Government High School Bilawar Khan Bannu

Government High School Bilawar Khan Bannu

Share

Government High School Bilawar Khan is an institution aiming to deliver knowledge and education

26/12/2025




20/12/2025

سائنس کا ’فرعون‘ سجدہ ریز: ایلون مسک کا اعترافِ خدا اور جدید الحاد کے تابوت میں آخری کیل! - بلال شوکت آزاد

اکیسویں صدی کا سب سے بڑا المیہ یہ رہا ہے کہ ٹیکنالوجی کی چمک دمک نے انسان کو اپنی ہی "بصیرت" سے اندھا کر دیا۔

ہمیں بتایا گیا کہ سائنس نے خدا کو دفن کر دیا ہے (Nietzsche’s "God is dead")، اور اب راکٹ بنانے والے، مصنوعی ذہانت (AI) تخلیق کرنے والے اور مریخ پر بستیاں بسانے والے ہی ہمارے نئے "خدا" ہیں۔

لیکن میرے دوستو!

فطرت کا انتقام دیکھیے۔

آج اسی ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا دیوتا، اکیسویں صدی کا سب سے ذہین دماغ، اور مادی ترقی کا استعارہ, ایلون مسک (Elon Musk) اسی دہلیز پر آ کھڑا ہوا ہے جسے "مذہب" کہتے ہیں۔

یہ خبر کہ ایلون مسک نے خدا کے وجود کا اعتراف کر لیا ہے، سوشل میڈیا کی ایک عام سرخی نہیں ہے؛

یہ جدید الحاد (New Atheism) کے منہ پر ایک ایسا علمی طمانچہ ہے جس کی گونج رچرڈ ڈاکنز اور سیم ہیرس کے ایوانوں تک سنائی دے رہی ہوگی۔

اس خبر کی سنگینی کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم پہلے ایلون مسک کے ذہنی پس منظر کو سمجھیں۔

یہ شخص کوئی روایتی مذہبی انسان نہیں تھا۔ جنوبی افریقہ میں پیدا ہونے والا ایلون بچپن ہی سے فزکس اور لاجک کا دیوانہ تھا۔

وہ اسی "مغربی سیکولر ازم" کی پیداوار تھا جو کہتا ہے کہ "جو لیبارٹری میں ثابت نہیں، وہ موجود نہیں۔"

سالوں تک ایلون مسک خود کو "Agonistic" (لا ادری) یا "Atheist" (ناصرف) کے زمرے میں رکھتا رہا۔ اس نے بارہا کہا کہ

"میں نے کبھی دعا نہیں مانگی، میں صرف فزکس پر یقین رکھتا ہوں۔"

یہ وہ شخص ہے جو کائنات کو محض ایٹموں کا ایک حادثاتی رقص سمجھتا تھا۔ لیکن پھر کیا ہوا؟

جیسے جیسے اس نے کائنات کی پیچیدگیوں (Complexity) اور مصنوعی ذہانت (AI) کی باریکیوں میں غوطہ لگایا، اس کا "سائنسی تکبر" ٹوٹتا گیا۔

"خدا خالق ہے":

ایک عظیم اعتراف
حال ہی میں کیٹی ملر (Katy Miller) کے ساتھ پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے ایلون مسک نے وہ جملہ کہا جو سائنس کے "فرسٹ کاز" (First Cause) کے فلسفے کی بنیاد ہے۔

اس نے کہا:

"میں یقین رکھتا ہوں کہ یہ کائنات کسی چیز سے وجود میں آئی۔ خدا خالق ہے۔"

(I believe that this universe came into existence from something. God is the Creator.)

غور فرمائیں!

یہ جملہ ارسطو (Aristotle) کے "Prime Mover" اور اسلام کے "واجب الوجود" کے تصور کی جدید تائید ہے۔

جدید فزکس میں "بگ بینگ" یہ تو بتاتا ہے کہ کائنات "شروع" ہوئی، لیکن یہ نہیں بتا پاتا کہ

"شروع کس نے کی؟"۔

ایلون مسک، جو لاجک کا بادشاہ ہے، یہ سمجھ چکا ہے کہ "Nothing comes from nothing" (عدم سے وجود نہیں آ سکتا)۔ اگر کائنات موجود ہے، تو اس کے پیچھے ایک "Super Intelligence" کا ہونا ناگزیر ہے۔

یہ اعتراف کسی جذباتیت کا نتیجہ نہیں، بلکہ خالص منطقی استدلال (Logical Deduction) کا نتیجہ ہے۔

