Youth Guidance Academy

Youth Guidance Academy

Share

In pursuance of peace and stability in our region, we have founded YGA in Bannu. We work on UN SDGs

03/08/2023

اس وڈیو میں ہم نے اپنے کورسز کے بارے میں بتانے کی کوشش کی ہے۔ اگر آپ آنلائن کاروبار ل، سکلز یا اس دنیا کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں یا پھر آپ سکالرشپس کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں یا آپ انگریزی زبان لکھنا پڑھنا بولنا اور سیکھنا چاہتے ہیں یا پھر آپ اپنی گفتگو اور شخصیت پر اثر انداز میں پیش کرنا سیکھنا چاہتے ہیں یا پھر اپ کو سمجھ نہیں آرہی کہ میں کونسی سکل سیکھوں یا کونسی ڈگری حاصل کروں تو ہم آپ کے لیے یہ کورسز لائیں ہیں انشاللہ اپ کو اپنے تمام سوالات کے جوابات ملیں گے اور اپ بہت کچھ سیکھ سکیں گے ۔ تو آج ہی رابطہ کریں یا ہماری اکیڈمی تشریف لائیں
یوتھ گائیڈنس اکیڈمی اور مینٹور انسٹیٹیوٹ آف سکلز لرننگ
میاں پلازہ ریلوے روڈ بنوں
واٹس ایپ نمبر ۔ 03329322448/03355483161

16/07/2023

ملن کی آرزو کرنا
سفرکی جستجوکرنا
جو تم مایوس ھوجاؤ
تو مجھ سے گفتگوکرنا

یہ اکثر ھو ھی جاتا ھے
کہ کوئی کھو ھی جاتا ھے
مقدر کو تھکاؤ گے ۔۔۔
تو پھر یہ سو ھی جاتا ھے

اگر تم حوصلہ رکھو
دعاء کا سلسلہ رکھو
جو تم سے پیار کر بیٹھے
اسی سے رابطہ رکھو

میں یہ دعوے سے کہتاھوں
کبھی ناکام نہ ھو گے ۔۔
محبت کو سمجھ جاؤ
کبھی بدنام نہ ھوگے..

08/07/2023

قدیم لاطینی, یونانی اور فرانسیسی زبانوں میں pati, pie جیسے الفاظ مستعمل تھے جن کا مطلب تھا، تکلیف سے گزرنا، صعوبت اٹھانا جن کو انگریزی زبان میں suffer کہا جاتا ہے.
پھر دورِ مسیحی میں جب سیدنا عیسیٰ علیہ کو اذیتوں سے دو چار کرکے مصلوب کر دیا گیا تو، اس ایذا رسانی اور مصلوب کرنے کے عمل کے لیے نئی اصطلاح نے جنم لیا جسے passion کا نام دیا گیا.
وقت گزرتا گیا لفظ passion بہت سے معنوں میں استعمال ہوتا رہا ساتھ ہی بدلتی ہوئی زبانوں میں اپنی افادیت اور اپنی جگہ برقرار رکھنے کی خاطر مختلف اوقات میں مختلف اصطلاحات کا روپ دھارتا رہا.
وہ تمام طاقتور احساس و جذبات جیسے جنسی کشش، محبت، نفرت، غصہ، یا انہی کی طرح کے دیگر جذبات کے لیے بھی لفظ passion رائج ہوگیا.
پھر جوں جوں زمانے کو تغیرات کا سامنا رہا اور ترقی ہوتی گئی تو دنیا میں کسی خاص مقصد کو حاصل کرنے یا کسی مقام تک پہنچنے کو success یعنی کامیابی کا نام دیا گیا. اور اس success، کسی سرگرمی، کسی شے کے حصول ، یا خاص تصور کے لیے شدید قسم کی پسندیدگی یا قوی خواہش، اپنے کام، اپنے مقصد، اپنے پیشے سے لگن اور محنت سے محبت کے جذبے کو passion کا نام دیا گیا.
یعنی passion جوش و ولولے سے بھرے ہوئے ایک ایسے جذبے کو کہا جانے لگا جو کسی خاص کام کی تکمیل کے لیے انسان کے باطن کی گہرائیوں سے پھوٹتا ہو اور پورے وجود کو ناقابل تسخیر طاقت کی گرفت میں لے لیتا ہو.
میری اس سماجی دیوار سے وابستہ دوستو یہ بات پلے اور پلو سے باندھ لیں کہ کامیابی کے لیے جس passion کی ضرورت ہے وہ تکلیف اور اذیت اٹھانے کا دوسرا نام ہے. جب تک آپ مشکلوں اور مصیبتوں سے نہیں گزرتے، حیات میں مرحلۂ دار و صلیب سے نہیں گزرتے تب تک کامیابی کی گرد کو بھی نہیں چھو سکتے.
سلمان خان
یوتھ گائیڈنس اکیڈمی
نوجوان اذہان سازی

