جامعہ دارالعلوم بٹگرام

جامعہ دارالعلوم بٹگرام خیر الناس من ینفع الناس

26/08/2026
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہسوال:نماز میں تشہد کے دوران شہادت کی انگلی سے اشارہ کرنے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟ نیز کیا اش...
26/08/2026

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
سوال:
نماز میں تشہد کے دوران شہادت کی انگلی سے اشارہ کرنے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟ نیز کیا اشارے کے بعد ہاتھ کی وہی ہیئت نماز کے اختتام تک برقرار رکھی جائے یا نہیں؟

*الجواب حامدًا ومصليًا*:

تشہد میں شہادت کی انگلی سے اشارہ کرنے کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ نمازی انگوٹھے اور درمیانی انگلی (وسطیٰ) کا حلقہ بنائے، چھوٹی انگلی اور بنصر (رِنگ فنگر) کو بند رکھے، پھر «لا إله» کہتے وقت شہادت کی انگلی اٹھائے اور «إلا الله» کہتے وقت اسے نیچے کر دے۔
البتہ اشارہ کرنے کے بعد ہاتھ کی یہی ہیئت، یعنی انگوٹھے اور درمیانی انگلی کا حلقہ اور باقی انگلیوں کی مذکورہ کیفیت، نماز کے اختتام تک برقرار رکھنا مسنون ہے
*كما في المشكاة المصابيح 119/1*
عن ابن عمر رضی اللہ عنہ قال کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذا قعد في التشهد وضع يده اليسرى على ركبتيه اليسرى ووضع يده اليمنى على ركبتيه اليمنى، وعقد ثلاثة وخمسين، وأشار بالسبابة٠
*فی مشکاة المصابيح 119/1 ط: بشری*
۹۰۸ (۳) وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ما قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ ﷺ إِذَا قَعَدَ يَدْعُو وَضَعَ : يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى وَيَدَهُ الْيُسْرَى. عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى، وَأَشَارَ بِإِصْبَعِهِ السَّبَّابَةِ، وَوَضَعَ إِبْهَامَهُ عَلَى إِصْبَعِهِ الْوُسْطَى ، وَيُلْقِمُ كَفَهُ الْيُسْرَى رُكْبَتَهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
*وفی رد المحتار 266/2*

وصفتها: أن يحلق من
يده اليمنى عند الشهادة الإبهام والوسطى، ويقبض البنصر والخنصر، ويشير بالمسبحة، أو
يعقد ثلاثة وخمسين بأن يقبض الوسطى والبنصر والخنصر. ويضع رأس إبهامه على حرف
مفصل الوسطى الأوسط، ويرفع الأصبع عند النفي ويضعها عند الإثبات.:
"الصغير" الصحیح انہ یشیر بمسبحتہ وحدھا یرفعھا عند النفی و یضعھا عند الاثبات
*وفی تقریرات رافعی167/2*
والصحيح
المختار عند جمهور أصحابنا أنه يضع كفيه على فخذيه، ثم بوصوله إلى كلمة التوحيد يعقد
الخنصر والبنصر، ويحلق الوسطى والإبهام ويشير بالمسبحة رافعاً لها عند النفي، واضعاً لها عند
الإثبات، ثم يستمر على ذلك؛ لأنه ثبت العقد عند الإشارة بلا خلاف، ولم يوجد أمر بتغييره،
والأصل بقاء الشيء على ما عليه واستصحابه إلى آخر الأمر.
*وفی بحر الرائق مع محنة الخالق565/1*
وصفتها أن يحلق من يده اليمنى عند الشهادة الإبهام والوسطى
ويقبض البنصر والخنصر ويضع رأس إبهامه على حرف المفصل الأوسط ويرفع الأصبع عند النفي
ويضعها عند الإثبات،
*وفی المحیط البرھانی 128/2* حكى عن الشيخ الإمام الفقيه أبي جعفر أنه قال:
يعقد الخنصر والبنصر، ويحلق الوسطى مع الإبهام، ويشير بسبّابته. روى ذلك عن النبي ﷺ
*في ردالمختار266/2*
وفي المحيط انه‍ا سنة، يرفعه‍ا عند النفى، ويضعه‍ا عند الإثبات، وه‍و قول أبي حنيفة و محمد، وكثرت به ألأثار و الأخبار، فالعمل به أولى فه‍و صريح في أن المفتى به ه‍و الإشارة بالمسبحه مع عقد الأصابع على كيفية المذكورة لا مع بسطه‍ا، فإنه لاإشارة مع البسط عندنا، ولذا قال في منية المصلي٠ فإن أشار يعقد الخنصر والبنصر ويحلق الوسطى بالإبه‍ام ويقيم السبابة ٠ وقال في شرحه‍ا الصغير: وه‍ل يشير عند الشه‍ادة عندنا؟ فيه إختلاف، صحح في الخلاصة والبزازية أنه لايشير، وصحح في شرح اله‍داية أنه يشير، وكذا في الملتقط وغيره٠
*و اللہ اعلم بالصواب *
کتبہ محمد فیصل
متخصص دار الافتاء والتحقیق دارالعلوم بٹگرام
المرقوم ٢٢/١٤٤٨
بمطابق 7/8/2026
*الجواب الصحیح*
*حضرت مولانا مفتی زرین گل صاحب* *رفیق دارلافتاء والتحقیق دارالعلوم بٹگرام*
*الجواب الصحیح*
*حضرت مولانا مفتی بخت منیر صاحب*
*رئیس دارلافتاء والتحقیق دارالعلوم بٹگرام*

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں شانگلہ کے لوگ کوہستان کے لو...
25/08/2026

