29/12/2025
نہ منہ چھپا کے جئے ہم نہ سر جھکا کے جئے
ستم گروں کی نظر سے نظر ملا کے جئے
اب ایک رات اگر کم جئے تو کم ہی سہی
یہی بہت ہے کہ ہم مشعلیں جلا کے جئے
الحمدللہ ،خداے بزرگ و برتر کے فضل سے اور قائدین کے بے لوث و انتھک تگ و دو سے وقتی ابتلاء میں سر خرو ہوے۔
تمام سکول لیڈرز کو توسیع ملنے پر دلی مبارکباد اور فرنٹ لائن پر جہدوجہد کرنے والے ساتھیوں کو بھرپور خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
تمام سکول لیڈرز کمیونٹی داد کے مستحق ہیں جنہوں پریشر اور سٹریس کو اپنے خوصلوں پر خاوی نہ ہونے دیا۔سب نے وقار،پروفیشنلزم اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر طوفان بدتمیزی اور ہٹلر بازی کو نذر انداز کیا۔
20/12/2025
Today, marked the end of our professional training at RPDC Bannu—a journey of learning, sharing, and good memories.
Thankful to the trainers and colleagues who made this experience meaningful.
Moving forward with new ideas and fresh motivation.
15/12/2025
یہ جو ہم ہیں احساس میں جلتے ہوئے لوگ
ہم زمین زاد نہ ہوتے تو ستارے ہوتے
الحمدللہ ،تین سال کی قلیل مدت میں اپنی بساط بھرحصے کی بھرپور کوشش کی علم کی شمع و چراغ جلانے کے لیے۔
14/12/2025
خیبر پختونخوا میں اسکول لیڈرز کی تین سالہ کارکردگی
تحریر:
سکول لیڈرز ضلع بنوں
اسکول لیڈرز نے محکمۂ تعلیم خیبر پختونخوا میں تقریباً تین سال خدمات سر انجام دیں۔ اگر اس مدت سے موسمِ گرما، موسمِ سرما اور دیگر سرکاری تعطیلات کو منہا کیا جائے تو عملی طور پر یہ عرصہ دو سال سے بھی کم بنتا ہے۔ اس محدود مدت میں ہمیں وقت پر ٹریننگ بھی فراہم نہیں کی گئی، اور دو سال چھے مہینے بعد ہی ٹریننگ دی گئی۔ اس کے علاوہ، اس کے علاوہ سینئر اسکول لیڈرز اور ہمارے باقی افسران کی بھی اب تک تقرریاں نہیں ہوئی۔ اس کے باوجود اسکول لیڈرز نے تعلیمی نظام میں درج ذیل اصلاحات متعارف کرائیں:
(تعلیمی نظم و ضبط اور انتظامی بہتری)
1۔ صبح کی اسمبلی کا باقاعدہ انعقاد
جہاں کئی اسکولوں میں صبح کی اسمبلی کا کوئی باقاعدہ نظام موجود نہیں تھا، وہاں اسکول لیڈرز نے اساتذہ کرام کی معاونت سے اسمبلی کو عملی جامہ پہنایا۔
جسکی وجہ سے طلبہ کی نظم و ضبط، اخلاقی تربیت اور ان میں اعتماد پیدا ہوا۔
2۔ ٹائم ٹیبل اور سلیبس کی بروقت تکمیل
بہت سے اسکولوں میں نہ واضح ٹائم ٹیبل موجود تھا اور نہ ہی سلیبس وقت پر مکمل ہوتا تھا، جسے اسکول لیڈرز نے یقینی بنایا۔
3۔ اساتذہ کی کلاس وائز روٹیشن
اساتذہ کا کلاس وائز روٹیشن سسٹم متعارف کرایا گیا تاکہ ہر مضمون متعلقہ مہارت رکھنے والا استاد پڑھائے۔ جسکی وجہ سے تدریس کا معیار بہتر ہوا اور طلبہ کو ہر مضمون میں بہتر رہنمائی ملی۔
