آغازِ ادب

آغازِ ادب

Share

Search for Real Islamic information

12/03/2026

‏امام طبرانی کی کتاب میں ایک واقعہ
پڑھا آنسو ہیں کہ رک نہیں رہے
آپ بھی پڑھیں
حضرت صعصعہ بن ناجیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ در رسول الله ﷺ
پر کلمہ پڑھنے آئے
مسلمان ہونے کے بعد
نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں
عرض کرنے لگے
یا رسول الله ﷺ ایک بات پوچھنی ہے
حضور ﷺ نے فرمایا پوچھو‏کہنے لگے یا رسول الله ﷺ دور جاہلیت میں ہم نے جونیکیاں کی ہے
اُن کا بھی الله ہمیں آجر عطا کرے گا
کیا اُسکا بھی آجر ملے گا
تو
نبی کریمﷺ نے فرمایا تُو بتا
تُو نے کیا نیکی کی
تو کہنے لگے
یا رسول الله ﷺ میرے دو اونٹ گم ہوگئے میں اپنے تیسرے اونٹ پر بیٹھ کر
اپنے دو اونٹوں ‏کو ڈھونڈنے نکلا
میں اپنے اونٹوں کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے جنگل کے اُس پار نکل گیا
جہاں پرانی آبادی تھی
وہاں میں نے اپنے دو اونٹوں کو پا لیا
ایک بوڑھا آدمی جانوروں کی نگرانی پر بیٹھا تھا
اُس کو جا کر میں نے بتایا
کہ یہ دو اونٹ میرے ہیں
وہ کہنے لگا یہ تو چرتے چرتے یہاں آئے ‏تھے تمہارے ہیں تو لے جاؤ
اُنہی باتوں میں اُس نے پانی بھی منگوا لیا چند کھجوریں بھی آ گئی میں پانی پی رہا تھا کھجوریں بھی کھا رہا تھا کہ ایک بچے کے رونے کی آواز آئی تو
بوڑھا پوچھنے لگا
بتاؤ بیٹی آئی کہ بیٹا
میں نے پوچھا بیٹی ہوئی تو کیا کرو گے کہنے لگا اگر بیٹا ہوا تو
‏قبیلے کی شان بڑھائے گا
اگر بیٹی ہوئی تو ابھی یہاں اُسے زندہ دفن کرا دوں گا
اِس لیئے کہ
میں اپنی گردن اپنے داماد کے سامنے جھکا نہیں سکتا
میں بیٹی کی پیدائش پر آنے والی مصیبت برداشت نہیں کر سکتا
میں ابھی دفن کرا دوں گا
حضرت صعصعہ بن ناجیہ ؓ فرمانے لگے
یا رسول الله ﷺ
‏یہ بات سن کے میرا دل نرم ہوگیا
میں نے اُسے کہا
پھر پتہ کرو بیٹی ہے کہ بیٹا ھے
اُس نے معلوم کیا تو پتہ چلا کہ بیٹی آئی ہے
میں نے کہا کیا واقعی تو دفن کرے گا
کہنے لگا ہاں !
میں نے کہا دفن نہ کر مجھے دے دے
میں لے جاتا ہوں
یا رسول اللّٰه ﷺ وہ مجھے کہنے لگا
اگر میں بچی تم ‏کو دے دوں تو تم کیا دو گے
میں نے کہا
تم میرے دو اونٹ رکھ لو بچی دے دو کہنے لگا
نہیں،
دو نہیں یہ جس اونٹ پہ تو بیٹھ کے
آیا ہے یہ بھی لے لیں گے
حضرت صعصعہ بن ناجیہ ؓ عرض کرنے لگے ایک آدمی میرے ساتھ گھر بھیجو
یہ مجھے گھر چھوڑ آئے میں یہ اونٹ اُسے واپس دےدیتا ہوں
‏یا رسول اللّٰه ﷺ
میں نے تین اونٹ دے کرایک بچی لے لی
اُس بچی کو لاکے میں نے اپنی
کنیزکو دیا نوکرانی اُسے دودھ پلاتی
یا رسول الله ﷺ وہ بچی میرے داڑھی کے بالوں سے کھیلتی
وہ میرے سینے سے لگتی
حضور ﷺ پھر مجھے نیکی کا چسکا لگ گیا پھر میں ڈھونڈنے لگا
کہ
کون کون سا قبیلہ
‏بچیاں دفن کرتا ھے
یا رسول الله ﷺ
میں تین اونٹ دے کے بچی لایا کرتا
یا رسول الله ﷺ میں نے 360 بچیوں کی جان بچائی ھے
میری حویلی میں تین سو ساٹھ
بچیاں پلتی ہیں
حضور ﷺ مجھے بتائیں
میرا مالک مجھے اِس کا اجر دے گا ؟
کہتے ہے حضور ﷺ کا رنگ بدل گیا داڑھی مبارک پر آنسو گرنے
‏لگے مجھے سینے سے لگایا
میرا ماتھا چوم کے فرمانے لگے
یہ تو تجھے اجر ہی تو ملا ھے
رب نے تجھے دولتِ ایمان عطا کر دی ھے
نبی کریم ﷺ فرمانے لگے
یہ تیرا دنیا کا اجر ھے
اور
تیرے رسولﷺ کا وعدہ ھے
قیامت کے دن رب کریم تم پر
خزانے کھول کے دے گا۔

