Inayat Ullah Malik Official

Inayat Ullah Malik Official

Share

Education gives you consciousness Consciousness enlightens your heart and mind

03/08/2026

یہ خیالات تلخ ضرور ہیں، لیکن یہ معاشرتی نفسیات (Social Psychology) اور انسانی رویوں کی ایک انتہائی حقیقت پسندانہ اور گہری عکاسی کرتے ہیں۔ بچپن کی نصابی کتابوں میں پڑھائے گئے اخلاقی اسباق اور عملی زندگی کے بے رحم تجربات میں اکثر بہت بڑا تصادم ہوتا ہے۔ کتابیں ہمیں بتاتی ہیں کہ دنیا کیسی ہونی چاہیے، جبکہ زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ دنیا دراصل کیسی ہے۔
​ جن تین اہم پہلوؤں کی نشاندہی کی گئی ہے، اگر ہم نفسیات اور انسانی رویوں کی روشنی میں ان کا تجزیہ کریں، تو یہ بالکل درست ثابت ہوتے ہیں۔ آئیے ان کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں:

​1. کمزوری کا اظہار اور معاشرتی درندگی (The Psychology of Vulnerability)

​کتابی سبق: مشکل میں گِھرے انسان سے ہمدردی کرو۔
عملی حقیقت: مشکل وقت میں لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں یا مزید دباتے ہیں۔

​تجزیاتی پہلو:
انسانی معاشرہ کئی لحاظ سے اب بھی جنگل کے قانون (Survival of the fittest) پر چلتا ہے۔ نفسیات میں ایک اصطلاح استعمال ہوتی ہے Schadenfreude (یہ ایک جرمن لفظ ہے جس کا مطلب ہے دوسروں کی تکلیف یا ناکامی سے خفیہ خوشی یا تسکین محسوس کرنا)۔
جب کوئی انسان مشکل میں ہوتا ہے، تو وہ کمزور پڑ جاتا ہے۔ معاشرے کے وہ لوگ جو اندر سے احساسِ کمتری کا شکار ہوتے ہیں، انہیں اس شخص کی کمزوری میں اپنا قد بڑا کرنے کا موقع نظر آتا ہے۔ آپ کی کمزوری ان کے لیے ایک کھلی دعوت ہوتی ہے کہ وہ اپنا غصہ، فرسٹریشن اور طاقت کا زعم آپ پر نکال سکیں۔ اسی لیے مشکل وقت میں اپنے راز اور اپنی کمزوری ہر کسی کے سامنے عیاں کرنا سب سے بڑی حماقت سمجھی جاتی ہے۔

​2. عزت، شرافت اور نرگسیت کا ٹکراؤ (The Paradox of Respect)

​کتابی سبق: سب کے ساتھ عزت سے پیش آؤ۔
عملی حقیقت: بدتمیز کو عزت دینے سے وہ سر پر سوار ہو جاتا ہے۔

​تجزیاتی پہلو:
نفسیات کے مطابق، ہر انسان کے رویے کو پرکھنے کا پیمانہ مختلف ہوتا ہے۔ جب آپ کسی متکبر یا نفسیاتی طور پر غیر متوازن (Narcissist) شخص کے ساتھ شرافت اور عزت سے پیش آتے ہیں، تو وہ اسے آپ کا "اعلیٰ ظرف" نہیں سمجھتا، بلکہ وہ اسے آپ کی "کمزوری" اور اپنا "پیدائشی حق" سمجھ لیتا ہے۔
نفسیات میں حد سے زیادہ شرافت دکھانے کو People-pleasing کہا جاتا ہے، جو زہریلے (Toxic) لوگوں کو مزید شہ دیتا ہے۔ ان لوگوں کا ذہن اس طرح پروگرامڈ ہوتا ہے کہ وہ صرف طاقت اور سختی کی زبان سمجھتے ہیں۔ نرمی ان کے لیے ہار مان لینے کے مترادف ہے۔

​3. عاجزی بمقابلہ کھوکھلا پن (Humility vs. The Hollow Ego)

​کتابی سبق: عاجزی اختیار کرو۔
عملی حقیقت: عاجزی دکھانے پر کھوکھلے لوگ خود کو آقا اور آپ کو غلام سمجھنے لگتے ہیں۔

​تجزیاتی پہلو:
جو لوگ اندر سے کھوکھلے ہوتے ہیں (Insecure personalities)، ان کا ناک پھلا کر رکھنا اور خوامخواہ کی اکڑ دکھانا دراصل ان کے خوف کا پردہ (Defense Mechanism) ہوتا ہے۔ انہیں ڈر ہوتا ہے کہ اگر انہوں نے یہ مصنوعی رعب نہ ڈالا، تو دنیا ان کی اصلیت (یعنی ان کا کچھ نہ ہونا) جان جائے گی۔
جب ایک باشعور انسان ان کے سامنے عاجزی دکھاتا ہے، تو ان کا دماغ اس سگنل کو غلط پڑھتا ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ ان کا بچھایا ہوا مصنوعی رعب کا جال کام کر گیا ہے اور سامنے والا واقعی ان کی "عظمت" سے مرعوب ہو گیا ہے۔
​عملی حل: حدود کا تعین (The Concept of Boundaries)
​آپ نے آخر میں جو نتیجہ اخذ کیا ہے—کہ ان کے ساتھ بدتمیزی نہ کریں، مگر انہیں ان کی اوقات اور جگہ پر ضرور رکھیں—یہ نفسیات کا ایک انتہائی پختہ اور کارآمد اصول ہے جسے Assertiveness (پر اعتماد انداز میں اپنا حق جتلانا) اور Setting Boundaries (ذاتی حدود کا تعین) کہا جاتا ہے۔
​اس اصول کو عملی جامہ پہنانے کے لیے درج ذیل باتوں پر عمل کیا جا سکتا ہے:
​جذباتی فاصلہ (Emotional Detachment): ایسے لوگوں سے بحث کرنے یا ان کے رویے پر کڑھنے کے بجائے، انہیں جذباتی طور پر خود سے الگ کر دیں۔ ان کی اکڑ کو اہمیت دینا چھوڑ دیں۔
​مشروط عزت (Conditional Respect): عزت دو طرفہ ہونی چاہیے۔ جو شخص آپ کی عزت نہیں کر سکتا، اسے بنیادی انسانی حقوق سے زیادہ کوئی خاص پروٹوکول دینے کی ضرورت نہیں ہے۔
​ردعمل کے بجائے جواب (Respond, Don't React): اگر کوئی بدتمیزی کرے، تو اس کے لیول پر گر کر گالیاں دینے یا چیخنے کے بجائے، انتہائی ٹھنڈے اور سخت لہجے میں اسے اس کی حد یاد دلا دیں۔ سرد مہری، غصے سے زیادہ خطرناک اور موثر ہوتی ہے۔
​خلاصہِ کلام:
زندگی کے ان تلخ تجربات انسان کو جو سکھاتے ہیں، وہ حقیقت پر مبنی ہیں ۔ اپنی شرافت، ہمدردی اور عاجزی کو اپنے اندر ضرور زندہ رکھیں، لیکن انہیں ہر کسی کے لیے استعمال نہ کریں۔ یہ قیمتی تحفے ہیں جو صرف ان لوگوں کے لیے ہونے چاہئیں جو ان کی قدر کرنا جانتے ہوں۔ باقی دنیا کے لیے آپ کے پاس ایک مضبوط خ*ل اور ایک واضح لکیر ہونی چاہیے جسے پار کرنے کی اجازت کسی کو نہیں ہونی چاہیے۔