اس ذہنی تبدیلی کا دوسرا رخ ایلون مسک کا سماجی مشاہدہ ہے۔

25 اگست کو اس نے "X" (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک تہلکہ خیز بات لکھی۔ اس نے کہا:

"واک (Woke) ایک مذہب ہے جو مسیحیت کے چھوڑے ہوئے خلا کو پُر کر رہا ہے۔"

یہاں ایلون ایک عظیم عمرانیاتی حقیقت (Sociological Reality) کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔

انسان کی فطرت میں "عبادت" شامل ہے۔

اگر آپ اس سے "خدا" چھین لیں گے، تو وہ کسی اور چیز کو خدا بنا لے گا۔

مغرب نے عیسائیت کو چھوڑا تو وہ "لبرل ازم"، "LGBTQ ایجنڈا" اور "Wokeism" کو مذہب بنا بیٹھے۔

ایلون مسک نے گزشتہ سال خود کو "Cultural Christian" (ثقافتی مسیحی) قرار دیا تھا (انٹرویو: Jordan Peterson, July 2024)۔

اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ سمجھ چکا ہے کہ مذہب کے بغیر معاشرہ درندوں کا ہجوم بن جاتا ہے۔

وہ دیکھ رہا ہے کہ الحاد نے انسان کو آزاد نہیں کیا، بلکہ اسے "خواہشات کا غلام" اور "ذہنی مریض" بنا دیا ہے۔

سمولیشن تھیوری یا دنیا کی بے ثباتی؟

ایلون مسک اکثر کہتا ہے کہ "اس بات کا اربوں میں ایک فیصد چانس ہے کہ ہم اصل حقیقت (Base Reality) میں رہ رہے ہیں، ہم شاید کسی سمولیشن (ویڈیو گیم) میں ہیں۔"

(Code Conference, 2016)

میرے سادہ لوح دوستو!

ناموں سے دھوکہ مت کھائیں۔

جسے ایلون مسک "سمولیشن" (Simulation) کہتا ہے، اسے روحانی مجدد "مایا" یا "سراب" کہتے ہیں۔

جسے وہ "پروگرامر" کہتا ہے، اسے ہم "خالق" کہتے ہیں۔

جسے وہ "کوڈنگ" کہتا ہے، اسے ہم "لوحِ محفوظ" کہتے ہیں۔

ایلون مسک کا یہ کہنا کہ

"انسانی زندگی ایک ویڈیو گیم کی طرح ہے"،

دراصل قرآن کی اس آیت کی جدید سائنسی تشریح ہے:

"وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا لَعِبٌ وَلَهْوٌ"

(اور دنیا کی زندگی کھیل تماشے کے سوا کچھ نہیں) [الانعام: 32]۔

نتیجہ: عقل کی انتہا خدا ہے!

ایلون مسک کا یہ یو ٹرن (U-turn) ہمیں ایک ہی بات سکھاتا ہے:

آپ سائنس میں جتنی گہرائی میں جائیں گے، آپ خدا کے اتنے ہی قریب ہوتے جائیں گے۔

الحاد صرف "کم علم سائنس" (Bad Science) سے جنم لیتا ہے۔

جب انسان ڈی این اے (DNA) کی پیچیدگی اور کائنات کی فائن ٹیوننگ (Fine-tuning) کو دیکھتا ہے، تو اس کے پاس دو ہی راستے ہوتے ہیں:

یا تو وہ اپنی عقل کا انکار کر دے، یا پھر "خالق" کا اقرار کر لے۔

ایلون مسک نے اپنی عقل کا انکار نہیں کیا، اس لیے اسے خالق کا اقرار کرنا پڑا۔

یہ کائنات کوئی اندھا حادثہ نہیں، اور ایلون مسک جیسا شخص اب یہ جان چکا ہے کہ "راکٹ" بنانے والا تو ہو سکتا ہے، تو "راکٹ بنانے والے" (انسان) کو بنانے والا کوئی نہیں؟

یہ منطقی محال ہے۔

ویلکم ٹو دی کلب، مسٹر مسک!