Four Year Doctoral Fellowship (4YF) 05/07/2023

Scholarship Opportunities - Canada - Australia - Germany - Scotland :)
1. University of British Columbia Canada
https://www.grad.ubc.ca/awards/four-year-doctoral-fellowship-4yf?fbclid=IwAR3_l0WA2nGsOUYCr6jkefdCp1OLXcIcMC8AHC7xy7nw8khvpCZP9JoK6Jo -award-procedures
Program: 4-year Doctoral Fellowship
Deadline: Ongoing

2. University of Calgary, Alberta, Canada
https://www.ucalgary.ca/registrar/awards/university-calgary-international-entrance-scholarship?fbclid=IwAR1BuCIHum8wDZO2F1GqzLFHRj0tJ2jVaMH1J99Kfxottko1qeCyY-A3LOI
Program: Undergraduate

3. University of Waterloo – Canada
https://admission.umontreal.ca/en/scholarship-for-international-students/?fbclid=IwAR0Cy2m5O3DPsTtKeDQI1Yy9szMdDcStqTSQWqshmu1g-5e4yvVhEZSLjgQ
Program: Undergraduate, Masters, and PhD
Deadline: Fall, Summer: February 1st
Winter: September 1st

4. University of Dundee – Scotland
https://www.dundee.ac.uk/scholarships/international-college-dundee-progressing-excellence-scholarship-september-2023?fbclid=IwAR0EG_LdY7z18xRkukKYg-izZQMzR4cL4CVZSQo4CiS_JrTVRh_MAE6yWok
Program: Undergraduate
Deadline: August 31st

5. University of Dundee – Scotland
https://www.dundee.ac.uk/scholarships/gems-scholarship-september-2023?fbclid=IwAR1Yv-1TdhlQhhxaN_QIKGVfd2TcJ7durxhDoeI79-yo8CwjCmwvBt-I98Q
Program: Undergraduate
Deadline: September 11th

6. University of Dundee – Scotland
https://www.dundee.ac.uk/scholarships/global-excellence-scholarship-september-2023?fbclid=IwAR2EX0mBvVd73mg9OlDODivB9D5szpj3oD2fy_td6YXAX6iJidWSOJZ1ne0
Program: Undergraduate
Deadline: August 31st

7. University of Dundee – Scotland
https://www.dundee.ac.uk/scholarships/vice-chancellors-south-asia-scholarship-september-2023?fbclid=IwAR2l_o8zDSksrLFR7dX-UjDsfpnQGeuWPBytgWx1ExvIBXhEjicYrd2GIvM
Program: Undergraduate
Deadline: August 31st

8. University of Dundee – Scotland
https://www.dundee.ac.uk/scholarships/discover-life-sciences-scholarship-september-2023?fbclid=IwAR161_3sjJrIfA40ckg7PX4Nh2tWpEprVRVky5pQmdTS_RcNtQ-2yCVyFJU
Program: Undergraduate
Deadline: September 11th

9. University of New South Wales, Australia
https://www.unsw.edu.au/research/hdr/application?fbclid=IwAR0JBl3HTlf7pRcwHl2QOsSDnFb4Du5xACEJIvQ4ljBTZEFO48gVbX9KaqA
Program: Masters, PhD
Last Date: 22 September 2023

10. Heinrich Boll Foundation Germany Scholarships 2023
https://techstour.com/heinrich-boll-foundation-scholarships/?fbclid=IwAR2bAn85rKt2CHrHZLxR61bi7vWTElyvccnA2pfBlPq9naGkgKuRfXppmZs
Program: Masters and PhD
Deadline: September 1st

Four Year Doctoral Fellowship (4YF) The Four Year Doctoral Fellowship (4YF) program provides funding for UBC's best PhD, DMA, and MDPhD students of up to $18,200 per year plus tuition.

04/07/2023

🌸 *اولاد کے مرحلہ وار حقوق اور تربیت:* 🌸
________________________

1. پندرہ سال کی عمر کے بعد بچوں پہ ذمہ داریاں ڈالنا شروع کرئیں۔ لڑکے ھوں یا لڑکیاں سیلف فائنانسنگ کی طرف راغب کرئیں میٹرک کے بعد پڑھائی کا خرچہ نہیں تو جیب خرچ ہی صحیح وہ اپنا خود کمائیں۔
آپ کی مالی پوزیشن جو بھی ھو جب بچے کالج یونیورسٹی جانا شروع کرئیں کتنی ھی ٹف پڑھائی کیوں نہ کر رھے ھوں کچھ نہ کچھ معاشی سرگرمیوں میں انوالو ضرور کرئیں۔