Inayat Ullah Malik Official
اختتامیہ:
​زندگی کے یہ سبق تلخ ضرور ہیں، لیکن ایک پرسکون، محفوظ اور باوقار زندگی گزارنے کے لیے ان کا سیکھنا بہت ضروری ہے۔ اپنی اچھائی اور نرمی کو اپنے اندر ضرور زندہ رکھیں، لیکن اسے کسی کے لیے اپنی کمزوری ہرگز نہ بننے دیں۔ یاد رکھیں، آپ کی عزتِ نفس آپ کی اپنی ذمہ داری ہے اور اسے برقرار رکھنا آپ کا پہلا حق ہے۔
​👍 اگر آپ اس تجزیے اور زندگی کی ان تلخ حقیقتوں سے متفق ہیں، تو اس پوسٹ کو ضرور لائک کریں۔
​🔄 اس تحریر کو اپنے ان دوستوں کے ساتھ شیئر کریں جو اپنی حد سے زیادہ شرافت اور عاجزی کی وجہ سے اکثر لوگوں کے رویوں کا شکار ہوتے ہیں، تاکہ وہ بھی اپنا دفاع کرنا سیکھ سکیں۔
​➕ انسانی نفسیات، معاشرتی رویوں اور مزید ایسی حقیقت پسندانہ تحریروں کے لیے اکاؤنٹ کو فالو کرنا نہ بھولیں۔ اپنی قیمتی رائے کا اظہار کمنٹس میں ضرور کریں!

02/08/2026

بیان القرآن
مفسر: ڈاکٹر اسرار احمد
سورۃ نمبر 4 النساء
آیت نمبر 23/24
أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
حُرِّمَتۡ عَلَيۡكُمۡ اُمَّهٰتُكُمۡ وَبَنٰتُكُمۡ وَاَخَوٰتُكُمۡ وَعَمّٰتُكُمۡ وَخٰلٰتُكُمۡ وَبَنٰتُ الۡاٰخِ وَبَنٰتُ الۡاُخۡتِ وَاُمَّهٰتُكُمُ الّٰتِىۡۤ اَرۡضَعۡنَكُمۡ وَاَخَوٰتُكُمۡ مِّنَ الرَّضَاعَةِ وَ اُمَّهٰتُ نِسَآئِكُمۡ وَرَبَآئِبُكُمُ الّٰتِىۡ فِىۡ حُجُوۡرِكُمۡ مِّنۡ نِّسَآئِكُمُ الّٰتِىۡ دَخَلۡتُمۡ بِهِنَّ فَاِنۡ لَّمۡ تَكُوۡنُوۡا دَخَلۡتُمۡ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ وَحَلَاۤئِلُ اَبۡنَآئِكُمُ الَّذِيۡنَ مِنۡ اَصۡلَابِكُمۡۙ وَاَنۡ تَجۡمَعُوۡا بَيۡنَ الۡاُخۡتَيۡنِ اِلَّا مَا قَدۡ سَلَفَ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا ۙ‏ ۞ وَّالۡمُحۡصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا مَلَـكَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ‌ۚ كِتٰبَ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ‌ۚ وَاُحِلَّ لَـكُمۡ مَّا وَرَآءَ ذٰ لِكُمۡ اَنۡ تَبۡتَـغُوۡا بِاَمۡوَالِكُمۡ مُّحۡصِنِيۡنَ غَيۡرَ مُسَافِحِيۡنَ‌ ؕ فَمَا اسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِهٖ مِنۡهُنَّ فَاٰ تُوۡهُنَّ اُجُوۡرَهُنَّ فَرِيۡضَةً‌ ؕ وَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ فِيۡمَا تَرٰضَيۡـتُمۡ بِهٖ مِنۡۢ بَعۡدِ الۡـفَرِيۡضَةِ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيۡمًا حَكِيۡمًا ۞

ترجمہ:
حرام کردی گئیں تم پر تمہاری مائیں اور تمہاری بیٹیاں اور تمہاری بہنیں اور تمہاری پھوپھیاں اور تمہاری خالائیں اور تمہاری بھتیجیاں اور بھانجیاں اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہے اور تمہاری دودھ شریک بہنیں اور تمہاری بیویوں کی مائیں اور تمہاری ربیبائیں جو تمہاری گودوں میں پلی بڑھی ہوں تمہاری ان بیویوں سے جن کے ساتھ تم نے مقاربت کی ہو اور اگر تم نے ان بیویوں سے مقاربت نہ کی ہو تو تم پر کچھ گناہ نہیں اور تمہارے ان بیٹوں کی بیویاں جو تمہاری صلب سے ہوں اور یہ (بھی تم پر حرام کردیا گیا ہے) کہ تم بیک وقت دو بہنوں کو ایک نکاح میں جمع کرو سوائے اس کے کہ جو گزر چکا یقیناً اللہ غفور اور رحیم ہے © اور وہ عورتیں (بھی تم پر حرام ہیں) جو کسی اور کے نکاح میں ہوں سوائے اس کے کہ جو تمہاری ملک یمین بن جائیں یہ تم پر اللہ کا لکھا ہوا فریضہ ہے ان کے سوا جو عورتیں ہیں وہ تمہارے لیے حلال ہیں کہ تم اپنے مال کے ذریعے ان کے طالب بنو بشرطیکہ حصار نکاح میں ان کو محفوظ کرو نہ یہ کہ آزاد شہوت رانی کرنے لگو پس جو بھی تم نے ان سے تمتع کیا ہو تو اس کے بدلے ان کے مہر ادا کرو جو مقرر ہوئے تھے البتہ اس کا تم پر کوئی گناہ نہیں ہے کہ مہر مقرر ہونے کے بعد باہمی رضامندی سے کوئی کمی بیشی کرلو یقیناً اللہ تعالیٰ علیم اور حکیم ہے

