السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
الحمدللہ! گورنمنٹ مڈل سکول چلندری میں اسمبلی میں ہاشم اور ان کے گروپ نے نہایت خوبصورت انداز میں نظم پیش کیا۔
اللہ پاک ہاشم اور ان کے گروپ کو مزید ترقی عطا فرمائے اور ان کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔ آمین 🤲
GMS Chalandri BUNER
An institute of quality education
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
الحمدللہ! گورنمنٹ مڈل سکول چلندری میں اسمبلی میں ہمایون اور ان کے گروپ نے نہایت خوبصورت انداز میں ملی نغمہ پیش کیا۔
اللہ پاک ہمایون اور ان کے گروپ کو مزید ترقی عطا فرمائے اور ان کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔ آمین 🤲
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
الحمدللہ! گورنمنٹ مڈل اسکول چلندری میں اسمبلی میں ابوذرغفاری اور ان کے گروپ نے نہایت خوبصورت انداز میں حمد پیش کیا۔
اللہ پاک ابوذر غفاری اور ان کے گروپ کو مزید ترقی عطا فرمائے اور ان کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔ آمین 🤲
15/05/2026
14/05/2026
Chalandrian Tigers
نماز ظہر کیلۓ اذان بآواز عارف اللہ جماعت ششم
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
الحمدللہ! گورنمنٹ مڈل اسکول چلندری میں اسمبلی میں سدیس اور ان کے گروپ نے نہایت خوبصورت انداز میں حمد پیش کیا۔
اللہ پاک سدیس اور ان کے گروپ کو مزید ترقی عطا فرمائے اور ان کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔ آمین 🤲
ایک خاتون ٹیچر کی بیان کردہ تلخ حقیقت
کافی دنوں سے میری کلاس کے دو بھائی( جڑواں) اسکولا نہیں آ رہے تھے۔ میں نے ان کے والدین کے نمبرز پر کئی بار کال کی، مگر والدہ اور والد دونوں کے فون مسلسل بند آ رہے تھے۔ دل میں بے چینی بڑھتی جا رہی تھی، اس لیے آخرکار میں ایک بچے کو ساتھ لے کر ان کے گھر پہنچ گئی۔
دروازہ کھٹکھٹایا تو اندر سے ایک خاتون کی آواز آئی:
“کون ہے؟”
بتایا گیا:
“ٹیچر وجیہہ آئی ہیں، آپ سے بات کرنی ہے۔”
پہلے تو انہوں نے مصروفیت کا کہا، مگر بار بار درخواست کرنے پر اندر آنے کی اجازت مل گئی۔ گھر میں داخل ہوئی تو خاتون نے پانی پوچھا اور ہمارے سامنے آ کر بیٹھ گئیں۔
میں نے نہایت نرم لہجے اور اطمینان سے کہا:
“آپ کے دونوں بچے کافی دنوں سے اسکول نہیں آ رہے، تو سوچا خیریت معلوم کر لوں۔ آپ کے فون بھی نہیں لگ رہے تھے، اس لیے پریشانی ہوئی۔”
خاتون نے بڑی تلخی سے جواب دیا:
“ہم نے اپنے بچے ایک نجی اسکول میں داخل کروا دیے ہیں۔”
یہ سن کر مجھے حیرت ہوئی۔ میں نے پوچھا:
“اچانک ایسا کیوں؟”
وہ مسکرا کر بولیں:
“اب ہمارے بچے اٹھنا بیٹھنا سیکھ گئے تھے، کافی سمجھدار ہو گئے تھے، اور نجی اسکول کے داخلہ ٹیسٹ کے لیے بھی تیار تھے۔ انہوں نے اچھے نمبروں سے ٹیسٹ پاس کر لیا، اس لیے ہم نے انہیں وہاں داخل کروا دیا۔”
میں خاموشی سے انہیں دیکھتی رہی۔ پھر دل پر پتھر رکھ کر مسکرا دی اور کہا:
