Inayat Ullah Malik Official

Inayat Ullah Malik Official Education gives you consciousness Consciousness enlightens your heart and mind

بیان القرآنمفسر: ڈاکٹر اسرار احمدسورۃ نمبر 4 النساءآیت نمبر 129أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِبِسْمِ ال...
18/09/2026

بیان القرآن
مفسر: ڈاکٹر اسرار احمد
سورۃ نمبر 4 النساء
آیت نمبر 129
أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَلَنۡ تَسۡتَطِيۡعُوۡۤا اَنۡ تَعۡدِلُوۡا بَيۡنَ النِّسَآءِ وَلَوۡ حَرَصۡتُمۡ‌ فَلَا تَمِيۡلُوۡا كُلَّ الۡمَيۡلِ فَتَذَرُوۡهَا كَالۡمُعَلَّقَةِ‌ ؕ وَاِنۡ تُصۡلِحُوۡا وَتَتَّقُوۡا فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا ۞. وَاِنۡ يَّتَفَرَّقَا يُغۡنِ اللّٰهُ كُلًّا مِّنۡ سَعَتِهٖ‌ ؕ وَكَانَ اللّٰهُ وَاسِعًا حَكِيۡمًا ۞

ترجمہ:
اور تمہارے لیے ممکن ہی نہیں کہ تم عورتوں کے درمیان پورا پورا انصاف کرسکو چاہے تم اس کے لیے کتنے ہی حریص ہو تو ایسا نہ ہو کہ تم ایک ہی کی طرف پورے کے پورے جھک جاؤ کہ دوسری بیوی کو معلّق کر کے چھوڑ دو اور اگر تم اصلاح کرلو اور تقویٰ کی روش اختیار کرو تو اللہ تعالیٰ بھی غفور اور رحیم ہے
اور اگر وہ (میاں بیوی) دونوں علیحدہ ہوجائیں گے تو اللہ ان کو اپنی کشادگی سے غنی کر دے گا اور اللہ بڑی وسعت رکھنے والا حکمت والا ہے

تفسیر:
آیت ١٢٩ وَلَنْ تَسْتَطِیْعُوْٓا اَنْ تَعْدِلُوْا بَیْنَ النِّسَآءِ وَلَوْ حَرَصْتُمْ
سورۃ کے آغاز آیت ٣ میں فرمایا گیا تھا : فَاِنْ خِفْتُمْ اَلاَّ تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَۃً یعنی اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم اپنی بیویوں میں اگر ایک سے زائد ہیں عدل نہیں کرسکو گے تو پھر ایک پر ہی اکتفا کرو ‘ دوسری شادی مت کرو۔ اگر تمہیں کلی طور پر اطمینان ہے ‘ اپنے اوپر اعتماد ہے کہ تم عدل کرسکتے ہو تب دوسری شادی کرو ‘ ورنہ نہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ کچھ چیزیں تو گنتی اور ناپ تول کی ہوتی ہیں ‘ ان میں تو عدل کرنا ممکن ہے ‘ لیکن جو قلبی میلان ہے یہ تو انسان کے اختیار میں نہیں ہے۔ حضور ﷺ نے اپنی تمام ازواج کے لیے ہرچیز گِن گِن کر طے کی ہوئی تھی۔ شب بسری کے لیے سب کی باریاں مقرر تھیں۔ دن میں بھی آپ ﷺ ہر گھر میں چکر لگاتے تھے۔ عصر اور مغرب کے درمیان تھوڑی تھوڑی دیر ہر زوجہ محترمہ کے پاس ٹھہرتے تھے۔ اگر کہیں زیادہ دیر ہوجاتی تو گویا کھلبلی مچ جاتی تھی کہ آج وہاں زیادہ دیرکیوں ٹھہر گئے ؟ یہ چیزیں انسانی معاشرے میں ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔ حضور ﷺ کی ازواج مطہرات کا آپس کا معاملہ بہت اچھا تھا ‘ لیکن سوکناپے کے اثرات کچھ نہ کچھ تو ہوتے ہیں ‘ یہ عورت کی فطرت ہے ‘ جو اس کے اختیار میں نہیں ہے۔ تو اس لیے فرمایا کہ مکمل انصاف کرنا تمہارے بس میں نہیں۔ اس سے مراد دراصل قلبی میلان ہے۔ ایک حدیث میں بھی اس کی وضاحت ملتی ہے کہ نبی اکرم ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ اے اللہ میں نے ظاہری چیزوں میں پورا پورا عدل کیا ہے ‘ باقی جہاں تک میرے دل کے میلان کا تعلق ہے تو مجھے امید ہے کہ اس بارے میں تو مجھ سے مواخذہ نہیں کرے گا۔ اسی لیے یہاں فرمایا گیا کہ تم چاہو بھی تو عدل نہیں کرسکتے۔
فَلاَ تَمِیْلُوْا کُلَّ الْمَیْلِ فَتَذَرُوْہَا کَالْمُعَلَّقَۃِ ط ۔
دوسری بیوی اس طرح معلّق ہو کر نہ رہ جائے کہ اب وہ نہ شوہر والی ہے اور نہ آزاد ہے۔ اس سے خاوند کا گویا کوئی تعلق ہی نہیں رہا۔
وَاِنْ تُصْلِحُوْا وَتَتَّقُوْا فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا
اب اگلی آیت میں طلاق کے معاملے میں ایک اہم نکتہ بیان ہو رہا ہے۔ طلاق یقیناً ایک نہایت سنجیدہ مسئلہ ہے ‘ اس لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اَبْغَضُ الْحَلَالِ اِلَی اللّٰہِ تَعَالٰی الطَّلَاقُ ١ حلال چیزوں میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ چیز طلاق ‘ ہے۔ لیکن ہمارے معاشرے میں اس کو بسا اوقات کفر تک پہنچا دیا جاتا ہے۔ لڑائیاں ہو رہی ہیں ‘ مقدمات چل رہے ہیں ‘ مزاجوں میں موافقت نہیں ہے ‘ ایک دوسرے کو کوس رہے ہیں ‘ دن رات کا جھگڑا ہے ‘ لیکن طلاق نہیں دینی۔ یہ طرز عمل نہایت احمقانہ ہے اور شریعت کی منشاء کے بالکل خلاف بھی۔ اس آیت میں آپ دیکھیں گے کہ ایک طرح سے طلاق کی ترغیب دی گئی ہے
آیت ١٣٠ وَاِنْ یَّتَفَرَّقَا یُغْنِ اللّٰہُ کُلاًّ مِّنْ سَعَتِہٖ ط ۔
ہو سکتا ہے کہ اس عورت کو بھی کوئی بہتر رشتہ مل جائے جو اس کے ساتھ مزاجی موافقت رکھنے والاہو اور اس شوہر کو بھی اللہ تعالیٰ کوئی بہتر بیوی دے دے۔ میاں بیوی کا ہر وقت لڑتے رہنا ‘ دنگا فساد کرنا اور عدم موافقت کے باوجود طلاق کا اختیار option استعمال نہ کرنا ‘ یہ سوچ ہمارے ہاں ہندو معاشرت اور عیسائیت کے اثرات کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ ہندومت کی طرح عیسائیت میں بھی طلاق حرام ہے۔ در اصل انجیل میں تو شریعت اور قانون ہے ہی نہیں ‘ صرف اخلاقی تعلیمات ہیں۔ چناچہ جس طرح نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اَبْغَضُ الْحَلَالِ اِلَی اللّٰہِ الطَّلَاقُ ایسی ہی کوئی بات حضرت مسیح علیہ السلام نے بھی فرمائی تھی کہ کوئی شخص بلاوجہ اپنی بیوی کو طلاق نہ دے کہ معاشرے میں اس کے منفی اثرات مرتب ہونے کا اندیشہ ہے۔ طلاق شدہ عورت کی دوسری شادی نہ ہونے کی صورت میں اس کے آوارہ ہوجانے کا امکان ہے اور اگر ایسا ہوا تو اس کا وبال اسے بلاوجہ طلاق دینے والے کے سر جائے گا۔ لیکن یہ محض اخلاقی تعلیم تھی ‘ کوئی قانونی شق نہیں تھی۔ عیسائیت کا قانون تو وہی ہے جو تورات کے اندر ہے اور حضرت مسیح علیہ السلام فرما گئے ہیں کہ یہ نہ سمجھو کہ میں قانون کو ختم کرنے آیا ہوں ‘ بلکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت تم پر بد ستور نافذ رہے گی۔ قانون بہر حال قانون ہے ‘ اخلاقی ہدایات کو قانون کا درجہ تو نہیں دیا جاسکتا۔ لیکن عیسائیت میں اس طرح کی اخلاقی تعلیمات کو قانون بنا دیا گیا ‘ جس کی وجہ سے بلا جواز پیچیدگیاں پیدا ہوئیں۔ چناچہ ان کے ہاں کوئی شخص اپنی بیوی کو اس وقت تک طلاق نہیں دے سکتا جب تک اس پر بدکاری کا جرم ثابت نہ کرے۔ لہٰذا وہ طلاق دینے کے لیے طرح طرح کے طریقے استعمال کر کے بیوی کو پہلے بدکردار بناتے ہیں ‘ پھر اس کا ثبوت فراہم کرتے ہیں ‘ تب جا کر اس سے جان چھڑاتے ہیں۔ تو شریعت کے درست اور آسان راستے اگر چھوڑ دیے جائیں تو پھر اسی طرح غلط اور مشکل راستے اختیار کرنے پڑتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس آیت میں عدم موافقت کی صورت میں طلاق کے بارے میں ایک طرح کی ترغیب نظر آتی ہے۔
وَکَان اللّٰہُ وَاسِعًا حَکِیْمًا
اللہ کے خزانے بڑے وسیع ہیں اور اس کا ہر حکم حکمت پر مبنی ہوتا ہے۔
Inayat Malik Writes
Inayat Ullah Malik Official

