Peer Abu Mohammad Al Saifi

Peer Abu Mohammad Al Saifi 🌿 خلیفہ جانشینِ امام خراسانی
🌿 عفی عنہ بالنبی ﷺ
🌿 سربراہ: دارالعلوم و آستانہ محمدیہ سیفیہ
🌿 خانقاہی تربیت اور دینی خدمات

Permanently closed.
21/08/2026

ابلیس اور ذریت ابلیس کے چیخ و پکار کے ایام شروع ہیں۔

 حضرت امامِ ربانی قدس سرہٗ کے چار بیٹے تھے۔ ان میں سب سے بڑے شیخ محمد صادق قدس سرہٗ تھے۔ وہ کمال و تکمیل کے مرتبے تک پہن...
20/08/2026


حضرت امامِ ربانی قدس سرہٗ کے چار بیٹے تھے۔ ان میں سب سے بڑے شیخ محمد صادق قدس سرہٗ تھے۔ وہ کمال و تکمیل کے مرتبے تک پہنچنے کے بعد، بلکہ اس وقت جب امامِ ربانی نے اپنی حیاتِ مبارکہ میں جوانی ہی کے زمانے میں انہیں سَرہند کی قطبیت کی بشارت دی تھی، وبائے عام کے سال اچانک اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ ان کے والدِ بزرگوار کو اس جدائی کا بہت صدمہ ہوا اور انہوں نے ان کے لیے رحمت و رضوان کی بہت دعائیں کیں۔
دوسرے شیخ محمد سعید تھے۔ اس سلسلے میں ان کا لقب خازنِ رحمت ہے۔ ان کے والد نے انہیں ماوراء النہر کی قطبیت کی بشارت دی تھی، اور یہ بشارت بعینہٖ پوری ہوئی۔ ماوراء النہر کے اکثر اکابر، مثلاً مولانا موسیٰ خان دہبیدی، ان کے خلفاء اور خلفاء کے خلفاء انہی سے نسبت رکھتے ہیں۔ وہ تمام ظاہری و باطنی علوم میں کمال کی بلندی پر فائز تھے۔
چوتھے شیخ محمد یحییٰ قدس سرہٗ تھے۔ والدِ محترم کی وفات کے وقت وہ کم سن تھے، اس لیے انہوں نے اپنے دونوں بڑے بھائیوں سے علوم اور طریقت حاصل کی، یہاں تک کہ کمال و تکمیل کے مرتبے تک پہنچے۔
تیسرے بیٹے حضرت شیخ محمد معصوم قدس سرہٗ تھے۔
ان کی ولادت 1009ھ میں ہوئی۔ امامِ ربانی قدس سرہٗ نے فرمایا:
’’میرے بیٹے محمد کی ولادت سے بہت سی برکتیں ظاہر ہوئیں، کیونکہ ان کی ولادت کا زمانہ ہمارے شیخ خواجہ محمد باقی باللہ سے ملاقات اور ان کے سامنے حاضری کے ساتھ موافق ہوا۔ اسی ملاقات کی برکت سے علوم و معارف کا ظہور ہوا۔‘‘
امامِ ربانی قدس سرہٗ نے ان کی اعلیٰ استعداد کی بہت تعریف فرمائی اور فرمایا:
’’میرے اس بیٹے میں ولایتِ محمدی کے لیے ذاتی استعداد ہے۔ وہ محمدی مشرب ہے اور محبوبین میں سے ہے۔‘‘
ان کے سفرِ سلوک کی تیزی اور مقامات کی طرف ان کی پیش قدمی ایسی تھی کہ قریب رہنے والا شخص بھی اپنے آپ کو بہت دور اور محروم سمجھنے لگتا، جبکہ پہنچا ہوا شخص بھی اپنے آپ کو انقطاع اور ہجر کے مقام میں خیال کرتا۔
ان کی استعداد کی بلندی کا یہ عالم تھا کہ صرف تین سال کی عمر میں توحید کے مسائل پر صوفیانہ ذوق کے مطابق گفتگو کرنے لگے۔ وہ فرماتے:
’’میں زمین ہوں، میں آسمان ہوں، میں یہ ہوں اور میں وہ ہوں۔ یہ دیوار حق ہے اور یہ پتھر حق ہے۔‘‘
انہوں نے صرف تین ماہ میں قرآنِ مجید حفظ کرلیا۔ سولہ سال کی عمر میں علومِ عقلیہ و نقلیہ کی تحصیل سے فارغ ہوگئے، پھر طلبہ کو علم سکھانے میں مشغول ہوگئے۔
ان کے والدِ محترم نے دورانِ تعلیم، جب ان کی عمر گیارہ سال تھی، انہیں طریقت کی تلقین فرمائی، ذکر اور مراقبہ کا حکم دیا۔ انہوں نے اس پر پوری پابندی کی اور علم و عمل، قول و حال کو یکجا کردیا۔ ان کے تمام احوال استقامت، ورع اور تقویٰ سے معمور تھے۔
جب وہ کمالات کی بلندی اور مقامات کی انتہا تک پہنچ گئے اور ان پر مختلف روحانی احوال و واردات ظاہر ہونے لگیں تو امامِ ربانی قدس سرہٗ نے انہیں اجازتِ ارشاد عطا فرمائی، خلافت کی خلعت پہنائی اور بندگانِ خدا کی ہدایت کا حکم دیا۔
آپ کو قیومیت اور شام و روم کی قطبیت اور ان سے ملحقہ علاقوں کی قطبیت کی بھی بشارت دی گئی۔ یہ بشارت بھی اسی طرح پوری ہوئی، کیونکہ ان علاقوں میں ان کے خلفاء کی تعداد پھیلی اور ان کی طریقت لوگوں میں بہت مشہور ہوئی۔
بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ بھی اپنے والدِ بزرگوار کی طرح اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی تھے۔ ان کی بلند توجہات اور پاکیزہ احوال کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے عالم کو جہالت اور بدعات کی تاریکیوں سے روشن فرمایا۔ ہزاروں بلکہ بے شمار لوگ ان کی صحبتِ عالیہ کی برکت سے باطنی اسرار سے آگاہ ہوئے اور پاکیزہ روحانی احوال سے مشرف ہوئے۔
کہا گیا ہے کہ جن لوگوں نے ان کے ہاتھ پر بیعت کی، ان کی تعداد نو لاکھ تک پہنچی، جبکہ ان کے خلفاء کی تعداد سات ہزار تھی۔
ان کے مکتوبات تین ضخیم جلدوں میں ہیں، جیسے ان کے والدِ بزرگوار کے مکتوبات ہیں۔ ان میں پوشیدہ اسرار، لطیف نکات، دقیق آثار اور معارف بیان کیے گئے ہیں۔ ان مکتوبات میں زیادہ تر امامِ ربانی کے معارف کی مشکل اور پیچیدہ باتوں کی تشریح کی گئی ہے۔
ان کے مکتوبات میں سے ایک تحریر بطور تبرک یہاں درج کی جاتی ہے۔
’’اما بعد! یہ اس کمزور فکر رکھنے والے بندے کی طرف سے اہلِ بصیرت احباب کے لیے ایک یاددہانی ہے۔ اے بھائیو! جان لو کہ انسان کی تخلیق کا مقصد حق سبحانہٗ کی معرفت حاصل کرنا ہے، جو واضح دلیل کے ساتھ ثابت ہے۔ لوگ اپنی استعداد اور فہم کے تفاوت کے مطابق معرفت کے راستے میں مختلف درجات رکھتے ہیں۔ بعض بعض سے بلند ہیں۔‘‘
بزرگانِ دین نے اپنی معرفت کے مطابق اس موضوع پر گفتگو کی ہے، لیکن اس طائفے کے درمیان جو بات مشترک اور متفق علیہ ہے، اور قرب کے راستوں میں جس سے بے نیاز نہیں ہوا جاسکتا، وہ یہ ہے کہ معرفت اس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتی جب تک انسان معروفِ حقیقی، یعنی اللہ تعالیٰ کے حضور اپنے نفس سے فانی نہ ہوجائے۔
شاعر کہتا ہے:
جو اپنے نفس سے فنا نہ ہو،
وہ توحید کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتا۔
پس عقل مند انسان کو چاہیے کہ اپنے اعمال، اپنے مشاغل اور اپنے احوال کے انجام پر گہری نظر سے غور کرے۔ اگر اسے مذکورہ معرفت حاصل ہوگئی تو اس کے لیے خوشخبری اور مبارک باد ہے۔
اور جو کچھ حاصل ہو، اسے ایسے کاموں میں صرف نہیں کرنا چاہیے جن میں کوئی حقیقی فائدہ نہ ہو۔ بلکہ لازم ہے کہ انسان اپنے اصل مقصد سے بھی اسی طرح آگے بڑھے جیسے وہ اپنے سائے سے آگے بڑھتا ہے۔
ایک اہم بات:
جس شخص کے لیے معرفت کا دروازہ نہیں کھلا اور اسے اس عظیم نعمت کے حاصل نہ ہونے کا درد اور طلب کی بے قراری بھی محسوس نہیں ہوتی، اس کے لیے بڑی ہلاکت ہے۔ کیونکہ وہ اس مقصد کا حق ادا کیے بغیر دنیا سے چلا گیا جس کے لیے اسے پیدا کیا گیا تھا، اور اس نے اس ذمہ داری کو ادا نہیں کیا جس کا اس سے اس دنیاوی زندگی میں مطالبہ کیا گیا تھا۔
بلکہ اس نے کسی اور مشغلے میں اپنی زندگی لگا دی، اس چیز کو آباد کیا جسے اسے ویران کرنا تھا، اور اپنی عمر کے قیمتی جواہر اور اپنے اوقات کے یاقوت ایسی چیزوں میں خرچ کردیے جو اس کے لیے بے فائدہ تھیں۔
تعجب ہے اس شخص پر جو اس دنیا سے، جو دعوت و تبلیغ کی جگہ ہے، آخرت کے دارالقرار کی طرف اپنا سفر باندھ کر چل پڑا، لیکن اس مختصر مہلت میں اپنے مطلوب کو حاصل نہ کرسکا، حالانکہ اسے اس مطلوب کی دعوت بھی دی گئی تھی۔
پس وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کس منہ سے جائے گا؟ اور وہاں کس حیلے سے عذر پیش کرے گا؟ اس پر افسوس ہی افسوس ہے!
کیونکہ اللہ تعالیٰ سے دوری اور محرومی کا عذاب جہنم اور آگ کے عذاب سے بھی زیادہ سخت ہے، جس طرح اللہ تعالیٰ کے قرب اور وصال کی لذت جنت کے نعمتوں سے بھی زیادہ شیریں ہے۔
پس افسوس ہے اس شخص پر جو اللہ تعالیٰ سے منہ پھیر گیا، اور حسرت ہے اس شخص پر جس نے دنیا میں رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے حق میں کوتاہی کی۔
اگرچہ ہم اللہ تعالیٰ سے دوری اور ہجر کے خوف میں مبتلا ہیں، تاہم ہماری یہ پریشانی قیامت تک باقی رہ سکتی ہے۔
آپ کا وصال 9 ربیع الاول 1079ھ کو ہوا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے فیوض و برکات سے وافر حصہ عطا فرمائے۔ آمین۔