نوٹ: اس سے قبل ایک ہی استاد کو پوری کلاس دے دی جاتی تھی، جبکہ تمام اساتذہ کو ہر مضمون پر یکساں عبور حاصل نہیں تھا، جس کا براہِ راست نقصان طلبہ کو ہوتا تھا۔
4۔ اساتذہ کے باہمی اختلافات کا حل
جن سکولوں میں اساتذہ کے درمیان اختلافات موجود تھے، اسکول لیڈرز نے انہیں خوش اسلوبی اور تدبر سے حل کیا۔ جسکی وجہ سے مثبت تعلیمی ماحول اور ٹیم ورک کو فروغ ملا۔
5. آفس عملے کے ساتھ تعاون
اسکول لیڈرز نے صرف طلبہ اور اساتذہ ہی نہیں بلکہ آفس عملے کے ساتھ بھی مختلف کاموں میں تعاون کیا۔
(امتحانی اور تدریسی نظام کی اصلاح)
6۔ تین مرحلوں پر مشتمل باقاعدہ امتحانی نظام
خیبر پختونخوا کی تاریخ میں پہلی بار تمام گورنمنٹ پرائمری اسکولوں میں تین امتحانات پر مشتمل باقاعدہ امتحانی نظام نافذ کیا گیا۔ اس سے قبل یہ نظام تقریباً 2 فیصد اسکولوں تک محدود تھا، جبکہ باقی اسکولوں میں صرف سالانہ معائنہ کیا جاتا تھا۔ ان امتحانات کی وجہ سے طلبہ کی حقیقی تعلیمی کارکردگی سامنے آئی اور شفاف نظام قائم ہوا۔
6۔ ماہانہ ٹیسٹس کا نظام اور پرچے تیار کرنا
اسکول لیڈرز نے گورنمنٹ اسکولوں میں ماہانہ ٹیسٹس کا نظام متعارف کرایا اور ہر امتحان کے لیے خود پرچے بھی تیار کیے۔ جسکی وجہ سے طلبہ کی باقاعدہ نگرانی ممکن ہوئی اور تدریسی عمل مؤثر بنا۔
7۔ طلبہ کی باقاعدہ اسسمنٹ
ہر وزٹ کے دوران طلبہ کی تعلیمی اسسمنٹ کی گئی، کمزوریوں کی نشاندہی کی گئی اور اساتذہ کے تعاون سے ان کمزوریوں کو دور کیا گیا۔
8۔ ہوم ورک سسٹم کا نفاذ
جہاں ہوم ورک کا کوئی باقاعدہ نظام موجود نہیں تھا، وہاں اسے یقینی بنایا گیا۔ جسکی وجہ سے طلبہ کے مشق میں اضافہ ہوا اور سیکھنے کا عمل مضبوط ہوا۔
9۔ کورسی سلیبس کی ماہانہ تقسیم
اسکول لیڈرز نے کورس کو ماہانہ تقسیم کر کے اسے اساتذہ کے لیے باقاعدہ سلیبس تیار کیا ، جس سے تدریسی اہداف کی بروقت تکمیل ممکن ہوئی۔
(طلبہ اور اساتذہ کی حوصلہ افزائی)
10۔ انرولمنٹ میں اضافہ اور کمیونٹی موبلائزیشن
اسکول لیڈرز نے طلبہ کی انرولمنٹ پر خصوصی توجہ دی اور تاریخ میں پہلی بار اساتذہ کے ساتھ مل کر گاؤں گاؤں جا کر والدین اور معززینِ علاقہ سے ملاقاتیں کیں۔اس مسلسل رابطے کے نتیجے میں زیادہ تعداد میں نئے داخلے ہوئے اور مختلف پرائیویٹ اسکولوں سے طلبہ گورنمنٹ پرائمری اسکولوں میں منتقل ہوئے، جس سے سرکاری تعلیمی اداروں پر عوام کا اعتماد بحال ہوا۔
11۔ تقسیمِ انعامات کے پروگرامز
تمام گورنمنٹ پرائمری اسکولوں میں باقاعدہ تقسیمِ انعامات کے پروگرامز منعقد کیے گئے۔ جسے طلبہ میں مقابلے کا جذبہ، خود اعتمادی اور تعلیمی دلچسپی میں اضافہ ہوا۔