دیر آید، درست آید۔

13/11/2025

جب 36 سالہ مرد حاملہ نکلا!
ممبئی کے ایک آپریشن تھیٹر میں وہ لمحہ کسی فلم کے سسپینس سین سے کم نہ تھا۔
ڈاکٹر اجے مہتا جب اپنے سامنے میز پر لیٹے مریض کا پیٹ چاک کرنے لگے تو ان کے ذہن میں صرف ایک بات تھی: "ایک بڑا ٹیومر نکالنا ہے۔" مگر جب اس آپریشن کے دوران ان کا ہاتھ ایک عجیب چیز سے ٹکرایا، تو ان کے چہرے کا رنگ اُڑ گیا۔ اُنہیں لگا جیسے وہ کسی ہڈی یا انسانی عضو کو چھو رہے ہوں۔ انہوں نے دھڑکتے دل کے ساتھ اندر دیکھا اور لمحہ بھر کے لیے پورا آپریشن تھیٹر خاموش ہو گیا۔
پیٹ کے اندر کوئی ٹیومر نہیں تھا… بلکہ ایک انسانی وجود چھپا تھا!
یہ کہانی ہے سنجو بھگت (Sanju Bhagat) کی، ایک عام کسان، جس کے پیٹ میں 36 سال تک ایک غیر معمولی راز چھپا رہا۔
سنجو 1963ء میں بھارت کے شہر ناگپور میں پیدا ہوا۔ بچپن سے ہی وہ دوسروں سے کچھ مختلف لگتا تھا۔ نہ مزاج میں، نہ فطرت میں، بلکہ جسم میں۔ جیسے جیسے وہ بڑا ہوتا گیا، اس کا پیٹ بھی کسی پراسرار انداز میں پھیلتا گیا۔ مگر چونکہ وہ دیہاتی ماحول میں رہتا تھا، اس لیے کسی نے زیادہ دھیان نہ دیا۔ "بس موٹاپا ہے" لوگ یہی سمجھتے رہے۔
وقت گزرتا گیا۔ سنجو بھگت نے جوانی میں کھیتوں میں کام کیا، بیلوں کے پیچھے ہل چلایا اور اپنی سادہ زندگی گزارتا رہا۔ مگر جب وہ تیس سال کی عمر کو پہنچا تو اس کا پیٹ حد سے زیادہ بڑھ گیا۔ سانس لینا دشوار ہونے لگا اور راتوں کو کروٹ لینا بھی مشکل۔ اس نے کئی ڈاکٹروں کو دکھایا، لیکن ہر بار یہی کہا گیا "پیٹ میں ٹیومر ہے، آپریشن کرنا ہوگا۔"
آخر کار 1999ء میں، جب حالت بگڑ گئی، اسے ممبئی کے مشہور ٹاٹا میموریل اسپتال Tata Memorial Hospital لے جایا گیا۔
ڈاکٹر اجے مہتا اور ان کی ٹیم نے فوری طور پر آپریشن کا فیصلہ کیا۔
مگر جو منظر ان کے سامنے آیا، وہ میڈیکل تاریخ کا ایک ناقابلِ یقین لمحہ بن گیا۔
جب پیٹ کھولا گیا تو اندر سے کوئی غدود یا ٹیومر نہیں، بلکہ کسی انسان کے بال، ہڈیاں اور اعضا جھانک رہے تھے۔
ڈاکٹر مہتا کے مطابق “مجھے لگا جیسے میں کسی بچے کو چھو رہا ہوں۔ اس کے ہاتھ، ناخن اور بال واضح تھے۔ میں چند لمحے کے لیے رک گیا، کیونکہ یہ منظر سمجھ سے باہر تھا۔”
تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ کوئی نیا وجود نہیں بلکہ سنجو بھگت کا اپنا جڑواں بھائی تھا، جو پیدائش کے وقت ہی اس کے اندر جذب ہو گیا تھا۔
یہ حالت میڈیکل اصطلاح میں Fetus in Fetu کہلاتی ہے، یعنی “جنین در جنین” ایک ایسا کیس جس میں جڑواں حمل کے دوران ایک بچہ دوسرے کے جسم میں بڑھنے لگتا ہے۔ دنیا بھر میں یہ حالت پانچ لاکھ میں سے ایک بار دیکھنے کو ملتی ہے۔
سنجو کے پیٹ میں موجود یہ "parasitic twin" تقریباً مکمل انسانی شکل اختیار کر چکا تھا۔ اس کے اندر ہڈیاں، بال، یہاں تک کہ اعضائے تناسل کی ابتدائی ساخت بھی بن چکی تھی۔ البتہ اس کا دماغ اور دل نہیں بنے تھے، یعنی وہ زندہ وجود نہیں تھا، بلکہ ایک مردہ جسمانی ڈھانچہ جو سنجو کے جسم سے خون کی نالیوں کے ذریعے غذا لیتا رہا۔ یہ خوفناک اشتراک 36 سال تک جاری رہا۔
جب یہ عجیب راز دنیا کے سامنے آیا، تو سنجو بھگت ایک جھٹکے میں عالمی شہرت حاصل کر گیا۔ ABC News نے اس کہانی کو “A Classic Medical Mystery” کہا، The Guardian نے اسے “The Man Who Carried His Twin” کے عنوان سے چھاپا اور National Geographic نے اسے دنیا کے نایاب ترین کیسز میں شمار کیا۔
بعد کی رپورٹس میں بتایا گیا کہ سرجری کے بعد سنجو بھگت بالکل صحت یاب ہو گیا۔ آج وہ اپنے گاؤں میں ایک عام زندگی گزار رہا ہے، مگر اس کی زندگی کا یہ باب ہمیشہ کے لیے میڈیکل کتابوں میں رقم ہو چکا ہے۔
2023ء میں "Economic Times" نے اپنی رپورٹ میں لکھا: “Fetus in Fetu انسانی پیدائش کے عمل کا سب سے پراسرار راز ہے، جہاں ایک جڑواں، دوسرے کے اندر ہی ایک سایہ بن کر رہ جاتا ہے۔”
یہ انسانی تخلیق کے ان اسرار میں سے ہے جسے سائنس آج بھی پوری طرح سمجھ نہیں پائی کہ ایک جسم کے اندر دوسرا جسم کیسے چھپ سکتا ہے؟ ایک دل کے اندر دوسری زندگی کیوں دھڑکنے کی کوشش کرتی ہے؟ اور کبھی کبھی قدرت اپنے راز کھولنے میں تین دہائیاں لگا دیتی ہے۔
سنجو بھگت آج بھی زندہ مثال ہے کہ انسان صرف گوشت اور ہڈیوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ اس کے اندر کبھی کبھی خود اس کا ہمزاد بھی زندہ رہ جاتا ہے۔ (ضیاء چترالی)

