Education. com

Education. com knowledge

13/11/2025
01/04/2024

آجکل سوشل میڈیا پر ایک Red Hiefer کے بارے میں بحث چل رہی ہے۔۔ یہ کیا ہے؟

29 مارچ کو شاید اسرائیلی لوگ ایک سرخ بچھڑی کی قربانی دینگے جس کے ذریعے دجال (جعلی مسیح) کو بلانے کے لئے اور مسجد الاقصی کو تباہ کریں گے! اور 8 اپریل کو رمضان کے آخری دن وہ اپنے جعلی مسیح کو بلانے کا دعوی کر رہے ہیں! اسی دن ایک تاریخی complete solar eclipse ہو گی جو 375 سالوں سے نہیں ہوئی ہے۔

لال بچھڑی کی قربانی کی تاریخ؟

لال بچھڑی کی قربانی یہودی روایت میں اہم رسم ہے۔ یہودی شریعت کے مطابق، موسی علیہ السلام کے دور میں سے صرف نو لال بچھڑیوں کو قربانی دی گئی ہیں۔ لال بچھڑی کی راکھ کو ایک پاکسازی رسم میں استعمال کیا جاتا تھا تاکہ مردے کے جسم سے رواجی نجاست کو دور کیا جا سکے۔ یہاں یہ لال بچھڑیوں کی فہرست ہے جنہیں یہودیوں نے قربانی دی:

1. حضرت موسی علیہ السلام نے پہلی لال بچھڑی کی قربانی کی۔
2. حضرت عزیر علیہ السلام نے دوسری لال بچھڑی کی قربانی کی۔
3. سیدنا سائمن علیہ السلام نے تیسری لال بچھڑی کی قربانی کی۔
4. اسماعیل بن پیاوی نے چوتھی لال بچھڑی کی قربانی کی۔
5. حنمیل مصری نے پانچویں لال بچھڑی کی قربانی کی۔
6. اسماعیل بن پیاوی نے چھٹی لال بچھڑی کی قربانی کی۔
7. حنمیل مصری نے ساتویں لال بچھڑی کی قربانی کی۔
8. حنمیل مصری نے آٹھویں لال بچھڑی کی قربانی کی۔
9. اسماعیل بن پیاوی نے نویں لال بچھڑی کی قربانی کی۔

یہ قربانیاں صدیوں کے وقفے کے بعد ہوئیں جن کے درمیان کافی gap ہے۔ دسویں لال بچھڑی کی قربانی یہودی روایت کی منتظر ہے اور یہ یہودیوں کے نزدیک ضروری ہے کہ وہ اپنے third temple کی تعمیر سے پہلے اسکی قربانی کے ذریعے پاک ہو جائیں۔

جیسا کہ لال بچھڑی کی قربانی کے بارے میں افواہیں پھیل رہی ہیں۔ اس کے لئے انہوں میں تیاری کر لی ہے(وہ ایک نہیں بلکہ پانچ کی قربانی کریں گے )۔
جو خصوصیات انکو چاہئیں وہ یہ ہیں،

- وہ خالص سرخ ہونا چاہئے (نہ کوئی سیاہ یا سفید بال)
- کنوارا ہونا چاہئے
- 34 مہینوں سے 38 مہینوں کی عمر ہونی چاہئے
اور قربانی کے وقت تقریباً 3 سال کی عمر ہونی چاہئے
جو شاید اسی مارچ سے جولائی کے درمیان ہے۔

یہ کیا کر سکتا ہے؟
انکا یہ اقدام تورات کے مطابق آخری وقت کی ابتداء ہے۔ ترتیب مندرجہ ذیل ہے ....
1. سرخ بچھڑی کی قربانی
2. اوزار کی پاکسازی
3. المسجد الاقصی کی تباہی
4. تیسرے temple کی تعمیر
5. جعلی مسیح کی آمد
6. امام مہدی کی آمد
7. حضرت عیسی کی آمد
8. قیامت

