 😅😅😅
16/05/2026
اوورتھنکنگ: ضرورت سے زیادہ سوچنے کی عادت
اوورتھنکنگ (Overthinking) ایک ایسی ذہنی کیفیت ہے جس میں انسان کسی مسئلے، بات یا صورتحال کے بارے میں حد سے زیادہ سوچنے لگتا ہے۔
بعض اوقات انسان ماضی کی غلطیوں پر بار بار غور کرتا رہتا ہے یا مستقبل کے خدشات میں اس قدر الجھ جاتا ہے کہ اس کا ذہنی سکون متاثر ہونے لگتا ہے۔
ضرورت سے زیادہ سوچنا وقتی طور پر مسئلے کا حل تلاش کرنے کی کوشش محسوس ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ ذہنی تھکن، اینگزائٹی، نیند کی خرابی اور فیصلہ کرنے میں مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔
Aaron T. Beck
کے مطابق منفی سوچ کے مسلسل پیٹرنز انسان کے جذبات اور رویّوں پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔
اوورتھنکنگ کی عام علامات میں ہر بات کو بار بار ذہن میں دہرانا، بدترین نتائج کے بارے میں سوچتے رہنا، خود پر ضرورت سے زیادہ تنقید کرنا اور چھوٹے فیصلوں میں بھی الجھن محسوس کرنا شامل ہیں۔
اس عادت کو کم کرنے کے لیے حال (present moment) پر توجہ دینا، اپنے خیالات کو حقیقت کی روشنی میں جانچنا، مصروف رہنا اور جذبات کسی قابلِ اعتماد شخص سے شیئر کرنا مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
اگر اوورتھنکنگ پر قابو نہ پایا جا سکے اور روزمرہ زندگی کو متاثر کرنے لگے تو ماہرِ نفسیات سے رہنمائی لینا چاہیے۔
یاد رکھیں:
ہر سوچ حقیقت نہیں ہوتی، اور ہر خوف سچ نہیں ہوتا۔
اور کوئی بھی سوچ اس وقت تنگ کرتی ہے جب ہم اس کو اہمیت دیتے ہیں اہمیت مہ دیں تو وہ سوچ غیر اہم ہو جاتی ہے۔
Psychologist Latif Rehmani