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں شانگلہ کے لوگ کوہستان کے لوگوں کے لیے یہ بدعاء کرتے ہیں کہ ادھر آسمانی بجلی لگ جائے اور وہاں سیلاب آجائے اس میں لکڑی یا دیگر سامان بہ کر آجائےتو اسکو ہم پکڑیں تو اس سیلاب میں آنے والے سامان کو استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں رہنمائی فرمائیں۔

*الجواب حامداومصلیا*

واضح رہے کہ کسی مسلمان کے لیے دوسرے مسلمان کی ہلاکت، بربادی یا مالی نقصان کی بددعا کرنا شرعاً درست نہیں۔ مسلمان کو چاہیے کہ دوسرے مسلمان کے لیے خیر اور بھلائی کی دعا کرے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
«لَا يَكُونُ الْمُؤْمِنُ لَعَّانًا»
مؤمن لعنت کرنے والا نہیں ہوتا۔
(صحیح مسلم، ج 1، ص 625)
لہٰذا شانگلہ کے لوگوں کا اس نیت سے کوہستان کے لوگوں کے لیے یہ بددعا کرنا کہ وہاں آسمانی بجلی گرے یا سیلاب آئے اور اس سیلاب میں لکڑی یا دیگر سامان بہہ کر آئے تاکہ ہم اسے حاصل کرلیں، شرعاً ناجائز اور قابلِ مذمت ہے۔
جہاں تک سیلاب میں بہہ کر آنے والی لکڑی یا دیگر سامان کا تعلق ہے تو اس کا حکم اس کی نوعیت اور مالی قدر کے اعتبار سے مختلف ہوگا۔ اگر لکڑی یا کوئی دوسرا سامان ایسا ہو جس کی مالی قدر ہو اور غالب گمان ہو کہ اس کا کوئی مالک ہے اور وہ اسے تلاش کرے گا تو وہ لقطہ کے حکم میں ہے۔ محض سیلاب میں بہہ کر آجانے سے وہ کسی کے لیے مباح نہیں ہوجاتا۔
لہٰذا ایسی قیمتی لکڑی یا سامان کو اٹھانے والا شخص مالک کی تلاش اور مناسب طریقے سے اس کی تشہیر کرے، یہاں تک کہ غالب گمان ہوجائے کہ مالک اب اسے تلاش نہیں کرتا۔ اس کے بعد اسے اختیار ہے کہ مال کو مالک کے لیے محفوظ رکھے یا فقراء پر صدقہ کردے۔ اگر ملتقط خود فقیر ہو تو شرعی شرائط کے مطابق اسے اپنے استعمال میں بھی لاسکتا ہے۔
البتہ اگر سیلاب میں بہہ کر آنے والی لکڑی یا سامان معمولی اور بے قدر ہو، یا ایسی چیز ہو جسے لوگ عموماً ضائع یا پھینک دیتے ہیں، اور غالب گمان ہو کہ مالک اسے تلاش نہیں کرے گا تو اسے اٹھا کر استعمال کرنا جائز ہے۔
اور اگر اصل مالک بعد میں آجائے اور وہ مال موجود ہو تو اسے بعینہٖ مالک کے حوالے کرنا لازم ہوگا۔ اگر مال موجود نہ ہو اور اس کی قیمت صدقہ کردی گئی ہو، تو مالک اگر صدقے پر راضی ہوجائے تو ٹھیک ہے، ورنہ اس کی قیمت ادا کرنا لازم ہوگی۔
اس سلسلے میں لکڑی کے بارے میں فقہائے کرام نے صراحت کی ہے کہ دریا یا ندی میں ملنے والی ایسی لکڑی جس کی مالی قدر ہو اور جسے لوگ عموماً پھینک نہیں دیتے، وہ لقطہ کے حکم میں ہے۔

*کما فی صحیح مسلم ج/١/ص/٦٢٥*
عن ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم لایکون المؤمن لعانا ۔
*وفي درالمحتار ج /٦/ص/٤٢٥*
* *(فإن أشهدعليه) بأنه أخذه ليرده على ربه ويكفيه أن يقول: من سمعتموه ينشد لقطة فدلوه علي (وعرف)* أي نادى عليه‍ا حيث وجده‍ا، وفي المجامع *(إلى أن علم أن صاحبه‍ا لايطلبه‍ا)*
*وفي ردالمحتار ج /٦ ص /٤٢٥*
(الی آن علم آن صاحبھا لایطلبھا) لم يجعل للتعريف مدة اتباعا للسرخسي، فإنه بنى الحكم على غالب رأي، فيعرف القليل والكثير إلى أن يغلب على رأيه أن صاحبه لايطلبه،وصححه في الهدايه، وفي المضمرات والجوه‍رة، وعليه الفتوى.
*وفي الشامى ج/٦/ص ٤٣٥*
*مطلب فيمن وجد حطبا في نهر أو وجد جؤزا أو كمثرى* قوله: (إن له قيمة فلقطه) وقيل إنه كالتفاح الذي يجده في الماء. وذكر في شرح ا الوه‍بانيه ضابطا، وه‍و أن ما لا يسرع إليه الفساد ولا يعتاد رميه كحطب وخشب فه‍و لقطة إن كانت له قيمة ولو جمعه من أماكن متفرقة في الصحيح، كما لو وجد جؤزة ثم أخرى وه‍كذا حتى بلغ ماله قيمة. بخلاف تفاح أوكمثرى في نه‍ر جار فإنه يجوز أخذه وإن كثر لأنه ممايفسد لو ترك، و بخلاف النوى إذا وجد متفرقا وله قيمة فيجوز أخذه، لأنه مما يرمى عادة فيصير بمنزلة المباح،ولا كذالك الجوز،حتى لو تركه صاحبه تحت الأشجار فه‍و بمنزلة.
*وفی الہندیہ 2/308*
ویعرف الملتقط اللقطة فی الاسواق والشوارع مدة یغلب علی ظنه آن صاحبھا لا یطلبھا بعد ذالک ھو الصحیح کذا فی مجمع البحرین ولقطة الحل والحرم سواء کذا فی خزانة المفتین ثم بعد تعریف المدة المذکورة الملتقط مخیر بین ان یحفظھا حسبة وبین آن یتصدق فان جاء صاحبھا فامضی الصدقة یکون له ثوابھا وان لم یمضی ضمن الملتقط اوالمسکین ان شاء لو ھلکت فی یدہ.
*وفی بدائع الصنائع 5/298*
فصل: وأما بيان ما يصنع به‍ا فنقول وباللہ التوفيق : إذا أخذ اللقطة فإنه يعرفه‍ا لما روي عن رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم أنه قال : *(عرفه‍ا حولا) * حين سٔل عن اللقطة.............................. ثم اذا عرفھا ولمں یحضر صاحبھا مدة التعریف فھو بالخیار ان شاء امسکھا الی ان یحضر صاحبھا وان شاء تصدق بھا علی الفقراء۔
*واللہ اعلم بالصواب*
کتبہ محمد فیصل
متخصص دار الافتاء والتحقیق دارالعلوم بٹگرام
المرقوم ٢ ربيع الاول
بمطابق 16/8
*الجواب الصحیح*
*حضرت مولانا مفتی زرین گل صاحب رفیق دارلافتاء والتحقیق دارالعلوم بٹگرام*
*الجواب الصحیح*
*حضرت مولانا مفتی بخت منیر صاحب رئیس دارلافتاء والتحقیق دارالعلوم بٹگرام*