یہ قربانی اس سال کے درمیان تک (مارچ کا اختتام سے جون) ہو گی۔ اس کی کھال، گوشت، خون اور ہڈیوں کے ساتھ ساتھ ہر چیز کو جلایا جائے گا اور پاک پانی کے ساتھ ملا کر پاک کیا جائے گا اور پھر وہ پانی جو پاکسازی کے لئے ہے،۔اسکو تیسرے temple کی بنیادوں کے ارد گرد چھڑکا جائے گا۔اس سے دجال کے زمانے کا آغاز ہو جائے گا۔

اس قربانی کو کرنے کی جگہ کا انتخاب بھی کر لیا گیا ہے اور بچھڑی (بے داغ، خالص، کنوارا) کو Texas سے اسرائیل منتقل کر دیا گیا ہے۔
یہ ساری چیزیں ہیں جو اس وقت دنیا میں ہو رہی ہیں،صحیح وقت کا علم تو صرف اللہ کے پاس ہے،لیکن ہمیں ہر وقت اُن حالات کے لیے تیار رہنا چاہئے ، ہر نبی نے دجال کے فتنے سے پناہ مانگی ہے۔اور ہمارے سامنے تو ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی کافی نشانیاں موجود ہیں۔ اسرائیل نے غزہ پر حملے کر کے اور کتنے معصوم مسلمانوں کو شہید کر کے ہماری اُمت مسلمہ کا response دیکھ لیا ہے،ہمارے حکمران سوئے ہوئے ہیں،ہمارے لوگوں کی اکثریت بھی صرف دنیا طلبی میں لگی ہوئی ہے،اسی لیے وہ جانتے ہیں کہ جو اُمت اتنے بڑے نقصان کے بعد بھی نہیں جاگی تو اگلے اقدام تو آرام سے وہ کر سکتے ہیں،انہیں کوئی روکنے والا نہیں ہے۔

"دجال مشرق سے اپنے آپ کو ظاہر کرے گا۔ وہ ایک یہودی خاندان سے تعلق رکھتا ہوگا۔ و ایک آنکھ سے اندھا ہوگا۔ اور اس کی پیشانی پر "کافر" کا لفظ لکھا ہوگا۔ وہ یروشلم کو فتح کرے گا اور پوری دنیا کا سفر کرے گا ہر شہر میں داخل ہو گا سوائے مکہ اور مدینہ کے۔

جھوٹے مسیح کے طور پر، اُسکے بہت سی ساتھیوں نے بہت سے لوگوں کو دھوکہ دیا ہوگا اور ان کے صفوں میں مزید کمزور ایمان والے شامل ہوں گے۔ وہ ایک شیطانوں کی فوج کے ساتھ کام کرے گا۔ اُس کے سب سے معتبر حامیوں میں یہودی ہوں گے، جن کے لئے وہ خدا کی طرح ہوگا۔ اس کی آمد کے بعد ہماری بیویوں اور بیٹیوں کو گھر میں رکھنا ناممکن ہوجائے گا۔ (یہ قیامت کی نشانیاں ہیں)."

سورۃ الکھف کی پہلی اور آخری دس آیات آپ کو دجال کے فتنے سے بچا سکتی ہیں۔ پہلے دس آیات کو یاد کرنے کی کوشش کریں۔ ہر روز پڑھنے کی کوشش کریں۔خصوصاً جمعہ کے دن تلاوت کریں ترجمے کے ساتھ پڑھیں ۔یہ مزاق نہیں ہے۔ براہ کرم اس بارے میں آگاہی بڑھائیں۔ یہ ہماری امت پر سب سے بڑا، سخت اور مشکل فتنہ ہے اور بہت سے لوگ اس کے بارے میں غافل ہیں۔ براہ کرم اس کے بارے میں research کریں ۔اور اپنا ایمان بڑھائیں کیونکہ دجال ہمارے ایمان کے ساتھ کھیلے گا۔!

اللہ ہمیں دجال کے فتنے سے بچائے!