اسی طرح بچوں کو کمانے کے علاوہ گھر داری سیکھائیں۔ ان سے شاپنگ کروائیں۔ گروسری کروائیں۔ گھر کا بجٹ سمجھائیں اور ڈسکس کرئیں۔ گھر کے تمام چھوٹے بڑے کاموں کی نالج بھی دیں پریکٹیکلی بھی ساتھ رکھیں۔
گھر میں جو بھی سواری ھے اسے صرف چلانا نہیں سنبھالنا بھی سیکھائیں چھوٹے موٹے فالٹ ٹھیک کرنا آنا چاھیے سواری سروس کرنا آنا چاھیے۔

اسی طرح لوگوں کی پہچان کرنا سیکھائیں اس کے لیے لوگوں کو،دوست، رشتےداروں کو کیس سٹڈی کے طور پہ ڈسکس کرئیں۔ اپنے ساتھ فیملی میں ملوائیں ۔ کامیاب لوگوں کی کامیابیاں اور اسکی وجوھات ڈسکس کرئیں۔ جو ذندگی کی دوڑ میں پیچھے ھیں انکی وجوھات ڈسکس کرئیں یاد رکھیں یہ سب کیس سٹڈی کے طور پی ھو کسی کی غیبت یا ہتک کے لیے نہ ھو۔

کون اپنی کس خوبی کی بدولت آگے نکل گیا کون اپنی کس خامی پہ قابو نہ پا سکنے کی وجہ سے سست روی کا شکار ھے۔ کس نے معاملہ کیسے ھینڈل کر کے سلجھا لیا کس نے کیسے بگاڑ دیا یہ سب ڈسکس کرئیں۔
بچوں سے اپنے تجربات شئیر کرئیں چھوٹے سے چھوٹے بڑے سے بڑے ، اس سے ان کی قوت فیصلہ مضبوط ھو گی۔

اپنے زندگی کے تمام چیپٹر اوپن رکھیں فیلنگز بتائیں۔

اسی طرح دنیا کے ہر ایشو پہ ان سے تبادلہ خیال کرئیں ان سے انکی رائے پوچھیں رائے دینے کے لیے انہیں رائے بنانی پڑے گی رائے بنانے کے لیے وہ خود نالج اکھٹی کرئیں گے انہیں بتائیں کہ بندے کو صاحب رائے ھونا چاھیے۔

اسی کے ساتھ گھر داری کی بیسک جس میں سب سے اھم ھے بجٹ بنانا۔ پھر بیسک کوکنگ، واشنگ، صفائی ستھرائی سب سیکھائیں۔

رویوں کے بارے میں بات کرئیں باپ چینخ کے بولتا ھے تو بجائے منہ بسور کے بیٹھنے کے اور کوسنے کے بچوں کو کہیں کہ ابو یہ بات آرام سے کر لیتے تو گھر میں کتنا سکون ھوتا۔ اسی طرح ماں کے رویے میں کوئی خامی ھے تو گالم گلوچ اور شکووں کے بجائے بچوں کو بتائیں یہ بات ناگوار ھے۔ اگر ایسے رویہ رکھا جات تو اچھے نتائج آ سکتے تھے۔

اس سے بچوں کے اپنے لائف پارٹنر کے سٹینڈرڈ خود سیٹ ھو جائیں گے کہ خود کو کیسا لائف پارٹنر بنانا ھے اور کیسے کی خواھش رکھنی ھے۔

-------------------------------------------------------------------

2. جب آپ کے بچے 20 سال کے ھو جائیں تو ان سے ان کے لائف پارٹنر اور شادی کے بارے میں ڈسکس کرنا شروع کرئیں۔ شادی کی ذمہ داری اٹھانے کے لیے انکی ذہن سازی کریں۔ انہیں بتائیں کہ شادی شدہ زندگی کے لوازمات کیا ھوتے ھیں۔ ان سے پوچھیں کہ وہ اپنے لائف پارٹنر میں کیا خوبیاں دیکھنا چاھتے ھیں۔ انکو بتائیں آپ کے خاندان میں کیسی لڑکی ایڈجسٹ ھو گی۔ اگر وہ خود لائف پارٹنر پسند کرنا چاھتے ھیں تو اپنے خاندان کا معیار مدنظر رکھنے کی تاکید کے ساتھ انہیں کھلے دل سے اس کی اجازت دیں۔ شادی شدہ ذندگی کے ہر ہر پہلو پہ بات کرئیں۔