تفسیر:
وَاُمَّہٰتُ نِسَآءِکُمْ
جن کو ہم ساس یا خوش دامن کہتے ہیں۔
وَرَبَآءِبُکُمُ الّٰتِیْ فِیْ حُجُوْرِکُمْ مِّنْ نِّسَآءِکُمُ الّٰتِیْ دَخَلْتُمْ بِہِنَّز فَاِنْ لَّمْ تَکُوْنُوْا دَخَلْتُمْ بِہِنَّ فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْکُمْ ز
ربیبہ بیوی کی اس لڑکی کو کہا جاتا ہے جو اس کے سابق شوہر سے ہو۔ اگر موجودہ شوہر اس بیوی سے تعلق زن و شو قائم ہونے کے بعد اس کو طلاق دے دے تو ربیبہ کو اپنے نکاح میں نہیں لاسکتا ‘ یہ اس کے لیے حرام ہے۔ لیکن اگر اس بیوی کے ساتھ تعلق زن و شو قائم نہیں ہوا اور اسے طلاق دے دی تو پھر ربیبہ کے ساتھ نکاح ہوسکتا ہے۔ چناچہ فرمایا کہ اگر تم نے ان بیویوں کے ساتھ مقاربت نہ کی ہو تو پھر انہیں چھوڑ کر ان کی لڑکیوں سے نکاح کرلینے میں تم پر کوئی گناہ نہیں۔ ِ
وَحَلَآءِلُ اَ بْنَآءِکُمُ الَّذِیْنَ مِنْ اَصْلاَبِکُمْ لا
جن کو ہم بہوئیں کہتے ہیں۔ اپنے صلبی بیٹے کی بیوی سے نکاح حرام ہے۔ البتہ منہ بولے بیٹے کی مطلقہ بیوی سے نکاح میں کوئی حرج نہیں۔
وَاَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْاُخْتَیْنِ اِلاَّ مَا قَدْ سَلَفَ ط اِنَّ اللّٰہَ کَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا
جو پہلے ہوگیا سو ہوگیا۔ اب گڑے مردے تو اکھاڑے نہیں جاسکتے۔ لیکن آئندہ کے لیے یہ محرمات ابدیہ ہیں۔ اس میں رسول اللہ ﷺ نے اضافہ کیا ہے کہ جس طرح دو بہنوں کو بیک وقت نکاح میں نہیں رکھ سکتے اسی طرح خالہ بھانجی کو اور پھوپھی بھتیجی کو بھی بیک وقت نکاح میں نہیں رکھ سکتے۔ یہ محرمات ابدیہ ہیں کہ جن کے ساتھ کسی حال میں ‘ کسی وقت شادی نہیں ہوسکتی۔ اب وہ محرمات بیان ہو رہی ہیں جو عارضی ہیں۔
آیت ٢٤ وَّالْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ
چونکہ وہ کسی اور کے نکاح میں ہیں اس لیے آپ پر حرام ہیں۔ ایک عورت کو اگر اس کا شوہر طلاق دے دے تو آپ اس سے نکاح کرسکتے ہیں۔ چناچہ یہ حرمت ابدی نوعیت کی نہیں ہے۔ مُحْصَنٰت “ ان عورتوں کو کہا جاتا ہے جو کسی کی قید نکاح میں ہوں۔ حِصن قلعے کو کہتے ہیں اور احصان کے معنی کسی شے کو اپنی حفاظت میں لینے کے بھی اور کسی کی حفاظت میں ہونے کے بھی۔ چناچہ مُحْصَنٰت “ وہ عورتیں ہیں جو ایک خاندان کے قلعے کے اندر محفوظ ہیں اور شوہر والیاں ہیں۔ نیز یہ لفظ لونڈیوں کے مقابل آزاد خاندانی شریف زادیوں کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔
اِلاَّ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ ج ۔
یعنی جنگ کے نتیجے میں تمہارے ہاں کنیزیں بن کر آجائیں۔ یہ عورتیں اگرچہ مشرکوں کی بیویاں ہیں لیکن وہ لونڈیوں کی حیثیت سے آپ کے لیے جائز ہوں گی۔
کِتٰبَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ ج ۔
یہ اللہ کا قانون ہے جس کی پابندی تم پر لازم کردی گئی ہے۔
وَاُحِلَّ لَکُمْ مَّا وَرَآءَ ذٰلِکُمْ
آپ نے دیکھا کہ کتنی تھوڑی سی تعداد میں محرمات ہیں ‘ جن سے نکاح حرام قرار دے دیا گیا ہے ‘ باقی کثیر تعداد حلال ہے۔ یعنی مباحات کا دائرہ بہت وسیع ہے جبکہ محرمات کا دائرہ بہت محدود ہے۔
اَنْ تَبْتَغُوْا بِاَمْوَالِکُمْ
یعنی ان کے مہر ادا کر کے ان کے ساتھ نکاح کرو۔
مُّحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ ط
یعنی نیت گھر بسانے کی ہو ‘ صرف مستی نکالنے کی نہیں۔ اس کو محض ایک کھیل اور مشغلہ نہ بنا لو۔

Inayat Ullah Malik Official
​🌟 اختتامیہ (Closing Note):
​قرآنِ مجید کے ان احکامات کا بنیادی مقصد انسانی معاشرے میں پاکیزگی، حیا، اور رشتوں کے احترام و تقوّس کو قائم رکھنا ہے۔ ڈاکٹر اسرار احمدؒ کے دلفریب اور فہمیدہ اندازِ بیان نے ان پیچیدہ فقهی و معاشرتی مسائل کو نہایت آسان اور عام فہم بنا کر پیش کیا ہے، جو ہر دور کے مسلمان کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
​📢 لائیک، شیئر اور فالو کی درخواست (Like, Share & Follow Request):
​📖 "قرآنِ مجید کی تعالیم اور حکمت کو عام کرنے میں ہمارا ساتھ دیں!"
​🔹 لائیک (Like) کریں: اگر آپ کو ڈاکٹر اسرار احمدؒ کی یہ فہمِ قرآن پر مبنی تحریر پسند آئی ہو تو اس پوسٹ کو ضرور لائیک کریں۔
🔹 شیئر (Share) کریں: صدقہ جاریہ کی نیت سے اس پیغام کو اپنے دوستوں اور احباب کے ساتھ شیئر کریں، تاکہ قرآن کا نور ہر گھر تک پہنچ سکے۔ (نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے: "تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔")
🔹 فالو (Follow) کریں: مزید قرآنی تفاسیر، اسلامی معلومات اور اصلاحی مضامین کے لیے ہمارے پیج/پروفائل کو لازمی فالو کریں۔
​🤲 اللہ تعالیٰ ہمیں قرآنِ مجید کو سمجھنے، اس پر عمل کرنے اور اسے دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

30/07/2026

بیان القرآن
مفسر: ڈاکٹر اسرار احمد
سورۃ نمبر 4 النساء
آیت نمبر 6/7/14
أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَابۡتَلُوا الۡيَتٰمٰى حَتّٰىۤ اِذَا بَلَغُوا النِّكَاحَ‌ ۚ فَاِنۡ اٰنَسۡتُمۡ مِّنۡهُمۡ رُشۡدًا فَادۡفَعُوۡۤا اِلَيۡهِمۡ اَمۡوَالَهُمۡ‌ۚ وَلَا تَاۡكُلُوۡهَاۤ اِسۡرَافًا وَّبِدَارًا اَنۡ يَّكۡبَرُوۡا‌ ؕ وَمَنۡ كَانَ غَنِيًّا فَلۡيَسۡتَعۡفِفۡ‌ ۚ وَمَنۡ كَانَ فَقِيۡرًا فَلۡيَاۡكُلۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ‌ ؕ فَاِذَا دَفَعۡتُمۡ اِلَيۡهِمۡ اَمۡوَالَهُمۡ فَاَشۡهِدُوۡا عَلَيۡهِمۡ‌ ؕ وَكَفٰى بِاللّٰهِ حَسِيۡبًا ۞ لِلرِّجَالِ نَصِيۡبٌ مِّمَّا تَرَكَ الۡوَالِدٰنِ وَالۡاَقۡرَبُوۡنَ ۖ وَلِلنِّسَآءِ نَصِيۡبٌ مِّمَّا تَرَكَ الۡوَالِدٰنِ وَالۡاَقۡرَبُوۡنَ مِمَّا قَلَّ مِنۡهُ اَوۡ كَثُرَ ‌ؕ نَصِيۡبًا مَّفۡرُوۡضًا ۞
وَمَنۡ يَّعۡصِ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ وَيَتَعَدَّ حُدُوۡدَهٗ يُدۡخِلۡهُ نَارًا خَالِدًا فِيۡهَا ۖ وَلَهٗ عَذَابٌ مُّهِيۡنٌ  ۞
ترجمہ:
اور یتیموں کی جانچ پرکھ کرتے رہو یہاں تک کہ وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائیں پھر اگر تم ان کے اندر سوجھ بوجھ پاؤ تو ان کے اموال ان کے حوالے کر دو اور تم اسے ہڑپ نہ کر جاؤ اسراف اور جلد بازی کر کے (اس ڈر سے) کہ وہ بڑے ہوجائیں گے اور جو کوئی غنی ہو اس کو چاہیے کہ وہ پرہیزکرے اور جو کوئی محتاج ہو تو کھائے دستور کے مطابق پھر جب تم ان کے مال ان کے حوالے کرو تو اس پر گواہ ٹھہرا لو اور اللہ کافی ہے حساب لینے کے لیے ©
مردوں کے لیے بھی حصہ ہے اس میں سے جو ترکہ چھوڑا ہو والدین نے اور رشتہ داروں نے اور عورتوں کا بھی حصہ ہے اس میں سے جو ترکہ ہے والدین اور رشتہ داروں کا چاہے وہ وراثت تھوڑی ہو یا زیادہ ہو یہ حصہ ہے (اللہ کی طرف سے) فرض کیا گیا ©
اور جو کوئی نافرمانی کرے گا اللہ اور اس کے رسول کی اور تجاوز کرے گا اس کی حدود سے وہ داخل کرے گا اس کو آگ میں جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس کے لیے اہانت آمیز عذاب ہوگا ؏