12۔ اساتذہ کے لیے تعریفی سرٹیفکیٹس
اساتذہ کی تدریسی، انتظامی اور پیشہ ورانہ خدمات کے اعتراف میں تعریفی سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے۔
جسے اساتذہ کے حوصلے بلند ہوئے اور پیشہ ورانہ وابستگی میں اضافہ ہوا۔
13۔ SLO بیسڈ کلسٹر اور ضلعی سطح کے مسابقتی ٹیسٹس
تاریخ میں پہلی بار SLO بیسڈ کلسٹر وائز اور ضلعی سطح پر مسابقتی ٹیسٹس کا انعقاد کیا گیا۔
جنکی وجہ سے طلبہ کی پوشیدہ صلاحیتیں سامنے آئیں اور تعلیمی معیار بہتر ہوا۔
نوٹ: ان سرگرمیوں اور انعامات پر اسکول لیڈرز نے اپنی جیب سے لاکھوں روپے خرچ کیے، جبکہ معزز اساتذہ نے بھرپور تعاون کیا۔
14۔ طلبہ کی یونیفارم کی بہتری
جہاں طلبہ کی یونیفارم غیر معیاری یا ناقص تھی، وہاں معیار کو یقینی بنایا گیا۔
(ریکارڈ، تشخیص اور ڈیجیٹل نظام)
15۔ ڈی ایم سیز کا باقاعدہ اجرا
تاریخ میں پہلی بار گورنمنٹ پرائمری اسکولوں کی سطح پر طلبہ کو باقاعدہ ڈی ایم سیز جاری کی گئیں۔
16۔ HRIS پر طلبہ کا مکمل ڈیٹا
تمام کلاسز کے طلبہ کی پروفائلز، 2021 سے رہ جانے والی پروموشنز اور آن لائن سرٹیفکیٹس HRIS سسٹم میں مکمل کیے گئے، جو ایک نہایت مشکل مرحلہ تھا۔
17۔ SBA سسٹم میں معاونت:
طلبہ کی رجسٹریشن اور پیپر جنریشن کے عمل میں اساتذہ کو عملی معاونت فراہم کی گئی۔
18۔ SSR پروفارمے کی بروقت تکمیل
ہر سال SSR پروفارمے بروقت مکمل کر کے آن لائن اپلوڈ کیے گئے۔
19۔ فری ٹیکسٹ بک انکوائری ڈیٹا (2012–2025)
تمام گورنمنٹ پرائمری اور مکتب اسکولوں سے فری ٹیکسٹ بک انکوائری کا طویل المدتی ڈیٹا جمع کیا گیا۔
20 ۔ اس کے علاؤہ تاریخ میں پہلی بار سکول لیڈرز نے دن رات کی محنت سے تمام پرائمری سکولوں کیلئے یکساں سلیبس ڈیزائن کیا جس سے اساتذہ آج بھی استفادہ حاصل کر رہے ہیں۔
ان تمام اقدامات میں گورنمنٹ پرائمری اسکولوں کے معزز اساتذہ کرام نے اسکول لیڈرز کے ساتھ تاریخی تعاون کیا۔ ان کامیابیوں کا کریڈٹ اسکول لیڈرز کے ساتھ ساتھ ان محنتی اساتذہ کو بھی جاتا ہے۔ باہمی تعاون اور مشترکہ کوششوں سے ہی یہ اصلاحات ممکن ہوئیں۔
نتیجہ
مختصر مدت کے باوجود اسکول لیڈرز کی جانب سے متعارف کرائی گئی اصلاحات نہ صرف تعلیمی نظام کی بہتری کا سبب بنیں بلکہ اساتذہ، طلبہ اور والدین کے درمیان اعتماد کو بھی فروغ ملا۔ یہ اقدامات اسکول لیڈرز کی محنت، خلوص اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا واضح ثبوت ہیں۔
نوٹ: ممکن ہے کہ اسکول لیڈرز کمیونٹی میں کسی سکول لیڈر سے انفرادی سطح پر ڈیوٹی میں کوتاہی بھی ہوئی ہو، تاہم مجموعی طور سکول لیڈرز کی کارکردگی بہت واضح اور بہترین ہے۔
04/12/2025
📢 Bannu Female PST, CT, DM & PET Appointment Orders Issued!