محترم جناب مفتی صاحب ایک عورت کا ڈیڑھ ماہ کا بچہ دوائی کے ذریعے ضائع ہو جائے تو اس کے بعد آنے والے خون کا حکم کیا ہے نیز...
24/08/2026

محترم جناب مفتی صاحب
ایک عورت کا ڈیڑھ ماہ کا بچہ دوائی کے ذریعے ضائع ہو جائے تو اس کے بعد آنے والے خون کا حکم کیا ہے نیز یہ خون تین دن تک تھوڑا تھوڑا اور اس کے بعد لگاتار آ رہا ہے؟
*الجواب حامداومصیلیا*
حاملہ عورت کا حمل ضائع ہونے کی صورت میں نفاس کا حکم یہ ہے کہ اگر بچے کے آعضاء میں سے کسی عضو(مثلا ہاتھ،پیر انگلی یا ناخن وغیرہ)کی بناوٹ ظاہر ہوچکی ہو تو یہ عورت نفاس والی ہوگی اس حمل کے ساقط ہونے کے بعد نظر انے والا خون نفاس کا خون کہلائے گا لیکن اگر بچے کے آعضاء میں سے کسی عضو کی بناوٹ ظاہر نہ ہوئی ہو تو پھر اس کا کوئی اعتبار نہیں یعنی عورت نفاس والی نہیں بنی گی اور اس حمل کے ضائع ہونے بعد نظر آنے والا خون بھی نفاس نہیں کہلائے گا۔ واضح رہے کہ حنفیہ کا مفتی بہ قول یہ ہے کہ اگر اسقاط حمل میں بچہ کا ایک آدھ عضو بن چکا تھا تو اسقاط کے بعد آنے والا خون نفاس کا ہوگا اور اگر کوئی بھی عضو نہیں بنا محض گوشت ہی گوشت ہو تو یہ خون نفاس کا نہیں ہوگا، ہاں اگر حیض ہو سکتا ہو تو حیض شمار ہوگا ورنہ استحاضہ،
كما قال ابن الهمام والسقط الذى استبان خلقه كاصبع او ظفر ولد
فلو لم يستبن منه شئ لم يكن ولدا فإن امكن جعله حيضا بان امتد جعل اياه والا فاستحاضة
فتح القدير ( ١٨٧/١) بحوالہ فتاویٰ دارالعلوم زکریا جلد ١ صفحه ٧٠٣ فتاوى حقانيه جلد ١ صفحه ٥٥٨ امداد الفتاوى
ماں کے پیٹ میں حمل کے آعضاء کے نمودار ہونے کا دورانیہ کتنا ہے۔ اس میں صاحب بدائع وغیرہ کا قول چار ماہ کا ہے۔جس پر احسن الفتاوی جلد ٢ صفحه ٧٢ میں فتویٰ بھی دیا گیا ہے۔
دوسرا قول صاحب بحرالرائق کا ہے کہ چار ماہ سے قبل بھی بچے کی خلقت ظاہر ہوسکتی ہے۔
ہمارے ہاں یہ دوسرا قول راجح ہے۔ درج ذیل وجوہ کی وجہ سے۔
(١) ہمارے آکابر نے اردو فتاوی جات میں دوسرے قول کو لیا ہے۔ كما مر أنفا
٢) نصوص سے اس کی تائید ہوتی ہے جیسا کہ حدیث صحیحین میں تخلیق کے مراحل بیان کیئے ہیں۔
إن أحدكم يجمع خلقه فى بطن أمه أربعين يوماً ثم يكون علقة مثل ذالك ثم يكون مضغة مثل ذالك الخ۔۔ اس حدیث میں تیسرے چلہ یعنی اسی (٨٠) دن کے بعد مضغة کی آغاز کی تصریح کی گئی ہے اور مضغة میں بچے کی خلقت کا ظاہر ہونا قرآن حکیم میں مصرح ہے۔ ثم من مضغة مخلقة وغير مخلقة الآيتہ سوره حج
پس ان نصوص کی بناء پر مرحلہ مضغة میں بچے میں خلقت کے آثار ظاہر ہونا شروع ہو جاتے ہیں لہذا اکیاسی (٨١) دن کے بعد آثار خلقت کا ظہور ممکن ہے اور عام طور سے نوے دن (تین ماہ) میں اعضاء نمودار ہوتے ہیں۔