بیان القرآنمفسر: ڈاکٹر اسرار احمدسورۃ نمبر 4 النساءآیت نمبر 118أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِبِسْمِ ال...
17/09/2026

بیان القرآن
مفسر: ڈاکٹر اسرار احمد
سورۃ نمبر 4 النساء
آیت نمبر 118
أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
لَّـعَنَهُ اللّٰهُ‌ ۘ وَقَالَ لَاَ تَّخِذَنَّ مِنۡ عِبَادِكَ نَصِيۡبًا مَّفۡرُوۡضًا ۞ وَّلَاُضِلَّـنَّهُمۡ وَلَاُمَنِّيَنَّهُمۡ وَلَاٰمُرَنَّهُمۡ فَلَيُبَـتِّكُنَّ اٰذَانَ الۡاَنۡعَامِ وَلَاٰمُرَنَّهُمۡ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلۡقَ اللّٰهِ‌ؕ وَمَنۡ يَّتَّخِذِ الشَّيۡطٰنَ وَلِيًّا مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ فَقَدۡ خَسِرَ خُسۡرَانًا مُّبِيۡنًا ۞

ترجمہ:
اللہ نے اس پر لعنت فرما دی ہے اور اس نے کہا (اے اللہ) میں تیرے بندوں میں سے ایک مقرر حصہ تو لے کر ہی چھوڑوں گا۔ اور میں لازماً ان کو بہکاؤں گا اور ان کو بڑی بڑی امیدیں دلاؤں گا اور میں انہیں حکم دوں گا تو (اس کی تعمیل میں) وہ چوپایوں کے کان چیر دیں گے اور میں انہیں حکم دوں گا تو (اس کی تعمیل میں) وہ اللہ کی تخلیق میں تبدیلی کریں گے اور جس کسی نے بھی اللہ کو چھوڑ کر شیطان کو اپنا دوست بنا لیا تو وہ بہت کھلے خسارے (اور تباہی) میں پڑگیا

