Thal University Confessions

Thal University Confessions

Share

Send your confessions your identity will be safe

26/05/2026

Photos from Thal University Confessions's post 22/05/2026

جامعات میں تفریح کا معیار اور ہماری ذمہ داری
تحریر : فہیم احمد خان یوسفزئی
میرے مطابق
رنگ کسی مذہب کی جاگیر نہیں، یہ تو قدرت کا وہ حسین تحفہ ہیں جو ہماری اداس زندگیوں میں رونق لاتے ہیں۔ ایسے ہی جامعات صرف ڈگری بانٹنے والے کارخانے نہیں ہوتیں، بلکہ یہ وہ گہوارے ہیں جہاں قوم کے معماروں کی شخصیت سازی ہوتی ہے۔ یہاں کتابی علم کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کی ذہنی، فکری اور جسمانی نشوونما کے لیے تفریحی و ثقافتی سرگرمیاں اتنی ہی ضروری ہیں جتنا کہ کلاس روم کا ماحول۔ ہم ایک ایسے معاشرے میں جی رہے ہیں جہاں پہلے ہی گھٹن، معاشی تنگی اور ذہنی دباؤ عروج پر ہے۔ ایسے میں نوجوانوں کو خوشی کا ایک چھوٹا سا موقع فراہم کرنا ان کی ذہنی صحت کے لیے آکسیجن کی حیثیت رکھتا ہے۔
دنیا بھر کی جامعات میں تعلیم مکمل ہونے پر "کیمپس لائف" کو الوداع کہنے کے لیے مختلف طریقے اپنائے جاتے ہیں۔ اگر ہمارے بچے سگریٹ، منشیات یا منفی سرگرمیوں کے بجائے چند لمحے رنگوں کے ساتھ کھیل کر اپنی تھکن اتار رہے ہیں، تو اس میں کون سی قیامت آ گئی؟
گزشتہ چند روز سے اعلیٰ تعلیم کے اداروں میں سیمیسٹر کے اختتام پر منائے جانے والے مختلف "ڈیز" (Days) اور تہواروں کے حوالے سے عوامی اور سماجی حلقوں میں ایک بحث چھڑی ہوئی ہے۔ اس بحث کے دونوں رخ ہمارے لیے قابلِ غور ہیں۔
ایک طرف ہمارا وہ نوجوان طبقہ ہے جو چار سالہ کٹھن تعلیمی سفر، امتحانات کے دباؤ اور اسائنمنٹس کے بوجھ سے نکل کر چند لمحے کھل کر ہنسنا چاہتا ہے۔ دوسری طرف ہمارا وہ روایتی اور مذہبی معاشرہ ہے جو اپنی اقدار، ثقافت اور شعائر کے معاملے میں انتہائی حساس ہے۔ ایک کالم نگار اور سماجی کارکن کی حیثیت سے میرا ماننا ہے کہ ان دونوں پہلوؤں میں تصادم کے بجائے ایک توازن پیدا کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ ہمارے بچے گھٹن کا شکار بھی نہ ہوں اور معاشرتی حدود بھی پامال نہ ہوں۔
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ہمارے معاشرے میں پہلے ہی معاشی تنگی، بے روزگاری کے خوف اور سوشل میڈیا کی یلغار نے نوجوانوں کو شدید ذہنی دباؤ (Depression) میں مبتلا کر رکھا ہے۔ ایسے میں اگر جامعات انہیں تفریح کے مواقع فراہم نہیں کریں گی، تو یہ توانائی منفی راستوں کی طرف نکل سکتی ہے۔ لیکن تفریح کا انتخاب کرتے وقت ہمیں اپنے ماحول، مٹی اور عوامی جذبات کا ادراک ضرور رکھنا چاہیے۔ جب ہم کسی ایسے طریقے کو اپناتے ہیں جو ہماری مقامی ثقافت سے میل نہیں کھاتا، تو پھر تنقید کے دروازے کھلتے ہیں اور اصل مقصد فوت ہو جاتا ہے۔