٣) جدید طب وتحقیق بھی یہی ہے کہ چار ماہ سے قبل بچے میں خلقت کے آثار ظاہر ہوتے ہیں۔
پس اس بناء پر اگر اسقاط حمل اسی (٨٠) دن سے قبل ہو اور خون حیض شمار ہوسکتا ہو تو حیض شمار ہوگا وگرنہ استحاضہ۔
اور اکیاسی (٨١) دن کے بعد اگر بچے کا ایک آدھ عضو بن چکا ہو اور اعضاء نمودار ہو اور اسقاط حمل ہوجائے تو آنے والا خون نفاس شمار ہوگا اگر چہ چار ماہ پورے نہ ہوۓ ہو۔
پس صورت مسئولہ میں ڈیڈھ ماہ کا بچہ ضائع ہونے کے بعد انے والا خون نفاس نہیں کہلائے گا۔
*فی تنویر الابصار مع الدر (1/549*)
(ظھر بغض خلقه کید او رجل) او اصبع او ظفر او شعر ولا یستبین خلقه الا بعد مائة وعشرین یوما (ولد) حکما فتصیر المراة(به نفساءوالامة ام ولد ویحنث به)فی تعلیقه(وتنقضی به العدة )فان لم یظھر له شئ فلیس بشئ والمرئ حیض ان دام ثلاثا وتقدمه طھر تام والا استحاضة
*وفی فتح القدیر 1/379*)
(والسقط ان ظھر بعض خلقہ ولد)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ان ظھر لانه لو لم یظھر من خلقته شئ فلا یکون ولد ولا تثبت ھذا الاحکام فلا نفاس لھا لکن ان امکن جعل المرئ من الدم حیضا بان یدوم الی اقل مدة الحیض ویقدمه طھر تام یجعل حیضا وان لم یمکن کان استحاضة
*وفی الہندیہ( 1/42*)
لو خرج اکثر الولد تکون نفساء والا فلا وکذا لو تقطع فیھا وخرج اکثرہ والسقط ان ظھر بعض خلقه من اصبع او ظفر او شعر ولد فتصیر به نفساء ھکذا فی التبین وان لم یظھر شئ من خلقه فلا نفاس لھا فان امکن جعل المرئ حیضا یجعل حیضا والا فھو استحاضة۔
واللہ اعلم بالصواب
*کتبہ*:طارق جمیل
المتخصص بدارالافتاء جامعہ دارالعلوم بٹگرام
*المرقوم*:٢٢/١٤٤٨
*بمطابق*:8/7/2026
*الجواب صحیح*
حضرت مولانا مفتی واجداللہ صاحب رفیق دارالافتاء بٹگرام
*الجواب صحیح*
حضرت مولانا مفتی بخت منیر رئیس دارالافتاء جامعہ دارالعلوم بٹگرام

کیافرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارےمیں کہ اذان دینےکا مسنون طریقہ کیاہے؟اورکیاحسن صوت کےلئے کلمات اذان کوکھینچنا جا...
23/08/2026

کیافرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارےمیں کہ اذان دینےکا مسنون طریقہ کیاہے؟اورکیاحسن صوت کےلئے کلمات اذان کوکھینچنا جائزہے؟نیزیہ بھی بتائیں کہ کلمات اذان کےدرمیان کتناوقفہ کرناچاہیے بعض جگہ اذان کےکلمات کے درمیان بہت وقفہ کرتے ہیں جس سےاذان ختم ہونےکاگمان ہوتاہے،کیا ایساکرنادرست ہے؟
*الجواب حامداًومصلیاً*
اذان کامسنون طریقہ یہ ہے کہ مسجدسےباہرکسی اونچی جگہ قبلہ رخ ہوکرمشقت اورتکلف کےبغیراونچی آوازسےاذان دی جائے ،جس سے تمام محلہ والوں کوآواز پہنچ سکے۔ "حی علی الصلوة"پڑھتےوقت دائیں جانب اور"حی علی الفلاح"پڑھتے وقت بائیں جانب صرف چہرہ گھمایاجائےگا،پورےبدن کوگھمائےبغیر۔جبکہ کلمات اذان کے درمیان ترسل یعنی معمولی وقفہ کیا جائےگا۔
یادرہے!کہ لاؤڈاسپیکرپراذان دینےکامقصددورتک آوازکی رسائی ہے،لہذااس کےلیےمسجدسےنکلنےکی بجائےمسجدکےاندرنصب لاؤڈاسپیکرپر اذان دینےمیں کوئی حرج نہیں۔
(2) کلماتِ اذان کی ادائیگی کا طریقہ یہ ہےکہ لفظ"اللہ"کے شروع میں ہمزہ پرمدپڑھناجائزنہیں اورلفظ"اللہ"کےلام کوکتناکھینچنا چاہئےاس میں تھوڑاسااختلاف پایاجاتا ہے،چنانچہ بعض حضرات کےنزدیک ایک الف کی مقدارسےزیادہ کھینچنا درست نہیں ہے،جیساکہ ("خیرالفتاوی"218/2)اور"
(احسن الفتاوی"290/2) والےحضرات نےلکھا ہے
جبکہ بعض حضرات کےنزدیک پانچ الف تک کھینچناجائزہےجیساکہ کتاب النوازل کےمصنف نےلکھاہے۔ (کتاب النوازل:321/3)
اوربعض حضرات نےسات الف تک کھینچنےکی اجازت دی ہےدارالعلوم کراچی کےماہنامہ البلاغ میں شائع ہونے والی ایک تحریرملاحظہ ہو:
فقہاءکرام کی مندرجہ ذیل عبارات سےمعلوم ہوتاہےکہ اذان میں لفظ اللہ کےلام کوکھینچناجائزہےاور حضرات قراءنےبھی اسباب مدمیں "مدتعظیمی"میں لفظ اللہ کےمدکوشمار کیاہے،چنانچہ:
حضرت اقدس قاری فتح محمد صاحب رحمة الله نےزیادہ سےزیادہ سات الف کی مقدارکےبرابرکھینچنےکی گنجائش لکھی،اسی طرح مدمتصل میں بھی پانچ الف کی مقدارکےبرابرکھینچ سکتےہیں۔
ان تمام باتوں سےیہ نتیجہ نکلتاہے کہ لفظ اللہ کےلام کوبھی اگرپانچ الف کی مقدارکےبرابرکھینچ لیاجائے تودرست ہے،بلکہ زیادہ سےزیادہ سات الف کےبرابرکھینچنے کی بھی گنجائش ہے۔(ماہنامہ البلاغ جمادی الثانیۃ1419بحوالہ احسن الفتاوی:271/10)
جبکہ فتاوی دارالعلوم زکریا میں لکھا ہےکہ سات الف کی مقدارسے زیادہ بھی کھینچ سکتے ہیں (فتاوی دارالعلوم زکریا:77/2)
بہر حال مسئلہ مختلف فیہ ہے،حلت و حرمت کامسئلہ نہیں۔اس لئےاس میں تشددنہیں چاہیے،جوحضرات نہیں کھینچتےان کی تغلیط نہ کی جاوے، اور جوحضرات حدمیں رہ کرامتدادکرتے ہیں،ان کی تردید کرکےروکانہ جاوے۔تاہم موسیقی کی طرح اتار چڑھاؤکرناغلط ہے۔
(فتاوی دارالعلوم زکریا:77/2)
اور"اللہ اکبر اللہ اکبر"پڑھنےکاصحیح طریقہ یہ ہےکہ دونوں جگہ"راء"کوساکن کرکے"اللہ اکبرْاللہ اکبرْ"پڑھےاوراگر پہلی"اکبر"پرحرکت پڑھنی ہے،توزبرپڑھے،پیش پڑھنا خلاف سنت ہے۔
(فتاوی محمودیہ:120/9)
(2)صورتِ مسئولہ میں اذان کے کلمات کوتحسینِ صوت کی غرض سے کھینچناجائزہے،اس میں کوئی حرج نہیں،کیوں کہ اذان کامقصداعلام یعنی لوگوں کواطلاع دیناہےاوریہ مقصد کلمات کےکھینچنےسےاچھی طرح ادا ہوجاتاہے،البتہ کلماتِ اذان کوترنم کےساتھ پڑھنااوراس طرح کھینچناکہ کلمات اپنی ہیئت اورعربیت سےنکل جائیں،جائزنہیں۔
(3)اذان کےکلمات کےمابین تھوڑا ساوقفہ جس میں آسانی سےاذان کا جواب دیاجاسکے،سنت ہےاوراس سے زیادہ وقفہ کرنا کہ اذان ختم ہونے کاگمان ہوجائے،درست نہیں، بلکہ خلاف سنت ہےاوراذان کااعادہ مستحب ہے۔
*لما فی بدائع الصنائع*:
(369/1وحيدية)
فصل: وأما بيان سنن الأذان، فسنن الأذان في الأصل نوعان: نوع يرجع إلى نفس الأذان، ونوع يرجع إلى صفات المؤذن .
أما الذي يرجع إلى نفس الأذان فأنواع منها : أن يجهر بالأذان فيرفع به صوته لأن المقصود وهو الإعلام يحصل به ألا ترى أن النبي ﷺ قال لعبد الله بن زيد علمه بلالاً فإنه أندى وأمد صوتاً منك