تفسیر:
آیت ١١٨ لَّعَنَہُ اللّٰہُ ٧ وَقَالَ لَاَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِکَ نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًا
ان لوگوں کو میں اپنے ساتھ جہنم میں پہنچا کر رہوں گا۔ گویا : ع
ہم تو ڈوبے ہیں صنم ‘ تم کو بھی لے ڈوبیں گے
آیت ١١٩ وَّلَاُضِلَّنَّہُمْ وَلَاُمَنِّیَنَّہُمْ
ان کے دلوں میں بڑی امیدوں کے چراغ روشن کروں گا کہ یہ بہت تابناک کیریئر ہے ‘ لگے رہو اسی کام میں ‘ اس میں بڑا فائدہ ہے ‘ ناجائز ہے تو خیر ہے ‘ اللہ بخش ہی دے گا۔ ہم تو اللہ کے پیارے رسول ﷺ کے امتی ہیں ‘ ہمیں خوف کس بات کا ہے ؟ جس طرح یہودیوں کو یہ زعم ہوگیا تھا کہ ہم تو اللہ کے بیٹے ہیں ‘ ہم اس کے بڑے چہیتے ہیں ‘ وغیرہ۔ ان کو میں اس طرح کی لمبی لمبی امیدوں اور لمبے لمبے منصوبوں میں الجھا دوں گا۔ اسی کو ’ طول امل ‘ کہتے ہیں۔
وَلَاٰمُرَنَّھُمْ فَلَیُبَتِّکُنَّ اٰذَانَ الْاَنْعَامِ
اس کی تفصیل سورة الانعام میں آئے گی کہ فلاں بت یا فلاں دیوی کے نام پر کسی جانور کے کان چیر کر اسے آزاد کردیا گیا ہے ‘ اب اس کو کوئی چھیڑ نہیں سکتا ‘ اس کا گوشت نہیں کھایا جاسکتا ‘ اس پر سواری نہیں ہوسکتی۔
وَلَاٰمُرَنَّھُمْ فَلَیُغَیِّرُنَّ خَلْقَ اللّٰہِ ط ۔
جیسے آج جو کچھ آپ دیکھ رہے ہیں کہ مردوں میں عورتوں کے سے انداز اپنائے جا رہے ہیں اور عورتوں میں مردوں کے سے طور طریقے اختیار کیے جا رہے ہیں۔ لیکن سائنس کے میدان میں ‘ خاص طور پر Genetics میں جو کچھ آج ہورہا ہے وہ تو بہت ہی نازک صورت حال ہے۔ سائنسی ترقی کے سبب انسان آج اس مقام پر پہنچ گیا ہے کہ وہ اپنا اختیار استعمال کر کے جینیاتی تبدیلیوں کے ذریعے سے اللہ کی تخلیق میں تغیر و تبدّل کر رہا ہے۔

02/09/2026

صحیح بخاری
کتاب: طب کا بیان
باب: کیا مرد عورت کا یا عورت مرد کا علاج کرسکتی ہے اور عورت کا اسلامی معاشرے میں کردار

حدیث نمبر: 5679
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خَالِدِ بْنِ ذَكْوَانَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رُبَيِّعَ بِنْتِ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاءَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ كُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْقِي الْقَوْمَ وَنَخْدُمُهُمْ وَنَرُدُّ الْقَتْلَى وَالْجَرْحَى إِلَى الْمَدِينَةِ.

ترجمہ:
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے بشر بن مفضل نے بیان کیا، ان سے خالد بن ذکوان نے اور ان سے ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوات میں شریک ہوتی تھیں اور مسلمان مجاہد کو پانی پلاتی، ان کی خدمت کرتیں اور مقتولین اور مجروحین کو مدینہ منورہ لایا کرتیں تھیں۔
اس حدیث کی روشنی میں اسلامی معاشرے میں عورت کا کردار اور خدمات کی اجازت