------------------------------------------------------------------


3۔ کوشش کرئیں early ایج میں بچوں کی شادیاں کردںں جیسے ھی وہ تعلیم مکمل کرئیں
انہیں بیاہ دیں۔ سیٹل نہیں بھی ھیں تب بھی۔ اب یہاں معاشی طور پہ انکی مدد کی جا سکتی ھے۔ شادی کو شادی سمجھ کے کرئیں پروڈکٹ لانچ یا بزنس ڈیل یا خاندانی سیاست کی بھینٹ سمجھ کے نہیں۔ نہ ھی شادیوں کو عذاب بنائیں والدین کے لیے بچوں کی شادی بس اس حد تک میٹر کرنی چاھیے کہ گھر میں ایک فرد آگیا ھے اس میں اور باقیوں میں کوئی فرق نہیں ھے یا گھر سے ایک فرد چلا گیا ھے اس کی کمی کو کیسے پورا کیا جائے باقی توقعات کے ٹوکرے پھینک دیں۔ گھر کا نظام بہتر ھو ٹھیک ھے لیکن یک دم ھو جائے ایسا نہیں ھے۔ بیٹے اور بہووں کو اپنی ذمہ درای خود اٹھانے دیں۔

-------------------------------------------------------------------

4. جب بچوں کی شادی کر دی تو اب ایک بار اپنے آپ کی تربیت کرئیں۔ اپنے آپ کو سمجھائیں کہ بیٹا بہو ھوں یا بیٹی داماد۔ اب وہ ایک الگ فیملی ھیں بیٹے اور بیٹی کو early age میں گود سے اتارنا یہاں بہت کام آئے گا انہیں ان کے فیصلے کرنے دیں ان کے آپس کے معاملات میں دخل اندازی مت کرئیں۔

دخل اندازی نہ کرنے کا مطلب لاتعلقی نہیں ھے ان کے مددگار رھیں وہ آپ سے اخلاقی رائے لیتے ھیں مشورہ مانگتے ھیں اخلاص سے ضرور دیں ان کے معاشی مسائل حل کرئیں انکو اپنے قدموں پہ کھڑا ھونے میں مدد ضرور کریں لاکھوں روپے باراتوں اور ولیمے کے کھانے پہ لگانے اور لاکھوں شادی کے لہنگوں اور زیورات پہ خرچ کرنے اور پہناونیوں اور رشتے داروں کو لین دین کے بجائے اپنے بچوں کی اگلی زندگی کے لیے اسباب مہیا کر دیں۔
مثلاً استطاعت کے مطابق گاڑی یا بائیک لے دیں۔ اپنے گھر میں انکا الگ پورشن بنوا دیں۔ جس میں کچن شامل ھو۔ انکو کسی کاروبار میں مدد کر دیں وغیرہ۔

ھمارا مسئلہ یہ ھے کہ جہاں آسانیاں کرنی ھیں وہاں اولاد کو سولی پہ لٹکا دیا جاتا ھے شادی کے بعد ایک جنگ و جدل، کھینچا تانی، گھر گھر نہیں اکھاڑے لگنے لگتے ھیں۔ بیٹے ذہنی اذیت میں مبتلا ھو جاتے ھیں، بہوئیں نفسیاتی اور بچے بے ترتیب اور آخر میں بزرگ بے یارو مددگار۔

لاڈ ھم وہاں اٹھاتے ھیں جہاں تیر کی طرح سیدھا کھڑا کرنے کی ضرورت ھے پچیس تیس سال تک یونیورسٹیوں، ٹیوشنز کے خرچے بھاری جیب خرچ، بے روزگار الاونس۔ پیزے برگر گھومنے پھرنے ہر طرح کے خرچے۔ اس کے بعد جب شادی کر دیتے ھیں تو ایک دم بلیک میلنگ کہ یا تو اشاروں پہ چلو یا اکیلے بھگتو۔

-----------------------------------------------------------------

5. آخری بات جب سب بچے سیٹل ھو جائیں سب کی شادیاں ھو جائیں تب اگر آپ صاحب جائیداد ھیں اپنے لیے معقول حصہ الگ کر کے اپنی ذندگی میں اولاد کو اس جائیداد میں نامینیٹ کر دیں۔ اگر کسی بچے کو ضرورت پڑے اسکے حصے میں سے اسکی مدد کر دی جائے۔ اگر کسی بچے کو ساتھ ملا کے کاروبار کر رھے ھیں تو اسے اس کی الگ سے تنخواہ دیں جو بچہ ذمین سنبھال رھا ھے اس اس کی الگ سے اجرت دیں۔ جائیداد میں کم یا ذیادہ حصہ نہیں۔ اپنے بعد اپنے بچوں کے لیے جھگڑے نہ چھوڑنا ھی اصل کامیابی ھے۔

خواتین و حضرات اولاد کے فرائض ھی نہیں حقوق بھی ھیں حقوق احسن طریقے سے پورے کر دیے جائیں تو* *فرائض بھی احسن طریقے سے ادا ھو جائیں گے۔