اس حساس صورتحال میں جامعات کی انتظامیہ پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ انہیں دباؤ میں آنے یا سرگرمیاں بالکل بند کرنے کے بجائے ایسے تخلیقی اور باوقار پروگرامز مرتب کرنے چاہئیں جو ناقدین کا منہ بھی بند کر دیں اور طلبہ کو ایک سازگار ماحول بھی مہیا کریں۔ اس سلسلے میں چند متبادل اور مثبت تجاویز درج ذیل ہیں:
۱۔ مقامی اور صوفیانہ ثقافت کا فروغ:
ہماری اپنی مٹی (خصوصاً تھل اور پنجاب) کی ثقافت اتنی امیر ہے کہ ہمیں کسی اور طرف دیکھنے کی ضرورت ہی نہیں۔ جامعات کو "ثقافتی میلے" (Cultural Galas) منعقد کرنے چاہئیں جہاں روایتی جھومر، صوفیانہ شب، بیت بازی کے مقابلے اور مقامی دستکاریوں کے اسٹالز ہوں۔ جب نوجوان اپنی مٹی کے رنگوں سے جڑیں گے، تو پورا ضلع ان کی تحسین کرے گا۔
۲۔ شجرکاری مہم (گرین گریجویشن):
ڈگری مکمل ہونے کی خوشی کو ایک یادگار اور صدقہ جاریہ بنانے کے لیے "گرین ڈے" کا انعقاد کیا جا سکتا ہے۔ ہر فارغ التحصیل طالب علم یونیورسٹی کی حدود یا شہر کے کسی حصے میں اپنے نام کا ایک پودا لگائے۔ رنگ پھینکنے کے بجائے درخت لگانا ایک ایسا مثبت عمل ہوگا جس پر کٹر سے کٹر نقاد بھی داد دیے بغیر نہیں رہ سکے گا۔
۳۔ خدمتِ خلق اور سماجی کام:
خوشی منانے کا ایک بہترین طریقہ دوسروں کے کام آنا ہے۔ سیمیسٹر کے اختتام پر طلبہ مل کر کسی یتیم خانے، بحالی مرکز یا غریب بستیوں کے لیے راشن اور تعلیمی سامان کا فنڈ اکٹھا کر سکتے ہیں۔ جب معاشرہ دیکھے گا کہ یونیورسٹی کے پڑھے لکھے بچے مستحقین کی مدد کر رہے ہیں، تو طلبہ کا وقار والدین کی نظر میں مزید بڑھ جائے گا۔
۴۔ اسپورٹس اور روایتی کھیل:
تعلیمی سفر کے اختتام پر مختلف شعبہ جات (Departments) کے مابین کھیلوں کے ہفتے کا انعقاد کیا جائے۔ مارشل آرٹس کے مظاہرے، کبڈی، والی بال یا دیگر روایتی کھیل نوجوانوں کی جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے بہترین اور محفوظ ترین تفریح ہیں۔
تعلیم صرف پڑھنے کا نام نہیں، یہ زندگی کو سلیقے اور ڈسپلن سے جینے کا نام ہے۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کے حقوق کا تحفظ بھی کرنا ہے اور اپنے اساتذہ و والدین کے اعتماد کو بھی بحال رکھنا ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ اگر ان متبادل راستوں کو اپنائے گی، تو طلبہ پر لبرل ازم یا غیر اسلامی رسوم کے لیبل لگنے کا راستہ ہمیشہ کے لیے بند ہو جائے گا اور ہماری درسگاہیں حقیقی معنوں میں علم اور امن کا گہوارہ بنی رہیں گی۔