بھارت میں شائع ہونے والی کتاب ”کالکی اوتار“ نے دنیا بھر ہلچل مچا دی ہے۔ اس کتاب میں يہ بتایا گیا ہے کہ ہندووں کی مذہبی ک...
01/04/2024

بھارت میں شائع ہونے والی کتاب ”کالکی اوتار“ نے دنیا بھر ہلچل مچا دی ہے۔ اس کتاب میں يہ بتایا گیا ہے کہ ہندووں کی مذہبی کتابوں میں جس "کالکی اوتار" کا تذکرہ ملتا ہے، وہ آخری رسول محمد صلی اﷲ علیہ وسلم بن عبداﷲ ہی ہیں۔
اس کتاب کا مصنف اگر کوئی مسلمان ہوتا، تو وہ اب تک جیل میں ہوتا اور اس کتاب پر پابندی لگ چکی ہوتی، مگر اس کے مصنف "پنڈت وید پرکاش" برہمن ہندو ہیں۔ اور وہ الہ آباد یونیورسٹی سے وابستہ ہیں۔ وہ سنسکرت زبان کے ماھر اور معروف محقق اسکالر ہیں۔
پنڈت وید پرکاش نے کالکی اوتار کی بابت اپنی اس تحقیق کو ملک کے آٹھ مشہور ومعروف محقق پنڈتوں کے سامنے پیش کیا تھا، جو اپنے شعبے میں مستند گرادنے جاتے ہیں۔ ان پنڈتوں نے کتاب کے بغور مطالعے اور تحقیق کے بعد يہ تسلیم کیا ہے کہ کتاب میں پیش کيے گئے حوالے جات مستند اور درست ہیں۔
برھمن پنڈت وید پرکاش نے اپنی اس تحقیق کا نام ”کالکی اوتار“ یعنی تمام کائنات کے رہنما رکھا ہے۔ہندووں کی اہم مذہبی کتب میں دراصل ايک عظیم رہنما کا ذکر ملتا ہے۔ جسے ”کالکی اوتار“ کا نام دیا جاتا ہے، سو پنڈت وید پرکاش گہری تحقیق کے بعد یہ دعویٰ کیا ھے کہ اس کالکی اوتار سے مراد حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم ہیں، جو مکہ میں پیدا ہوئے۔ چنانچہ ان کا کہنا ہے کہ تمام ہندو جہاں کہیں بھی ہوں، ان کو اب کسی اور کالکی اوتار کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ اس کیلئے انہیں محض اسلام قبول کرنا ہے، اور آخری رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلنا ہے، جو بہت پہلے اپنے مشن کی تکمیل کے بعد اس دنیا سے تشریف لے جا چکے ہیں۔
اپنے اس دعوے کی دليل میں پنڈت وید پرکاش نے ہندووں کی مقدس مذہبی کتاب”وید“ سے مندرجہ ذیل حوالے دلیل کے ساتھ پیش کیئے ہیں۔

1۔ ”وید" کتاب میں لکھا ہے کہ
(( کالکی اوتار بھگوان کاآخری اوتار ہوگا، جو پوری دنیا کو راستہ دکھائے گا۔ ))
ان کلمات کا حوالہ دينے کے بعد پنڈت وید پرکاش لکھتے ہیں کہ اس پیش گوئی کا اطلاق صرف حضرت محمد صلی ﷲ علیہ وسلم کے معاملے میں درست ہو سکتا ہے۔

2۔”ویدوں“ کی پیش گوئی کے مطابق (( کالکی اوتار ايک جزیرے میں پیدا ہوں گے))
اور يہ عرب علاقہ ھی ہے، جسے جزیرة العرب کہا جاتا ہے۔

3۔ مقدس کتاب وید میں لکھا ہے کہ (( ”کالکی اوتار“ کے والد کا نام ’‘وشنو بھگت“ اور والدہ کا نام ”سومانب“ ہوگا۔))
جبکہ سنسکرت زبان میں ”وشنو“ ﷲ کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور” بھگت“ کے معنی غلام اور بندے کے ہیں۔ چنانچہ عربی زبان میں ”وشنو بھگت“ کا مطلب ﷲ کا بندہ یعنی ”عبد ﷲ“ ہوا۔
اور سنسکرت میں ”سومانب“ کا مطلب "امن" ہے, جو کہ عربی زبان میں ”آمنہ“ ہو گا، اور آخری رسول (صلی اﷲ علیہ وسلم) کے والد کا نام عبد ﷲ اور والدہ کا نام آمنہ ہی ہے۔