02/07/2023

القرآن
فَبِمَا رَحۡمَةٖ مِّنَ ٱللَّهِ لِنتَ لَهُمۡۖ وَلَوۡ كُنتَ فَظًّا غَلِيظَ ٱلۡقَلۡبِ لَٱنفَضُّواْ مِنۡ حَوۡلِكَۖ فَٱعۡفُ عَنۡهُمۡ وَٱسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ وَشَاوِرۡهُمۡ فِي ٱلۡأَمۡرِۖ فَإِذَا عَزَمۡتَ فَتَوَكَّلۡ عَلَى ٱللَّهِۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلۡمُتَوَكِّلِينَ
159
(اے پیغمبرؐ) یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ تم اِن لوگوں کے لیے بہت نرم مزاج واقع ہوئے ہو ورنہ اگر کہیں تم تند خو اور سنگ دل ہوتے تو یہ سب تمہارے گردو پیش سے چھٹ جاتے اِن کے قصور معاف کر دو، اِن کے حق میں دعا ئے مغفرت کرو، اور دین کے کام میں ان کو بھی شریک مشورہ رکھو، پھر جب تمہارا عزم کسی رائے پر مستحکم ہو جائے تو اللہ پر بھروسہ کرو، اللہ کو وہ لوگ پسند ہیں جو اُسی کے بھروسے پر کام کرتے ہیں

24/06/2023

10 lessons from "The Art of Public Speaking" by Dale Carnegie:

1. Become interested in other people. The most important thing to remember when speaking to an audience is that you are not the most important person in the room. Your audience is, and you need to focus on their needs and interests.

2. Smile. Smiling makes you look confident and approachable, and it also helps to put your audience at ease.

3. Be enthusiastic. Enthusiasm is contagious, and it will make your audience more likely to be interested in what you have to say.

4. Speak clearly and slowly. Don't mumble or speak too quickly, or your audience will have trouble understanding you.

5. Use simple language. Avoid using jargon or technical terms that your audience may not understand.

6. Tell stories. Stories are a great way to engage your audience and make your points more memorable.

7. Ask questions. Asking questions is a great way to get your audience involved and to get feedback on your presentation.

8. Vary your tone of voice. Don't drone on in a monotone voice. Use different tones to emphasize different points and to keep your audience engaged.

9. Use gestures and facial expressions. Gestures and facial expressions can help to emphasize your points and to make your presentation more lively.

10. Practice, practice, practice. The more you practice, the more confident you will become, and the better your presentation will be.

These are just a few of the many lessons that can be learned from "The Art of Public Speaking." If you follow these tips, you will be well on your way to becoming a more confident and effective public speaker.

Find 85000+ Masters Worldwide: all MBA, MSc., MA, LLM, MPhil and other postgraduate programmes - Mastersportal.com 19/06/2023

بیرونی ممالک جانے کے راستے!!

تحریر: ڈاکٹر حفیظ الحسن

اگر آپ بیرونِ ممالک آنا چاہتے ہیں تو اسکے مختلف طریقے ہیں اور یہ اس پر منحصر ہے کہ آپکی عمر، تعلیم، خاندانی صورتحال اور پیشہ کیا ہے۔

یہاں بات کرتے ہیں تعلیم یافتہ افراد کی جنکے پاس سائنس یا بزنس کی ڈگریاں ہیں۔ ایسے افراد بیرونِ ملک اعلی تعلیم کے حصول کے سلسلے میں سٹوڈنٹ ویزا پر آ سکتے ہیں۔ اس حوالے سے امریکہ، برطانیہ، یورپ، آسٹریلیا ، چین اور ملیشیا کی کئی یونیورسٹیاں ہیں جہاں کم قیمت میں، سکالرشپ یا مفت میں تعلیم حاصل کی جا سکتی ہے۔ اس حوالے سے کئی ویب سائٹس موجود ہیں جہاں ماسٹرز اور پینایچ ڈی لیول کے پروگران ڈھونڈے جا سکتے ہیں۔چند ایسی ویب سائٹس جہاں ماسٹرز کے پروگرام مختلف ممالک کی مختلف یونیورسٹیوں میں ڈھونڈے جا سکتے ہیں وہ یہ ہیں:
https://www.mastersportal.com
(ماسٹرز کے پروگرامز کے حوالے سے)

https://www.phdportal.com/
(پی ایچ ڈی کے پروگرمز کے حوالے سے)

یہاں یہ بات یاد رکھیں کہ ان دو ویب سائٹس پر اپ دنیا کے مختلف ممالک میں مختلف طرح کے ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کے پروگرامز دیکھ سکتے ہیں۔