12/11/2025

چرنوبل جوہری پلانٹ سے اسٹیل نکال کر استعمال کرنے کے قابل ہوگیا ہے
آج سے تقریباً 40 سال پہلے 1986 میں سوویت یونین کے جوہری پلانٹ پر ایک خطرناک حادثہ کے بعد اس پلانٹ کو بند کرکے اس پورے علاقے کو خالی کردیا گیا تھا۔ اس پلانٹ پر ایک بہت بڑا ڈوم بنایا گیا تھا تاکہ اس کی خطرناک تابکاری سے آس پاس کے علاقوں کو محفوظ رکھا جاسکے۔
ستمبر میں چلنے والے Free Release Monitor (FRM-03) یونٹ سے 20 ٹن کے قریب چرنوبل پاور پلانٹ سے حاصل کردہ تابکار کاربن سٹیل کو کمرشل استعمال کے لیے کلیئر کردیا گیا ہے۔ یہ یاد رہے کہ جوہری فضلہ (nuclear waste) انسانی آبادیوں سے دور کنٹرول ماحول میں رکھا جاتا ہے کیونکہ وہ تابکار عناصر سے contaminated ہوتا ہے اور تابکار شعائیں خارج کرتا ہے۔ اس میٹریل کو مخصوص طریقہ کار استعمال کرکے decontaminate کیا جاتا ہے۔
یہاں یوکرین میں یہ FRM-3 ایک فیسیلٹی ہے جس میں ایسے تابکار میٹریل کو decontaminate کیا جاتا ہے۔ اس یونٹ میں Gamma and X ray spectroscopy کے استعمال سے تابکار مادے کو صاف کیا جاتا ہے اور کمرشل استعمال کے قابل بنایا جاتا ہے۔
چرنوبل جوہری پلانٹ کہ decommissioning میں ایسے (FRM) یونٹ بہت کار آمد ثابت ہوں جس سے میٹریل کا دوبارہ استعمال ہوسکے اور تابکار فضلہ کی مقدار میں کم ہوسکے گی۔
(تحریر: ثاقب علی)







04/08/2025

تاریخ کی بھیانک تجرباتی کہانیاں
(ایک دل دہلا دینے والا مطالعہ)
✍️ تحریر : Kashif Ali