27/02/2026

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو بیٹھنے سے پہلے دو رکعت (تحیۃ المسجد) پڑھے۔”

حوالہ: صحیح بخاری ، حدیث نمبر: 444

اس حدیث میں نبی کریم ﷺ نے مسجد کے آداب کو بیان فرمایا ہے، یعنی جب کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو اسے چاہیے کہ بیٹھنے سے پہلے دو رکعت نماز ادا کرے جسے تحیۃ المسجد کہا جاتا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسجد کا احترام اور اس کی تعظیم عبادت کے ذریعے کی جاتی ہے، مثال کے طور پر اگر کوئی شخص نمازِ جماعت سے پہلے یا کسی اور وقت مسجد میں آئے تو وہ مختصر سی دو رکعت ادا کر کے مسجد کا حق ادا کرے، یہ حدیث ہمیں مسجد کے ادب، تعظیم اور سنت کے مطابق عمل کرنے کی ترغیب دیتی ہے ۔ ۔ ۔

27/02/2026

*♦️محبت کیا ہے؟♦️*

آئیں آج آپ کو محبت کے عنوان سے کچھ واقعات سناتے ہیں ۔ کیا آپ جانتے ہیں محبت کیا ہے؟
محبت تو یہ ہے
جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ایک صحابی نے روتے ہوئے دیکھا پوچھا ابوبکر آپ کو کس چیز نے رلایا ہے جواب دیا میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو روتے دیکھا ہے اس لئے رو رہا ہوں
محبت تو یہ ہے
جب بنی دینار کی ایک عورت کا شوہر بھائی اور بیٹا غزوہِ احد میں شہید ہوئے اور اسے اس کی خبر ملی اور وہ بار بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پوچھتی یہاں تک کہ جب اس نے آپ کو بحالت حیات پایا تو کہنے لگی آپ حیات ہیں تو ہر مصیبت ہلکی ہے
محبت تو یہ ہے کہ
جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں فرمایا
مجھے عائشہ کے بارے میں تکلیف نہ دو
محبت تو یہ ہے کہ
جب ہجرت کے موقع پر غار میں داخلے کے وقت صدیق اکبر نے یہ کہہ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو داخل ہونے سے روک دیا میں پہلے جاؤں گا کہیں اس میں موجود کوئی چیز آپ کی ایذا رسانی کا سبب نہ بنے
محبت تو یہ ہے کہ
جب حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ کو فتح بیت المقدس کے موقع پرحضرت عمر رضی اللہ عنہ نےاذان کا کہا انہوں نے اذان شروع کی جب أشهد أن محمدا رسول الله
پر پہنچے تو اس قدر روئے کہ اس سے پہلے اتنا کبھی نہ روئے تھے
محبت تو یہ ہے کہ
جب حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ آپ کے چہرے کا رنگ کیوں بدلا ہوا ہے انہوں نے جواب دیا یارسول اللہ مجھے کوئی تکلیف اور بیماری نہیں ہے۔میں جب تک آپ کا چہرہ انور نہ دیکھ لوں تو وحشت زدہ رہتا ہوں

محبت تو یہ ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ربیعہ بن کعب سے پوچھا آپ کی کوئی حاجت ہے تو بیان کریں ۔انہوں نے عرض کی یارسول اللہ فقط جنت میں آپ کا ساتھ چاہتا ہوں۔۔۔