یہاں یہ بات یاد رکھیں کہ بہت سے یورپی ممالک میں تعلیم مفت ہے تاہم ان ممالک میں سمسٹر فیس لی جاتی یے جوفی سمسٹر چند سو یور ہوتی ہے یعنی ڈیڑھ سے دو لاکھ روپے کے درمیان۔ البتہ اس سمسٹر فیس سے اپکو مفت پبلک ٹرانسپورٹ، لائیبریری اور دیگر سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ یہ فیس تعلیمی اخراجات کی مد میں نہیں لی جاتی۔ جن یورپی ممالک میں تعلیم کم قیمت یا کم و بیش مفت ہے ان میں جرمنی سرِ فہرست ہے۔ اسکے علاوہ چیک ری پبلک، امفن لینڈ ، ناروے، آسٹریا وغیرہ میں بھی سمسٹر فیس نہیات کم ہے۔ جرمنی یورپ کا آبادی اور وسائل کے اعتبار سے بڑا ملک ہے اور یہاں مخلتف شعبہ جات میں دنیا کی ٹاپ کلاس یونیورسٹیاں موجود ہیں ۔ جرمنی میں ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کے پروگرامز اور سکالرشپس آپ اس ویب سائٹ پر تلاش کر سکتے ہیں۔

https://www.daad.de/de/studieren-und-forschen-in-deutschland/studienprogramme-sprachkurse/alle-studiengaenge/

فرانس میں انگریزی میں تعلیمی ڈگریوں کے پروگرام اس ویب سائٹ پر:

https://www.usa.campusfrance.org/programs-taught-in-english

سویڈن میں اس ویب سائٹ پر:

https://studyinsweden.se/plan-your-studies/degree-programmes/

ناروے میں اس ویب سائٹ پر:

https://studyinnorway.no/study-opportunities

امریکہ میں اس ویب سائٹ پر:
https://www.findamasters.com/masters-degrees/courses.aspx?400l20

کینڈیا میں اس ویب سائٹ پر:
https://www.educanada.ca/study-plan-etudes/graduate-studies-etudes-superieures.aspx?lang=eng

اور ایسے ہی دوسرے ممالک میں انکے آفیشل پلیٹفارمز پر۔

ساینس کے شعبہ جات میں پی ایچ ڈی اور پوسٹ ڈاک کم و بیش جاب کی طرح ہوتی ہے۔ اس حوالے سے آپکو یورپ اور امریکہ میں مختلف ٹاپکس پر پی ایچ ڈی پوزیشنز اور پوسٹ ڈاک کے لیے اپلائی کرنا پڑتا ہے۔

ایک ایسی ویب سائٹ جہاں آپکو مخلتف پی ایچ ڈی پوزینشز ٹاپکس کے اعتبار سے ملیں گی وہ یہ ہے:

https://euraxess.ec.europa.eu/jobs/search

اسکے علاوہ امریکہ اور دیگر ممالک میں پی ایچ ڈی اور پوسٹ ڈاک کی پوزینشز مخلتف جاب پورٹلز پر ایڈورٹائز ہوتی ہیں۔ آپ ان جاب پورٹلز پر جا کر Phd یا Postdoctoral لکھیں تو ایسی کیی پوزیشنز آئیں گی جنکی شرائط پر اگر آپ پورا اُترتے ہیں تو ان پر اپلائی کر سکتے ہیں۔

مخلتف جاب پورٹلز یہاں پر:

https://resources.workable.com/tutorial/job-sites-in-usa

اگر آپ کینڈیا، آسٹریلیا،نیوزی لینڈ وغیرہ امیگریشن باہتے ہیں تو اس کے لیے ان ممالک کی ویب سائٹس یہ ہیں:

کینیڈا
https://www.canada.ca/en/services/immigration-citizenship.html

آسٹریلیا
https://immi.homeaffairs.gov.au/

نیوی ذی لینڈ

https://www.immigration.govt.nz/

خدارا ایجنٹوں اور انسانی سمگلروں کے ہاتھوں ذلیل ہو کر مت آئیں۔ آپ اگر پڑھے لکھے ہیں تو انٹرنیٹ پر باہر کے ممالک میں تعلیم ، کاروبار اور امیگریشن کے حوالے سے تمام معلومات خود بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ اپنے اور اپنے عزیز و اقارب کی زندگیاں کو یوں داؤ پر مت لگائیں کہ کل کو آپکے بوڑھے ماں باپ یا بچے تمام عمر بس آپکا راستہ ہی تکتے رہیں۔ شکریہ

Find 85000+ Masters Worldwide: all MBA, MSc., MA, LLM, MPhil and other postgraduate programmes - Mastersportal.com Find and compare Master degrees from top universities worldwide: search all MBA, MSc, MA, LLM, MPhil and more postgraduate programmes to study abroad or at home.