دنیا نے ترقی کے سفر میں کئی سنگِ میل عبور کیے، مگر اس سفر میں کچھ ایسے تجربے بھی ہوئے جو انسانی اخلاقیات، ضمیر اور انسانیت کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیتے ہیں۔ ان تجربات نے سائنس کو تو آگے بڑھایا، مگر انسانیت کو پیچھے دھکیل دیا۔ آئیے ان اندوہناک واقعات پر ایک نظر ڈالتے ہیں — جہاں انسانوں کو تجرباتی چوہوں کی طرح استعمال کیا گیا۔

🧪 تسکیگی سائفلس اسٹڈی (1932–1972): ایک فریب زدہ نسل

یہ کہانی ہے امریکہ کی ریاست الاباما کی، جہاں تقریباً چالیس سال تک سینکڑوں سیاہ فام مردوں کو "خراب خون" کا علاج دینے کا جھانسہ دے کر ایک خوفناک تجربے کا حصہ بنایا گیا۔ حقیقت یہ تھی کہ وہ لوگ ایک ایسے مطالعے کا حصہ تھے، جس کا مقصد بغیر علاج سائفلس کے طویل مدتی اثرات کا مشاہدہ کرنا تھا۔

جب پینسلین دریافت ہوچکا تھا اور اس مرض کا مؤثر علاج موجود تھا، تب بھی ان مریضوں کو وہ دوا نہیں دی گئی۔ نہ صرف انہیں لاعلم رکھا گیا بلکہ ان کے ساتھ دھوکہ کیا گیا، ان کی لاعلمی اور غربت کا فائدہ اٹھایا گیا۔ یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی بدترین مثالوں میں سے ایک ہے — ایک ایسا داغ جو جدید طبی تاریخ پر کبھی نہیں مٹے گا۔

🥶 نازی انسانی تجربات (1939–1945): درد، خاموشی اور چیخیں

دوسری عالمی جنگ کے دوران جب ہٹلر کی حکومت نے یورپ کو لپیٹ میں لیا، تو نازی ڈاکٹروں نے یہودی قیدیوں پر ایسے وحشیانہ تجربات کیے کہ روح کانپ اٹھتی ہے۔

قیدیوں کو منفی درجہ حرارت میں برہنہ رکھا گیا، ان پر زہریلے کیمیکل آزمائے گئے، اور انہیں بغیر بے ہوش کیے مختلف جسمانی تکالیف دی گئیں۔ ان تجربات کی سفاکیت اتنی بھیانک تھی کہ جنگ کے بعد "نورنمبرگ کوڈ" تخلیق کیا گیا — ایک عالمی ضابطہ اخلاق، جو طبی تحقیق میں رضامندی اور انسانیت کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔

🧠 دی مونسٹر اسٹڈی (1939): جب الفاظ زخم بن گئے

آئیووا یونیورسٹی میں ایک تجربہ کیا گیا جسے بعد میں "مونسٹر اسٹڈی" کہا گیا۔ یہ تجربہ یتیم بچوں پر کیا گیا — کچھ بچوں کو منفی جملوں کے ذریعے شرمندہ کیا گیا تاکہ دیکھا جائے کہ کیا اس سے ان کے بولنے کے انداز پر اثر پڑتا ہے۔

نتیجہ یہ نکلا کہ جو بچے پہلے بالکل روانی سے بولتے تھے، وہ بھی ہکلاہٹ کا شکار ہو گئے۔ ان کے ذہنوں پر ایسا بوجھ پڑا جو ساری زندگی نہ اُتر سکا۔ یہ تجربہ اس بات کی بھیانک مثال ہے کہ سائنس کی خاطر انسانی جذبات کو کیسے کچلا جا سکتا ہے۔

☢️ تابکار اناج کا تجربہ (1940s–1950s): دھوکے کا ناشتہ

میساچوسٹس کے فرنالڈ اسٹیٹ اسکول میں ذہنی طور پر کمزور بچوں کو ناشتہ میں ایسا اناج کھلایا گیا جس میں تابکار لوہا اور کیلشیم ملایا گیا تھا۔ ان بچوں کے سرپرستوں کو بتایا گیا کہ یہ ایک "سائنس کلب" ہے جہاں بچوں کو صحت مند غذائیں دی جاتی ہیں۔

یہ تجربہ امریکی ایٹمی توانائی کمیشن کی سرپرستی میں کیا گیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ تجربہ درست تھا، تو پھر والدین سے سچ کیوں چھپایا گیا؟ ان معصوم جانوں کو کیوں استعمال کیا گیا؟