تفسیر حدیث :
اس مبارک حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں عورت محض گھریلو زندگی تک محدود نہیں بلکہ ضرورت اور مصلحت کے تحت معاشرتی، رفاہی اور قومی خدمات میں بھی فعال کردار ادا کر سکتی ہے۔
​1. میدانِ جنگ اور اضطراری حالات میں خدمات
​طبی امداد اور تیمارداری: صحابیات رضی اللہ عنہن کا زخمیوں کی دیکھ بھال اور علاج معالجہ کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ بوقتِ ضرورت عورتیں طبی اور جراحی خدمات انجام دے سکتی ہیں۔
​سقایہ اور خدمت (لوجسٹک سپورٹ): مجاہدین کو پانی پلانا اور دیگر بنیادی ضروریات فراہم کرنا ظاہر کرتا ہے کہ معاونتی اور انتظامی امور میں خواتین کی شرکت جائز ہے۔
​زخمیوں اور لاشوں کی منتقلی: میدانِ جنگ سے زخمیوں اور شہداء کو محفوظ مقام تک پہنچانا عورت کے حوصلے اور اس کی میدانی خدمات کی صلاحیت کو اجاگر کرتا ہے۔
​2. نامحرم مردوں کا علاج اور باہمی تعاون
​شرعی حدود میں جواز: باب کے عنوان ("کیا مرد عورت کا یا عورت مرد کا علاج کر سکتی ہے") اور اس حدیث کی مناسبت سے فقہاء نے یہ استدلال کیا ہے کہ ضرورت، بیماری یا جنگی حالات میں خواتین نامحرم مردوں کا علاج کر سکتی ہیں، بشرطیکہ شرعی پردہ، عفت اور حیاء کے تقاضے مدنظر رہیں۔
​3. اسلامی معاشرے میں عورت کے کردار کا دائرہ کار
​مطلوبہ صلاحیت اور مہارت: اسلام عورت کو تعلیمی اور فنی میدانوں (خصوصاً طب و نرسنگ) میں مہارت حاصل کرنے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے تاکہ وہ معاشرے کی ضروریات پوری کر سکے۔
​سماجی ذمہ داری: خواتین صرف گھر کی نگران ہی نہیں بلکہ قوم و ملت پر سخت وقت آنے پر ایک مضبوط سہارا بھی ہیں۔
​عفت اور خدمت کا توازن: یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ اسلام میں باوقار، باحیا اور باہمی احترام پر مبنی ماحول میں عورت کا بیرونی اور رفاہی کاموں میں حصہ لینا نہ صرف جائز بلکہ قابلِ تحسین ہے۔
​1. اس حدیث کی فقہی تشریح (فقہی احکام)
​امام بخاری کا اندازِ استدلال: امام بخاری رحمہ اللہ نے باب کا عنوان استفہامیہ انداز میں قائم فرمایا: "کیا مرد عورت کا یا عورت مرد کا علاج کر سکتی ہے؟" حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ 'فتح الباری' میں لکھتے ہیں کہ امام بخاری نے اس میں حتمی حکم اس لیے بیان نہیں کیا کیونکہ اس عمل کی اجازت بعض مخصوص شرائط اور ضرورت سے مشروط ہے۔
​ضرورت کی حد تک جواز (قاعدہ: الضرورات تبیح المحظورات): فقہاء کرام کے نزدیک بنیادی اصل یہی ہے کہ ایک عورت عورت ہی کا علاج کرے اور مرد مرد کا۔ تاہم، اگر کوئی معالج یا طبیبہ دستیاب نہ ہو یا اضطراری/جنگی حالت ہو، تو ضرورت کے تحت عورت مرد کا اور مرد عورت کا علاج کر سکتا ہے۔
​ستر اور لمس کے حدود: علاج کے دوران صرف اسی جگہ کو ظاہر کرنے کی اجازت ہے جہاں چوٹ یا بیماری ہو۔ اگر کپڑے یا دستانے کے اوپر سے معائنہ یا علاج ممکن ہو تو براہِ راست لمس سے پرہیز کیا جائے گا۔
​خلوت (تنہائی) کی ممانعت: علاج معالجے کے دوران کسی نامحرم سے تنہائی (خلوت) میں ملنا جائز نہیں؛ ساتھ میں محرم، دیگر طبی عملہ یا مریض کے لواحقین کا ہونا ضروری ہے۔
​2. صحابیات رضی اللہ عنہن کی دیگر عملی اور رفاہی خدمات
​عہدِ نبوی اور دورِ صحابہ میں خواتین نے محض خانگی ذمہ داریوں تک محدود رہنے کے بجائے معاشرے کی ضرورت کے مطابق مختلف شعبوں میں کارہائے نمایاں انجام دیے:
​1. میدانِ جنگ میں جراحی اور طبابی خدمت:
​حضرت امِ عطیہ انصاریہ رضی اللہ عنہا: بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سات غزوات میں شرکت کی، مجاہدین کے لیے کھانا پکاتی، ان کے سامان کی دیکھ بھال کرتی اور زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی تھی۔
​حضرت رفیدہ انصاریہ رضی اللہ عنہا: اسلامی تاریخ کی پہلی باقاعدہ نرس/جراح مانی جاتی ہیں۔ مسجدِ نبوی میں ان کا ایک خیمہ (فیلڈ ہسپتال) قائم تھا، جہاں وہ غزوہ خندق اور دیگر موقعوں پر زخمیوں کا باقاعدہ علاج کرتی تھیں (مثلاً حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا علاج)۔
​2. تجارت، دستکاری اور معاشی سرگرمیاں:
​حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا: مکہ کی ایک نامور اور کامیاب تاجرہ تھیں، جنہوں نے اپنی تجارت کے ذریعے اسلامی دعوت کو مالی استحکام بخشا۔
​حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا: دباغت (چمڑا رنگنے) اور ہاتھ کے دیگر کاموں میں مہارت رکھتی تھیں، اس سے جو آمدنی ہوتی اسے اللہ کی راہ میں صدقہ کر دیتی تھیں۔
​حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا: زراعت اور باغبانی کے کاموں میں اپنے شوہر کا ہاتھ بٹاتی تھیں اور نقل و حمل کے کام خود انجام دیتی تھیں۔
​3. تعلیم، افتاء اور سیاسی/معاشرتی نصائح:
​ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا: وہ نہ صرف قرآن، حدیث اور فقہ کی عظیم الشان عالمہ تھیں بلکہ طب، انساب اور عربی ادب کی بھی ماہر تھیں۔ صحابہ کرام مشکل فقہی اور طبی مسائل میں ان کی طرف رجوع کرتے تھے۔
​حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا: صلحیٰ حدیبیہ کے موقع پر ان کے فہم اور مشورے نے امت کو ایک بڑے بحران سے نکالا۔
​4. بازار کی نگرانی اور انتظامی امور (حسبہ):
​حضرت الشفاء بنت عبد اللہ رضی اللہ عنہا: عہدِ فاروقی میں ان کی علمی اور انتظامی صلاحیتوں کی بناء پر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے انہیں مدینہ کے بازار کا نگران (محتسب/مارکیٹ انسپکٹر) مقرر کیا تھا تا کہ وہ خریدو فروخت اور کاروباری امور کی نگرانی کر سکیں۔
​یہ تمام مثالیں اور بخاری شریف کی مذکورہ حدیث واضح کرتی ہیں کہ اسلام میں عورت اگر شرعی حدود، عفت اور باوقار ماحول کو برقرار رکھے، تو وہ تعلیم، طب، رفاہِ عامہ اور دیگر قومی خدمات میں بھرپور اور فعال کردار ادا کر سکتی ہے۔
Inayat Malik Writes
Inayat Ullah Malik Official

02/09/2026

بیان القرآن
مفسر: ڈاکٹر اسرار
سورۃ نمبر 4 النساء
آیت نمبر 85
أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
مَنۡ يَّشۡفَعۡ شَفَاعَةً حَسَنَةً يَّكُنۡ لَّهٗ نَصِيۡبٌ مِّنۡهَا‌ ۚ وَمَنۡ يَّشۡفَعۡ شَفَاعَةً سَيِّئَةً يَّكُنۡ لَّهٗ كِفۡلٌ مِّنۡهَا‌ ؕ وَكَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ مُّقِيۡتًا ۞

ترجمہ:
جو کوئی سفارش کرے گا بھلائی کی اسے اس میں سے حصہ ملے گا اور جو کوئی سفارش کرے گا برائی کی تو اسے اس میں سے حصہ ملے گا اور اللہ تعالیٰ ہر شے پر قوت رکھنے والا ہے