16/05/2026

Today confession is for a pretty girl
I don't know k us ka name kia hy r wo kis department ki hy.
But i saw him in new building.
Building main enter hotay hoay nazar i. 1-2 sec ka eye contact bhi hoa.
Us ny black gown r scarf pehna hoa tha.
Face mask sy cover tha. R sky blue colour ka hand bag bhi us k pass tha.
Please share my confession to all university groups. Ta k us tk pohnch jay.
Agr ye post ap tk pohnchay to please page admin sy id ly lijiay ga.

Photos from Thal University Confessions's post 15/05/2026

السلام علیکم!
میں فیس بک پر زیادہ پوسٹس نہیں کرتا، لیکن کبھی کبھار مجبوری میں کچھ باتیں لکھنا پڑ جاتی ہیں۔ یہ تحریر خاص طور پر ضلع بھکر کے تمام سوشل میڈیا صارفین، اور خصوصاً زیادہ فالوورز رکھنے والے افراد کے لیے ہے۔
آپ نیچے جن طلبہ کی فہرست دیکھ رہے ہیں، یہ Thal University Bhakkar کے کیمسٹری ڈیپارٹمنٹ کے طلبہ ہیں جو پیرا فورس میں انویسٹیگیٹر آفیسر منتخب ہوئے ہیں۔
اب اس فہرست کو دکھانے کا مقصد یہ ہے کہ تقریباً تین دن پہلے تھل یونیورسٹی بھکر میں ایک “کلر ڈے” منایا گیا، جو سینئر طلبہ کے لیے تھا تاکہ وہ اپنی یونیورسٹی زندگی کے آخری لمحات کو یادگار بنا سکیں اور اپنی خوبصورت یادوں کو محفوظ کر سکیں۔
کچھ لوگ اس کلر ڈے کو ہندوؤں کے تہوار “ہولی” کے ساتھ جوڑ رہے ہیں۔ ٹھیک ہے، مان لیتے ہیں کہ ہندو ہولی مناتے ہیں اور یہ اسلامی ثقافت نہیں ہے۔ لیکن میرا ایک سوال ہے:
کیا “کو ایجوکیشن” اسلامی کلچر ہے؟
کیا ہماری شادیوں پر مہندی، سہرا اور اس طرح کی دیگر رسومات اسلامی ہیں؟
اسلام تو نکاح اور ولیمہ کا حکم دیتا ہے، پھر باقی رسومات کیوں کی جاتی ہیں؟
جن لوگوں نے Thal University Bhakkar کے بارے میں منفی پوسٹس کی ہیں، وہ خود بھی اپنے گھروں میں یہ سب رسومات کرتے ہیں۔
ضلع بھکر پنجاب کے پسماندہ ترین اضلاع میں شمار ہوتا ہے۔ اگر یہاں ایک اعلیٰ تعلیمی ادارہ بن گیا ہے تو ہمیں چاہیے کہ ہم اسے پروموٹ کریں، نہ کہ اس کے خلاف منفی مہم چلائیں۔
بھکر کے بہت سے لوگ مالی طور پر کمزور ہیں۔ ان کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ وہ اپنے بچوں کو لاہور، اسلام آباد، ملتان یا کراچی جیسے بڑے شہروں میں تعلیم کے لیے بھیج سکیں۔ اگر انہیں اپنے ضلع میں ایک اچھا پلیٹ فارم ملا ہے تو ہمیں اس کی عزت کرنی چاہیے، نہ کہ اسے بدنام کرنا چاہیے۔
Thal University Bhakkar کی فیسیں بھی پنجاب کی بڑی یونیورسٹیوں کے مقابلے میں کافی کم ہیں، اور اس کے باوجود بہت سے لوگ اپنے بچوں کو تعلیم دلانے سے قاصر ہیں۔ ذرا سوچیں، اگر تعلیم کے مواقع نہ ملیں تو ہمارے بچے دنیا کا مقابلہ کیسے کریں گے؟
جب ہم دنیا کی بہت سی غیر مسلم ثقافتوں کو کسی نہ کسی حد تک قبول کر رہے ہیں، تو جدید دنیا کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں ہر چھوٹی بات پر اتنا واویلا نہیں کرنا چاہیے۔
اور یہ “کلر ڈے” پہلی بار نہیں منایا گیا۔ بھکر کے پرائیویٹ کالجز میں ہر سال ایسے پروگرام ہوتے ہیں۔ اگر ضرورت پڑی تو Punjab College اور Superior College کی مثالیں بھی دی جا سکتی ہیں۔
اگر ہمیں اپنے ضلع میں ایک تعلیمی ادارہ ملا ہے تو براہِ کرم اس کی قدر کریں، نہ کہ اسے ضائع کرنے کی کوشش کریں۔
اسی ادارے سے بھکر کے مستقبل کے CSP آفیسرز نکلیں گے، بڑے بڑے افسران بنیں گے، اور اسی سے بھکر ترقی کرے گا۔
لہٰذا گزارش ہے کہ اس طرح کی منفی پوسٹس کرنے سے گریز کریں۔
بہت شکریہ ❤️✨
اگر پوسٹ اچھی لگے تو ضرور شیئر کیجیے گا۔

Photos from Thal University Confessions's post 15/05/2026

Don't take everything nagitive

Kuch dino sy social media pr ye post bar bar nzr aa rhi hy

Hairan hnn logo ki soch sy. Hr saal k end py manaya janay wala signature day kisi ko nzr na aya. R isi cheez ko thal university ny thora alag andaz main mna lia to itna hangama.

R rahi Hindu culture ki bt to shadio py dhool, mehndi ,dance, mujra, r boht c cheeze hindu culture hen. Un ki trf to nzr nhi jati na koi post hoti hy.

Ap sb logo k ilm main izafa krnay k liay bata dnn. K hr school college r university main saal k end pr signature day manay jata hy. Jis main lrkay r lrkia aik dosray ki shirts pr colour markers k signature krtay hen. R sb kuch same hi hota hy. Jisay signature day kehtay hen.