🧬 ہینریئٹا لیکس اور ہیلا سیلز (1951): ایک خاموش قربانی

ہینریئٹا لیکس — ایک غریب سیاہ فام عورت، جس کے جسم سے کینسر کے خلیے لیے گئے۔ ان سے پوچھا تک نہ گیا، نہ ہی انہیں آگاہ کیا گیا۔ مگر انہی خلیوں سے "ہیلا سیلز" کی دریافت ہوئی — ایک ایسا انقلابی قدم جس نے جدید طب میں حیران کن ترقیوں کی بنیاد رکھی۔

کینسر، پولیو، ایڈز اور دیگر بیماریوں کے خلاف تحقیق میں یہ خلیے بنیادی کردار ادا کرتے رہے، مگر ہینریئٹا کا خاندان کئی دہائیوں تک ناواقف اور محروم رہا — نہ انہیں کریڈٹ دیا گیا، نہ معاوضہ۔ یہ واقعہ طبی دنیا میں اخلاقی حدود کی اہمیت کا گہرا سبق دیتا ہے۔

✨ نتیجہ: ترقی، مگر کس قیمت پر؟

یہ تمام کہانیاں ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہیں:
کیا سائنسی ترقی کے لیے انسانی وقار کی قربانی جائز ہے؟
کیا ایک فرد کی لاعلمی یا غربت، کسی دوسرے کو اس پر تجربہ کرنے کا حق دیتی ہے؟

ان واقعات نے ہمیں سکھایا کہ تحقیق صرف نتائج کی نہیں، بلکہ راستے کی بھی ذمہ دار ہوتی ہے۔
ترقی ضرور کیجیے — مگر انسانیت کے ساتھ۔

"سائنس کو انسان کے لیے ہونا چاہیے، نہ کہ انسان کو سائنس کے لیے قربان کیا جائے!"

28/05/2025

اللہ والوں ہر خوشی کے موقع پر رونا دھونا کیوں ڈال دیتے ہو, رونے دھونے کے لیے پورا سال پڑا ہے

ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب نے سائنسی طور پر پروگرام کی سربراہی کی ان کے بغیر یہ پروگرام مکمل کرنا بہت مشکل تھا وہ ہمارے ہیرو ہیں اور مزید ہمارے ایسے ہیرو جن کے شاید ناموں سے بھی اپ واقف نہ ہو وہ یہ ہیں یہ تمام سائنس دان ہیں.

1. ڈاکٹر ثمر مبارک مند – چاغی ایٹمی دھماکوں اور شاہین میزائل پروگرام کے مرکزی سائنسدان

2. ڈاکٹر اشفاق احمد – پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے چیئرمین اور نیوکلیئر پروگرام کے منتظم

3. ڈاکٹر منیر احمد خان – 1972 میں نیوکلیئر پروگرام کے بانی سربراہ اور PAEC کے طویل عرصے تک چیئرمین

4. انجینئر سلطان بشیر الدین محمود – نیوکلیئر ریئیکٹرز کے ماہر اور کہوٹہ میں اہم تکنیکی کردار

5. ڈاکٹر انور علی – کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز کے سربراہ اور یورینیم افزودگی کے ماہر

6. ڈاکٹر شمس الدین – ایٹمی دھماکوں کی تیاری اور تجرباتی تکنیکی نگرانی میں شریک

7. ڈاکٹر نبیل احمد – شاہین اور غوری میزائل پروگرام کی ڈیزائننگ میں شامل

8. بریگیڈیئر محمد سرفراز – میزائل تجربات کے فیلڈ آپریشنز اور فوجی انضمام کے نگران

9. ڈاکٹر ریاض الدین – نیوکلیئر فزکس میں نظریاتی بنیادوں کے ماہر

10. ڈاکٹر عبدالماجد – نیوکلیئر فیول ٹیکنالوجی میں کام کرنے والے سائنسدان

11. ڈاکٹر جاوید عارف – نیوکلیئر سیفٹی اور تابکاری تحفظ کے شعبے میں ماہر

12. ڈاکٹر اکرم شیخ – میزائل پروگرام کے تکنیکی اور انجینئرنگ امور کے ماہر

13. ڈاکٹر محمد علی نجاتی – نیوکلیئر ڈیٹونیشن سسٹمز کے انجینئر

14. ڈاکٹر شکیل افضال – نیوکلیئر اور تھرمل سسٹمز میں تحقیق و ترقی کے ماہر

15. ڈاکٹر طارق رؤف – بین الاقوامی نیوکلیئر پالیسی اور نان پرولیفریشن کے ماہر

یہ تمام ماہرین ایسے گمنام ہیروز رہے جس نے کوئی مشہوری نہیں کی۔ بلکہ شائد اپنے گلی محلے والے بھی ان سے بے خبر ہوں ۔ مثال کے طور پر منیر احمد خان کے بارے میں آتا ہے کہ وہ لاہور کی ایک تنگ گلی میں کرائے کی ایک چھوٹی سی مکان میں رہتے تھے اور مرتے دم تک مفلسی کی زندگی گزارتے تھے ۔