حضرت سید عبد الوہاب المعروف آخوند پنجو بابا صاحب رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ (945ھ تا 1040ھ)آپ کی کرامات سے ایک زندہ کرامت ی...
19/08/2026

حضرت سید عبد الوہاب المعروف آخوند پنجو بابا صاحب رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ (945ھ تا 1040ھ)

آپ کی کرامات سے ایک زندہ کرامت یہ ہے کہ اس وقت آپ کی ایک مسجد اکبر پورہ میں موجود ہے جس کو ہزاروں سیاح اور مورخ ، ہر قوم ہر مذہب اور ہرملت کے افراد دیکھنے آتے ہیں اور کسی کو اس سے انکار نہیں ہو سکتا۔ حضرت حاجی دریا خان جن کا مزار موضوع چمکنی تحصیل پشاور میں مرجع عوام و خواص ہے) نے ایک بار آپ سے سوال کیا کہ قیامت کے علامات کیا ہیں ۔ آپ نے جواب دیا میری مسجد کا محراب زمین میں جب غرق ہو جائے گا تو قیامت آجائے گی اب یہ بات مشاہدہ میں آرہی ہے که محراب مسجد آہستہ آہستہ بتدریج زمین میں دھنس رہا ہے ، اور اس وقت تقریباً تہائی حصہ دھنس چکا ہے ۔ واللہ اعلم با الصواب ۔

آپ کی وفات شاہ جہان بادشاہ کے عہد میں بعمر ۹۵ سال میں ہوئی ۔ اور اس آفتاب علم ظاہری و باطنی ، قطب الاقطاب ، غوث، وقت کو اکبر پوررہ سے تقریباً ایک میل سڑک شاہی کی طرف سپرد خاک کیا گیا ۔ ہزارہا لوگ آپ کی زیارت کے لئے آتے ہیں اور بڑے بڑے مشائخ نے آپ سے فیض لیا اور اب بھی فیضیاب ہوتے ہیں۔ آپ کی تجہیز و تکفین میاں عثمان صاحب اخون سالک صاحب، میاں علی بابا صاحب، حضرت شیخ رحمکار المعروف حضرت کا کا صاحب اور شیخ عبد الغفور صاحب المعروف چلگزی بابا نے کی ۔

79واں یوم آزادییوم تشکروطن عزیز پاکستان اور محافظین وطن کے مخالفین غدار اور دہشتگرد ہیں اور ان کے خلاف پوری قوم وطن عزیز...
14/08/2026

79واں یوم آزادی
یوم تشکر
وطن عزیز پاکستان اور محافظین وطن کے مخالفین غدار اور دہشتگرد ہیں اور ان کے خلاف پوری قوم وطن عزیز کے دفاع کے لئے محافظین وطن کے ساتھ کھڑی ہے اور رہے گی۔
ان شاءاللہ تعالیٰ



09/08/2026
جمعہ مبارک
24/07/2026

جمعہ مبارک






Today
23/07/2026

Today







10 محرم الحرام
25/06/2026

10 محرم الحرام







Address

Brahma

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Peer Abu Mohammad Al Saifi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Peer Abu Mohammad Al Saifi:

Shortcuts

Share

Category