تفسیر:
آیت ٦ وَابْتَلُوا الْیَتٰمٰی حَتّٰیٓ اِذَا بَلَغُوا النِّکَاحَ ج فَاِنْ اٰنَسْتُمْ مِّنْہُمْ رُشْدًا
تم محسوس کرو کہ اب یہ باشعور ہوگئے ہیں ‘ سمجھ دار ہوگئے ہیں۔
فَادْفَعُوْآ اِلَیْہِمْ اَمْوَالَہُمْ ج وَلاَ تَاْکُلُوْہَآ اِسْرَافًا وَّبِدَارًا اَنْ یَّکْبَرُوْا ط
ایسا نہ ہو کہ تم یتیموں کا مال ضرورت سے زیادہ اور جلد بازی میں خرچ کرنے لگو ‘ اس خیال سے کہ بچے جوان ہوجائیں گے تو یہ مال ان کے حوالے کرنا ہے ‘ لہٰذا اس سے پہلے پہلے ہم اس میں سے جتنا ہڑپ کرسکیں کر جائیں۔
وَمَنْ کَانَ غَنِیًّا فَلْیَسْتَعْفِفْ ج ۔
یتیم کا ولی اگر خود غنی ہے ‘ اللہ نے اس کو دے رکھا ہے ‘ اس کے پاس کشائش ہے تو اسے یتیم کے مال میں سے کچھ بھی لینے کا حق نہیں ہے۔ پھر اسے یتیم کے مال سے بچتے رہنا چاہیے۔
وَمَنْ کَانَ فَقِیْرًا فَلْیَاْکُلْ بالْمَعْرُوْفِ ط ۔
اگر کوئی خود تنگ دست ہے ‘ محتاج ہے اور وہ یتیم کی نگہداشت بھی کر رہا ہے ‘ اس کا کچھ وقت بھی اس پر صرف ہو رہا ہے تو معروف طریقے سے اگر وہ یتیم کے مال میں سے کچھ کھا بھی لے تو کچھ حرج نہیں ہے۔ اسلام کی تعلیم بڑی فطری ہے ‘ اس میں غیر فطری بندشیں نہیں ہیں جن پر عمل کرنا ناممکن ہوجائے۔
فَاِذَا دَفَعْتُمْ اِلَیْہِمْ اَمْوَالَہُمْ فَاَشْہِدُوْا عَلَیْہِمْ ط ۔
ان کا مال و متاع گواہوں کی موجودگی میں ان کے حوالے کیا جائے کہ ان کی یہ یہ چیزیں آج تک میری تحویل میں تھیں ‘ اب میں نے ان کے حوالے کردیں۔
وَکَفٰی باللّٰہِ حَسِیْبًا ۔
یہ دنیا کا معاملہ ہے کہ اس کے لیے لکھت پڑھت اور شہادت ہے۔ باقی اصل حساب تو تمہیں اللہ کے ہاں جا کردینا ہے۔
آیت ٧ لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَکَ الْوَالِدٰنِ وَالْاَقْرَبُوْنَ وَلِلنِّسَآءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَکَ الْوَالِدٰنِ وَالْاَقْرَبُوْنَ
یہاں اب پہلی مرتبہ عورتوں کو وراثت کا حق دیا جا رہا ہے ‘ ورنہ قبل از اسلام عرب معاشرے میں عورت کا کوئی حق وراثت نہیں تھا۔ َ
مِمَّا قَلَّ مِنْہُ اَوْ کَثُرَ ط
اللہ تعالیٰ کا قانون اس پر ہر صورت میں پوری طرح نافذ ہونا چاہیے۔
نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًا
آگے آپ دیکھیں گے کہ اس قانون وراثت کی کس طرح بار بار تاکید آرہی ہے۔ ساتھ ہی آپ یہ بھی دیکھتے رہیں کہ ہمارے معاشرے کے اندر اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی کس طرح دھجیاں بکھرتی ہیں۔ خاص طور پر ہمارے شمالی علاقے میں ویسے تو نماز روزہ کا بہت اہتمام ہوتا ہے ‘ لیکن وہاں کے لوگ بیٹیوں کو وراثت میں حصہ دینے کو کسی صورت تیار نہیں ہوتے ‘ بلکہ اپنے رواج کی پیروی کرتے ہیں۔ شریعت کی کچھ چیزیں بہت اہم ہیں اور قرآن میں ان کا حکم انتہائی تاکید کے ساتھ آتا ہے۔

Inayat Ullah Malik Official

اللہ تعالیٰ ہم سب کو قرآنِ مجید سمجھنے اور اس کی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین! 🤲
​👍 لائیک کریں: اگر آپ کو یہ قرآنی سبق اور تفسیر پسند آئی ہے تو اس پوسٹ کو ضرور لائیک کریں۔
​🔄 شیئر کریں: دین کی بات پھیلانا بہترین صدقہ جاریہ ہے۔ اسے اپنے دوستوں، عزیزوں اور گروپس میں شیئر کر کے ثوابِ دارین حاصل کریں۔
​➕ فالو / سبسکرائب کریں: روزانہ ایسی ہی مستند اسلامی ویڈیوز، قرآنی آیات اور تفاسیر کے لیے ہمارے پیج کو فالو کرنا نہ بھولیں۔
​جزاک اللہ خیراً کثیراً! ✨

26/07/2026

بیان القرآن
مفسر: ڈاکٹر اسرار احمد
سورۃ نمبر 3 آل عمران
آیت نمبر 186/188/191
أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
لَـتُبۡلَوُنَّ فِىۡۤ اَمۡوَالِكُمۡ وَاَنۡفُسِكُمۡ وَلَـتَسۡمَعُنَّ مِنَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ مِنۡ قَبۡلِكُمۡ وَمِنَ الَّذِيۡنَ اَشۡرَكُوۡۤا اَذًى كَثِيۡـرًا‌ؕ وَاِنۡ تَصۡبِرُوۡا وَتَتَّقُوۡا فَاِنَّ ذٰلِكَ مِنۡ عَزۡمِ الۡاُمُوۡرِ ۞ لَا تَحۡسَبَنَّ الَّذِيۡنَ يَفۡرَحُوۡنَ بِمَاۤ اَتَوْا وَّيُحِبُّوۡنَ اَنۡ يُّحۡمَدُوۡا بِمَا لَمۡ يَفۡعَلُوۡا فَلَا تَحۡسَبَنَّهُمۡ بِمَفَازَةٍ مِّنَ الۡعَذَابِ‌ۚ وَلَهُمۡ عَذَابٌ اَ لِيۡمٌ ۞ الَّذِيۡنَ يَذۡكُرُوۡنَ اللّٰهَ قِيَامًا وَّقُعُوۡدًا وَّعَلٰى جُنُوۡبِهِمۡ وَيَتَفَكَّرُوۡنَ فِىۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ‌ۚ رَبَّنَا مَا خَلَقۡتَ هٰذَا بَاطِلًا ۚ سُبۡحٰنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ۞

