Pak School System. Surani
پاک سکول سسٹم بنوں
السلام علیکم
ضرورت برائے ٹیچر (فی میل)
پاک سکول سسٹم بنوں کیلئے
تعلیم کم از کم ایف اے/ایف ایس سی ہو۔
ٹیچنگ میں زیادہ تجربہ والی کو ترجیح دی جائے گی 03329760975
السلام علیکم
کل 26 مئی سے سکول وقت
حاضری صبح 45 : 6
چھٹی دوپہر 00 : 11 ان شاءاللہ
06/05/2025
کانٹوں سے بھرے خارپشت ایک دوسرے کے قریب نہیں آ سکتے۔
ان کے نوکیلے کانٹے نہ صرف دشمنوں سے حفاظت کرتے ہیں بلکہ اپنے ہی جیسے دوسروں سے بھی دور رکھتے ہیں۔
لیکن جب جاڑا پڑتا ہے، ہوائیں یخ ہو جاتی ہیں،
تو ان کے پاس ایک ہی راستہ بچتا ہے —
قریب آنا، ایک دوسرے کی خاردار تکلیف برداشت کرنا،
تاکہ ایک دوسرے کی حرارت سے زندگی بچا سکیں۔
وہ قریب آتے ہیں، چبھن سہتے ہیں،
تھوڑا گرم ہو کر پھر دور ہو جاتے ہیں۔
پھر سردی ستاتی ہے، تو دوبارہ قریب آ جاتے ہیں۔
یہی آنا جانا ان کی رات گزار دیتا ہے۔
اگر ہمیشہ قریب رہیں گے تو زخمی ہوں گے،
اور اگر ہمیشہ دور رہیں گے تو سردی سے مر جائیں گے۔
یہی انسانوں کی زندگی کا اصل عکس ہے۔
ہر انسان کے ساتھ اس کی اپنی کمزوریاں، ناپسندیدہ باتیں،
اور الگ مزاج ہوتے ہیں — جنہیں ہم "کانٹے" کہہ سکتے ہیں۔
جب ہم ایک ساتھ جیتے ہیں،
تو ان کی باتیں ہمیں چبھتی ہیں،
لیکن اگر ہم تھوڑا برداشت کریں،
تو انہی تعلقات سے ہمیں محبت، انسیت، اور زندگی کی حرارت ملتی ہے۔
اگر آپ ہر انسان کو بے عیب چاہتے ہیں —
تو آپ کو تنہا جینا پڑے گا۔
کامل دوست نہیں ملتے،
نہ کامل بیوی، نہ کامل شوہر،
نہ بے خطا رشتہ دار، نہ مکمل بھائی۔
اصل حسن تب پیدا ہوتا ہے
جب ہم تھوڑی سی چبھن سہہ کر ایک دوسرے کے قریب رہنا سیکھ لیتے ہیں۔
جب ہم دوسروں کی خامیوں کو نظرانداز کر کے
ان کی خوبیوں پر نگاہ رکھنا سیکھ لیتے ہیں۔
یاد رکھیں —
جو ہر شخص کو پرکھنے میں لگا رہتا ہے،
وہ خوشی کے ہیروں کو بھی شک کی کوئلہ سمجھ بیٹھتا ہے۔
ہر ایک کے عیب کھوجنے کے بجائے
جو خوبی سامنے ہو، اسی سے دل خوش رکھیں۔
اسی میں سکون ہے، آسانی ہے،
اور خوبصورت زندگی کا راز بھی۔
السلام علیکم ورحمةاللہ وبرکاتہ
*سالانہ تقریب تقسیم انعامات*
5 اپریل بروز ہفتہ صبح 7 بجے پاک سکول سسٹم بنوں برانچ
اس تقریب میں آپ کی شرکت ہمارے لئے باعث افتخار اور بچوں کے لئے حوصلہ افزاء ہوگی ان شاءاللہ
ماں باپ کے وہ 5 جملے جو بچے کو ٹوٹنے پر مجبور کر دیتے ہیں!