19/06/2023

بچوں کو اچھا صحت بخش کھانا اور بہترین نیند دینے کے بعد جو چیز سیکھانے کی ہے وہ ہے تمیز اور تہذیب۔ جن میں شامل ہے

1. کھانا کھانے کا طریقہ سلیقہ۔
2. واش روم استعمال کرنے کی عادات۔
3. گفتگو کے آداب۔
4. کسی کے گھر جانے کے اصول۔
5. بڑوں سے بات کرنے کی تہذیب۔
6. عبادات کی عادت وغیرہ

آئیے اس پہ کچھ گفتگو کرتے ہیں۔
سب سے پہلے یہ بات جان لیں کہ خالی احکامات جاری کرنے سے بچوں کی تربیت نہیں ھوتی اس کے لیے ابتداء ہی سے ان کی ٹریننگ کی جاتی ھے جو یہ سمجھتے ہیں کی ابھی بچے ہیں بڑے ہو کے سیکھ جائیں گے وہ غلطی پہ ہیں۔ بڑے ہو کے سبکی اٹھا کے سیکھا تو کیا سیکھا۔

1. کھانا کھانے کا طریقہ سلیقہ ۔

»» بچوں کو ابتداء ہی سے ڈائننگ ٹیبل یا دسترخوان پہ سب کے ساتھ بیٹھ کے کھانا کھانے کی عادت ڈالیں بڑوں کی روٹین الگ ہو تب بھی کم از کم بچے ایک ساتھ بیٹھ کے کھانا کھائیں۔
»» بچوں کو الگ الگ وقت میں یہاں وہاں بیٹھ کے کھانا کھانے پہ روکیں
»» کھانے کی اشیاء بیڈ رومز میں نا لانے دیں۔

»» اکثر دیکھا ھے چھوٹے بچے فیڈر منہ سے لگا کے پورے گھر میں پھر رہے ہوتے ہیں بچوں کو فیڈر کا کانسپٹ یہ دیں کہ وہ بستر پہ لیٹیں گے تو انہیں فیڈر ملے گی اور فیڈر ختم کرنے کے بعد ہی وہ بستر سے اتریں گے اور اگر وہ بستر سے اتریں گے تو انہیں فیڈر چھوڑنی ہو گی۔ فیڈر کے استعمال کو بستر سے جوڑیں۔

»» میں نے اپنے بچوں کو ہمیشہ شیشے کی فیڈرز استعمال کروائیں جو پلاسٹک کی فیڈرز سے ہر لحاظ سے زیادہ مفید ہیں کیونکہ ان کو صاف کرنا آسان ہے جب بچے فیڈر لے کے نہیں گھومیں گے تو ان کے ثوٹنے کا ڈر بھی نہیں ھوگا۔
ہاں لمبے سفر میں پلاسٹک کی فیڈرز استعمال کرتی تھی تاکہ گر کے ٹوٹنے کا خظرہ نا ہو۔

»» ہمیشہ بچوں کو دودھ پینے کی دعا پڑھ کے دودھ تھمائیں۔
"الھمہ بارک لنا فیہ و زدنا منہ۔"

اسی طرح کھانا شروع کرنے کی دعا با آواز بلند پڑھ کے کھانا شروع کروائیں۔

"بسم اللہ و بارکة اللہ."

کھانا مکمل کرنے کی دعا پہ کھانا مکمل کروائیں۔

"الحمد للہ الذي اطعمنا وسقانا وجعلنا من المسلمین"

اس طرح ان کو یہ دعائیں خود بخود یاد ہو جائیں گی اور تمام عمر دودھ پینے, کھانا کھاتے وقت کی یہ تمام دعائیں ان کے ذہن میں رہیں گی۔
بچوں کو ہر عمل کے ساتھ دعاوں کی گرہ شروع ہی سے باندھیں۔

»» بچوں کو ہمیشہ انہی برتنوں میں کھانا دیں جو گھر میں عام استعمال ہوتے ہیں بچوں کے برتن الگ مت کریں انہیں شیشے کے گلاس اور چینی کی پلیٹ میں ہی کھانے کی تمیز سیکھائیں انہیں پلیٹ اور گلاس سنبھالنا شروع سے ہی آجائے گا۔ اس میں شروع کا کچھ عرصہ تھوڑی سی برداشت اور بہادری دکھانے کی ضرورت ہو گی۔

»» کھانا کھاتے ہوئے بچوں کو گجیٹس استعمال کرنے مت دیں ان کے سامنے موبائل رکھ کے انہیں کھانا نا کھلائیں بچوں کا پیٹ بھرنا ہی نہیں مائنڈ فل نیس بھی بے حد ضروری ہے ورنہ پیٹ بھر جاتا ھے نیت نہیں بھرتی ذہن تسکین نہیں پاتا تو ندیدہ پن رہ جاتا ھے۔