تفسیر:
منافقین سے خطاب کے بعد اب پھر کچھ تمدنی آداب کا ذکر ہو رہا ہے۔ منافقین سے خطاب میں دو باتوں کو نمایاں کیا گیا۔ ایک اطاعت رسول ﷺ جو ان پر بہت شاق گزرتی تھی اور ایک قتال فی سبیل اللہ یعنی جہاد جو ان کے لیے بہت بڑا امتحان بن جاتا تھا۔ اب پھر اہل ایمان سے خطاب آ رہا ہے ۔
آیت ٨٥ مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَۃً حَسَنَۃً یَّکُنْ لَّہٗ نَصِیْبٌ مِّنْہَا ج ۔
انسانی معاشرے کے اندر کسی کے لیے سفارش کرنا بھی بعض اوقات ضروری ہوجاتا ہے۔ کوئی شخص ہے ‘ اس کی کوئی احتیاج ہے ‘ آپ جانتے ہیں کہ صحیح آدمی ہے ‘ بہروپیا نہیں ہے۔ دوسرے شخص کو آپ جانتے ہیں کہ وہ اس کی مدد کرسکتا ہے تو آپ کو دوسرے شخص کے پاس جا کر اس کے حق میں سفارش کرنی چاہیے کہ میں اس کو جانتا ہوں ‘ یہ واقعتا ضرورت مند ہے۔ اس طرح اس کی ضرورت پوری ہوجائے گی اور اس نیکی کے ثواب میں آپ بھی حصہ دار ہوں گے۔ اسی طرح کسی پر کوئی مقدمہ قائم ہوگیا ہے اور آپ کے علم میں اس کی بےگناہی کے بارے میں حقائق اور شواہد ہیں تو آپ کو عدالت میں پیش ہو کر یہ حقائق اور شواہد پیش کرنے چاہئیں ‘ تاکہ اس کی گلوخلاصی ہو سکے۔ اس آیت کی رو سے نیکی ‘ بھلائی ‘ خیر اور عدل و انصاف کی خاطر اگر کسی کی سفارش کی جائے تو اللہ تعالیٰ اس کا اجرو ثواب عطا فرمائے گا۔
وَمَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَۃً سَیِّءَۃً یَّکُنْ لَّہٗ کِفْلٌ مِّنْہَا ط ۔
کسی نے کسی کی جھوٹی اور غلط سفارش کی ‘ حقائق کو توڑا مروڑا تو وہ بھی اس کے جرم میں شریک ہوگیا اور وہ اس جرم کی سزا میں بھی حصہ دار ہوگا۔
Inayat Malik Writes
Inayat Ullah Malik Official

01/09/2026

بیان القرآن
مفسر: ڈاکٹر اسرار احمد
سورۃ نمبر 4 النساء
آیت نمبر 76
أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا يُقَاتِلُوۡنَ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ‌‌ ۚ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا يُقَاتِلُوۡنَ فِىۡ سَبِيۡلِ الطَّاغُوۡتِ فَقَاتِلُوۡۤا اَوۡلِيَآءَ الشَّيۡطٰنِ‌ۚ اِنَّ كَيۡدَ الشَّيۡطٰنِ كَانَ ضَعِيۡفًا  ۞ اَلَمۡ تَرَ اِلَى الَّذِيۡنَ قِيۡلَ لَهُمۡ كُفُّوۡۤا اَيۡدِيَكُمۡ وَاَقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰ تُوا الزَّكٰوةَ ۚ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيۡهِمُ الۡقِتَالُ اِذَا فَرِيۡقٌ مِّنۡهُمۡ يَخۡشَوۡنَ النَّاسَ كَخَشۡيَةِ اللّٰهِ اَوۡ اَشَدَّ خَشۡيَةً‌ ۚ وَقَالُوۡا رَبَّنَا لِمَ كَتَبۡتَ عَلَيۡنَا الۡقِتَالَ ۚ لَوۡلَاۤ اَخَّرۡتَنَاۤ اِلٰٓى اَجَلٍ قَرِيۡبٍ‌ ؕ قُلۡ مَتَاعُ الدُّنۡيَا قَلِيۡلٌ‌ ۚ وَالۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّمَنِ اتَّقٰى وَلَا تُظۡلَمُوۡنَ فَتِيۡلًا ۞

ترجمہ:
جب لوگ ایمان والے ہیں وہ قتال کرتے ہیں اللہ کی راہ میں اور جو لوگ کافر ہیں وہ طاغوت کی راہ میں قتال کر رہے ہیں تو تم جنگ کرو شیطان کے ساتھیوں سے یقیناً شیطان کی چال بڑی کمزور ہے ؏ تم نے دیکھا نہیں ان لوگوں کو جن سے کہا گیا تھا کہ اپنے ہاتھ روکے رکھو اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو ؟ اور وہ کہتے ہیں پروردگار ! تو نے ہم پر جنگ کیوں فرض کردی ؟ کیوں نہ ابھی ہمیں کچھ اور مہلت دی ؟ (اے نبی ! ) کہہ دیجیے دنیا کا ساز و سامان بہت تھوڑا ہے اور آخرت بہت بہتر ہے اس کے لیے جو تقویٰ کی روش اختیار کرے اور تم پر ایک دھاگے کے برابر بھی ظلم نہیں ہوگا