27/02/2026

قلبِ صبور کا لفظی مطلب ہے "صبر کرنے والا دل"۔ یہ دو الفاظ کا مجموعہ ہے: 'قلب' یعنی دل اور 'صبور' یعنی بہت زیادہ صبر کرنے والا۔
اسلامی تصوف، اخلاقیات اور شاعری میں اس سے مراد وہ دل ہے جو زندگی کی تلخیوں، مصائب اور آزمائشوں کو اللہ کی رضا سمجھ کر خندہ پیشانی سے قبول کرے۔
قلبِ صبور کی چند اہم خصوصیات درج ذیل ہیں:
۱. رضائے الٰہی پر یقین
قلبِ صبور رکھنے والا شخص اس بات پر کامل یقین رکھتا ہے کہ جو کچھ اسے پہنچا ہے وہ اللہ کی مشیت سے ہے، اس لیے وہ شکوہ و شکایت کے بجائے خاموشی اور وقار کو ترجیح دیتا ہے۔
۲. استقامت اور پختگی
ایسا دل حالات کی سختی سے گھبراتا نہیں اور نہ ہی جلد بازی میں اپنے اصولوں یا ایمان کا سودا کرتا ہے۔ یہ مصیبت کے وقت ٹوٹنے کے بجائے مزید مضبوط ہوتا ہے۔
۳. ضبطِ نفس (Self-Control)
قلبِ صبور کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کو دکھ نہیں ہوتا، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے جذبات، غصے اور بے چینی پر قابو پا لیتا ہے اور زبان سے کوئی ایسا لفظ نہیں نکالتا جو ناشکری کے زمرے میں آئے۔
۴. شکر کے ساتھ صبر
حقیقی قلبِ صبور وہ ہے جو صرف خاموش نہ رہے بلکہ اس حال میں بھی اللہ کا شکر ادا کرے، جیسا کہ کہا جاتا ہے"صبر کی انتہا یہ ہے کہ تم تکلیف میں بھی ویسے ہی مسکراؤ جیسے تم نعمتوں میں مسکراتے تھے۔"
مختصر یہ کہ: قلبِ صبور وہ عظیم صفت ہے جو انسان کو ذہنی سکون اور روحانی طاقت عطا کرتی ہے، تاکہ وہ دنیا کے ہنگاموں میں خود کو ہارا ہوا

Photos from ‎ آغازِ ادب ‎'s post 27/02/2026
26/02/2026

نحن ُ اقرب ُ...لکھ دتوئی
ھُوَ معکم سبق دتوئی...
و فی انفسکم.....حکم کیتوئی
پھر کیہا گھونگھٹ پائیوئی...
نحن ُ اقرب ُ کی بنسی بجائی
من عَرَفَ نفسہ کی کُوک سنائی !

ترجمہ.....اے خدا تُو نے نحنُ اقربُ (ھم تمہاری شہہ ِ رگ سے زیادہ نزدیک ھیں )
لکھ کر ھُوَ مَعَکم (ھم تمہارے ساتھ ھیں ) کا سبق پڑھایا.....اور فی انفسکم ( تمہارے اندر نفس میں ھیں)
کا حکم دے دیا کہ مجھے اپنے اندر پہچان ! تُو کیوں مجھ سے دُور ھے !!
نحنُ اقربُ (شہہ رگ ) میں داخل ھو تو تجھے " من عَرَفَ نفسہ " ( جس نے اپنے نفس کو پہچانا
اس نے اپنے رب کو پہچانا ) کی کُوک سنائی دے گی !!