4۔وید کتاب میں لکھا ہے کہ
((”کالکی اوتار“ زیتون اور کھجور استعمال کرے گا۔ اور وہ اپنے قول وقرار میں سچا اور دیانتدار ہو گا۔ ))
اور يہ دونوں پھل حضور اکرم صلی ﷲ علیہ وسلم کو مرغوب تھے۔ جبکہ آپ سچائی اور دیانتداری میں تو اس حد تک معروف تھے کہ مکہ میں محمد صلی ﷲ علیہ وسلم کے لئے صادق اور امین کے لقب استعمال کيے جاتے تھے۔

5۔ ”وید “ کے مطابق ((”کالکی اوتار“ اپنی سر زمین کے معزز خاندان میں سے ہوگا))
اور يہ بھی محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کے بارے میں سچ ثابت ہوتا ہے کہ آپ قریش کے معزز قبیلے میں سے تھے، جس کی پورے عرب میں عزت اور شام وعراق میں پہچان تھی۔

6۔ہماری کتاب کہتی ہے کہ ((بھگوان ”کالکی اوتار“ کو اپنے خصوصی قاصد کے ذريعے ايک غار میں پڑھائے گا۔))
اس معاملے میں يہ بھی درست ہے کہ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم مکہ کی وہ واحد شخصیت تھے، جنہیں ﷲ تعالی نے غار حراء میں اپنے خاص فرشتے حضرت جبرائیل کے ذريعے تعلیم دی۔

7۔ ہمارے بنیادی عقیدے کے مطابق ((بھگوان ”کالکی اوتار“ کو ايک تیز ترین گھوڑا عطا فرمائے گا، جس پر سوار ہو کر وہ زمین اور سات آسمانوں کی سیر کر آئے گا۔))
اور محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کا ”براق پر معراج کا سفر“ اس پیش گوئی کا مصداق بن کر اسے آپ کی بابت ھی درست ثابت کرتا ہے؟

8۔ نیز لکھا ھے کہ
((ہمیں یقین ہے کہ بھگوان ”کالکی اوتار“ کی بہت مدد کرے گا اور اسے بہت قوت عطا فرمائے گا۔))
اور ہم یہ جانتے ہیں کہ جنگ بدر میں ﷲ نے محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کی فرشتوں سے مدد فرمائی۔

9۔ ہماری ساری مذہبی کتابوں کے مطابق یہ پیش گوئی ملتی ھے کہ
((” کالکی اوتار“ گھڑ سواری، تیز اندازی اور تلوار زنی میں ماہر ہوگاپنڈت وید پرکاش نے اس پیش گوئی پر بڑا خوبصورت تبصرہ کیا ہے۔ جو بڑا اہم اور قابل غور ہے۔ وہ لکھتے ہیں :
"گھوڑوں،تلواروں اور نیزوں کا زمانہ بہت پہلے گزر چکاہے۔اب تو ٹینک، توپ اور میزائل جیسے ہتھیار استعمال میں ہیں۔ لہذا يہ عقل مندی نہیں ہے کہ ہم اس دور جدید میں تلواروں، نیروں اور برچھیوں سے مسلح”کالکی اوتار“ کا انتظار کرتے رہ جائیں۔ حالانکہ حقیقت يہ ہے کہ مقدس کتابوں میں ”کالکی اوتار“ کے واضح اشارے حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کے بارے میں ہیں جو ان تمام حربی فنون میں کامل مہارت رکھتے تھے۔ ٹینک، توپ اور مزائل کے اس دور میں گھڑ سوار، تیغ زن اور تیر انداز کالکی اوتار کا انتظار نری حماقت ھے۔
(

م

Welcome to our channel dedicated to exploring the rich history of Islam, from the teachings of the Quran to the stories of the Sahaba. Join us as we delve in...

10/03/2022

important Knowledge

Address

Patol Khel Adgi Khel
Bannu Cantonment
28100

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Education. com posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share