تفسیر:
آیت ٧٦ اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ج
وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ الطَّاغُوْتِ
جنگ تو وہ بھی کر رہے ہیں ‘ جانیں وہ بھی دے رہے ہیں۔ ابوجہل بھی تو لشکر لے کر آیا تھا۔ ان کی ساری جدوجہد طاغوت کی راہ میں ہے۔
فَقَاتِلُوْآ اَوْلِیَآء الشَّیْطٰنِ ج
تم شیطان کے حمایتیوں سے ‘ حزب الشیطان سے قتال کرو۔
اِنَّ کَیْدَ الشَّیْطٰنِ کَانَ ضَعِیْفًا
شیطان کی چال بظاہر بڑی زوردار بڑی بارعب دکھائی دیتی ہے ‘ لیکن جب مرد مؤمن اس کے مقابل کھڑے ہوجائیں تو پھر معلوم ہوجاتا ہے کہ بڑی بودی اور پھسپھسی چال ہے۔
آیت ٧٧ اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ قِیْلَ لَہُمْ کُفُّوْآ اَیْدِیَکُمْ وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ ج
مکہ مکرمہ میں بارہ برس تک مسلمانوں کو یہی حکم تھا کہ اپنے ہاتھ بندھے رکھو۔ اس دور میں مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے تھے ‘ انہیں بہت بری طرح ستایا جا رہا تھا ‘ تشدد و تعذیب کی نئی تاریخ رقم کی جا رہی تھی۔ اس پر مسلمانوں کا خون کھولتا تھا اور بہت سے مسلمان یہ چاہتے تھے کہ ہمیں اجازت دی جائے تو ہم اپنے بھائیوں پر ہونے والے اس ظلم و ستم کا بدلہ لین ‘ آخر ہم نامرد نہیں ہیں ‘ بےغیرت نہیں ہیں ‘ بزدل نہیں ہیں۔ لیکن انہیں ہاتھ اٹھانے کی اجازت نہیں تھی۔ یہ منہج انقلاب نبوی ﷺ کا صبر محضکا مرحلہ تھا اس وقت حکم یہ تھا کہ اپنے ہاتھ روکے رکھو۔ ؂
نغمہ ہے بلبل شوریدہ تیرا خام ابھی
اپنے سینے میں اسے اور ذرا تھام ابھی
ایک وقت آئے گا کہ تمہارے ہاتھ کھول دیے جائیں گے۔
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ قِیْلَ لَہُمْ کُفُّوْآ اَیْدِیَکُمْ فعل مجہول ہے۔ یہ کہا کس نے تھا ؟ مکی قرآن میں تو کُفُّوْآ اَیْدِیَکُمْکا حکم موجود نہیں ہے۔ یہ حکم تھا محمد رسول اللہ ﷺ کا۔ حضور ﷺ نے اہل ایمان کو ہاتھ اٹھانے سے روکا تھا۔ یہ آیت سورة النساء میں نازل ہو رہی ہے جو مدنی ہے۔ کہ اس وقت بھی وہ رسول اللہ ﷺ کا حکم تھا ‘ جس کو اللہ نے اپنا حکم قرار دیا۔ گویا یہ اللہ ہی کی طرف سے تھا۔ وحی جلی تو یہ قرآن ہے۔ اس کے علاوہ نبی اکرم ﷺ پر وحی خفی بھی نازل ہوتی تھی۔ تو یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مکی دور میں وحی خفی کے ذریعے رسول اللہ ﷺ کو یہ حکم دیا ہو جو یہاں نقل ہوا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ حضور ﷺ کا اپنا اجتہاد ہو جسے اللہ نے برقرار رکھا ہو ‘ اسے قبول own کیا ہو۔
اب یہ بات یہاں محذوف ہے کہ اس وقت تو کچھ لوگ بڑے جوش و جذبہ سے اور بڑے زور شور سے کہتے تھے کہ ہمیں اجازت ہونی چاہیے کہ ہم جنگ کریں ‘ لیکن اب کیا حال ہوا :
فَلَمَّا کُتِبَ عَلَیْہِمُ الْقِتَالُ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْہُمْ یَخْشَوْنَ النَّاسَ کَخَشْیَۃِ اللّٰہِ اَوْ اَشَدَّ خَشْیَۃً ج تو ان میں سے ایک فریق کا حل یہ ہے کہ وہ لوگوں سے اس طرح ڈر رہے ہیں جیسے اللہ سے ڈرنا چاہیے ‘ بلکہ اس سے بھی زیادہ ڈر رہے ہیں۔
ظاہر بات ہے کہ یہ مکہ کے مہاجرین نہیں تھے ‘ بلکہ یہ حال منافقین مدینہ کا تھا ‘ لیکن فرق و تفاوت واضح کرنے کے لیے مکی دور کی کیفیت سے تقابل کیا گیا کہ اصل ایمان تو وہ تھا ‘ اور یہ جو صورت حال ہے یہ کمزور ایمان اور نفاق کی علامت ہے۔
وَقَالُوْا رَبَّنَا لِمَ کَتَبْتَ عَلَیْنَا الْقِتَالَج لَوْلَآ اَخَّرْتَنَآ اِلآی اَجَلٍ قَرِیْبٍ ط
اس حکم کو کچھ دیر کے لیے مزید مؤخر کیوں نہ کیا ؟
قُلْ مَتَاع الدُّنْیَا قَلِیْلٌ ج وَالْاٰخِرَۃُ خَیْرٌ لِّمَنِ اتَّقٰیقف وَلاَ تُظْلَمُوْنَ فَتِیْلاً
تمہاری حق تلفی قطعاً نہیں ہوگی اور تمہارے جو بھی اعمال ہیں ‘ انفاق ہے ‘ قتال ہے ‘ اللہ کی راہ میں ایثار ہے ‘ اس کا تمہیں بھرپور اجرو ثواب دے دیا جائے گا۔

31/08/2026
31/08/2026

بیان القرآن
مفسر: ڈاکٹر اسرار احمد
سورۃ نمبر 4 النساء
آیت نمبر 75
أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَمَا لَـكُمۡ لَا تُقَاتِلُوۡنَ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَالۡمُسۡتَضۡعَفِيۡنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَآءِ وَالۡوِلۡدَانِ الَّذِيۡنَ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اَخۡرِجۡنَا مِنۡ هٰذِهِ الۡـقَرۡيَةِ الظَّالِمِ اَهۡلُهَا‌ ۚ وَاجۡعَلْ لَّـنَا مِنۡ لَّدُنۡكَ وَلِيًّا ۙۚ وَّاجۡعَلْ لَّـنَا مِنۡ لَّدُنۡكَ نَصِيۡرًا ۞

ترجمہ:
اور تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم قتال نہیں کرتے اللہ کی راہ میں اور ان بےبس مردوں عورتوں اور بچوں کی خاطر جو مغلوب بنا دیے گئے ہیں جو دعا کر رہے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ہمیں نکال اس بستی سے جس کے رہنے والے لوگ ظالم ہیں اور ہمارے لیے اپنے پاس سے کوئی حمایتی بنا دے اور ہمارے لیے خاص اپنے فضل سے کوئی مددگار بھیج دے

