01/08/2026
بونیر اسٹوڈنٹس سوسائٹی، ہزارہ یونیورسٹی
بونیر اسٹوڈنٹس سوسائٹی، ہزارہ یونیورسٹی، کوئٹہ کی کوئلے کی کان میں **گیس دھماکے** کے نتیجے میں ضلع شانگلہ سے تعلق رکھنے والے 36 محنت کش نوجوانوں کی المناک شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتی ہے۔
ہم شہداء کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کرتے ہیں اور دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ شہداء کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، زخمیوں کو جلد صحتِ کاملہ نصیب کرے اور سوگوار خاندانوں کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
یہ سانحہ صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ مزدوروں کے تحفظ، کانوں میں حفاظتی انتظامات، اور ہنگامی امدادی نظام کی ناکامی پر بھی سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق جائے حادثہ پر بروقت سرکاری ریسکیو مشینری اور ایمبولینسز موجود نہیں تھیں، جس کی وجہ سے شہداء کی میتوں کو نجی گاڑیوں اور کوچز کے ذریعے منتقل کرنا پڑا، جو انتہائی افسوسناک صورتحال ہے۔
ہم وفاقی اور صوبائی حکومتوں، متعلقہ اداروں، اور بالخصوص ضلع شانگلہ کے منتخب عوامی نمائندوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ محض تعزیتی بیانات تک محدود نہ رہیں بلکہ عملی اقدامات کریں۔ شانگلہ کے نوجوان روزگار کے مواقع نہ ہونے کے باعث اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر کوئلے کی کانوں میں مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔ یہ صورتحال فوری توجہ اور مؤثر پالیسیوں کی متقاضی ہے۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ شہداء کے لواحقین کو فوری اور مناسب مالی امداد فراہم کی جائے، کان کن مزدوروں کے لیے حفاظتی معیار کو یقینی بنایا جائے، ہنگامی ریسکیو نظام کو مضبوط بنایا جائے، اور شانگلہ کے نوجوانوں کے لیے باعزت روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں تاکہ وہ اپنی جانیں خطرناک کاموں میں داؤ پر لگانے پر مجبور نہ ہوں۔
صدر
ملک سعود خان مندڼ
بونیر اسٹوڈنٹس سوسائٹی
ہزارہ یونیورسٹی مانسہرہ