ولهذا كان الأفضل أن يؤذن في موضع يكون أسمع للجيران كالمئذنة ونحوها، ولا ينبغي أن يجهد نفسه لأنه يخاف حدوث بعض العلل كالفتق وأشباه ذلك .
دل عليه ما روي أن عمر رضي الله عنه قال : لأبي محذورة أو لمؤذن بيت المقدس حين رآه يجهد نفسه في الأذان : أما تخشى أن ينقطع مريطاؤك، وهو ما بين السرة إلى العانة، وكذا يجهر بالإقامة لكن دون الجهر بالأذان لأن المطلوب من الأعلام بها دون المقصود من الأذان ..
ومنها: أن يفصل بين كلمتي الأذان بسكتة......
ومنها : أن يترسل في الأذان ويحدر في الإقامة لقول النبي ﷺ لبلال رضي الله عنه : إذا أذنت فترسل وإذا أقمت فاحدر......
ومنها : أن يرتب بين كلمات الأذان والإقامة حتى لو قدم البعض على البعض ترك المقدم، ثم يرتب ويؤلف، ويعيد المقدم، لأنه لم يصادف محله فلغا، وكذلك إذا ثوب بين الأذان والإقامة في الفجر فظن أنه في الإقامة فأتمها ثم تذكر قبل الشروع في الصلاة فالأفضل أن يأتي بالإقامة من أولها إلى آخرها مراعاة (ب/ .. للترتيب ودليل كون الترتيب سنة أن النازل من السماء رتب، وكذا المروي من مؤذني رسول الله ﷺ أنهما رتبا، ولأن الترتيب في الصلاة فرض، والأذان شبيهة بها فكان الترتيب فيه سنة .
ومنها: أن يوالي بين كلمات الأذان والإقامة لأن النازل من السماء والى، وعليه عمل مؤذني رسول الله ﷺ حتى أنه لو أذن فظن أنه الإقامة ثم علم بعد ما فرغ فالأفضل أن يعيد الأذان ويستقبل الإقامة.......ومنها : أن يأتي بالأذان والإقامة مستقبل القبلة لأن النازل من السماء هكذا فعل، وعليه إجماع الأمة، ولو ترك الاستقبال يجزيه لحصول المقصود وهو الإعلام لكنه يكره لتركه السنة المتواترة......ومنها : أن يكون التكبير جزماً، وهو قوله الله أكبر لقوله ﷺ «الأذان جزم.
ومنها : ترك التلحين في الأذان لما روي أن رجلاً جاء إلى ابن عمر رضي الله عنهما فقال: إني أحبك في
الله تعالى فقال ابن عمر رضي الله عنهما : إني أبغضك في الله تعالى . فقال : لم ؟ قال : لأنه بلغني أنك تغني في أذانك يعني التلحين .
أما التفخيم فلا بأس به لأنه إحدى اللغتين.
*وفي الشامية*:(٣٧٨/١حلبي)
قَوْلُهُ: وَيَتَرَسَّلُ) أَيْ يَتَمَهَّلُ.
(قَوْلُهُ: بِسَكْتَةٍ) أَيْ تَسَعُ الْإِجَابَةَ مَدَنِيٌّ عَنْ مُنْلَا عَلِيٌّ الْقَارِي، وَهَذِهِ السَّكْتَةُ بَعْدَ كُلِّ تَكْبِيرَتَيْنِ لَا بَيْنَهُمَا كَمَا أَفَادَهُ فِي الْإِمْدَادِ أَخْذًا مِنْ الْحَدِيثِ، وَبِهِ صَرَّحَ فِي التَّتَارْخَانِيَّة.
(قَوْلُهُ: وَتُنْدَبُ إعَادَتُهُ) أَيْ لَوْ تَرَكَ التَّرَسُّلَ.
*وفيه أيضاً*(:٣٨٦/١)
وَحَاصِلُهَا أَنَّ السُّنَّةَ أَنْ يُسَكِّنَ الرَّاءَ مِنْ «اللَّهُ أَكْبَرُ» الْأَوَّلِ أَوْ يَصِلَهَا بِ «اللَّهُ أَكْبَرُ» الثَّانِيَةِ، فَإِنْ سَكَّنَهَا كَفَى وَإِنْ وَصَلَهَا نَوَى السُّكُونَ فَحَرَّكَ الرَّاءَ بِالْفَتْحَةِ، فَإِنْ ضَمَّهَا خَالَفَ السُّنَّةَ؛ لِأَنَّ طَلَبَ الْوَقْفِ عَلَى «أَكْبَرُ» الْأَوَّلِ صَيَّرَهُ كَالسَّاكِنِ أَصَالَةً فَحُرِّكَ بِالْفَتْحِ.
*وفي الدرالمختار*(:٣٨٦/١)
وَبِفَتْحِ رَاءِ أَكْبَرَ وَالْعَوَامُّ يَضُمُّونَهَا رَوْضَةٌ، لَكِنَّ فِي الطُّلْبَةِ مَعْنَى قَوْلِهِ - عليه الصلاة والسلام - «الْأَذَانُ جَزْمٌ» أَيْ مَقْطُوعُ الْمَدِّ، فَلَا تَقُولُ آللَّهُ أَكْبَرُ؛ لِأَنَّهُ اسْتِفْهَامٌ وَإِنَّهُ لَحْنٌ شَرْعِيٌّ، أَوْ مَقْطُوعُ حَرَكَةِ.
*وفي الهندية*:(٧٣/١دارالفكربىروت)
وَمَدُّ لَامِ اللَّهِ صَوَابٌ وَجَزْمُ الْهَاءِ خَطَأٌ. كَذَا فِي فَتْحِ الْقَدِيرِ وَإِذَا قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ بِمَدِّ هَمْزَةِ اللَّهِ أَوْ هَمْزَةِ أَكْبَرَ تَفْسُدُ صَلَاتُهُ لِمَكَانِ الشَّكِّ.
فقط واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
*کتبہ* : شیرعالم نظامی عفی عنہ
دارالافتاءجامعہ دارالعلوم بٹگرام
*المرقوم* :6ربیع الاول1448
*بمطابق* :20اگست2026
*الجواب صحیح*
حضرت مولانا مفتی بخت منیر صاحب مدظلہ العالی رئیس دارالافتاءجامعہ دارالعلوم بٹگرام