“یہ جان کر خوشی ہوئی کہ آپ کے حالات بدل گئے۔ کیونکہ جب آپ کے بچے سرکاری اسکول میں تھے تو آپ ایف ٹی ایف کے نام پر جمع کروائے جانے والے بیس روپے بھی ادا نہیں کر پاتے تھے، مگر اب آپ ہزاروں روپے فیس، مہنگے یونیفارم، کورسز اور آئے روز کے اضافی اخراجات برداشت کر سکیں گے۔ یہ واقعی خوشی کی بات ہے۔”
دل مگر عجیب سوالوں میں الجھ گیا۔
وہی بچے، جنہیں کبھی سرکاری یونیفارم میں مکمل نہیں دیکھ پائے، آج نجی اسکول کی چمکتی وردی میں ہوں گے۔ دل چاہا کہ ایک بار انہیں دیکھوں… صرف یہ دیکھنے کے لیے کہ لوگ کیسے الفاظ سے اور مہارت سے آپ کو بے وقوف بنا دیتے ہیں اور ہم ایسے لوگوں کے ہاتھوں بے وقوف بن بھی جاتے ہیں کیونکہ ہم اعتبار کر لیتے ہیں۔
میں نے ان سے صرف اتنا کہا:
“بچے آپ کے ہیں، فیصلہ بھی آپ کا حق ہے، اور یقیناً آپ نے ان کے بہتر مستقبل کے لیے ہی سوچا ہوگا۔ مگر اگر آپ ہمیں پہلے بتا دیتے تو شاید ہمیں اتنی پریشانی نہ ہوتی۔”
واپسی کے راستے میں ایک ہی سوال دل و دماغ میں گردش کرتا رہا:
آخر ہم ایسے کیوں ہیں؟
ایک استاد بچے کو صرف کتابیں نہیں پڑھاتا، بلکہ اسے سنوارتا ہے، اعتماد دیتا ہے، گرنے پر حوصلہ دے کر اٹھاتا ہے۔ جب بچہ اپنی ناک صاف کرنا بھی نہیں جانتا ہوتا، تب سے لے کر اس کے سمجھدار ہونے تک ایک استاد اس کی شخصیت بنانے میں اپنی محنت، وقت اور محبت لگا دیتا ہے۔ کتنی بار بچے کو سمجھایا جاتا ہے، کتنی بار اس کی غلطیاں برداشت کی جاتی ہیں، کتنی بار اس کی ہمت بندھائی جاتی ہے۔
اور پھر جب وہ بچہ سنبھل جاتا ہے، بولنا، چلنا، سمجھنا اور سیکھنا شروع کر دیتا ہے، تو اچانک بغیر کسی اطلاع کے اسے سرکاری اسکول سے نکال لیا جاتا ہے… جیسے اس تعلق کی کوئی اہمیت ہی نہ ہو۔
افسوس! ہمارا معاشرہ ظاہری چمک دمک کو تعلیم کا معیار سمجھ بیٹھا ہے۔ لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ بنیادیں مضبوط کرنے والے اکثر وہی سرکاری اساتذہ ہوتے ہیں، جو خاموشی سے بچوں کے مستقبل کو سنوار رہے ہوتے ہیں۔
یہ تحریر کسی شکوے کے لیے نہیں، بلکہ ایک احساس جگانے کے لیے ہے۔ کیونکہ استاد صرف پڑھاتا نہیں، اپنے ہر بچے سے ایک تعلق بھی بنا لیتا ہے۔ اور جب وہ تعلق اچانک ٹوٹتا ہے تو دکھ صرف ایک استاد ہی سمجھ سکتا ہے۔
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
الحمدللہ! گورنمنٹ مڈل سکول چلندری میں اسمبلی میں مجاھد اور ان کے گروپ نے نہایت خوبصورت انداز میں نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کی۔
ان کی آواز کی مٹھاس اور جذبات کی سچائی نے حاضرین کے دلوں کو عشقِ رسول ﷺ سے منور کر دیا۔
اللہ پاک مجاھد اور ان کے گروپ کو مزید ترقی عطا فرمائے اور ان کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔ آمین 🤲
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Telephone
Website
Address
19290
Opening Hours
| Monday | 08:15 - 14:20 |
| Tuesday | 08:15 - 14:20 |
| Wednesday | 08:15 - 14:20 |
| Thursday | 08:15 - 14:20 |
| Friday | 08:15 - 12:00 |
| Saturday | 08:15 - 14:20 |