کیا کبھی آپ نے سوچا کہ آپ کا ایک جملہ آپ کے بچے کی خود اعتمادی کو تباہ کر سکتا ہے؟
بچے حساس ہوتے ہیں، وہ والدین کے الفاظ کو دل پر لیتے ہیں اور اکثر انہی الفاظ کی وجہ سے اپنی صلاحیتوں پر شک کرنے لگتے ہیں۔
یہ ہیں وہ 5 زہریلے جملے جو والدین اکثر انجانے میں کہہ دیتے ہیں، مگر ان کا اثر بچے کی پوری زندگی پر پڑتا ہے:
1️⃣ "تم سے تو کچھ نہیں ہوتا!"
یہ جملہ بچے کے اندر ناکامی کا خوف بٹھا دیتا ہے۔ وہ کوشش کرنے سے پہلے ہی ہار ماننے لگتا ہے، کیونکہ اس کے ذہن میں یہ بٹھا دیا جاتا ہے کہ وہ کچھ کر ہی نہیں سکتا۔
✅ بہتر متبادل:
"تم کوشش کرو، میں تمہارے ساتھ ہوں!"
2️⃣ "دوسروں کے بچے دیکھو، کتنے اچھے ہیں!"
یہ جملہ بچے میں احساسِ کمتری پیدا کر دیتا ہے۔ جب والدین بچے کو دوسروں سے موازنہ کرتے ہیں، تو وہ خود کو کمتر سمجھنے لگتا ہے اور اس کے دل میں والدین کے لیے بدگمانی پیدا ہو جاتی ہے۔
✅ بہتر متبادل:
"تم میں بہت صلاحیت ہے، بس محنت کرو!"
3️⃣ "بس بکواس بند کرو!"
جب بچہ اپنی بات کہنا چاہے اور والدین اسے خاموش کرا دیں، تو وہ عدم تحفظ (insecurity) کا شکار ہو جاتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اس کی باتوں کی کوئی اہمیت نہیں، اور آہستہ آہستہ وہ خاموشی اور تنہائی کو اپنانے لگتا ہے۔
✅ بہتر متبادل:
"میں سن رہا ہوں، تم بتاؤ!"
4️⃣ "تم ہمیشہ غلطی کرتے ہو!"
یہ جملہ بچے کو خود پر شک میں مبتلا کر دیتا ہے۔ وہ ہر فیصلہ کرنے سے ڈرنے لگتا ہے کیونکہ اسے لگتا ہے کہ وہ ہمیشہ غلط ہی کرے گا۔
✅ بہتر متبادل:
"غلطی سے سیکھا جاتا ہے، تم اگلی بار بہتر کرو گے!"
5️⃣ "تم ہمارے لیے بوجھ ہو!"
یہ سب سے زیادہ تباہ کن جملہ ہے! اگر کبھی بھی والدین غصے میں یہ جملہ کہہ دیں، تو بچہ خود کو نہ چاہتے جانے والا (unwanted) محسوس کرتا ہے۔ یہ الفاظ اس کی شخصیت پر شدید منفی اثر ڈالتے ہیں اور بعض اوقات ڈپریشن اور خودکشی کے خیالات کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔
✅ بہتر متبادل:
"ہم تم سے محبت کرتے ہیں، تم ہمارے لیے بہت قیمتی ہو!"
📖 اسلامی نقطۂ نظر:
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بچوں سے ہمیشہ نرمی اور محبت سے پیش آتے تھے۔ حدیث میں آتا ہے:
"بچوں کے ساتھ رحمت والا معاملہ کرو، کیونکہ جو چھوٹوں پر رحم نہیں کرتا، وہ ہم میں سے نہیں۔" (مسلم)
بچوں کی تربیت میں نرم لہجہ اور حوصلہ افزا الفاظ استعمال کرنا سنت ہے، اور یہی کامیاب والدین کی پہچان ہے۔
📌 اب آپ کی باری!
کیا آپ نے بھی کبھی جذبات میں آ کر ایسا کوئی جملہ کہا ہے؟ آج ہی اپنی گفتگو پر نظر ڈالیں اور اپنے بچے کی شخصیت کو بکھرنے سے بچائیں!
✍ تحریر: عثمان بشیر
کچھ ایسا ضرور کرتے رہیں جس کی وجہ سے قیامت کے دن فلسطین کے بچے اور مائیں آپ کا ہاتھ پکڑ کر رب سے کہیں کہ اسے بخش دیا جائے، اس نے ہمارا اس وقت ساتھ دیا تھا جب طاقت ور ہمیں چھوڑ چکے تھے
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Bannu