Congratulations to all the successful candidates 🎉
Welcome to the Elementary and Secondary Education Department! ✨
Wishing you a bright and impactful teaching journey ahead.
27/11/2025
سینرالائزڈ ایگزام ««فرسٹ ٹرم»»📝 (فال 2025) ✍️
ہدایات و مندرجات
پیپر کا دورانیہ صبح 9:30 بجے تا دوپہر 12:30 بجے ہوگا۔
تمام پیپرز 27 نومبر 2025 کو سوفٹ فارم میں اسکول لیڈرز اپنے کلسٹر کے ساتھ شیر کرینگے
ہر پیپر 100 نمبرز اور فرسٹ ٹرم کے نصاب پر مشتمل ہوگا،
اسکول ہیڈز امتحانی سرگرمیوں کی مکمل نگرانی کریں گے۔
طلبہ پیپر دینے کے بعد اسکول بند ہونے تک اسکول میں رہیں گے اور اگلے پیپر کی تیاری اساتذہ کی نگرانی میں کریں گے۔
جن طلبہ کا کسی دن پیپر نہیں ہوگا، وہ بھی اسکول آئیں گے اور اگلے پیپر کی تیاری کریں گے۔
ہر ٹیچر روزانہ پیپر چیک کرکے نتیجہ متعلقہ امتحانی انچارج کے ساتھ جمع کروائے گا۔
سالانہ امتحانی نتائج 30 دسمبر 2025 سے پہلے دفتر میں اے۔ایس۔ڈی۔اوز اور سکول لیڈرز کے دستخط کے ساتھ جمع کرینگے
تمام اسکول 31 دسمبر 2025 کو باضابطہ طور پر نتائج کا اجراء کرینگے ۔
24/11/2025
الحمدللہ! ہماری ٹیم نے پریپ سے پانچویں جماعت تک فسٹ ٹرم (فال 2025) کے تمام امتحانی پرچے باقاعدہ طور پر تیار کر لیے ہیں۔
آج شام تک یہ پرچے تمام کلسٹر گروپس کو باضابطہ طور پر ارسال کر دیے جائیں گے، تاکہ اساتذہ کرام بروقت جائزہ لے کر اپنی متعلقہ ذمہ داریاں مؤثر انداز میں نبھا سکیں۔
اور یہ کہ تمام اسکولوں میں بروقت تیاری، تعلیمی ہم آہنگی اور امتحانات کے مؤثر انعقاد کو یقینی بنایا جا سکے۔
09/11/2025
رہ گئی رسمِ اذاں، روحِ بلالی نہ رہی
فلسفہ رہ گیا، تلقینِ غزالی نہ رہی
واعظِ قوم کی وہ پختہ خیالی نہ رہی
برقِ طبعی نہ رہی، شعلہ مقالی نہ رہی
اقبالؒ کے یہ الفاظ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ قومیں صرف نعروں سے نہیں، کردار، علم، اور عمل سے زندہ رہتی ہیں۔
آج ہمیں پھر اسی روحِ ایمان، خودی، اور بیداری کو زندہ کرنے کی ضرورت ہے جس کا درس اقبالؒ نے دیا تھا۔
آئیے عہد کریں کہ ہم اقبالؒ کے پیغام کو سمجھیں، اپنائیں
اور اپنی زندگیوں میں روشنی کی صورت پھیلائیں۔ ✨
.