»» بچے بڑے ہونے لگیں تو انہیں لقمہ بنانا، سالن پلیٹ میں اتارنا سیکھائیں، ان کو سمجھائیں کہ اتنا نکالیں جتنا کھا سکیں، بہتر ہے تھوڑا تھوڑا کر کے نکالیں ضرورت پڑے تو دوبارہ لے لیں۔ ھم اکثر بڑے بڑے بچوں کو دیکھتے ہیں ماؤں کے پیچھے کھڑے ہوتے ہیں کہ پلیٹ میں کھانا نکال دیں اور اگر کبھی خود نکالنا پڑ جائے تو بے ڈھنگا پن چھلکتا ھے۔

»» بچوں کو سمجھائیں کہ کھانے کی میز پہ کھانا بڑوں سے شروع ہوتا ھے بچوں سے نہیں یہ تہذیب ہے۔

»» بچوں کو اس کے بہن بھائیوں اور گھر کے افراد کا جھوٹا گلاس یا کھانا کھانے سے کراہیت مل دلوائیں بچوں کے برتن فکس مت کریں ہاں اگر کوئی بچہ یا بڑا بیمار ہے تو اور بات ھے۔

»» بچوں کے سامنے کھانے پہ ریمارکس مت دیں عیب مت نکالیں ناک بھوں مت چڑھائیں۔ بچے فورا اپناتے ہیں۔

»» بچوں کو عادت ڈالیں کہ پلیٹ مکمل صاف کریں پلیٹ میں ایک دانہ بھی نا چھوڑیں کھانا دسترخوان پہ نا گرائیں یہ سنت ھے اور ایسا کرنے سے برکت والے حصے سے محرومی ہو سکتی ھے۔

»» سب کے ساتھ کھانا کھائیں تو کوشش کریں جب تک سب کھا نا لیں دستر خوان سے نا اٹھیں۔ یہ مینرز ہیں۔

»» کھانا کھا کے برتن سنک میں رکھیں کرسی واپس اندر کریں آپ کے پاس دس ملازم ہوں تب بھی۔

»» آخری بات اکثر بچے گھر کے باقی افراد کے طرز عمل پہ عادات اپناتے ہیں خاص طور پہ جوائنٹ فیملی میں رہنے والی مائیں یہ کہتی پائی جاتی ہیں کہ ہم کیا کریں ہمارے بچے نے فلاں سے سیکھا۔

»» یاد رکھیں آپ ماں ہیں بچوں پہ ان کی ماؤں کی چھاپ گہری ہوتی ھے اگر ماں کے بجائے کسی اور کا غلط اثر زیادہ ہونے لگے تو اس کا مطلب ھے ماں کی شخصیت کمزور ہے۔ کبھی بچوں کے معاملات میں ان کو سمجھانے اور سیکھانے میں دل برداشتہ نا ہوں۔ہار نا مانیں۔

اچھے گھرانوں میں کھانے کے اداب سے ہی لوگوں کی پہچان کی جاتی ہے اس پہ خصوصی توجہ دیں۔

16/06/2023

ہمارے معاشرے کا دوسرا چہرہ آپ کو صرف اور صرف ''معاملات'' میں ہی پتہ چل جائیگا ورنہ فیسبک وال، وٹس ایپ سٹیٹس، گاڑی موٹر سائیکل پہ لکھی ہوئی کلمات سے ہم سب نہایت ایماندار،شریف، رحم دل اور فرشتہ صفت انسان ہیں۔۔۔۔۔۔!!!
Salman Khan
Youth Guidance Academy

The Rhodes Trust, based at the University of Oxford 16/06/2023

𝐓𝐡𝐞 𝐑𝐡𝐨𝐝𝐞𝐬 𝐒𝐜𝐡𝐨𝐥𝐚𝐫𝐬𝐡𝐢𝐩𝐬 𝐟𝐨𝐫 𝐏𝐚𝐤𝐢𝐬𝐭𝐚𝐧 :)
The Rhodes Scholarship is a fully funded, full-time, postgraduate award that enables talented young people from around the world to study at the University of Oxford.
Opening date: 1 June 2023
Closing date: 01 August 2023 23:59 PKT
For more details: https://www.rhodeshouse.ox.ac.uk/scholarships/applications/pakistan/?fbclid=IwAR2BnAlp2mFYAS4XueV6aDgiEQ3ete0t3FzBk3bHwz2kJfqMqUKLWEvIT7Y

The Rhodes Trust, based at the University of Oxford The Rhodes Trust, based at the University of Oxford, brings together and develops exceptional people from all over the world, and in all fields of study

Want your school to be the top-listed School/college in Bannu?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address

Bannu
28100