ترجمہ:
(مسلمانو ! یاد رکھو) تمہیں لازماً آزمایا جائے گا تمہارے مالوں میں بھی اور تمہاری جانوں میں بھی اور تمہیں لازماً سننی پڑیں گی ان لوگوں سے بھی جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی اور ان سے بھی جنہوں نے شرک کیا بڑی تکلیف دہ باتیں اور اگر تم صبر کرتے رہو گے (ثابت قدم رہو گے) اور تقویٰ کی روش اختیار کیے رکھو گے تو بیشک یہ بڑے ہمت کے کاموں میں سے ہے © آپ ان کے بارے میں خیال نہ کریں جو اپنے کیے پر خوش ہوتے ہیں اور (اس سے بھی بڑھ کر) چاہتے ہیں کہ ان کی تعریف کی جائے ایسے کاموں پر جو انہوں نے کیے ہی نہیں اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے © جو اللہ کا ذکر کرتے رہتے ہیں کھڑے بھی بیٹھے بھی اور اپنے پہلوؤں پر بھی اور مزید غور و فکر کرتے رہتے ہیں آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اے ہمارے ربّ ! تو نے یہ سب کچھ بےمقصد تو پیدا نہیں کیا ہے تو پاک ہے (اس سے کہ کوئی عبث کام کرے) پس تو ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا !

تفسیر:
آیت ١٨٦ لَتُبْلَوُنَّ فِیْ اَمْوَالِکُمْ وَاَنْفُسِکُمْ قف
یہ وہی مضمون ہے جو سورة البقرۃ کے انیسویں رکوع میں گزر چکا ہے : وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِ ط آیت ١٥٥ اور ہم تمہیں لازماً آزمائیں گے کسی قدر خوف سے اور بھوک سے اور مالوں ‘ جانوں اور ثمرات کے نقصان سے۔ یہاں مجہول کا صیغہ ہے کہ تمہیں لازماً آزمایا جائے گا ‘ تمہاری آزمائش کی جائے گی تمہارے مالوں میں بھی اور تمہاری جانوں میں بھی۔ کان کھول کر سن لو کہ یہ ایمان کا راستہ پھولوں کی سیج نہیں ہے ‘ یہ کانٹوں بھرا بستر ہے۔ ایسا نہیں ہوگا کہ ٹھنڈے ٹھنڈے اور بغیر تکلیفیں اٹھائے تمہیں جنت مل جائے گی۔ سورة البقرۃ آیت ٢١٤ میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ یونہی جنت میں داخل ہوجاؤ گے حالانکہ ابھی تو تم پر وہ حالات و واقعات وارد نہیں ہوئے جو تم سے پہلوں پر ہوئے تھے۔۔
وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلِکُمْ وَمِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَکُوْآ اَذًی کَثِیْرًا ط
یہ سب کچھ سنو اور صبر کرو۔ جیسے رسول اللہ ﷺ سے ابتدا میں کہا گیا تھا : وَاصْبِرْ عَلٰی مَا یَقُوْلُوْنَ وَاھْجُرْھُمْ ھَجْرًا جَمِیْلًا المزمل اور ان باتوں پر صبر کیجیے جو یہ لوگ کہتے ہیں اور وضعداری کے ساتھ ان سے الگ ہوجایئے۔ آپ ﷺ کو کیا کچھ نہیں سننا پڑا۔ کسی نے کہہ دیا مجنون ہے ‘ کسی نے کہہ دیا شاعر ہے ‘ کسی نے کہا ساحر ہے ‘ کسی نے کہا مسحور ہے۔ سورة الحجر کے آخر میں ارشاد ہے : وَلَقَدْ نَعْلَمُ اَ نَّکَ یَضِیْقُ صَدْرُکَ بِمَا یَقُوْلُوْنَ اے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں خوب معلوم ہے کہ یہ مشرکین جو کچھ کہہ رہے ہیں اس سے آپ ﷺ ‘ کا سینہ بھنچتا ہے۔ ان کی زبانوں سے جو کچھ آپ ﷺ کو سننا پڑرہا ہے اس سے آپ ﷺ کو تکلیف پہنچتی ہے ‘ لیکن صبر کیجیے ! وہی بات مسلمانوں سے کہی جا رہی ہے۔
آیت ١٨٨ لاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَفْرَحُوْنَ بِمَآ اَتَوْا
اگر کچھ نیکی کرلیتے ہیں ‘ کسی کو کچھ دے دیتے ہیں تو اس پر بہت اتراتے ہیں ‘ اکڑتے ہیں کہ ہم نے یہ کچھ کرلیا ہے۔
وَّیُحِبُّوْنَ اَنْ یُّحْمَدُوْا بِمَا لَمْ یَفْعَلُوْاص
آج کل اس کی سب سے بڑی مثال سپاس نامے ہیں ‘ جو تقریبات میں مدعو شخصیات کو پیش کیے جاتے ہیں۔ ان سپاس ناموں میں ان حضرات کے ایسے ایسے کارہائے نمایاں بیان کیے جاتے ہیں جو ان کی پشتوں میں سے بھی کسی نے نہ کیے ہوں۔ اس طرح ان کی خوشامد اور چاپلوسی کی جاتی ہے اور وہ اسے پسند کرتے ہیں۔
فَلاَ تَحْسَبَنَّہُمْ بِمَفَازَۃٍ مِّنَ الْعَذَابِ ج تو ان کے بارے میں یہ خیال نہ کریں کہ وہ عذاب سے بچ جائیں گے۔
آیت ١٩١ الَّذِیْنَ یَذْکُرُوْنَ اللّٰہَ قِیٰمًا وَّقُعُوْدًا وَّعَلٰی جُنُوْبِہِمْ وَیَتَفَکَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ج
اس غور و فکر سے وہ ایک دوسرے نتیجے پر پہنچتے ہیں اور پکار اٹھتے ہیں :
رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ہٰذَا بَاطِلًا ج
اور پھر ان کا ذہن اپنی طرف منتقل ہوتا ہے کہ میری زندگی کا مقصد کیا ہے ؟ میں کس لیے پیدا کیا گیا ہوں ؟ کیا میری زندگی بس یہی ہے کہ کھاؤ پیو ‘ اولاد پیدا کرو اور دنیا سے رخصت ہوجاؤ ؟ معلوم ہوا کہ نہیں ‘ کوئی خلا ہے۔ انسانی اعمال کے نتیجے نکلنے چاہئیں ‘ انسان کو اس کی نیکی اور بدی کا بدلہ ملنا چاہیے ‘ جو اس دنیا میں اکثر و بیشتر نہیں ملتا۔ دنیا میں اکثر یہی دیکھا گیا ہے کہ نیکوکار فاقوں سے رہتے ہیں اور بدکار عیش کرتے ہیں۔ چناچہ کوئی اور زندگی ہونی چاہیے ‘ کوئی اور دنیا ہونی چاہیے جس میں اچھے برے اعمال کا بھرپور بدلہ مل جائے ‘ مکافات عمل ہو۔ لہٰذا وہ کہہ اٹھتے ہیں :
سُبْحٰنَکَ فَقِنَا عَذَاب النَّارِ
تو نے یقیناً ایک دوسری دنیا تیار کر رکھی ہے ‘ جس میں جزا وسزا کے لیے جنت بھی ہے اور جہنم بھی !