کلام : بابا بلھے شاہ
__________________
جبین

26/02/2026

‎بابا بلھے شاہ رحمۃ اللّٰہ علیہ آپ کی اس شاعری میں وہ انسان کے "نفس " کو "ڈھگے" یعنی بیل کے ساتھ تشبیہ دے رہے ہیں اور انسان کے "جسم" کو وہ " گڈے"یعنی ریہڑے سے تشبیہ دیتے ہیں.
‎بلھیا جے ڈھگا سدھے راہ جاوے
‎گڈا ہچکولے کیوں کھاوے
‎بن جوڑیاں گڈے جڑدا نئیں
‎جُڑ پوے تاں سدھا ٹردا نئیں
‎جیہڑا ڈھگا گڈے تے چڑھدا
‎گڈے نوں بنے کد لاوے
‎ہن بدلی نیت اس ڈھگے دی
‎وچوں کالے تے اُتوں بگے دی
‎اینھوں لاج نئیں اگے لگے دی
‎مطلب دیاں چنگیاں پیا لاوے
‎جے بچنا ای ٹبیاں کھائیاں توں
‎اینھوں زبح کرا قصائیاں توں
‎کوہ رجیا تیریاں وائیاں توں
‎وے مینوں بنے میرا رب لاوے
‎جیڑا دسدا نئی .....
‎بابا بلھے شاہ کہتے ہیں کہ انسان اپنے نفس کو اپنے آگے لگا دیتا ہے اور اسے اپنا محبوب بنا لیتا ہے. جس سے یہ نفس " "نفس امارہ"( من چاہی زندگی)
‎جو دل میں آیا کر دیا، اچھے برے کا کچھ خیال ہی نہی کیا، سینسر ایک قسم کا ڈیڈ ہو جاتا ہے اور احساس ندامت بلکل بھی نہی ہوتا. جو بس اپنی مرضی کرتا ہےجو انسان کو غلط راستے کی طرف لے چلتا ہے جس راستے میں گڑھے ہی گڑھے ہیں .جس کی وجہ سے جسم ہچکولے کھاتا رہتا ہے. آپ جب نفس کو ہی آگے لگا دیتے ہو تو یہ آپکو کبھی بھی سیدھی راہ پر نہیں لے کر جاتا کیوں کے اس کی نیت ہی سہی نہیں ہوتی وہ ہمیشہ اپنی مرضی کرے گا اور آپکو گمراہ کرتا رہے گا. اس نفس کو آگے لگنے کی لاج ہی نہیں ہے.یہ صرف اپنا مطلب پورا کرتا چلا جائے گا.
‎بلھے شاہ کہتے ہیں کہ اگر تو اس نفس(نفس امارہ)سے بچنا چاہتا ہے تو اس بیل کو قصائی سے ذبح کروا اسے کہو کہ ہم تیرے سے بھر چکے ہیں تونے ہمیں غلط راہ پہ چلایا ہے اور گمراہ کیا ہے. شیطان کے اندر فریب کی طاقت ہے اس کے علاوہ کوئی اور طاقت نہیں ہے وہ صرف فریب دیتا ہے اسکے بعد انسان کو اپنی اندر کی طاقتوں سے اس فریب کا مقابلہ کرنا پڑھے گا یعنی کہ عملی طور پر قدم اٹھانا پڑھے گا پھر یہ زبانی کلامی لکچروں سے اور کتابیں پڑھ لینے سے کہانی کہیں نہیں جاتی اصلاح_نفس جو ہے وہ نفس کی پیچدگیاں پہچان لینے سے نہیں ہونگی بلکہ اس کا مقابلہ کرنا پڑھے گا اس کا مقابلہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ آپکو پتا ہو کہ نفس ہے کیا آپکو دشمن کے فریب کے بارے میں پتا ہی نہیں ہے تو آپ جنگ کیسے لڑیں گۓ.آپکو پتا ہی نہیں ہے کہ وہ کب فریب دیتا ہے اور حملہ کرتا ہے.جو آپکے نفس کو نفس امارہ بناتا ہے.
‎بلھے شاہ کہتے ہیں کہ میں اپنے نفس کو اپنے رب کے حوالے کرتا ہوں جو مجھے سیدھی راہ پر لے کر جائے گا.
‎نفس مطمئنہ:- رب چاہی زندگی
‎خود کو رب کی مرضی کے سپرد کر دینا ، اور وہ ہی کرنا جسکا رب نے حکم دیا، نہ کبھی ریت رواج کے آڑے آنا اور ناہی کبھی ذاتی خواہش کے.
‎انسان مراکب ہے جسم کا، روح کا اور اس کے درمیان نفس کا برزخ ہے.نفس نے رہنا ہی ہے انسان میں بس اسکو اپنے آپ پر حاکم نہ ہونے دیں کہ وہ نفس امارہ بن کر آپکو گمراہ کر دے جیسے کے بابا بلھے شاہ کہہ رہے ہیں.نفس امارہ برا ہے.نفس کو آپ جب صاف کر لیتے ہیں تب روح اس نفس سے مخاطب ہوتی ہے اور جسم سے امر ظاہر ہونے لگتا ہےاور انسان پھر وہی کرتا ہے جسکا اللہ نے حکم دیا ہے

Want your school to be the top-listed School/college in Bhalwal?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address

Bhalwal
37010