27/05/2025

ضروری اعلان 📢 برائے طلباء جماعت نہم سکول ھذا
سکول ھذا کے جماعت نہم کے طلباء کو اطلاع دی جاتی ہے کہ بورڈ انرولمنٹ شروع ہو چکی ہے اس لئے بروقت سکول میں مندرجہ ذیل ضروری چیزیں ساتھ لائیں
1) فارم ب فوٹو سٹیٹ
2) اپنے والد کے شناختی کارڈ کا فوٹو سٹیٹ
3) ایک تصویر
4) 1000 روپے فیس
جلد ازجلد یہ چیزیں جمع کرے تاکہ بروقت بورڈ انرولمنٹ ہوسکے۔
شکریہ

27/05/2025

#کیمسٹری
#🆕✍️24سبق نمبر

ہم نے پچھلے اسباق میں پڑھا ہے کہ ایٹم کے مرکزے کے اندر پروٹان اور نیوٹرون ہوتے ہیں اور باہر کے مداروں میں الیکٹرون گردش کرتے رہتے ہیں۔ کسی بھی تعدیلی ایٹم میں پروٹانوں کی تعداد الیکٹرانوں کی تعداد کے برابر ہوتی ہے۔ اور موزلے کی 1913 میں دوری جدول بنانے کے وقت یہ بات سامنے آئی کہ کسی ایٹم کی حصوصیات اس ایٹم میں موجود پروٹانوں کی تعداد پر انحصار کرتے ہیں۔ اور اگر دوری جدول میں ہائیڈروجن سے شروع ہو کر بائیں جانب سے دائیں جانب اور اسی طرح دوسری پیریڈ .تو جتنے کسی عنصر کے ایٹم میں پروٹان ہوتے ہیں اسی نمبر پر یہ عنصر دوری جدول میں بھی موجود ہوگا۔ اس لئے کسی ایٹم کے مرکزے میں جتنے پروٹان ہوتے ہیں ہیں اس کو ہم ایٹمی نمبر کہتے ہیں۔ کیونکہ اسی نمبر پہ یہ دوری جدول میں بھی موجود ہوتا ہے۔
ایٹمی نمبر کی جو کانسیپٹ ہے یہ موزلے کی عناصر کی طبعی اور کیمیائی خصوصیات کی دوریت کے بیان کے بعد مشہور ہوا اور ابھی تک کامیابی کے ساتھ استعمال ہو رہا ہے۔
کسی بھی ایٹم میں الیکٹرانوں یا پروٹانوں کی تعداد کا تعین کرنے کے لئے اب ہم اسی اصول کو استعمال کرسکتے ہیں کہ دوری جدول کو اپنے سامنے رکھ کر ہائیڈروجن سے گنتی شروع کرے۔ اور دائیں جانب جائے۔ اسی طرح ہر افقی قطار میں اسی طرح کرتے جائیں حتٰی کہ وہ عنصر پہنچ جائے تو جس نمبر پر یہ عنصر آگیا اتنے اس عنصر میں پروٹان ہوں گے اتنے الیکٹران بھی ہوں گے۔ مثال کے طور پر ہم جاننا چاہتے ہیں کہ کلورین میں کتنے پروٹان اور الیکٹران ہوتے ہیں۔ تو ہم جب ہائیڈروجن سے شروع کرتے ہیں اور اوپر بیان کردہ طریقہ کار کے مطابق جائے تو کلورین 17ویں نمبر پہ موجود ہوگا۔ اس لئے کلورین میں 17 الیکٹران اور 17 پروٹان ہوں گے۔

#محمدصہیب

27/05/2025

سعودی فتویٰ ہاؤس نے محمد بن سلمان کی درخواست کے برعکس مذاہب کے اتحاد کے بارے میں واضح موقف اختیار کیا اور اس کی دعوت دینے والوں کو کفر کا مرتکب قرار دیا۔

سعودی عرب کی مستقل فتویٰ کمیٹی نے “مذاہب کے اتحاد” اور “ابراہیمی ہاؤس” کے متعلق پائے جانے والے اختلافات کو ختم کرتے ہوئے درج ذیل فتویٰ جاری کیا:

مستقل فتویٰ کمیٹی کا فتویٰ - فتویٰ نمبر 19402

“تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اور درود و سلام ہو اُن پر جن کے بعد کوئی نبی نہیں، اور ان کے اہلِ بیت و صحابہ اور جو ان کے طریقے پر چلتے رہے قیامت تک۔ بعد ازاں…”

مستقل کمیٹی برائے علمی تحقیق و افتاء نے ان سوالات اور میڈیا میں شائع مضامین کا جائزہ لیا جو مذاہب کے اتحاد (اسلام، یہودیت، اور عیسائیت) کے بارے میں پیش کیے گئے، جن میں یہ تجویز دی گئی کہ ایک ہی جگہ مسجد، چرچ، اور مندر بنائے جائیں یا قرآن، تورات، اور انجیل کو ایک ہی جلد میں شائع کیا جائے۔ اس مسئلے پر غور کے بعد کمیٹی نے درج ذیل فیصلہ کیا:

Fatwa no:19402

1. پہلا نقطہ:

اسلامی عقیدے کی بنیاد یہ ہے کہ اسلام کے علاوہ کوئی اور دین حق نہیں ہے، اور یہ آخری دین ہے جو تمام سابقہ مذاہب اور شریعتوں کو منسوخ کر چکا ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

“بیشک اللہ کے نزدیک دین اسلام ہی ہے۔”

2. دوسرا نقطہ:

قرآن مجید اللہ کی آخری کتاب ہے اور اس نے تورات، زبور، انجیل اور دیگر کتب کو منسوخ کر دیا ہے۔

3. تیسرا نقطہ:

تورات اور انجیل کے منسوخ ہونے کے ساتھ ساتھ ان میں تحریف بھی کی گئی ہے، جیسا کہ قرآن کی آیات میں ذکر ہے۔

4. چوتھا نقطہ:

حضرت محمد ﷺ آخری نبی ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔

5. پانچواں نقطہ:

جو کوئی اسلام قبول نہ کرے، خواہ وہ یہودی، عیسائی یا کوئی اور ہو، وہ کافر ہے اور اللہ کا دشمن ہے، اور اگر وہ توبہ نہ کرے تو وہ جہنم کا مستحق ہے۔

6. چھٹا نقطہ:

مذاہب کے اتحاد کی دعوت ایک فتنہ انگیز اور مکارانہ سازش ہے جس کا مقصد اسلام کو کمزور کرنا اور مسلمانوں کو مرتد کرنا ہے۔

7. ساتواں نقطہ:

اس دعوت کا ایک اثر یہ ہوگا کہ اسلام اور کفر کے درمیان فرق ختم ہو جائے گا اور مسلمانوں کا کفار کے ساتھ بیزاری کا رویہ ختم ہو جائے گا، جس سے جہاد اور اللہ کا کلمہ بلند کرنے کی جدوجہد بھی ختم ہو جائے گی۔

8. آٹھواں نقطہ:

اگر کوئی مسلمان اس دعوت کو فروغ دے تو وہ دینِ اسلام سے مرتد ہو جاتا ہے، کیونکہ یہ دعوت اسلام کے اصولوں کے منافی ہے۔

9. نواں نقطہ:

• مسلمان کے لیے اس دعوت کی حمایت کرنا، اس کے سیمینارز میں شرکت کرنا یا اس کے خیالات کو پھیلانا جائز نہیں۔

• قرآن، تورات اور انجیل کو ایک ہی جلد میں شائع کرنا یا مسجد، چرچ اور مندر کو ایک جگہ بنانا ناجائز ہے، کیونکہ یہ اسلام کی برتری کو مسترد کرنے کے مترادف ہے۔

مستقل فتویٰ کمیٹی برائے علمی تحقیق و افتاء

“اللہ اس فیصلے کو کمیٹی کے لیے اجر کا ذریعہ بنائے، آمین۔ اللہ سب سے بڑا ہے۔”

اس پیغام کو آگے بڑھائیں اور آپ کو ان لوگوں میں شمار کیا جائے گا جو اس گمراہ کن نظریے کے سب سے پہلے انکار اور رد کرنے والے ہیں، اور بطور داعی، معلم، طالب علم اور اجر کے متلاشی اس پیغام کا حصہ بنیں ۔۔

Want your school to be the top-listed School/college in Bannu?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Website

Address

Zarkhani Kala Patolkhel U/c Khander Khankhel
Bannu
2004