اسلام و علیکم مفتی صاحبکیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ کوئی شخص جمعہ کا خطبہ موبائل فون کے ذریعے اس ک...
18/08/2026

اسلام و علیکم مفتی صاحب
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ کوئی شخص جمعہ کا خطبہ موبائل فون کے ذریعے اس کی لائیو ویڈیو بنائے جبکہ اس دوران وہ صرف موبائل کو ایک ہی ہاتھ سے استعمال کریں اور خطبہ سننے میں اور کوئی خلل نہ آئیں جبکہ بعض مساجد میں خطبہ کے دوران چندہ بھی جمع کیا جاتا ہیں اسکا کیا حکم ہیں ؟
*الجواب حامدا ومصلیا*
واضح رہے کہ خطبہ کو توجہ کے ساتھ سننا واجب ہے اور ہر وہ کام جو خطبہ کے سننے میں خلل ڈالے وہ کام کرنا جائز نہیں ۔
لہذا بصورت مسئولہ خطبے کے دوران وڈیو بنانے یا چندہ میں مشغول ہونے سےخطبےکےسننے کا ادب واحترام پامال ہونے کے ساتھ ساتھ مسجد کی تقدس کی بھی خلاف ہے،اس لیے دونوں باتیں جائز نہیں
*تنوير الأبصار مع الدر المختار ٣٩/٣*
(وكل ما حرم في الصلاة حرم فيها )ای في الخطبة .
فیحرم اكل وشرب و کلام و لو تسبيحا اوردسلام
او امر بمعروف بل يجب عليه ان يستمع ويسكت
قوله: (بل یجب عليه ان يستمع ) ظاهره انه یكره
الاشتغال بما يفوت السماع وان لم يكن کلاما،
*تنویر الابصار مع الدر المختار ٣ / ٣٨*
( اذا خرج الامام ) من الحجرة ان كان والا فقيامه للصعود، شرح المجمع ( فلا صلاة ولا كلام الى اتمامها ) وان كان فيها ذكرالظلمة في الاصح.
*البحر الرائق ٢٧٢/٣*
في البدائع يكره الكلام حال الخطبة وكذا قراءة القران وكذا الصلاة وكذا كل ما شغل باله عن سماع الخطبة من التسبيح والتهليل والكتابة
بل يجب عليه ان يسمع ويسكت .
*فقط واللہ اعلم بالصواب*
کتبہ:محمد اسد صدیقی
المتخصص دارالافتاء دارالعلوم بٹگرام
المرقوم:١ربيع الاول١٤٤٨
بمطابق 17اگست2026
*الجواب صحیح*
حضرت مولانا مفتی عبد الرحمن صاحب مدظلہ العالی رفیق دارالافتاء دارالعلوم بٹگرام
*الجواب صحیح*
حضرت مولانا مفتی بخت منیر صاحب مدظلہ العالی رئیس دارالافتاء دارالعلوم بٹگرام

سوال کیا آن لائن قرآن اکیڈمی والے جو قرآن پڑھانے کےلیے سٹوڈنٹ بیچتے ہیں، اس طرح سٹوڈنٹ بیچنا جائز ہے؟اور اگر کوئی شخص اس...
17/08/2026

سوال
کیا آن لائن قرآن اکیڈمی والے جو قرآن پڑھانے کےلیے سٹوڈنٹ بیچتے ہیں، اس طرح سٹوڈنٹ بیچنا جائز ہے؟
اور اگر کوئی شخص اس طریقے سے سٹوڈنٹس خرید لے تو اسکی آمدنی کا کیا حکم ہے ؟
*الجواب حامداومصیلیا*
واضح رہے کہ پڑھانے کیلئے کسی کو محض اپنا حق دینا،یہ ایسی چیز نہیں ہے جس کا خارج میں کوئی وجود ہو اور اس کی قیمت لگائی جائے۔
پس صورتِ مسئولہ میں کسی اکیڈمی والوں کا دوسروں کو اپنا سٹوڈنٹ،شاگرد دینا اور اس کے بدلے پیسے لینا شرعاً جائز نہیں ہے۔
تاہم اگر مذکورہ اکیڈمی والے کمیشن پر سٹوڈنٹ فراہم کرتے ہیں اور اس کیلئے وہ محنت ومشقت کرتے ہیں کالنگ کرتے ہیں اور پہلے سے اجرت طے کرتے ہیں،تو اس صورت میں ان اکیڈمی والوں کو ابتداءً اپنی محنت کے بدلے ایک مرتبہ طے شدہ اجرت لینا شرعاً جائز ہے۔
*فی ردالمحتار (7/31*)
قوله ( لا يجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة على الملك ) قال في البدائع الحقوق المفردة لا تحتمل التمليك ولا يجوز الصلح عنها، أقول وكذا لا تضمن بالاتلاف".
*وفی ردالمحتار (9/107*)
*مطلب فی اجرة الدلال* تتمة قال فی التاترخانیہ:وفی الدلال والسمسار یجب آجر المثل وما تواضعوا علیه ان فی کل عشرة دنانیر کذا فذاک حرام علیھم وفی الحاوی سئل محمد بن سلمہ غن اجرة السمسار *فقال* ارجوا انه لا باس به وان کان فی الاصل فاسدا لکثرة التعامل.
*واللہ اعلم بالصواب*
*کتبہ*:طارق جمیل
المتخصص بدارالافتاء جامعہ دارالعلوم بٹگرام
*المرقوم*:۱/۱۴۴۸
*بمطابق* 8/13/2026
*الجواب صحیح*
حضرت مولانا مفتی واجداللہ صاحب
*الجواب صحیح*
حضرت مولانا مفتی بخت منیر رئیس دارالافتاء جامعہ دارالعلوم بٹگرام

*السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہایک عورت کو پاک ہونے کے وقت سفید رطوبت (White Discharge) نظر آئی۔ اس کے بعد دوبارہ میلا...
16/08/2026

*السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
ایک عورت کو پاک ہونے کے وقت سفید رطوبت (White Discharge) نظر آئی۔ اس کے بعد دوبارہ میلا ڈسچارج آنے لگا، اور کبھی کبھی وہ میلا ڈسچارج سفید رطوبت میں ملا ہوا بھی نظر آتا تھا۔ یہ سلسلہ جاری رہا۔ پھر پندرہ دن پورے ہونے سے پہلے سرخ رطوبت (Red Discharge) آئی، اور پندرہ دن مکمل ہونے کے بعد اس عورت نے اسے حیض سمجھ کر نماز چھوڑ دی۔ پھر دس دن کے دوران حیض جیسا ڈسچارج آتا رہا۔
اس صورت میں سوال یہ ہے کہ اس عورت کے حیض کے دن کب سے شمار ہوں گے؟ اور اسے کس دن سے نماز دوبارہ شروع کرنی چاہیے؟
*الجواب حامدا ومصلیا**
واضح رہے کہ اگر کسی عورت کو حیض آنے کے دن اور عادت متعین ہوں تو اس عادت پر زائد خون آنے کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں، پہلی صورت یہ ہے کہ عادت سے زائد خون دس دن کے اندر اندر بند ہو جائے تو اس صورت میں یہ سمجھا جائے گا کہ اس کی عادت تبدیل ہو گئی ہے۔ اگر دس دن پر بند نہ ہوا بلکہ دس دنوں سے بھی زیادہ خون آنے لگاتو اس صورت میں یہ سمجھا جائے گا کہ اس کی عادت برقرار ہے اور عادت پر جو زائد خون آیا ہے وہ استحاضہ کا خون ہے ۔نیز ایام حیض میں خالص سفیدی کے علاؤہ باقی تمام رنگ حیض کے شمار ہوتے ہیں۔
پس صورت مسئولہ میں اگر مذکورہ عورت کی عادت کے بعد سفید رطوبت کے میلا رنگ کا خون اگر دس دنوں کے بعد بھی جاری رہا تو اس صورت میں اس عورت کی عادت نہیں بدلی بلکہ وہی پرانی عادت برقرار ہے، اور اس عادت سے زائد دنوں میں جو نمازیں چھوڑی گئی ہیں ان کی قضاء لازم ہے ۔
في رد المحتار (524/1)
باب الحيض......وأقله ثلاثة ايام بلياليها .... واكثره عشرة..... وقوله والزائد على اكثره أي في حق المبتدأة أما المعتادة فما زاد على عادتها وتجاوز العشرة في الحيض والأربعين في النفاس يكون استحاضة ....أما إذا لم يتجاوز الاكثر فيهما فهو انتقال للعادة فيهما فيكون حيضا ونفاسا. (524/1)
*وفي حاشية الطحاوية* (141)
والاستحاضة دم نقص عن ثلاثة ايام أو زاد على عشرة في الحيض ....ودم زاد على اربعين في النفاس أو زاد على عادتها وتجاوز اكثر الحيض و النفاس.
وفي المبسوط (28/2)
وإن كان حيضها خمسة أيام فزاد الدم عليها فالزيادة دم حيض معها إلي تمام العشرة ......فان زاد على العشرة كان حيضها هي الخمسة والزيادة استحاضة لأن الحيض لايكون أكثر من عشرة. فقط والله أعلم بالصواب......
کتبہ: عطاءالرحمن
*الجواب صحیح*
حضرت مولانا مفتی واجد اللّہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ رفیق دار الافتاء جامعہ دارالعلوم بٹگرام
*الجواب صحیح*
حضرت مولانا مفتی بخت منیر صاحب مدظلہم العالی رئیس مجلس فقہی بٹگرام ودار الافتاء جامعہ دارالعلوم بٹگرام

*14 اگست منانے کا شرعی حکم* شریعت مقدسہ میں جشن منانے کے بارے میں اصول یہ ہے کہ اگر دن شریعت کی طرف سے منصوص نہیں ہے تو ...
15/08/2026

*14 اگست منانے کا شرعی حکم*
شریعت مقدسہ میں جشن منانے کے بارے میں اصول یہ ہے کہ اگر دن شریعت کی طرف سے منصوص نہیں ہے تو اس کا منانا مباح ہے ٫ بشرطیکہ اس کو عبادت نہ سمجھا جائے اور اگر عبادت سمجھ کر دن منایا جائے تو ناجائز اور بدعت ہے ٫ چونکہ 14 اگست 1947 میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانان ہند کوایک عظیم نعمت پاکستان کی صورت میں عطا فرمائی جس کے قیام کا مقصد صرف یہ تھا اور ہے کہ مسلمان مکمل آ زادی اور یکسوئی کے ساتھ اسلامی تعلیمات پر عمل کرسکیں ٫ ان کواسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے سے کسی قسم کا کوئی رکاوٹ موجود نہ ہو ٫ اسی نعمت عظمیٰ پر اظہار خوشی اور اظہار تشکر کے لئے اجتماعات منعقد کرنا تاکہ اپنے اکابر کی قربانیوں کی یاد تازہ کی جائے قوم میں اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے کا جذبہ اجاگر کیا جائے ٫ جذبہ جہاد کو بیدار کیا جائے اور ملک اور ملت کے استحکام کے لئے دعائیں کی جائے اور 14 اگست منانے کو عبادت نہ سمجھا جائے تو ایسا کرنا فی نفسہ جائز ہے ٫ لیکن 14 اگست منانے کو عبادت سمجھنا یا نعمت پر اظہار مسرت کے لئے گناہوں کو اختیار کرنا مثلاً وقت کولہو ولعب میں صرف کرنا ٫ اسراف اور فضول خرچی کرنا ٫ رقص اور سرور کی محفلیں گرم کرنا ٫گانے بجانے کا استعمال کرنا٫ ہرگز جائز نہیں ہے -- جہاں یہ باتیں پاکستان کے وجود کے بنیادی مقاصد کے خلاف ہیں ٫ وہاں یہ پوری قوم وملت اور وطن عزیز کے لئے تباہ کن ہیں ٫ لھذا ایسی باتوں سے اجتناب لازم ہیں
مستفاد من فتویٰ دار الافتاء دار العلوم کراچی ( مورخہ 17/5/14/19 ھ)
نسخہ بخت منیر
دار الافتاء والتحقیق جامعہ دارالعلوم بٹگرام ودارالافتاء جامعہ اسلامیہ فریدیہ ودارالافتاء جامعہ دار السلام بٹگرام

Address

ویگن اڈہ روڈ بٹگرام نزد ٹائم ٹیلر بلڈنگ
Battagram
21040

Telephone

+923005298881

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when جامعہ دارالعلوم بٹگرام posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share