Inayat Ullah Malik Official
یہ اقتباسات ایمان کی راہ میں پیش آنے والی آزمائشوں پر صبر، منافقت و خود پسندی سے پاک کردار، اور کائنات کے مشاہدے کے ذریعے معرفتِ الٰہی تک پہنچنے کی بہترین رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
​اگر آپ کو ڈاکٹر اسرار احمدؒ کے "بیان القرآن" کے مفاہیم پر مبنی یہ علمی و فکری تحریر پسند آئی ہو، تو اس نیک مقصد کو آگے بڑھانے میں ہمارا ساتھ دیں:
​لائیک (Like) کریں: اگر یہ تحریر آپ کے ایمان کی تازگی اور علم میں اضافے کا باعث بنی۔
​شیئر (Share) کریں: اپنے دوستوں اور احباب کے ساتھ صدقہ جاریہ کی نیت سے لازماً شیئر کریں تاکہ قرآنی بصیرت کا یہ پیغام زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکے۔
​فالو (Follow) کریں: ہمارے پیج/پروفائل کو فالو کریں تاکہ ڈاکٹر صاحب کے فکر انگیز تفسیری دروس اور قرآنی معارف پر مشتمل ایسی مزید پراثر تحاریر آپ کو باقاعدگی سے ملتی رہیں۔
​جزاکم اللہ خیراً و احسن الجزا!

21/07/2026

صحیح بخاری
کتاب: وراثت ہبہ کرنے کا بیان
باب: ہبہ کے اوپر گواہ کرنا۔
حدیث نمبر: 2587

حدیث نمبر: 2587 حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حُصَيْنٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَامِرٍ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ أَعْطَانِي أَبِي عَطِيَّةً، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ عَمْرَةُ بِنْتُ رَوَاحَةَ:‏‏‏‏ لَا أَرْضَى حَتَّى تُشْهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنِّي أَعْطَيْتُ ابْنِي مِنْ عَمْرَةَ بِنْتِ رَوَاحَةَ عَطِيَّةً، ‏‏‏‏‏‏فَأَمَرَتْنِي أَنْ أُشْهِدَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَعْطَيْتَ سَائِرَ وَلَدِكَ مِثْلَ هَذَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْدِلُوا بَيْنَ أَوْلَادِكُمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَرَجَعَ فَرَدَّ عَطِيَّتَهُ.

ترجمہ:
ہم سے حامد بن عمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا حصین سے، وہ عامر سے کہ میں نے نعمان بن بشیر (رض) سے سنا وہ منبر پر بیان کر رہے تھے کہ میرے باپ نے مجھے ایک عطیہ دیا، تو عمرہ بنت رواحہ (رض) (نعمان کی والدہ) نے کہا کہ جب تک آپ رسول اللہ ﷺ کو اس پر گواہ نہ بنائیں میں راضی نہیں ہوسکتی۔ چناچہ (حاضر خدمت ہو کر) انہوں نے عرض کیا کہ عمرہ بنت رواحہ سے اپنے بیٹے کو میں نے ایک عطیہ دیا تو انہوں نے کہا کہ پہلے میں آپ کو اس پر گواہ بنا لوں، آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ اسی جیسا عطیہ تم نے اپنی تمام اولاد کو دیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں، اس پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف کو قائم رکھو۔ چناچہ وہ واپس ہوئے اور ہدیہ واپس لے لیا۔

خاندانی رقابت کا سدِ باب: والد کا کسی ایک یا زیادہ بچوں کو باقی سے زیادہ پیار یا اسے بلاوجہ زیادہ مال دینا بھائی بہنوں کے درمیان بغض، کینہ اور نفرت کا باعث بنتا ہے۔ آپ ﷺ نے اس کی جڑ کاٹ دی۔
​خواتین کی بیداری اور حق جوئی: حضرت عمرہ بنت رواحہ رضی اللہ عنہا کا رسول ﷺ کی گواہی پر اصرار کرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ صحابیات مالی و شرعی معاملات میں مکمل بیدار اور باخبر تھیں۔
​حرام و ناانصافی پر گواہ بننے سے ممانعت: کسی بھی ناانصافی، ظلم یا خلافِ شرع معاملے میں گواہ بننا یا اس کی حمایت کرنا جائز نہیں ہے۔

اس حدیث کا سب سے مرکزی نقطہ اولاد کے درمیان مالی عطیات میں برابری کرنا ہے۔
​"اتَّقُوا اللَّهَ وَاعْدِلُوا بَيْنَ أَوْلَادِكُمْ" (اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان عدل کرو):
آپ ﷺ نے عطیہ واپس لینے یا تمام بچوں کو برابر دینے کا حکم دیا تا کہ کسی بچے کے دل میں احساسِ محرومی اور حسد پیدا نہ ہو۔

اللہ تعالیٰ نے سورۃ النساء میں وراثت کے قوانین اور حدود کو تفصیل سے بیان کرنے کے بعد صاف الفاظ میں فرمایا ہے:
​تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُدْخِلْهُ جَنَّاتٍ... وَمَن يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَتَعَدَّ حُدُودَهُ يُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِيهَا وَلَهُ عَذَابٌ مُّهِينٌ
(سورۃ النساء: 13-14)
ترجمہ: "یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں۔ اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے گا، اللہ اسے ایسی جنتوں میں داخل کرے گا... اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کی حدوں سے تجاوز کرے گا، اسے آگ میں ڈالے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس کے لیے رسوا کن عذاب ہے۔"
​حیلہ سازی کی ممانعت: اگرچہ انسان اپنی زندگی میں اپنی ملکیت کا مالک ہوتا ہے، لیکن اگر اس کی نیت بیٹیوں کو وراثت سے محروم کرنا ہو تو یہ اللہ کی حدود سے تجاوز اور حیلہ سازی کے زمرے میں آتا ہے۔
​وارث کو محروم کرنا گناہِ کبیرہ: شرعی قوانین کو ناکام بنانے کے لیے زندگی ہی میں ساری جائداد بیٹوں کے نام منتقل کرنا اللہ کے مقرر کردہ نظامِ وراثت کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔
رسولِ اکرم ﷺ نے وارثوں کو محروم کرنے پر سخت وعیدیں ارشاد فرمائی ہیں:
​"مَنْ فَرَّ مِنْ مِيرَاثِ وَارِثِهِ، قَطَعَ اللَّهُ مِيرَاثَهُ مِنَ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"
(سنن ابن ماجہ)
ترجمہ: "جو شخص اپنے وارث کی میراث کاٹتا (بھاگتا) ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن جنت میں سے اس کی میراث کاٹ دے گا۔"
​ایک اور حدیث میں فرمایا گیا کہ انسان زندگی بھر نیک عمل کرتا ہے لیکن موت کے وقت وصیت یا مالی معاملے میں کسی وارث کو نقصان پہنچاتا ہے تو وہ دوزخ کا مستحق بن جاتا ہے۔
بیٹوں کے لیے: اگر والد نے ایسا کر بھی دیا ہو، تو بیٹوں کو چاہیے کہ وہ آخرت کے عذاب اور حرام مال سے بچنے کے لیے اپنی بہنوں کو ان کا شرعی حصہ (قرآن کے مطابق) رضاکارانہ طور پر دیں۔ والد کے ظلم میں ان کا ساتھ نہ دیں۔
خلاصہ
​اپنی زندگی میں بیٹیوں کو محروم کر کے تمام زمین بیٹوں کو دینا قرآن کے قانونِ وراثت کا مذاق اڑانا اور حدیثِ رسول ﷺ کے مطابق ظلم ہے۔ قیامت کے دن اس ناانصافی پر سخت پکڑ ہوگی۔

Inayat Ullah Malik Official

​"وراثت میں بیٹیوں کا حق مارنا صرف معاشرتی ناانصافی نہیں بلکہ صریحاً گناہ ہے۔ اس حق گوئی پر مبنی تحریر کو شیئر کر کے آگاہی پھیلانے میں ہمارا ساتھ دیں، اور ایسی مزید فکر انگیز تحاریر کے لیے پیج کو فالو کرنا نہ بھولیں۔"