تفسیر:
چناچہ فرمایا :
آیت ٧٥ وَمَا لَکُمْ لاَ تُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَالْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَآءِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اَخْرِجْنَا مِنْ ہٰذِہِ الْقَرْیَۃِ الظَّالِمِ اَہْلُہَا ج وَاجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْکَ وَلِیًّاج وَّاجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْکَ نَصِیْرًا
ان کی یہ آہ و بکا تمہیں آمادۂ پیکار کیوں نہیں کر رہی ؟ ان پر ظلم ہو رہا ہے ‘ ان پر ستم ڈھائے جا رہے ہیں اور تمہارا حال یہ ہے کہ تم اپنے گھروں سے نکلنے کو تیار نہیں ہو ؟ بعض لوگ اس آیت کا انطباق ان مختلف قسم کے سیاسی جہادوں پر بھی کردیتے ہیں جو کہ آج کل ہمارے ہاں جاری ہیں اور ان پر جہاد فی سبیل اللہ کا لیبل لگایا جا رہا ہے۔ لیکن یہ بات بالکل ہی قیاس مع الفارق ہے۔ واضح رہے کہ یہ خطاب ان اہل ایمان سے ہو رہا ہے جن کے ہاں اسلام قائم ہوچکا تھا۔ ہم اپنے ملک میں اسلام قائم کر نہیں سکتے۔ یہاں پر دین کے غلبہ و اقامت کی کوئی جدوجہد نہیں کر رہے۔ ہمارے ہاں کفر کا نظام چل رہا ہے۔ اس کے مخاطب اہل ایمان ہیں ‘ اور اہل ایمان کا فرض یہ ہے کہ پہلے اپنے گھر کو درست کرو ‘ پہلے اپنے ملک کے اندر اسلام قائم کرو لہٰذا جہاد کرنا ہے تو یہاں کرو ‘ جانیں دینی ہیں تو یہاں دو ۔ یہاں پر طاغوت کی حکومت ہے ‘ غیر اللہ کی حکومت ہے ‘ قرآن کے سوا کوئی اور قانون چل رہا ہے ‘ جبکہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَا اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓءِکَ ھُمُ الْکٰفِرُوْنَ ۔۔ فَاُولٰٓءِکَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ ۔۔ فَاُولٰٓءِکَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ المائدۃ اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلے نہیں کرتے وہی تو کافر ہیں ۔۔ وہی تو ظالم ہیں ۔۔ وہی تو فاسق ہیں۔ “ چناچہ کافر ‘ ظالم اور فاسق تو ہم خود ہیں۔ ہمیں پہلے اپنے گھر کی حالت درست کرنا ہوگی۔ اس کے بعد ایک جمعیت قائم ہوگی۔ ہماری حکومت تو ان لوگوں سے دوستیاں کرتی پھرتی ہے جن کے خلاف یہاں جہاد کا نعرہ بلند ہو رہا ہے ‘ جس میں جانیں دی جا رہی ہیں۔ تو یہ آیت اپنی جگہ ہے۔ ہرچیز کو اس کے سیاق وسباق کے اندر رکھنا چاہیے۔
Inayat Ullah Malik Official

29/08/2026

صحیح بخاری
کتاب: مرتدوں اور دشمنوں سے توبہ کرانا
باب: مرتد مرد اور مرتد عورت کا حکم اور ان سے توبہ کرانے کا بیان۔ ابن عمر اور زہری اور ابراہیم نے کہا کہ مرتد عورت ہو یا مرد قتل کردیئے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کیونکر ہدایت کرے گا اس قوم کو جس نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا اور انہوں نے گواہی دی کہ رسول حق ہیں، اور ان کے پاس دلیلیں آچکی تھیں اور اللہ ظالم قوموں کو ہدایت نہیں دیتا، یہی لوگ ہیں جن کا بدلہ یہ ہے کہ ان پر اللہ کی اور فرشتوں کی اور لوگوں کی لعنت ہوگی، اس میں ہمیشہ رہیں گے ان کے عذاب میں تخفیف نہیں کی جائے گی اور نہ وہ مہلت دیئے جائیں گے، مگر وہ لوگ جنہوں نے اس کے بعد توبہ کرلی ہو، اور نیک کام کئے ہوں تو بے شک اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے، بے شک جنہوں نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا پھر کفر میں زیادہ ہوتے گئے تو ان کی توبہ کبھی قبول نہ کی جائے گی اور ایسے ہی لوگ گمراہ ہیں اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر تم اہل کتاب میں سے کسی گروہ کی اطاعت کرو گے تو وہ تمہیں تمہارے مومن ہونے کے بعد پھر کافر بنا دیں گے، اور فرمایا کہ بے شک جو لوگ ایمان لائے پھر کافر ہوگئے، پھر ایمان لائے پھر کافر ہوگئے، پھر کفر میں بڑھتے گئے تو اللہ تعالیٰ انہیں بخشنے والا نہیں ہے اور نہ انہیں سیدھا راستہ دکھائے گا، اور فرمایا تم میں سے جو شخص اپنے دین سے پھر گیا عنقریب اللہ تعالیٰ ایسی قوم کو لائے گا کہ اللہ ان سے محبت کرے گا اور وہ اللہ سے محبت کریں گے، ایمانداروں پر مہربان کافروں پر سخت ہوں گے لیکن جس نے کفر کے ساتھ سینے کو کھولا تو ان پر اللہ کی طرف سے غضب ہے اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے اس لئے کہ انہوں نے دنیوی زندگی کو آخرت پر ترجیح دی، اور یہ کہ اللہ تعالیٰ کافر قوم کو ہدایت نہیں کرتا، یہی لوگ ہیں جن کے دلوں، کانوں اور آنکھوں پر مہر لگا دی گئی ہے اور وہی لوگ غافل ہیں، کوئی شک نہیں ہے کہ آخرت میں یہی لوگ خسارہ پانے والے ہیں، آخر آیت یعنی بے شک تیرا رب اس کے بعد بھی بخشنے والا اور مہربان ہے، تک، اور فرمایا کہ وہ لوگ تم سے ہمیشہ جنگ کرتے رہیں گے یہاں تک کہ وہ تمہیں تمہارے دین سے پھیر دیں، اگر ان کے بس میں ہو اور تم میں سے جو شخص اپنے دین سے پھر جائے اور وہ مرجائے اس حال میں کہ کافر ہو تو ایسے ہی لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا اور آخرت میں ضائع ہوگئے اور وہی لوگ جہنم میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔
حدیث نمبر: 6923