Thal university ny is cheez ko thora different andaz main celebrate kia r color day mana lia

Poray Pakistan ki universities main jis tarah ki fahashi hy us sy hr koi bakhobi waqif hy lakin awaz sirf thal university k khilaf uthani hy. Q k bhakkar walo ko taraqi to krnay nhi deni. R awam bhi itni bewaqoof k is cheez ko khushi sy share kr rhy hen. Bhakkar ko is university k ilawa dia hi kia gia hy aj tk. R us ko bhi badnaam krnay main lgay hen

Ye sb propaganda sirf thal university ko khtm krnay r bhakkar ki taraqi ko roknay k liay hy.

All students share this to defend your university and next generation's future

07/12/2024

Aslamalaikum to all
My confession is for the department of CS&IT university of Thal x university of Sargodha.

Summer semester k bd aik regular semester khatam honay ko hy lakin abhi tk summer walo ka result upload nhi hoa.
Is akhri galti ki mafi dy den r khudara result upload kr k hme transcripts dy den.
4 saal digree krnay k bd transcript na honay ki wja sy students preshan hen r dhakay kha rhy.
Jitna kuch seekhaya hy university main dhakay wesay bhi khanay hi hen. Lakin chlo digree ho gii to thora hosla rhy ga.
Mehrbani kren r ye jo just naam ki digree hy ab hme dy den. Ta k hme pta chalay k ab agay kaha mazdori krni hy.
A student from tiba thal department of CS&IT.
Jis kisi ki same situation hy wo post share kr dy agay.

Photos from Thal University Confessions's post 15/06/2024

افسوس!
اونٹ کی ٹانگ کٹنے پر اس کو ٹرینڈ بنا لیا لیکن فلسطین کے بچوں کی کٹی ہوئی گردنیں کسی کو نظر نا آئیں۔ یہ غلط نہیں ہے مگر مگر میرا ایک سوال ہے کہ فلسطین کی حاملہ عورتوں کے ساتھ ہوئے ریپ کا حساب ہم کیسے دیں گے؟
اب امت مسلمہ اس کو نظر انداز کر کے عید منائے گی۔ کربلا کو رونے والوں کے سامنے کربلا ہو رہی ہے مگر امت مسلمہ کوفی اور منافق بنی بیٹھی ہے
پوری دنیا فلسطین کے حق میں سڑکوں پر نکلی ہوئی ہے مگر ہم پاکستانی منافق بنے بیٹھے ہیں
یاد رہے بے گناہ فلسطین کے بچوں کی چیخیں ہمیں پل سراط سے گزرنے نہیں دیں گی
یہ اچھاقدم تھا کہ سب نے اونٹ پر ہونے والے ظلم کے خلاف آواز اٹھائی۔ خدارا اسی طرح فلسطین کے لیے بھی آواز اٹھائیں ورنہ قیامت کے دن ہمیں اس کا حساب دینا پڑے گا

26/11/2023

Aj ki meri confession IT 7th k CR k liay hy.
Handsome lrko ki bt ho r in ka name na ho to mza hi nhi ata.
Hen to ye hmaray senior but hmaray fellows lrko sy kuch zyada hi shareef hen.
Mostly boys last semester main itnay shareef nhi hotay but ap k to kya hi kehnay
Kuch din pehlay main r meri dost ap sy bt krnay i thi. Ap ny itnay achay sy guid kya us k liay thank you so much. Kuch glt nhi bolon gi ap k baray main bs thanks bolnay k liay hi confession likhi
A well wisher from joniers

30/09/2023

My confession is for a girl of the urdu department
Jo red staler main ati hy.
Ap k red staler main sy brown eyes boht pyari lgti hen. Main roz ap ko dekhta hnn. But bt krnay ki himat nhi hoti.
Wednesday walay din ap canteen py kuch ly rhi thi. R main ap k pass hi khra tha. Bs dill nikal lya ap ny.
Agr meri feelings ki qadr ho to kindly admin sy id ly kr aik dfa zror bt krna
From unknown department

22/09/2023

Meri confession BBA ky Pass out 2 Namoono ky naam hy

Jinka Nam Mohsin Abbas or Sheraz Haider Bukhari hy... ya log pass out hony ky baad bh university ki jaan nahi chorr rahy Rozz Muh uthaa ky aaye hoty... apni apni junior Lrkion sy Milny

In sy Request hy ky shadi kar ky larkio ko apny ghar ly jao university ma bar bar muh utha ky lofro ki trah matt aa jaya karo Ab jaaan chorrr do University keee...Next time Daikha girls ky saath to Pic bana karr Confession dy deee jaay gee...

Your Junior......

Want your school to be the top-listed School/college in Bhakkar?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address

DHQ Hospital
Bhakkar
30001