15/07/2026

بیان القرآن
مفسر: ڈاکٹر اسرار احمد
سورۃ نمبر 3 آل عمران
آیت نمبر 112
أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
ضُرِبَتۡ عَلَيۡهِمُ الذِّلَّةُ اَيۡنَ مَا ثُقِفُوۡۤا اِلَّا بِحَبۡلٍ مِّنَ اللّٰهِ وَحَبۡلٍ مِّنَ النَّاسِ وَبَآءُوۡ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَضُرِبَتۡ عَلَيۡهِمُ الۡمَسۡكَنَةُ ؕ ذٰ لِكَ بِاَنَّهُمۡ كَانُوۡا يَكۡفُرُوۡنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَيَقۡتُلُوۡنَ الۡاَنۡۢبِيَآءَ بِغَيۡرِ حَقٍّ‌ؕ ذٰ لِكَ بِمَا عَصَوۡا وَّكَانُوۡا يَعۡتَدُوۡنَ ۞ مَثَلُ مَا يُنۡفِقُوۡنَ فِىۡ هٰذِهِ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا كَمَثَلِ رِيۡحٍ فِيۡهَا صِرٌّ اَصَابَتۡ حَرۡثَ قَوۡمٍ ظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ فَاَهۡلَكَتۡهُ ‌ؕ وَمَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ وَلٰـكِنۡ اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ۞ يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوۡا بِطَانَةً مِّنۡ دُوۡنِكُمۡ لَا يَاۡلُوۡنَكُمۡ خَبَالًا ؕ وَدُّوۡا مَا عَنِتُّمۡ‌ۚ قَدۡ بَدَتِ الۡبَغۡضَآءُ مِنۡ اَفۡوَاهِهِمۡ ۖۚ وَمَا تُخۡفِىۡ صُدُوۡرُهُمۡ اَكۡبَرُ‌ؕ قَدۡ بَيَّنَّا لَـكُمُ الۡاٰيٰتِ‌ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ۞

ترجمہ:
ان کے اوپر ذلت تھوپ دی گئی ہے جہاں کہیں بھی پائے جائیں سوائے یہ کہ (انہیں کسی وقت) اللہ کا کوئی سہارا حاصل ہوجائے یا لوگوں کی طرف سے کوئی سہارا مل جائے اور یہ اللہ تعالیٰ کے غضب کے مستحق ہوگئے اور ان کے اوپر کم ہمتی مسلط کردی گئی یہ اس لیے ہوا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرتے رہے اور انبیاء کو ناحق قتل کرتے رہے اور یہ اس لیے ہوا کہ انہوں نے نافرمانی کی روش اختیار کی اور حدود سے تجاوز کرتے رہے
دنیا کی اس زندگی میں یہ لوگ جو بھی خرچ کرتے ہیں اس کی مثال ایسی ہے کہ جیسے ایک زور دار آندھی جس میں پالا ہو وہ کسی ایسی قوم کی کھیتی کو آپڑے جس نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہو پھر وہ اس (کھیتی) کو تباہ و برباد اور تہس نہس کر کے رکھ دے اور ان پر اللہ نے کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ وہ اپنی جانوں پر خود ظلم ڈھا رہے ہیں ©اے اہل ایمان ! اپنے سوا کسی کو اپنا رازدار نہ بناؤ وہ تمہارے لیے کسی خرابی میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے انہیں پسند ہے وہ چیز جو تمہیں تکلیف اور مشقت میں ڈالے ان کی دشمنی ان کے منہ سے بھی ظاہر ہوچکی ہے اور جو کچھ ان کے سینے چھپائے ہوئے ہیں وہ اس سے بھی بڑھ کر ہے ہم نے تمہارے لیے اپنی آیات کو واضح کردیا ہے اگر تم عقل سے کام لو

تفسیر:
آیت ١١٢ ضُرِبَتْ عَلَیْہِمُ الذِّلَّۃُ اَیْنَ مَا ثُقِفُوْآ
اِلاَّ بِحَبْلٍ مِّنَ اللّٰہِ وَحَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ
جیسے آج پوری عیسائی دنیا ان کا سہارا بنی ہوئی ہے۔ اسرائیل اپنے بل پر نہیں ‘ بلکہ پوری عیسائی دنیا کی پشت پناہی پر قائم ہے۔ خلیج کی جنگ میں اتحادی افواج کے کمانڈر انچیف نے صاف کہہ دیا تھا کہ یہ ساری جنگ ہم نے اسرائیل کے تحفظ کے لیے لڑی ہے۔ گویا اس قدر خونریزی سے صرف اسرائیل کا تحفظ پیش نظر تھا۔
وَبَآءُ وْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰہِ وَضُرِبَتْ عَلَیْہِمُ الْمَسْکَنَۃُ ط ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ کَانُوْا یَکْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَیَقْتُلُوْنَ الْاَنْبِیَآءَ بِغَیْرِ حَقٍّ ط ۔
ذٰلِکَ بِمَا عَصَوْا وَّکَانُوْا یَعْتَدُوْنَ ۔
یاد رہے کہ یہ آیت تھوڑے سے لفظی فرق کے ساتھ سورة البقرۃ میں بھی گزر چکی ہے۔ آیت ٦١
آیت ١١٧ مَثَلُ مَا یُنْفِقُوْنَ فِیْ ہٰذِہِ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا
قریش مکہ اہل ایمان کے خلاف جو جنگی تیاریاں کر رہے تھے تو اس کے لیے مال خرچ کرتے تھے۔ فوج تیار کرنی ہے تو اس کے لیے اونٹ اور دیگر سواریوں کی ضرورت ہے ‘ سامان حرب و ضرب کی ضرورت ہے ‘ تو ظاہر ہے اس کے لیے مال تو خرچ ہوگا۔ یہ اس انفاق مال کی طرف اشارہ ہے کہ یہ لوگ دنیا کی زندگی میں جو کچھ خرچ کرتے ہیں یا تو دین کی مخالفت کے لیے یا اپنے جی کو ذرا جھوٹی تسلی دینے کے لیے کرتے ہیں کہ ہم کچھ صدقہ و خیرات بھی کرتے ہیں ‘ چاہے ہمارا کردار کتنا ہی گرگیا ہو۔ تو ان کے انفاق کی مثال ایسی ہے :
کَمَثَلِ رِیْحٍ فِیْہَا صِرٌّ
اَصَابَتْ حَرْثَ قَوْمٍ ظَلَمُوْآ اَنْفُسَہُمْ فَاَہْلَکَتْہُ ط ۔
یعنی ان کی یہ نیکیاں ‘ یہ انفاق ‘ یہ جدوجہد اور دوڑ دھوپ سب کی سب بالکل ضائع ہوجانے والی ہے۔
آیت ١١٨ یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَتَّخِذُوْا بِطَانَۃً مِّنْ دُوْنِکُمْ
یعنی جس شخص کے بارے میں اطمینان ہو کہ صاحب ایمان ہے ‘ مسلمان ہے ‘ اس کے علاوہ کسی اور شخص کو اپنا بھیدی اور محرم راز نہ بناؤ۔ یہودی ایک عرصے سے مدینہ میں رہتے تھے اور اوس و خزرج کے لوگوں کی ان سے دوستیاں تھیں ‘ پرانے تعلقات اور روابط تھے۔ اس کی وجہ سے بعض اوقات سادہ لوح مسلمان اپنی سادگی میں راز کی باتیں بھی انہیں بتا دیتے تھے۔ اس سے انہیں روکا گیا۔
لاَ یَاْلُوْنَکُمْ خَبَالاً ط وَدُّوْا مَا عَنِتُّمْ ج قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَآءُ مِنْ اَفْوَاہِہِمْ ج
ان کا کلام ایسا زہر آلود ہوتا ہے کہ اس سے اسلام اور مسلمانوں کی دشمنی ٹپکی پڑتی ہے۔ یہ اپنی زبانوں سے آتش برساتے ہیں۔
وَمَا تُخْفِیْ صُدُوْرُہُمْ اَکْبَرُ ط ۔
جو کچھ ان کی زبانوں سے ظاہر ہوتا ہے وہ تو پھر بھی کم ہے ‘ ان کے دلوں کے اندر دشمنی اور حسد کی جو آگ بھڑک رہی ہے وہ اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔
قَدْ بَیَّنَّا لَکُمُ الْاٰیٰتِ اِنْ کُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ
یعنی اپنے طرز عمل پر غور کرو اور اس سے باز آجاؤ !
Inayat Ullah Malik Official