حدیث نمبر: 6923 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يَحْيَى ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قُرَّةَ بْنِ خَالِدٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي مُوسَى ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَقْبَلْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعِي رَجُلَانِ مِنَ الْأَشْعَرِيِّينَ، ‏‏‏‏‏‏أَحَدُهُمَا عَنْ يَمِينِي وَالْآخَرُ عَنْ يَسَارِي، ‏‏‏‏‏‏وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَاكُ، ‏‏‏‏‏‏فَكِلَاهُمَا سَأَلَ الْعَمَلَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا أَبَا مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏أَوْ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَطْلَعَانِي عَلَى مَا فِي أَنْفُسِهِمَا، ‏‏‏‏‏‏وَمَا شَعَرْتُ أَنَّهُمَا يَطْلُبَانِ الْعَمَلَ، ‏‏‏‏‏‏فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى سِوَاكِهِ تَحْتَ شَفَتِهِ قَلَصَتْ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ لَنْ أَوْ لَا نَسْتَعْمِلُ عَلَى عَمَلِنَا مَنْ أَرَادَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَلَكِنِ اذْهَبْ أَنْتَ يَا أَبَا مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏أَوْ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ إِلَى الْيَمَنِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ اتَّبَعَهُ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا قَدِمَ عَلَيْهِ أَلْقَى لَهُ وِسَادَةً، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ انْزِلْ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا رَجُلٌ عِنْدَهُ مُوثَقٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مَا هَذَا ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ يَهُودِيًّا فَأَسْلَمَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ تَهَوَّدَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ اجْلِسْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا أَجْلِسُ حَتَّى يُقْتَلَ قَضَاءُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ، ‏‏‏‏‏‏ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ‏‏‏‏‏‏فَأَمَرَ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقُتِلَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ تَذَاكَرَا قِيَامَ اللَّيْلِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ أَحَدُهُمَا:‏‏‏‏ أَمَّا أَنَا فَأَقُومُ وَأَنَامُ وَأَرْجُو فِي نَوْمَتِي مَا أَرْجُو فِي قَوْمَتِي.

ترجمہ:
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے، انہوں نے قرۃ بن خالد سے، کہا مجھ سے حمید بن ہلال نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوبردہ (رض) نے، انہوں نے ابوموسیٰ اشعری سے، انہوں نے کہا میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا میرے ساتھ اشعر قبیلے کے دو شخص تھے (نام نامعلوم) ایک میرے داہنے طرف تھا، دوسرا بائیں طرف۔ اس وقت نبی کریم ﷺ مسواک کر رہے تھے۔ دونوں نے نبی کریم ﷺ سے عہدہ کی درخواست کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا، ابوموسیٰ یا عبداللہ بن قیس ! (راوی کو شک ہے) میں نے اسی وقت عرض کیا : یا رسول اللہ ! اس پروردگار کی قسم جس نے آپ کو سچا پیغمبر بنا کر بھیجا۔ انہوں نے اپنے دل کی بات مجھ سے نہیں کہی تھی اور مجھ کو معلوم نہیں تھا کہ یہ دونوں شخص عہدہ چاہتے ہیں۔ ابوموسیٰ کہتے ہیں جیسے میں اس وقت آپ کی مسواک کو دیکھ رہا ہوں وہ آپ کے ہونٹ کے نیچے اٹھی ہوئی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو کوئی ہم سے عہدہ کی درخواست کرتا ہے ہم اس کو عہدہ نہیں دیتے۔ لیکن ابوموسیٰ یا عبداللہ بن قیس ! تو یمن کی حکومت پر جا (خیر ابوموسیٰ روانہ ہوئے) اس کے بعد آپ نے معاذ بن جبل (رض) کو بھی ان کے پیچھے روانہ کیا۔ جب معاذ (رض) یمن میں ابوموسیٰ (رض) کے پاس پہنچے تو ابوموسیٰ (رض) نے ان کے بیٹھنے کے لیے گدا بچھوایا اور کہنے لگے سواری سے اترو گدے پر بیٹھو۔ اس وقت ان کے پاس ایک شخص تھا (نام نامعلوم) جس کی مشکیں کسی ہوئی تھیں۔ معاذ (رض) نے ابوموسیٰ (رض) سے پوچھا یہ کون شخص ہے ؟ انہوں نے کہا یہ یہودی تھا پھر مسلمان ہوا اب پھر یہودی ہوگیا ہے اور ابوموسیٰ (رض) نے معاذ (رض) سے کہا آؤ تم سواری پر سے اتر کر بیٹھو۔ انہوں نے کہا میں نہیں بیٹھتا جب تک اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے موافق یہ قتل نہ کیا جائے گا تین بار یہی کہا۔ آخر ابوموسیٰ (رض) نے حکم دیا وہ قتل کیا گیا۔ پھر معاذ (رض) بیٹھے۔ اب دونوں نے رات کی عبادت (تہجد گزاری) کا ذکر چھیڑا۔ معاذ (رض) نے کہا میں تو رات کو عبادت بھی کرتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور مجھے امید ہے کہ سونے میں بھی مجھ کو وہی ثواب ملے گا جو نماز پڑھنے اور عبادت کرنے میں۔
Inayat Malik Writes

خلوصِ دل سے مروت کا ۔۔۔۔۔ سلسلہ رکھیےہر ایک شخص سے پر دنیا میں فاصلہ رکھیے​​غموں کی دھوپ میں سایہ بنے گا صبر اپناکسی بھی...
28/08/2026

خلوصِ دل سے مروت کا ۔۔۔۔۔ سلسلہ رکھیے
ہر ایک شخص سے پر دنیا میں فاصلہ رکھیے
​
​غموں کی دھوپ میں سایہ بنے گا صبر اپنا
کسی بھی حال میں ہر غم کا حل بنا رکھیے

​جہاں اندھیرا بہت ہو وہیں پہ جلاؤ شمع بھی
سرمث امیدِ فردا کا سینے میں اِک دِیا رکھیے
عنایت سرمث

Address

Kallur Kot
Bhakkar
30140

Telephone

+923465119168

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Inayat Ullah Malik Official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Inayat Ullah Malik Official:

Shortcuts

Share