11/07/2026

ضرورت کی بندگی،موقع پرست پارسا

جب تک خشک سالی تھی، معاشرے کا ہر طبقہ—دائی سے لے کر دروغہ تک، طوائف سے لے کر فتویٰ فروش تک، اور ملاوٹ خور تاجر سے لے کر چور زمیندار تک—بارش نہ ہونے کا سبب "انسانوں کے گناہوں" کو قرار دے رہا تھا۔ یہ ہماری نفسیات کا وہ پہلو ہے جہاں ہم خوف کے عالم میں پارسا بن جاتے ہیں۔ ہم اپنے گناہوں کو تسلیم تو کرتے ہیں، لیکن صرف اس وقت تک جب تک قدرت کا کوڑا ہمارے سروں پر منڈلا رہا ہوتا ہے۔
جیسے ہی بارش برسی، "الحمدللہ" کا ورد صرف چند لمحوں کا مہمان ٹھہرا۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا، وہ ہمارے موجودہ ڈیجیٹل اور اخلاقی دیوالیہ پن کی عکاسی کرتا ہے:
​ڈیجیٹل سستا پن: سوشل میڈیا پر سستی رومانیت، اسٹیٹس بازی اور فحاشی کا بازار پھر سے گرم ہو گیا۔ وہ گناہ جو خشک سالی میں خوف کا باعث تھے، سہانے موسم کا "لازمی جزو" بن گئے۔
​کاروباری بددیانتی: پکوڑے والے کا بیسن میں آٹا ملانا اور کباب کا سائز چھوٹا کرنا ظاہر کرتا ہے کہ ہماری رگ رگ میں بددیانتی اس قدر رچ بس چکی ہے کہ خدا کی رحمت (بارش) کو بھی ہم ناجائز منافع خوری کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔
​نسلوں کی تباہی: بارش کے بہانے گھروں سے جھوٹ بول کر نکلنے والی کم سن لڑکیاں اور دائی رحمتے کا وہ تاریک چکر (Vicious Cycle) یہ بتاتا ہے کہ ہم تاریخ سے کچھ نہیں سیکھتے۔ گناہ کا جو سفر دائی رحمتے سے شروع ہوا تھا، وہ اگلی نسل کے لیے پھر سے تیار ہو رہا ہے۔
لوگ مطمئن ہیں کیونکہ بارش ہو رہی ہے، اور ان کا فلسفہ یہ تھا کہ بارش گناہ گاروں پر نہیں ہوتی۔ چونکہ بارش ہو رہی ہے، اس لیے لوگوں نے فرض کر لیا کہ "آج ہم گناہ گار نہیں ہیں"۔ یعنی ہم نے گناہ کی تعریف اور خدا کی رضا کا معیار اپنی مرضی کے مطابق بدل لیا ہے۔ ہم بدکاری، ملاوٹ، جھوٹ اور فریب کو گناہ ہی نہیں سمجھتے جب تک کہ قدرت ہم پر پانی بند نہ کر دے۔
گناہوں پر نادم انسانوں کی "توبہ" خدا کے خوف سے نہیں، بلکہ "ویدر اپڈیٹ" کی ایک پیشگوئی سے ختم ہو جاتی ہے۔ جیسے ہی سائنس نے بتایا کہ بارش ہونے والی ہے، گناہوں کا وہ بوجھ جو روحوں کو دبا رہا تھا، اچانک ہلکا ہو گیا۔ خوفِ خدا کی جگہ پھر سے اس مادی یقین نے لے لی کہ "بارش تو سسٹم کے تحت ہونی ہی تھی"۔
​یہ تحریر ہمیں اس تلخ حقیقت سے روشناس کراتی ہے کہ ہم "موقع پرست پارسا" ہیں۔ ہمارا خدا پر توکل، ہمارا خوف اور ہماری توبہ صرف ہماری ضرورت کے تابع ہیں۔ جب تک ہم انفرادی سطح پر اپنی منافقت کو ختم نہیں کرتے، تب تک قدرت کی رحمتیں بھی ہمارے لیے صرف گناہوں کے نئے مواقع فراہم کرنے کا سبب بنتی رہیں گی۔
​ یہ تائب ہونا دراصل توبہ نہیں، بلکہ قدرت کے ساتھ ایک عارضی 'ڈیل' کرنے کی کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح یہ مشکل ٹل جائے۔
Inayat Ullah Malik Official

سچ تو یہ ہے کہ ہم نے گناہ اور ثواب کو بھی اپنی سہولت کا لباس پہنا دیا ہے۔ ہماری توبہ دل کی تبدیلی نہیں، بلکہ حالات سے بچنے کا ایک عارضی سمجھوتہ ہے۔ جب تک ہماری پارسائی کا معیار "موسم کی سختی" رہے گا، تب تک ہمارے دل بنجر اور روحیں پیاسی ہی رہیں گی۔ سوچنے کا مقام یہ ہے کہ اگر قدرت کا یہ نظام واقعی ایک مقررہ 'سسٹم' کے تحت ہی چلنا ہے، تو پھر کل جب ہم اپنے اعمال کا حساب دینے کے لیے اس کے سامنے کھڑے ہوں گے، تو کیا وہاں بھی کوئی 'ویدر اپڈیٹ' ہمیں اس مادی یقین اور منافقت کے بوجھ سے آزاد کروا پائے گی؟ اب بھی وقت ہے کہ ہم خوف کی پارسائی سے نکل کر مخلصانہ بندگی کا راستہ اختیار کریں، اس سے پہلے کہ اگلی خشک سالی ہماری توبہ کی آخری مہلت بن جائے۔
​لائیک، شیئر اور فالو کی درخواست (Social Media Call-to-Action)
​اگر آپ کو یہ تحریر پسند آئی ہے اور آپ بھی معاشرے کے اس بدلتے رنگ کو محسوس کرتے ہیں، تو اسے لائیک (Like) کرنا نہ بھولیں۔
​حق اور سچ کی اس آواز کو اپنے دوستوں اور خاندان تک پہنچانے کے لیے اس پوسٹ کو شیئر (Share) ضرور کریں۔
​ایسی ہی فکر انگیز، گہری اور معاشرتی حقائق پر مبنی مزید تحاریر پڑھنے کے لیے میرے پیج کو ابھی فالو (Follow) کریں۔ آپ کی رائے میرے لیے قیمتی ہے، کمنٹ سیکشن میں اپنے خیالات کا اظہار ضرور کریں!

Want your school to be the top-listed School/college in Bhakkar?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Website

Address

Kallur Kot
Bhakkar
30140